Powered By Blogger

اتوار, ستمبر 05, 2021

ساس،سسر،سالے اور سالی کو ایک ساتھ پٹرول ڈال کر زندہ جلادینے والا داماد انسان نہیں وحشی درندہ ہے!

ساس،سسر،سالے اور سالی کو ایک ساتھ پٹرول ڈال کر زندہ جلادینے والا داماد انسان نہیں وحشی درندہ ہے!

جمعیت علماء ارریہ کے وفد کی جائے واردات پر حاضری!
مقامی لوگوں کے مطابق مقامی تھانہ کی غفلت سے یہ دردناک واقعہ رونما ہوا۔
تاثرات:محمداطہرالقاسمی
جنرل سکریٹری
جمعیت علماء ارریہ
                                     05/09/2021
                               
___________________________

ضلع ارریہ کے بلاک پلاسی کے تحت برہٹ گاؤں میں داماد محمد مدثر نے اپنے سسر حافظ محمد ارشاد،ساس بی بی مرضینہ،سالا محمد ابوذر اور سالی شائستہ پروین کے خلاف جس درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پٹرول چھڑک کر آگ لگادی اور سوائے سالی شائستہ پروین کے (جو ہاسپیٹل میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے) تمام رشتے داروں کو موت کے گھاٹ اتاردیا ؛ یہ دردناک واقعہ حیوانیت اور درندگی کی بدترین مثال ہے۔شوہر کے ذریعے اولا بیوی کو طلاق مغلظہ دینا اور پھر محض دو ہفتے کے اندر بیوی کو سسرال واپس آنے پر مجبور کرنے کے لئے سسرال والوں پر ظلم وتشدد کی تمام حدیں پار کرجانا کہیں نہ کہیں مسلم نوجوانوں کی دین سے دوری،آوارہ گردی اور بےراہ روی کے ساتھ پورے مسلم سماج کو کٹہرے میں کھڑا کردینے کی ایک بدترین مثال ہے۔(جبکہ بیوی شاید اس لئے بچ گئی کہ انہیں خوف کے مارے  خالہ کے گھر پہنچادیا گیا تھا)
ایسا نہیں ہے کہ یہ ضلع کا کوئی پہلا واقعہ ہے۔اس سے پہلے رانی گنج کے ڈومریا میں،اس سے پہلے بدھیسری رام پور میں اور اس سے پہلے مادھوپاڑہ میں ان جیسے دردناک واقعات اپنے ہی سماج کے لوگ اپنے ہی رشتے داروں کے خلاف انجام دے چکے ہیں۔گرچہ پرسوں(3/ستمبر 2021) کے تازہ واقعہ کے علاوہ تمام واقعات میں ضلع پرشاسن نے ظالموں کو کیفرکردار تک پہنچایا ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر ان بدترین واقعات پر روک کیسے لگے گی؟
اس سلسلے میں ایک طرف تو مسلم نوجوانوں میں دین کی بنیادی تعلیم اور ان کے اندر خوف خدا پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے تو دوسری طرف ضلع انتظامیہ کو ایسے انسانیت سوز مظالم کے روک تھام کے لئے انتہائی سنجیدگی اور ایمانداری کے ساتھ ایکشن پلان کی بھی ضرورت ہے۔
 آج بعد نماز ظہر جمعیت علماء ارریہ کے ایک وفد کے ساتھ جب ہم لوگ جائے واردات پر حاضر ہوئے اور جس تنگ و تاریک کمرے میں یہ دردناک واقعہ انجام دیا گیا اس کے معائنہ کے بعد پھونس اور چھپر کے بوسیدہ مکانات کے برآمدے میں غمگین بیٹھی ہوئی آنگن کی خواتین سے واقعہ کی تحقیقات چاہی تو مرحوم حافظ ارشاد کے بڑے بیٹے محمد عثمان اور ان کی خالہ زرینہ نے بولنا شروع کیا تو وفد کے تمام اراکین کے ساتھ خود میری بھی ہچکیاں بندھ گئیں۔پھر مجمع میں موجود تمام مرد وعورت اور بچے بوڑھے رونے لگے۔ہم نے کافی ضبط کے بعد تفصیلات چاہی تو خالہ زرینہ نے جو جانکاری فراہم کی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ واردات کے پیچھے سب سے بڑی لاپراوہی مقامی تھانہ کی ہے۔جس کی وجہ سے ورثاء کے ساتھ مقامی لوگوں میں بھی تھانہ کے خلاف شدید غم وغصے کا ماحول نظر آیا۔
حافظ ارشاد مرحوم کی عمر دراز سالی زرینہ جو اب اس اجڑے گھر کی نگہبانی کررہی ہے۔وہ آنگن میں موجود مجمع کے سامنے جمعیت کی ٹیم کو اپنی آپ بیتی بتاتے بتاتے دم بخود ہوجاتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ وحشی درندہ محمد مدثر کے ظلم وتشدد کی اطلاع پلاسی تھانہ کو پیشگی دے دی گئی تھی بلکہ ایک ہفتہ قبل جب محمد مدثر نے مرحوم سسر حافظ ارشاد کے سر پر آنگن میں بڑے پتھر سے حملہ کردیا تھا تب ہم نے تھانہ کو بلایا اور مدد مانگی تھی تو ہمیں کوئی مدد نہیں ملی۔تھانہ کو پچھلی یہ ساری خبر ہونے کے باوجود پرسوں رات یہ اندوہناک حادثہ رونما ہوگیا۔اگر پولیس کے ذریعے پوری ذمےداری اور احساس جواب دہی کے ساتھ معاملہ کو ہینڈل کیا جاتا تو شاید یہ برے دن دیکھنے کو نہیں ملتے۔
ورثاء کی پیش کردہ تفصیلات کے مطابق وہاں موجود میڈیا کے توسط سے جمعیت علماء ارریہ نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ کہ فوری طورپر قاتل داماد کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں کیفرکردار تک پہنچایا جائے،مقامی تھانے دار کو برخاست کرتے ہوئے ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے اور مقتول کے ورثاء کے ساتھ چار میں سے چوتھی آگ میں جھلسی شائستہ پروین کے بہتر علاج کے لئے معقول معاوضہ دیا جائے۔
ساتھ ہی جمعیت نے علاقے کے ساتھ دیگر تمام اصحابِ خیر سے بھی اپیل کی ہے کہ اس اجڑے اور ویران گھر میں موجود ایک جوان بچی کی شادی(جسے حافظ جی اب جلد ہی کروانا چاہتے تھے)کے انتظام کے ساتھ دیگر جملہ معصوم بچے اور بچیوں کی کفالت کے لئے آگے آئیں۔ 
وفد میں جمعیت علماء بلاک جوکی ہاٹ کے صدر قاری امتیاز احمد،بلاک جوائنٹ سیکرٹری مولانا دانش قمر،جمعیت علماء بلاک پلاسی کے سکریٹری قاری احتشام الحق،نائب صدر مولانا سالم ظفر قاسمی،جوائنٹ سیکرٹری مولانا اسد اللہ،حافظ منظور احمد بوریا و دیگر احباب شامل تھے۔
اخیر میں جمعیت کے وفد نے بنیادی گھریلو ضروریات کے لئے متاثرین کے اہل خانہ کو ہنگامی چندہ کرکے تقریباً دس ہزار روپے بطور تعاون پیش کرتے ہوئے ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد قراردیا اور آگے بھی ہرموڑ پر شانہ بشانہ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کرائی۔
آنگن سے واپسی پر گھر کی ڈری سہمی اور روتی بلکتی خواتین اور بیٹے محمد عثمان نے جمعیت کی پوری ٹیم کو دعائیں دیتے ہوئے رخصت کیا۔

ایک شخص کے پیٹ سے نگلے ہوئے نوکیا 3310 کو نکال لیا گیا

نوکیا 3310 ایسا موبائل فون ہے جو 2 دہائیوں سے لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے۔ویسے تو نوکیا نے 2005 میں اس کی فروخت ختم کردی تھی مگر 2017 میں اس کی نئی شکل میں واپسی ہوئی۔

