Powered By Blogger

ہفتہ, جنوری 01, 2022

مولانامحمودمدنی کاانقلابی قدم*میرے ایک دوست نے ایک چھوٹا سا واقعہ سنایا یے جسمیں بڑا سبق ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک منچلاپہلی صف میں امام صاحب کے بالکل پیچھے کھڑا ہوگیا،

*مولانامحمودمدنی کاانقلابی قدم*
میرے ایک دوست نے ایک چھوٹا سا واقعہ سنایا یے جسمیں بڑا سبق ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک منچلاپہلی صف میں امام صاحب کے بالکل پیچھے کھڑا ہوگیا،جب رکوع میں امام صاحب ہوئے تو اس نےپیچھے سے انگلی کردی،  امام صاحب کی حالت غیر ہوگئی، باوجود اس کے کسی طرح انہوں نے نماز پوری کرلی، جب دعا سے فارغ ہوتے تو وہ بھی کہیں فارغ ہوچکا تھا۔
اب تو اسے اس عمل میں مزہ آنے لگا،روزنئی مسجد اورہردن نئے امام کی تلاش رہتی، ہر جگہ اپنے اسی عمل کو دہراتا اور محظوظ ہوتا۔
اتفاق سے ایک دن ایک امام صاحب سے اس کا سابقہ پڑا، جس نے نماز ہی میں اس کا حساب بےباقکردیا،
عادت کے موافق جوں ہی انہوں انگلی کی، امام صاحب کراٹے کے ماہر تھے، قبلہ رو ہوتے ہوئےلات رسید کردی، خبیث کاجبڑا پھٹ گیا،اور کسی بھی امام کے پیچھے کھڑا ہونے کااسے منھ نہیں رہا ۔
ہمیں مذکورہ واقعہ سے پچھلے تمام اماموں کی صالحیت سمجھ میں آتی ہے، اوران سبھوں کا تعلق مع اللہ اور نماز سے غایت درجہ عشق کا پتہ چلتا ہے کہ، انگلی کے تیر ونشتر کوبھی برداشت کرکے نماز کو مکمل کرتے ہیں اور اپنی قوت برداشت کامکمل ثبوت پیش کردیتے ہیں ،تو وہیں دوسرے امام صاحب کی اجتہادی صلاحیت کا بھی علم ہوتا ہے کہ اس اجتماعی عبادت میں انگلی کرنے والے کا حساب فی الفوربےباق کردیناضروری سمجھتے ہیں، اس کے ناپاک عزائم اور ارادے پر لات رسید کرکے ہمیشہ کے لئےاسے خاموش کردیتے ہیں۔
اسلامی تعلیم کی رو سے دونوں طرح کےاماموں کےعمل کی دلیل مل سکتی ہے۔ تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے، دراصل مذکورہ بالا واقعہ سے یہ بات کہنی ہے کہ ملک میں ہمارے ساتھ بھی ان جیسے حالات کا اس وقت سامنا ہے۔گزشتہ سات سالوں سے مسلسل مسلمانوں کو انگلی کی جارہی ہے۔ہمیں ملک بدر کرنے کی دھمکی دی گئی ،این آر سی اور سی اے اے سے خوف دلایا گیا،ماب لنچنگ کی گئی،۲۰۲۱ء کے آخری دن تک دھرم کے نام پر پروگرام منعقد کرکے کھلے عام مسلمانوں کوگالیاں دی گئیں،مارنے کاٹنے کی بات کی گئی ہے، اسی پر بس نہیں ہوا بلکہ معاملہ نمازکےمصلی تک پہونچ گیا ، گروگرام میں صفوں کے درمیان جاجاکر مسلمانوں کو انگلی کی گئی ہے۔
اس کے جواب میں ہم اب تک یہی کہتے آئے ہیں کہ یہ ہمارا ملک جمہوری ہے،یہاں سے ہمیں کوئی بھگا نہیں سکتا ہے، ہم اپنے مذہب پر عمل کریں،یہ ہمارا بنیادی حق ہے، اسے کوئی ہم سے چھین نہیں سکتا ہے،بس ہم یہی کہتے رہے اور یہی بولتے رہے ہیں، عملی طور پر کوئی مضبوط لائحہ عمل اس کے لئےطے نہیں کرسکے ہیں، ایک جمہوری ملک میں جب بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے تو عدلیہ سے رجوع کرنا ایک ناگزیر عمل ہوتا ہے،اس کی بھی منظم کوشش ہم سے نہیں ہوئی ہے۔جس سے یہ معاملہ کافی طویل ہوگیا اوربڑھتا رہا، طریقہ علاج ہی ایساناقص تھا کہ اس محاورے کا مصداق بھی  بن گیا: مرض بڑھتا گیا جوں دوا کی۔۔۔
نوبت یہاں تک پہونچ گئی کہ جمعہ کی نماز میں صفوں میں گھس کر ہمیں ۲۰۲۱ء کے آخری دن تک انگلی کی گئی، ہم سہتے رہے اور بمشکل تمام کسی طرح اپنی نماز پوری کی ہے۔
 آج یکم جنوری ہے،۲۰۲۲ء کی پہلی تاریخ ہے،نیا سال شروع ہوا ہے اور روزنامہ انقلاب اردو کے پہلے صفحہ پر نظر ہے۔یہ خبر پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی ہے کہ مولانا محمود مدنی صاحب مدظلہ العالی صدر جمعیت علماء ہند نے مذکورہ تمام واقعات اور مسلمانان ہند کے خلاف نفرت انگیز سلوک کے خلاف باضابطہ عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔خاص بات یہ ہیکہ پیش آمدہ نفرت پر مبنی تمام واقعات کو  ایک دھاگہ میں پروکر مقدمہ کی شکل میں پیش کیا ہے۔انقلاب نے اسے اپنی خبر کا اثر کہا ہے ،یہ بات بھی صحیح ہے ، ساتھ ہی ہم سب مولاناکےاس عملی اقدام کونئے سال کا مسلمانوں کے لئےبہترین تحفہ کہتے ہیں۔اور۲۰۲۲ء کے لئے مضبوط لائحہ عمل سمجھتے ہیں۔
شریعت اسلامیہ میں نیا چاند جب نظر آتا ہے اسوقت دعا کے ذریعہ یہ تعلیم کی گئی ہے کہ امن وسلامتی اور عافیت کی بھیک خدا سے مانگنی چاہئے، 
اور اس کے لئے گویا ایک لائحہ عمل طے کرلینا چاہئے، 
واقعی حضرت مولانا موصوف نے اس نئے سال پر سب کی طرف سے کفارہ ادا کردیاہے، اور ایک مضبوط لائحہ عمل بھی پیش کردیا ہے۔اس پر حضرت کو بہت بہت مبارکباد ہے۔

