Powered By Blogger

منگل, جنوری 25, 2022

دم توڑتی جمہوریت مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

دم توڑتی جمہوریت 
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ(9431003131)
 ۲۶؍ جنوری کو ہر سال ہم لوگ جشن جمہوریت مناتے ہیں، سرکاری ونجی دفاتر، اسکول ، تعلیمی ادارے اور ملک کی عوام اس جشن کا حصہ بنتے ہیں، لاک ڈاؤن سے قبل انڈیا گیٹ پردہلی میں بڑا پروگرام ہوا کرتا تھا، جس میں شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ہم اپنی دفاعی قوت وطاقت اورہندوستان کی تہذیب وثقافت کو مختلف قسم کی جھانکیوں کے ذریعہ دیکھا کرتے تھے، لاکھ ڈاؤن کے زمانہ میں بھی یہ قومی تہوار منایا جاتا ہے، لیکن عوام کی بھیڑ اور شا ن وشوکت میں بڑی کمی آگئی ہے، پل پل کی خبروں اور مناظر کے ٹیلی ویزن پر نشر کرنے کی وجہ سے عوام انڈیا گیٹ پر جانے کے بجائے ٹی وی سے چپک کر بیٹھ جاتی ہے اور وہاں جانے کی زحمت کے بغیر پل پل کو اپنی نظروں میں قید کر لیتے ہیں جو شاید وہاں جا کر کسی حال میں ممکن نہیں ہے۔
۱۹۵۰ء میں اسی تاریخ کو ملک میں جمہوری دستور نافذ ہوا تھا، اور ہم نے یہ عہد لیا تھا کہ ہم اس ملک میں جمہوری قدروں کی حفاظت کریں گے، اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب مختلف مذاہب اور ثقافت کے آمیزہ سے تیار اس ملک کے کلچر کو ضائع نہیں ہونے دیں گے، ملک کو اس مقام ومرتبہ تک پہونچانے کے لیے تمام مذاہب کے لوگوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا، جیل کی صعوبتیں بر داشت کی تھیں، ان میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیو بندی بھی تھے، اور شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی بھی، مولانا ابو المحاسن محمد سجاد بھی تھے او رحضرت مولانا منت اللہ رحمانی بھی، مولانا عبید اللہ سندھی بھی تھے اور اشفاق اللہ خان بھی، چندر شیکھر بھی تھے اور رام پرشاد بسمل بھی، مولانا ابو الکلام آزاد بھی تھے اور موہن داس کرم چندگاندھی بھی ، کھودی رام بوس بھی تھے اور مولانا حسرت موہانی بھی، آزاد ہند فوج کے نیتاجی سبھاش چندر بوس بھی تھے اور کرنل محبوب بھی، شاہ نواز بھی تھے اور مولانا شفیع داؤودی بھی، مولانا مظہر الحق بھی تھے اور جواہر لال نہرو بھی، کس کس کا ذکر کروں اور کس کو چھوڑوں ، سب کی قربانیاں تھیں، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ مسلمان اس جد وجہد میں ۱۷۵۷ء سے شریک تھے اور دوسرے ۱۸۵۷ء سے، ہماری قربانیاں ایک سو سال پہلے سے جاری تھیں، لیکن جب ملک آزاد ہوا تو سب سے پہلے ہم ہی بھلا دیے گیے ، بھلانے کا یہ کام اس قدر آگے بڑھ گیا ہے کہ ان شہیدوں کی یاد میں جو آثار قائم تھے ان کا نام بھی بدلا جا رہا ہے اور یہ سب اس ملک میں ہو رہا ہے، جس کی جمہوریت دنیا کی بڑی جمہوریت ہے، اور ہم جس پر فخرکرتے نہیں تھکتے۔ 
آج جب ہم تہترواں جشن جمہوریت منا رہے ہیں تو ہمارے ملک میں جمہوریت دم توڑ رہے، جمہوریت کے چاروں ستون انتظامیہ مقننہ، عدلیہ اور میڈیا جمہوری اقدار کی حفاظت کے لیے جو کچھ اور جتنا کچھ کر سکتے تھے، وہ ہو نہیں پار ہا ہے، مقننہ میں ایک خاص فکر کے لوگوں کا غلبہ ہو گیا ہے، بیورو کریٹ اور انتظامیہ بھی اسی رخ پر کام کررہی ہے جو حکمراں طبقہ چاہتاہے، الناس علی دین ملوکھم کا یہی مفہوم ہے،میڈیا بک چکی ہے، وہ نہ تو غیر جانبدار ہے نہ حق کی طرفدار، اب وہ صرف وہی لکھتا چھاپتا ، سناتا اور دیکھا تا ہے جو اس کے خریدار کہتے ہیں، رہ گئی عدلیہ، بھلی بُری توقعات اسی سے وابستہ ہیں، اور واقعہ یہ ہے کہ اب جمہوریت کی بقا کے لیے اسی کو کام کرنا ہے، ورنہ سمجھئے جمہوریت کا کام اس ملک سے تمام ہوجائے گا، جس کی آواز مختلف سطح سے ہندو راشٹر کے عنوان سے مسلسل اٹھ رہی ہے اور بی جے پی کی اصلی قیادت کرنے والی آر اس اس نے اسی سمت میں کام تیزی سے شروع کر دیا ہے، دھرم سنسد میں مسلمانوں کے قتل عام کے لیے لوگوں کو تیار کیا جا رہا ہے، اسلحے تقسیم کیے جا رہے ہیں، تاریخ بدلی جا رہی ہے ، اقدار بدلے جا رہے ہیں، تعلیمی پالیسی بدل گئی ، بابری مسجدکی جگہ رام مندرکی تعمیر ہو رہی ہے، گیان واپی مسجد اور متھرا کی عیدگاہ پر فرقہ پرستوں کی نگاہ ہے، ایسے میں جمہوریت اس ملک میں انتہائی نازک دو رسے گرزررہی ہے ۔
 اس دم توڑتی جمہوریت کی حفاظت کے لیے عوام کو آگے آنے کی ضرورت ہے، لیکن وہ اس لیے آگے نہیں آ پا رہی ہے کہ اسے ہندوتوا کا سبق مضبوطی سے پڑھایا گیا ہے، پرانے لوگ ضرور سیکولر ہیں، لیکن نئی نسلوںمیں مختلف ذرائع سے دل ودماغ میں مسلمانوں کے خلاف جو نفرت بھر دی گئی ہے اس کے رہتے ہوئے جمہوریت کی حفاظت ممکن نہیں، تھوڑی بہت امید دلت مسلم اتحاد سے ہے، وہ بھی وقوع پذیر ہو تب کی بات ہے۔