مگر کیا کوئی فرد اس موبائل فون کو نگل سکتا ہے؟ یورپی ملک کوسوو میں ایسا ہی حیران کن واقعہ پیش آیا۔

پریسٹینا نامی شہر میں 33 سالہ شخص کے معدے سے ڈاکٹروں نے نوکیا 3310 کو نکالا۔حیران کن طور پر یہ موبائل فون 4 دن سے اس شخص کے معدے میں موجود تھا اور یہ معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ اس نے کب اور کیسے اسے نگل لیا۔

کامیاب آپریشن کے ذریعے اسے نکالنے والے ڈاکٹروں نے فیس بک پر اس فون کی تصاویر بھی پوسٹ کیں جبکہ ایکسرے اور اینڈو اسکوپ تصاویر میں بھی اسے دیکھا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹروں نے اس موبائل فون کو معدے کو کاٹے بغیر نکالنے میں کامیاب حاصل کی اور اس کے لیے خصوص ڈیوائسز اینڈو اسکوپ کا استعمال کیا گیا اور 2 گھنٹے میں فون نکال لیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق اس عمل کے دوران کوئی پیچیدگیاں پیدا نہیں ہوئیں۔متاثرہ شخص نے فون نگلنے کے بعد پیٹ میں درد کے باعث ہسپتال سے رجوع کیا تھا۔

طبی ماہرین نے بتایا کہ بیٹری فون کا سب سے خطرناک حصہ ہوتا ہے جس کے پھٹنے کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ نققصان دہ کیمیکلز کا اخراج بھی ہوسکتا تھا۔موبائل فون نکلنے کے بعد اب اس شخص کی حالت بہتر ہے۔

يوم اساتذہ کے موقع پر مدھیہ پردیش میں اردو اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ

يوم اساتذہ کے موقع پر مدھیہ پردیش میں اردو اساتذہ کی تقرری کا مطالبہبھوپال : یوم اساتذہ کے موقع پر بھوپال میں بھی تعلیم کے میدان میں کام کرنے والی تنظیموں کے ذریعہ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ مدھیہ پردیش جمعیت علما اور مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام بھوپال میں منعقدہ پروگرام میں ڈاکٹر رادھا کرشنن کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کی خدمات کی ستائش کی ۔ اس موقع پر اردو تدریس میں نمایاں خدمات انجام دینے کے لئے پروفیسر نعمان خان، اقبال مسعود، پروفیسر آفاق ندیم، ڈاکٹر مہرالاسلام کو اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ اردو صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات کے لئے سینئر اردو صحافی مشاہد سعید اورسلمان خان کو اعزاز سے سرفراز کیا گیا جبکہ مدارس کی تعلیم میں نمایاں خدمات کے لئے مولانا حنیف محمد اور اسمعیل بیگ کو اعزاز سے نوازہ گیا۔

مدھیہ پردیش جمعیت علما ہند کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ یوم اساتذہ کے موقع پر پروگرام کا انعقاد کرکے سب سے پہلے ہم نے ڈاکٹر ایس رادھا کرششن کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس کے بعد ملک کے ان تمام اساتذہ کو یاد کیا ، جنہوں نے ملک میں ذہن سازی کا عظیم فریضہ انجام دیا ہے ۔ یہ اساتذہ ہی ہیں جو ہماری نسلوں کی تربیت کرتے ہیں ۔ اس موقع پر ہم حکومت سے تمام اساتذہ چاہئے کہ وہ سرکاری ملازمت میں ہوں یا پرائیویٹ اداروں میں سبھی کو رہائیش گاہ مہیا کرانے کی اپیل کرتے ہیں ۔ اسی کے ساتھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاست میں برسوں سے اردو اساتذہ کی تقرری نہیں کی گئی ہے ، اسے ترجیحات کی بنیاد پر کیا جائے ۔

ممتاز ادیب پروفیسر محمد نعمان کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی میں اساتذہ بنیاد کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ ہمیں اساتذہ کی اہمیت اور ان کی خدمات کو سمجھنا ہوگا ۔ اساتذہ کی خدمات کو فراموش کرکے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں اور اساتذہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض کو بہ طریقہ احسن ادا کریں۔ پروفیسر آفاق ندیم کہتے ہیں کہ ہم یہاں جو کھڑے ہیں اس کے پیچھے ہمارے اساتذہ کی محنت ہے ۔ اسلام ہی نہیں دنیا کے تمام مذاہب میں استاد اہمیت نمایاں ہے ۔


ممتاز اردو ادیب و ناقد اقبال مسعود کہتے ہیں کہ آج کا دن اساتذہ کے لئے یوم احتساب کا بھی ہے ۔ جب تک ہم بنیادی تعلیم پر فوکس نہیں کریں گے تب تک ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں ۔ کسی بھی بلند عمارت کو کھڑا کرنے کیلئے اس کی بنیاد کے استحکام پر غور کرنا ضروری ہے ۔ جب تک پرائمری سطح پر طلبہ کو ہم زبان ،بیان اخلاقیات نہیں سکھائیں گے تب تک ہم معاشرے میں انقلاب کی نئی عبارت کو نہیں لکھ سکتے ہیں ۔


انہوں نے کہا کہ ہمیں اردو زبان کو لے کر جہاں جد وجہد کرنے کی ضرورت ہے وہیں حکومت سے بار بار مطالبہ بھی کرنے کی ضرورت ہے ۔ تاکہ اردو زبان کے اساتذہ کے لئے اسامیاں جاری کی جائیں اور اردو کے اساتذہ کا تقرر کیا

انڈیا میں مسلمانوں پر سر عام تشدد ایک معمول بن گیا ہے اور ’اس کو اب برا بھی نہیں سمجھا جاتا‘ ستمبر 5, 2021

  • گیتا پانڈے بی بی سی نیوز، دلی

مسلمانوں پر ہندو بلوائیوں کی طرف سے بلا اشتعال حملے انڈیا میں ’معمول‘ بن گئے ہیں اور حکومت کی طرف سے ان کی کوئی مذمت نہیں کی جاتی۔گزشتہ ماہ ایک اندوہناک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک خوفزدہ مسلمان بچی اپنے باپ سے چمٹی ہوئی تھی جن کو ہندو انتہا پسند گھیر کر ان پر تشدد کر رہے تھے۔اس انتہائی تکلیف دہ منظر میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک 45 سالہ رکشہ ڈرائیور کو انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں گلیوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور ان کی چھوٹی سی بچی انتہا پسند ہندوؤں سے اپنے باپ کو بچانے کے لیے داد فریاد کر رہی تھی۔

 

ہندو انتہا پسند رکشہ ڈرائیور کو ہندوستان زندہ باد، جے شری رام اور جے رام کے نعرے لگانے پر مجبور کر رہے تھے۔ جے رام جو ہندوؤں میں خیر سگالی کے الفاظ سمجھے جاتے تھے انھیں ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔رکشہ ڈرائیور کے یہ نعرے لگانے کے باوجود انتہا پسند ہندوؤں کا ہجوم انھیں تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔ اس رکشہ ڈرائیور اور اس کی معصوم بچی کو آخر کار پولیس نے بچایا۔ تین افراد کو اس واقع میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور پھر اگلے ہی روز ان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

 

اس کے چند روز بعد ہی مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ایک چوڑیاں فروخت کرنے والے مسلمان کی ویڈیو سامنے آ گئی جس کو ہندوؤں کا ایک ہجوم مکے، گھونسے اور لاتیں مار رہا تھا۔حملہ آور تسلیم علی نامی اس شخص کو دہمکیاں دے رہے تھے کہ وہ ہندوؤں کی آبادیوں سے دور رہے۔پولیس میں درج کرائی گئی اپنی درخواست میں تسلیم علی نے کہا کہ ہندوؤں کے علاقے میں چوڑیاں فروخت کرنے پر ان کو پانچ چھ افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا، مذہبی منافرت سے بھر پور گالیاں دیں، ان کا فون، پیسے اور ذاتی شناختی دستاویز چھین لیں۔لیکن حیران کن طور پر تسلیم علی کو اگلے دن گرفتار کر لیا گیا جب ان پر حملہ آوروں میں شامل ایک شخص کی تیرہ سالہ بچی نے تسلیم علی پر ان سے زیادتی کرنے کا الزام لگایا۔

