Powered By Blogger

پیر, جولائی 17, 2023

شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی کا خبر نامہ ڈاکٹر ریحان غنی

شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی کا خبر نامہ 
اردودنیانیوز۷۲ 

ڈاکٹر ریحان غنی 

ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی جب سے پٹنہ یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو ہوئے ہیں شعبہ کی ادبی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا ہے.وہ کچھ نہ کچھ کرتے ہی رہتے ہیں. انہوں نے" اردو جرنل" کے ساتھ ہی "خبر نامہ" کی بھی اشاعت شروع کی ہے. تازہ ترین "خبر نامہ" (جنوری - دسمبر 2022، جلد 3)اس وقت میرے ہاتھ میں ہے. پٹنہ یونی ورسیٹی کے شعبہ اردو سے خبر نامے کی اشاعت کا سلسلہ بھی غالباً ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے ہی شروع کیاہے. "نیوز لیٹر" یا "خبر نامے" کی اشاعت کسی ادارے کے سرگرم ہونے کی پہچان ہے. کیونکہ اس سے متعلقہ ادارے کی جملہ سرگرمیوں سے لوگوں کو بہت حد تک واقفیت ہو جاتی ہے.اس کی اشاعت بالکل آسان ہے. کیونکہ اسے شائع کرنے کے لئے کسی رسالے کی طرح رجسٹرار آف نیوز پیپر آف انڈیا ( آر این آئی) سے اجازت لینے یارجسٹریشن کرانے کی ضرورت نہیں ہوتی. میں چونکہ اس شعبہ کا طالب علم رہا ہوں اور جب اس شعبے کے تحت اردو صحافت اور ابلاغ عامہ کا کورس شروع ہوا تھا تو مجھے بھی کچھ دنوں تک اس میں کلاس لینے کا موقع ملا تھا، اس لئے مجھے اس شعبے سے قلبی لگاؤ ہے. یہی وجہ ہے کہ جب اس شعبے میں کوئی علمی کام ہوتا ہے تو مجھے اس سے دلی خوشی ہوتی ہے. زیر نظر خبر نامہ دیکھ کر مجھے اس لئے بھی خوشی ہوئی کہ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کو اللہ تعالیٰ نے اس شعبے سے تعلق رکھنے والی عظیم المرتبت شخصیتوں کی روایت کو کس نہ کسی شکل میں پروان چڑھانے اور آگے بڑھانے کا موقع دیا. چار صفحات پر مشتمل اس خوبصورت اور دیدہ زیب خبر نامے کے سرپرست یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر گریش کمار چودھری اور چیف ایڈیٹر ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی ہیں.ڈاکٹر سورج دیو سنگھ اس کے ایسو سی ایٹ ایڈیٹر اور ڈاکٹر محمد ضمیر رضا، ڈاکٹر عشرت صبوحی اور ڈاکٹر شبنم اس کی اسسٹنٹ ایڈیٹر ہیں. یہ سب کے سب ایسے اساتذہ ہیں جن سے اردو زبان وادب نے اچھی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں. خبر نامے کے اداریہ میں ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے اپنے کئی عزائم کا ذکر کیا ہے جن میں شاد عظیم آبادی پر اردو جرنل کا خصوصی نمبر، اگست میں ان پر قومی سمینار اور شعبہ کے ویب سائٹ کے قیام کا منصوبہ خاص طور پر شامل ہے. اس شمارے میں تصاویر اور اخبارات کے تراشے کے ساتھ شعبے کی ان تمام پروگرام کا بھی احاطہ کیا گیا ہے جو ماضی میں شعبے میں منعقد کئے گئے. اس شمارے میں اس شعبے سےتعلق رکھنے والے ان طلبا اور طالبات کی فہرست بھی دی گئی ہے جو یو جی سی نیٹ میں کامیاب ہوئے اور جو مقابلہ جاتی امتحان میں کامیاب ہو کر اردو ڈائریکٹوریٹ (محکمہ کابینہ سکریٹریٹ ،حکومت بہار )کے ماتحت مترجم کے عہدے پر فائز ہوئے. اس کے علاوہ اس میں اس شعبے میں مختلف موضوعات پر تحقیق کرنے والے طلبا و طالبات کے ذکر کے ساتھ ہی "سرود رفتہ" کے تحت علامہ جمیل مظاہری اور "نوائے امروز " کے تحت عالم خورشید کی غزل بھی شامل کی گئی ہے. اس طرح ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے خبر نامے کو خوب سے خوب تر بنانے کی کوشش کی ہے.میں آخر میں ایک بات کا خاص طور پر ذکرِ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ کسی زمانے میں شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی ، پٹنہ کالج کی ایک بزم،" بزم ادب" ہوا کرتی تھی جو اپنے زمانے میں بہت فعال تھی. ہرسال اس کا اسٹوڈنٹس یونین کی طرح باضابطہ الیکشن ہوا کرتا تھا، انتخابی مہم چلائی جاتی تھی.اس کے صدر، شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو ہوا کرتے تھے. غالباً ستر کی دہائی میں میرے چھوٹے چچا رضوان غنی اصلاحی جب اس کے سکریٹری منتخب ہوئے تھے تو انہوں ایک شاندار آل انڈیا مشاعرہ کرایا تھا جس میں ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد جیسے کئی بڑے شاعر شریک ہوئے تھے. اس کے بعد شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی میں ایسا مشاعرہ نہیں ہو سکا. ضرورت اس بات کی ہے کہ "بزم ادب" کو زندہ کیا جائے.یہ کام ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کو اپنے دور صدارت میں ضرور کرنا چاہیئے. اگر وہ "بزم ادب "کو فعال بنانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ان کا بڑا ادبی کار نامہ ہو گا جسے پٹنہ یونیورسٹی کی تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی..

