Powered By Blogger

جمعہ, مارچ 13, 2026

*سنگارپور کا روحانی رمضان

*سنگارپور کا روحانی رمضان*
✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804

     میرے گاؤں کا نام سنگارپور ہے۔ دیہات کی سادہ مگر پُروقار فضا میں بسنے والا یہ گاؤں اپنی مذہبی روحانیت کے باعث دور دور تک پہچانا جاتا ہے۔ یہاں ایک عظیم الشان مدرسہ، دار القضاء، تقریباً پچیس مکاتب، پانچ مساجد، ایک عیدگاہ (آٹھگاواں)، اور ایک بڑا قبرستان ہیں، اور کثیر آبادی کے باوجود دلوں میں عجیب سی اپنائیت بسی ہوئی ہے۔ مگر سنگارپور کی اصل شان اُس وقت نکھر کر سامنے آتی ہے جب رمضان المبارک کی آمد ہوتی ہے۔

     سال کے گیارہ مہینے پردیس کی مشغولیات میں گزر جاتے ہیں لیکن جیسے ہی رمضان کا چاند نظر آتا ہے دل بے اختیار اپنے گاؤں کی گلیوں میں پہنچ جاتا ہے۔ سحری کے وقت جب چاروں سمتوں سے مؤذنوں کی پُرسوز صدائیں بلند ہوتی ہیں “اٹھـــو روزے دارو! سحری کا وقت ہو گیا” تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا گاؤں ایک روح بن کر جاگ اٹھا ہو۔ نیم تاریکی میں جلتے بلبوں کی مدھم روشنی، گھروں کے صحنوں میں برتنوں کی ہلکی سی آواز، اور ٹھنڈی ہوا کا نرم لمس… سب مل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جسے لفظوں میں قید کرنا آسان نہیں۔

     سحری کے بعد فجر کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ مسجدوں سے نکلتے لوگ کوئی اپنے روزمرہ کے کاموں کی طرف روانہ ہو جاتا ہے، کوئی تلاوتِ قرآن میں مشغول ہو جاتا ہے، تو کوئی کھیت کھلیان کی راہ لیتا ہے۔ صبح کے وقت چڑیوں کی چہچہاہٹ اور کھیتوں سے اٹھتی مٹی کی خوشبو دل کو عجب سکون بخشتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فضا کا ذرّہ ذرّہ بھی اس بابرکت مہینے کی عظمت میں سجدہ ریز ہو۔

     گاؤں کے مکاتب میں قرآن مجید کی تلاوت اور علومِ نبویہ کی صدائیں فضا میں گونجتی ہیں۔ ننھے بچوں اور بچیوں کی مخملی آوازیں سن کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ سفید ٹوپیوں اور معصوم چہروں کے ساتھ رنگ برنگی دوپٹوں میں سجی معصوم بچیوں کی قطاریں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نور کی ایک لڑی زمین پر اتر آئی ہو۔ جو بچے اور بچیاں اسکول جاتے ہیں وہ بھی وقت پر خوشی خوشی بستے اٹھائے اپنے راستے پر روانہ ہوتے ہیں۔

     دوپہر ڈھلتے ہی گاؤں کی گلیاں ایک نئی رونق اوڑھ لیتی ہیں۔ ظہر کے بعد بازار میں جیسے زندگی دوڑنے لگتی ہے۔ کھجوروں، پھلوں کے ٹھیلے، پکوڑوں اور سموسوں کی تیاری… ہر طرف افطار کی تیاریوں کا سماں ہوتا ہے۔ عصر کے بعد تو گویا پورا گاؤں حرکت میں آ جاتا ہے۔ لوگ افطار کا سامان لیے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ مائیں اور بہنیں دسترخوان سجانے میں مصروف اور بچے ہاتھوں میں چھوٹے تھیلے لیے چند گھروں کا چکر لگا آتے ہیں افطار مانگنے کی معصوم خوشی ان کے چہروں سے عیاں ہوتی ہے۔

     مغرب کی اذان کے ساتھ ہی سب دسترخوان پر بیٹھ جاتے ہیں۔ دعاء کے لیے اٹھے ہاتھ، آنکھوں میں نمی اور لبوں پر شکر کے کلمات یہ منظر روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ افطار کے بعد مساجد کی طرف بڑھتے قدموں میں ایک عجب سی چستی ہوتی ہے۔ عشاء اور تراویح کے لیے لوگ یوں دوڑتے ہیں جیسے کوئی قیمتی خزانہ ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ حفاظ کرام دن بھر کی محنت کے بعد قرآن مجید کی تلاوت میں محو ہو جاتے ہیں۔ مسجدوں میں تلاوت کی مترنم آوازیں رات کی خاموشی کو نور سے بھر دیتی ہیں۔

     تراویح کے بعد گلیوں میں پھر ہلکی سی چہل پہل ہوتی ہے۔ کہیں چائے، پان کی محفل جمی ہے، کہیں عید کی تیاریوں کا ذکر، کہیں نئے کپڑوں اور سامان کی خریداری کا تذکرہ۔ بچے آنگنوں میں کھیلتے کھیلتے تھک کر ماں کی گود میں سو جاتے ہیں۔ اور پھر آہستہ آہستہ پورا گاؤں سکون کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ دن بھر کی عبادت اور محنت کے بعد لوگ اپنے بستروں سے لپٹ کر اگلے روز کی سحری کے انتظار میں نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔

     سنگارپور کا رمضان صرف ایک مہینہ نہیں، ایک کیفیت ہے۔ ایک ایسی روحانی بہار جو دلوں کو تازگی بخشتی ہے۔ یہاں کی فضائیں ایمان کی خوشبو سے معطر، یہاں کی راتیں تلاوت کی روشنی سے منور، اور یہاں کے دن اخوت و محبت کے رنگوں سے مزین ہوتے ہیں۔ واقعی میرے گاؤں سنگارپور کے رمضان کا لطف وہی جان سکتا ہے جس نے اس کی سحری کی صدا اور افطار کی دعا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے دل سے محسوس کیا ہو۔

بدھ, مارچ 11, 2026

*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت*

*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت*
✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804

     موجودہ عہد اطلاعات کے بے مثال پھیلاؤ کا زمانہ ہے۔ سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن مباحثوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے خبر رسانی کے دائرے کو غیر معمولی طور پر وسیع کر دیا ہے۔ ایک واقعہ چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن اس تیز رفتاری کے ساتھ ایک خطرناک رجحان بھی شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ بیانات اور تقاریر کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا۔ جب کسی گفتگو کے چند جملے اس کے اصل پس منظر سے الگ کر دیے جاتے ہیں تو حقیقت کا چہرہ مسخ ہو جاتا ہے اور معاشرے میں غلط فہمیاں، اشتعال اور تنازعات جنم لینے لگتے ہیں۔

