Powered By Blogger

اتوار, اگست 06, 2023

مولاناسہیل احمد ندوی ؒ۔موت ایسی جس پر رشک کرنے کو جی چاہے✍️✍️✍️ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ

مولاناسہیل احمد ندوی ؒ۔موت ایسی جس پر رشک کرنے کو جی چاہے
Urduduniyanews72
✍️✍️✍️ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ 
—-----------------------------------------------
امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھار کھنڈ کے نائب ناظم ،امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری، مولانا منت اللہ رحمانی ٹیکنیکل انسٹی چیوٹ، قاضی نو رالحسن میموریل اسکول پھلواری شریف اور دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ کے سکریٹری مولانا سہیل احمد ندوی کا25؍جولائی 2023 مطابق 6محرم الحرا م 1445بروز منگل کٹک سے120کلو میٹردور بالو گاؤں مسجد میں ظہر کی سنت ادا کرتے ہوئے دوسری رکعت کے دوسرے سجدہ میں 1بج کر16منٹ پرانتقال ہو گیا،جنازہ کی ایک نماز بعد نماز عصر بالو گاؤ ں مسجد کے صحن میں مولانا صبغت اللہ قاسمی معاون قاضی امارت شرعیہ کٹک نے پڑھائی ،دوسری نماز جنازہ بعد نماز مغرب ٹوٹی پارہ، اڈیشہ میں ادا کی گئی ،پٹنہ میں جنازہ کی نماز 12بج کر 15 منٹ پر امارت شرعیہ پھلواری شریف کے احاطے 26جولائی کو قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولانا محمد شبلی قاسمی نے پڑھائی اس کے بعد جنازہ ان کے آبائی گاؤں بگہی،تھانہ دیوراج ،بلاک لوریا موجودہ ضلع مغربی چمپارن لے جایا گیا، آخری نماز جنازہ کی امامت حضرت مولانا شمشاد رحمانی قاسمی نائب امیر شریعت نے کی، دونوں جگہ علی الترتیب مفتی وصی احمد قاسمی، مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی ، حضرت نائب امیر شریعت اور قائم مقام ناظم نےجنازہ کی نماز سے قبل خطاب فرمایا، جنازہ کے بعد آبائی قبرستان میں ہزاروں افراد کی موجودگی میں تدفین عمل میں آئی۔پس ماندگان میں اہلیہ دو لڑکے اور ایک لڑکی کو چھوڑا۔ امارت شرعیہ کے تمام شعبے اور اس کے ذیلی ادارے ہوسپٹل ،ٹکنیکل،دارالعلوم الاسلامیہ اور المعھد العالی کے ذمہ داران، کارکنان،اسا تذہ ،طلباءاور مسلمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مجھے بھی دونوں جگہ شرکت کی سعادت نصیب ہوءی
مولانا سہیل احمد ندوی بن شکیل احمدبن وکیل احمد بن شیخ عدالت حسین جالیاکی پیدائش بگہی گاؤں کے ایک زمین دار اور متمول گھرانے میں سرکاری کاغذات کے مطابق ۵؍ جون 1962ء کو ہوئی، ان کے پردادا شیخ عدالت حسین جالیا،مجاہد آزادی اورگاندھی جی، مولانا ابوالمحا سن محمد سجادؒ وغیرہ کے رفقاء میں تھے،ابتدائی تعلیم گاؤ ں کے مکتب سے حاصل کرنے کے بعد حفظ قرآن کے لئے جامعہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا مغربی چمپارن میں داخل ہوئے اور وہیں سے حفظ کی تکمیل کی،1976 میں مدرسہ اسلامیہ بتیا آگیے اور عربی وفارسی کے ابتدائی درجات کی تعلیم یہاں پائی، 1979میں دار العلوم دیو بند میں داخلہ لیا اور عربی ششم کی تعلیم کے بعد قضیہ نامرضیہ کے زمانے میں وہ دارالعلوم چھوڑ کر ندوۃ العلماء لکھنؤ چلے آئے اور یہیں سے 1987میں امتیازی نمبرات سے فضیلت کی سند حاصل کی، دوران طالب علمی وہ جمعیۃ الاصلاح کے سکریٹری بھی رہے، فراغت کے بعد حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب ( جو ان دنوں ناظم امارت شرعیہ تھے ) کے حکم سے دفتر نظامت میں بیٹھ کر مبلغین حضرات کی رپورٹ کی اصلاح کرکے نقیب میں دینے کی ذمہ داری تفویض ہوئی، تین ماہ تک نقیب میں اللہ کی باتیں اور رسول اللہ کی باتیں بھی لکھتے رہے، پھر حضرت امیر شریعت رابع ؒ کی اجازت سے دفتر نظامت میں کارکن کی حیثیت سے بحال ہوئے۔