مجبوری میں نہیں خوشدلی سے ___مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ وجھارکھنڈ

مجبوری میں نہیں خوشدلی سے ___
اردودنیانیوز۷۲ 
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
 نائب ناظم امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ وجھارکھنڈ
دین پر چلنا آسان ہے، اس کے اصول وضوابط آسانیاں پید اکرتے ہیں، اس پر چلنے سے ذہنی سکون ملتا ہے اور تناؤ کی کیفیت سے آدمی باہر آجاتا ہے، دین سے جس قدر دوری ہوگی اسی قدر پریشانیاں پیدا ہوں گی، عمومی احوال کے اعتبار سے دیکھیں تو مسلم سماج کو اس حقیقت کا ادراک نہیں ہے، وہ دین پر چلنا اور اس کے احکام کو مانناا اس وقت پسند کرتا ہے جب معاملہ اختیار کا باقی نہ رہے، اور حالات اضطرار کے پیدا ہوجائیں۔
 اس کو مثالوں سے سمجھنا ہو تو جان لیجئے کہ میت کی تدفین میں جلدی کرنے کا حکم ہے، ہم ایسا نہیں کرتے چوبیس گھنٹے روک لینا تو عام سی بات ہے کبھی دوچار دن بھی روک لیا جاتا ہے، اس وقت جب شریعت پر عمل کرنا اختیاری ہوتا ہے، لیکن اگر خدانخواستہ کسی نے خود کشی کرلی، تو حالت اضطرار میں فوری تدفین کا خیال آتا ہے، تاکہ تھانہ پولیس کے جھنجھٹ سے بچا جا سکے،کاش یہ خیال عام موت کی شکل میں بھی آتا اور تدفین میں جلدی کرلی جاتی،اور یہ خیال رکھا جاتا  کہ میت اگر نیک ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے جلد قبر میں جا کر بہرہ ور ہونے لگے اورخدانخواستہ بد ہے توزمین اس کے وجود سے جلد پاک ہو جائے۔
 یہی حال ہمارا توکل اور قناعت کے سلسلے میں ہے، ہمارے پاس مال ودولت کی کمی ہے، بھوک پیاس سے بے حال ہیں تو توکل اور قناعت کا سبق یاد دلایا جا تا ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شکم مبارک پر پتھر باندھنے کا ذکر آتا ہے، کئی کئی روز کے فاقے اور پوری زندگی شکم سیر نہ ہونے کی بات کہی جاتی ہے،لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر وفاقہ کو اختیار کیاتھا، ان کا معاملہ اضطرار کا نہیں تھا، جب احد پہاڑ سونے کا آپ کے کہنے سے ہو سکتا تھا اس کے با وجود آپ نے الفقر فخری کا اعلان کیا، یقینا آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل اورصحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی زندگی ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے اور ہر حال میں ہے، لیکن ہمیں یہ فرق یا د رکھنا چاہیے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرضی سے اسے اختیار کیا تھا، اور ہم حالت اضطرار میں جب کچھ دستیاب نہیں ہوتا تو ان احوال وواقعات کے ذکر سے دل کو تسلی دیتے ہیں، یقینا آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح زندگی گزار نا پریشان حال لوگوں کے لئے نمونہ ہے اور صبر وشکر، توکل علی اللہ اور اعتمادکا بڑا ذریعہ بھی، لیکن جب ہم آسودہ حال ہوتے ہیں تو ہمارا عمل بالکل دوسرا ہو جاتا ہے، فضول خرچی، لہو ولعب میں ہمارا سر مایہ زیادہ خرچ ہوتا ہے، منکرات اور گناہوں کے کام کی ہمارے یہاں فراوانی ہوجاتی ہے اور ہم شریعت کی روشنی میں خوشی وغمی نہیں مناتے، بلکہ من مانی پر اترآتے ہیں، اسی طرح جب ہم کمزور پڑجاتے ہیں، دشمن سے بدلہ لینے کی سکت ہم میں نہیں ہوتی تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم کادشمنوں کے ساتھ سلوک یاد آتا ہے، اور عفو در گذر کی بات کی جاتی ہے، طائف کی گلیوں میں دشمنوں کو معاف کر دینے کا ذکر کیا جاتا ہے، فتح مکہ کے موقع سے اذہبو انتم الطلقاء (جاؤ تم سب آزاد ہو) کا ورد کیا جاتا ہے، قرآنی آیت   والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس کی تلاوت کی جاتی ہے،یہ سب کچھ  بدلے کی طاقت نہ پاکر کیا جاتا ہے، اگر بد لے کی طاقت موجود ہے تو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش کی جاتی ہے،حالانکہ شریعت کا مطالبہ ہر حال میں دین پر عمل کرنے کا ہے، حالت اختیار میں بھی اور حالت اضطرار میں بھی، بلکہ جولوگ بھی حالت اضطرار کو اختیارمیں بدلنے پر قادر ہوں، انہیں چاہیے کہ ایسا ماحول پیدا کریں کہ اضطرار کی نوبت ہی نہ آئے سب کچھ اختیار می رہے اور قدرت واختیار کے با وجود شریعت پر عمل ہماری زندگی کا لازمہ بن جائے۔

انس مسرورانصاری *دار التحریر* قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن(رجسٹرڈ

* تاج محل*
        اردودنیانیوز۷۲ 
      * انس مسرورانصاری
  تابش روئے حسیں، تا ج محل،شر ح جما ل 
 جیسے شاعر کی غزل جیسے مصور کا خیال

 ہند کو نا ز ہےجس پر و ہ حسیں تا ج محل 
کو ئی تمثیل نہ تیر ی نہ کو ئی تیر ا بد ل
ا ہل د ل کےلیے ا حسا س کی دھڑ کن گو یا
 بو ئےگل،خو ا ب سحر،چا ندکا د ر پن گو یا
 کتنے نا موں سے تجھے یا د کر یں تاج محل
 ا پنےہرعہد کی تا ر یخ میں خو د ا پنا بد ل
 آ ئینہ خا نہء د ل میں تر ی تصو یر یں ہیں
 حسن کے نا م جنوں خیز سی تحریریں ہیں
 قصہءشو ق و طلب،ماجرا ئے ہجر ووصا ل
 جیسےشاعر کی غزل جیسے مصور کا خیال