     حالیہ دنوں میں مولانا عبداللہ سالم قمر قاسمی چترویدی کے بیان کے حوالے سے جو شور و غوغا برپا ہوا ہے وہ اسی طرزِ عمل کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک مختصر ویڈیو کو بنیاد بنا کر یہ تأثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مولانا نے گائے کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے یا اسے کسی خاص شخصیت کی حقیقی والدہ سے جوڑ کر تمسخر کا نشانہ بنایا۔ تاہم جب اس تقریر کا مکمل پس منظر سامنے آتا ہے تو معاملہ اس سے خاصا مختلف دکھائی دیتا ہے۔

     حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو 4 مئی 2024ء کی ایک تقریر کا حصہ ہے۔ بعض ٹی‌وی چینلوں نے اسے رمضان کے دوران دی گئی تقریر قرار دے کر مزید سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کی حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مولانا کی گفتگو دراصل اس سماجی تصور کے تناظر میں تھی جس میں بعض طبقات گائے کو “گاؤ ماتا” کا درجہ دیتے ہیں۔ اسی تصور کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے طنزیہ انداز میں ایک مثال پیش کی تھی۔ مگر افسوس کہ تقریر کے چند جملوں کو باقی گفتگو سے الگ کر کے اس طرح پیش کیا گیا کہ گویا وہ کسی فرد یا عقیدے کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہوں۔

     اس معاملے میں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ بعض ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے حلقوں نے اس بیان کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے جوڑ کر معاملے کو مزید اشتعال انگیز بنانے کی کوشش کی۔ حالانکہ اصل گفتگو ایک عمومی سماجی تصور کے حوالے سے تھی، نہ کہ کسی مخصوص شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے۔ لیکن جب کسی بیان کو ادھورا دکھایا جائے تو اس کے معنی بدلنا کوئی مشکل کام نہیں رہتا اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سے غلط فہمیوں کی زنجیر شروع ہوتی ہے۔

     اس کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی وہ بھی کم تشویشناک نہیں۔ مختلف ہندو تنظیموں کی جانب سے مولانا کے خلاف 84 تھانوں میں ایف آئی آر درج کرائی گئی، کئی مقامات پر چوک چوراہوں پر ان کے پتلے نذرِ آتش کیے جا رہے ہیں اور ان کے خلاف نعرہ بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پورے منظرنامے میں ایک اہم حقیقت اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ مولانا عبداللہ سالم قمر قاسمی چترویدی خود اس معاملے پر وضاحت پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا اور اگر ان کے کسی جملے سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔

     کسی بھی سنجیدہ اور مہذب معاشرے میں وضاحت اور معذرت کو مثبت انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ دراصل احساسِ ذمہ داری اور سماجی شعور کی علامت ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے موجودہ سماجی ماحول میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وضاحت یا معافی کے باوجود تنازع کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید ہوا دی جاتی ہے۔ نتیجتاً مسئلہ سلجھنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے اور معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔

     یہاں ایک بنیادی سوال بھی ابھر کر سامنے آتا ہے: آخر ملک کا آئین اور قانون کس کے ہاتھ میں ہے؟ اگر کوئی بیان واقعی قابلِ اعتراض ہے تو اس کے ازالے کے لیے عدالتیں اور قانونی ادارے موجود ہیں۔ لیکن اگر کسی شخص کے خلاف عوامی اشتعال کو اس حد تک بڑھا دیا جائے کہ سڑکوں پر فیصلے ہونے لگیں تو یہ طرزِ عمل نہ صرف قانون کی بالادستی کے لیے خطرہ ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔

     اختلافِ رائے کسی بھی جمہوری معاشرے کا فطری حصہ ہوتا ہے۔ مختلف نظریات، عقائد اور نقطہ ہائے نظر کا وجود ہی ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔ مگر جب اختلاف کو نفرت اور اشتعال میں بدل دیا جائے تو وہ معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر سب سے زیادہ ذمہ داری میڈیا اور سوشل میڈیا کے صارفین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خبر کو مکمل تناظر اور دیانت داری کے ساتھ پیش کریں۔

     اس موقع پر میں مولانا صاحب سے مؤدبانہ درخواست کروں گا کہ جن چینلز نے آپ کی گفتگو کو کاٹ چھانٹ کر کلپ کی صورت میں نشر کیا ہے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کریں تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کی جسارت نہ کر سکے نیز ہمیں بھی یہ روش ترک کرنی چاہیے کہ ہم مخالف سے ثبوت طلب کرنے کے بجائے فوراً صفائیاں پیش کرنے لگتے ہیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ بے بنیاد الزامات عائد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی کریں اور مزید مولانا بوقت بیان یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ایسے الفاظ ہرگز استعمال نہ کریں جو دو معنی کا احتمال رکھتا ہو بلکہ مخاطب کے اعتبار گفتگو کریں تاکہ کلام مقتضی حال کے مطابق ہو کیوں کہ ملک بھارت میں سمجھنے والے کم اور بال میں کھال میں نکالنے والے کی تعداد زیادہ ہیں۔

     صحافت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ سچ کو اس کی پوری حقیقت کے ساتھ سامنے لایا جائے۔ اگر کسی بیان کے چند جملوں کو کاٹ کر سنسنی خیزی پیدا کی جائے تو یہ نہ صرف صحافتی اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ عوامی شعور کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔ اسی طرح عوام کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کسی خبر کو فوراً حتمی سچ نہ مان لیں بلکہ اس کے پس منظر اور مکمل معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

     آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت اعتدال، تحقیق اور ذمہ داری کی ہے۔ سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا میں افواہ اور حقیقت کے درمیان فرق کرنا بظاہر مشکل ضرور ہو گیا ہے مگر ناممکن نہیں۔ اگر ہم سنجیدگی، تحمل اور تحقیق کے ساتھ معاملات کو دیکھیں تو بہت سی ایسی بحثیں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں جو محض غلط فہمیوں کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔

     ایک حق گو صحافی کی حیثیت سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ کسی بھی واقعے یا بیان پر رائے قائم کرنے سے پہلے اس کے مکمل سیاق و سباق کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ یہی طرزِ عمل سچائی تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرتا ہے اور اسی کے ذریعے معاشرے میں باہمی احترام، برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ صحافت کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ وہ سچ کو ادھورا نہیں بلکہ پورے پس منظر کے ساتھ سامنے لائے تاکہ معاشرہ اشتعال کے بجائے فہم و تدبر کی راہ اختیار کر سکے۔


