Powered By Blogger

منگل, نومبر 09, 2021

انڈین ریلوے: ٹرین کا ٹکٹ گم ہو جائے تو آپ سفر کیسے کریں گے؟ جانئے ایسی صورتحال میں آپ کو کیا کرنا چاہیے

انڈین ریلوے: ٹرین کا ٹکٹ گم ہو جائے تو آپ سفر کیسے کریں گے؟ جانئے ایسی صورتحال میں آپ کو کیا کرنا چاہیے

نئی دہلی: انڈین ریلوے ٹکٹ: اگر آپ ٹرین سے سفر کرتے ہیں تو یہ خبر صرف آپ کے لیے ہے۔ اگر آپ کا ٹرین کا ٹکٹ سفر کے دوران یا اس سے پہلے اچانک کہیں گم ہو جائے تو کیا آپ بغیر ٹکٹ کے سفر کر سکیں گے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو مشکل لگتا ہے لیکن اس کا جواب بہت آسان ہے۔ ہمیں بتائیں کہ اس نازک صورتحال میں آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

ڈپلیکیٹ ٹرین ٹکٹ لے سکتے ہیں۔
اگر آپ کا ٹرین کا ٹکٹ کہیں گم ہو جائے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ریلوے کو بھی معلوم ہے کہ یہ ایک عام غلطی ہے جو کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے انڈین ریلویز ایسے حالات میں اپنے مسافروں کو ایک نئی سہولت دیتا ہے۔ اگر آپ اپنا ٹرین ٹکٹ کھو دیتے ہیں، تو آپ اس کے بجائے ڈپلیکیٹ ٹرین ٹکٹ جاری کر کے سفر کر سکتے ہیں، حالانکہ اس کے لیے آپ کو کچھ اضافی رقم خرچ کرنی پڑے گی۔

ڈپلیکیٹ ٹکٹ کے لیے اضافی چارج
ہندوستانی ریلوے کی ویب سائٹ indianrail.gov.in کے مطابق، اگر ریزرویشن چارٹ کی تیاری سے پہلے تصدیق شدہ/آر اے سی ٹکٹ کے گم ہونے کی اطلاع دی جاتی ہے، تو اس کی جگہ ایک ڈپلیکیٹ ٹکٹ جاری کیا جاتا ہے۔ ریلوے کے مطابق اس کے لیے کچھ چارج ادا کرنا ہوگا۔
آپ کو 50 روپے دے کر دوسری اور سلیپر کلاس کا ڈپلیکیٹ ٹکٹ ملے گا۔ باقی سیکنڈ کلاس کے لیے 100 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ اگر ریزرویشن چارٹ کی تیاری کے بعد، کنفرم ٹکٹ کے ضائع ہونے کی اطلاع موصول ہوتی ہے، تو کرایہ کے 50% کی وصولی پر ایک ڈپلیکیٹ ٹکٹ جاری کیا جاتا ہے۔

ان 5 باتوں کو ذہن میں رکھیں

ڈپلیکیٹ ٹکٹ سے متعلق ان 5 چیزوں کو غور سے پڑھیں، کیونکہ یہ آپ کے لیے کہیں نہ کہیں کام ضرور آئے گا۔

1 اگر آپ ریزرویشن چارٹ کی تیاری سے پہلے درخواست دیتے ہیں، تو پھر وہی چارجز لاگو ہوں گے جو کھوئے ہوئے/گم شدہ ٹکٹ کے لیے ہوں گے۔

2. انڈین ریلوے کے مطابق ویٹنگ لسٹ میں مسخ شدہ ٹکٹوں کے لیے کوئی ڈپلیکیٹ ٹکٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔
3. مزید برآں، مسخ شدہ / مسخ شدہ ٹکٹوں پر بھی رقم کی واپسی قابل قبول ہے، اگر تفصیلات کی بنیاد پر ٹکٹ کی اصلیت اور صداقت کی تصدیق کی جاتی ہے۔

4. RAC ٹکٹوں کی صورت میں، ریزرویشن چارٹ کی تیاری کے بعد کوئی ڈپلیکیٹ ٹکٹ جاری نہیں کیا جا سکتا۔

5. اگر اصلی ٹکٹ بھی ڈپلیکیٹ ٹکٹ جاری ہونے کے بعد موصول ہو جائے اور دونوں ٹکٹیں ٹرین کی روانگی سے پہلے ریلوے کو دکھا دی جائیں تو ڈپلیکیٹ ٹکٹ کے لیے ادا کی گئی فیس واپس کر دی جائے گی، حالانکہ رقم کا 5% کٹوتی کی جائے گی، جو کم از کم 20 روپے ہوگی۔

