Powered By Blogger

جمعرات, فروری 01, 2024

آخر میں ایک بات

آخر میں ایک بات 
Urduduniyanews72 
ماہ جنوری کے اختتام پر لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔سخت ٹھنڈک سے سبھی کو نجات ملی ہےاور ہمارےجسم کو آرام نصیب ہوا ہےمگرساتھ ہی اس مہینہ کے اختتام پرکچھ ایسی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں جن سے بالخصوص مسلمانوں کو شدید قلبی تکلیف پہونچی ہےاورہند کےملت اسلامیہ کاجگرپارہ پارہ ہوگیاہے۔ انمیں پہلی خبرملک کی راجدھانی دہلی کے مہرولی کی ہے۔ چھ سو سالہ قدیم اخونجی مسجد جسمیں مدرسہ بھی چل رہا تھا بلڈوز سے شہید کردی گئی ہے،قرآن کریم کے نسخے، اساتذہ وطلبہ کے ساز و سامان سب مسجد کے ملبے کے ساتھ دفن کردئیے گئے ہیں، یہ کارروائی علی الصباح دہلی اتھاریٹی نے پولس کی مدد سے انجام دی ہے۔سب سے پہلے امام صاحب ودیگر موجودین کو یرغمال بنالیا گیا، ان کے موبائل فون ضبط کئےگئےتاکہ کسی کو اس انہدامی کاروائی کی خبر نہ ہوسکے،پھر سب کچھ تہس نہس کردیا گیاہے۔ اس وقت وہاں صرف مٹی کا ڈھیر ہے۔ مسجد کا نام ونشان  تک بھی موجودنہیں ہے۔
دوسری خبر شہر وارانسی سے یہ مل رہی ہے کہ ڈسٹرکٹ جج نے اپنی سروس کے آخری دن گیان واپی جامع مسجد کے تہہ خانے میں ہندو فریق کو پوجا کی اجازت دے دی ہے، ابھی ابھی یہ خبر  بھی مل رہی ہے کہ راتوں رات مذکورہ مسجد کےتہہ خانے میں مورتی نصب کرکے اس کی پوجا بھی شروع ہوچکی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف مسلم پرسنل لا بورڈ نےالہ آباد ہائی کورٹ میں قانونی چارہ جوئی کی بات کہی ہے اور یہ ضروری بھی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس نازک ترین وقت میں بیداری کی شدید ضرورت ہے۔سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ آخرکیسی بیداری اور کس کی بیداری مطلوب ہے؟
 سوشل میڈیا میں اس وقت مفکر اسلام حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کی ایک آڈیو گشت کر رہی ہے۔جن حالات کا ہم سامنا کررہے ہیں مولانا نے بہت پہلے سے ہی اس کی پیش گوئی فرمادی ہےاور اسے ایک بڑافتنہ کہا ہے،نیز اس کے حل کےلئے آخری بات کہ کر علماء کرام کو خطاب بھی کیا ہے۔
حضرت نےیہ واضح انداز میں فرمادیاہے کہ علماء کرام کی طاقت سے ہی اس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہےا۔حضرت کی یہ تقریر پورے ملک کی تصویر بدل سکتی ہے،اور ہم اس برے حالات سے نکل سکتے ہیں، اے کاش اس پر عمل ہو اور پورے ملک کے علماء کرام متحد ہوکر آج ہی سے اس انقلابی کام کو ایک تحریک کی شکل دیکر کرنے لگیں، مولانا فرماتے ہیں ؛