نوٹ: *یہ مضمون نگار کا ذاتی خیال ہے ہر ایک کو اس سے اتفاق رکھنا ناممکن ہے لہذا قاری کو اختلاف کا بالکلیہ اختیار ہوگا۔*

🗓️ 11 مارچ 2026 بروز بدھ

انس مسرورانصاری قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن (انڈیا)



***نعت پاک ***

زبانِ  خلقِ  خد ا  پر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ
جبل کہ دشت وسمندربس ایک نامِ نبی ﷺ

وہ ذات  با عثِ  تخلیقِ  ا ر ضِ  لا محد و د 
ہے کا ئنات کا محو ر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ

چمن میں فیض رساں ہےوہ دستِ لمس نمو
کہ شا خ شا خ ثمر ور بس ایک نامِ نبی ﷺ

زمانے بھر کے ہیں  مشکل کشا  رسولِ کر یم
زمانے بھر کےلبوں پر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ

سوال جتنے ہیں سب کا ہےمیرےپاس جواب
بروزِ عرصئہ محشر  بس ا یک نا مِ  نبی ﷺ

و ہ ا یک ا سم کہ تحر یر  بر گ بر گ  پہ ہے
جما لِ  حسنِ  گلِ تر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ

خر د  ہے   عقد ہ    کشا   عا لمِ   تحیّر  میں 
جنونِ د ل کو ہےا زبر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ

جبل جبل کی بلند ی پہ ذ کر پاک رسول ﷺ
ہے دشت و بحر کا رہبر بس ایک نامِ نبی ﷺ

بس ا یک نام کی لذت سے جان و د ل مسرور
زباں زبا ں  پہ مکر ر  بس ا یک نا مِ  نبی ﷺ
                          ******
         * انس مسرورانصاری
      قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن (انڈیا) 
        وہاٹس ایپ/9453347784/ء

پیر, مارچ 09, 2026

مفتی ہمایوں اقبال ندوی نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ

فلاح پانے والے لوگ!                    

  

روزہ کیوں فرض کیا گیا ہے؟ اس کی وجہ قران میں لکھی ہوئی ہے۔ارشاد ربانی ہے: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئےجیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے قبل ہوئے ہیں تاکہ تم متقی ہو جاؤ (بقرہ ۱۸۳) اس آیت شریفہ سے روزہ کا مقصد اور اس کی غرض وغایت کی مکمل وضاحت ہوتی ہے کہ رمضان کی آمد اور روزے کی فرضیت کا مقصد درحقیقت ایک صاحب ایمان کو متقی بنانا ہے۔ اللہ سے ڈرنے والا اور پرہیزگار بندہ متقی ہے۔ متقین کی قرآن میں نشانیاں بتلائی گئی ہیں، ارشاد خداوندی ہے: جو لوگ یقین کرتے ہیں بے دیکھی چیزوں کا، اور قائم رکھتے ہیں نماز کو، اور جو ہم نے روزی دی ہے اسمیں سے خرچ کرتے ہیں( بقرہ ۳)
 اس آیت میں متقین کی تین صفات بیان کی گئی ہیں:ایمان بالغیب، اقامت صلواه،اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔آسان زبان میں ہم ان تینوں کو متقین کی پہچان کہ سکتے ہیں۔نیز قران کریم میں متقی بندے کے مزید اوصاف بھی مذکور ہوئے ہیں کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، غصہ پی لیتے ہیں، صبر سے کام لیتے ہیں، دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر دیتے ہیں، ان سے کوئی گناہ ہو جائے تو فورا توبہ کرتےہیں ، اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں وغیرہ۰۰۰ کم و بیش تیس سے زائد اوصاف علماء کرام نے قران کریم کی روشنی میں متقین بندے کے بتلائے ہیں۔ مگر ان تمام کا خلاصہ یہ تین ہی ہیں۔ علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی فرماتے ہیں کہ :"سب طاعتوں کی اصل تین ہی ہیں۔ اول جو باتیں دل سے تعلق رکھتی ہیں، دوسری بدن سے، تیسری مال سے، سو اس آیت میں ہر سہ اصول کو ترتیب وار لے لیا"۔ 
حضرت مفتی شفیع رحمہ اللہ علیہ معارف القرآن میں فرماتے ہیں کہ:"جتنے اعمال انسان پر فرض یا واجب ہیں ان کا تعلق یا انسان کی ذات اور بدن سے ہے یا اس کے مال سے۔بدنی اور ذاتی عبادات میں سب سے اہم نماز ہے۔اس کا ذکر کرنے پر اکتفا کیا گیا،اور مالی عبادات سب کی سب لفظ انفاق میں داخل ہیں، اس لئے درحقیقت یہ تنہا دو اعمال کا ذکر نہیں بلکہ تمام اعمال وعبادات ان کے ضمن میں آگئے، اور پوری آیت کے یہ معنی ہوگئے کہ متقین وہ لوگ ہیں جن کا ایمان بھی کامل ہے اور عمل بھی اور ایمان وعمل کے مجموعہ کا نام ہی اسلام ہے"(معارف القران جلد اول صفحہ ۱۱۱)
ماہ رمضان کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہی وہ تین چیزیں ہیں جنکی مشق پورے مہینے کرائی جاتی ہے تاکہ یہ تینوں اوصاف جب ایک صاحب ایمان میں پیدا ہوجائیں گی تو وہ متقی بندوں کی فہرست میں شامل ہوجائے گا، ماہ صیام کی آمد کا مقصد ہی یہی ہے۔
پہلی صفت ایمان بالغیب کا رمضان میں یہ عالم ہوتا ہے کہ بندہ تنہائی میں بھی شدید بھوک و پیاس کی گھڑی بھی نہ ایک دانہ منھ میں رکھتا ہے اور نہ ایک قطرہ پانی کا حلق سے نیچے اتارتا ہے،اس کی شرعی طور پر گنجائش بھی نہیں ہے وہ اس لئے کہ وہ روزے سے ہے اور ایسا کرنے سے اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔یہ استحضار ماہ صیام میں اپنے شباب پر ہوتا ہے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے، جبکہ اس نے خدا کو کبھی دیکھا نہیں ہے۔یہ خیال واحساس ایمان بالغیب کا اعلی درجہ ہے،اورایک صاحب تقوی کے اند اس استحضار کا پایا جانا ہمہ وقت ضروری ہے۔
دوسری صفت اقامت صلواہ ہے، پانچ وقت کی نمازیں پڑھنی ہیں، مزیدتراویح کی اضافی نمازکی ہابندی بھی کرنی ہے۔بحمداللہ یہ چیزیں رمضان کے مبارک مہینے میں دیکھنے کو بھی ملتی ہے کہ واقعی اقامت نماز کا حق ایک نمازی ادا کرنے کی سعی کرتا ہے، فرائض، واجبات، مستحبات اور پھر ان پر دوام والتزام بھی کرتا ہے۔ایک بندہ رمضان کی اہمیت اور اجر وثواب کی امید لئے ان چیزوں کا اہتمام کرتا ہے مگر شارع کا مقصد ایک صاحب ایمان کو نماز کا پابند بنانا ہے اور یہ حصول تقوی کے لئے لازمی ہے۔
تیسری صفت متقی ہونے کے لئے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ہے چنانچہ رمضان کے مہینے میں اس کی بھی خوب تربیت دی جاتی ہے۔زکوٰۃ ،خیرات، صدقات کے علاوہ صدقہ فطر کی شکل میں ایک مصرف کو رمضان اور روزے کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، مقصد مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا مزاج بنانا ہے اور متقی ہونے کے لئے یہ تیسری لازمی صفت ہے۔جب یہ چیزیں پیدا ہوگئیں تویہ بندہ تقوی کی صفت سے متصف ہوگیا۔اس پر قرآن اس کی کامیابی کا اعلان کردیتا ہے،ارشاد خداوندی ہے:یہی لوگ ہیں اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں (بقرہ ایت نمبر ۵)
مفتی ہمایوں اقبال ندوی 
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 
وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری 
۱۹/رمضان المبارک ۱۴۴۶ھ

