Powered By Blogger

جمعہ, اپریل 05, 2024

آخری عشرہ رمضان کے خصوصی اعمال

آخری عشرہ رمضان کے خصوصی اعمال
Urduduniyanews72 
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ
================================
اللہ رب العزت نے ہمیں رمضان المبارک کے تین عشرے دیے تھے،دوعشرے سے ہم گذرگئے،اللہ کی توفیق سے جتنی عبادت ممکن ہوسکی، کرنے کااہتمام کیا گیا،رحمتوں کے حصول کے ساتھ مغفرت کی امید بھی جگی،اب تیسرااورآخری عشرہ شروع ہوگیاہے،رمضان پورامہینہ گورحمتوں اوربرکتوں والا ہے ،اس کے باوجود پہلے عشرہ کے مقابلہ میں آخری عشرہ کی اہمیت وفضیلت بڑھی ہوئی ہے ، اس لیے کہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہمیں شب قدر کی تلاش کاحکم دیاگیاہے اورایک شب قدر کی عبادت کاثواب ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے،ذراسوچیے!اللہ کی نوازش اورعطاکااگر ہم نے رمضان کی پانچ راتوں میں اللہ کوراضی کرنے کے لیے محنت کرلیا تو سابقہ امتوں کی بڑی عمر اوران کی عباد ت سے ہم کس قدر آگے بڑھ جائیں گے ،یہ رات ہمیں یقینی مل جائے اس کی لیے ہمیں اللہ کے دربار میں پڑجاناچاہیے،اسی در پر پڑجانے کا شرعی نام اعتکاف ہے،جب بندہ بوریا،بستر لے کر اکیس کی رات سے مسجد میں اور عورتیں گھر کے کسی کونے میں جگہ مختص کرکے بیٹھ جاتی ہیں اورشب وروز علائق دنیا اور کاروبار زندگی سے الگ ہٹ کر صرف ذکراللہ ،تلاوت قرآن ،نماز ،تراویح،تہجد میں وقت صرف ہوتا ہے تو اللہ کی خصوصی رحمت اس بندے کی طرف متوجہ ہوتی ہے،اسے شب قدر بھی یقینی طور پر مل جاتی ہے،جو جہنم سے گلو خلاصی کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے، اس لیے ہر گاؤں ،محلہ کی مسجدوں میں اعتکاف کی نیت سے بیٹھنے کا اہتمام کرنا چاہیے،وقت ہواورسہولت میسر ہوتو ان اوقات کاکسی اہل اللہ کی معیت میں گذارنازیادہ کارآمد اورمفید معلوم ہوتاہے،تزکیہ نفس اوراصلاح حال کے لیے اہل اللہ کی صحبت کیمیا کا درجہ رکھتی ہے،اس لیے اہل اللہ کے یہاں آخری عشرہ کے اعتکاف میں مریدین ،متوسلین اورمعتقدین کابڑا مجمع ہوتا ہے اور وہ ان کی تربیت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
جولوگ اعتکاف میں نہیں بیٹھتے ہیں ،ان کے یہاں اس سلسلہ میں کافی کوتاہی پائی ،اس رات کی عباد ت کی طرف توجہ نہیں ہواکرتی اوراگر ہوتی بھی ہے تو بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جورت جگّہ میں اسے گذار دیتے ہیں ،مسجد میں بیٹھ کر دنیا جہاں کی گپ میں لگے ہوتے ہیں،ایک تورمضان کی رات دوسری شب قدر اورتیسرے اللہ کا گھر ،ظاہر ہے یہ رت جگے اللہ رسول کے حکم وہدایت کے مطابق نہیں ہیں،اس لیے مسجد میں گپ بازی سے ثواب کے بجائے الٹے وبال کا امکان ہے، اس لیے اس طرح کی حرکتوں سے گریز کرنا چاہیے ،جس قدر شرح صد رکے ساتھ عبادت ہوسکے، کرے ،لوگوں کودکھانے کے لیے رات بھر جاگنا اورلہوولعب میں مبتلا رہنے کاکوئی فائدہ نہیں ہے، اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے ۔