"آخر میں ایک بات کہ کر ختم کرتا ہوں کہ اس وقت ہندوستان میں ایک ایسا دور ایا ہےجو ہمارے علم میں پہلے کبھی نہیں ایا۔ دور اکبری کو کسی قدر مشابہت ہے لیکن دور اکبری بھی اس درجے میں خطرناک نہیں تھا جتنا یہ دور جو چل رہا ہے۔ اس وقت اکثریت نے یہ طے کر لیا ہے کہ اس ملک کو"اسپین" بنا کر رہیں گے۔ یعنی اس میں مسلمان رہیں گے مگر اپنے تمام ملی تشخصات کو چھوڑ کر۰۰۰۰۰۰۰ اذانیں بھی زور سے نہ ہوں، مسجدوں کی کثرت بھی، مسجدوں کا جائے وقوع بھی اور مسجدوں کا وجود بھی خطرے میں ہے۔ بابری مسجد کے ساتھ جو واقعہ پیش ایا اس نے اس کے لیے راستہ کھول دیا ہے۔ صاف صاف ہندو اخبار نے بھی اور کالم نگار اور ان کے سوچنے سمجھنے والے انگریزی اخباروں میں بھی جو مضامین نکل رہے ہیں اور ہندی اخباروں میں بھی صاف صاف یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو بالکل ہندو بن کر رہنا ہوگا، ہندوستانی بن کر رہنا ہوگایا مسلمان بن کر رہنے کی اب گنجائش نہیں ہوگی۔ لباس میں ،صورت وشکل میں ، زبان میں،رسم الخط میں اور تہذیب میں سب میں ان تمام امتیازی خصوصیات سے دستبردار ہو جائیں جن سے دور سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ یہ مسلمان ہیں۔
 اس وقت اس فتنے کو روکنے کے لیے سب سے بڑی طاقت ہو سکتی ہے وہ علماء کی ہو سکتی ہے اور ہمارے فضلاء مدارس کی ہو سکتی ہے۔ وہ جہاں جہاں کے رہنے والے ہوں وہاں کی مسجدوں میں تقریر کریں، جمعہ کے دن تقریر کریں، عیدین میں تقریر کریں ،خوشیوں کے موقع پر تقریر کریں، نکاح وغیرہ کی مجلسوں میں تقریر کریں کہ ہمیں پورے ملی تشخص کے ساتھ اس ملک میں رہنا ہےاور کسی ایک چیز کو نہیں چھوڑنا ہے۔ہم اس کے لیے بھی تیار نہیں ہیں کہ ہمارا پاجامہ ٹخنے سے نیچے ہو، ہم اس کے لیے بھی تیار نہیں کہ اپنی داڑھی کو ایسا کر لیں کہ محسوس یہ ہو کہ اتفاقا کچھ بال اگ آئے ہیں۔ ہم بالکل شریعت پر عمل کریں گے، شریعت کے ساتھ رہیں گے، ہمارا نظام تعلیم وہی یہی رہے گا، بچوں کو توحید کی تعلیم دیں گے، دینیات پڑھائیں گے، اردو سے واقف بنائیں گے، اردو رسم الخط کو زندہ رکھیں گے۔ سب سے بڑی ذمہ داری اپ پر عائد ہوتی ہے اور اپ ہی بہتر طریقے پر یہ ذمہ داری ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی سن لیجیے اور دل پر لکھ لیجئے کہ اس وقت کا سب سے بڑا فتنہ ہے متحدہ کلچر اور ملی تشخص سے دستبردار ہونا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے دینی حلقے یا علمی حلقے کے بعض لوگ بھی جو قلم کا استعمال جانتے ہیں اور علمی زبان میں بات کر سکتے ہیں وہ بھی اس کی دعوت دینے لگے ہیں کہ مسلمانوں کو اس پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔ پرسنل لاکے سلسلے میں جو اصرار کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف خواہ مخواہ ہندوؤں میں اس سےایک رد عمل پیدا ہوا، وہ سمجھے کہ مسلمان بہت تنگ دل اور تنگ نظر ہیں۔
 صاف صاف کہتے ہیں ہم یہاں پوری خصوصیات کے ساتھ رہیں گے، اس کے ساتھ ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی ہم کو اس ملک کی قیادت نصیب فرمائے گا۔ اس لیے کہ اس ملک کی ابادی کا کوئی عنصر اس قابل نہیں ہے کہ وہ اس ملک کو بچائے خطرے سے۔ سب دولت پرست ہیں،مادہ پرست ہیں، نفس پرست ہیں، طاقت پرست ہیں، اقتدار پرست ہیں، جاہ پرست ہیں۔