 

تسلیم علی کے خاندان والوں اور ہمسایوں نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانچ بچوں کا باپ اس طرح کی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ایک عینی شاہد نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ تسلیم علی کو مسلمان ہونے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر ایک بچی سے زیادتی کرنے کا الزام بعد میں اپنی جان بچانے کے لیے لگایا گیا۔مسلمانوں کو سر بازار تشدد کا نشانہ بنانے کے ان دو واقعات کے علاوہ بھی اگست میں بہت سے دوسرے ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس حوالے سے اگست کا مہینہ انڈیا میں مسلمان اقلیت کے لیے جن کی تعداد 20 کروڑ سے زیادہ ہے، بہت بھاری رہا ہے۔

اسی نوعیت کے حملے گزشتہ مہینوں میں بھی پیش آتے رہے ہیں جن میں بہت سے خبروں میں آئے۔مارچ کے مہینے میں ایک چودہ سالہ مسلمان لڑکا جو پانی پینے کے لیے ایک ہندؤ مندر میں گیا تھا اس کو بے دردی سے مارا پیٹا گیا۔جون میں دارالحکومت دہلی میں ایک مسلمان پھل فروش کو ہندوؤں کے علاقے میں پھل بیچنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔تین سال سے مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کے دستاویزی ثبوت جمع کرنے والے آزاد صحافی علی شان جعفری کا کہنا ہے ’تشدد کی انتہا کر دی گئی ہے، یہ ہر جگہ کیا جاتا ہے اور بہت عام ہو گیا اور سب سے بڑھ کر اس کو اب برا بھی نہیں سمجھا جاتا۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں ہر روز تین سے چار ایسی ویڈیو موصول ہوتی ہیں لیکن وہ صرف ایک یا دو ہی کی تصدیق کر پاتے ہیں اور پھر وہ اس کو سوشل میڈیا پر جاری کر دیتے ہیں۔انڈین معاشرے میں مذہبی تقسیم کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن جب سے انتہا پسند ہندو جماعت سے تعلق رکھنے والے نریندر مودی حکومت میں آئے ہیں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد مزید بہت بڑھ گیا ہے۔دہلی یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر تنویر اعجاز کا کہنا ہے ’مذہبی تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن یہ اقتدار میں آنے والوں کی حکمت عملی اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ساتھ بڑھتا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ مذہبی تقسیم بڑھی ہے اور یہ ابھی مذہبی اور نسل پرستانہ قومیت کے جذبے سے اور زیادہ شدید ہو گئی ہے۔

نریندر مودی کے پہلے دورے اقتدار میں مسلمانوں پر گاؤ رکشکوں (گائے کی حفاظت کرنے والے) کی طرف سے گائے کا گوشت کھانے کی افواہوں پر یا گائے سمگل کرنے کے الزامات پر بہت سے حملے ہوئے تھے۔

نریندر مودی نے ان حملوں پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی ہے۔بی جے پی کے رہنما پرکاش جوادیکر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت اس طرح لوگوں کو قتل کرنے کو برا سمجھتی ہے لیکن قانون کا نفاذ ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔انھوں نے کہا کہ ’حکومت کی نطر میں لنچنگ بری چیز ہے، چاہے جہاں بھی ہو۔ لیکن امن و امان ریاستوں کی ذمہ داری ہے اور انھیں ہی اس سے نمٹنا ہے۔‘

اس کے بعد انھوں نے میڈیا پر جانبداری کا الزام لگایا کہ وہ صرف مسلمانوں پر ہونے والے حملوں پر دھیان دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق لنچ ہونے والے دو سو افراد میں سے 160 ہندو تھے۔ ’تمام مذاہب کے لوگ نشانہ بنتے ہیں۔‘ تاہم انھوں نے یہ نھیں بتایا کہ یہ ڈیٹا کہاں سے لیا گیا ہے۔ انڈیا میں ایسے اعداد و شمار نہیں جمع کیے جاتے۔

سنہ 2019 میں فیکٹ چیک کرنے والی ویب سائیٹ نے انڈیا میں نفرت پر مبنی جرائم کے بارے میں بتایا تھا کہ گزشتہ دس برسوں میں ایسے جرائم کا نشانہ بننے والے 90 فیصد افراد مسلمان تھے۔ اور ایک وزیر کی طرف سے ایک مسلمان کو مارنے کے مجرم ٹھہرائے جانے والے آٹھ ہندوؤں کو ہار پہنائے جانے جیسے واقعات کے بعد الزامات لگتے ہیں کہ حملہ آور بی جے پی کی سپورٹ کی وجہ سے سزا سے بچ جاتے ہیں۔

کانگریس پارٹی کی ایک رکن حسیبہ امین نے کہا کہ ’ایسے واقعات آج ہمارے ملک میں صرف اور صرف ان غنڈوں کو ملنے والے تحفظ کی وجہ سے اتنے عام ہو گئے ہیں۔‘ناقدین کا کہنا ہے کہ سنہ 2019 میں نریندر مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلمان مخالف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔کئی بار تشدد صرف جسمانی نھیں ہوتا بلکہ یہ اقلیتی برادری کو انتہائی برا پیش کرنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مثلاً گزشتہ برس جب انڈیا میں کووڈ پھیل رہا تھا تو مودی حکومت کے وزرا اور پارٹی کے ارکان سمیت ہندو رہنماؤں نے دلی میں ایک مذہبی اجتماع میں شریک ہونے والے مسلمانوں پر ’کورونا جہاد‘ کا الزام لگایا تھا۔

اس کے بعد ’روٹی جہاد‘ کے بارے میں سننے کو ملا جس میں اس طرح کے الزام لگائے گئے کہ مسلمان باورچی روٹیوں پر تھوک رہے ہیں تاکہ ہندوؤں میں کورونا پھیل جائے۔حالیہ مہینوں میں کئی ریاستوں کمیں ’لو جہاد‘ کے خلاف قانون سازی کی گئی ہے ۔ بہت سے ہندو گروہ مسلمان مردوں پر ہندوؤں کی عورتوں کو ورغلا کر شادی کرنے کا الزام لگاتے ہیں تاکہ انھیں مسلمان کر لیا جائے۔ان قوانیں کو ہندو عورتوں سے شادیاں کرنے والے مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور انھیں قید کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مسلمان خواتین کو بھی نہیں بخشا جاتا اور گزشتہ جولائی میں درجنوں سرکردہ مسلمان خواتین کو ایک ویب سائٹ پر ’قابل فروخت‘ قرار دے دیا گیا تھا۔ اس کے بعد مئی میں بہت سی خواتین کو جن میں حسیبہ امین بھی شامل تھیں، آن لائن پر فرضی طور پر نیلام کر دیا گیا۔گزشتہ ماہ نئی دہلی میں بے جے پی کی طرف سے منعقد کردہ ایک جلوس میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے نعرے لگائے گئے۔پروفیسر اعجاز کا کہنا ہے کہ پیشہ ور مسلمانوں مثلاً پھل فروش، درزی، الیکٹریشنز، اور پلمبروں پر حملے کرنے کا مقصد مذہبی قوم پرستی کے ذریعے ان کا معاشی استحصال کرنا ہے۔

مظفرنگر مہاپنچایت ‏LIVE: راکیش ٹکیت نے ایک ساتھ لگائے ’اللہ اکبر‘ اور ’ہر ہر مہادیو‘ کے نعرے