ہفتہ, مارچ 07, 2026

مضمون نگار قاری عابد راہی صاحب

قرآن مجید اور حفاظ کی عظمت و رفعت اور ان کے مقام بلند کا کیا کہنا ، اللہ تعالیٰ نے کس قدر واضح اور دو ٹوک انداز اور الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے کہ’’انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون‘‘ اس نصیحت نامہ اور کتاب ہدایت یعنی قرآن کو ہم نے ہاں ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ و نگہبان ہیں۔ اور بارگاہ ربانی کی اس عطا کی کوئی حد ہے کہ جو صفت اللہ نے اپنے لئے مخصوص رکھی تھی، اسے بندہ کو بھی نواز دیا، یعنی اللہ حافظ الذکر یعنی قرآن کے محافظ و نگہبان ہیں تو بندہ کو توفیق بخش دی کہ وہ تیس پاروں کو حفظ کرکے حافظ قرآن کا مبارک و مسعود لقب حاصل کرلے، سچ ہے کہ:
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

حافظ قرآن کا درجہ اور مقام و رتبہ اسلام کی نظر میں بہت ہی بلند ہے ۔ قرآن مجید کی تعلیم و تعلم میں مصروف رہنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں اچھے اور پسندیدہ ہیں، چنانچہ ارشاد نبوی ہے کہ تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن کریم سیکھے اور دوسروں کو سکھائے ۔ خیرکم من تعلم القرآن و علمہ (بخاری فضائل القرآن )

حافظ قرآن کا اللہ تعالی کے نزدیک بڑا مقام ہے اور یہ مقام اور تقرب حفظ قرآن مجید کی برکت کی وجہ سے بے ۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک مجلس میں ارشاد فرمایا : کہ اللہ تعالی کے کچھ خاص بندے ہوتے ہیں ……..آپ کے اس ارشاد پر صحابئہ کرام رضی اللہ عنہم متوجہ ہوئے اور اشتیاق و تجسس کے ساتھ سوال کیا ، یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حافظ قرآن، ان کا بڑا مقام ہے اور یہ لوگ اہل اللہ اور خاصان خدا ہیں ۔( ابن ماجہ )

نسبت بڑی اونچی چیز ہے اور نسبت ہی سے کسی چیز کی قیمت متعین ہوتی ہے ۔ چوں کہ قرآن مجید کلام ربانی ہے ۔ خدا کا کلام ہے، جو تمام کلاموں میں اعلی اور ارفع ہے ۔ اسے جب اپنے سینے میں محفوظ کرلیا جائے، تو اس نسبت سے حافظ قرآن کا مقام و رتبہ تو بلند ہو ہی جائے گا ۔ اس حقیقت کو ہم اس مثال بھی سمجھ سکتے ہیں، کہ جب کسی شخص کا کسی بادشاہ حاکم یا بڑے عہدے دار سے کسی طرح کا تعلق اور رابطہ ہو جاتا ہے تو اس کا شمار خاص لوگوں میں ہونے لگتا ہے اور وہ شخص اس تعلق کو اپنے لئے فخر و عزت کی چیز سمجھنے لگتا ہے گویا اسے بہت بڑی دولت ملی گئی، جب اس عارضی فانی اور ناپائیدار دنیا کے تعلق کا یہ عالم ہے تو اس شخص کی خوشی کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے جو اپنے رب حقیقی کا مقرب اور خاص ہوجائے ۔ واقعتا وہ انسان قابل رشک اور لائق صد فخر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حفاظ کرام کو خاصان خدا کہا گیا ہے ۔

امت کا یہ طبقہ یعنی حفاظ کرام کےطبقہ کو بڑی عزت اور وقار حاصل ہے ۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : اللہ تعالٰی کی تعظیم میں بوڑھے مسلمان کا اکرام کرنا اور اس حافظ قرآن کا اکرام کرنا جو افراط و تفریط سے خالی ہو اور عادل بادشاہ کا اکرام کرنا ہے ۔ (ابو داؤد ) طبرانی کی ایک روایت ہے کہ حفاظ قرآن جنتیوں کے مانیٹر ہوں گے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جس نے قرآن مجید کو پڑھا اور اس کو حفظ کیا اور اس کے حلال و حرام کو سمجھا ۔ اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے گھرانے میں سے ایسے دس آدمیوں کے بارے میں سفارش قبول کرے گا جن کے لئے جہنم واجب ہوچکی ہو۔ (مشکوة)

لیکن یہ یہ بات بھی ذھن میں رہے کہ حفاظ کرام کو ملی یہ بشارتیں صرف ان حفاظ کرام کے لئے ہیں، جو قرآن کریم کے تقاضوں پر عمل بھی کرتے ہوں، جن کے اندر تقوی و خوف خدا ہو ۔ صالحیت ہو کتاب و سنت پر جس کا عمل ہو ۔ حفظ قرآن کی جو یہ عظیم دولت ملی ہے ، اس کی حفاظت کی فکر بھی کرتے ہوں ۔ اور ساتھ ہی اپنی نشست و برخاست عادات و اطوار اخلاق و کردار وضع قطع وہ ثابت کریں کہ وہ واقعتا حافظ قرآن اور خدا کے نمائندے ہیں ۔ نیز ان کا سینہ طمع لالچ اور تمام اخلاقی و روحانی بیماری پاک ہو ۔