پہلے معاون ناظم،پھر نائب ناظم ،اس کے بعد ٹرسٹ کے سکریٹری منتخب ہوئے،مفتی جنید صاحب کے بعد دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ کے ناظم بنائے گئے اور زندگی کی آخری سانس تک ان عہدوں کے تقاضے کو پورا کر تے رہے،کٹک کا سفر بھی یو نیفارم سول کوڈکے خلاف بیداری مہم کے لئے کیا تھا،راور کیلا سے وہ ۲۵؍جولائی کو کٹک پہونچے تھے،120کلو میٹر دوربالو گاؤں میں انہیں ایک اجتماع کو خطاب کرنا تھا، ظہر کی نماز کے لیے وضو کیا،سنت کی نیت باندھی ایک رکعت مکمل کیا اور دوسری رکعت کے دوسرے سجدے میں چل بسے،دین کے کام کے لئے سفر،مسافرت کی موت اور وہ بھی سجدے میں سبحان اللہ العظیم کہتے ہوئے، مغفرت اور بخشش کے کتنے اشارے اللہ نے جمع کر دئیے ہیں، 
مولانا کی ذاتی زندگی انتہائی سادہ تھی، جتنے عہدے ان کے پاس امارت شرعیہ کے تھے اس میں وہ چاہتے تو ہر جگہ چار چکہ سے جاتے، ان کے شعبہ میں گاڑیاں دستیاب بھی ہیں، اور خود ان کے پاس اپنی گاڑی بھی تھی لیکن انہوں نے اپنا چلن اور روش نہیں بدلی اور نہ کبھی بڑے عہدوں پر فائز ہو نے کی وجہ سےاپنا سماجی اسٹیٹس بڑھانے کی کوشش کی، وہ ایک بائیک رکھے ہوئے تھے، ہر جگہ اسی سے دوڑ لگاتے ، گاڑی کا استعمال شاید بایدہی کبھی کرتے، بڑے عہدے پر متمکن ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم عہدوں کے اعتبار سے دوسروں سے بڑے ہیں، وہ سب سے گھل کر ملتے، مزاج میں ظرافت تھی، اس لیے مجلس کو باغ وبہار بنائے رکھتے، جنازے میں امنڈنے والی بھیڑ اور تعزیتی پیغامات سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ کس قدر مقبول تھے، دفتر سے زیادہ ان کے گاؤں جا کر معلوم پڑا کہ گاؤں ہی نہیں قرب وجوار کے لوگ بھی ان سے کس قدر محبت کرتے تھے۔ 
 وہ جلد سونے اور سحر خیزی کے عادی تھے، قرآن کریم بہت اچھا پڑھتے تھے اور یاد بھی اچھا تھا، زمانہ تک امارت شرعیہ میں تراویح میں قرآن سنایا کرتے تھے اور ان کے پیچھے قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور مولانا سید نظام الدین صاحب رحمھما اللہ جیسی عبقری شخصیت ہوا کرتی تھی، بعد میں تلاوت کا معمول تو باقی رہا ، مگر امارت کے بیت المال کے استحکام اور دارالعلوم الاسلامیہ کی مالیاتی ضرورت کے لیے ہونے والے اسفار کی وجہ سے تراویح میں قرآن سنانے کا معمول جاتا رہا، وہ رات کے حصہ میں روزانہ بلا ناغہ سورۃ یٰسین اور سورہ واقعہ پڑھا کرتے تھے، سفر میں بھی یہ معمول باقی رہتا تھا۔ 
  میں آج سے کوئی 20؍سال قبل مدرسہ احمدیہ ابابکر پور ویشالی سے حضرت امیر شریعت سادس کے حکم پر امارت شرعیہ آیا اس زمانے میں وہ معاون ناظم ہوا کرتے تھے،انہوں نے زمانہ دراز تک قاضی نورالحسن میموریل اسکول کے سکریٹری کی حیثیت سے کام کیااور ابھی بھی وہ اس عہدہ پر متمکن تھے،وہ جری،ملنسار،اور انتظامی امور کے ماہر سمجھے جاتے تھے، پلاننگ، منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآوری کی شکلوں پر ان کی گہری نظر تھی،کئی لوگ انہیں دفتر میں ’’بھیا ‘‘کہا کرتے تھے۔ایڈ جسٹمنٹ کی غیر معمولی صلاحیت ان میں تھی،وہ ہر دور میں امراء شریعت کے معتمد رہے،دفتر کے ذمہ داران اور کارکنان ان کی صلاحیت کے قائل تھے،راقم الحروف سے ان کے تعلقات مخلصانہ تھے،امارت شرعیہ کے کاموں کو آگے بڑھانے میں ہم ایک دوسرے کے معاون ہوا کرتے تھے اور مشاورت سے کام آگے بڑھتا تھا،انتقال کے دن بھی ہم لوگوں نے صبح8؍بجے دیر تک زوم(ZOOM) پر مشورہ کیا تھا ،کیا معلوم تھا کہ یہ آخری ملاقات ہوگی،اللہ مغفرت فرمائے پس ماندگان کو صبر جمیل اور امارت شرعیہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔الوداع ،الوداع،الوداع انشاءاللہ اب قیامت میں ملاقات ہوگی۔رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ آمین

