Powered By Blogger

جمعرات, دسمبر 08, 2022

پڑوسی کی آہ لگی ہے پڑوسی کےمکاں میں چھت نہیں ہے مکاں اپنے بہت اونچے نہ رکھناہمایوں اقبال ندوی، ارریہ

پڑوسی کی آہ لگی ہے 
پڑوسی کےمکاں میں چھت نہیں ہے 
               مکاں اپنے بہت اونچے نہ رکھنا
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ 
اردو دنیا نیوز ٧٢
 
وہ عورت میرے مکان کے قریب ہی رہتی ہے، جب ہم گھر سے نکلتے ہیں مجھےگھورتی ہے، میرا یہ یقین ہے کہ ہمیں اسی کی نظر لگی ہے،میرے اہل خانہ پریشان ہیں، اہلیہ خواب میں روزانہ گندی چیزیں دیکھتی ہے،بچے گھر آتے ہی عجیب کیفیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں، خانقاہ رحمانی مونگیر سے بھی ہم دعا درود لےکر آئے ہیں، باہر سب کچھ ٹھیک رہتا ہے، گھر آتے ہی پریشانی شروع ہوجاتی ہے۔ڈاکٹروں سے بھی رابطہ کیا ہے،جانچ بھی کروالی ہے،ہمیں کوئی بیماری نہیں لگی ہے، ایک یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ پڑوسی کی نظر لگی ہے،کوئی اچھا عامل بتائیے پلیز۰۰۰۔
مذکورہ بالا واقعہ ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا ہے،اسمیں دو باتیں قابل غور ہیں، پہلی یہ کہ ایک غریب عورت جو موصوف کے پڑوس میں رہتی ہے شک کی سوئی اسی کی جانب گھوم گئی ہے،؟ ایک غریب پر شک کرنا اوراسے مورد الزام ٹھہرانا یہ نیا نہیں ہے،بالخصوص نظر کے معاملے میں ہمیشہ سماج کے کمزور طبقہ ہی کو نشانہ بنایا جاتا ہے،بسا اوقات اس کا انجام بہت بھیانک سامنے آجاتا ہے،اور اخبارکی زینت یہ خبر بن جاتی ہے کہ" ایک غریب عورت کو گاؤں کےدبنگ لوگوں نے ڈائن سمجھ کر موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ مسلم سماج سے مارڈالنے والی کوئی خبرنہیں آئی ہے،مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ اس وقت ہمارا معاشرہ بھی اسلامی پٹری سے اترگیاہےاورغیروں کےڈگرپر چلا گیا ہے، بےاعتمادی کی یہاں فضا قائم ہوگئی ہے، پڑوسی کا مطلب قریب رہنے والا ہے ،مگر آج وہ ہم سے بہت دور ہوگیا ہے،محبت کی جگہ نفرت ہے،جبکہ اسلام میں ایک پڑوسی سے محبت وتعلق بڑھانے کی تعلیم دی گئی ہے، ہدایا وتحائف سے محبت بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی ہے، جب گھر میں سالن بناؤ تو پانی بڑھا دو،اور اس سے اپنے ہمسایہ کی خبر گیری کرو، (مسلم)
دوسری بات جو اس واقعہ میں غور کرنے کی ہے،بغیر کسی بیماری اور پریشانی کے ایک صاحب ایمان پریشان ہے،اپنے عالیشان مکان میں رہتا ہے، چہار دیواری میں محفوظ ہے،مال واسباب رکھتا ہے، باوجود اس کے وہ پریشان ہے،اور گھر کے قریب شخص سے دور ہے،اس کی وجہ ھمسایہ کی حق تلفی ہے۔
  پڑوسی کے حقوق کی مذہب اسلام میں بڑی تاکید آئی ہے،  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛جبریل نےمجھےپڑوسی کے بارے میں اتنی تاکید کی میں نےسمجھاکہیں ان کو وراثت کا حق نہ دلادیں،(متفق علیہ)
چنانچہ بیماری میں عیادت کرنا، تنگدستی میں مالی تعاون کرنا،خوشی میں مبارکباد دینا،غمی میں ہمدردی کرنا،موت پر جنازہ میں شرکت کرنا،