مظفرنگر میں منعقدہ کسان مہاپنچایت سے خطاب کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہا کہ گزشتہ 9 مہینے سے تحریک چل رہے ہے لیکن حکومت نے بات چیت کرنا بند کر دیا۔ سینکڑوں کسانوں نے جان گنوا دی لیکن ان کے لئے ایک منٹ بھی خاموشی اختیار نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد محض یوپی کو بچانا نہیں بلکہ پورے ملک کو بچانا ہوگا۔ ہر عوامی چیز کو جس طرح بیچا جا رہا ہے اس کی اجازت کس نے دی۔

 

دریں اثنا، راکیش ٹکیت نے مہاپنچایت سے قومی یکجہتی کا پیغام دیا اور بیک وقت اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو کے نعرے لگائے۔ انہوں نے کہا یہ لوگ باٹنے کا کام کر رہے ہیں، ہمیں انہیں روکنا ہوگا۔ پہلے اس ملک میں اللہ اکبر اور ہرہر مہادیو کے نعرے ایک ساتھ لگائے جاتے تھے، آگے بھی لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی کی سرزمین دنگہ کرانے والوں کے سپرد نہیں کریں گے۔

راکیش ٹکیت نے دس مہینے بعد اپنے آبائی ضلع میں قدم رکھا
بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان اور ملک بھر کے کسانوں کے آواز بن چکے راکیش ٹکیت نے کسان تحریک شروع ہونے کے بعد سے آج تقریباً 10 مہینے بعد اپنے آبائی ضلع یعنی کہ مظفرنگر میں قدم رکھا۔ وہ جی آئی سی میدان میں پہنچ چکے ہیں جہاں سنیوکت کسان مورچہ کی طرف سے طلب کی گئی کسان مہاپنچایت چل رہی ہے۔ راکیش ٹکیت کے ساتھ سوراج پارٹی کے لیڈر یوگیندر یادو اور دیگر لیڈران بھی نظر آ رہے ہیں۔

اُردو یونیورسٹی میں پی جی اور یوجی کی سطح پر داخل

اُردو یونیورسٹی میں پی جی اور یوجی کی سطح پر داخل

لسانیات، سماجی علوم، سائنسس اور پیرامیڈیکل کورسز دستیاب

حیدرآباد، 5؍ ستمبر:(اردو دنیا نیوز۷۲)مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی MAULANA AZAD NATIONAL URDU UNIVERSITY میں لسانیات کے مختلف شعبوں، سماجی علوم، سائنسس اور کامرس میں پوسٹ گریجویشن اور انڈرگریجویشن سطح پر اردو میڈیم سے میرٹ کی اساس پر داخلے جاری ہیں۔ پیشہ ورانہ پروگرامس میں جرنلزم، پیرامیڈیکل کورسز میڈیکل امیجنگٹکنالوجی اور میڈیکل لیباریٹری ٹکنالوجی کے علاوہ سوشل ورک پروگرام دستیاب ہیں۔ آن لائن فارم داخل کرنے کی توسیع شدہ آخری تاریخ 30؍ ستمبر 2021 ء ہے۔ داخلہ کے لیے یونیورسٹی ویب سائٹ manuu.edu.in پر لاگ ان کریں۔

پروفیسر ایم ونجا ، ڈائرکٹر نظامت داخلہ کے بموجب پوسٹ گریجویٹ پروگرامس میں ایم اے (لسانیات، سماجی علوم و صحافت)، ایم ایس ڈبلیو، ایم کام اور ایم ایس سی (ریاضی) ؛ انڈر گریجویٹ بی اے، بی اے(آنرس)۔جے ایم سی، بی کام، بی ایس سی ؛ بیچلر آف ووکیشنل کورسس کے تحت میڈیکل امیجنگ ٹکنالوجی (ایم آئی ٹی) اور میڈیکل لیبارٹری ٹکنالوجی (ایم ایل ٹی)؛ برج (رابطہ) کورسز لیٹرل انٹری کے تحت بی ٹیک اور پالی ٹیکنیک داخلے دیئے جارہے ہیں۔لکھنؤ کیمپس میں اردو، فارسی، انگریزی اور عربی میں بی اے،ایم اے اور سری نگر کیمپس میں معاشیات، اسلامک اسٹڈیز، اردو اور انگریزی میں ایم اے کورسز دستیاب ہیں۔

درخواست گزاروں کے لیے لازمی ہے کہ وہ کم از کم دسویں /بارہویں / گریجویشن میں اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرچکے ہوں یابحیثیت زبان/مضمون اردو کامیاب ہوں یا یونیورسٹی کے منظورکردہ مماثل مدرسہ کورسز کامیاب ہوں۔ درخواستیں یونیورسٹی ویب سائٹ manuu.edu.in پر صرف آن لائن ہی قبول کی جائیں گی۔ تفصیلات یا کسی وضاحت کے لیے نظامت داخلہ کو admissionsregular@manuu.edu.in پر ای میل کریں۔ موبائل نمبرات 9523558551, 9866802414, 6302738370 اور 9849847434 سے بھی رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔  

اُردو یونیورسٹی میں 6؍ ستمبر کو یومِ اساتذہ تقریب

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، اسکول برائے تعلیم و تربیت کے زیر اہتمام 6؍ ستمبر 11 بجے دن یومِ اساتذہ کے سلسلہ میں آن لائن لیکچر کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر پروفیسر شیخ عظیم الدین، سابق ڈین (ایجوکیشن)، انٹیگرل یونیورسٹی، لکھنؤ ، مہمانِ خصوصی ’’معاشرے میں تعلیم اور استاد کا کردار‘‘ کے زیر عنوان یومِ اساتذہ لیکچر دیں گے۔ پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر صدارت کریں گے۔ پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج و ڈین تعلیم و تربیت بھی خطاب کریں گے۔ پروفیسر محمد مشاہد، صدر شعبۂ تعلیم و تربیت کی تعارفی تقریر ہوگی۔

ڈاکٹر جرار احمد، اسسٹنٹ پروفیسر یونیورسٹی کے سابق اساتذہ کو تہنیت و خراج پیش کریں گے۔ محترمہ مومن سمیہ مہمان کا تعارف پیش کریں گی۔ محترمہ ترانہ یزدانی یومِ اساتذہ پر نظم پیش کریں گے۔ ڈاکٹر اشونی شکریہ ادا کریں گے۔ جناب اشرف نواز نظامت کے فرائض انجام دیں گے۔ پروگرام کا یونیورسٹی کے آئی ایم سی یوٹیوب چیانل www.youtube.com/imcmanuu پر راست ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا۔

اناج،دال،تیل،چینی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

اناج،دال،تیل،چینی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

اناج،دال،تیل،چینی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ
اناج،دال،تیل،چینی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

نئی دہلی: غیرملکی منڈیوں میں گراوٹ کے باوجود گزشتہ ہفتے مقامی سطح پر مانگ بڑھنے سے دہلی ہول سیل کموڈٹی مارکیٹ میں خوردنی تیل میں 366 روپے فی کوئنٹل تک اچھال رہا اور دال ، گڑ ، چینی اور اناج مہنگے ہو گئے۔

تیل تلہن عالمی سطح پر ملائیشیا کے برسا ملائیشیا ڈیریویٹیوزایکسچینج میں پام آئل زیرجائزہ ہفتے کے دوران 25 رنگٹ کم ہو کر 4432 رنگٹ فی ٹن رہ گیا۔ وہیں دسمبر کا امریکی سویا آئل ایک سینٹ کم ہو کر اختتام پزیر ہفتے میں 59.01 سینٹ فی پاؤنڈ رہ گیا۔

عالمی سطح کی گراوٹ کے باوجود گھریلو مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ رہا ۔ سورج مکھی کا تیل 366 روپے ، سبزیوں کا تیل 146 روپے ، سرسوں کا تیل 74 روپے اور سویا ریفائنڈ 73 روپے فی کوئنٹل مہنگا ہوگیا جبکہ مونگ پھلی کا تیل 366 روپے فی کوئنٹل سستا ہوگیا ۔