نکالیں سیکڑوں نہریں کہ پانی کچھ تو کم ہوگا مگر پھر بھی مرےدریاکی طغیانی نہیں جا تی انس مسرورانصاری * دارالتحریر* قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن(رجسٹرڈ) اردو بازار، ٹانڈہ۔ امبیڈکر نگر (ہو،پی)

   ۔۔۔۔کڑ و ا شر بت ۔۔۔۔۔۔۔۔ 
      * انس مسرورانصاری
         ایک عالمی سروے کےمطابق گزشتہ پانچ سالوں میں دوسرے مذاہب کے تیرہ کروڑافراد نےمذہب اسلام کوقبول کیا۔ان میں ہرقوم ہرطبقہ ہر فرقہ اور فکر و خیال کےافراد شامل ہیں۔اعلا درجہ کے تعلیم یافتہ افرادکےعلاوہ پسماندہ،ناخواندہ۔آدی واسی حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں۔اخبارات اور سوشل میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں شہرمرادآباد(یو،پی)میں پچاس دلتوں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیاجن کوکلمہءطیبہ پڑھتے ہوئے ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے۔(ایسی خبروں کومیڈیا والےظاہرنہیں کرتے) 
       دنیامیں تیزی کےساتھ اسلام پھیل رہاہے۔ایسا معلوم ہوتا ہےکہ بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرےگاکہ اسلام دنیا کا سب سےزیادہ مقبول عام مذہب ہوجائےگا۔اس کی بنیادی وجہ اسلام کی اپنی کشش،اس کا نظام حیات وکائنات اوراس کے دشمنوں کی طرف سے پھیلائی جانےوالی غلط فہمیاں اور نفرت انگیزیاں ہیں۔قرآن کریم کے نسخوں کی بےحرمتی اوراس کوجلانا۔پیغمبراسلام کی شان میں گستاخیاں اورمسلمانوں کے خلاف انتہائی ظالمانہ شرانگیزیاں۔ایسے معاملات ہیں جو صالح ذہن وفکر کےعناصر اورغیرمتعصب،انصاف پسندافرادکو سوچنےپر مجبور کرتے ہیں کہ آخر اسلام میں ایساکیا ہےجس کے خلاف اس قدرشورشرابےاور ہنگامےاٹھائے جارہےہیں۔؟اس مقام پر انھیں اسلام اور پیغمبراسلام کےبارےمیں مطالعہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔اورجب حقیقت کاسامنا ہوتا ہےتووہ بےساختہ پکار اٹھتےہیں۔لا الہ الاﷲ محمد الرسول اﷲ۔۔اسلام ایک ایسانظام سیاست و معیشت پیش کرتاہےجس کی کوئی مثال نظرنہیں آتی۔اس پرآشوب زمانہ میں صرف اسلام ہی انسان کےدکھوں اور پریشانیوں کا حل ہے