 اس لیے ہم عزت کے ساتھ رہیں گے، ہم اپنے تشخص کے ساتھ رہیں گے، سر اونچا کر کے چلیں گے، ہماری نگاہیں شرم سے جھکی ہوئی نہیں ہوں گی بلکہ ہماری نگاہیں بلند ہوں گی۔ اور سمجھیں گے کہ ہم جو کر رہے ہیں وہ صحیح ہے اور ہندوستان کا دستور اس کی اجازت دیتا ہے۔ ہندوستان اسی حالت میں صحیح سلامت مامون محفوظ اور خوشحال رہ سکتا ہےکہ اس میں ایک دوسرے کو اس کی ازادی دی جائے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کریں، اور مذہبی شعائر کامظاہرہ کر سکیں"
(حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ )

ہمایوں اقبال ندوی 
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 
وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری 
یکم فروری ۲۰۲۴ء بروز جمعرات

مولانا امام الدین قاسمی با صلاحیت اور سنجیدہ عالم دین تھے_

مولانا امام الدین قاسمی با صلاحیت اور سنجیدہ عالم
اردودنیانیوز۷۲ 
تھے___مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
پٹنہ یکم فروری (عبدالرحیم برہولیاوی)
مولانا امام الدین قاسمی نے جواں عمری میں ہی آج شام پارس ہوسپٹل لے جاتے ہویے دنیا کو خیر باد کہ دیا
یہ انتہائی افسوسناک خبر رہی  جس نے بھی سنا حیران رہ گیا
اللّٰہ کے یہاں سے اتنی ہی زندگی وہ  لے کر کے آیے تھے
اللّٰہ کی مرضی کے آگے بندہ کو راضی برضاءے الہی رہنا ہوتا ہے یہی بندگی ہے اور یہی بندے کی شان ہے ان خیالات کااظہار  معروف عالم دین ناظم وفاق المدارس الاسلامیہ اردو میڈیا فورم اور کاروان ادب کے صدر مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نے نمائندہ سے ٹیلیفونک گفتگو  میں  تعزیتی کلمات میں کیا۔انہوں نے فرمایا کہ مولانا امام الدین قاسمی با صلاحیت اور سنجیدہ عالم دین تھے جو مصیبتیں اور پریشانیاں ان کی زندگی میں آتی اسے انہوں نے صبر استقامت کے ساتھ دل پر مار کر جھیل لیا۔امارت شرعیہ سے علیحدگی کے بعد وہ الحمد ٹرسٹ کے ذریعہ خدمات انجام دے رہے تھے
وہ لاولد تھے یہ بھی ان کی زندگی کا ایک خلا تھا اللّٰہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے والدین اہلیہ اور متعلقین  کو صبر جمیل دے آمین قارین سے دعاء مغفرت کی درخواست بھی مفتی صاحب نے کی ہے

ہر اک شکست دے گی تجھے حوصلہ نیا

ہر اک شکست دے گی تجھے حوصلہ نیا 
اردودنیانیوز۷۲ 
     مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
 نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ (9431003131)