انگلینڈ اور نیوزی لینڈ 2 سال بعد پھر آمنے سامنے

انگلینڈ اور نیوزی لینڈ 2 سال بعد پھر آمنے سامنےدوبئی، 9نومبر- انگلینڈ بمقابلہ نیوزی لینڈ ایک بار پھر عالمی کپ میں۔ 2019کے عالمی کپ فائنل میں دونوں ممالک کے مابین فاصلہ اتنا کم تھا کہ فیصلہ باونڈری کاونٹ بیک پر انگلینڈ کے حق میں آیا۔دو سال بعد ایک اور عالمی کپ کے سیمی فائنل میں دونوں ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی ابوظہبی کے میدان پر۔نیوزی لینڈ کی ٹیم میں آٹھ ایسے کھلاڑی ہیں جو 2019کی ٹیم کے رکن تھے۔ ان میں زخمی لاکی فارگیوسن بھی شامل ہیں لیکن چیف کوچ گیری اسٹیڈ کا خیال ہے کہ 2019کے میچ کا بدھ کے مقابلے پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اسٹیڈ نے کہاکہ اس میچ کا ذکر ہوتے ہوئے میں نے تو نہیں سنا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ کھلاڑی ایک بار پھر انگلینڈ سے مقابلہ کرنے کے لئے پرجوش ہیں۔ ان کی ٹیم بہت مضبوط ہے اور آپ ہمیشہ بہترین ٹیموں سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا مجھے لگتا ہے کہ سپر اوور کے علاوہ اس میچ اور اس میچ میں کوئی موازنہ نہیں ہوگا۔پنڈلی کی چوٹ کے سبب جیسن رائے خواہ باقی مقابلوں سے باہر ہیں لیکن اسٹیڈ انگلینڈ کی سفید گیند مہارت کو کم نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہاکہ وہ ایک بہتر ین کھلاڑی ہیں اور ظاہر سی بات ہے کہ آپ ایسے کھلاڑی کو زخمی ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہمارے ساتھ لاکی کے سلسلہ میں ایسا ہی ہوا لیکن انگلینڈ جانی بیرسٹو جیسے کھلاڑی سے اوپن کراسکتا ہے اور ان کے پاس مزید متبادل بھی ہیں۔وہ اکثر میچ کی صورتحال کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو اوپر نیچے کرتے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ ہمارے خلاف وہ ایسا ہی کریں گے لیکن اس سے ہمیں اپنی حکمت عملی میں خاص تبدیلی نہیں لانی چاہئے۔ ایک دن کا سوال ہے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔نیوزی لینڈ کے پاس ایک ہی سال میں دو آئی سی سی خطاب جیتنے کا اچھا موقع ہے۔ عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ جیتنے کے بعد ٹی۔20عالمی کپ میں سیمی فائنل کے سفر پر اسٹیڈ نے اطمینان کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ میں اس ٹیم پر بہت فخر محسوس کرتا ہوں۔ کیسے یہ کھلاڑی ہر بڑے پلیٹ فارم پر اپنے گیم کو ڈھالنے میں کامیاب رہتے تھے۔ اگر آپ ہماری ٹیم کا مقابلہ بڑی ٹیموں سے کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ کتنا مشکل اور قابل تعریف ہے۔ ہم ایک یونٹ بن کر لڑنا جانتے ہیں۔ اگر آپ چھوٹی چیزیں لگن کے ساتھ کریں گے تو کامیابی ملنے میں دیر نہیں لگتی۔اسٹیڈ کے مطابق افغانستان کے خلاف ورچول ناک آوٹ میچ میں نیوزی لینڈ کی فیلڈنگ نے سب سے بڑا اثر ڈالا۔ جدید ٹی۔20 کرکٹ میں یہ تقریباً تمام ٹیموں کی مضبوط کڑی ہے لیکن نیوزی لینڈ نے پھر سے دکھایا کہ اچھی فیلڈنگ کے سبب اپوزیشن ٹیم پر دباو کیسے بڑھایا جاسکتا ہے۔ اسٹیڈ نے کہا کہ ہم نے خا ص طورپر کچھ بہترین کیچ پکڑے۔ اگر آپ آخری اوور کی پہلی گیند پر ڈیرل مشیل کی فیلڈنگ دیکھیں تو انہو ں نے نہ صرف اس گیند پر چار رن بچائے بلکہ شاید پورے اوور میں دس بارہ زیادہ رن بننے پر لگام لگائی۔ اس سے ہمیں بلے بازی کرنے میں آسانی ہوئی کیونکہ ممکنہ 140رن کو ہم نے 125پر روک دیا۔انہوں نے کہاکہ ان چھوٹی چیزوں سے بڑا فرق ہوتا ہے۔ کین اور جمی نے زبردست کیچ پکڑے۔ ڈیون نے غوطہ لگاتے ہوئے ایک ہاتھ سے کیچ پکڑ کر اننگز کی شروعات کی۔ ہم ایسی کوششوں سے ترغیب لیتے ہیں اور امید ہے اس سے گیندباز بھی کافی پر اعتماد ی کا احساس کرتے ہیں۔

پیغام امن و انصاف کو گھر گھر پہنچانے کی ضرورت : مولانا خليل الرحمن سجاد نعمانی

پیغام امن و انصاف کو گھر گھر پہنچانے کی ضرورت : مولانا خليل الرحمن سجاد نعمانی

نئی دہلی(پریس ریلیز): انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں آل انڈیا علما بورڈ کی جانب سے منعقدہ قومی اقلیتی کانفرنس برائے امن و انصاف کو خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی نے لوگوں سے اپیل کی کہ اگر ہم امن اور انصاف کے متلاشی ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ایسی تمام کوششوں اور کاوشوں کا حصہ بنیں جو ملک میں امن و امان اور ترقی وبہبود کے لئے چلائی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کامیابی کے لئے انفاق، اطعام اور اکرام ضروری ہے باقی کوئی شارٹ کٹ فارمولہ نہیں ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد کے لئے بورڈ کے جنرل سکریٹری آرگنائزیشن انظر انور خان اور ان کے ساتھیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی کاوش لائق تحسین ہے اور یہ مسلسل جاری رہنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ملک میں کوئی بھی بھوکا نہ سوئے۔ کسی ضرورت مند کا استحصال نہ ہو اور ہم سب امن کے پیغامبر بنیں۔ مولانا نے کہاکہ ہمیں زمین پر اتر کر لوگوں کے درمیان جا کر عملی طور پر کام کرنا ہوگا اور ہمیں ان قوموں اورطبقات سے سیکھنا ہوگا جو زمین سے جڑ کر ریا اور نمود سے اوپر اٹھ کر لوگوں کی خدمت کر ر ہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ آل انڈیا علما بورڈ کا پیغام امن ہر گھر تک پہنچائیں اور ممبئی سے آکر دہلی میں اس طرح کے پروگرام کرنا یہ دہلی والوں کے لئے بھی ایک پیغام ہے۔ اس موقع پر سینٹر کے صدر اور مہمان خصوصی سراج الدین قریشی نے بھی اس طرح کی کاوش کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں مایوسی کے بجائے اپنے حصے کا دیا جلانے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ جب ہم قرآن کو پڑھتے ہیں تو ہمیں یہ پیغام وہیں سے ملتا ہے کہ مایوس لوگوں کو اللہ پسند نہیں کرتا ہے پھر قدرت سے ہم بغاوت کیوں مول لیتے ہیں؟ کیوں نہیں ہم زمین پر اتر کر امن کو پھیلانے کے لئے کام کرتے ہیں؟اس موقع پر ڈاکٹر سید فاروق احمد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے لئے ہمارے رسول اسوہ ہیں۔ کس طرح نبی نے پتھر کھا کر دعا دی، یہ سبق بھی ہم کو یاد رکھنا چاہئے۔ ہمارے لئے یہ لازم ہے کہ ہم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیں۔ صاف صفائی کا اہتمام رکھیں۔ لوگ ہم کو دیکھ کر یہ سمجھیں کہ یہ نبی کے دیوانے ہیں اور نبی ایسے ہی تھے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکر حسین اور حج کمیٹی کے چیئرمین مختار احمد نے بھی کانفرنس کے انعقاد کے لئے انظر انور خان اور بورڈ کے جنرل سکریٹری فائنانس وارث علی خان کو مبارکباد دی۔ سوامی وشوانند نے اپنے پیغام میں کہاکہ بھارت ایک گلدستہ ہے اور بھائی چارہ ہی اس کی اصل پہچان ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتے جب تک کہ ہم محبت کے داعی نہ ہوں۔ انہوں نے کہاکہ کوئی دھرم نفرت کی تعلیم نہیں دیتا ہے اور نفرت کرنے والے ادھرمی ہیں۔ اس موقع پر کیرل سے شمس الدین، ٹی پی سی تنگل، سنی جن یوتھ، چنئی سے نعیم الرحمان، سمیت بڑی تعدادمیں لوگوں نے شرکت کی۔