    وہ دن قریب ہے جب انڈیا میں اسلام اورمسلمانوں کے خلاف منو وادیوں کی ساری نفرت انگیزیاں،شر پسندیاں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ ہندو رہنماؤں کو یورپ سے سبق سیکھناچاہیے۔جہاں اسلام اتنی سرعت سے پھیل رہا ہے کہ اس کے دشمن اورحاسدین بوکھلاکررہ گئیے ہیں۔ان کی عقلیں سلب ہوگئی ہیں۔ یہی حال انڈیا میں ہونے کےآثارمو جود ہیں۔بس مسلمان اپنی بیداری کا ثبوت فراہم کریں اور سارے مسلکی اختلافات کو پس پشت ڈال دیں۔اسلام کو اپنے کرداروعمل سےظاہرکریں۔اس کے سواامن و عافیت کا کوئی اور دوسرا راستہ نہیں۔یہ مسلمانوں کی ذمہ داری بھی ہےاور فرض بھی۔ورنہ وہ خدا ورسول کے مجرم ہوں گے۔خدا کے رسول ﷺ نے یہی کیاتھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کوکردارو عمل کی بنیادپرکھڑاکیا۔عام اعلان حق سےپہلےآپ نے اپنے کردار وعمل سے اسلام کوظاہرکیا۔پھر بعدمیں اعلان حق فرمایااور لوگوں کواس کی دعوت دی۔مسلمانوں کو بھی یہی کرناہوگا۔اسلام کواپنےکرداروعل سے ظاہرکریں۔ 
     جہاں تک مسلم لڑکیوں کےارتدادکامعاملہ ہے،وہ یک طرفہ سچ نہیں ہے۔ سچ یہ ہےکہ یہ ایک ڈرامہ ہےجو مسلمانوں کو ہراساں اور پریشان کرنے کےلیےکھیلاجا رہاہے۔ہندو لڑکیوں کو مسلم لڑکیاں بناکرارتدادکافتنہ اٹھانے والےیہ نہیں جانتے کہ اس کا ردعمل خودانھیں کے خلاف اوراسلام کےلیےموافق وسازگار ہو کررہےگا۔یادرکھئے۔ہرایکشن کاایک ری ایکشن ہے۔ہر عمل کاایک ردعمل ہے۔ 
       آج بےشمار ہندو خواتین نقاب لگاکرمسلم عورتوں کے لباس میں اﷲ اوراس کے رسول کے نام پرمسلم گھروں میں جاکربھیک مانگ رہی ہیں۔میری نظرمیں ایسی درجنوں خواتین ہیں جن کاپیشہ ہی نقاب لگاکر بھیک مانگنا ہے۔
       مانتا ہوں کہ ارتداد کافتنہ موجود ہے۔ لیکن اس کی ذ مہ داری مسلم نوجوانوں پر آتی ہے۔ وہ اگراپنی لالچی اور حریص ذہنیت سے باز آ جائیں تو بازی پلٹ سکتی ہے۔ارتدادکےطوفان کوروکنےکےلیےمعاشرتی اصلاح اور خود اپنی کردار سازی کی ضرورت ہے۔۔مسلم بچیوں کوگمراہ کرنےکےلیےہندوتنظیموں کا لاکھوں روپیہ خرچ کرنا۔نوکری اور فلیٹ کی گارنٹی۔ لیکن افسوس کہ یہ ہندو فرقہ پرست تنظیموں کےغیردانش مند افراد نہیں جانتے کہ وہ کن ہاتھوں کی کٹھ پتلیاں ہیں۔ اپنے سیاسی مقاصد کےلیے مذہب کے نام پر گمراہ کرنے والے ان کے رہنماؤں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کی بیٹیاں،بھتیجیاں اور بہنیں مسلمانوں کے گھروں میں خوش حال ازدواجی زندگی بسر کر رہی ہیں اور ان کے سرپرستوں کو کوئی اعتراض نہیں۔ ہسٹری اٹھاکر دیکھ لیجئے۔مجھے نام لینے کی ضرورت
 نھیں
  موجودہ حالات میں مسلمانوں کےلیے گمراہ کن ہندو شدت پسندوں کی سرگرمیاں ایک بڑی وارننگ اور انتباہ ہیں۔اب مسلمانوں کوبیدارہوجاناچاہئے۔
     آج کتنے ہی ہندو بھائی منتظر ہیں کہ مسلم سماج انھیں قبول کرے تو وہ اسلام قبول کرلیں۔مگر شاید ابھی وہ وقت نہیں آیا۔ 
     ہمارے قصبہ کےکئی ہندو، مسلمان ہوئے۔ ہندو رہنماؤں نے انھیں طرح طرح کےلالچ دیئے۔ ڈرایا،دھمکا یا۔یہاں تک کہ انھیں جیل تک کاٹنی پڑی ۔ قسم قسم کی تکلیفیں اٹھائیں لیکن ہندو دھرم میں واپس نہ گئے۔وہ آج بھی معمولی مزدورہیں۔اس کااجرتو اللہ ہی انھیں دےگاجن مشکل حالات میں وہ اسلام کے دامن سےلپٹےرہے۔ لیکن مسلم سماج نے انھیں قبول نہ کیا۔کوئی مسلم خاندان انھیں اوران کے بچوں کو شادی کےلیےنہ لڑکا دینےکےلیےتیارہےاورنہ لڑکی۔ دور دراز کے علاقوں میں ان کی شادیاں ہوتی ہیں۔ پھربھی وہ اسلام پر قائم ہیں۔ یقینی طور پر وہ ہم سے بہتر مسلمان ہیں۔ہمارا قصبہ مسلم باہلی چھہتر یعنی مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ کپڑے کی صنعت کے لیے بہت مشہور ہے۔ شاید ہی کوئی گلی ایسی ہوجس میں لکھ پتی اور کروڑپتی لوگ آبادنہ ہوں۔ یہ تجارت پیشہ افرادہیں مگران میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جوان (اصل) مومنوں کی معیشت کوبہتربناسکے۔ وہ آج بھی مزدورہیں۔ ان کے بچے بھی مزدوری کرتےہیں۔جس قوم کا یہ حال ہو وہ بھلا کس طرح فلاح پاسکتی ہے۔ 
      مسلمانوں کابکھراہوامسموم معاشرہ کسی نوارد مسلمان کو خود میں ضم کرلینے کی صلاحیت سے محروم ہوچکا ہے۔وہ بھول گیا کہ جس رسول پر اپنی جان فداکرنےکاجھوٹادعوااورپروپیگنڈہ کرتاہے،اسی نبی ﷺ نےباربارفرمایاکہ ۔۔۔ مسلمان، مسلمان کابھائی ہے۔اس کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو وہ خود اپنے لیے پسندکرتاہے۔۔۔۔ اسےنقصان نہ پہنچائے۔۔۔۔اس سےخیر خواہی کا معاملہ کرے۔۔۔۔،، 
       اس سے پہلے کہ ہم اقوم عالم کو اسلام کاپیغام دیں،ہمیں خود اس کے پیغام پر عمل کرنا ہوگا۔ہمیں اپنے کردار وعمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کابھائی ہےاور اپنے بھائی کےلیے وہی کچھ پسند کرتاہے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتاہے۔یہودیوں میں ایک روایت مشہورہےکہ جب فجر کی نماز کےلیے مسجدیں جمعہ کی نماز کی طرح بھرنےلگیں توسمجھ لو کہ یہودیت کا خاتمہ ہوچکا۔اس وقت ساری دنیا پر اسلام اورمسلمانوں کی حکمرانی ہو جائے گی۔،، 
      جس روز ایسا ہو گیا۔ وہ اسلامی انقلاب کاپہلا دن ہوگا۔تب کوئی مرتدنہ ہوگا۔کسی غیر مسلم کو اسلام قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ ہوگی۔ وہ سب
 
