Powered By Blogger

منگل, اگست 02, 2022

کیرالہ:کینسر متاثرہ حنا کے لیے مندر ومسجد نے اکٹھا کیا فنڈ

کیرالہ:کینسر متاثرہ حنا کے لیے مندر ومسجد نے اکٹھا کیا فنڈ


اردودنیانیوز۷۲کوزی کوڈ

جہاں ملک کے اندر غیر سماجی عناصرملک کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں ہمارے ملک میں مذہبی ہم آہنگی، اتحاد اور خیر سگالی کا منظر کشمیر سے کنیاکماری تک دیکھنے کو ملتا ہے۔ اییسی ہی ایک مثال ریاست کیرالہ سے سامنےآرہی ہےجب کہ کینسرمتاثرہ ایک مسلم لڑکی حنا کےعلاج کے لیے مندر اور مسجد نے فنڈز جمع کئے۔

ریاست کیرالہ میں مذہبی ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال دیکھنے کو ملی ہے۔ ملاپورم ضلع کے کوٹکل میں دو مندر کمیٹیوں نے ایک 18 سالہ مسلم لڑکی حنا کےعلاج کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی کوششوں میں مسجد کمیٹی کی مدد فراہم کی۔

جب کہ کٹی پورتھوک بھگوتی مندرکمیٹی نے50,000 روپےسےزیادہ رقم دیا۔نرسمہامورتی مندرکمیٹی نے کینسر متاثرہ مسلم لڑکی حنا کی مدد کے لیے الوککل جامع مسجد کو27000 روپے فراہم کئے۔مسجدکمیٹی نےاب تک کوٹکل کےرہائشیوں کے لیے1.5 کروڑ روپے سےزیادہ رقم اکٹھی کی ہے جو کوزی کوڈ کے ایک نجی اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

مندرکمیٹی کےارکان کٹی پورتھوک بھاگوتی نے بھی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی برادری کے ارکان کو حنا کی مدد کے لیے فنڈز جمع کرنے میں مسجد کمیٹی کی حمایت کی ہے۔ مندرکمیٹی کے سکریٹری اجیت کمار نے کہا کےہمیں خوشی ہے کہ ہم مسجد کمیٹی والوں کےلی یہ رقم جمع کر پائے ہیں۔

یہ اچھی بات ہے کہ دو برادریوں کے لوگ مختلف سرگرمیوں میں متحد ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلاواقعہ نہیں ہے جہاں کٹی پورتھوک بھگوتی مندر کمیٹی نے اس طرح کے کاموں کے لیے فنڈز جمع کئے ہو۔

مندرکے ذمہ دارنےکہا کہ اس کے علاوہ جب مندر کی تزئین کاری کے دوران مسجدکمیٹی کے ذمہ داران نے ہماری مدد کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں۔ہم لوگ مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے میں فرق نہیں کرتے۔

مسجد کمیٹی کےارکان نے کہا کہ یہ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم صدیوں سے خیر سگالی کا منظر پیش کرتے رہے ہیں۔ ہماری برادری کےافراد مندرمیں منعقد ہونی تقریبات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔

مسجد کمیٹی کےایک رکن نے کہا کہ سب لوگوں کےتعاون سے کینسرمتاثرہ حنا کے علاج کے لیے ایک بڑی رقم اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

مندر کمیٹی کے صدرکٹی پورتھوک بھگوتی کے ایم ایس بھٹا تھرپیڈ نے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے بنائی گئی دیکھ بھال کی کمیٹی کے اراکین کو رقم حوالے کی۔ اس موقع پر خزانچی بہولیان اور نائب صدر اروموکھن بھی موجود تھے۔

کنگارو کورٹ ___مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھند=========================ے