بعض حضرات اکیس(۲۱) ،تئیس (۲۳)،پچیس(۲۵) اورانتیس(۲۹) تاریخ میں شب قدر کی تلاش کااہتمام نہیں کرتے ہیں،وہ صرف ستائیس کی رات کوہی شب قدر مانتے ہیں اوراس رات میں زیادہ اہتمام کرتے ہیں،یہ طریقہ اس لیے صحیح نہیں ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کاحکم دیاہے ،نہ کہ صرف ستائیس کو ،ان میں سے بعضے منطقی گفتگو کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے سورۃ القدر میں تین بار لیلۃ القدر کاذکر کیا ہے اورایک لیلۃ القدر میں نوحروف ہیں،اس طرح تینوں لیلۃ القدر کے حروف کے اعداد ستائیس ہوتے ہیں، اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ شب قدر ستائیس کی رات کو ہے،لیکن چوں کہ یہ منطق احادیث کے خلاف ہے اس لیے اس کی حیثیت ذہنی ورزش سے زیادہ کچھ نہیں،بعض احادیث میں بھی ستائیس کا ذکر آیاہے؛لیکن محدثین نے طاق راتوں میں تلاش کرنے کی روایت کو درست قرار دیاہے،بعض بزرگوں نے بھی ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ستائیس کی شب کو شب قدر پایا،یہ ان کا مکاشفہ ہوسکتا ہے ؛لیکن ہم تو پابنداسی کے ہیں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
بعض لوگ اعتکاف میں بیٹھ کر بھی اللہ کی عبادت سے زیادہ دنیا کی فکر میں لگے رہتے ہیں ،دوسرے معتکفین کے ساتھ  غیر ضروری گفتگو میں زیادہ وقت گذار دیتے ہیں ،یہ طرز عمل بھی غیر مناسب ہے، اس سے احتیاط برتنا چاہیے۔
تراویح کی نماز اس عشرے میں بھی پہلے دوعشرے کی طرح ہوتی ہے؛لیکن ہمارے یہاں ہندوستان میں تین روز،دس روز ،پندرہ روز میں عموماًتراویح میں قرآن کریم سن لیاجاتاہے اورحفاظ سنالیاکرتے ہیںاور یہ کہاجاتاہے کہ ہماری تراویح ختم ہوگئی ،یہ ایک غلط تعبیر ہے جو ہمارے یہاں رائج ہے،تراویح کی نماز چاند دیکھ کر شروع کرنا اورچاند دیکھ کر بند کرنا ہے ،تراویح میں پوراقرآن سن لینا ایک کام ہے اورپورے مہینے میں تراویح کی نماز پڑھنا دوسراکام ، اس کی وجہ سے جولوگ تراویح میں ایک قرآن سن لیتے ہیں چاہے وہ جتنے دن میںہو تراویح پڑھنے میں سستی کرنے لگتے ہیںاورسورہ تراویح پڑھنے کو زائد عمل سمجھتے ہیں ،یہ سوچ غیر شرعی ہے، تراویح کی نماز کااہتما م پورے مہینہ کرنا چاہیے اوراس میں کسی قسم کی کوتاہی کوراہ نہیں دینی چاہیے!موقع نہ ہوتوتنہا ہی پڑھ لے؛لیکن پڑھے ،تراویح کی نماز سے محرومی بدبختی کی بات ہے ۔