بھرت ڈوڈہ کے مدرسہ میں آتشزدگی کی ہولناک واردات لاکھوں روپے کی مالیت خاکستر ۔

بھرت ڈوڈہ کے مدرسہ میں آتشزدگی کی ہولناک واردات لاکھوں روپے کی مالیت خاکستر ۔

ڈوڈہ،9 نومبر،ضلع ڈوڈہ کے دور افتادہ علاقہ بھرت بگلہ کے ایک مدرسہ جامعہ ابو حْریرہ میں آتشزدگی کی ایک ہولناک واردات میں مدرسہ کی تین منزلہ عمارت جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔بھرت میں واقع اس دینی مدرسہ میں آگ کی واردات پیر کے روز شام کے وقت رونما ہوئی جب مدرسہ کے بچّے مغرب کی نماز ادا کرنے مسجد میں گئے ہوئے تھے۔اس دوران نا معلوم وجوہات سے عمارت میں آگ نمودار ہوئی۔جس نے آناً فاناً میں پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اور آگ کے بھڑکتے شعلوں نے تین منزلہ مدرسہ کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔آتشزدگی کی خبر پھیلتے ہی فائر برگیڈ کو مطلع کیا گیا لیکن علاقہ دور ہونے کی وجہ سے جب تک فائر سروس جائے واردات پر پہنچتی تب تک لاکھوں کی مالیت کا ساز و سامان جل کر تباہ ہو گیا۔تاہم خوش قسمتی سے مدرسہ میں اْس وقت کوئی موجود نہ تھا سب نماز پڑھنے گئے ہوئے تھے۔جس سے ایک المناک واقعہ رونما ہونے سے ٹل گیا۔واضح رہے کہ علاقہ میں دینی تعلیم فراہم کرنے والے اس مدرسہ سے گزشتہ برس تین حافظ قرآن کی دستار بندی ہوئی تھی۔لیکن عمارت جلنے کی وجہ سے اب یہاں زیر تعلیم بچّے کھلے آسمان تلے آ گئے ہیں۔


آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا مشاورتی اجلاس ، نکاح کو آسان بنانے اور مسلم لڑکیوں کے تحفظ پر زور

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا مشاورتی اجلاس ، نکاح کو آسان بنانے اور مسلم لڑکیوں کے تحفظ پر زور

حیدرآباد: کارگزار جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ آسان و مسنون نکاح کو عام کریں اور مسلم لڑکے لڑکیوں کو ارتداد سے کیسے بچائیں کے موضوع پر مشاورتی اجلاس اذان اسکول ٹولی چوکی میں منعقد کیا گیا- انھوں نے کہا کے اس اجلاس میں علماء کرام اور دیگر نے ان دونوں موضوع پر مسلمانوں میں شعور بیداری مہم چلانے اور دیگر مفید مشورے دیئے ہیں- انہوں نے کہا کہ ان مفید مشوروں پر غور و خوض کرنے کے لئے 5 رکنی کمیٹی تشکیل کی گئی ہے- اس کمیٹی کے کنوینر مفتی محمد رفیع الدین رشادی، جوائنٹ کنوینر مولانا سید مصباح الدین، مفتی شاہد قاسمی، مفتی محمود زبیر قاسمی، مفتی تجمل حسین کو مقرر کیا گیا ہے- اس کمیٹی کے سرپرست امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ اےپی مولانا حسام الدین جعفر پاشاہ ہوں گے- کمیٹی کے ارکان تمام تجاویز کو مرتب کریں گے- کمیٹی کے ارکان کی جانب سے جمعہ کے اجتماعات میں آئمہ کرام جہیز کی لعنت اور مسلم لڑکے لڑکیوں کو ارتداد سے بچنے سے متعلق معلومات فراہم کریں گے- مدارس اور کالجس کو جاکر نوجوانوں میں شعور بیداری خواتین کے اجتماعات وغیرہ کے بارے میں لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا- مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے اصلاح معاشرہ کے موضوع پر 2روز ورکشاپ بھی رکھا جائے- انہوں نے کہا کہ علمائے کرام ہی اصلاح معاشرہ کا کام کر سکتے ہیں- وہ ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں اور غلط فہمیوں کو دور کر سکتے ہیں-اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر اسماء زہرہ صدر ویمنس ونگ مرکزی مسلم پرسنل لا بورڈ، مولانا شاہ محمد جمال الرحمن، مولانا حامد محمد خان امیر جماعت اسلامی ہند تلنگانہ، مولانا مفتی صادق محی الدین، مولانا احمد عبداللہ طیب، مولانا کلیم الرحمن اطہر ندوی، مولانا آصف عمری امیر جمعیتہ اہل حدیث، مولانا احسن الحمومی خطیب مسجد باغ عامہ، مولانا عبدالقوی، مفتی عبدالودود مظاہری، مولانا فصیح الدین ندوی، مفتی شاہد علی قاسمی، مفتی تجمل حسین، مفتی محمود زبیر قاسمی، مولانا غیاث احمد رشادی، مولانا ومیض احمد ندوی، مولانا نعیم کوثر محبوب نگر، مولانا مظہر قاسمی کورٹلہ، مولانا ایوب قاسمی ورنگل، مفتی مسعود قاسمی منچریال، مولانا عبدالبصیر رشادی نلنگڈہ، مولانا عتیق قاسمی ظہیر آباد، مولانا طلال الرحمن دیگر شامل ہیں- مقررین نے کہا کہ آسان و مسنون نکاح کا نفاذ کیسے کریں اور مسلم لڑکے لڑکیوں کو ارتداد سے کیسے بچائیں ان سے متعلق تجاویز پیش کئے- انہوں نے کہا کہ تمام علمائے کرام کو متحد ہوکر ہمارے معاشرہ میں پھیلی ہوئی برائیوں بالخصوص جہیز کی لعنت کے بارے میں شعور بیداری مہم چلانا چاہئے- مولانا شاہ جمال الرحمن کی دعا پر مشاورتی اجلاس کا اختتام ہوا- مفتی محمد رفیع الدین رشادی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے- مولانا سید مصباح الدین نیر امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ و اےپی مولانا حسام الدین جعفر پاشاہ صدر نشین اذان اسکول ڈاکٹر یوسف اعظم کے علاوہ دیگر موجود تھےـ

