Powered By Blogger

جمعرات, مارچ 31, 2022

حجاب -عورتوں کی ضرورتمفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

حجاب -عورتوں کی ضرورت
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
آج سماج ومعاشرہ میں بے حیائی، فحاشی اور عریانیت نے جس قدر راہ پالیا ہے، اس کی بڑی وجہ ستر وحجاب کے سلسلہ میں اسلامی احکام کی ان دیکھی ہے، مغرب نے آزادیٔ نسواں کے نام پر عورتوں کو گھر سے باہر نکالا، حجاب اور پردہ کو دقیانوسی قرار دے کر ایسا پروپیگنڈہ کیا کہ عورتوں کو حجاب، قید وبند نظر آنے لگا، چنانچہ وہ بے محابا بازاروں، گلیوں، کوچوں اور حد یہ کہ کوٹھوں کی زینت بننے لگیں، انہوں نے صرف حجاب نہیں اتارا، وہ مادر وپدر آزاد ہوگئیں، اس آزادی کے نتیجے میں ان کی عریاں تصویریں ماچس کے ڈبے سے لے کر بڑی بڑی مصنوعات کے پیکٹوں پر چھپنے لگیں، عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں، وہ مردوں کی اس سازش کو نہ سمجھ سکیں کہ مردوں نے اپنی تفریح طبع اور آنکھ سیکنے کے لیے انہیں چادر اور چہار دیواری سے نکالا ہے، مرد عورتوں کا ہاتھ بچوں کی ولادت اور دودھ پلانے میں تو نہیں بٹا سکتا، مگر روزی روٹی کے حصول میں مردوں نے عورتوں کو اپنا شریک وسہیم بنالیا، اب عورت گھریلو ذمہ داری بھی ادا کرتی ہے، نسل کی بقا کا بوجھ بھی اس پر ہے اور دن بھر آفس میں غیر مردوں کی نگاہوں کا نشانہ بنتی ہے اور گھر جب تھکی ماری آتی ہے تو گھر کا کچن اس کا انتظار کررہا ہوتا ہے، اس طرح آزادی کے نام پر عورتوں کے استحصال کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔
اسلام نے آزادی نہ مردوں کو دی، نہ عورتوں کو، دونوں کو احکام الہی کا پابند بنایا، صنفی رجحانات کے پیش نظر ان کی ذمہ داریاں الگ الگ قرار دیں، دونوں کے حقوق مقرر کیے اور دونوں کو فرائض بھی سونپے اور اس قدر حقوق دیئے کہ دوسرے مذاہب میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی، دونوں کی خدمت کا دائرہ کار مقرر کیا، مرد کو نفقہ کے حصول کے لیے تگ ودو کا مکلف بنایا اور عورتوں کو بچوں کی پرورش وپرداخت، شوہر کے مال کی نگہداشت اور امور خانہ داری کی انجام دہی کا ذمہ دیا۔
عورتوں نے اس تقسیم کو پسند نہیں کیا اور وہ مردوں کے محاذ میں جاگھسیں اور یہ بات بھول گئیں کہ یہ محاذ ان کی صنفی صلاحیتوں کے اعتبار سے قطعا غیر مناسب ہے، وہ گھر کے ماحول کو اسلامی رکھ کر اور بچوں میں غیرت اسلامی پیدا کرکے انہیں مجاہد بنانے کے لیے جد وجہد کرسکتی ہیں، لیکن وہ مجاہد بنانے کے بجائے خود میدان کارزار میں کودنا چاہتی ہیں، اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ کسی اسلحہ ساز کمپنی کو محاذ پر لے جا کر رکھ دیا جائے تو یہ کمپنی میدان کارزار میں کیا کرلے گی، بلکہ ہوسکتا ہے اس کی حفاظت کی جدو جہد میں جیتی جنگ بھی ہار میں بدل جائے، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ عورت خود مجاہدہ نہیں؛بلکہ وہ مجاہد پیدا کرنے کا کارخانہ ہے اور جب سے اس کارخانہ نے اپنا یہ کام چھوڑ دیا، مجاہد کی تعداد گھٹتی چلی گئی۔