22؍ جنوری 2024ء ہندوستانی تاریخ کا وہ کالا دن تھا، جس دن مرکزی اور ریاستی حکومت نے ملکی دھن اور حکومتی تنتر اور اقتدار کے سہارے اجودھیا میں رام للا کی پران پرتشٹھا‘‘ کے نام پر گنگا جمنی تہذیب، سیکولر اقدار اور محبت کے ماحول کو نفرت کی بھینٹ چڑھادیا، یوگی جی نے اس موقع سے فرمایا کہ لوگ کہتے تھے کہ مندر تعمیر ہونے پر خون کی ندی بہہ جائے گی، وہ دیکھ لیں مندر وہیں بنا ہے، جہاں ہم بنانا چاہتے تھے،وزیر اعظم نے کہا کہ لوگ کہتے تھے کہ رام مندر بنے گا تو آگ لگ جائے گی، ایسا کچھ نہیں ہوا، انہوں نے کہا کہ رام سب کے ہیں، تو پھر ہندو مذہب کے چاروں شنکر اچاریہ، رام مندر تحریک کے صف اول کے رہنما لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، ونے کٹیار ، اوما بھارتی اور حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے اپنے کو اس تقریب سے کیوں دور رکھا ، بات بالکل واضح ہے کہ ان حضرات نے اسے بھاجپا اور آرایس ایس کا محض ایک کھیل سمجھا، جو 2024ء میں بھاجپا کو پھر سے اقتدار تک پہونچانے اورنریندر مودی کو پھر سے وزیر اعظم بنانے کے لیے کھیلا گیا ہے، مودی جی نے  کہا کہ رام للا مندر کی تعمیر ہندوستانی سماج کے امن ، صبر، باہمی خیر سگالی اور ہم آہنگی کی علامت ہے، وزیر اعظم نے بالکل صحیح کہا، لیکن یہ ہندوستانی سماج کے بجائے یک طرفہ مسلمانوں کے صبر ، امن ،باہمی خیرسگالی اور ہم آہنگی کی وجہ سے سارا کام پر امن ماحول میں ہوگیا، جس نے مسلم مخالف نعرے اور ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کے لئے اکسانے اور اشتعال انگیز نعروں کے باوجود صبر،تحمل اوربرداشت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، وہ اپنے قائدین کے مشورے کے بموجب خاموشی سے یہ سارا تماشہ جھیل گیے اورملک کی فضا کو پُر امن بنائے رکھنے میں اپنی مضبوط حصہ داری نبھائی، جبکہ فریق مخالف نے رام للا کی گھر واپسی کے نام پر پورے ملک میں جو طوفان بد تمیزی برپا کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، پروگرام کو پورے ہندوستان میں رواں دکھایا گیا اورلوگ جھومتے رہے ، اس سے رام جی کی محبت دلوں میں پیدا ہوئی ہو یانہیں، یہ تو اللہ جانے، لیکن آر ایس ایس اور بھاجپا کے 2024ء میں اقتدار پر قبضے کی بھر پور منصوبہ بندی ہو گئی اور مودی جی کی تقریر سے متھرا اورکاشی کی آگ اور بھڑکنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا، وزیر اعظم اشاروں میں بات کرنے کے عادی ہیں اوریہ اشارے ان کے بھگت اچھی طرح سمجھتے ہیں، وہ بہت برننگ ٹاپک پر بھی کم بولا کرتے ہیں، منی پور کا معاملہ آپ کے سامنے ہے ، پارلیامنٹ کا سارا وقت برباد ہوا اور وہ چپی سادھے رہے ، مودی جی نے اس پوجا کے ججمان بننے کے لیے گیارہ دن کا اُپواس رکھا، صرف ناریل پانی پر گذارا کرتے رہے ، مندر مندر جا کر پوجا ارچنا کی، تقریب میں رام للا کو اپنی جگہ پر پہونچانے اور آنکھوں کی پٹی کھولنے کے وقت یوں تو آدتیہ ناتھ یوگی ، آر ایس ایس کے سنچالک موہن بھاگوت، اتر پردیش کی گورنر آنندی بین اور ایک پنڈت بھی تھے، لیکن ایسا لگتا تھا کہ یہ ’’ون مین شو‘‘ہے جو نریندر مودی پر مرکوز ہے، بقیہ لوگ صرف اس موقع کے چشم دید گواہ ہیں، اس موقع سے ایک بڑا جلسہ بھی ہوا، اوربڑی شخصیات نے اس میں خطاب کیا، تذکرہ اس موقع سے رام للا سے زیادہ مودی جی کا ہوا، البتہ یہ بات صحیح کے مودی جی نے اپنی مختصر تقریر میں ایک سو چودہ (114)بار رام اور رام للا کا ذکر کیا۔