حافظ قرآن امت کا انتا ہی کریم اور معزز طبقہ ہے ۔کنزل العمال میں یہ حدیث موجود ہے کہ حاملین قرآن کی فضیلت اس شخص پر جو حامل قرآن نہیں ہے ایسی ہے جیسے خالق کی فضیلت مخلوق پر ۔ ایک دوسری روایت میں ہے اشرف امتی حملةالقرآن و اصحاب اللیل ( معجم طبرانی)

حافظ قرآن امت کا انتا ہی کریم اور معزز طبقہ ہے ۔کنزل العمال میں یہ حدیث موجود ہے کہ حاملین قرآن کی فضیلت اس شخص پر جو حامل قرآن نہیں ہے ایسی ہے جیسے خالق کی فضیلت مخلوق پر ۔ ایک دوسری روایت میں ہے اشرف امتی حملةالقرآن و اصحاب اللیل ( معجم طبرانی)

میری امت کے اشراف، حاملین قرآن اور رات کو عبادت کرنے والے ہیں ۔ اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ حافظ قرآن کی دعا قبول ہوتی ہے ۔ مسند فردوس میں ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن مجمع عام میں حافظ قرآن کی عظمت اور ان کے شرف کا اظہار و اعلان فرمائیں گے ۔ کنز العمال میں یہ روایت ہے کہ حافظ قرآن اور قرآن کو بار بار پڑھنے والے کی عقل آخر عمر تک ٹھیک اور درست رہتی ہے ۔ اور موت کے بعد قبر میں حافظ قرآن کی جسم کی حفاظت ہوتی ہے ۔ طبرانی کی اس روایت سے بھی حافظ قرآن کی عظمت ظاہر ہوتی ہے کہ حفاظ قرآن جنتیوں کے مانیٹر ہوں گے ۔ ایک حدیث میں حافظ قرآن کے درجات کی بلندی اس طرح بیان فرمائی گئی ہے کہ حافظ قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتے جاو اور بلند ہوتے جاو اور ٹہر ٹہر کر اطمنان سے پڑھو جس طرح دنیا میں تم ٹھر ٹھر کر پڑھتے تھے ،کیونکہ تمہارا درجہ وہی ہوگا جس جگہ تم قرآن کی آخری آیت پڑھو گے ۔( ترمذی)

اولاد کو جو والدین قرآن مجید پڑھاتے اور حفظ کراتے ہیں ان کے لئے خوش خبری ہے کہ قیامت کے دن ان کو نور کا ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی روشنی کی طرح ہوگی ۔ اور اس کو دو جوڑے ایسے پہنائیں جائیں گے کہ پوری دنیا بھی ان کی قیمت نہیں بن سکتی وہ پوچھیں گے کہ یہ ہمیں کس چیز کے بدلے پہنائے جا رہے ہیں؟ (ہمارا تو کوئ عمل ایسا اونچا نہ تھا) تو انہیں بتایا جائے گا کہ یہ تمہارے بچے کے قرآن مجید پڑھنے اور حفظ کرنے کا انعام ہے ۔ (ترغیب و ترہیب)

ایک باعمل حافظ قرآن کو زندگی کے مختلف شعبوں میں دوسروں کے مقابلے میں جو ترجیح و فضیلت اور بلندی و برتری حاصل ہے اس کے لئے ان احادیث پر بھی نظر رہنی چاہیے………… حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد میں سے دو دو کو ایک قبر میں دفن فرما رہے تھے اور دریافت فرماتے تھے کہ ان دونوں میں سے کس کو زیادہ قرآن کا حصہ یاد ہے ۔ پس جس کی جانب اشارہ کیا جاتا اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں آگے رکھتے تھے ۔ (بخاری )

جس نے فضیلت قرآن کی وجہ سے حافظ قرآن کی کھانے پینے سے تواضع کی ۔ اللہ عز و جل اسے حافظ قرآن کے دل میں موجود ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں عطا فرماتے ہیں اور دس گناہ معاف فرماتے ہیں جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالی فرمائیں گے کہ تو نے میری وجہ سے اس کی عزت کی ہے تجھے اکرام اور بدلہ دینے کے لئے میں کافی ہوں ۔( مسند فردوس )

اس بات کو بھی ذھن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن کریم سے اس کی تلاوت سے اس کو یاد کرنے کی فکر سے کبھی بے توجھی نہ برتی جائے کیونکہ قرآن مجید خدائے بے نیاز کا کلام ہے اس کے یاد رکھنے میں بے نیازی برتی گئی تو اس کی غیرت برداشت نہیں کرتی کہ ایسے سینہ میں محفوظ رہے ۔

علماء نے لکھا ہے کہ قرآن کریم کی مثال اونٹ کی سی ہے کہ اونٹ جانوروں میں سب سے زیادہ حساس جانور ہے اگر اونٹ یہ محسوس کر لیتا ہے کہ اس کا مالک اس کے ساتھ بے رخی اور بے اعتنائی برت رہا ہے اور اس کے چارے کے انتظام میں غفلت سے کام لے رہا ہے تو اس اونٹ کی غیرت اس کو برداشت نہیں کرتی اور پھر وہ جب مالک کے گھر سے نکل جاتا ہے تو دوبارہ اس جانب رخ نہیں کرتا ۔ اسی طرح قرآن مجید بھی بہت حساس اور غیرت والا کلام ہے اگر حافظ قرآن اس کو یاد کرنے میں تساہلی اور سستی سے کام لیتا ہے ۔ تو قرآن بھی حافظ قرآن کے دل سے نکل جاتا ہے اور اونٹ ہی کی طرح دوبارہ لوٹ کر نہیں آتا ۔