تاہم زیر جائزہ ہفتے میں پام آئل کی قیمت میں استحکام دیکھا گیا۔ اختتام پزیرہفتے میں سرسوں کا تیل 18388 روپے ، مونگ پھلی کا تیل 17582 روپے ، سورج مکھی کا تیل 17948 روپے ، سویا ریفائنڈ 15970 روپے ، پام آئل 12967 روپے اور سبزیوں کا تیل 13919 روپے فی کوئنٹل رہا۔ (ایجنسی ان پٹ )


پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں پھر 15-15 پیسے کی کمی

پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں پھر 15-15 پیسے کی کمینئی دہلی: بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمتوں میں نرمی کے پیش نظر اتوار کو تین دن کے بعد دہلی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر 15- 15 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی۔ اس سے قبل بدھ کے روز ان ان دونوں کی قیمتوں میں سات دن کے بعد 15- 15 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی۔

آج دہلی میں انڈین آئل کے پمپ پر پٹرول 101.19 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 88.62 روپے فی لیٹر رہا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول 101.19 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 88.62 روپے فی لیٹر رہا۔

امریکہ میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور معیشت کی توقع کے مطابق ٹریک پر واپس نہ آنے کی وجہ سے جمعہ کو بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔ ہفتے کے آخر میں ، بین الاقوامی مارکیٹ میں ، بریٹ کروڈ 0.40 ڈالر فی بیرل کم ہوکر 73.61 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 0.70 ڈالر فی بیرل گر کر 69.29 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ہر روز صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔

شہر کا نام -- پٹرول (روپے/لیٹر) -- (ڈیزل روپے/لیٹر)

دہلی ----- 101.34 ------ 88.77

ممبئی ----- 107.26 ------ 96.19

چنئی ----- 98- 98.96 ----- 93.26

کولکاتا ----- 101.62 ----- 91.71

کون تھااسلام کے نام پردہشت پھیلانے والاگروہ’’خارجی‘

کون تھااسلام کے نام پردہشت پھیلانے والاگروہ’’خارجی‘‘؟

کون تھااسلام کے نام پردہشت پھیلانے والاگروہ’’خارجی‘‘؟
کون تھااسلام کے نام پردہشت پھیلانے والاگروہ’’خارجی‘‘؟

غوث سیوانی،نئی دہلی(اردو دنیا نیوز۷۲)

آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ کو موجودہ دور کا خطرناک گروہ قراردیا جاتاہے۔آئی ایس کی سفاکی سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا نے دیکھی جب اس ظالم گروہ نے لائن میں بٹھاکر درجنوں افرادکی گردنیں کاٹ دیں اور ویڈیوبناکردنیا کو دکھایا۔ان کے ذریعے لوگوں کو غلام بنانے اورخواتین کو بے آبروکرنے کی خبریں بھی میڈیا میں آتی رہی ہیں۔ مزیدستم یہ کہ یہ سب اسلام کے نام پرہواجودین رحمت ہے اور انسان توکیا جانوروں کوایذا دینے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام،دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے آیا تھا مگراسلام کے ابتدائی دور میں ہی ایک طبقے نے اسلام کا نام لے کردہشت گردی شروع کردی تھی اور آج جتنے بھی آتنک وادی گروہ ہیں ،وہ اسی نظریے پر کاربند ہیں۔

خارجی کون؟

اسلام کے نام پر آتنک پھیلانے والے سب سے پہلے گروہ کو ’’خارجی‘‘ کہاجاتاتھا۔ لفظ ’’خارجی‘‘ کا مطلب ہوتاہے’’باہرنکل جانے والا‘‘۔چونکہ یہ لوگ اپنی شدت پسندی اور انتہاپسندی کے سبب اسلام سے باہرنکل گئے تھے لہٰذاانھیں خارجی کہاجانے لگا۔ انھوں نے اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کیا تھا،اس وجہ سے بھی انھیں خارجی کہاجاتاہے۔

خارجی اور اسلام

خارجیوں کا نظریہ ،اسلام سے متصادم تھاکیونکہ اسلام اعتدال کا مذہب ہے جب کہ خارجیوں کا نظریہ شدت پسندی اور انتہاپسندی والاتھا۔ وہ بات بات پر تلواریں کھینچ لیتے تھے اور قتل وغارت گری کیا کرتے تھے اور اسے اسلام کا حصّہ مانتے تھے۔یہ اس قدر ظالم تھے کہ حاملہ عورتوں کاپیٹ چیرکربچے نکال لیتے اور قتل کردیتے تھے۔

دوسری طرف یہ اسلامی عبادات کی سختی سے پابندی کرتے تھے۔ یہ عابد و زاہد قسم کے لوگ تھے اور نماز، روزہ کے اس قدر پابند تھے کہ سجدوں کی کثرت سے ان کی پیشانیوں پر سیاہ دھبے بن جاتے تھے۔ یہ لوگ زیادہ عبادتیں کیا کرتے تھے اور احساس برتری کا شکار ہونے کے سبب عام مسلمانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔

خارجیوں کا زمانہ

خارجی تو عہدنبوی میں ہی پیدا ہوگئے تھے مگرحضرت علی کا دورآتے آتے،یہ خاصے طاقتورہوگئے تھے۔حضرت علی کا دور خلافت656–661عیسوی کے درمیان رہا۔ اس دوران خارجیوں نے بڑے پیمانے پر فتنے پرپاکئے۔یہ پہلے امیرمعاویہ کے خلاف ہوئے اور حضرت علی کو برحق خلیفہ تسلیم کیا اور پھرحضرت علی کی بھی مخالفت شروع کردی۔

خارجیوں کا علاقہ

اسے اتفاق کہا جائے گاکہ تب بھی ان کا مرکزعراق اور شام کے علاقے تھے اور آج بھی ان کے پیروکاروں کا گڑھ یہی علاقہ بنا ہواہے۔ عراق اور شام میں ہی آئی ایس آئی ایس جیسی جماعتیں ہیں جو انتہا درجے کی شدت پسند ہیں۔ خارجیوں کے گروہ میں اکثریت عراق کے دیہاتوں سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ جنگ صفین کے موقع پریہ گروہ نمودار ہوا اور حضرات علی ومعاویہ کے درمیان صلح کی مخالفت کی۔ یہ لوگ ہرحال میں جنگ چاہتے تھے۔ اس عہد میں شعث بن راسبی نامی شخص ان کا سردارتھا۔ اس گروہ کے دوسرے لیڈروں کے نام عبد اﷲ بن الکواء، عتاب بن الاعور، عبد اﷲ بن وہب راسبی، عروہ بن جریر، یزید بن عاصم محاربی، حرقوص بن زہیر بجلی المعروف بہ ذو الثدیہ تھے۔

 حضرت علی کی مخالفت

حضرت علی رضی اللہ عنہ نہ صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں بلکہ داماد بھی ہیں۔ ان کی پرورش اور تربیت بھی رسول اللہ کی نگرانی میں ہوئی تھی۔ ان کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔باوجوداس کے خارجی گروہ انھیں، مسلمان نہیں مانتاتھا۔ یہ گروہ امیرمعاویہ کو بھی اسلام سے خارج سمجھتاتھااور دونوں سے جنگ کرنا ضروری سمجھتا تھا۔

ایک موقع پر یہ لوگ حضرت علی سے جنگ کے لئے نکلے اور جنگ نہروان میں شکست کھائی۔ اس جنگ میں خارجیوں کی تعداددس ہزار تھی۔ جنگ میں شکست کے باوجود حضرت علی نے ان کے ساتھ اچھابرتائوکیااور ان کے چار سوسے زیادہ  زخمیوں کی مرہم پٹی کرائی اور انھیں واپس ان کے گائوں بھیجا۔