کئی لوگ کسی خفگی ،امام سے رنجش ،مقتدیوں سے چپقلش کی وجہ سے مسجد حاضر نہیں ہوتے اوراپنے دروازہ پر ہی تنہا نماز پڑھ لیتے ہیں ،یہ عام دنوں میں بھی غلط ہے ،خصوصاًرمضان المبارک جیسے مہینے میں مسجد میں حاضری سے محرومی بہت افسوس کی بات ہے،ایسے لوگوں کواپنے اعمال کاجائزہ لیناچاہیے کہ جب سارے لوگ مسجد کارخ کرتے ہیں ،اللہ نے کس بدعملی یابے عملی کی وجہ سے رمضان المبارک میں اپنے گھر سے اسے دورکررکھاہے۔
رمضان کے اخیر عشرہ میں ہی عموماًعیدگاہ جانے سے پہلے تک صدقہ فطرمسلمان نکالتے ہیں،یہ بھی رمضان المبارک کی خاص عبادت ہے،اس سے غریبوں کے لیے نان نفقہ کاانتظام ہوجاتاہے،اس رقم کا استعمال اپنے غریب رشتہ داروں ،پاس پڑوس کے محتاجان اورضرورت مندوں کے لیے کرنا چاہیے،کیوں کہ یہ لوگ اس رقم کے زیادہ مستحق ہیں،آپ کے تعاون سے ان کی عید بھی اچھی گذرجائے گی اور اللہ کی میزبانی کایہ لوگ بھی فائدہ اٹھاسکیں گے،فقہاء کی ایک تعبیر انفع للفقرائکی بھی ہے،یعنی وہ چیزجس سے فقراء کو زیادہ فائدہ پہونچے،صدقۃ الفطر عام طور پر نصف صاع گیہوں یااس کی قیمت جو مقامی ہوتی ہے کے حساب سے نکالاجاتاہے،یہ رقم کم ازکم پچاس روپے بنتی ہے؛لیکن اگرکھجور،کشمش وغیرہ سے فطرہ نکالیں گے تو ان اجناس کے گراں ہونے کی وجہ سے قیمت بڑھ جائے گی اوران کی مقدار بھی ایک صاع ہے،اس لیے ہراعتبار سے یہ فقراء کے لیے زیادہ نفع بخش ہے،اس لیے جو لوگ استطاعت رکھتے ہوں وہ دوسری اجناس سے بھی فطرہ نکالیںتو بہتر ہوگا،یہ ایک مشورہ ہے ،ہم کسی پر لازم نہیں کرسکتے کہ وہ فلاں چیز سے ہی فطرہ نکالے،جب شریعت نے اختیار دیاہے تو ہمیںکیا حق پہونچتاہے کہ کسی ایک چیز کو خاص کرلیں۔
اس عشرہ کا اختتام عیدالفطر کے چاند دیکھنے پر ہوتاہے،عید کا چاند دیکھنے کے بعدرمضان کے رخصت ہونے کی حسرت عیدکی خوشی پر غالب آجاتی ہے،اورایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ جس طرح شیطان قیدوبند سے آزاد ہوا ،اسی طرح ہم بھی آزاد ہوگئے ،پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں اوراس رات کوقسم قسم کے خرافات سے آلودہ کیاجاتاہے،نوجوانوں کے لیے یہ رات بھی رت جگّے کی ہوجاتی ہے،حالانکہ حدیث میں اس رات کانام لیلۃ لجائزہ ،انعام والی رات ہے،مہینے بھرجوعبادت کی گئی اس کا انعام اب ملنے والا ہے،ابھی انعام ملا نہیں کہ تماشے شروع ہوگئے،اچھے اچھے لوگوں کودیکھا کہ وہ عید کی صبح فجر کی نماز سے غائب تھے،حالانکہ فجر کی نماز توفرض ہے ،پہلے ہی دن رمضان کااثرختم ہوگیا،حالانکہ رمضان تربیت کامہینہ تھا اوراس ایک ماہ کی تربیت کااثر گیارہ ماہ تک باقی رہناتھا،زندگی اوراعمال میں تبدیلی آنی تھی،لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا،اس کا مطلب ہے کہ ہمارے روزے اورعبادتیں اس پائے کی نہیں ہوپائیں جو شریعت کومطلوب ہے اورجس کے نتیجے میں تقویٰ کی کیفیت پیداہوتی ہے،ذراسوچیے!اوراپنا محاسبہ کیجئے!شاید اس محاسبہ کے بعد ہم اپنے اندر تبدیلی پیداکرسکیں۔