انہوں نے اس پورے پروگرام میں اپنے کو سادھو سنتوں کی طرح پیش کیا اورہندو راشٹر کی علامت اپنے کو بنا لیا۔ ایسے میں ہندوستان کا گودی میڈیا کب خاموش رہنے والا تھا، اس نے کئی کئی گھنٹے اس تقریب کی رواں نشریہ کا انتظام کیا اور پل پل کی خبریں اس طرح پہونچائیں، جیسے پورا ملک ہندو راشٹر میں تبدیل ہو چکا ہے، اورکیا ہندو اور کیا مسلمان سب اس تقریب میں شریک ہیں، آر ایس ایس اور موہن بھاگوت کے منظور نظر عمر الیاسی کی اونچی ٹوپی گودی میڈیا کی توجہ کا خاص مرکز رہی ، اور کیمرہ گھوم پھر کر اس پر ڈالا جاتا تھا تاکہ دنیا کو بتایا جائے کہ مسلمان کو بھی اس تقریب سے مسرت ہے، بابری مسجد کا مقدمہ پوری زندگی لڑنے والے ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری بھی اس مہم میں شریک تھے اور بھول گیے تھے کہ ان کے والد نے مرتے وقت انہیں وصیت کی تھی ، جو تصویر میڈیا دیکھا رہا تھا مسلمانوں کی حالت اس کے بر عکس تھی، وہ خون کے آنسو پی کر امن اور سکون سے رہے بھی اور دوسروں کو رکھا بھی، اگر یہ یک طرفہ تحمل نہیں ہوتا تو اس موقع پر سب کچھ جل کر خاکستر ہوجاتا اور لاشوں کا شمار ممکن نہیں ہوتا۔ 
اس پروگرام کی بڑی حد تک صحیح تصویر غیر ملکی اخبارات نے پیش کی ، اور عنوانات اور سرخیوں کے ذریعہ لوگوں کو بتایا کہ حقیقت کیا ہے، بر طانوی اخبار گارجین نے لکھا ، مودی نے بھارت میں منہدم مسجد کی جگہ ہندو مندر کا افتتاح کیا، بی بی سی کے ویب سائٹ پر سرخی لگائی گئی کہ ’’بھارتی وزیر اعظم مودی نے مسمار کی گئی بابری مسجد کے مقام پر ہندو مندر کا افتتاح کیا‘‘ رائٹر نے لکھا کہ ’’اسے ہندوستان میں ہندو بیداری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے‘‘۔
 رام للا کی جو مورتی مندر میں نصب کی گئی ہے اس کی سناتن دھرم کے مطابق کئی بار پوجا کی گئی ، سینکڑوں گھڑے پانی سے غسل دیا گیا، پالکی پر رکھ کر انہیں پورے مندر میں گھمایا گیا، بقول پنڈتوں کے انہوں نے پورے مندر احاطہ کا ’’بھرمن‘‘ کیا، اور اس کے بعد صرف چوراسی(84) سکنڈ میں منتروں کے بیچ انہیں متعینہ جگہ پر نصب کر دیا گیا، رام للا کی یہ مورتی سوئے گی، بھی جاگے گی بھی، کھائے گی بھی، بھوگ اسی کے لیے لگایا جاتا ہے، یہ دو پہر میں آرام کرے گی، رات میں دس بجے کے بعد پھر سوئے گی،اس پورے کام کو متعینہ وقت پر انجام دلانے کے لیے ان کی چھ بار آرتی اتاری جائے گی، جس میں ایک صبح ان کو جگانے، دوسری انہیں آرام پر جانے، تیسری ان کو رات میں سونے کا وقت بتانے کے لیے کیا جائے گا۔ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق ’’پران پرتشٹھا‘‘ سے مورتی کے اندر جان پڑ گئی ہے، لیکن ان کو روز مرہ کے معمول یاد دلانے کے لیے بار بار ان کی آرتی اتاری جائے گی اور ان کے آرام میں کوئی خلل واقع نہ ہو اس کے لیے رام للا کے درشن کودن میں ڈیڑھ گھنٹے اور دس بجے کے بعد سے صبح ک روک دیا جائے گا۔گوا بھی معتقدوں کی بھیڑ کی وجہ سے دن کے آرام کے وقفہ کو ختم کر دیا گیا ہے، جب تک بھیڑ رہے گی، دن میں وہ آرام نہیں کر سکیں گے ، اللہ نے کتنی پیاری بات کہی ہے، ضعف الطالب والمطلوب۔