Dailyhunt

کروڑوں افراد ' قحط کی دہلیز پر ' ، اقوام متحده

کروڑوں افراد ' قحط کی دہلیز پر ' ، اقوام متحدهکووڈ وبا اورمختلف ممالک میں جاری تنازعات کے سبب خوراک کی عدم دستیابی سے دوچار افراد کی تعداد بڑھ کر ساڑھے چار کروڑ ہوگئی ہے۔ افغانستان تیزی سے "دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران" والا ملک بنتا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے پیر کے روز بتایا کہ 43 ملکوں میں قحط کی دہلیز پر پہنچ چکے متاثرین کی تعداد بڑھ کر ساڑھے چار کروڑ ہوگئی ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے ایگزیکیوٹیو ڈائرکٹر ڈیوڈ بیئسلی نے بتایا کہ صرف رواں برس ایسے افراد کی تعداد میں 30 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے اور ”کروڑوں افراد گہری کھائی میں جھانکنے پر مجبور ہیں۔" قحط سے متاثرین میں اضافے کا اسباب ڈیوڈ بیئسلی نے ایک بیان میں کہا،” ہمارے سامنے جنگیں، ماحولیاتی تبدیلیاں اور کووڈ انیس جیسے بحران ہیں، جو بڑی تیزی سے بھوک کے شکار افراد کی تعداد میں اضافہ کررہے ہیں اور تازہ ترین اعدادشمار سے پتہ چلتا ہے کہ اب ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ افراد قحط کی دہلیز تک پہنچ رہے ہیں۔" اس برس کے اوائل میں انتہائی قحط کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد تقریباً چار کروڑ 20 لاکھ تھی جب کہ 2019 ء میں ایسے افراد کی تعداد دو کروڑ 70 لاکھ تھی۔ بالخصوص افغانستان میں خوراک کی عدم دستیابی کے بحران کا سامنا کرنے والوں کی تعداد اس اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔ بیئسلی کے بقول ” انسانوں کے پیدا کردہ تصادم عدم استحکام میں اضافے کاسبب بن رہے ہیں اور قحط کی ایک تباہ کن نئی لہر کو تقویت دے رہے ہیں جو پوری دنیا کو اپنی زد میں لینے کی طاقت رکھتی ہے۔‘‘ خوراک کی بڑھتی ہوئی قلت میں اضافہ کرنے والے ملکوں میں افغانستان کے علاوہ ایتھوپیا، ہیٹ ی، صومالیہ، انگولا، کینیا اور برونڈی شامل ہیں۔ افغانستان سرفہرست کیوں بن گیا؟ بیئسلی نے افغانستان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے حال ہی میں وہاں کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے یہ بیان دیا ہے۔ ملک پر طالبان کے قبضے کے بعد اقو ام متحدہ کی فوڈ ایجنسی نے وہاں تقریباً دو کروڑ تیس لاکھ افراد کے لیے اپنی امدادی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ بیئسلی کا کہنا تھا،” ایندھن مہنگا ہورہا ہے، کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہورہی ہیں۔ فرٹیلائزر زیادہ مہنگے ہوگئے ہیں اور یہ سب ایک نیا بحران پیدا کررہے ہیں۔ جیسا کہ اس وقت افغانستان میں اور ایک طویل عرصے سے جنگ کا سامنا کرنے والے شام اور یمن جیسے ملکوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔" ڈبیلو ایف پی نے بتایا کہ افغانستان” دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔اس ملک کی ضرورتیں دیگر بدترین متاثرہ ملکوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے شدت اختیار کرتی جارہی ہیں۔ متعدد خشک سالی کے سبب اقتصادی مندی پیدا ہوگئی ہے، لوگوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور انہیں اپنے بچوں کی تعلیم ترک کرا دینے اور بچیوں کی جلد شادی کردینے جیسے ” ہلاکت خیز متبادل" اختیار کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔" ڈبلیو ایف پی کا کہنا ہے کہ اس دوران افغانستان سے ایسے خبریں بھی موصول ہورہی ہیں کہ لوگ اپنے خاندان کی زندگیاں بچانے کے لیے اپنے بچوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ افغانستان کے لیے امداد کی جلد بحالی کا کوئی امکان نہیں اس دوران عالمی بینک نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجودہ صورت حال میں امداد کا کوئی نظام نہیں اور اس کے جلد بحال ہونے کا امکان نہیں۔ عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ ملپاس نے افغانستان کے لیے براہ راست امداد کی جلد بحالی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا،''میں اپنے ادارے کو معیشت کی مکمل تباہی کے ماحول میں کام کرتا نہیں دیکھ رہا۔ درپیش مسائل میں سے ایک ادائیگی کا نظام ہے۔ موجودہ حکومت جو بھی کر رہی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے رقم کی فراہمی حقیقت میں جاری رکھنے کی کوئی صلاحیت موجود نہیں۔" عالمی بینک نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سلامتی اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے خدشات کے پیش نظر افغانستان کی امداد روک دی تھی۔ بینک نے کہا تھا کہ وہ افغانستان کی صورت حال پر گہری نظر رکھتے ہوئے اس کا تجزیہ کر رہا ہے۔ حالات کیسے بہتر ہوسکتے ہیں؟ ڈبلیو ایف پی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں قحط کو ٹالنے کے لیے فوری طورپر سات ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ اس سال کے اوائل میں چھ ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ ڈبلیو ایف پی کے مطابق اتنی رقم سے اگلے برس تک ہر فرد کو روزانہ ایک وقت کا کھانا فراہم کیا جاسکتا ہے۔ ج ا/ ک م (اے ایف پی، یو این)