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ 
رابطہ، 9973722710

لڑکیوں کی شادی کی عمر _____✍️مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

لڑکیوں کی شادی کی عمر _____
✍️مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ(9431003131)
۱۷؍ دسمبر ۲۰۲۱ء کومرکزی حکومت کی کابینہ نے لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھا کر اکیس (۲۱) سال کر نے پر اتفاق کر لیا ، وزیراعظیم نریندر مودی نے یوم آزادی کے موقع سے اپنے خطاب میں اس کا تذکرہ کیا تھا کہ لڑکیوں کی شادی کی عمر کے سلسلے میں جائزہ لیا جا رہا ہے، اس کے بعد جیا جیٹھلی کی صدارت میں ایک ٹاسک فورس کی تشکیل عمل میں آئی تھی اور اس کی سفارش کی روشنی میں کابینہ کی منظور ک بعد وزیر سمرتی ایرانی نے اسے پارلیامنٹ میں پیش کر دیا ہے گو اسے پاس نہیں کیا گیا ہے، حزب مخالف کے شور شرابے سے مجبور ہو کر حکومت نے اسے اسٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہندوستان میں کم عمر کے بچے بچیوں کی شادی پر روک لگانے کی غرض سے ایشور چندر ودیا ساگر نے ۱۸۵۰ء میں کم عمر کی شادیوں کے خلاف عوامی بیداری پیدا کرنے کے لیے تحریک چلائی تھی، جیوتی باپھولے، گوپال ای دیش مکھ، جسٹس رانا ڈے، کے ٹی تلنگ، ڈی کے کردے نے بھی عورتوں کی حالت سدھارنے کے لیے عوامی بیداری لانے کے کام میں سرگرم حصہ داری نبھائی تھی ، اس کے نتیجے میں ۱۸۹۰ء میں لڑکیوں کی شادی کی عمر دس سے بڑھا کر بارہ سال کی گئی۔۱۹۲۷ء میں ہرلاس سارداجو ایک ماہر تعلیم، جج اور سماجی اصلاح کے کام کے لیے مشہور تھے، انہوں نے لڑکوں کے لیے شادی کی عمر اٹھارہ (۱۸) اور لڑکیوں کی عمر چودہ (۱۴)سال رکھنے کی تجویز رکھی تھی، ۱۹۲۹ء میں یہ قانون بنا اور انہیں کے نام پر اس قانون کا نام ساردا یکٹ رکھا گیا ، یہ قانون مسلم پرسنل لا کے خلاف تھا، اس لیے امارت شرعیہ نے اس بل کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا، بانی امارت شرعیہ ابولمحاسن مولانا محمد سجاد ؒ نے مسلمانوں کو اس بل کے منسوخ نہیں ہونے کی صورت میں سول نا فرمانی کی تحریک چلانے کا مشورہ دیا، اس کے لیے ’’تحفظ ناموس شریعت‘‘ کے عنوان سے ایک ایکشن کمیٹی بنائی گئی اس کا ناظم مولانا ابو المحاسن محمد سجاد ؒ کو چُنا گیا، پورے ملک میں منظم تحریک چلائی گئی ، امارت شرعیہ کی زیر سرپرستی احتجاجی جلسے منعقدہوئے اور ہر جگہ سے وائسرائے ہند کو تار کے ذریعہ احتجاج درج کرایا گیا، قانون تو ختم نہیں ہوا، البتہ اس احتجاج کے نتیجے میں حکومت کی طرف سے عمل در آمد کا کام نہیں ہو سکا۔ 