 ا ک نئے ہند کی تہذ یب و تمد ن کا نشا ں
 کا و ش خو ا ب کی تعبیر کا جا ن عنو ا ں
 ہند کی عظمت ر فتہ کا پتا د یتا ہے
 مر مر یں تا ج ہمیں د ر س و فا د یتا ہے
 ملک سے قوم سےہند و سےمسلماں سے و فا
 یعنی ا نسان کے رشتے سےہرا نساں سے وفا
کوئی بھی غیرنہیں،جوبھی ہیں سب اپنے ہیں 
 ا پنے تہذ یبی تعلق کے سبب ا پنے ہیں
 ر و ئے تہذ یب و تمد ن کو جلا د یتا ہے
 تا ج خو د ا پنی حقیقت کا پتا د یتا ہے
 مظہر عشق و محبت کا د رخشا ں یہ کما ل
 جیسے شاعر کی غز ل جیسےمصور کا خیال

ر ا ت کی آ نکھ سے ٹپکا ہو ا آ نسو جیسے
صبح کےدودھیا آ نچل کی ہےخوشبوجیسے
جس طر ح آ خر شب چا ند کا شفا ف بد ن 
 یا کسی خو ا ب کی تکمیل کا رو شن در پن
جیسے بلو ر کے سا غر میں ہو ا نگو رکا رس
جیسےپھیلی ہوئی خوشبوسی نفس تابہ نفس
کسی کا فر کی جو ا نی، کسی ا لھڑ کا شبا ب
جیسےمحجوب سی آنکھو ں میں ہمکتاہواخوب
پائےرقاصہء فطر ت میں ہے گھنگھروکی مثال
جیسے شا عر کی غز ل جیسے مصو ر کا خیال

صبح آ غو ش کشا ہے کہ ا ٹھا لے تجھ کو
 سورج ا س فکرمیں ہےا و راجا لےتجھ کو
 و ا د ئ جمنا بھی شادا ب ہے تیر ی خاطر
وقت کی آنکھ بھی بےخواب ہےتیری خاطر
 تو کسی شا ہ کی ا لفت کامظا ہر ہی سہی
 یا طلسما ت کی دنیا ؤں کاساحر ہی سہی
 تیرے معما رتو د را صل و ہ مزد و ر ہو ئے
جن کےدل خون ہوئے،دیدےبھی بےنورہوئے
جن کی عظمت کےفسانوں کورقم کرنامحال
جیسے شاعر کی غزل جیسے مصور کا خیال

شہر یاروں کے ہو ں جذبےکہ عوامی جذ بے
قلب ا نسا ں میں محبت کے دو ا می جذبے
عشق جب ڈ وب گیا حسن کی گہرائی میں
بن گیا تا ج محل ا یک ہی ا نگڑ ا ئی میں
جذبہء شو ق وجنو ں ہو تو غز ل ہو تی ہے
 کو ئی رنگین فسو ں ہو تو غز ل ہو تی ہے
 عشق جب بڑھ کے جنوں خیز عمل بنتا ہے
 تب کہیں جا کے کو ئی تا ج محل بنتا ہے
 مشترک ذ و ق فراواں کا ہے بے مثل کما ل
جیسےشاعرکی غزل جیسےمصور کا خیا ل

 نرم ہونٹوں پہ ہےبےساختہ مسکان کہ تاج
 دل میں ا نگڑ ا ئی سا لیتاہواارمان کہ تاج
 سینہء سا ز میں بید ا ر سا نغمہ کو ئی
ادھ کھلی آ نکھوں میں جاگاہواسپناکوئی
ا پنے ہی نو ر میں ڈو با ہو اخود ماہ منیر
 تا ج ! ا ئے آ بر و ئے ہند، محبت کی نظیر
 تیر ی پا کیزہ و معصوم فضاؤں کوسلام
 آ ج کی شا م ترے حسن،ترے پیا رکےنا م
 نہ کہیں تیرابدل ہے نہ کو ئی تیر ی مثال
جیسےشاعرکی غزل جیسےمصور کاخیال

           انس مسرورانصاری             *دار التحریر*
      قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن(رجسٹرڈ) 
                 رابطہ/9453347784/

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...