کنگارو کورٹ ___
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھند
=========================
(اردو دنیانیوز۷۲)
 چیف جسٹس این  وی رمنا نے الیکٹرونک میڈیا کے ذریعہ اہم اور حساس موضوعات پر میڈیا ٹرائل کو کنگارو کورٹ سے تعبیر کیا ہے، جوڈیشیل اکیڈمی رانچی میں نیشنل یونیورسیٹی آف اسٹدی اینڈ ریسرچ ان لا (این ، یو ، ایس، آر ایل) کے تحت منعقد ’’ججز کی زندگی‘‘ کے موضوع پر ایک پروگرام میں ان کا درد وکرب چھلک کر باہر آگیا، انہوں نے کہا کہ میڈیا ٹرائل کی وجہ سے تجربہ کار ججوں کو بھی فیصلہ کرنے میں دشواری پیش آتی ہے، میڈیا کے اس عمل سے ہماری جمہوریت دو قدم پیچھے چلی جا رہی ہے، انصاف کی فراہمی سے متعلق مسائل پر غلط اور ایجنڈے پر مبنی مباحثے جمہوریت کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کسی حد تک ذمہ دار ہے، لیکن الکٹرونک اور سوشل میڈیا  بے لگام ہے، جس کی اس کو قطعا اجازت نہیں ملنی چاہیے، کثیر تعداد میں مقدمات کے التوا ہونے کی وجہ انہوں نے عدالتی آسامیوں کو پُر نہ کرنا اور عدالتی ڈھانچوں کو بہتر نہیں بنانا قرار دیا۔
کنگارو ایک جانور ہے، جس کے پیٹ کے باہری حصہ میں ایک تھیلی ہوتی ہے، کنگارو کا بچہ اسی تھیلے میں پل کر  بڑا ہوتا ہے، یہ چھوٹا بچہ جس طرح کنگارو کے تھیلے کو استعمال کرتا ہے، میڈیا اسی طرح ٹرائل کرکے اپنے تھیلے میں موجود چھوٹی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑا کرکے سماج کے سامنے پیش کرتا ہے، جس سے مقدمات کے سلسلے میں رائے عامہ غلط رخ کی طرف چلی جاتی ہے،ا ور جج صاحبان بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے، وہ معاملات وواقعات کی صحت وصداقت کے سلسلہ میں کنفیوز اور مشکوک ہوجاتے ہیں ، جس کی وجہ سے انہیں فیصلہ کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، میڈیا کا یہ عمل انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، اس پر پابندی لگانے کے لیے سرکار کو پارلیامنٹ میں کوئی نیا بل لانا چاہیے، اظہار رائے کی آزادی کا مطلب قطعا یہ نہیں ہے کہ آپ فیک نیوز اور جھوٹی بحثیں کراکر انصاف کے عمل کو متاثر کریں ، میڈیا کا یہ طریقہ کار اس قدر جھوٹ اور فریب پر مبنی ہوتا ہے کہ بقول فیض :
وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہیں وہ بات ان کو بہت ناگوار گذری ہے