یہ وہ حقوق ہیں جنہیں بحیثیت پڑوسی ادا کرنا ایک ایمان والے کے لیے ضروری ہے، ان ذمہ داریوں سے آنکھیں چراناحق تلفی ہےاور ظلم ہے۔
آج جھونپڑی میں رہنے والی ایک غریب عورت بھوک اور فاقہ کی وجہ سے امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے،اپنے درد اور تکلیف کی ہمیں دوااپنے خوشحال پڑوسی کو سمجھتی ہے،اور وہ حضرات مداوابننے کے بجائے تکلیف کا سامان بن جاتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس شخص کو مومن نہیں کہا ہےجس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہیں ہے، (متفق علیہ )
ایمان واسلام کا مطلب امن وسلامتی بھی ہے،ہر وہ آدمی جو اسلام کے تقاضوں سے مسلمان ہوتے ہوئے بھی دور ہوتا ہےاسے عافیت کی زندگی نصیب نہیں ہوتی ہے، مذہب اسلام میں ایک مظلوم کی نظر نہیں بلکہ آہ لگتی ہے،یہ واقعی مصیبت اور نحوست کی چیز ہوتی ہے، مسلم سماج میں بھی یہ نحوست داخل ہوگئی ہے،اس کا احساس نہیں ہے، مرض کچھ اورہے،اور دوا کچھ اور کی جارہی ہے، آج عموما یہی ہوتا ہے کہ لوگ مظلومیں کی آہوں اور بددعاوں کا شکار ہورہے ہیں، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ہمیں فلاں کی نظر لگی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےنصیحت فرمائی کہ مظلوم کی بددعا سے بچتے رہنا کیونکہ اس کے اور خدا کے بیچ میں کوئی پردہ نہیں ہے( بخاری ) 
           پڑوسی کےمکاں میں چھت نہیں ہے 
               مکاں  اپنے  بہت  اونچے نہ رکھنا
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ 
رابطہ، 9973722710

محب اردو حمید انور اور بک امپوریم، تعارف و تبصرہڈاکٹر نورالسلام ندوی، پٹنہ

محب اردو حمید انور اور بک امپوریم، تعارف و تبصرہ
ڈاکٹر نورالسلام ندوی، پٹنہ
اردو دنیا نیوز ٧٢

پٹنہ کے سبزی باغ میں واقع بک امپوریم بظاہر کتابوں کی ایک چھوٹی سی دکان ہے، مگر اس کی شہرت ہندوستان کے بیشتر اردو آبادی تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ علم و ادب کے شائقین کا مرکز ہوا کرتا تھا، بڑے بڑے ادباء ، شعراء ، صحافی اور عاشقان اردو اس کے گرد جمع ہوتے تھے، ادبی موضوعات پر تبصرہ کرتے تھے، ادبی معرکے اور مکالمے بھی ہوتے تھے، یہ عاشقان اردو برنچ پر بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر گھنٹوں علمی موشگافیاں کرتے اور مزہ لیتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بک امپوریم کے مالک حمید انور تھے، وہ پرکشش شخصیت کے مالک تھے، ان کا خلوص ومحبت ادیبوں اور صحافیوں کو وہاں آنے پر مجبور کردیتا تھا، حمید انور کی ادب نوازی اور اردو زبان سے محبت نے چھوٹی سی دکان کو بڑی کائنات میں سما دی تھی۔ حالانکہ حمید انور خود نہ ادیب تھے نہ شاعر، نہ صحافی اور نہ مصنف، لیکن ان کے اردگرد ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور مصنفوں کا جمگھٹا رہتا تھا، وہ کتابوں کے ایک تاجر تھے، لیکن عام تاجروں سے الگ اورمنفرد تھے وہ۔ ادباء، شعراء اور مصنفوں سے ان کا محض کاروباری رشتہ نہ تھا بلکہ کاروباری سے زیادہ قلبی تعلق تھا۔ وہ معاملات کے نہایت صاف ستھرے اور بے باق آدمی تھے۔ طلبہ کی رہنمائی اور مدد بھی کر دیا کرتے تھے۔ اکثر طلبہ ان سے نئے رسائل و جرائد اور کتابیں ادھار لے جایا کرتے تھے اور وہ بخوشی دے بھی دیا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے انتقال کی جب خبر ہوئی تو بڑے بڑے ادباء و شعراء نے اظہار تعزیت کیا اور ان پر تاثراتی مضامین تحریر کیے ۔
زیر تبصرہ کتاب ’’محب اردوحمید انور اور بک امپوریم ‘‘(مطالعات و مشاہدات ) حمید انور کے انتقال کے بعد لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے، جسے ان کے لائق فرزند جناب ڈاکٹر محمد ممتاز فرخ نے ترتیب دیا ہے۔ کتاب سات ابواب اور 356 صفحات پر مشتمل ہے۔ پہلا باب مضامین و تاثرات پر مشتمل ہے، اس باب میں حمید انور کے معاصرین، دوست و احباب اور رشتہ دار و متعلقین کے مضامین ہیں، جن کے مطالعہ سے حمید انور کی شخصیت پر بھرپور روشنی پڑتی ہے۔ یہ مضامین حمیدانور کے خلوص ووفا، ایثار و قربانی محبت و اپنائیت، ادب نوازی، رشتہ کی پاسداری، معاملات کی صفائی، کردار کی پاکیزگی کی گواہی دیتے ہیں، انہوں نے خاموشی کے ساتھ اردو کی خدمت کی، ادیبوں کی کئی نسل کو فروغ دیا اور ان کے اندر ادب کا ذوق پیدا کیا۔ دنیا سے گزر جانے کے بعد کون کس کو یاد کرتا ہے، لیکن جس طرح ادباء و شعرا نے ان کے انتقال کے بعد تعزیتی پیغامات بھیجے اور طویل و مختصر مضامین تحریر کئے یہ اس بات پر دال ہے کہ حمید انور پرکشش شخصیت کے مالک اور ایک بے ضرر انسان تھے، وہ ایک ایسا شجر سایہ تھے جس کی گھنی چھاؤں میں بیٹھ کر طلبہ و اساتذہ اور شعراء وادباء ٹھنڈک محسوس کرتے تھے اور کتب و رسائل کے ذریعے علمی پیاس بجھاتے تھے، مشہور ادیب و شاعر عطا عابدی اپنے مضمون میں تحریر کرتے ہیں:
’’ دراصل حمید انور صاحب کی ذات سماجی و ادبی معاملات سے دلچسپی لینے کے سبب بھی مرکز توجہ تھی، انہوں نے کئی حوالوں سے ادیبوںو شاعروں کی حوصلہ افزائی کی اور ان کے ذریعے اردو کتب و رسائل کی ترقی اور فروغ کی راہیں استوار کیں۔‘‘
حمید انور نے اپنی چھوٹی سی دکان بک امپوریم کو ایسی شہرت دی کہ اس کی حیثیت ادبی اڈے کی ہوگئی، بیشتر مضمون نگاروں نے حمید انور کے ذکر کے ساتھ بک امپوریم کا ذکر بھی دل کھول کر کیا ہے۔ بک امپوریم کی اہمیت اور زبان وادب کے فروغ کے حوالے سے اس کی افادیت کا اندازہ ان مضامین کے مطالعہ سے خوب ہوتا ہے، چھوٹی سی دکان میں نئی نئی کتابیں اور ملک بھر سے شائع ہونے والے رسائل وجرائد اور اردو ڈائجسٹ موجود ہوتے تھے۔محمد یونس ہرگانوی اپنے مضمون بعنوان ’’حمید انور ایک روایت، ایک حکایت‘‘ میں بک امپوریم کے تعلق سے تحریر کرتے ہیں:
’’ اردو بازار میں بلحاظ وسعت بک امپوریم سب سے چھوٹی دکان ہے، لیکن اس دکان کو روز اول ہی سے ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ حمید انور کو اردو ادبیات اور رسالہ جات سے خاص دلچسپی تھی، ہندوپاک کے ناول، افسانے،شعری مجموعے، رسالے اور ڈائجسٹ کہیں ملیں نہ ملیں بک امپوریم میں دستیاب تھے، ان کی فراہمی پر خصوصی توجہ تھی، یہی وجہ ہے کہ بک امپوریم ادبی حلقوں میں بہت جلد مقبول ہو گیا۔ یہاں پر یہ تذکرہ بے محل نہ ہو گا کہ رحمانیہ ہوٹل کبھی ادیبوں اور شاعروں کی آماجگاہ رہا ہے، گھنٹوں گھنٹوں ان کی بیٹھک ہوتی تھی، اور چائے پر چائے کے دور چلتے رہتے تھے،آتے جاتے یہ بک امپوریم پرضرور ٹکتے، بلاشبہ بک امپوریم کے مقبول عام ہونے میں حمید انور کی کاروباری سوجھ بوجھ، محنت و مشقت اور اخلاق بات کو بڑا دخل رہا ہے، بک امپوریم علمی وادبی حلقے کا انفارمیشن سینٹر بھی رہا ہے۔ ادیبوں اور شاعروں میں کون کب آئے تھے؟کہاں گئے؟ کہاں ملیں گے؟ بک امپوریم سے معلوم کرلیں۔‘‘
دوسرا باب مکتوبات پر مشتمل ہے، اس باب میں 56 مکتوبات ہیں، مختلف ادباء ، شعراء، صحافی اور مصنفین حضرات کے وہ خطوط جو انہوں نے حمید انور کو تحریر کئے، اس حصہ میں بڑے سلیقے سے ترتیب دیئے گئے ہیں۔خطوط کی ترتیب میں تاریخ اور سنین کی رعایت برتی گئی ہے،ان میں پہلا خط علقمہ شبلی کا ہے جو 23 مارچ 1955 کا ہے، آخری خط پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کا ہے جو 10 جون 2000 کا تحریر کردہ ہے، یہ خطوط تقریباً نصف صدی پر محیط ہیں، ان میں زیادہ تر ذاتی اور تجارتی نوعیت کے ہیں،لیکن ان میں ان کے عہد کے نشیب و فراز اور حالات کی عکاسی بھی ہے اور علمی وادبی سرگرمیوں کی جھلکیاں بھی۔ تیسرا باب مشاہیر کے ان خطوط پر مشتمل ہے جو حمید انور کے انتقال کے بعد تعزیت کے طور پر لکھے گئے تھے۔ان خطوط کی تعداد 24 ہے، اس کی ترتیب میں بھی تاریخ اور سنین کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ چوتھاباب علقمہ شبلی اور پروفیسر راشد طراز کے منظوم خراج عقیدت پر مبنی ہے۔
پانچواں باب ڈائری کے اوراق سے ہے،حمید انور صاحب پابندی سے ڈائری لکھا کرتے تھے، ڈائری کے اس حصہ کا مطالعہ حمید انور کے عہد کی سماجی، ادبی، اور عصری منظر نامہ پر روشنی ڈالتا ہے، انہوں نے نہایت سادہ اور آسان زبان میں روزنامچے تحریر کیے ہیں،یہ حصہ گرچہ مختصر ہے،لیکن اہم ہے۔ ڈاکٹر قاسم خورشید اپنے مضمون میں حمید انور کی ڈائری پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’حمید انور نے بہت عرق ریزی اور چابکدستی سے روزنامچہ تحریر کیا، مختلف نکات پر گفتگو بھی کی، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اپنے عہد کے سماجی، ادبی ،ملی و عصری منظر نامے کو سمجھنے کے لیے ان روز نامچوں کا مطالعہ ناگزیر ہے، ان کی تحریر بالکل شخصیت سے مشابہ نظر آتی ہے۔‘‘