معروف عالم دین مولاناخالدسیف اللہ رحمانی کی عوام وخواص سے اہم اپیل

معروف عالم دین مولاناخالدسیف اللہ رحمانی کی عوام وخواص سے اہم اپیل

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کسی نے میرے نام کی فرضی آئی ڈی [email protected] بنا کر میری طرف سے میرے رشتہ دار کے اکسیڈنٹ اور اس کے لئے مالی مدد کی اپیل کی ہے؛ جو کہ بالکل غلط ہے، اس لئے آپ تمام حضرات سے درخواست ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی میل مذکورہ آئی ڈی سے آئے تو اس کو غلط سمجھیں، اور ایسے دھوکہ بازوں سے ہوشیار رہیں۔ (مولاناخالدسیف اللہ رحمانی رحمانی)


بسم اللہ الرحمن الرحیمسیرتِ نبوی ﷺ کے چند اہم پیغامات ✍️ مفتی محمد سراج الہدیٰ ندوی ازہریاللہ تعالیٰ کے آخری رسول محمد ﷺ سارے انس و جن کے رسول ہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سیرتِ نبوی ﷺ کے چند اہم پیغامات
                                                                           ✍️  مفتی محمد سراج الہدیٰ ندوی ازہری
اللہ تعالیٰ کے آخری رسول محمد ﷺ سارے انس و جن کے رسول ہیں، آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت ہی ساری انسانیت کے لیے سفینۂ نجات ہے، اسے اپنے لیے ذریعۂ نجات نہ سمجھنا، اس سے انحراف کرنا، منھ موڑ لینا، اپنی دنیا و آخرت برباد کرنا ہے۔ جس نے آپ ﷺ کو نبی مانا، اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی سیرت و تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارے، "لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ لمن کان یرجو اللہ و الیوم الآخر و ذکر اللہ کثیرًا"(سورۃ الأحزاب:21) تمہارے لیے یقیناً رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے اور روزِ آخرت سے امید رکھتا ہو اور کثرت سے یادِ الٰہی کرتا ہو۔
آج کے اس  پُر فتن دور میں بھی نبی کریمﷺکا اسوۂ حسنہ شریعت اسلامیہ کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے، اور تا قیامت کرتا رہے گا۔ آئیے!ہم دیکھتے ہیں کہ آج کے ماحول میں جب کہ چہار جانب مادیت کا غلبہ ہے، خوفِ آخرت سے بے توجہی ہے، اپنے مقصدِ تخلیق سے ناواقفیت اور بے اعتنائی ہے، دینی و دعوتی حکمتوں کی جگہ جوش و ولولہ اور وقتی ابال نے لے لیا ہے، سوشل میڈیا حفاظتِ وقت اور کثرتِ معلومات سے زیادہ ضیاعِ وقت اور اخلاقی بگاڑ کا سامان فراہم کر رہا ہے، ایسے نازک اور ناگفتہ بہ حالات میں نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمیں متعدد پیغام دیتی ہے، ان میں ایک اہم پیغام‘‘مقصد میں استقامت’’ ہے۔ ہم اہلِ ایمان کی زندگی کا ایک مقصد ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ذمہ داری دی ہے، جس کے لیے نبی کریم ﷺنے اپنی پوری زندگی لگادی، اور وہ ہے ایمان و اسلام پر قائم رہنا اور اسے عام کرنا، حالات جیسے بھی ہوں، مادیت کا دور دورہ جتنا بھی ہو، ہمیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ ایمانی و دعوتی مشن پر استقامت کے ساتھ قائم رہنا ہے، دنیا کی دو کوڑیوں اور اپنے تھوڑے سے مفاد کے لیے اس کا سودا نہیں کرنا ہے، آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ از اوّل تا آخر دیکھ جائیے، وہی مکہ جو آپ کا ادب و احترام کیا کرتا تھا، آپ کی ذہانت و فطانت کا معترف تھا، نبوت کے اعلان کے ساتھ ہی "ساحر و شاعر" کہنے لگا، اور آپ کا مخالف ہوگیا؛ لیکن قربان جائیے نبی کریم ﷺ کے عزم و حوصلے اور ایمانی و دعوتی مشن کے استقامت پر، ظلم کیا گیا، گالی گلوج کیا گیا، راہ میں کانٹے بچھائے گئے، جسم اطہر پر کوڑا کرکٹ ڈالا گیا، عبادت میں خلل ڈالا گیا، لالچ دیا گیا، دعوتِ اسلام سے باز رہنے کے لیے سمجھوتے کی پیش کش کی گئی، بائیکاٹ کیا گیا، تین سالوں تک شعبِ ابی طالب میں قید رہے، آپ اور آپ کے ماننے والے اہلِ ایمان پر ظلم‌ و ستم کے نِت نئے حربے استعمال کیے گئے، حوصلے پست کرنے کی لاکھ کوششیں کی گئیں؛ لیکن آپ نے اپنا دینی و دعوتی سفر جاری رکھا، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غلبہ دیا، دشمنوں کو منھ کی کھانی پڑی، اور کچھ ایسے بھی ہوئے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ یہی ہے اپنے مقصد و مِشن میں استقامت۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: "فاستقم کما امرت و من تاب معک و لا تطغوا انہ بما تعملون بصیر" (سورۃ ھود: 112)، تو اے پیغمبر! جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے، اس پر تم اور وہ لوگ بھی جو توبہ کرکے تمہارے ساتھ ہوگئے ہیں، ثابت قدم رہو، اور حد سے نہ بڑھو، بے شک جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔اللہ کے رسول ﷺ نے ایک صحابی کو نصیحت کی تو فرمایا:"قل ربی اللہ ثم استقم" (حدیث)، تم کہو: میرا رب اللہ ہے، پھر اسی پر ثابت قدم رہو۔