   کچھ چھوڑچھاڑکراسلام کے دامن سے لپٹ جائے گا۔اسے اٹھارہ کروڑ دیوی دیوتاؤں کی ضرورت نہ ہوگی۔ 
     ہمیں مرتد بچیوں کو گالیاں دینےاوربرابھلاکہنےسے پہلے اپنےلالچی،بےغیرت اور حریص بچوں کو گالیاں دیناچاہئیےاوراگرایمانی غیرت ہو تو خوداپنے آپ کو بھی گالیاں دےلیں۔اورخودہی کو برابھلاکہیں۔ 
       مرتد ہوجانے والی بچیوں کی فکر نہ کیجئے بلکہ اپنے بچوں کے لالچ اور ذہنی دیوالیہ پن کی فکرکیجئے۔ اپنی معاشرتی خرابیوں کے تدارک پرنگاہ کیجئے۔اپنی کوتاہیوں کو چھپانےکےلیےکالجوں اور یونیورسٹیوں کوبدنام نہ کیجئے۔۔
       تاریخ بتاتی ہےکہ جب بھی اسلام کےخلاف فتنے کھڑےکیےگئیے،اسےاورزیادہ ترقی اور عروج حاصل ہوا ہے۔#
        اسلام کو فطرت نے کچھ ایسی لچک دی ہے
        جتنا ہی دباؤ گے، ا تنا ہی یہ ا بھر ے گا

     نکالیں سیکڑوں نہریں کہ پانی کچھ تو کم ہوگا
      مگر پھر بھی مرےدریاکی طغیانی نہیں جا تی 
            انس مسرورانصاری
                            * دارالتحریر*
          قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن(رجسٹرڈ) 
         اردو بازار، ٹانڈہ۔ امبیڈکر نگر (ہو،پی)
                   رابطہ/9453347784/

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...