چھٹا باب متفرقات ہے اس میں مشاہیر کی ایسی تحریریں جمع کی گئی ہیں جن کا تعلق کسی نہ کسی جہت سے حمید انور سے رہا ہے۔ ساتواں باب تصاویر کی جھلکیاں پیش کرتا ہے۔ کتاب کی پشت پر معروف ادیب و صحافی حقانی القاسمی کی جامع تحریرکو جگہ دی گئی ہے۔ صفحہ28 پر ’’تو قیت حمید انور ‘‘ہے جسے محمد شکیل استھانوی نے محنت سے ترتیب دیا ہے۔ اس میں انہوں نے تاریخ پیدائش 25؍جنوری 1931 لکھاہے جبکہ انہوں نے خود اپنے مضمون میںصفحہ نمبر 174 پر تاریخ پیدائش 1930 تحریر کی ہے۔پہلا باب بہت طویل ہے، سارے مضامین اسی باب کے تحت جمع کردیئے گئے ہیں۔ اگر ان مضامین کو موضوعات کے تحت دوتین ابواب میں تقسیم کئے جاتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔
مذکورہ کتاب حمید انور کی پرکشش شخصیت اور حیات و خدمات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے نہایت مفید ہے، اس کے ساتھ ہی بک امپوریم کی ادبی اہمیت اور اس کی تاریخ پر بھی خوبصورتی کے ساتھ روشنی پڑتی ہے، کتاب اس لائق ہے کہ اساتذہ، طلبہ اور نئی نسل کو خاص طور پر مطالعہ کرنا چاہئے۔بک امپوریم آج بھی قائم ہے، ان کے چھوٹے فرزند امتیاز انور فہمی اپنے والد کی وراثت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ بڑے فرزند ڈاکٹر ممتاز فرخ مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے نہ صرف اپنے والد بلکہ ایک خادم اردو اور عاشق اردو کی زندگی و شخصیت اور ان کے احوال و کوائف پر مشتمل کتاب ہمارے سامنے پیش کر دیا تاکہ ہم اپنے محسنوں کو جان سکیں، یاد کر سکیں اور ان سے استفادہ بھی کر سکیں، مرتب کتاب کا پیش لفظ بھی عمدہ ہے، انہوں نے اپنے والد کے بعض ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جو عموماً نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی سے شائع اس کتاب کی قیمت 350 روپے ہے۔ کتاب کی ترتیب و پیشکش بہتر ہے،بک امپوریم، سبزی باغ ،پٹنہ سے کتاب حاصل کی جاسکتی ہے یا مرتب کتاب سے اس نمبر 9798909392 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
______

ائمہ کی تنخواہ کی سرکاری ادائیگی

ائمہ کی تنخواہ کی سرکاری ادائیگی 
اردو دنیا نیوز ٧٢
مفتی محمد ثنأ الہدیٰ قاسمی
ملک کی اکثر وبیشتر ریاست میں سرکار کا ایک محکمہ وقف بورڈ ہے، اس کے ذمہ اوقاف کے تحفظ اور اس کی املاک سے ہونے والی آمدنی کے استعمال کا اختیار ہے، اوقاف مسلم پرسنل لا کے تحت آتے ہیں، اس لیے اس کی آمدنی کو خرچ کرتے وقت واقف کے منشا کی رعایت کی جاتی ہے، بہت سارے اوقاف مساجد کے ہیں، جن کی آمدنی کو مفاد مسجد میں خرچ کرنا متولیان کی ذمہ داری ہے، اس ذمہ داری کی انجام دہی کے لیے اوقاف کی زمینوں پر واقع مساجد کے ائمہ کو وقف بورڈ کے ذریعہ وظیفہ دیا جاتا ہے اور کہیں کہیں تنخواہ کی ا دائیگی بھی کی جاتی ہے، اس سلسلے میں پنجاب ، دہلی اور بہار کا نام لیا جا سکتا ہے۔