تاریخ کے آنکھوں نے یہ دیکھ لیا کہ بابری مسجد توڑ کر اس کی جگہ مندر بنادی گئی ہے اور اس بے انصافی کا جشن پورے ہندوستان میں اکثریتی طبقہ نے پورے جوش وخروش سے منایا ، رات میں دیوالی منائی گئی ، پٹنہ میں ڈاک بنگلہ چوراہے سے بودھی پارک تک پچپن ہزار دیے جلائے گیے ، یہ صرف ایک چوراہے کا حال ہے، پورے ملک میں جو پٹاخے پھوڑے گیے، آتش بازی ہوئی ، اس کا شمار ممکن نہیں ہے، سڑکوں کی آمد ورفت کو جس طرح بند کیا گیا، لوگ ہنومان مندر پٹنہ سے گاندھی میدان تک پیدل مارچ کرنے کو مجبور ہوئے، یہ رام کا پیغام بالکل نہیں تھا، جس ملک میں عام جگہوں پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے، کئی کو ایسا کرنے پر قید وبند کی صعوبت جھیلنی پڑی ہے ، اس ملک میں ایک مذہبی تقریب کے لیے سڑکیں بند کر دی گئی ہوں، تیز آواز میں ڈی جے، پٹاخے، آتش بازیاں اور چراغاں فضائی آلودگی میں اضافہ کرکے خطرناک حد تک پہونچا دے رہے ہوں، جہاں سانس لینا مشکل ہو رہاہو کیا اسے رام کا پیغام کہا جا سکتا ہے ، یقینا نہیں، خوشیاں ضرور منائیے، لیکن عام انسانوں کو تو پریشانی میں مت ڈالیے، رام جی نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا’’پرہت سرس دھرم ناہیں بھائی، پریہارسم نہیں ادھمائی‘‘،یعنی دوسروں کی بھلائی کے برابر کوئی مذہب نہیں ہے اور دوسروں کو دکھ پہونچانے کے برابر کوئی نیچتا پاپ نہیں ہے، کیا رام مندر بنانے والوں نے رام جی کے اس اپدیش کاذرا بھی خیال رکھا، انہوں نے کہا تھا کہ اجُون اینتی کچھ بھاشیوں بھائی، تو موہی برجبوبھیسرائی‘‘، اگر میں کچھ غلط کی بات کروں تو ڈرخوف بھلاکر مجھے روک دینا ، کیا ایسا ہے، ہندوستان میں رام جی کے معتقدین کا بڑا طبقہ ڈراور خوف پھیلانے میں لگا ہوا ہے ، اور اپنے موقف کے خلاف عدل وانصاف کی بات بھی سننا اسے گوارہ نہیں ہے ۔یقینا رام مندر کی تعمیر ہمارے بازی ہار جانے کی علامت ہے، بازی تو ہم اس وقت بھی ہار گیے تھے، جب بابری مسجد کا دروازہ پوجا کے لیے کھول دیا گیا تھا، اس وقت بھی ہارے تھے جب رات کی تاریکی میں مورتیاں وہاں رکھ دی گئی تھی، بازی ہارنے کا ایک موقع وہ بھی تھا جب پنج وقتہ نمازوں پر وہاں روک لگادی گئی تھی ، ہمیں شکست کا احساس اس وقت بھی ہوا تھا، جب فرقہ پرستوں کے مشتعل کارسیوکوں نے حکومت کے تحفظ کی ذمہ داری اور عدالت کی یقین دہانی پر تیشہ چلا کر بابری مسجد کو توڑ دیا تھا، ہمیں اپنی بے کسی کا اندازہ اس وقت بھی ہوا تھا جب نرسمہا راؤ کی سرکار میں عارضی مندر کی دیواریں اٹھا دی گئی تھیں اور رام للا کو درشن کے لیے ٹینٹ میں براجمان کر دیا گیا تھا، اس تمام شکست وریخت کے درمیان تھوڑی امید اس وقت بندھی تھی جب 1994ء میں یہ قانون