اس لئے قرآن مجید اور قرآن کے حافظ کو الراحل المرتحل کہا گیا ہے کہ حافظ قرآن ایسا مسافر ہے جس کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کی روشنی میں اپنے دور خلافت میں اس چیز کو حافظ کے لئے لازم کیا کہ رمضان میں ختم قرآن کے دن انیسویں رکعت میں قرآن مکمل کرلے اور بیسویں رکعت میں الحمد للہ اور سورہ بقرہ میں اولئک ھم المفلحون تک پڑھ کر بیسویں رکعت مکمل کرے ۔ تاکہ اس حدیث کے مقتضی پر عمل ہوسکے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حافظ قرآن کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے اور بہت سے امور میں ان کو فوقیت اور ترجیح دیتے تھے اور جن کو قرآن زیادہ یاد ہوتا سفر میں اور گاؤں اور قبیلہ کی مسجد میں ان کو امامت کے لئے متعین کرتے تھے ۔ بلکہ بہت سے موقع پر فوج کی قیادت کے لئے بھی زیادہ قرآن مجید یاد رکھنے والے کو آپ نے قائد اور امیر فوج بنایا ۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم میں سب سے زیادہ قرآن مجید کس کو یاد ہے تو سب نے تفصیلات بتائیں ۔ ایک صحابی نے جب یہ کہا کہ مجھے سورہ بقرہ اور فلاں فلاں فلاں سورہ حفظ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہی اس فوج کا امیر مقرر فرمایا ۔ ایک صحابی نے اپنے والد سے روایت کردہ اس واقعہ کو بیان کیا کہ میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میرے قبیلے کے لوگ مسلمان ہوئے اور اسلامی احکام و مسائل سیکھنے کے لئے قبیلے کا ایک وفد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ روانہ ہوا جس میں میں بھی شامل تھا کچھ دنوں کے بعد جب وفد کی واپسی ہوئی تو اس موقع پر میں نے سوال کیا کہ اللہ کے رسول! ہم میں سے امامت کا فریضہ کون انجام دے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کو قرآن زیادہ حفظ ہوگا چنانچہ اس وفد میں سب سے زیادہ سورتیں مجھ ہی کو یاد تھیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہی امامت کے لئے مکلف بنایا اور مجھے ہی اس کا اہل قرار دیا ۔

ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان قریش کی امامت کیا کرتے تھے اور ان کے پیچھے عبد الرحمن بن ابی بکر بھی ہوتے تھے یہ محض اس لئے کہ وہ سب سے زیادہ قرآن مجید جانتے تھے ۔ (ابن سعد) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جس وقت اہل دیوان کا حصہ مقرر کیا تو جس طرح نیکیوں میں اور اسلام لانے میں سبقت کرنے والے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کرنے والوں کو حصہ دئے جانے میں ترجیح دی جاتی تھی اس طرح انہوں نے قرآت قرآن کے اعتبار سے بھی فضیلت دی تھی یعنی جن لوگوں کو قرآن زیادہ یاد تھا ان کے حصے اوروں سے زیادہ مقرر کئے گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں حفاظ کرام کے لئے باضابطہ وظائف بھی جاری فرمائے تھے ۔( ابن سعد) بحوالہ سہ ماہی زبان خلق ) نوٹ اس مضمون میں بعض ضعیف احادیث کا ذکر ہوا ہے جو فضائل کے باب میں چل سکتے ہیں۔
اس پروگرام 
حضرت مولانا عبد اللہ سالم قمر چترویدی صاحب قاسمی 
حضرت مولانا عبد السلام عادل صاحب ندوی 
اور بہت سے اکابرین موجود تھے 
(مضمون نگار قاری عابد راہی صاحب 

جمعرات, جون 05, 2025

ایک تکبیر جو مکمل تقریر ہے!

ایک تکبیر جو مکمل تقریر ہے!                  
Urduduniyanews72
آج ماہ ذی الحج کی نویں تاریخ ہے، فجر کی نماز کے بعد ایک عمل کا اضافہ ہوگیاہےجوآئندہ ۲۳/نمازوں تک جاری و ساری رہے گا۔ ۹/ذی الحج کی فجر سے ۱۳/ذی الحج کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد با اواز بلند امام مقتدی سبھی تکبیر تشریق پڑھیں گے، :اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد"یہ تکبیر کہنا ہر فرض نماز کے بعد واجب ہے۔ تشریق کے معنی عربی زبان میں گوشت کے پارچے بنا کر ان کو دھوپ میں سکھانا ہے، ابن منظور نے معروف عربی لغت :لسان العرب" میں کہا ہے "التشریق:کا معنی گوشت سکھانا ہے، اسی واسطے ان دنوں کو ایام تشریق کہا جاتا ہے۔
 ایک سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ تکبیر کا تشریق سے کیا ربط و تعلق ہے اور کیوں دونوں کو ملا کر ایک ساتھ بطور نام کےبولا جاتا ہے؟ اس گرہ کو کھولنے کے لیے پہلے تکبیر تشریق کا مطالعہ ضروری ہے، بظاہر یہ ایک تکبیر ہےجبکہ درحقیقت یہ ایک مکمل تقریر ہے۔یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے،  قربانی کرنے والے ہی کو نہیں بلکہ ہر ایمان والے کے لیے اس میں بڑی نصیحت وصیت کا سامان ہے۔ فقہ حنفی کی مستند کتاب "البحر الرائق" میں تفصیل سے اس عنوان پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب خواب میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم ہوا ہے تو حکم خداوندی پرآپ اپنا سرتسلیم خم کر دیتے ہیں، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو خدا کی راہ میں قربان کر دینے کے لیے زمین پر لٹا دیتے ہیں، چھری تیز کر لیتے ہیں، اور ذبح کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت جبرئیل علیہ السلام جو جنت سے مینڈھا لے کر حکم خداوندی سے یہاں تشریف لارہے تھے، دراصل اسی مینڈھے کو ان کی جگہ پہ ذبح ہونا ہے۔ دور سے دیکھ کر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ کہیں اسماعیل علیہ السلام ذبح نہ ہوجائیں، چنانچہ زور سے بآواز بلند حضرت ابراہیم علیہ السلام کو متنبہ کرنے کے لیے" اللہ اکبر اللہ اکبر" کے کلمات کہتے ہیں۔اور یہ باور کراتے ہیں کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ حضرت اسماعیل کو خدا کی راہ میں ذبح کر رہے ہیں، اللہ توان چیزوں سے مستغنی ہے،وہ بہت بڑا ہے، حضرت اسماعیل کی قربانی نہیں بلکہ آپ کا امتحان لینا چاہتا ہے،  اپ کو اس امتحان میں کامیابی نصیب ہو چکی ہے، اب تورک جائیے، یہ دیکھیے میرے ساتھ جنت کا یہ مینڈھا ہے،  اسے ذبح ہونا ہے۔
 حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے جب دیکھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں، ان کے ساتھ جنتی مینڈھا بھی ہے،حکم خداوندی یہ ہے کہ اسے اسماعیل کی جگہ قربان کرنا ہے، تو فرمانے لگے کہ "لا الہ الا اللہ واللہ اکبر" خدا کی ذات کے علاوہ کوئی قابل اطاعت و عبادت نہیں ہے، وہ بہت بڑا ہے ،اور بڑی شان والا ہے، جب اس کا حکم ہوا کہ بیٹے کی قربانی کرنی ہے، میں نے سر تسلیم خم کیا، اور اب حکم ہے کہ نہیں کرنی ہے، میں نے اس کی اطاعت قبول کر لی ہے، اس کی بڑائی کا خیال کرتے ہوئے اپنے اپ کو اس عمل سے روک لیا ہے۔
 حضرت اسماعیل علیہ السلام زمین پر لیٹے یہ سب کچھ سن رہے تھے،جب انہیں اس بات کا علم ہو گیا کہ معاملہ کچھ اور ہونے جا رہا ہے، حضرت جبرئیل علیہ السلام اگئے ہیں، خدائی حکم اور فدیہ میں جنت کا مینڈھا لائے ہیں، تو شکرانے کے طور پر یہ کلمہ زبان سے جاری ہوگیا :اللہ اکبر وللہ الحمد "اللہ بہت بڑا ہے،وہ بندے کے اخلاص کو قبول کرتا ہے، نیز فوری مدد نازل فرما دیتا ہے، جیسا کہ یہاں پیش ایا ہے، میری قربانی ہونی تھی ، بحمداللہ مجھے محفوظ ومامون رکھا گیا ہے، تمام تعریف اس خدائے وحدہ لا شریک لہ کی ہے۔
 اہل عرب ان دنوں کو قربانی کے گوشت سکھانے کے دن کہتے تھے، مذہب اسلام نے ایام تشریق کو گوشت سکھانے نہیں بلکہ حضرت ابراہیم اسماعیل علیہ السلام کی قربانیوں کو تازہ کرنے اور یاد دلانے کا ذریعہ بنادیا ہے، دراصل تکبیر تشریق کایہی مقصد ہے۔ شریعت اسلامیہ نے جہاں بھی مادیت کا شائبہ محسوس کیا ہے وہاں ایمان والوں کی سمت روحانیت کی طرف مبذول کر دی ہے، حج میں بھی تلبیہ و دعا کے ذریعے یہ چاہا گیا ہے اور قربانی کے ایام میں بھی یہی منشاخداوندی ہےکہ بندہ اپنے اندر اس حقیقی قربانی کی یاد تازہ کرے، اور اپنی زندگی میں اسے جاری و ساری رکھے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان نکات کو ہم کھول کھول کر عوام الناس کے سامنے رکھ دیں،دین کا صحیح فہم نہیں ہونے کی وجہ کر آج پھر مقصد قربانی نہیں بلکہ گوشت بن گیا ہے،اللہ ہمیں قربانی کی روح کو قربانی کے عمل کے ذریعہ اور تکبیر تشریق کے ذریعہ تازہ کرنے کی سعادت نصیب کرے، آمین 
مفتی ہمایوں اقبال ندوی 
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 
۸/ذی الحج ۱۴۴۶ھ بروز جمعرات