آزادی کے نام پر عورتوں کا ایک طبقہ تو وہ ہے جس نے حجاب اتار پھینکا ہے، اور ان کا خیال ہے کہ نقاب لگانے سے مردوں کی نگاہ اس طرف زیادہ اٹھتی ہے، حضرت تھانویؒ کے ایک خلیفہ صوفی عبد الرب تھے، وہ کہا کرتے تھے کہ چلو حجاب اتار دو، اب جو لوگ گھوریں گے تو کون کون سے کپڑے اس ڈر سے اتاروگی۔
عورتوں کی ایک جماعت وہ ہے جس نے حجاب کو بے حجابی کا ذریعہ بنا رکھا ہے، ایسا پرکشش، اعضا کے سارے ابھار کو نمایاں کرنے والا نقاب پہنتی ہیں کہ خواہی نخواہی آنکھیں اٹھ جاتی ہیں، یہ کاسیات عاریات کی قبیل سے ہیں، اور دعوت گناہ کی مرتکب ہیں۔ ماضی قریب کے مشہور بزرگ حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحبؒ بار بار فرماتے تھے کہ آئوٹ لک(Out Luck)پر اگر نگاہ ٹک گئی تو ان پٹ (In Put) تک پہنچنے کی خواہش جوان ہوجاتی ہے۔اس لیے شریعت نے ہر دو کو غض بصر کا حکم دیا، بلکہ عورتوں سے پہلے مردوں کو حکم دیا کہ وہ غص بصر کریں اور شرمگاہ کی حفاظت کریں۔ حضرت حکیم صاحب کبھی یہ بھی فرماتے کہ اگر کسی نے اوپری منزل پر جگہ بنا لی، تو گرائونڈ فلور تک پہنچنے سے اسے روکا نہیں جاسکتا، اس جملہ کی معنویت پر جتنا غور کریں گے،نگاہ اور شرمگاہ کی حفاظت کی معنویت اتنی ہی واضح ہوجائے گی۔

اپریل فول کا شرعی حکم____شمشیر عالم مظاہری دربھنگویامام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار

اپریل فول کا شرعی حکم____
شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی
امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار
  بندوں پر سب سے پہلے اس چیز کا جاننا ضروری ہے جس کے لئے اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے؟ اور جس کا اللہ نے ان سے عہد لیا ہے اور جس کے لئے ان کی طرف اپنے رسولوں کو بھیجا ہے اور جس کے لئے ان پر اپنی کتابیں نازل کیں ہیں اور جس کے لئے دنیا و آخرت اور جنت و جہنم پیدا کی گئی ہے اور جس کے سبب آخرت کی حقیقت ثابت کی جائے گی اور یہ ہونے والی بات ہو کر رہے گی اور جس کے لئے عدل کی ترازو کھڑی کی جائے گی اور نامۂ اعمال بکھیر دئیے جائیں گے اور جس میں لوگوں کی سعادت اور بد بختی ہوگی اور اسی کے حساب سے نور ایمان تقسیم ہوگا اللہ جس کے لئے نور نہ دے اس کے لئے کوئی نور نہیں ۔
دین اسلام اللّٰہ رب العزت کے ان احکام کا نام ہے جو اس نے اپنے حبیب پاک نبی العرب والعجم فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور اپنی کتاب قرآن مجید کے واسطہ سے ہم تک بھیجے ہیں احکام خداوندی عقائد سے بھی متعلق ہیں اور عبادات سے بھی معاملات سے بھی اور معاشرت سے بھی تجارت سے بھی اور زراعت سے بھی ظاہر سے بھی اور باطن سے بھی جسم سے بھی اور مال سے بھی غرضیکہ انسانی زندگی کا ہر شعبہ اور گوشہ احکام خداوندی میں جکڑا ہوا ہے ۔