خارجیوں کی شورشیں

جنگ نہروان میں شکست کے باوجود خارجیوں کا خاتمہ نہیں ہوا۔یہ لوگ باقی رہے اور وقت وقت پر شورشیں بھی برپاکرتے رہے۔ان کی قوت بنوعباس کے عہد تک بنی رہی اور بنوامیہ کے ساتھ ساتھ بنوعباس کے دور میں بھی انھوں نے گڑبڑیاں کیں۔کوفہ اور بصرہ تو دو مراکز تھے ہی،ان کا دائرہ کار شمالی افریقہ تک پھیل گیا تھا۔ کسی بھی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے نہیں رہے۔ انھوں نے حضرات علی وامیرمعاویہ کے قتل کی سازشیں کیں اور حضرت علی کوابن ملجم نامی ایک خارجی نے شہید بھی کیا۔ اسلامی تاریخ کی کتابیں خارجیوں کے تذکروں سے بھری پڑی ہیں۔

آج بھی ہیں خارجی گروہ؟

خارجیوں کی باقیات آج بھی موجودہیں۔ ایک اباضی فرقہ ہے جوعمان،لیبیااور کچھ دوسرے ملکوں میں پایاجاتاہے،یہ خارجیوں کا بچاکھچاگروہ ہے مگر اس فرقہ کے اصل پیروکارتو وہ گروہ ہیں جو اسلام کے نام پرخون خرابہ کرتے ہیں۔وہ قتل وخونریزی میں دریغ نہیں کرتے۔ ان کی ظاہری شکل وصورت دیندارمسلمانوں جیسی ہوتی ہے مگر اسلام کو انھیں سے سب سے زیادہ نقصان پہنچتاہے۔


ہندوستان میں کورونا کے 42766 نئے معاملے، 308 افراد کی موت

نئی دہلی: گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں کورونا وائرس کے 42766 نئے کیس درج ہوئے ہیں ، جبکہ 38091 افراد نے وبا کو شکست دی ہے۔ ہفتے کے روز ملک میں 71 لاکھ 61 ہزار 760 افراد کو کورونا کی ویکسین دی گئی۔ اب تک ملک میں 68 کروڑ 46 لاکھ 69 ہزار 760 افراد کو ویکسین دی جا چکی ہے۔

اتوار کی صبح مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 42766 نئے معاملوں کی آمد کے ساتھ متاثرہ افراد کی تعداد تین کروڑ 29 لاکھ 88 ہزار 673 ہو گئی ہے۔ اس دوران 38 ہزار 91 مریضوں کی صحت یابی کے بعد اس وبا کو شکست دینے والے افراد کی کل تعداد تین کروڑ 21 لاکھ 38 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔

اسی عرصے میں فعال معاملے 4367 بڑھ کر 4 لاکھ 10 ہزار 048 ہو گئے ہیں۔ اس دوران 308 مریضوں کی موت کی وجہ سے اموات کی تعداد بڑھ کر 405989 ہوگئی ہے۔ ملک میں فعال معاملوں کی شرح بڑھ کر 1.24 فیصد ہو گئی ہے جبکہ صحت یاب ہونے کی شرح 97.42 فیصد اور اموات کی شرح 1.34 فیصد ہے۔

مہاراشٹرا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فعال معاملات 1560 بڑھ کر 55559 ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا ، ریاست میں 2506 مریضوں کی صحت یابی کے بعد ، کورونا کو شکست دینے والے لوگوں کی تعداد بڑھ کر 6288851 ہوگئی ہے ، جبکہ 64 مریضوں کی موت کے باعث اموات کی تعداد بڑھ کر 137707 ہوگئی ہے

گوروگرام: موبائل کوڈنگ سکھا رہے ہیں ہندی زبان کے ٹیچر

گوروگرام: موبائل کوڈنگ سکھا رہے ہیں ہندی زبان کے ٹیچر

گوروگرام: موبائل کوڈنگ سکھا رہے ہیں ہندی زبان کے ٹیچر
گوروگرام: موبائل کوڈنگ سکھا رہے ہیں ہندی زبان کے ٹیچر

شاہنوازعالم، گروگرام

ایک استاد اگر چاہ لے تو وہ بچوں کو کیا کچھ نہیں سکھا سکتا ہے، حتیٰ کہ لسانیات کا استاد بچوں کو کمپیوٹر کی بھی تعلیم دے سکتا ہے۔ایسا ہی کارنامہ انجام دینے والے ایک استاد منوج لاکڑا ہیں، جن کا تعلق ریاست ہریانہ کے ضلع گوروگرام سے ہے، جو کہ بنیادی طور پرہندی زبان کے ٹیچر ہیں مگر وہ بچوں کو موبائل کوڈنگ سکھا رہے ہیں۔

اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ہندی اور کمپیوٹر کوڈنگ کا آپس میں کیا تعلق ہے تو یقینی طور پر جواب ملے گا کہ کوئی تعلق نہیں ہے۔اس خیال کو منوج لاکڑا نےغلط ثابت کر دکھایا ہے کہ ہندی زبان اور کمپوٹر کا آپس میں تعلق نہیں ہے۔انھوں نے ایک ایسا ایپ بنایا ہے، جس پر سرکاری اسکول کے طلبا موبائل کی کوڈنگ کرتے ہیں۔

ہریانہ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے ان کے بنائے ہوئے ایپ بچوں کو  لیے سرکاری طور پر منظوری دے دی ہے۔

کون ہیں منوج لاکڑا

منوج لاکڑا ہندی میں پوسٹ گریجویٹ اور ہیں وہ گورنمنٹ سینئر سیکنڈری اسکول باج گیرہ میں بطور بنیادی ہیڈ ماسٹر تعینات ہیں۔ مثبت سوچ کے حامل منوج لاکڑا ہمیشہ تعلیمی و سماجی کاموں میں خود کو مصروف رکھنے کے ساتھ ساتھ طلباء کو کوڈنگ اور موبائل ایپ ڈیولپمنٹ میں مدد کرتے ہیں۔

آئی ٹی کے کام میں ان کی خصوصی معاونت کے لیے انہیں حکومت ہند کی جانب سے قومی ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

'مڈ ڈے میل ہریانہ ایپ' کو منوج لاکڑا کی رہنمائی میں ان کی کلاس کے چار طلباء نے مل کر تیار کیا ہے۔اس کی وجہ سے ہریانہ کے ہزاروں اساتذہ کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں کے اساتذہ کو بھی بہت فائدہ ہوا ہے۔اس ایپ کو ہریانہ کے محکمہ تعلیم نے اپنایا اور تمام سرکاری اسکولوں میں نافذ کیا گیا ہے۔

طلباء نے کمپوزٹ ایولیویشن ایپ، فیس رجسٹرایپ، فنڈ اینڈ اسٹاک رجسٹر ایپ، اسکاؤٹ اینڈ گائیڈایپ، پراگتی پتھ ایپ وغیرہ بھی تیار کیا ہے۔طلباء نے اسکول کی ویب سائٹ، ای میگزین ، بلاگ تعلیمی کھیل ، سرکاری اسکولوں کی گوگل میپنگ وغیرہ پر کام کیا ہے۔منوج لاکڑا کا کہنا ہے کہ ہندی میرا بنیادی مضمون ہے، لیکن مجھے ٹیکنالوجی بہت پسند ہے۔

awaz

بچوں کے ساتھ لاکڑا 

سوشل میڈیا، یوٹیوب اور آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے انھوں نے خود موبائل کوڈنگ اور ایپ ڈیزائننگ کے بارے میں علم حاصل کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ طلباء کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں گروپ میں کام کرتا ہوں۔انھوں نےاب تک ایک درجن ایپس اور بہت سی ویب سائٹس تیار کی  ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے بہت سے طلباء نے ضلع ، ریاستی اور قومی سطح کے جواہر لال نہرو سائنس نمائش مقابلہ ، ایس سی ای آر ٹی اور این سی ای آر ٹی میں مسلسل تین سالوں تک انعامات جیتے ہیں۔ ان کے طالب علم ہمانشو نے این سی آر ٹی کی پہلی تا دسویں جماعت(ہندی اور انگریزی) کی سبھی کتابوں کو 'پریوڈک ٹیبل آف کیو آر کوڈڈ بکس' میں تبدیل کیا ہے۔