عید الاضحٰی کا پیغام

عید الاضحٰی کا پیغام 
مضمون نگار: محمد ضیاء العظیم 
معلم چک غلام الدین ہائی اسکول ،ویشالی بہار ۔
موبائل نمبر :7909098319 
Urduduniyanew72
قربانی تقرب الی اللہ کا اہم ذریعہ اور وسیلہ ہے، قربانی در اصل راہ خدا میں جانور کو قربان کرنے کا نام ہے، اور یہ وہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ  تعالیٰ کاقرب اور اس کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے۔ انسان کی تخلیق پر جب ہم غور وخوض کرتے ہیں تو اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ قربانی کا وجود اور ثبوت انسانوں کی تخلیقات کے ساتھ ساتھ ہے، قرآن   مجید میں  حضرت آدم  کے  دو بیٹوں کی قربانی  کا  واقعہ موجود ہے۔اور قربانی جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی عظیم ترین سنت ہے  یہ عمل اللہ تعالیٰ  کواتنا پسند آیا  کہ اس   عمل کوقیامت تک کے مسلمانوں کے لئے  عظیم سنت قرار  دیا ۔ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔قرآن مجید میں صراحتاً سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اور ان کے واقعات کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی ایک سورہ ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے نام سے موسوم ہے ۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ایک ایسے ماحول میں اپنی آنکھیں کھولی جو شرک، بت پرستی اور خرافات میں غرق، اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی کفر و شرک، بت پرستی اور خرافات کا مسکن وملجا تھا ۔
ابراہیم علیہ السلام کے احساسات وجذبات میں رب العزت کی محبت پیوست تھی، وہ رب کی تلاش و جستجو میں کوشاں رہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کے ایک واقعہ کو قرآن مجید نے بڑے خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام چاند ستارے سورج میں رب کو تلاش کر رہے تھے، لیکن ان تمام چیزوں کو نکلتے اور ڈوبتے دیکھا تو سمجھ گئے کہ رب کی ذات اقدس وہ ہے جو کبھی ڈوب نہیں سکتی، کوئی طاقت اسے عاجز نہیں کرسکتی، وہ رب تنہا، یکتا، اور طاقتور ہے۔ جسے نہ نیند آسکتی ہے، نہ اونگھ، 
سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر جب بت اور پرستی کی حقیقت کا انکشاف ہوا،  اس کا باطل ہونا طے ہوا، اور اللہ کی وحدانیت کا آشکار ہوا تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو دعوت اسلام دی،  اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کر کے اسے لاجواب کردیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کو ابراہیم علیہ السلام کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی کا سامان بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے، اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کامیاب کیا، اور سرخروئی عطا کی ۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دل اللہ رب العزت کی محبت سے لبریز تھا، اور اللہ رب العزت کی ذات بھی آپ سے بے پناہ محبت کرتی ہے،  یہی وجہ ہے کہ آپ کے کردار عمل کو اللہ رب العزت نے قرآن عظیم میں نقل کرکے انسانوں کے لئے ایک نمونہ بنا دیا، عید الاضحٰی رب العزت کی محبت و اطاعت اور اس کے محبوب بندے کی محبت کی داستان ہے ۔
عید الاضحٰی سنت ابراہیمی ہے، یہ ہمیں محبت، اخوت، بھائی چارگی، ایثار وقربانی، وجذبہء ایمانی کا درس دیتا ہے، اس کی تاریخ در اصل ایک عظیم تاریخ ہے، اور وہ یہ کہ ایک عظیم اور بوڑھا باپ حکم خداوندی پر اپنے پیارے، لاڈلے، چہیتے،جگر کا پارہ، ہر دل عزیز، فرزند کے حلق پر چھری چلا رہا ہے، قربانی اس قوت ایمانی کا نام ہے جس میں بندہ اپنے رب کے سامنے اپنی اطاعت وبندگی کا اظہار اس طرح کرتا ہے کہ،، 
 اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۞
 میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
(سورہ انعام آیت 162) 
یقیناً  ہماری عبادت وریاضت، ہماری بندگی، ہماری زندگی وموت، یہ سب محض آپ کی رضاو خوشنودی کے لئے ہے، ہم خالص آپ کے بندے ہیں، اور آپ کی ہی بندگی کرتے ہیں، ہمارا غم، ہماری خوشی، ہماری زندگی یہ سب محض آپ کی رضا کے لئے ہے، قربانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہم خالص اللہ کے بندے بن کر رہیں، اور وقت پڑنے پر اپنی جان ومال کی قربانی پیش کرنے میں ذرہ برابر  بھی کوئی ہچکچاہٹ ہمیں محسوس نہ ہونے پائے ،یاد کریں اس وقت کو جبکہ ایک عظیم باپ نے اپنے عظیم بیٹے سے دریافت کی کہ  
يٰبُنَىَّ اِنِّىۡۤ اَرٰى فِى الۡمَنَامِ اَنِّىۡۤ اَذۡبَحُكَ فَانْظُرۡ مَاذَا تَرٰى‌ؕ قَالَ يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ‌ سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيۡنَ ۞
اے میرے بیٹے ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تم کو ذبح کررہا ہوں ‘ اب تم سوچ کر بتائو تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس (بیٹے) نے کہا اے ابان جان ! آپ وہی کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ‘ آپ انشاء اللہ ! مجھے عنقریب صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
(سورہ الصافات آیت 102)

