Powered By Blogger

پیر, اگست 31, 2026

*بڑی مسجد باسنی، ناگور (راجستھان)*

*بڑی مسجد باسنی، ناگور (راجستھان)*  
حضرت مولانا سید محمد علی صاحب نے اپنی پوری زندگی بڑی مسجد باسنی میں *امامت، دینی تعلیم، نمازیوں کی رہنمائی* اور *امت کی اصلاحی خدمت* میں گزار دی۔ ان کی یہ طویل دینی خدمات عوام میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔  

آج جب حضرت امام صاحب *ریٹائر* ہوئے تو *نمازیوں (مقتدیوں)* نے اپنے دل کی *محبت* اور *احترام* کا اظہار کرتے ہوئے *₹31,50,786/- (اکتیس لاکھ پچاس ہزار سات سو چھاسی روپے)* بطور *نذرانہ* پیش کیا۔ یہ واقعی ایک *تاریخی خدمت* اور *اعترافِ خدمت* ہے جو ایک *مثال* بن گئی ہے۔  

یہ عمل ان تمام مقتدیوں کی *قدر دانی* اور *دینی جذبے* کی بلندی کا ثبوت ہے۔ ان کی یہ پیشکش نہ صرف امام صاحب کے لیے ایک تحفہ ہے، بلکہ *پوری مسلم قوم کے لیے ایک نصیحت* ہے کہ جو *علماء، حفاظ اور دینی رہنما* دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں، ان کی قدر کرنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا *ہماری ذمہ داری* ہے۔  

*اللہ تعالیٰ امام صاحب کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور مقتدیوں کی اس محبت و احترام کو عظیم اجر عطا فرمائے۔ آمین۔*  

✍️ *سلیم امجدی ناگوری*

صغیر میں جلوس محمدی نکالنے کی تاریخ اور اس کا پس منظر

بر صغیر میں جلوس محمدی نکالنے کی تاریخ اور اس کا پس منظر 
برصغیر میں جلوس محمدی نکالنے  کی تاریخ اور اس کا پس منظر کا اتا پتہ بریٹش دور میں  ملتا ہے جب برطانوی سرکار نے تمام قسم کے مظاہرے اور جلسے جلوس پر پابندی عائد کردیا تو ازادی کے متوالے مذہب کے نام ہر حصول ازادی کے خاطر جلسہ جلوس نکالنے لگے اور مسلمانوں نے جلوس محمدی سن 1922 میں مولابا محمد علی جوہر کی سربراہی میں ممبئی کے اندر نکالا اور یہ جلوس آہستہ آہستہ ملک کے بڑے شہر کلکتہ، حیدرآباد، لاہور، لکھنؤ، کانپور اور بنگلور وغیرہ  سے نکلنے لگا اب ملک کے ہر شہر سے نکلنا شروع ہوگیا ہے اور یہ دینی اعتبار سے ایک قسم کی بدعت ہے کیونکہ اسلام میں صرف عیدین منانے کی اس کے مخصوص ایام میں اجازت ہے  فیاض احمد ندوی گرولوی  بس کے اندر سے

منگل, اگست 25, 2026

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تقاضے ۔ مضمون نگار :محمد ضیاء العظیم قاسمی، استاذ چک غلام الدین ہائی اسکول ،ویشالی بہار ۔

(اردودنیانیوز۷۲) Urduduniyanews72
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تقاضے ۔
مضمون نگار :محمد ضیاء العظیم قاسمی، استاذ چک غلام الدین ہائی اسکول ،ویشالی بہار ۔
موبائل نمبر: 7909098319 

اسلام ایک آفاقی، پر امن، اور دین فطرت ہے۔ جس نے ہر قدم پر انسانوں کی راہنمائی کے ساتھ ساتھ راہ حق کی طرف گامزن رہنے کی ہدایت وتلقین کی ہے ، زندگی کے ہر پہلوؤں کو واضح طور پر بیان کیا ہے ۔مقصد زندگی وبندگی کو کھول کھول کر واضح کر دیا ہے ۔ جب ہم دنیوی زندگی کے کسی پہلوپر غور وفکر کرتے ہیں تو ہمیں کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب وثقافت نے ہمیں بے یار ومددگار چھوڑا، اور مایوس  کیا ہے ، مہد سے لے کر لحد تک انسانی زندگی بندگی کے ہر پہلوؤں پر بھر پور راہنمائی کی ہے، یہ مذہب امن و سلامتی اور صلح و آشتی کا سرچشمہ ہے۔  خلوت وجلوت ، محفل وتنہائی، عبادات ومعاملات، بیع وشرا، کسی بھی پہلو کو اٹھا کر دیکھ لیں ہر جگہ اسلامی تعلیمات مل جائیں گے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے قبل سینکڑوں خرابیاں اور بے شمار برائیاں سماج میں رائج تھیں۔
اس روئے زمین پر انسانی ہدایت کے لیے  اللہ  تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا عیسی علیہ السلام تک انبیاء کرام کے سلسلے کو جاری وساری فرمایا، آخر میں صدرکے طور پر سیدناےحضرت  محمد ﷺ کو بحیثیت آخری نبی بنا کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا ،آپ کی ذات مقدس وہ کامل  ترین ہستی ہے جن کی زندگی  اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل  رہنمائی کا بھر پور سامان رکھتی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ  کی شخصیت قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیےبہترین اور کامل نمونہ ہے۔آپ کو اللہ رب العزت نے سراپا رحمت وبرکت اور ہدایت بنا کر اس دنیا میں انسانوں کی فلاح وکامیابی کے لئے بھیجا، آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ انسانوں کے لئے ایسا پیغام ہے جو انسانوں کو مکمل کامیابی کی ضمانت بخشتا ہے ۔آپ نے زبانی اور عملی مشق کے ساتھ زندگی گزار کر دکھا دیا کہ ہم زندگی کس طرح گزاریں، کون سی زندگی رب چاہی زندگی ہے، زندگی کے کسی گوشے اور پہلو اٹھا کر دیکھ لیں ہر جگہ آپ علیہ السلام نے ہماری رہنمائی کی ہے، خواہ عبادات ہو کہ معاملات ہو، سماجی ومعاشرتی، اقتصادی، اخلاقی،پہلو ہو، سفر ہو کہ حضر ہو، تنہائی ہو کہ محفل ہو، خلوت ہو کہ جلوت ہو، رات ہو کہ دن ہو، صبح ہو کہ شام ہو۔
اور رسول ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل دنیا کی حالت ِ زار ناقابل بیان ہے۔تاریخ اس دور کو دور جاہلیت کہتی ہے ، کیوں کہ وہ معرفت الہی اور ہدایت سے بہت دور گمراہی وضلالت میں گھرے تھے ۔ عرب کی حالت ایام جاہلیت کا بیان مولانا الطاف حسین کے الفاظ میں کچھ یوں ہے :۔