تقسیم زکوٰۃ - چند گذارشات

تقسیم زکوٰۃ - چند گذارشات 
Urduduniyanews72 
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ
================================
 زکوٰۃ مالداروں پر فرض ہے اور اسلام میں مالداری کا تصور حوائج اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اس کی قیمت سے زیادہ مال کا ملکیت میں ہونا ہے، وجوب زکوٰۃ کے لیے اس زائد مال پر سال بھی گذر نا چاہیے، یہ سال تمام مسلمانوں کے مال پر ایک ساتھ تو گذر نہیں سکتا،اس لیے زکوٰۃ کے لیے سب کا مالی سال الگ الگ ہوتا ہے، یہ الگ سی بات ہے کہ بیش تر لوگ وجوب زکوٰۃ کے باوجود ادائیگی میں تاخیر کرتے ہیں اور رمضان المبارک کو اپنا مالی سال ادائیگی زکوٰۃ کے لیے سمجھتے ہیں، اس موقع سے کثرت سے زکوٰۃ کی تقسیم ہوتی ہے ۔
 زکوٰۃ کن لوگوں کو دینی ہے اس کے مدات قرآن کریم میں مذکور ہیں، فقرائ، مساکین، زکوٰۃ جمع کرنے والے عاملوں اور اس سے متعلق کام کرنے والے، تالیف قلب ،غلام کو آزاد کرانے ، قرض کی ادائیگی ، اللہ کے راستے میں جہاد کرنے اور مسافروں کے ساتھ نا گہانی حادثات کے موقع سے زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے ۔
یہ مدات اللہ کی جانب سے مقرر ہیں، اس لیے کسی بھی حال میں کسی کے بھی ذریعہ اس کا سقوط اور من مانے طور پر استعمال غیر شرعی اور موجب عذاب ہے، اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے، یہ تو ہو سکتا ہے کہ بعض مدات پر خرچ کی ضرورت نہ باقی رہے تو اس مد میں ادائیگی نہ کی جائے، جیسا کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے عہد میں مؤلفۃ القلوب پر خرچ کرنا موقوف کر دیا تھا، کیوں کہ ضرورت باقی نہیں رہ گئی تھی ، اللہ رب العزت نے اسلام کو سر بلندی عطا کر دی تھی۔
 غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے مصارف وہ ہیں جن میں مسلمانوں کی شخصی ضروریات ، اجتماعی حفاظت اور حقیقی یا امکانی شرور وفتن کے دفاع کو ملحوظ رکھا گیا ہے، حضرت علامہ انور شاہ کشمیری ؒ نے فقر اور سفر کو تمام مدات کا خلاصہ بتایا ہے، بعض مدات میں ان دنوں بغیر کسی دلیل کے تیزی سے لوگ توسع کیے جا رہے ہیں، سارے لوگوں کی نگاہ زکوٰۃ پر ہے کتابیں بھی اس سے چھپوائی جا رہی ہیں، چلت پھر ت کا کام بھی اسی مد سے کرایا جا رہا ہے ، ایک بڑی رقم زکوٰۃ کی غرباء کو خود کفیل بنانے اور امپاورمنٹ کے نام پر صرف کی جا رہی ہے ، بعضوں کی تجویز تو یہ بھی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم جمع کرکے کار خانہ کھول دو اور غیر مستطیع کو ملازمت سے لگادو، وہ سب خود کفیل ہو جائیں گے ،یہ غیر اسلامی تصور تیزی سے مسلمانوں