کنگارو کورٹ ___مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھند

کنگارو کورٹ ___
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھند
=========================
(اردو دینانیوز۷۲)
 چیف جسٹس این  وی رمنا نے الیکٹرونک میڈیا کے ذریعہ اہم اور حساس موضوعات پر میڈیا ٹرائل کو کنگارو کورٹ سے تعبیر کیا ہے، جوڈیشیل اکیڈمی رانچی میں نیشنل یونیورسیٹی آف اسٹدی اینڈ ریسرچ ان لا (این ، یو ، ایس، آر ایل) کے تحت منعقد ’’ججز کی زندگی‘‘ کے موضوع پر ایک پروگرام میں ان کا درد وکرب چھلک کر باہر آگیا، انہوں نے کہا کہ میڈیا ٹرائل کی وجہ سے تجربہ کار ججوں کو بھی فیصلہ کرنے میں دشواری پیش آتی ہے، میڈیا کے اس عمل سے ہماری جمہوریت دو قدم پیچھے چلی جا رہی ہے، انصاف کی فراہمی سے متعلق مسائل پر غلط اور ایجنڈے پر مبنی مباحثے جمہوریت کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کسی حد تک ذمہ دار ہے، لیکن الکٹرونک اور سوشل میڈیا  بے لگام ہے، جس کی اس کو قطعا اجازت نہیں ملنی چاہیے، کثیر تعداد میں مقدمات کے التوا ہونے کی وجہ انہوں نے عدالتی آسامیوں کو پُر نہ کرنا اور عدالتی ڈھانچوں کو بہتر نہیں بنانا قرار دیا۔
کنگارو ایک جانور ہے، جس کے پیٹ کے باہری حصہ میں ایک تھیلی ہوتی ہے، کنگارو کا بچہ اسی تھیلے میں پل کر  بڑا ہوتا ہے، یہ چھوٹا بچہ جس طرح کنگارو کے تھیلے کو استعمال کرتا ہے، میڈیا اسی طرح ٹرائل کرکے اپنے تھیلے میں موجود چھوٹی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑا کرکے سماج کے سامنے پیش کرتا ہے، جس سے مقدمات کے سلسلے میں رائے عامہ غلط رخ کی طرف چلی جاتی ہے،ا ور جج صاحبان بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے، وہ معاملات وواقعات کی صحت وصداقت کے سلسلہ میں کنفیوز اور مشکوک ہوجاتے ہیں ، جس کی وجہ سے انہیں فیصلہ کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، میڈیا کا یہ عمل انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، اس پر پابندی لگانے کے لیے سرکار کو پارلیامنٹ میں کوئی نیا بل لانا چاہیے، اظہار رائے کی آزادی کا مطلب قطعا یہ نہیں ہے کہ آپ فیک نیوز اور جھوٹی بحثیں کراکر انصاف کے عمل کو متاثر کریں ، میڈیا کا یہ طریقہ کار اس قدر جھوٹ اور فریب پر مبنی ہوتا ہے کہ بقول فیض :
وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہیں وہ بات ان کو بہت ناگوار گذری ہے

سعو دی عرب : عدالت نے لڑکی کو مرضی سے شادی کا اختیار دیا

سعو دی عرب : عدالت نے لڑکی کو مرضی سے شادی کا اختیار دیا


(ریاض اردو دنیا نیوز ۷۲)

ریاض : سعودی عرب کے صوبے قصیم کے شہرعنیزہ کی ایک لڑکی کو قصیم اپیل کورٹ نے اپنی مرضی سے شادی کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ عنیزہ شہر کی لڑکی کا مسئلہ اس وقت خبروں کی زینت بنا جب پرائمری کورٹ نے اس کی شادی کا اختیار عدالت سے رجوع کرنے کے باوجود اس کے بھائیوں کے پاس برقرار رکھا۔ لڑکی کے بھائی اس کی شادی میں مختلف حیلوں بہانوں سے رکاوٹیں ڈال رہے تھے۔

اپیل کورٹ نے اس مسئلے کو نمٹاتے ہوئے واضح کیا کہ پرائمری کورٹ کا فیصلہ خلاف قانون اور خلاف شرع تھا۔ لڑکی کا دعویٰ تھا کہ 'بھائی جان بوجھ کر شادی کے لیے آنے والے لڑکے میں کوئی نہ کوئی خامی نکال کر رشتہ مسترد کردیتے ہیں۔ آخری بار ایک ایسے لڑکے کا رشتہ یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ وہ گٹار بجاتا ہے اور دینی اعتبار سے ہماری بہن کے لیے موزوں نہیں۔ رشتہ قبول نہ کرنے کا ایک سبب بھائیوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ ہمارے خاندان کے ہم پلہ نہیں۔

اپیل کورٹ نے بھائیوں کی جانب سے پیش کردہ یہ اعتراضات مسترد کردیے اوربھائیوں سے بہن کی شادی کا اختیار سلب کرتے ہوئے کہا کہ یہ خاتون اپنی مرضی سے شادی کرسکتی ہے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب میں بیٹیوں اور بہنوں کو شادی سے روکنے کا رواج ہے۔ اسے ' العضل یا الحجر' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بیٹی یا بہن کو خاندانی جائیداد باہر جانے سے روکنے یا خاندان کے کسی فرد سے بیٹی یا بہن کو منسوب کرنے کے لیے یہ طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...