عَرَب جس کا چرچا ہے یہ کچھ وہ کیا تھا
جہاں سے الگ اِک جزیرہ نما تھا
زمانہ سے پیوند جس کا جدا تھا
نہ کشورستاں تھا، نہ کشور کشا تھا

تمدّن کا اُس پر پڑا تھا نہ سایا
ترّقی کا تھا واں قدم تک نہ آیا

نہ آب و ہوا ایسی تھی روح پرور
کہ قابل ہی پیدا ہوں خود جس سے جوہر
نہ کچھ ایسے سامان تھے واں میسر
کنول جس سے کِھل جائیں دل کے سراسر

نہ سبزہ تھا صحرا میں پیدا نہ پانی
فقط آبِ باراں پہ تھی زندگانی

زمیں سنگلاخ اور ہوا آتش افشاں
لوؤں کی لپٹ، بادِ صر صر کے طوفاں
پہاڑ اور ٹیلے سراب اور بیاباں
کھجوروں کے جھنڈ اور خارِ مغیلاں

نہ کھتّوں میں غلّہ نہ جنگل میں کھیتی
عرب اور کل کائنات اس کی یہ تھی

نہ واں مصر کی روشنی جلوہ گر تھی
نہ یونان کے علم و فن کی خبر تھی
وہی اپنی فطرت پہ طبعِ بشر تھی
خدا کی زمیں بن جُتی سر بسر تھی

پہاڑ اور صحرا میں ڈیرا تھا سب کا
تلے آسماں کے بسیرا تھا سب کا

کہیں آگ پُجتی تھی واں بے محابا
کہیں تھا کواکب پرستی کا چرچا
بہت سے تھے تثلیث پر دل سے شیدا
بتوں کا عمل سُو بسُو جا بجا تھا

کرشموں کا راہب کے تھا صید کوئی
طلسموں میں کاہن کے تھا قید کوئی

وہ دنیا میں گھر سب سے پہلا خدا کا
خلیل ایک معمار تھا جس بنا کا
ازل میں مشیّت نے تھا جس کو تاکا
کہ اس گھر سے اُبلے گا چشمہ ہدیٰ کا

وہ تیرتھ تھا اِک بُت پرستوں کا گویا
جہاں نامِ حق کا نہ تھا کوئی جویا

قبیلے قبیلے کا بُت اِک جدا تھا
کسی کا ہُبَل تھا، کسی کا صفا تھا
یہ عزّا پہ، وہ نائلہ پر فدا تھا
اسی طرح گھر گھر نیا اِک خدا تھا

نہاں ابرِ ظلمت میں تھا مہرِ انور
اندھیرا تھا فاران کی چوٹیوں پر

چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ
ہر اِک لُوٹ اور مار میں تھا یگانہ
فسادوں میں کٹتا تھا ان کا زمانہ
نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ

وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے
درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے

نہ ٹلتے تھے ہر گز جو اڑ بیٹھتے تھے
سلجھتے نہ تھے جب جھگڑ بیٹھتے تھے
جو دو شخص آپس میں لڑ بیٹھتے تھے
تو صد ہا قبیلے بگڑ بیٹھتے تھے

بلند ایک ہوتا تھا گر واں شرارا
تو اس سے بھڑک اٹھتا تھا ملک سارا

وہ بکر اور تغلب کی باہم لڑائی
صدی جس میں آدھی انہوں نے گنوائی
قبیلوں کی کر دی تھی جس نے صفائی
تھی اک آگ ہر سُو عرب میں لگائی

نہ جھگڑا کوئی ملک و دولت کا تھا وہ
کرشمہ اک ان کی جہالت کا تھا وہ

کہیں تھا مویشی چَرانے پہ جھگڑا
کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا
لبِ جُو کہیں آنے جانے پہ جھگڑا
کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا

یونہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں
ہونہی چلتی رہتی تھی تلوار ان میں

جو ہوتی تھی پیدا کسی گھر میں دختر
تو خوفِ شماتت سے بے رحم مادر
پھرے دیکھتی جب تھے شوہر کے تیور
کہیں زندہ گاڑ آتی تھی اس کو جا کر

وہ گود ایسی نفرت سے کرتی تھی خالی
جنے سانپ جیسے کوئی جننے والی

جوا انکی دن رات کی دل لگی تھی
شراب انکی گھٹی میں گویا پڑی تھی
تعیّش تھا، غفلت تھی، دیوانگی تھی
غرَض ہر طرح ان کی حالت بُری تھی