  یقیناً رب العالمین تم سے تمہاری قربانی کا تقاضہ کر رہے ہیں ، تمہاری اس سلسلے میں کیا رائے ہے، باپ کے عظیم بیٹے نے بہترین جواب دیا کہ آپ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہ کریں، ان شاء اللہ آپ ہمیں صابر وشاکر میں پائیں گے، اس جواب نے پوری کائنات کو حیران و ششدر کرکے سکتے میں ڈال دیا۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام  ضعیفی میں تھے، اپنی اس اولاد سے بے پناہ محبت تھی، لیکن اس محبت کو اللہ کی اطاعت وبندگی پر ترجیح نہیں دی، 
سیدنا ابراہیم واسمٰعیل علیھما السلام نے اللہ کے اس حکم کے بعد فوراً اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا، کسی طرح کی تاویلات نہیں پیش کی کہ اللہ کا کوئی دوسرا منشا ہے، آپ کے اس کردار عمل نے پوری انسانیت کو جھنجھوڑتے ہوئے شعور بندگی سکھایا، اور یہ درس دیا کہ جب حکم خداوندی آجائے تو پھر کیوں، کس لئے، کب، کس طرح، ان باتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور عشق کا بھی یہی تقاضا ہے کہ حکم ملے سر تسلیم خم ہوجاؤ، مسلمان بھی اسی کا نام ہے کہ رب کائنات کے سامنے سر تسلیم خم ہوجائے،قربانی صرف جانور کی گردن پر چھری چلانے کا نام نہیں ہے، بلکہ قربانی کے ذریعہ انسان کے اندر زہدوتقوی اور خشئت الہی پیدا ہوتا ہے، کیوں کہ صرف جانور کے گردن پر چھری نہیں چلتی بلکہ قربانی میں اپنی انا، گھمنڈ، تکبر ،فخر، ریا کاری، سب کو قربان کرکے خالص اللہ کا بندہ بن کر زندگی گزارنے کا بندہ عزم کرتا ہے،سیدنا ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کا یہ پورا واقعہ جو درحقیقت قربانی کے عمل کی بنیاد ہے روز اول سے امت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ تمہارے دلوں میں یہ احساس یہ علم یہ  معرفت اور یہ فکر پیدا ہوجائے کہ احکامات خداوندی ہر چیز پر مقدم ہے۔تمہاری تمام تر کامیابیوں کے راز اسی میں پنہاں ہیں کہ تم اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردو چاہے تمہاری عقل قبول کرے نہ کرے، تمہارے سماج کے خلاف معلوم ہو رہا ہو، تمہاری طبیعت اس کو پورا کرنے میں بوجھ محسوس کر رہی ہو۔
قربانی کا سارا فلسفہ یہی ہے اس لئے کہ قربانی کے معنی ہیں"اللہ کا تقرب حاصل کرنا ہے" لفظ" قربانی" قربان سے نکلا ہے اور لفظ "قربان" قرب سے بنا ہے یہ قربانی جہاں فی نفسہ ایک عظیم عبادت وبندگی اور شعاراسلام ہے وہیں یہ قربانی امت مسلمہ کو عظیم الشان سبق بھی دیتا ہے کہ یہ امت اپنے آپ کو کامل مسلمان بنائے سراسر اتباع اور اطاعت کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرے اور زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کی صحیح اور حقیقی روح "جذبہ اتباع" کے ساتھ جینے کا سلیقہ سیکھ لے۔قربانی کی حقیقت اور اس کے پیچھے اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ دل میں جس چیز کی محبت اور طلب ہو وہی اللہ کی خاطر قربان کر دی جائے لیکن انسان تو صرف اپنی نفسانی خواہشات کی طلب اور اپنے خوابوں کی تکمیل میں دن رات کمربستہ رہتا ہے۔ وہ یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیا ہے، وہ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ انسان سوچتا ہے تو محض یہ کہ وہ اپنے خواب کیسے پورے کرے، اپنی خواہشات کیسے حاصل کرے، مال و دولت کیسے کمائے، معاشرے میں مقام و مرتبہ کیسے بنائے۔ نہیں سوچتا تو بس یہ کہ اللہ کا قرب کیسے حاصل کیا جائے، گناہوں سے کیسے بچا جائے، اپنے نفس کی اصلاح کیسے کی جائے۔ وہ اپنی آرزوؤں کو پورا کرنے کے لیے ہر شے قربان کر دیتا ہے اگر قربانی نہیں دیتا تو محض اپنے نفس کی کیونکہ وہ اپنے نفس کی تسکین کی خاطر تو یہ سب کچھ کر رہا ہوتا ہے۔لیکن انسان تب تک خیر نہیں پا سکتا جب تک اپنے نفس کی قربانی نہیں دیتا، قربانی کا اصل تقاضا اور اس کا اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ جس چیز سے تمہیں سب سے زیادہ محبت وانسیت اور لگاؤ ہے تمہارے دل میں اس چیز کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حوصلہ اور جذبہ ہمہ وقت رہے، کیوں کہ اس وقت تک  بندے کی بندگی مقبول نہیں جب تک وہ اپنی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب اللہ اور اس کی نازل کردہ احکامات کو سمجھے، اور اس پر چلتا رہے، قربانی بھی اسی بندگی کی ایک کڑی ہے، اللہ ہم سب عید قرباں کے صحیح معانی ومفاہم سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

اردودنیانیوز۷۲

*سنگارپور کا روحانی رمضان

*سنگارپور کا روحانی رمضان* ✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804      میرے گاؤں کا نام سنگارپور ہے۔ دیہات کی سادہ مگر پُروقار فضا میں بس...