صرف مسلمان کا بیٹا ہونے سے کوئی مسلمان نہیں ہو جاتا ہے آج کل کے مسلمان اکثر نام کے مسلمان ہیں اسلام کو نہ خود سیکھتے ہیں نہ اپنی اولاد کو دینی تعلیم دلاتے ہیں حالانکہ یہ بہت بڑا قصور ہے جب علم نہ ہوگا تو کیوں کر عمل صحیح کر سکیں گے اور عقائد کیوں کر درست ہونگے ۔
مسلمانوں کے لئے نصاریٰ کی پیروی اپریل فول منانا یعنی لوگوں کو جھوٹ بول کر فریب دینا یا ہنسنا ہنسانا جائز نہیں حرام ہے سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے (ویل للذی یحدث فیکذب یضحک به القوم ویل له!ویل له) یعنی ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو اس مقصد کے لئے جھوٹی بات کرے کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو ہنسائے اس کے لئے ہلاکت ہے اس کے لئے ہلاکت ہے۔ (ابو داؤد)
نیز ارشاد ہے : لا یؤ من العبد ا لا یمان کله حتیٰ یترک الکذب فی مزاحه ویترک المرأ وان کان صادقا : یعنی بندہ اس وقت تک پورا ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک مزاح میں بھی غلط بیانی نہ چھوڑ دے اور سچا ہونے کے باوجود جھگڑا نہ چھوڑ دے (کنز العمال)
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے آپ کو آسمان پر لے گئے ہیں وہاں آپ نے دو آدمیوں کو دیکھا ایک کھڑا ہوا ہے دوسرا بیٹھا ہے کھڑا ہوا شخص بیٹھے ہوئے آدمی کے کلے کو لوہے کی زنبور سے گدی تک کاٹتا ہے پھر دوسرے کے کلے کو اسی طرح کاٹتا ہے اتنے میں پہلا کلا ٹھیک ہو جاتا ہے اس کے ساتھ یہ عمل برابر جاری ہے آپ نے اپنے ساتھی فرشتوں سے دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا جس کو آپ نے دیکھا کہ اس کے کلے چیرے جارہے ہیں وہ ایسا بڑا جھوٹا ہے جس نے ایسا جھوٹ بولا کہ وہ اس  سے نقل ہو کر دنیا جہاں میں پہنچ گیا لہذا اس کے ساتھ قیامت تک یہی معاملہ کیا جاتا رہے گا (بخاری شریف)
اپریل فول جس میں آج کل بہت لوگ مبتلا ہیں اپریل فول کی رسم مغرب  سے ہمارے یہاں آئی ہے اور یہ بہت سے کبیرہ گناہوں کا مجموعہ ہے
اول:۔۔۔  اس دن صریح جھوٹ بولنے کو لوگ جائز سمجھتے ہیں، جھوٹ کو اگر گناہ سمجھ کر بولا جائے تو گناہ کبیرہ ہے اور اگر اس کو حلال اور جائز سمجھ کر بولا جائے تو اندیشۂ کفر ہے (شرح فقہ اکبر)
  جھوٹ کی برائی اور مذمت کے لئے یہی کافی ہے کہ قرآن کریم نے  لعنت اللہ علی الکذبین ،،(آل عمران) فرمایا ہے گویا جو لوگ اپریل فول مناتے ہیں وہ قرآن میں ملعون ٹھراۓ  گئے ہیں اور ان پر خداتعالیٰ کی، رسولوں کی، فرشتوں کی، انسانوں کی، اور ساری مخلوق کی لعنت ہے ۔
دوم :۔۔۔  اس میں خیانت کا بھی گناہ ہے چنانچہ حدیث شریف میں ہے : کبرت خیانۃ أن تحدث أخاک حدیثا ھو لک مصدق وأ نت به کاذب ۔ یعنی بہت بڑی خیانت ھے کہ تم اپنے بھائی سے ایک بات کہو جس میں وہ تمہیں سچا سمجھے حالانکہ تم جھوٹ بول رہے ہو (ابوداؤد)