پاس ہوا تھا کہ تمام عبادت گاہیں 1947ء میں جس پوزیشن میں تھیں رہیں گی اور اس پر کسی کا کوئی دعویٰ کبھی بھی قبول نہیں کیا جا ئے گا، لیکن یہ بھرم بھی ہمارا جاتا رہا جب عدالت نے گیان واپی مسجد اور متھرا کی عیدگاہ کے مقدمہ کو سماعت کے لیے قبول کر لیا اور لوہے کے فوارہ کوشیو لنگ بتانے میں سروے کنندہ کو دیر نہیں لگی، بابری مسجد تاریخ کے اوراق میں سما گئی اور اب متھرا کاشی کا نمبر ہے، اگر مودی جی 2024ء میں آگیے تو 2029ء کے انتخاب کے لیے اگر ہندو راشٹر کا اعلان نہیں بھی ہوا تو متھرا کاشی کی ضرورت انہیں پڑے گی اور وہ اس کو موقع بموقع زندہ کرتے رہیں گے، انہوں نے انتخاب میں مسلم خواتین کو متوجہ کرنے کے لیے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دلوایا تھا اور اسے موجب سزا تسلیم کیا گیا تھا، لیکن مسلم خواتین ان کے اس جھانسے میں نہیں آسکیں، آج عدالتوں میں جا کر دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ تین طلاق کا کیس وہاں موجود نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم عورتیں خوب اچھی طرح جانتی ہیں کہ جس کام کو اللہ، رسول نے حرام قرار دیا ہے وہ کسی کے بھی کہنے اور کرنے سے حلال نہیں ہوسکتا، اس لیے عدالت کے فیصلے اور حکومت کے قوانین بھی عورتوں کو مودی جی کا ہم نوا نہیں بنا سکے، بلکہ مسلم عورتوں نے اسے دین میں مداخلت سے تعبیر کیا اور لاکھوں کی تعداد میں مسلم خواتین نے ہندوستان کے ہر خطے میں اپنا احتجاج درج کرایا، سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر میں بھی ہم اپنے کو ٹھگا ہوا محسوس کر تے رہے، لیکن حالات کے ان تمام نازک موڑ پر ہم نے بازی تو ہاری، بلکہ بار بار ہاری ، لیکن ہم نے حوصلے نہیں ہارے ، ہم نے یقینا اپنے حوصلوں کی اڑان دنیا کو نہیں دکھائی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے حوصلے پست ہو گیے ہیں اور ہم نے حوصلہ ہار دیا ہے، ایسا بالکل نہیں ہے، ہم خوب جانتے ہیں کہ تاریخ اپنے کو دہراتی ہے ، ہم نے تاریخ کو دہرانے کا عمل نادر خان کے حملے کے وقت بھی دیکھا اور تاتاریوں کی نسل کشی کے وقت بھی ، تاریخ نے ترکی میں خود کو دہرایا تو ایا صوفیا گرجا گھر پھر سے مسجد بن گئی ، ہم پورے حوصلے کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں گے، جب پھر سے اللہ کی کبریائی کی آواز گونجے گی ، ابھی تو یہ خیال معلوم ہوتا ہے اور اسے ’’دیوانے کی بڑ‘‘یا پھر’’ ایں خیال است ومحال است وجنوں‘‘ کہہ کر دامن جھاڑ لیا جا سکتا ہے ، لیکن جن کا یقین تلک الایام نداولھا بین الناس، ان اللہ علی کل شئی قدیر اور لعل اللہ یحدث بعد ذالک امرا زمانہ کے الٹ پھیر کے الٰہی نظام اس کی قدرت اور ہر شر سے خیر نکلنے پر ہے اور وہ نوشتہ دیوار پڑھنے کا ہنر جانتے ہیں وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے اور دنیا و امید ہی پر قائم ہے ۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...