بہت اس طرح ان کو گزری تھیں صدیاں
کہ چھائی ہوئی نیکیوں پر تھیں بدیاں

 توحید کی جگہ شرک، خیر کی جگہ شر، امن کی جگہ جنگ، اور عدل وانصاف کی جگہ ظلم وزیادتی نے لے لی تھی۔ معاشرے میں کون سی ایسی خرابیاں نہ تھیں جو ان میں نہ ہوں ۔ جن عورتوں کو اسلام نے عزت واحترام بخشتے ہوئے ان کے اعزاز میں مکمل سورہ،، سورہ نساء،، نازل فرمائی ان کی کوئی اہمیت نہ تھی، ان کی پیدائش کو معیوب سمجھا جاتا،ذلت و رسوائی کا سبب مانا جاتا ، اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی  جنگ وجدال شروع ہوتے تو وہ سالہا سال چلتے رہتے ۔شراب نوشی، قمار بازی، اور اصنام پرستی ان کے رگ و ریشے میں سمایا ہوا تھا۔ایک رب کو چھوڑ کر سینکڑوں بتوں کی پرستش کرتے تھے، انسانیت سسک سسک کر ، بلک بلک کر، اور چیخ چیخ کر دم توڑ رہی تھی، انہیں ایک مسیحا کا انتظار تھا، جو ان کی دکھتی رگوں پر دست شفا رکھ کر راحت و آرام کا سامان بن سکے، جو ان کے غموں کو اپنے اندر سمیٹ کر ان کے لئے خوشی وشادمانی کا پیغام سناسکے، انہیں ان جاہلانہ رسومات و بدعات ، خود ساختہ مذہبی خرافات ، سماجی ومعاشرتی تنزلی اور گراوٹ ، فتنہ و فساد، تخریب کاری، سے آزادی دلا کر راہ راست پر لاسکے، ظلم وبربریت کی گھٹا ٹوپ اندھیر میں  ہدایت کی شمع جلائے ، اللہ کی رحمت انعام واکرام،عذاب وعتاب سے آشنا کرا سکے ، چنانچہ اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور ایسا سورج طلوع ہوا جس کی روشنی سے ہر سو اجالا ہو گیا۔جس کی آمد نے سارے جہاں میں حق کا پیغام سنایا،جس کا وجود سراپا سارے جہاں کے لئے رحمت ہے، جس کی آمد کی خبر سابقہ انبیاء کرام نے دی، 
جس کی آمد سراپا عشق ومحبت اور پیار پر منحصر ہے، جس کا کام عشق ،جس کا پیغام عشق، جس نے صرف درس عشق دیا، عشق بھی وہ عشق جسے ہم عشق حقیقی کہتے ہیں،جو عشق سارے جہاں میں کامیاب وکامران بنائے، کیوں  عشق یہ انسانی فطرت اور تقاضے ہیں،انسان کے رگ وریشے میں قدرت نے اسے رکھا ہے ۔یہ فطری تقاضے کبھی انسانوں کو کامیاب وکامران بنا دیتی ہے اور کبھی ذلت ورسوائ کا سبب بنتی ہے ۔ایک انسان کے لئے اشد ضروری ہے کہ وہ مالک حقیقی سے عشق کرے اور عشق کے جو تقاضے ہیں ان تقاضوں کو عملی جامہ پہنائے ۔اس کے مطابق اس کے ہر اشارہ پر عمل کے لیے آمادہ رہے، کیوں کہ عشق کا تعلق قلب سے ہوتا ہے اور یہ قلبی محبت اگر عروج پر پہنچ جائے تو بسا اوقات جان بھی قربان کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے۔ اسی لئے بندہ مومن سے اسلام کا مطالبہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف عمومی محبت نہ کرے بلکہ  دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب رکھے تاکہ احکامات خداوندی اور اتباع رسولؐ کا حق کلی طور پر ادا ہو سکے ۔
کیوں کہ کسی چیز کو ہم اس وقت تسلیم کرتے ہیں جب کلی طور پر اس کی حقیقت وافادیت سے واقف ہوتے ہیں، اس کے نتائج کا علم ہوتا ہے ، اور جب ہم کسی چیز کو تسلیم کرتے ہیں تو پہلی شرط یہ ہے کہ اس تسلیم شدہ چیز کے تقاضے کو پوری کریں ۔ اسی طرح ایک مسلمان اللہ کی وحدانیت اور رسول ؐ کی رسالت کو پوری عقیدت و محبت کے ساتھ تسلیم کر لیتا ہے تو بحیثیت محب اس کے اوپر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جن کی ادائیگی اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ جو پیغامات لے کر آئے ہیں ان پیغامات کو تسلیم کرکے ان پر عمل پیرا ہوں۔چونکہ اسلام نام ہی ہے اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردینے کا اور یہ تقاضا تب ہی پورا ہو سکتا ہے جبکہ ہم سیرت کے پیغامات کو اپنائیں، 
اور عشق کے تقاضے یہ ہیں کہ ہم سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اہمیت وافادیت سمجھیں، اور یہ ہر مسلمان پر روز روشن کی طرح واضح ہے۔سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات وپیغامات پر ہی عمل پیرا ہوکر دنیا وآخرت کی کامیابی اور سرخروئی کی ضمانت ہے ۔قرآنِ کریم کی پوری عبارت اور مفہوم در اصل سیرت کا ہی پیغام ہے ۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حیاتِ طیبہ تمام انسانوں کے لئے عملی نمونہ ہے جسے قرآن ”اسوۂ حسنہ“ سے تعبیر کرتا ہے۔ قرآن مجید مہد سے لحد تک زندگی گزارنے کے احکامات کا مجموعہ ہے اور سیرتِ نبوی اس مجموعہ کی عملی تعبیر، تصویر، تحریر، اور تقریر ہے۔اسلامی عقائد، اعمال، اخلاق وکردار ، سماجی ومعاشرتی مسائل، انفرادی و اجتماعی مسائل،قومی وبین الاقوامی تعلقات، روابطِ عامہ، امن کے تقاضے، جنگی اصول وقوانین وغیرہ وغیرہ یہ سب سیرتِ طیّبہ کے موضوعات ہیں اور سیرتِ طیبہ میں ان تمام موضوعات کا حل موجود ہے۔ اسی وسعت اور ہمہ جہت پہلوؤں کی وجہ سے سیرت کو اسوۂ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہوئے انسان اپنے سامنے انسانیتِ کاملہ کی ایسی اعلیٰ مثال دیکھتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں کامل و مکمل نظرآتی ہے، زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ سامنے آتا ہے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مقدس حیات کا اعجاز ہے کہ انسانی زندگی کے جس بھی پہلو کو سامنے رکھ کر سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو ہر پہلو سے انسانی زندگی کا کمال رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک زندگی میں نظر آتا ہے۔
رسول اللہ کی زندگی کو نمونہ بنا کر اس کی روشنی میں زندگی گزارنے کی کوشش وہی شخص کرے گا جس کو بعث بعدالموت کا یقین کے ساتھ ساتھ احساس بھی اور اعمال کے واجبی نتائج کا یقین کامل ہو۔ رہا وہ فرد جسے یا توآخرت کی امید ہی نہ ہو یا اگر ہو تو کبھی کبھار ہی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والا ہو اور زندگی کی ہماہمی و مصروفیات نے اسے موت کے بعد پیش آنے والے نتائج سے غافل کر رکھا ہو تو ایسا شخص بجائے اللہ کے رسول ؐ کو رہنما بنانے کے، اپنی مطلوب من پسند شخصیت کو رہنما بنائے گا تاکہ اس کے لیے دنیاوی ترقی ممکن ہو سکے۔اور یہ ہم اس دور میں میں بدرجہ اولی دیکھ رہے ہیں، ہم اور ہمارا معاشرہ ہر جہت سے اللہ کی ناراضگی اور رسول اللہ صلعم کی تعلیمات کا جنازہ نکال رہا ہے، ہم زندگی کے ہر شعبے میں اپنے سر صرف اللہ کی لعنت مول لے رہے ہیں، ہماری عبادات کا تو اللہ ہی محافظ ہے، معاملات بہت بگڑ چکے ہیں، دکاندار تجارت میں جھوٹ بول کر چیزیں فروخت کر رہے ہیں، وعدہ خلافی کر رہے ہیں، لیا ہوا قرض لی ہوئی وامانت لوٹانے کا نام نہیں لے رہے ہیں، بیٹیوں اور پھوپھیوں کے حقوق تلف کر رہے ہیں، نکاح وشادیات جو کہ محض ایک عبادت وبندگی کا نام ہے اس موقع پر ہم چار قدم اور آگے بڑھ گئے ہیں، ناچ گانا، آتش بازیاں، مرد وعورت کے اختلاط، جانوروں کی طرح گھوم گھوم کر کھانے لینا پھر اسے کھڑے ہوکر کھانا، اس دوران اگر کھانا اٹک گیا تو دوڑ کر پانی تلاش کرنا ان تہذیب وثقافت میں خود کو رنگ لیا ہے۔
مسلمانوں کے اکثریت علاقے میں کسی بھی گھر کی بنیاد بغیر جھگڑے کے نہیں پڑتی ہے، جان بوجھ کر دوسرے کی زمین کے حد میں پیلر ڈالنا، ناحق قبضہ جما لینا، اگر کسی سے کوئی رنجش یا اختلاف ہو جائے تو اس کے راز فاش کردینا،کسی کمزور پر ظلم کرنا، کسی کو ناحق ستانا، کسی کی کامیابی پر جلنا، پڑوسیوں کو تکلیف دینا، فقراء ومساکین، یتیموں اور نوکروں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرنا، اللہ رب العزت نے سورہ ماعون میں کفار ومنافقین کے چند علامات کا تذکرہ کیا ہے اگر ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو اس سورہ کے پس منظر میں خود کے کردار عمل کو دیکھ سکتے ہیں،انہیں وجوہات کی بنا پر اللہ کا عذاب وعتاب نازل ہورہا ہے چونکہ اللہ رب العزت نے واضح فرما دیا

وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِىۡ فَاِنَّ لَـهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا وَّنَحۡشُرُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى‏ ۞

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس نے میرے ذکر سے اعراض کیا تو یقیناً اس کی زندگی بہت تنگی میں گزرے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے وہ کہے گا اے میرے رب ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا ؟ حالانکہ میں (تو دنیا میں دیکھنے والا تھا اللہ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس دنیا میں میری نشانیاں آئیں تھیں تو تو نے ان کو فراموش کردیا تھا اور اسی طرح آج تجھے بھی فراموش کردیا جائے گا اور جو شخص اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے اور حد سے تجاوز کرے ہم اسی طرح اس کو سزا دیتے ہیں اور بیشک آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور بہت باقی رہنے والا ہے (طہ :124-127)

ہم اس آیت کریمہ پر غور وفکر کریں گے تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یقیناً ہم اللہ کے احکامات کو پامال کر رہے ہیں جس کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے، اللہ کے احکامات کو توڑنا یہ دنیا و آخرت میں خسارہ ہی خسارہ ہے،حالات کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اللہ کی رسی مضبوطی سے تھام کر اپنے اندر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام پہلوؤں کو بسا کر اس پر عمل پیرا ہو جائیں، یہی تقاضا رب اپنے بندے سے کرتے ہیں، اسی سے زندگی کامیاب ہو سکتی ہے چونکہ اللہ رب العزت کا وعدہ ہے   ولَا  تَهِنُوْا  وَ  لَا  تَحْزَنُوْا  وَ  اَنْتُمُ  الْاَعْلَوْنَ  اِنْ  كُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳۹)
ترجمہ
مت گھبراؤ غمزدہ نہ ہو تم ہی سربلند رہوگےاگرتم مومن ہو،

اور اللہ کا وعدہ برحق ہے، سچا ہے،
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے زندگی میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنائیں تاکہ ہماری زندگی مکمل کامیاب ہو سکے۔ یہی تقاضے ہیں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ۔
اللہ ہم سب ایمان و یقین کے ساتھ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تقاضے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

ہفتہ, اپریل 04, 2026

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا
، جس میں فائر اسٹیشن آفیسر جناب آر۔ کے۔ یادو اپنے اسٹاف ممبران جناب قیصر زیدی اور جناب انکور کے ساتھ تشریف لائے۔
پروگرام کے دوران افسران نے طلبہ کو تفصیل سے بتایا کہ آگ کن وجوہات سے لگ سکتی ہے، جیسے گھریلو گیس سلنڈر میں لاپرواہی، شارٹ سرکٹ، کھلی بجلی کی تاریں، زیادہ لوڈ والے برقی آلات اور آتش گیر اشیاء کا غلط استعمال۔ انہوں نے ان سے بچاؤ کے طریقے بھی سمجھائے، جیسے گیس سلنڈر کی وقتاً فوقتاً جانچ، برقی آلات کا محتاط استعمال، خراب وائرنگ کی فوری مرمت اور گھر و اسکول میں آگ سے تحفظ کے اصولوں پر عمل کرنا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگر کوئی شخص آگ میں پھنس جائے تو گھبرانے کے بجائے سمجھداری سے کام لینا چاہیے اور اسے محفوظ طریقے سے باہر نکالنا چاہیے۔ طلبہ کو یہ سکھایا گیا کہ زخمی شخص کو کس طرح احتیاط کے ساتھ محفوظ مقام تک پہنچایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی گھریلو اشیاء کی مدد سے دیسی اسٹریچر بنانے کا طریقہ بھی بتایا گیا تاکہ ہنگامی حالت میں زخمی کو آسانی سے منتقل کیا جا سکے۔
پروگرام میں فائر ایکسٹنگوئشر (ABC سلنڈر) کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ طلبہ کو خود اس کا استعمال کرا کے آگ بجھانے کی تربیت دی گئی، جس سے ان میں اعتماد اور بیداری پیدا ہوئی۔
پروگرام میں آئے مہمانوں کا استقبال اسکول کے منیجر سید اعجاز احمد اور قائم مقام پرنسپل جناب جاوید مظہر نے کیا۔ آخر میں شکریہ کی ادائیگی محترمہ خوش نصیب نے کی، جبکہ پروگرام کی نظامت محترمہ ریشما تبسم نے انجام دی۔
اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں جناب پرویز احمد، مولانا شوکت، محترمہ صبیحہ خان اور تمام اسکول اسٹاف کا خصوصی تعاون رہا۔
اسکول انتظامیہ نے اس مفید اور معلوماتی پروگرام کے لیے فائر ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