 آزادی کے برسوں بعد ۱۹۷۸ء میں اس قانون میں ترمیم کرکے لڑکوں کی شادی کی عمر اکیس (۲۱) اور لڑکیوں کی اٹھارہ سال کر دی گئی ، جو اب تک رائج ہے، البتہ اس قانون کی وجہ سے کم عمر کی شادیوں پر روک نہیں لگ سکی؛ کیوں کہ یہ ایک سماجی مسئلہ تھا اور لڑکے ، لڑکیوں کی جسمانی ساخت او ر بلوغیت پر منحصر تھا؛اس لیے عملی طورپر اس کو برتا نہیں جا سکا، عام رجحان یہ بناکہ یہ شخصی آزادی پر پابندی کے مترادف اور بنیادی حقوق کی دفعات میں جس قسم کی آزادی کا ذکر ہے یہ اس کی روح کے منافی ہے، لیکن حکمراں طبقہ اس دلیل سے مطمئن نہیں تھا، چنانچہ ۲۰۰۶ء میں بچوں کی شادی پر روک کا قانون بنا کر اسے جرم کے دائرہ میں لایا گیا، اور اس کے لیے دو سال جیل او رایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی مقرر کی گئی ، لیکن یہ قانون فطرت کے خلاف تھا، اس لیے آج بھی اس قانون کے خلاف شادیاں ہو رہی ہیں اور اعداد وشمار کے اعتبار سے راجستھان اس معاملہ میں سب سے آگے ہے۔ 
خود قانونی اعتبار سے اس میں بڑا تضاد ہے، اٹھارہ سال کی عمر میں حکومت لڑکے لڑکیوں کو بالغ مانتی ہے اور اس عمر کو پہونچ کرسارے اختیارات لڑکے لڑکیوں کو حاصل ہوجاتے ہیں، وہ سرکاری نوکری حاصل کر سکتا ہے، کمپنی کھول سکتا ہے،ووٹ کا حق اسے مل جاتا ہے، لیکن وہ اپنی شادی نہیں کر سکتا، کیوںکہ وہ ابھی اکیس (۲۱) برس کا نہیں ہوا ہے۔ اسی طرح ہم باشی (لیو ان ریلیشن شپ) کے لیے بھی عمر کی قید نہیں ہے اور اسے ہندوستان میں قانونی حیثیت حاصل ہے،لڑکا ، لڑکی بغیر کسی ذمہ داری لیے ایک کمرے میں رہکر گل چھڑے اڑا ئے تو غیر قانونی نہیں ، کئی کئی گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ سے ریلیشن شپ رکھے تو قانون اس پر داروگیر نہیں کرتا، بلکہ مختلف عدالتوں کے فیصلے میں اس تعلق پر دارو گیر کرنے سے منع کیا گیا ہے، بلکہ بعض فیصلوں میں ریلیشن شپ میں رہنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
آخر سرکار کو اس سے کیا دلچسپی ہے؟یہ  ایک سوال ہے، سرکار کہتی ہے کہ شادی کی عمر میں مرد وعورت میں تفریق صنفی بنیادپر قانون کے مطابق نہیں ہے، اس کے جواب میں اسد الدین اویسی صاحب نے یہ بات صحیح کہی ہے کہ اگر تفریق درست نہیں ہے تو اتنے دن سے اسے قانون کے دائرہ میں کیوں رکھا گیا ہے۔اس کے علاوہ لڑکوں کی عمر ہی کم کرکے اٹھارہ سال کر دو، مساوات ہوجائے گی، لیکن اصل بات یہ ہے کہ سرکار چاہتی ہے کہ شادی کی عمر جتنی بڑھائی جائے گی، توالد وتناسلل کی مدت اسی قدر کم ہوتی جائے گی، اور بڑھتی آبادی پر اس طرح بھی قابو پایا جا سکے گا، یہ ایک منفی سوچ ہے اور اس منفی سوچ کی مارصرف مسلم پرسنل لا پر ہی نہیں، بھارتیہ عیسائی ازدواجی ایکٹ، پارسی ازدواجی وطلاق ایکٹ، خصوصی اطفال ازدواجی ایکٹ ، مسلم عائلی قانون (شریعت) طلاق ایکٹ، خصوصی ازدواج ایکٹ، ازدواج ہنود ایکٹ (۱۹۵۵) اور غیر ملکی ازدواج ایکٹ کے بھی خلاف ہے، اس قانون کو پاس کرنے کی وجہ سے حکومت کو ان تمام ایکٹ میں تبدیلیاں لانی ہوں گی ، جو بہت آسان نہیں ہوگا۔
 اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ لڑکا لڑکی بالغ ہوجائے تو اس کو ازدواجی رشتے میں بندھ جانا چاہیے؛ تاکہ جنسی بے راہ روی میں مبتلا ہونے کا امکان ختم ہوجائے اورمیاں بیوی ایک دوسرے کے لیے سکون ومحبت کا ذریعہ بن جائیں۔ اس سلسلے میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ اگر کوئی ایسا معقول رشتہ مل جائے ، جس کے دین وایمان سے تم مطمئن ہو تو اسے رشتہ نکاح میں باندھ دو، ورنہ بڑے فساد کا اندیشہ ہے، یہ بڑا فساد وہی جنسی بے راہ روی ، زنا کاری، بن باپ کے بچوں کی ولادت ہے، اس لیے ہمیں یہ قانون کسی طرح منظور؛ بلکہ گوارہ نہیں ہے، جب اٹھارہ سال کی عمر میں شادی ہو تی ہے تو ان کی تولیدی صلاحیت میں کمی محسوس کی جارہی ہے اور ایک سروے کے مطابق تیرہ فی صد عورتیں بانجھ پن کی شکار پائی جا رہی ہیں، تین سال عمر میں اضافہ کی وجہ سے بانجھ پن میں مزید اضافہ ہوگا، یہ ہماری سوچ نہیں، دہلی میڈیکل کونسل کے سکریٹری ڈاکٹر گریش تیاگی کا کہنا ہے۔
ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں بلوغیت کی عمر لڑکیوں کی الگ الگ ہے، اس میں رہن سہن کے طریقے، کھانے پینے اور موسم کا بھی اثر ہوتا ہے، ماہر طبیبوں کی رائے اس سلسلہ میں یہ ہے کہ جسمانی ساخت کے اعتبار سے لڑکیاں، لڑکوں سے عمر کے اعتبار سے بہت پہلے بالغ ہوجاتی ہیں، ان کے اندر جنسی تبدیلی نو سال کے بعد سے شروع ہونے لگتی ہیں،اور بارہ سال کی عمر ان کی اس لائق ہوتی ہے کہ وہ رشتۂ ازدواج میں بندھ سکیں۔ تیس برس کی ہوتے ہوتے ان کی تولیدی صلاحیت اس قدر کمزور ہونے لگتی ہے کہ ماں بننے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس کے علاوہ معاشی طور سے کمزور والدین اپنی اس ذمہ داری سے جلد سبکدوش ہونا چاہتے ہیں، انہیں اپنی ضعف وعلالت کی وجہ سے بھی ان کے ہاتھ پیلے کرنے کی جلدی ہوتی ہے ، ایسے میں تین سال مزید انتظار ان کے لیے انتہائی پریشان کن ثابت ہوگا، معقول رشتے جلد ملتے نہیں ہیں، مل جائیں تو اس مرحلہ سے گذرجانے میں ہی عافیت محسوس کیا جاتا رہا ہے، سرکار اچھی طرح جانتی ہے کہ لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھا دینے سے کوئی انقلاب آنے والا نہیں ہے یہ کام ہمیشہ سے لڑکیاں اپنی مرضی یا گارجین کی ہدایت پر کرتی رہی ہیں، اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ البتہ اس قانون کے ذریعہ ملک کی عوام کو تقسیم کرکے ووٹر کو اپنی طرف کیا جا سکے گا__

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...