سیرت نبوی کا دوسرا اہم پیغام ‘‘حکمت و مصلحت اور منصوبہ بندی’’ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کی سیرتِ طیبہ حکمت و مصلحت اور منصوبہ بندی کی راہ بتلاتی ہے، پوری سیرتِ طیبہ پڑھ جائیے، کوئی بھی کام حکمت و مصلحت سے خالی نظر نہیں آئے گا۔ بعض نئے ایمان لانے والوں کو حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے آپ ﷺ نے نصیحت کی کہ ابھی سرِ راہ اپنے ایمان کااظہار نہ کرو، اہلِ ایمان کی جان کی حفاظت کے لیے حبشہ جانے کی اجازت دی، بیعتِ عقبہ اولیٰ و ثانیہ کتنے مخفی انداز میں ہوئی، اور یہیں سے ہجرت کی راہ ہموار ہوئی، ہجرت ہی کے واقعے کو لے لیجیے، انتہائی رازدارانہ انداز میں دوپہر کے وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر جانا اور سفر کی تیاری کے لیے کہنا، پھر شب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر لٹا کر سفرِ ہجرت کے لیے نکل پڑنا، تین دنوں تک غارِ ثور میں قیام کرنا، جو اصلاً مدینہ کے مخالف سمت، یمن کے رخ پر ہے، پھر راتوں میں غار ثور تک حضرت عبد اللہ بن ابی بکر کا آنا، دشمنوں کی پلاننگ سے باخبر کرنا، دن میں حضرت عامر بن فہیرہ کا بکریوں کو چراتے چراتے یہاں تک لے آنا، اور تین دنوں کے بعد عبد اللہ بن اریقط کا وہاں آنا اور مدینہ کا راستہ بتانا، پھر نبی کریم ﷺ کا مکہ سے قبا اور قبا سے مدینہ جانا۔ جب جہاد کی نوبت آئی تو اس کے لیے میدانِ جہاد میں مناسب جگہوں کا انتخاب کرنا، غزوۂ احزاب کے موقع سے خندق کھدوانا، جس کا تصور اہلِ عرب کے درمیان نہیں تھا، یہ سب کام موقع و محل کو دیکھتے ہوئے مکمل حکمت و مصلحت اور منصوبہ بندی کے تحت پیش آئے، کبھی آناً فاناً فیصلہ لیا گیا اور کبھی بہت پہلے ہی منصوبہ بندی کی گئی؛ لیکن بہر صورت حکمت و مصلحت، دانشمندی اور مضبوط پلاننگ کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے نہ چھوٹا۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں ان باتوں سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔
سیرت نبوی کا تیسرا اہم پیغام ‘‘دعوت و تبلیغ کے لیےعصری وسائل’’ اختیار کرنا ہے۔قرآن کریم نے متعدد آیتوں میں دعوت و تبلیغ کا آپ ﷺ کو حکم دیا، ایک جگہ فرمایا: "و انذر عشیرتک الاقربین و اخفض جناک لمن اتبعک من المؤمنین" (سورۃ الشعراء: 214، 215) اور (اے پیغمبر! سب سے پہلے) اپنے قریبی رشتوں داروں کو (اللہ کے) عذاب سے ڈراؤ اور جو ایمان والے تمہارے پیرو ہوگئے ہیں، ان کے ساتھ تواضع سے پیش آؤ۔ دوسری جگہ فرمایا: "فاصدع بما تؤمر و اعرض عن المشرکین" (سورۃ الحجر:94)، پس جو حکم‌تم کو ملا ہے وہ (لوگوں کو)سنادو اور مشرکوں کی پروا مت کرو۔ ایک اور جگہ فرمایا: "ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ و الموعظۃ الحسنۃ"(سورۃ النحل:125)، (اے پیغمبر! لوگوں کو) دانائی (کی باتوں)اور اچھی نصیحتوں سے اپنے پروردگار کی طرف بلاؤ اور بہترین طریقے سے ان کے ساتھ بحث کرو؛ لیکن کہیں بھی دعوتی وسائل و ذرائع کا واضح انداز میں تذکرہ نہیں کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے زمانے کے لحاظ سے دعوتی پیغامات لوگوں تک پہونچائے، اس کے لیے چھوٹی بڑی مجالس کا رخ کیا، کوہِ صفا پر چڑھ کر آواز لگائی، نئے آنے والوں سے ملاقاتیں کیں، انہیں سمجھایا، حکمرانوں کے نام خطوط لکھے اور سفراء روانہ کیے، یہ سب وہ وسائل و ذرائع تھے، جو اس زمانے میں رائج تھے، آپ ﷺنے انہیں اختیار کیا، عصری وسائل سے اعراض نہیں کیا، اپنی آنکھیں بند نہ کرلیں؛ بلکہ انہیں اپنے دعوتی مشن کے لیے پورے طور پر اختیار کیا۔ ہمیں بھی اپنے اپنے زمانے میں اس کی طرف توجہ دیتے ہوئے، دعوتِ دین کے لیے عصری وسائل  اختیار کرنے چاہیئیں، سوشل میڈیا کو مثبت کاموں کے لیے اختیار کرنا چاہیے؛ تاکہ صحیح انداز میں کامیابی مل سکے، ہمارا زمانہ تو سوشل میڈیا کے لحاظ سے انتہائی ترقی کا زمانہ ہے۔ ہمیں دعوت و تبلیغ، خیر کی اشاعت اور سماج کی اصلاح کے لیے موجودہ اسباب و وسائل سے بھر پور انداز میں مستفید ہونا چاہیے۔
سیرت نبوی کا چوتھا اہم پیغام‘‘رجوع الی اللہ’’ہے۔نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ دنیا دار الاسباب ہے، کسی بھی کام کے لیے اسباب و وسائل مطلوب ہوتے ہیں، اسباب و وسائل بھی اصلاً دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک کا تعلق تو ظاہر سے ہے، جسے ہر آدمی سمجھ سکتا ہے، جیسے: دوڑ دھوپ، جہد مسلسل، سعیِ پیہم، محنت و مشقت، تعلقات و روابط وغیرہ، اور دوسرے کا تعلق باطن سے ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ جس بات کے داعی ہیں، اس پر آپ کو بھی یقینِ کامل اور اطمینانِ قلبی ہو، آپ اپنی دعوت پر خود بھی عمل پیرا ہوں، ظاہری و باطنی اخلاقِ حسنہ کے پیکر ہوں، قول و فعل اور علم و عمل میں تضاد نہ ہو۔ ان دونوں (ظاہری و باطنی) اسباب و وسائل سے متصف ہونے کے بعد، ہمیں صاحبِ ایمان ہونے کی حیثیت سےمکمل طور پر "رجوع الی اللہ"ہونا بھی ضروری ہے، اللہ تعالیٰ سے مانگیے اور خوب مانگیے، اور اسی سے خیر کی امید رکھیے، اسے ہی "توکل علی اللہ" کہتے ہیں۔ اسباب و وسائل اختیار کرنے کے بعد اللہ تعالٰی سے لَو لگائیے ، اور نتیجہ اسی پر چھوڑ دیجیے۔ اللہ کے رسول ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو دیکھ جائیے، انفرادی مسئلہ ہو یا اجتماعی، میدان جنگ ہو یا کوئی اور مرحلہ، اساب و وسائل اختیار کرنے کے بعد اللہ تعالٰی کی طرف متوجہ ہوتے اور خوب ہوتے، دعا میں محو ہوجاتے، شانۂ مبارک سے چادر گرجاتی اور احساس تک نہ ہوتا، روتے روتے داڑھی تر ہوجاتی، ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی کی جانب رجوع ہوئے، اسی سے لَو لگایا اور اسی کی ذات پر بھروسہ کیا۔
ہمیں اور آپ کو بھی بحیثیتِ مسلمان اللہ کے رسول ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو گہرائی و گیرائی کےساتھ پڑھنے، اس سے نصیحت لینے، اور اپنی زندگی کو بھی اسی انداز میں متصف کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اسی میں ہمارے لیے دونوں جہان کی کامیابی ہے۔ ایک شعر پر اپنی بات مکمل کرتا ہوں:
نبی کا اسوۂ حسنہ تجھے یہ درس دیتا ہے *** کہ تیری زندگی قرآن کی تفسیر ہوجائے
*************  ------------ *************