میں پروان چڑھ رہا ہے، اتنا سرمایہ انفرادی طور پر جمع کرنا آسان کام نہیں ، اس لیے اجتماعی نظام زکوٰۃ کی اہمیت پر سمینار ، سمپوزیم کرکے ماحول کو سازگار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، یہاں بھی پریشانی یہ ہے کہ اجتماعی نظام زکوٰۃ کے قیام کے نام پر چند افراد مل کر ایک تنظیم بنا لیتے ہیں اور کام شروع کر دیتے ہیں، حالاں کہ اجتماعی نظام بغیر امیر کی اجازت کے قائم نہیں ہو سکتا، ہندوستان میں امارت شرعیہ مختلف صوبوں میں قائم ہے، وہاں کے امیر کی اجازت سے اجتماعی نظام قائم ہو سکتا ہے ، چونکہ مسلمانوں میں مسلکی اور تنظیمی بنیادوں پر بھی جماعت جمعیت اور امارت قائم ہے ، اس لیے جو جس جماعت سے متعلق ہے کم سے کم اس جماعت کے امیر کی اجازت تو لے لے، بیت المال کا قیام یقینا شرعی ضرورت ہے، لیکن اس کے قیام کے لیے بھی کچھ شرائط ہیں، ان کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، ورنہ ہم ایک شرعی کام غیر شرعی انداز میں کرنے کے مرتکب ہوں گے ۔
امارت شرعیہ نے ہر دور میں زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا ہے ، اسی لیے مولانا ابو المحاسن محمد سجادؒ ، بانی امارت شرعیہ نے مستحقین تک بیت المال کے ذریعہ زکوٰۃ کی رقم پہونچانے کا تین طریقہ اختیار کیا تھا، ایک یہ کہ امارت شرعیہ کے نقباء اور تنظیم کے ذمہ داران زکوٰۃ وصول کرکے اسی علاقہ کے غرباء پر تقسیم کرکے حساب بیت المال میں داخل کیا کریں، یہ در اصل مالداروں سے لے کر اسی علاقہ پر خرچ کرنے کے اصول پر مشتمل ہے، تؤخذ من اغنیاء ھم وترد علی فقراء ھم کی عملی شکل ۔
 دوسرا طریقہ یہ اختیار کیا تھا کہ زکوٰۃ کی رقم وصول کر بیت المال کو بھیج دی جائے اور ساتھ میں ضرورت مندوں کی ایک فہرست بھی مرکزی دفتر کو دی جائے تاکہ وہاں کی رقم سے ہی غرباء کی مدد اس فہرست کے مطابق کی جائے۔
 تیسرا طریقہ مدارس اسلامیہ کے لیے زکوٰۃ کی وصولی کا تھا، یہ بھی ضروری کام تھا، اس لیے امارت شرعیہ سے مدارس اسلامیہ کو تصدیق نامہ جاری کیے جاتے ہیں، جو اصلاً زکوٰۃ وصولی کی اجازت ہے، یہ کام بھی حضرت امیر شریعت کے حکم سے ہوتا ہے ، اس لیے یہ بھی اجتماعی طور پر زکوٰۃ کے استعمال کی ایک شکل ہے۔
 اس موقع سے مدارس کے سفراء بڑی تعداد میں زکوٰۃ کی وصولی کے لیے نکلتے ہیں، اس کام کے لیے ان کے پاس مختلف تنظیموں کے تصدیق نامے ہوتے ہیں، یہ ان طلبہ کے لیے زکوٰۃ کی رقم اکھٹی کرتے ہیں جو ان کے یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور غیر مستطیع ہوتے ہیں، اصلا یہ مہتمم ، ناظم صاحبان کے واسطے سے طلبہ کے وکیل ہوتے ہیں، ان کو دینے سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا ثواب بھی ملتا ہے ، اور اشاعت دین کا بھی۔