اس کے علاوہ ان کے طلبا نے تقریباً دو درجن کیو آر کوڈڈ چارٹ بنائے ہیں۔جس میں ملک کے وزیر اعظم ، صدر ، عظیم سائنسدان ، نوبل انعام یافتہ ، عظیم کھلاڑی ، ملک کا نقشہ، کی ندیاں ، درخت اور پودھے بنائے ہیں۔

بنا بجلی والا موبائل ٹی وی

وہیں منوج لاکڑا کی رہنمائی میں طلبا نے بنا بجلی والا موبائل ٹی وی بھی بنایا ہے، جس کی مدد سے ہریانہ کے دیہی علاقوں کے اسکول کو آسانی سے اسمارٹ کلاس رومز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ ٹی وی سیٹ موبائل سے چلتا ہے جس میں بجلی کے کنکشن کی ضرورت نہیں ہے۔منوج لاکڑا کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے یہ موبائل ٹی وی ہریانہ کے تقریباً 1800 اسکولوں میں مفت فراہم کیا ہے تاکہ بچوں کے کلاس رومز کو اسمارٹ کلاس روم میں تبدیل کیا جاسکے۔

ہندوستانی مسلمانوں پر تشدد عالمی برادری کا توجہ دینا ضروری

ہندوستانی مسلمانوں پر تشدد عالمی برادری کا توجہ دینا ضروری

افسوس کہ متاثرہ چوڑی فروش کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کیا جاتا ہے

Apoorvanand

پروفیسر اپوروانند

مدھیہ پردیش کے اندور اور راجستھان کے اجمیر میں حالیہ عرصہ کے دوران جو واقعات پیش آئے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آخر دنیا کو کیوں فوری طور پر اقلیتوں بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں کی حالت ِزار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پہلے اندور کے واقعہ پر بات کرتے ہیں جہاں ایک مسلم چوڑی فروش Bangle Seller پر حملہ کیا گیا، اسے شدید زدوکوب کیا گیا۔ اس سے رقم چھین لی گئی۔ اس کے سامان کو توڑ پھوڑ دیا گیا۔ نوجوان مسلم چوڑی فروش کو زدوکوب کئے جانے کا ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگیا۔
اس واقعہ کو لے کر مدھیہ پردیش میں مسلمانوں نے بھرپور اور پرامن طریقے سے احتجاج کیا اور مسلم قائدین پولیس کو حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کیلئے مجبور کرنے میں کامیاب رہے۔ ملزمین کی ویڈیو میں پہلے ہی شناخت ہوچکی تھی۔ پولیس نے چند لوگوں کی گرفتاری کا دعویٰ بھی کیا جس کیلئے پولیس کی ستائش کی گئی کیونکہ اندور مدھیہ پردیش میں ہونے اور وہاں بی جے پی حکومت کے باوجود پولیس نے منصفانہ طور پر کارروائی کی۔ ہمیں تو یہی بتایا گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ بعض اشرار کی جانب سے کی گئی شرپسندی کا یہ واقعہ بالکل الگ نوعیت کا ہے۔ اب دیکھتے ہیں اس سارے معاملے میں قانون کیا کرتا ہے اور عوام ؟نفاذ قانون کی ایجنسیوں سے کیا چاہتے ہیں؟ معاشرہ میں ہمیشہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں رہتا لیکن اگر ریاستی مشنری غیرجانبدارانہ طور پر کام کرتی ہے تو آپ کو فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
پھر سارا بوجھ قانون پر پڑتا ہے پھر لا اینڈ آرڈر مشنری کام کرتا شروع کرتی ہے لیکن افسوس کہ متاثرہ چوڑی فروش کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کیا جاتا ہے اور اس کے خلاف POCSO کے تحت مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے جو ایک سنگین قانون ہے۔
اس قانون کے ساتھ ساتھ غریب چوڑی فروش کے خلاف تعزیرات ہند کی 7 دفعات کے تحت مقدمات درج کردیئے جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ چوڑی فروش پر خود کو ایک ہندو کے طور پر پیش کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی الزام عائد کردیتے ہیں کہ چوڑی فروش نے ایک لڑکی سے دست درازی کی۔
ریاستی وزیر داخلہ اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہوئے بھی حملہ کو معقول فرار دیتے ہیں کہ یہ ان مقامی لوگوں کی حرکت ہے جو لڑکی کیساتھ دست درازی کی اطلاع پر شدید برہم ہوگئے تھے۔لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ ایک جھوٹ ہے کیونکہ جو ویڈیو منظر عام پر آیا اس میں حملہ آور چوڑی فروش کے ساتھ گالی گلوچ کررہے تھے۔ اس پر طنز و طعنوں کے تیر برسا رہے تھے۔
فحش کلامی کررہے تھے لیکن ان لوگوں کو مارپیٹ کے دوران یہ کہتا نہیں سنا گیا کہ تو نے ایک لڑکی کے ساتھ دست درازی کی بلکہ وہ صرف اس کی مسلم شناخت کو چھپانے کا ذکر کرتے ہوئے اسے اپنی برہمی کی وجہ قرار دے رہے تھے۔ واقعہ کے بعد اس کی کوئی اور وجہ بتانا جھوٹ کے سواء کچھ نہیں۔اگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے۔
معمول سے ہٹ کر ہے تب ہندوستانی ٹی وی چیانلوں کا سامنے آکر اس کے ایک الگ تھلگ واقعہ ہونے سے متعلق شبہات کو دور کرنا ہے، یہ بھی نوٹ کرنے کی بات ہے۔ ان ٹی وی چیانلوں کو بھی ہندو لڑکیوں اور ہندو خواتین کے خلاف ایک خطرناک سازش کی بو آئی اور ان لوگوں نے شاید اسے Bangle Jihad کا نام دے دیا۔
ان لوگوں نے یہ اعلان کردیا کہ چوڑی فروش کے بھیس میں مسلمان ہندو لڑکیوں اور خواتین پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ بھی ایک لو جہاد ہے۔اشرار اور ٹی وی چیانلوں کے اس نظریہ پر آپ انگشت بہ دندان رہ جائیں گے۔ ہم میں کئی اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔ منہار ہماری بستیوں اور گھروں میں آیا کرتے۔
ان لوگوں کا ہمارے گھروں میں باقاعدہ آنا جانا ہوتا۔ ہماری مائیں، بہنیں اور دوسری خواتین ان کی رنگ برنگی ، چمکتی دمکتی چوڑیوں سے بھری ٹوکریوں کی طرف بڑی تیزی سے جھپکتی، ان منہار کی ٹوکریوں میں صرف چوڑیاں ہی نہیں ہوتی بلکہ بندیاں بھی ہوتی پھر چکانے کا سلسلہ شروع ہوتا۔ کورونا وائرس وباء کی پہلی لہر کے دوران بھی ایسی کئی رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں جس میں بتایا گیا کہ مسلم سبزی فروشوں کو ہندو محلہ جات سے واپس کردیا گیا۔
ان پر حملے کئے گئے ہم نے ان رپورٹس کو پڑھا اور پھر فراموش بھی کردیئے۔ ہمارا خیال یہی تھا کہ یہ دراصل ایک عارضی دماغی خلل ہے اور کورونا وباء کے خوف سے یہ پیدا ہوئی ہے۔ ہم نے دہلی کے اتم نگر میں سڑکوں پر کاروبار کرنے والے مسلمانوں پر حملوں کو بھی ایک الگ تھلگ واقعہ قرار دے کر نظرانداز کردیا تھا۔ نرسنگھانند سے قبل زی ٹی وی اور اس جیسے دوسرے تھے۔
انہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کی جانب سے کئے جارہے مختلف خود ساختہ جہادوں کی فہرست پیش کی تھی۔ پہلے لوجہاد کے بارے میں ان ٹی وی چیانلوں نے لوگوں کو بتایا ، ان کے دماغ خراب کئے پھر اراضی جہاد (لینڈ جہاد) اور پھر یوپی ایس سی جہاد جیسا لفظ بھی وہ منظر عام پر لے آئے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ خود اندور میں دیوالی کے ماہ میں پٹاخے فروخت کرنے والے مسلم دکان داروں کو دھمکیاں دی گئیں اور انہیں ہندو دیوی دیوتاؤں کے نام کے پٹاخے اپنی دکانوں میں رکھنے کے خلاف انتباہ دیا گیا۔
ہم نے مظفر نگر میں اپنی مہم بھی دیکھا جہاں مسلمانوں کو انتباہ دیا گیا کہ وہ مہندی والوں کا کاروبار نہ کریں۔ بہرحال اس طرح کے بیانوں سے برپا کیا جانے والا تشدد فوری برپا نہیں کیا جاتا بلکہ مسلمانوں کے خلاف ایک سرگرم اور وسیع تر منافرت پر مبنی مہم چلائی جارہی ہے۔ انہیں مجرموں کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اُکسایا جارہا ہے۔
اس کام میں بہت ہی منظم ٹولیاں مصروف ہیں اور ہر طرف ان کی نظریں ہیں۔ اس سلسلے میں تسلیم کا واقعہ بہترین مثال ہے۔ چوڑیاں فروخت کرنے والے تسلیم کو کس طرح پکڑا گیا، مارا پیٹا گیا، اسے لوٹا گیا، اس کے سامان کو توڑا پھوڑا گیا۔ برسر عام اسے ذلیل و رسواء کیا گیا۔ اس پرتشدد واقعہ کو ڈیجیٹلائزڈ کرکے ہر طرف پھیلا گیا۔
دوسری طرف بیمار ذہنوں کیلئے ایک بے بس و مجبور مسلم چوڑی فروش تسلیم کی پٹائی و رسوائی ذہنی لذت کا باعث بن رہی ہے اور مسلمانوں میں خوف پیدا ہورہا ہے۔
اب مسلم کمیونٹی کے لیڈروں کا کام تبدیل ہوچکا ہے۔ غنڈوں کو سزا دلانے کی بجائے کسی بھی طرح تسلیم کو قانونی کارروائی سے بچانا ہے۔ اس کی ضمانت کے بارے میں سوچنا ہے اور قانونی طور پر مقدمہ لڑنا ہے۔ پولیس تو یہی کہے گی کہ وہ اب زیادہ کچھ نہیں کرسکتی کیونکہ ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے۔ فیصلہ تو عدالتوں کا کرنا ہے۔
یہ کہانی یہیں پر ختم نہیں ہوتی، یہ نہ صرف تسلیم کے بارے میں ہے بلکہ انصاف کے خواہاں مسلمانوں کے بارے میں بھی ہے، اس کمیونٹی لیڈر کو معلوم ہوا ہے کہ ان کے اور ان کے معاون کارکنوں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی جو مخالف سی اے اے ؍ این آر سی احتجاجی مظاہروں میں سرگرم تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کیلئے مسلم جہدکار اگر انصاف طلب کرتے ہیں تو ان کے ساتھ ایسا کیا جائے گا، انہیں مختلف جھوٹے مقدمات میں ماخوذ کیا جائے گا۔ ایک طرف سے یہ ان کے خلاف انتقامی کارروائی ہے۔
یہ واقعہ تو بی جے پی کی زیرقیادت ریاست مدھیہ پردیش میں پیش آیا لیکن راجستھان میں بھی جہاں کانگریس کا اقتدار ہے۔ مسلم بھکاری اور اس کے خاندان کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ کافی چیخ و پکار کے بعد پولیس نے غنڈوں کے خلاف مجبوراً تعزیرات ہند کی دفعہ 151 کے تحت مقدمہ درج کیا اور پھر ان غنڈوں کو گرفتار کرکے فوری رہا بھی کردیا گیا۔ یہ صرف مگرمچھ کے آنسو بہانے کے مترادف ہے۔
پولیس اس معاملے میں سخت کارروائی کرسکتی تھی۔ پولیس اور ریاستی حکومت کا تساہل ہریانہ سے لے کر دہلی اور اندور سے لے کر اجمیر تک موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ یہ مختلف افراد پر برپا کیا جانے والا تشدد ہے لیکن یہ کوئی عام تشدد نہیں بلکہ منافرت پر مبنی جرائم ہیں۔
ان لوگوں پر اس لئے حملے نہیں کئے جارہے ہیں کہ وہ AB یا C ہے بلکہ انہیں اس لئے حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔ یہ حملے ہندوستان کی روایت اور سکیولر اُصولوں پر ہندوستان کی بنیاد پر حملے ہیں۔ دستور ہند ملک کے مسلمانوں کو ایک باوقار زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔ اسی طرح کی حرکات کو اسٹیٹ آف انڈیا پر حملے سمجھنا چاہئے۔