(مضمون نگار مشہور اسلامی اسکالر،بہترین خطیب، مثبت صاحبِ قلم، دار العلوم سبیل السلام حیدرآباد کے سینئر استاذ اور متعدد  تعلیمی و تربیتی اداروں کے سر پرست اور رکن ہیں۔ رابطہ نمبر: 9849085328)
*************

لکھیم پور کھیری معاملہ : اتر پردیش حکومت کی جانچ سے سپریم کورٹ ناراض

لکھیم پور کھیری معاملہ : اتر پردیش حکومت کی جانچ سے سپریم کورٹ ناراض

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے لکھیم پور کھیری قتل کیس پر سماعت کرتے ہوئے ایک بار پھر اتر پردیش حکومت پر نارضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی اب کی جانچ سے مطمئن نہیں ہے اور عدالت چارج شیٹ داخل ہونے تک ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں جانچ کروانا چاہتی ہے۔

یو این آئی اردو کی رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس این وی رمن اور جسٹس سوریہ کانت اور ہیما کوہلی کی ڈویژن بنچ نے پیر کے روز مفاد عامہ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کی ایس آئی ٹی جانچ کو 'ڈھیلا ڈھالا رویہ' بتاتے ہوئے کہا کہ پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ اہم ملزمین کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے سماعت کے دوران کئی سوالات کئے اور کہا کہ اتر پردیش حکومت کی جانچ توقع کے مطابق نہیں ہے۔ اس معاملے میں حکومت کی طرف سے دائر کی گئی رپورٹ میں گواہوں کے بیان درج کرنے کی معلومات کے علاوہ کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ بنچ نے پوچھا کہ کلیدی ملزم آشیش کے علاوہ دیگر ملزمین کے موبائل فون کیوں ضبط نہیں کئے گئے۔ انہوں نے دیگر ملزمان کے موبائل فون ضبط نہ کرنے پر شدید ناراضگی ظاہر کی۔

ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں شواہد سے متعلق لیب کی رپورٹ 15 نومبر تک آ جائے گی۔ اس پر عدالت نے کہا کہ 10 دن کا وقت دیا گیا تھا۔ اس دوران کچھ نہیں کیا گیا۔ حکومت نے کہا کہ اس کا لیب کے کام کاج پر اس کا کنٹرول نہیں ہے۔

اترپردیش کی جانچ سے غیر مطمئن بنچ نے اس معاملے کی جانچ پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس رنجیت سنگھ یا راکیش کمار جین سے کرانے کا مشور ہ دیا۔ اس پر مسٹر سالوے نے کہا کہ وہ اگلی سماعت پر اس سلسلے میں حکومت کا رخ پیش کریں گے۔ اگلی سماعت 12 نومبر کو ہوگی۔

مسافروں کے لیے خوشخبری:ٹرین میں سفر ہوگا اب اور آسان!

مسافروں کے لیے خوشخبری:ٹرین میں سفر ہوگا اب اور آسان!

نئی دہلی. ملک بھر میں کورونا کی رفتار میں کمی کے بعد ٹرین کا سفر ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے۔ کورونا کے دوران بند ہونے والی کئی ٹرینوں کو دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں اب ریلوے مسافروں کو ایک اور سہولت دینے جا رہا ہے۔ دراصل بھوپال ریلوے ڈویژن نے جنرل ٹکٹ کی سہولت دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بتادیں کہ جنرل کلاس کے کوچز کورونا کے دور سے بند تھے۔ وہیں، کورونا کی رفتار میں کمی کو دیکھتے ہوئے، ریلوے انتظامیہ نے ایک بار پھر پانچ ٹرینوں میں غیر محفوظ (جنرل) ٹکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھوپال ریلوے ڈویژن کی 5 ٹرینوں میں پیر سے مسافروں کو جنرل ٹکٹ ملنا شروع ہو جائیں گے۔ ساتھ ہی، ریلوے کے اس اقدام کے بعد، جو مسافر روزانہ قریبی شہروں میں سفر کرتے ہیں، انہیں یہ سہولت مل سکے گی۔

یہ سہولت ان ٹرینوں میں دستیاب ہوگی۔

بتا دیں کہ پیر سے مسافروں کا سفر آسان ہونے جا رہا ہے۔ بھوپال سے شروع ہونے والی 5 ٹرینوں میں جنرل ٹکٹ دستیاب ہوں گے۔ جس میں حبیب گنج-ادھرتل-حبیب گنج انٹرسٹی، بھوپال-دموہ-بھوپال راجیرانی ایکسپریس، اٹارسی-بھوپال اٹارسی وندھیچل ایکسپریس، بھوپال-گوالیار انٹرسٹی، اٹارسی سے پریاگ راج چھیوکی ایکسپریس شامل ہیں۔

تجوید کے بغیر تلاوت کفر کے مترادف ۔ تجوید کلاسس کی افتتاحی تقریب سے قاری نصیر الدین منشاوی کا خطاب