 آج کل بہت سارے مدارس رسید پر ہی ہوتے ہیں، زکوٰۃ کی رقم دیتے وقت اس کی تحقیق کرلینی چاہیے، اس تحقیق کی تکمیل قابل ذکر اداروں کے ذریعہ دیے گیے تصدیق ناموں سے بھی ہوجاتی ہے، امراء کے یہاں ایک رواج یہ بھی چل پڑا ہے کہ وہ سابقہ ریکارڈ دیکھ کر رقم کی ادائیگی کرتے ہیں، اور اس طرح وہ بار بار کی تحقیق سے بچ جاتے ہیں، جن مدارس کے پاس پہلے کا رکارڈ نہیں ہوتا، انہیں یہ کہہ کر واپس کر دیتے ہیں کہ ’’ہم نئے مدرسے کو نہیں دیتے‘‘، یہ اچھی بات نہیں ہے ، ہو سکتا ہے وہ مدرسہ بہت معیاری ہو ،کمی صرف یہ ہے کہ آپ کے پاس پہلے نہیں پہونچ پایا تھا، آپ کو تحقیق کا تو حق ہے ، دینے کی گنجائش نہیں ہے تو معذرت اور معافی بھی ایک شکل ہے ، لیکن یہ جملہ ٹھیک نہیں ہے کہ ہم ’’نئے کو نہیں دیتے‘‘ اس لیے کہ اس جملہ کے بدلہ میں اگر اللہ نے آپ کو کچھ نئے دینے کا سلسلہ روک دیا تو آپ کی ساری امیری کچھ ہی دن میں غریبی میں بدل جائے گی۔
 محصلین کے ساتھ امراء کا رویہ عموما ہتک آمیز رہتا ہے ، اس سے بھی اجتناب ضروری ہے ، اکرام مسلم شرعی چیز ہے اور مسلمان بھی ایسا جو عالم حافظ قاری ہو اور اپنے لیے نہیں، دینی تعلیم کے فروغ اور مہمانان رسول کی خدمت کے لیے اس کام کے لیے آپ تک پہونچا ہو ، ایسوں کی توہین اللہ رب العزت کی ناراضگی کا سبب بن جائے تو کچھ بعید نہیں۔
 یقینا محصلین بھی الگ الگ نو عیت کے ہوتے ہیں، سب متقی، پر ہیز گار اور شریعت کے پابند اس قدر نہیں ہوتے جیسا ہونا چاہیے، بعضے تو رکارڈ کو ادھر اُدھر کرنے اور جھوٹ بولنے سے بھی پرہیز نہیں کرتے،ایسے لوگوں کو اپنے اندر تبدیلی لانی چاہیے، محصلین میں ایک بات قدر مشترک ہونی چاہیے کہ وہ اس کام کو عزت نفس کے ساتھ کریں ، گڑگڑانا ، کاسہ لیسی کرنا ، خوشامد کرنا یہ علماء کے شایان شان نہیں ہے، ان کو ’’جو دے اس کا بھی بھلا اور نہ دے اس کا بھی بھلا‘‘ کے فارمولے پر عمل کرنا چاہیے،ا س سے کام میں برکت بھی ہوتی ہے اور عالمانہ کردار اور داعیانہ وقار بھی محفوظ رہتا ہے ۔
 زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے وقت اپنے اعزواقرباء اور اپنے قرب وجوار کے غرباء ومساکین کا بھی خیال رکھیں ، پیشہ وارانہ لوگوں کی بات میں نہیں کرتا، ایسے لوگ جو روزی حاصل نہیں کر پا رہے ہیں اور ہاتھ پھیلا نے کی ذلت سے بچنا بھی چاہتے ہیں، ان کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ انجان لوگ انہیں مالدار سمجھتے ہیں، حالاں کہ وہ غریب ہوتے ہیں، لپٹ کر مانگنا ان کا شیوہ نہیں ہوتا، ایسے لوگ ہماری توجہ کے زیادہ مستحق ہیں، اگر آپ انہیں مستحق زکوٰۃ سمجھتے ہیں تو بغیر بتائے بھی ان پر یہ رقم خرچ کر سکتے ہیں، زکوٰۃ آپ کی ادا ہوجائے گی۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...