جمعرات, مارچ 19, 2026

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام 
مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار،
موبائل نمبر :7909098319

اللہ رب العزت نے انسانوں کی تخلیقات ایک عظیم مقاصد کے تحت فرمائ ہے، انسان جب اپنی تخلیقی پس منظر پر غور وخوض کرتا ہے تو وہ ان نتائج پر پہنچتا ہے کہ اللہ رب العزت نے ہمارے واسطے دنیا کو اور دنیا کی تمام چیزیں پیدا کی ہیں، تاکہ ہم ان سے لطف اندوز ہوکر اس رب کی اطاعت وفرمانبرداری کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی گزاریں، اور زندگی کو سہولت وصعوبت سے گھیر دیا ہے، کبھی ہماری زندگی بہت سہل ہوجاتی ہے، اور کبھی زندگی دشوار ہوجاتی ہے اور اسی دکھ سکھ کے سنگم کا نام زندگی ہے ، لیکن اللہ رب العزت نے مکمل نظام حیات بتادئے، ان نظام زندگی اور اصول بندگی کو بتانے سمجھانے کے لئے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، جو ہمیں راہ ہدایت، صراط مستقیم کی طرف گامزن رہنے کی ترغیب دلائی ، اسلام دین فطرت کے ساتھ ساتھ ایک پر امن، آفاقی، اور سچا مذہب ہے،جس کی ابتدا اور تاریخ انسانوں کے وجود سے بھی قبل کی ہے، اس مذہب نے ہر قدم پر انسانیت کی مکمل راہنمائی کی ہے، مہد سے لے کر لحد تک زندگی گزارنے کے سلیقے اور طریقے واضح انداز میں پیش کیا، انسانیت کو کہیں بھی لاچار، بے یار و مددگار نہیں چھوڑا، اللہ رب العزت نے سیدنا آدم وحوا علیہما السلام کے ذریعہ اس دنیا کو وجود میں لاکر صاف طور پر دنیا کی تخلیقی پس منظر کی وضاحت فرما دی "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ" الذاريات (56) ترجمہ : میں نے انسان اور جنات کی تخلیق عبادت کے واسطے کیا ۔ عبادت نام ہے اللہ کے احکامات کو تسلیم کرکے اس کے مطابق زندگی گزارنے کا، اللہ رب العزت انسانوں سے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی رب چاہی زندگی کے مطابق کرے، یہی زندگی رب العزت کو پسند ہے، رب کائنات نے انسانوں کی ہدایت کے لئے انبیاء کرام کے سلسلے کو جاری وساری فرمایا، تاکہ انسان أعمال صالحہ کے ساتھ زندگی گزارے، سیدنا آدم علیہ السلام سے لے آخری نبی وپیغمر سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی مشن کے ساتھ بھیجا گیا، تاکہ انسان گمراہی کے راستے کو ترک کرکے راہ راست کی طرف گامزن رہے ۔
اسی طرح نبیوں کا سلسلہ چلتا رہا، پھر حضرت عیسٰی علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائیں ان کے بعد اور سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے قبل دنیا کی حالت بد سے بد ہو چکی تھی، لوگوں کے اندر ہر طرح کی برائیاں عام تھیں، تاریخ اس دور کو ایام جاہلیت سے تشبیہ دیتی ہے، انہیں برائیوں میں سے دو برائیاں بہت عام تھیں اور وہ یہ کہ رنج وغم کے موقع پر وہ حد سے اتر جاتے اور اسے ماتم سے بدل دیتے ، ےاپنے اظہارِ غم کے لئے عجیب وغریب انداز اختیار کیا کرتے تھے، اسی طرح جب انہیں کوئی خوشیاں لاحق ہوتی تو وہ خوشیوں کے اظہار کے واسطے حد سے گزر کر جشن سے بدل دیتے تھے، اور اس جشن کا انداز بھی عجیب وغریب ہوا کرتا تھا، لیکن جیسے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے انہوں نے ان دونوں تصور کی تردید کرتے ہوئے غم میں ماتم کی جگہ صبر، اور خوشی میں جشن کی جگہ شکر ادا کرنے کی تلقین فرمائی، اور ان دونوں طریقے کو مومنین کی علامت سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا,, اَلَّـذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُـمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْآ اِنَّا لِلّـٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ (سورہ بقرہ آیت 156)
وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم تو اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
اسی طرح شکر ادا کرنے والوں کے لئے یہ وعدہ فرمایا,, وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَـرْتُـمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُـمْ اِنَّ عَذَابِىْ لَشَدِيْدٌ (سورہ ابراہیم آیت 7)
اور جب تمہارے رب نے سنا دیا تھا کہ البتہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی سخت ہے۔
یعنی کہ زندگی صبر اور شکر کے ساتھ گزارنے کی تلقین کی ۔
اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے انسانوں کی تاریخ کیا ہے، انسانوں کی تخلیق کیوں کی گئی، انسانوں کی کامیابی اور ناکامی کہاں مخفی ہے ، کون سا عمل کرنا ہے اور کس عمل سے دور رہنا ہے ان باتوں کی مکمل، مدلل ومفصل راہنمائی کردی ہے ۔اللہ رب العزت نے انسانوں کو ایمان وکفر کے راستے بتائیں اور اسے اپنی قدرت اور اپنے اختیارات میں سے چند اختیارات دیتے ہوئے ارشاد فرما دیا,, وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْۙ-اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًاۙ-اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَاؕ-وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَؕ-بِئْسَ الشَّرَابُؕ-وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا() سورہ کہف آیت (۲۹)،،
اے بنی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کہ دیں کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے، بیشک ہم نے ظالموں کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی اور اگروہ پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری کی جائے گی جو پگھلائے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو اُن کے منہ کوبھون دے گا۔ کیا ہی برا پینا اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
اللہ رب العزت نے انسانوں کو اختیارات دے رکھے ہیں کہ وہ ایمان پر چلے یا کفر پر، لیکن ساتھ ساتھ کفر کی مذمت بھی بیان فرمادی، اسی طرح ایمان کی حلاوت وچاشنی اور انعامات بھی بیان فرمائے,, اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ(سورہ کہف آیت ۱۰۷)بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے ان کی مہمانی کے لئے فردوس کے باغات ہیں ۔
وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُـهُـمْ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَآ اَبَدًا ۖ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقًّا ۚ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّـٰهِ قِيْلًا (سورہ نساء آیت 122)
اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے انہیں ہم باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور اللہ سے زیادہ سچا کون ہے۔
اس طرح سے اور بھی کئ آیات کریمہ ہیں، 
اللہ رب العزت کا وعدہ برحق ہے۔

يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الـدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّـٰهِ الْغَرُوْرُ (سورہ فاطر آیت 5)
اے لوگو بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے پھر تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے، اور تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ باز دھوکا نہ دے،، 

یقیناً رب العزت نے انسانوں کی تمام ضروریات کا خیال کرتے ہوئے اسے نعمتوں سے سرفراز کیا، زندگی گزارنے کے سلیقے دیئے۔
"عید الفطر" بھی رب العزت کی عطاء کردہ ایک عظیم نعمت ہے یہ وہ تہوار ہے جسے پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہونے پر مناتے ہیں۔
اس لحاظ سے یہ ایک عظیم تاریخ سے جڑا ہوا ہے، عید کے دن اللہ رب العزت نے روزہ رکھنے سے منع کیا ہے، عید در اصل تحفہ ہے ان مومنین و مومنات کے لئے جنہوں نے صرف رب کی رضامندی کی خاطر کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے خود کو الگ رکھا ہے ۔ مسلمان رمضان کے 29 یا 30 روزے رکھنے کے بعد یکم شوال المکرم کو عید مناتے ہیں۔اور بطورِ شکرانہ عید الفطر کے دن نماز عید (دو رکعت 6 زائد تکبیروں)کے ساتھ پڑھ کر رب کے سامنے اپنی بندگی کا اظہار کرتے ہیں ، جسے جامع مسجد یا کسی کھلے میدان یعنی عیدگاہ میں ادا کرتے ہیں ۔عید کے دن کئ اہم امور انجام دینے کا حکم ہے اور ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ ہم اپنی جانب اور اہل خانہ کی جانب سے صدقۃ الفطر ادا کریں ۔صدقہ فطر حکم خداوندی کی بنا پر واجب ہے اس کی ایک حکمت ادائے شکر بھی ہے ۔جو مسلمان اتنا مال دار ہے کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا اس پر زکوٰۃ واجب نہیں، لیکن قرض اور ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال یا اسباب اس کی ملکیت میں موجود ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اس پر عیدالفطر کے دن صدقہ دینا واجب ہے، چاہے وہ تجارت کا مال ہو یا تجارت کا مال نہ ہو، چاہے اس پر سال گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو۔ اس صدقہ کو صدقۂ فطر کہتے ہیں۔
جس طرح مال دار ہونے کی صورت میں مردوں پر صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے اسی طرح اگر عورت مال دار صاحب نصاب ہے یا اس کی ملکیت میں قرضہ اور ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال وغیرہ ہے جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، مثلاً اس کے پاس زیور ہے جو والدین کی طرف سے ملا ہے یا شوہر نے نصاب کے برابر زیور عورت کو بطور ملکیت دیا ہے، یا مہر میں اتنا زیور ملا جو نصاب کے برابر ہے تو عورت کو بھی اپنی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے، ہاں اگرشوہر اس کی طرف سے اسے بتاکر ادا کردے تو ادا ہوجائے گا۔
 مال دار عورت پر اپنا صدقۂ فطر ادا کرنا تو واجب ہے، لیکن اس پر کسی اور کی طرف سے ادا کرنا واجب نہیں، نہ بچوں کی طرف سے نہ ماں باپ کی طرف سے، نہ شوہر کی طرف سے۔
البتہ مال دار آدمی کے لیے صدقۂ فطر اپنی طرف سے بھی ادا کرنا واجب ہے، اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی، نابالغ اولاد اگر مال دار ہو تو ان کے مال سے ادا کرے اور اگر مال دار نہیں ہے تو اپنے مال سے ادا کرے۔ بالغ اولاد اگر مال دار ہے تو ان کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا باپ پر واجب نہیں، ہاں اگر باپ ازخود ادا کردے گا تو صدقۂ فطر ادا ہوجائے گا۔
عید الفطر کی رات یعنی چاند رات کو "ليلة الجائزة " اور عید الفطر کے دن کو " یوم الْجَوَائِزِ" یعنی انعامات و بدلے کا دن حدیث میں کہا گیا ہے ۔
حضرت ابن عباس سے موقوفاً مَروی ہے :”يَوْمُ الْفِطْرِ يَوْمُ الْجَوَائِزِ“
عید کا دن ”یوم الجَوَائِز“یعنی انعام ملنے والا دن ہے۔(کنز العمال :24540)
نبی کریمﷺ اس دن کو مذہبی تہوار قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ”إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا“ (بیشک ہر قوم کیلئے عید کا دن ہوتا ہے اور یہ ہمارا عید کا دن ہے۔(بخاری:952)
اللہ تعالی عید الفطر کے دن فرشتوں کو گواہ بناکر روزہ داروں کی مغفرت فرمادیتے اور ان کے گناہوں کو سیئات سے بدل دیتے ہیں، چنانچہ روزہ دار عید گاہ سے بخشے بخشائے واپس ہوتے ہیں ۔
اگر ہم غور وخوض کریں تو عید الفطر کی خوشیاں در حقیقت قرآن کے ملنے پر منائی جاتی ہیں، رمضان المبارک جو کہ قرآن کا مہینہ ہے،اور قرآن مجید کی تعریف خود قرآن مجید نے سب سے بڑی نعمت سے کرائی ہے ، اور اس قرآن کی نعمت پر خود رب العزت نے انسانوں کو خوشیاں منانے کا اعلان فرمایا ہے : یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ
(سورہ یونس آیت 57 58)
’’لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔ اے نبی ؐ ، کہو کہ’’ یہ اللہ کا فضل اور اْس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اْس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اْن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں۔‘‘