اور خیانت کا کبیرہ گناہ ہونا بالکل ظاہر ہے 
سوم:۔۔۔ اس میں دوسرے کو دھوکہ دینا ہے یہ بھی گناہ کبیرہ ہے حدیث میں ہے من غشنا فلیس منا،  جو شخص ہمیں یعنی مسلمانوں کو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں (مشکوۃ)
چہارم :۔۔۔ اس میں مسلمانوں کو ایذا پہنچانا ہے یہ بھی گناہ کبیرہ ہے قرآن کریم میں ہے 
مفہوم بے شک جو لوگ نا حق ایذا پہنچاتے ہیں مومن مردوں اور عورتوں کو انہوں نے بہتان اور بڑا گناہ اٹھا یا (الاحزاب)
پنجم !۔۔۔ اپریل فول منانا گمراہ اور بے دین قوموں کی مشابہت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ، من تشبه بقوم فھو منھم ، جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہی میں سے ہوگا (جامع الصغیر ، مشکوۃ)
جھوٹ کا معاملہ کتنا نازک ہے اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے، حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مکان میں تشریف فرما تھے میری والدہ نے میری جانب بند مٹھی بڑھا کر کہا یہاں آؤ میں تمہیں دوں گی جیسے مائیں بچے کو پاس بلانے کے لئے ایسا کرتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اسے کیا دینے کا ارادہ تھا والدہ نے جواب دیا کہ میں اسے کھجور دینا چاہتی تھی آپ نے فرمایا کھجور نہ دیتی تو تمہارے نامۂ اعمال میں ایک جھوٹ لکھا جاتا (الترغیب والترہیب)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ  بہت سی ایسی باتیں جنہیں معاشرہ میں جھوٹ نہیں سمجھا جاتا ہے ان پر بھی جھوٹ کا گناہ ہو سکتا ہے۔ بچوں کو جھوٹی تسلیاں دینا اور جھوٹے وعدے کرنا عام طور پر ہر جگہ رائج ہے اور اسے جھوٹ سمجھا ہی نہیں جاتا  حالانکہ ارشاد نبوی کے مطابق یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے۔  اسی طرح ہنسانے کے لئے اور محض تفریح طبع کے لئے جھوٹ بولنے کو گویا کہ حلال سمجھا جاتا ہے اور اسے قطعاً عیب کی چیز شمار نہیں کیا جاتا جبکہ اس مقصد سے جھوٹ بولنا بھی سخت گناہ ہے
جھوٹ سے بچنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی ضمانت لی ہے۔ آپ نے فرمایا ، انا زعیم بیت فی وسط الجنۃ لمن ترک الکذب وان کان مازحا،  میں اس شخص کے لئے بیچ جنت میں گھر کی کفالت لیتا ہوں جو جھوٹ کو چھوڑ دے اگرچہ مذاق ہی میں کیوں نہ ہو (الترغیب والترہیب، بیقہی فی شعب الایمان)
 جو لوگ فیشن کے طور پر اپریل فول مناتے ہیں ان کے بارے میں اندیشہ ہے کہ وہ قیامت کے دن یہود و نصاریٰ کی صف میں اٹھائے جائیں جب یہ اتنے بڑے گناہوں کا مجموعہ ہے تو جس شخص کو اللہ تعالی نے معمولی عقل بھی دی ہو وہ انگریزوں کی اندھی تقلید میں اس کا ارتکاب نہیں کر سکتا اس لئے تمام مسلمان بھائیوں کو نہ صرف اس سے توبہ کرنی چاہیے بلکہ مسلمانوں کے مقتدا لوگوں کا فرض ہے کہ اپریل فول پر قانونی پابندی کا مطالبہ کریں اور اس باطل رسم کو سختی سے روکیں

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...