مظفرنگر میں کسان مہا پنچایت کا انعقاد

مظفرنگر میں کسان مہا پنچایت کا انعقاد

آج ہوگی مہا پنچایت
آج ہوگی مہا پنچایت

مظفر نگر : آواز دی وائس مرکزی حکومت کے تین زرعی قوانین کے خلاف آج اتر پردیش کے مظفر نگر میں کسان مہا پنچایت کا انعقاد کیا جائے گا۔ متحدہ کسان مورچہ شہر کے جی آئی سی گراؤنڈ میں منعقد ہونے والی اس مہا پنچایت کا اہتمام کر رہا ہے۔ دعوی کیا جاتا ہے کہ اس میں ملک بھر سے 5 لاکھ کسان پہنچیں گے۔ بھارتیہ کسان یونین کے صدر نریش ٹکیت کے بیٹے گورو خود اس ایونٹ کو سنبھال رہے ہیں۔

مہا پنچایت کے لیے زمین کے کنارے ایک اسٹیج بنایا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم تقریبا سو فٹ لمبا اورسو فٹ چوڑا ہے۔ اونچائی 10 فٹ ہے۔ یہاں سے مہا پنچایت میں آنے والے کسانوں سے خطاب کیا جائے گا۔ سامنے زمین پر خیمے بھی لگائے گئے ہیں۔ ترنگا زمین میں 100 فٹ کی بلندی پر ایک بڑے کھمبے پر لہرا رہا ہے۔ ’

دعوی ہے کہ ملک کے کونے کونے سے کسان مہا پنچایت پہنچیں گے۔ ان کے یہاں رہنے اور کھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ بی کے یو لیڈر گورو ٹیکیٹ خود نظام کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں مختلف مقامات پر 500 دکانوں میں کھانے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ ہر بھنڈارا میں حلوائیوں سمیت دس افراد مصروف ہیں۔ اسٹورز کے علاوہ 5 ستمبر کو 110 دیہات سے کھانا آئے گا۔ دیگر جگہوں پر بھٹی بھی لگائی گئی ہے۔


سینئر شہریان کو ایس ٹی بس میں مفت سفر کی سہولت

ناندیڑ:4 ستمبر۔ (اردو دنیا نیوز۷۲)مہاراشٹراسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ایس ٹی) کی جانب سے 65سال سے زائدشہریان کو سال میں 4000 کلومیٹر تک بس میں مفت سفر کی سہولت کااعلان کیا ہے۔ اس کےلئے شہریان کو اسمارٹ کارڈ بنونا پڑے گا۔ یہ کارڈ ایس ٹی محکمہ کی جانب سے جاری کئے جارہے ہیں ۔

شہریان کو اپنے آدھارکارڈ‘الیکشن کارڈ یاالیکشن کی سلیپ اور 55 روپے لے کر قریبی ایس ٹی ڈپو جانا ہوگا اور ساتھ میں موبائل فون رکھناضروری ہے ۔ ایس ٹی ڈپو آفس کے اوقات صبح دس بجے تا شام چھ بجے تک مقرر ہیں۔ان اوقات میں سینئر شہریان ڈپوکے تعلقہ سکشن میں پہونچ کر اپنااسمارٹ کارڈ تیار کرواسکتے ہیں۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...