 ابھی حال میں مرکزی اطلاعاتی کمیشن کے کمشنر” اُدے مہور کر“نے اس پر سوالات اٹھائے ہیں اور اسے غیر قانونی قرار دیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ کل ہند تنظیم ائمہ مساجد کی عرضی پر ۳۹۹۱ءمیں عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) کا فیصلہ قانون کے خلاف ہے، یہ تبصرہ انہوں نے سوبھاش اگروال کی اس عرضی پر کیا جو اس نے وقف بورڈ سے امام اور مو ¿ذن کو ملنے والی تنخواہ پر اطلاعاتی کمیشن میں داخل کیا تھا، مرکزی اطلاعاتی کمشنر نے وقف بورڈ کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ اس اطلاعات کے حاصل کرنے میں سبھاش اگروال کا جو وقت لگا اور اسے جو پریشانیاں ہوئیں اس کے عوض وقف بورڈ اسے پچیس ہزار روپے ہرجانہ دے ۔
 کمشنر برائے اطلاعات کی رائے یہ تھی کہ تمام مذاہب کے عبادت کرانے والوں کو برابر کی تنخواہ دی جانی چاہیے، بقول یہ عجیب بات ہے کہ امام اور مو ¿ذن کو تو اٹھارہ ہزار اور سولہ ہزار روپے ماہانہ ملے اور ہندو وقف (نیاس) کے پجاریوں کو دو ہزار روپے دیا جائے، کمشنر صاحب یہ بھول گیے کہ جس وقف کی جیسی آمدنی ہے، اس کے اعتبار سے وظائف مقرر کیے جاتے ہیں، نیاس کی آمدنی کا بڑا حصہ پجاریوں کے پاس بلا حساب وکتاب منتقل ہوجاتا ہے، نیاس بورڈ کے ذریعہ دی جانے والی دو ہزار کی رقم صرف ٹوکن منی ہے جو نیاس سے پجاریوں کے تعلق کی علامت ہے، ظاہر ہے سب جگہ کشور کنال جیسا ذمہ دار تو ہے نہیں، جس نے گذشتہ بیس پچیس سالوں میں مندروں کی آمدنی سے مہابیر کینسر جیسا اسپتال کھڑا کر دیا اور دوسری جگہوں پر بھی مندر کی آمدنی کو ہندو سماج کے لیے با رآور اور ثمر دار بنانے کے لیے غیر معمولی کام کیا ہے۔
 اس کے بر عکس اوقاف کی آمدنی کا معاملہ ہے، یقینا لوٹ کھسوٹ یہاں بھی کم نہیں ہے، لیکن بڑی حد تک کوشش کی جاتی ہے کہ اسے خُرد بُرد سے بچایا جائے اور چوں کہ یہ وقف جن کاموں کے لیے کیا گیا ہے، ان کے مدات کی رعایت ہمارا شرعی فریضہ ہے، اس کی یک گونہ حفاظت وقف بورڈ کے ساتھ متولیان اور کمیٹی کے دیگر افراد بھی کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں، اس لیے یہاں کی رقم ائمہ مساجد اور مو ¿ذنین پر خرچ کی جاتی ہے ۔
 کمشنر برائے اطلاعات ادے مہور کرنے یہ بھی کہا کہ مو ¿ذن اور امام کی یہ تنخواہ سرکاری ٹیکس کی رقم سے دی جاتی ہے ،وہ یہ بتانا بھول گیے یہ ٹیکس کی رقم بھی سرکار کے خزانے میں اوقاف کی آمدنی سے ہی آتی ہے ، مختلف ریاستوں میں اوقاف کی آمدنی پر الگ الگ ٹیکس لیا جاتا ہے، حالاں کہ ہمارا مطالبہ قدیم ہے کہ اوقاف کی جائیدا د کو ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے۔
اس پورے قضیہ میں یہ مسئلہ بھی بڑا اہم ہے کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس قسم کا تبصرہ مناسب ہے ،یہ تو توہین عدالت کے مترادف ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس معاملہ کو سپریم کورٹ میںپھر سے اٹھایا جائے اور عدالت اس پر نظر ثانی کرے، یہ تو ہو سکتا ہے؛ لیکن عدالت کے فیصلے پر اس قسم کا تبصرہ عدالتی نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ، اس لیے” ادے مہور کر“ کو اس قسم کے تبصرے سے بچنا چاہیے۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...