Powered By Blogger
*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت* لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت* لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ, مارچ 11, 2026

*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت*

*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت*
✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804

     موجودہ عہد اطلاعات کے بے مثال پھیلاؤ کا زمانہ ہے۔ سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن مباحثوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے خبر رسانی کے دائرے کو غیر معمولی طور پر وسیع کر دیا ہے۔ ایک واقعہ چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن اس تیز رفتاری کے ساتھ ایک خطرناک رجحان بھی شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ بیانات اور تقاریر کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا۔ جب کسی گفتگو کے چند جملے اس کے اصل پس منظر سے الگ کر دیے جاتے ہیں تو حقیقت کا چہرہ مسخ ہو جاتا ہے اور معاشرے میں غلط فہمیاں، اشتعال اور تنازعات جنم لینے لگتے ہیں۔

     حالیہ دنوں میں مولانا عبداللہ سالم قمر قاسمی چترویدی کے بیان کے حوالے سے جو شور و غوغا برپا ہوا ہے وہ اسی طرزِ عمل کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک مختصر ویڈیو کو بنیاد بنا کر یہ تأثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مولانا نے گائے کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے یا اسے کسی خاص شخصیت کی حقیقی والدہ سے جوڑ کر تمسخر کا نشانہ بنایا۔ تاہم جب اس تقریر کا مکمل پس منظر سامنے آتا ہے تو معاملہ اس سے خاصا مختلف دکھائی دیتا ہے۔

     حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو 4 مئی 2024ء کی ایک تقریر کا حصہ ہے۔ بعض ٹی‌وی چینلوں نے اسے رمضان کے دوران دی گئی تقریر قرار دے کر مزید سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کی حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مولانا کی گفتگو دراصل اس سماجی تصور کے تناظر میں تھی جس میں بعض طبقات گائے کو “گاؤ ماتا” کا درجہ دیتے ہیں۔ اسی تصور کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے طنزیہ انداز میں ایک مثال پیش کی تھی۔ مگر افسوس کہ تقریر کے چند جملوں کو باقی گفتگو سے الگ کر کے اس طرح پیش کیا گیا کہ گویا وہ کسی فرد یا عقیدے کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہوں۔

     اس معاملے میں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ بعض ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے حلقوں نے اس بیان کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے جوڑ کر معاملے کو مزید اشتعال انگیز بنانے کی کوشش کی۔ حالانکہ اصل گفتگو ایک عمومی سماجی تصور کے حوالے سے تھی، نہ کہ کسی مخصوص شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے۔ لیکن جب کسی بیان کو ادھورا دکھایا جائے تو اس کے معنی بدلنا کوئی مشکل کام نہیں رہتا اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سے غلط فہمیوں کی زنجیر شروع ہوتی ہے۔

     اس کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی وہ بھی کم تشویشناک نہیں۔ مختلف ہندو تنظیموں کی جانب سے مولانا کے خلاف 84 تھانوں میں ایف آئی آر درج کرائی گئی، کئی مقامات پر چوک چوراہوں پر ان کے پتلے نذرِ آتش کیے جا رہے ہیں اور ان کے خلاف نعرہ بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پورے منظرنامے میں ایک اہم حقیقت اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ مولانا عبداللہ سالم قمر قاسمی چترویدی خود اس معاملے پر وضاحت پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا اور اگر ان کے کسی جملے سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔

     کسی بھی سنجیدہ اور مہذب معاشرے میں وضاحت اور معذرت کو مثبت انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ دراصل احساسِ ذمہ داری اور سماجی شعور کی علامت ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے موجودہ سماجی ماحول میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وضاحت یا معافی کے باوجود تنازع کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید ہوا دی جاتی ہے۔ نتیجتاً مسئلہ سلجھنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے اور معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔

     یہاں ایک بنیادی سوال بھی ابھر کر سامنے آتا ہے: آخر ملک کا آئین اور قانون کس کے ہاتھ میں ہے؟ اگر کوئی بیان واقعی قابلِ اعتراض ہے تو اس کے ازالے کے لیے عدالتیں اور قانونی ادارے موجود ہیں۔ لیکن اگر کسی شخص کے خلاف عوامی اشتعال کو اس حد تک بڑھا دیا جائے کہ سڑکوں پر فیصلے ہونے لگیں تو یہ طرزِ عمل نہ صرف قانون کی بالادستی کے لیے خطرہ ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔

     اختلافِ رائے کسی بھی جمہوری معاشرے کا فطری حصہ ہوتا ہے۔ مختلف نظریات، عقائد اور نقطہ ہائے نظر کا وجود ہی ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔ مگر جب اختلاف کو نفرت اور اشتعال میں بدل دیا جائے تو وہ معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر سب سے زیادہ ذمہ داری میڈیا اور سوشل میڈیا کے صارفین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خبر کو مکمل تناظر اور دیانت داری کے ساتھ پیش کریں۔

     اس موقع پر میں مولانا صاحب سے مؤدبانہ درخواست کروں گا کہ جن چینلز نے آپ کی گفتگو کو کاٹ چھانٹ کر کلپ کی صورت میں نشر کیا ہے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کریں تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کی جسارت نہ کر سکے نیز ہمیں بھی یہ روش ترک کرنی چاہیے کہ ہم مخالف سے ثبوت طلب کرنے کے بجائے فوراً صفائیاں پیش کرنے لگتے ہیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ بے بنیاد الزامات عائد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی کریں اور مزید مولانا بوقت بیان یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ایسے الفاظ ہرگز استعمال نہ کریں جو دو معنی کا احتمال رکھتا ہو بلکہ مخاطب کے اعتبار گفتگو کریں تاکہ کلام مقتضی حال کے مطابق ہو کیوں کہ ملک بھارت میں سمجھنے والے کم اور بال میں کھال میں نکالنے والے کی تعداد زیادہ ہیں۔

     صحافت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ سچ کو اس کی پوری حقیقت کے ساتھ سامنے لایا جائے۔ اگر کسی بیان کے چند جملوں کو کاٹ کر سنسنی خیزی پیدا کی جائے تو یہ نہ صرف صحافتی اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ عوامی شعور کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔ اسی طرح عوام کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کسی خبر کو فوراً حتمی سچ نہ مان لیں بلکہ اس کے پس منظر اور مکمل معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

     آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت اعتدال، تحقیق اور ذمہ داری کی ہے۔ سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا میں افواہ اور حقیقت کے درمیان فرق کرنا بظاہر مشکل ضرور ہو گیا ہے مگر ناممکن نہیں۔ اگر ہم سنجیدگی، تحمل اور تحقیق کے ساتھ معاملات کو دیکھیں تو بہت سی ایسی بحثیں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں جو محض غلط فہمیوں کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔

     ایک حق گو صحافی کی حیثیت سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ کسی بھی واقعے یا بیان پر رائے قائم کرنے سے پہلے اس کے مکمل سیاق و سباق کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ یہی طرزِ عمل سچائی تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرتا ہے اور اسی کے ذریعے معاشرے میں باہمی احترام، برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ صحافت کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ وہ سچ کو ادھورا نہیں بلکہ پورے پس منظر کے ساتھ سامنے لائے تاکہ معاشرہ اشتعال کے بجائے فہم و تدبر کی راہ اختیار کر سکے۔


نوٹ: *یہ مضمون نگار کا ذاتی خیال ہے ہر ایک کو اس سے اتفاق رکھنا ناممکن ہے لہذا قاری کو اختلاف کا بالکلیہ اختیار ہوگا۔*

🗓️ 11 مارچ 2026 بروز بدھ

اردودنیانیوز۷۲

*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت*

*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت* ✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804      موجودہ عہد اطلاعات کے ...