"عید الفطر کے اہم تقاضے" عید الفطر سے ہمیں کئ اہم پیغامات ملتے ہیں اور وہ یہ کہ ہم حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی بھی ادائیگی کریں، اللہ کی بندگی کے ساتھ ساتھ ان کے تمام احکامات کو بجا لانے کی سعی کریں، نعمتوں پر شکر ادا کریں اور مصائب میں صبر وتحمل کے ساتھ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے زندگی گزاریں،کیوں کہ شکر نام ہی ہے نعمتوں کے حقوق کی ادائیگی کا، اللہ نے جو بھی نعمتیں ہمیں میسر کی ہیں ان میں اوروں کے بھی حقوق ہیں، خصوصاً غرباء وفقراء ، مساکین، ضرورتمند، خویش واقربہ وغیرہ ۔
اسی لیے اپنی خوشیوں میں اپنے دوست واحباب، خویش واقربہ ،غرباء وفقراء اور ضرورتمندوں کو لازمی شامل رکھیں،انفرادی نہیں اجتماعی زندگی گزاریں، مسلمانوں کے کے ایک ایک لمحات عبادات ہیں، خواہ سماجی ومعاشرتی زندگی ہو ، اقتصادی زندگی ہو ، اجتماعی وانفرادی زندگی ہو،محفل وتنہائی ہو، خلوت وجلوت ہو، صبح وشام یا رات ودن ہو، بشرطیکہ ہر معاملے میں احکامات الہی کو سامنے رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ عید الفطر کی نماز کے لئے ایک راستے سے جانے اور دوسرے راستے سے واپس آنے کا حکم ہے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملاقات کرکے ان کے احوال سے واقف ہوکر ان کی مدد کرسکیں، خلاصہ عید اللہ کی نعمتوں کے شکر ادا کرنے کا ایک اہم ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ہر مسلمان کو چاہیے کہ اللہ کے ان احکامات کو بھر پور بجا لانے کی کوشش کرے یہی پیغام ہے عید الفطر کا، اور یہی تقاضے ہیں بندگی کے، یہی حقیقت ہے عیدالفطر کی،اور یہی پیغام ہے ۔

بدھ, مارچ 18, 2026

اور انعامی تقریب منعقد

اور انعامی تقریب منعقد
مظفر نگر، 18 مارچ —
تسمیہ جونیئر ہائی اسکول، مظفر نگر میں سالانہ نتیجہ اور انعامی تقریب نہایت جوش و خروش اور وقار کے ساتھ منعقد ہوئی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب گجیندرا سنگھ چاہر، سب انسپکٹر، تھانہ کھا لا پار، مظفر نگر تھے، جبکہ مہمانِ اعزازی محترمہ جھلمل بنسل، لیڈی سب انسپکٹر، تھانہ کھا لا پار، مظفر نگر تھیں۔
اس موقع پر مشن شکتی ٹیم کے ارکان مون پال (کانسٹیبل، اتر پردیش پولیس) اور محترمہ جیوتی جانوی (لیڈی کانسٹیبل، اتر پردیش پولیس) بھی موجود تھیں۔
پروگرام کا آغاز اسکول کی سینئر ٹیچر مس ریشما تبسم کی خوبصورت نظامت سے ہوا۔ تمام مہمانوں کا استقبال اسکول کے منیجر جناب سید اعجاز احمد نے پھولوں کے ہار پہنا کر اور یادگاری مومنٹو پیش کر کے کیا۔
اس کے بعد اسکول کے کارگزار پرنسپل جناب جاوید مظہر نے استقبالیہ خطاب پیش کیا اور تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
محترمہ جھلمل بنسل، لیڈی سب انسپکٹر، تھانہ کھا لا پار نے اپنے خطاب میں مشن شکتی مہم کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خواتین اور بچیوں کی حفاظت، عزت اور بااختیاری کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورت میں پولیس ہیلپ لائن 112، ویمن ہیلپ لائن 1090، ویمن ہیلپ لائن 1091 اور چائلڈ ہیلپ لائن 1098 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
مہمانِ خصوصی جناب گجیندرا سنگھ چاہر نے اپنے خطاب میں طلبہ کو شاندار نتائج پر مبارکباد دی اور انہیں محنت، نظم و ضبط اور دیانت داری اختیار کرنے کی تلقین کی۔
درجہ يو کے جی-عمر،اذان احمد،فائزہ  قریشی
درجہ اوّل بي - حمزہ،حماد ،محمّد داؤد
درجہ اوّل جی - عمرہ،ائرا ،ادیبہ
درجہ دوم - عبداللہ صدیقی،ذکرا خان،افرا قریشی
درجہ سوم - ذکرا خان،فاطمہ، زائرہ 
درجہ چہارم - نورل مدیحہ،زینب منصوری،ام حمنہ 
درجہ پنجم - حمیرا،سمائرا ،فاطمہ
درجہ شہشم بی - اسد،زین قریشی،ارحم انصاری
درجہ ششم جی - زویا،ام حبیبہ،سدرہ ناز
درجہ ہفتم بی - عبدل سمد شہزاد ،شعبان،عبدل سمد عرفان
درجہ ہفتم جی - آمنہ ،شیرین ،عائشہ
درجہ آٹھ بی -  ارحان مرسلین ،ارحان شاہ نواز،مننا 
درجہ آٹھ جی - اقراء، نبیہ ،علماء
بعد ازاں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا۔
آخر میں اسکول کی سینئر ٹیچر محترمہ خوش نصیب نے تمام مہمانوں، اساتذہ، طلبہ اور والدین کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔

جمعہ, مارچ 13, 2026

*سنگارپور کا روحانی رمضان

*سنگارپور کا روحانی رمضان*
✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804

     میرے گاؤں کا نام سنگارپور ہے۔ دیہات کی سادہ مگر پُروقار فضا میں بسنے والا یہ گاؤں اپنی مذہبی روحانیت کے باعث دور دور تک پہچانا جاتا ہے۔ یہاں ایک عظیم الشان مدرسہ، دار القضاء، تقریباً پچیس مکاتب، پانچ مساجد، ایک عیدگاہ (آٹھگاواں)، اور ایک بڑا قبرستان ہیں، اور کثیر آبادی کے باوجود دلوں میں عجیب سی اپنائیت بسی ہوئی ہے۔ مگر سنگارپور کی اصل شان اُس وقت نکھر کر سامنے آتی ہے جب رمضان المبارک کی آمد ہوتی ہے۔

     سال کے گیارہ مہینے پردیس کی مشغولیات میں گزر جاتے ہیں لیکن جیسے ہی رمضان کا چاند نظر آتا ہے دل بے اختیار اپنے گاؤں کی گلیوں میں پہنچ جاتا ہے۔ سحری کے وقت جب چاروں سمتوں سے مؤذنوں کی پُرسوز صدائیں بلند ہوتی ہیں “اٹھـــو روزے دارو! سحری کا وقت ہو گیا” تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا گاؤں ایک روح بن کر جاگ اٹھا ہو۔ نیم تاریکی میں جلتے بلبوں کی مدھم روشنی، گھروں کے صحنوں میں برتنوں کی ہلکی سی آواز، اور ٹھنڈی ہوا کا نرم لمس… سب مل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جسے لفظوں میں قید کرنا آسان نہیں۔

     سحری کے بعد فجر کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ مسجدوں سے نکلتے لوگ کوئی اپنے روزمرہ کے کاموں کی طرف روانہ ہو جاتا ہے، کوئی تلاوتِ قرآن میں مشغول ہو جاتا ہے، تو کوئی کھیت کھلیان کی راہ لیتا ہے۔ صبح کے وقت چڑیوں کی چہچہاہٹ اور کھیتوں سے اٹھتی مٹی کی خوشبو دل کو عجب سکون بخشتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فضا کا ذرّہ ذرّہ بھی اس بابرکت مہینے کی عظمت میں سجدہ ریز ہو۔

     گاؤں کے مکاتب میں قرآن مجید کی تلاوت اور علومِ نبویہ کی صدائیں فضا میں گونجتی ہیں۔ ننھے بچوں اور بچیوں کی مخملی آوازیں سن کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ سفید ٹوپیوں اور معصوم چہروں کے ساتھ رنگ برنگی دوپٹوں میں سجی معصوم بچیوں کی قطاریں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نور کی ایک لڑی زمین پر اتر آئی ہو۔ جو بچے اور بچیاں اسکول جاتے ہیں وہ بھی وقت پر خوشی خوشی بستے اٹھائے اپنے راستے پر روانہ ہوتے ہیں۔

     دوپہر ڈھلتے ہی گاؤں کی گلیاں ایک نئی رونق اوڑھ لیتی ہیں۔ ظہر کے بعد بازار میں جیسے زندگی دوڑنے لگتی ہے۔ کھجوروں، پھلوں کے ٹھیلے، پکوڑوں اور سموسوں کی تیاری… ہر طرف افطار کی تیاریوں کا سماں ہوتا ہے۔ عصر کے بعد تو گویا پورا گاؤں حرکت میں آ جاتا ہے۔ لوگ افطار کا سامان لیے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ مائیں اور بہنیں دسترخوان سجانے میں مصروف اور بچے ہاتھوں میں چھوٹے تھیلے لیے چند گھروں کا چکر لگا آتے ہیں افطار مانگنے کی معصوم خوشی ان کے چہروں سے عیاں ہوتی ہے۔

     مغرب کی اذان کے ساتھ ہی سب دسترخوان پر بیٹھ جاتے ہیں۔ دعاء کے لیے اٹھے ہاتھ، آنکھوں میں نمی اور لبوں پر شکر کے کلمات یہ منظر روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ افطار کے بعد مساجد کی طرف بڑھتے قدموں میں ایک عجب سی چستی ہوتی ہے۔ عشاء اور تراویح کے لیے لوگ یوں دوڑتے ہیں جیسے کوئی قیمتی خزانہ ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ حفاظ کرام دن بھر کی محنت کے بعد قرآن مجید کی تلاوت میں محو ہو جاتے ہیں۔ مسجدوں میں تلاوت کی مترنم آوازیں رات کی خاموشی کو نور سے بھر دیتی ہیں۔

     تراویح کے بعد گلیوں میں پھر ہلکی سی چہل پہل ہوتی ہے۔ کہیں چائے، پان کی محفل جمی ہے، کہیں عید کی تیاریوں کا ذکر، کہیں نئے کپڑوں اور سامان کی خریداری کا تذکرہ۔ بچے آنگنوں میں کھیلتے کھیلتے تھک کر ماں کی گود میں سو جاتے ہیں۔ اور پھر آہستہ آہستہ پورا گاؤں سکون کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ دن بھر کی عبادت اور محنت کے بعد لوگ اپنے بستروں سے لپٹ کر اگلے روز کی سحری کے انتظار میں نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔

     سنگارپور کا رمضان صرف ایک مہینہ نہیں، ایک کیفیت ہے۔ ایک ایسی روحانی بہار جو دلوں کو تازگی بخشتی ہے۔ یہاں کی فضائیں ایمان کی خوشبو سے معطر، یہاں کی راتیں تلاوت کی روشنی سے منور، اور یہاں کے دن اخوت و محبت کے رنگوں سے مزین ہوتے ہیں۔ واقعی میرے گاؤں سنگارپور کے رمضان کا لطف وہی جان سکتا ہے جس نے اس کی سحری کی صدا اور افطار کی دعا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے دل سے محسوس کیا ہو۔

اردودنیانیوز۷۲

*بڑی مسجد باسنی، ناگور (راجستھان)*

*بڑی مسجد باسنی، ناگور (راجستھان)*   حضرت مولانا سید محمد علی صاحب نے اپنی پوری زندگی بڑی مسجد باسنی میں *امامت، دینی تعلیم، نما...