تجوید کے بغیر تلاوت کفر کے مترادف ۔ تجوید کلاسس کی افتتاحی تقریب سے قاری نصیر الدین منشاوی کا خطابحیدر آباد:قرآن مجید کی تلاوت بالکل اسی انداز میں کرنی چاہیے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں سکھایا ہے۔ قرآن مجید کی تجوید کے بغیر تلاوت سے اس کے معنی بدل سکتے ہیں۔ تجوید سے انکار کفر کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز قاری جناب نصیر الدین منشاوی نے جانکی نگر ٹولی چوکی میں تجوید کلاسس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انھوں نے تجوید سیکھنے کے خواہشمند امیدواروں میں جن میں ہر عمر کے افراد شامل تھے، تجوید کے اصولوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان تجوید کلاسس کا اہتمام آئی ای ایس تنظیم کی جانب سے کیا گیا۔ خواتین اور مردوں کے لئے علحدہ بیاچس میں فن تجوید کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ اس موقع پر آئی ای ایس تنظیم کے ڈائرکٹر محمد نعیم نے کورس کی تفصیلات پیش کیں اور بتایا کہ تجوید کے ساتھ ساتھ غسل و دیگر اہم موضوعات پر بھی بنیادی تعلیم دی جائے گی۔ آئی ای ایس اور ڈیجٹائز گروپ کے سی ای او محمد عرفان قریشی نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ جناب نصیر الدین منشاوی نے اپنی مسحور کن قرأت کے ذریعہ سماں باندھ دیا۔ ڈائرکٹر ڈان گروپ آف ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس جناب فضل الرحمن خرم و دیگر معززین نے اس تقریب میں شرکت کی۔

نوٹ بندی کی پانچویں سالگرہ پر سوشل میڈیا پر طنزیہ ، مزاحیہ پوسٹس کی بارش

نوٹ بندی کی پانچویں سالگرہ پر سوشل میڈیا پر طنزیہ ، مزاحیہ پوسٹس کی بارش

ملک میں بڑے نوٹوں کو چلن سے باہر کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے کے موقع پر پیر کو ٹوئٹر اور فیس بک کے دنیا میں اس فیصلے پر طنزیہ،مزاحیہ، نوٹ میں خفیہ کمپیوٹر چپ جیسی پرانی خبروں کی ویڈیو کلپوں پر طنز اور کارٹون کی بارش رہی۔

ان پلیٹ فارموں پر 2000کے نوٹ پر پوٹیٹو چپس کا ایک ٹکڑا رکھ کر کھینچا گیا فوٹو خوب وائرل ہوا۔ یہ میڈیا کی ان رپورٹوں پر طنز تھا جن میں 2016کی نوٹوں کی منسوخی کے وقت ریزرو بینک کی طرف سے پہلی بار چلن میں لائے گئے 2000کے نوٹوں میں خفیہ کمپیوٹر چپ لگے ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ کئی ٹی وی اینکروں نے اپنی لمبی رپورٹ میں یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ 2000کے نوٹوں میں چپ لگائی گئی ہے جو بلیک منی کا پتہ لگانے میں سرکاری ایجنسیوں کی مد د کرے گی۔

خیال رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 8نومبر 2016کو رات آٹھ بجے ٹیلی ویژن پر قوم کے نام خطاب میں ایک ہزار اور پانچ سو کے پرانے نوٹوں کا چلن بند کرنے کا سنسنی خیز فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلہ کے بعد ریزرو بینک نے 2000روپے کا نیا نوٹ جاری کیا تھا اور 2000روپے کا نوٹ پہلی بار چلن میں لایا گیا تھا۔

نوٹوں کی منسوخی کے بعد پرانے نوٹ تبدیل کرانے کے لئے بینکوں اور ڈاک گھروں کے سامنے لوگوں کی مہینوں تک لمبی قطار دیکھی گئی تھیں

مسلم دشمنی میں مشہورنرسنہا نند کے چیلے یو ٹیوبر نے مسلمانوں کودی گندی گالیاں اورجان سے مارنے کی دھمکیاں

مسلم دشمنی میں مشہورنرسنہا نند کے چیلے یو ٹیوبر نے مسلمانوں کودی گندی گالیاں اورجان سے مارنے کی دھمکیاںنئی دہلی(ایجنسی)
رائٹ ونگ یوٹیوبر سریش راجپوت نے دیوالی پر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے دیوالی کو لےکرمبینہ ہندو مخالف خیالات کی مخالفت کرنے کے لیےگزشتہ چار نومبرکو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کیا تھا۔سوشل میڈیاپر وائرل ہوئے اس ویڈیو میں راجپوت کو وزیر اعلیٰ کیجریوال کے لیےغیرمہذب زبان کا استعمال کرتے اور انہیں گولی مارنے کی دھمکی دیتے سنا جا سکتا ہے۔
'دی وائر' کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ویڈیو میں وہ کہتے ہیں،'جب پاکستان سے ہندوستان ہارا تھا، تب دہلی میں پٹاخے چلے تھے، تب تیرا ایک بال بھی نہ اکھڑا۔ تیرا گیان دیوالی اور ہولی پر ہی باہر آتا ہے۔کیجریوال، پیتل بھر دوں گا، پیتل۔'بتا دیں کہ یہاں پیتل بھرنے سے مطلب گولی مارنے سے ہے۔
اس46 منٹ کے ویڈیو میں انہیں مسلمانوں کوپرتشدداورقابل اعتراض گالیاں اور دھمکیاں دیتے سنا جا سکتا ہے۔ حالانکہ ویڈیو کو جلد ہی ڈیلٹ کر دیا گیا۔اس کے بعد ویڈیو میں راجپوت اور راہل شرما نام کے ایک اور شخص کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ کس طرح اترپردیش پولیس نے مسلمان عورتوں کو سبق سکھایا۔
اس پورےویڈیو میں مسلمان مردوں کے لیےجہادی اور دوسرے قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔یوٹیوبر نےتریپورہ میں مسلم مخالف تشدد کا بھی جشن مناتے ہوئے کہا،اصلی دیوالی تریپورہ میں منائی گئی۔ یہی دیوالی ہے۔ 'تصورکیجیے سبھی ہندو تریپورہ کی طرح جاگ جائے تو سوچو آپ کا مقدر کیا ہوگا

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...