جمہوریت کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہےساجد حسین ندوی

جمہوریت کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے
ساجد حسین ندوی


بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے اور آبادی کے لحاظ کے یہ دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اگرپوری دنیا کی آبادی کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جائے تو ان چھ حصوں میں ایک حصہ کی آبادی ملک ہندوستان کا ہوگا۔ دنیا کی کل آبادی کا 17.5فیصد کی آبادی ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔آبادی کے اسی تناسب کو دیکھتے ہوئے اعداد وشمار کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025تک بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔
اسی طرح اس ملک میں مختلف مذاہب کا تنوع بھی پایا جاتاہے۔ اس ملک میں دنیا کے مختلف مذاہب کے پیروکار موجود ہیں ۔ یہاں مذہبی تنوع اور مذہبی اعتدال دونوں بذریعہ قانون قائم ہے۔ بھارت کے آئین میں واضح طور پر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ یہاں جملہ مذاہب کے تمام لوگوں کو بلا کسی امتیاز اور تفریق کے اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا پوراحق حاصل ہے۔
انگریز تاجر بن کر اس ملک میں آئے اوراپنی تجارت کو مضبوط ومستحکم کرنے کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد رکھی۔ دھیرے دھیرے ہندوستان پر قابض ہوگئے اور سفید وسیاہ کے مالک بن گئے ۔ 1858سے لیکر 1947تک انگریزوں نے اس ملک میں حکمرانی کی ۔اس دوران انہوں نے یہاں کے باشندوں پر بڑی ظلم وزیادتی کی۔ جب ظلم وزیادتی حد سے تجاوز کرگئی تو باشندگان ہند نے ملکی اتحاد کے ذریعہ انگریزوں کو اس ملک سے نکالنے کا عزم مصمم کرلیااور بالآخر ان کی محنت رنگ لائی اور 15؍ اگست 1947 کویہ ملک انگریزوں سے آزاد ہوا۔
کسی بھی ملک یاحکومت کو چلانے کے لیے نظم ونسق اورقوانین کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ وہ ملک اسی دستور اورآئین کی روشنی میں اپنے فرائض انجام دے سکے۔ آئین کسی بھی مملکت کا وہ اساسی قانون ہوتاہے جس کے بنیادی نظریات اندرونی نظم ونسق کے اصول اور مختلف شعبوں کے درمیان ان کے فرائض اور اختیارات کے حدود متعین کرتاہے۔ لہذا آزادی کے بعد ہمارے ملک کو بھی ایسے آئین کی ضرورت پیش آئی جو شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرسکے اور ملک میں جوبھی قانون نافذ ہو، وہ اسی آئین کے تحت ہو۔ اسی کے پیش نظر ڈاکٹر بھیم راؤ امیبڈکر کی نگرانی میں ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ اس سات رکنی آئین ساز کمیٹی نے 26نومبر1949کو دستور ہند مرتب کرکے حکومت کو سونپا پھر 26؍ جنوری 1950کو اس دستور کا نفاذ عمل میں آیا۔ اسی کے ساتھ حکومت ہند ایکٹ جو 1935سے نافذ تھا منسوخ ہوگیا اورہندوستان میں جمہوری طرز حکومت کاآغاز ہوا۔
پورے ملک میں 26؍ جنوری جشن ِیوم جمہوریہ کے طور پر منایاجاتاہے۔ زبان حال سے اس بات کا اعتراف کیاجاتاہے کہ ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے ،جہاں غیر مذہبی جمہوریت قائم ہے۔ اس جمہوریت کی سب سے امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں کے باشندوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے کا بھرپور حق حاصل ہے۔ یہ دستور اپنے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے۔یہاں کے تمام باشندو ں کو بلا تفریق مذہب وملت ایک مشترکہ جمہوریت کی لڑی میں پرودیا گیا ہے۔ اس میں تمام مذاہب کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا ہے اور ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی پوری آزادی دی گئی ہے۔
لہذا جملہ باشندگان ہند کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آئین ہند کی حفاظت کرے ، آئین کو ملک میں سربلند رکھے اور اسے پوری طرح ہر حالت میں نافذ العمل ہونے دے تاکہ جمہوری روایات کو مسلسل فروغ ملتارہے۔
ملک میں برسراقتدار حکومت کے عہدیداران اپنے فرائض کوقانون کے مطابق اداکریں، حتی کہ اگر کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ افسر بھی انہیں قانون کے منافی عمل کرنے پر آمادہ کرے تو اس کا حکم ماننے سے صاف طورپر انکار کردے۔ کیونکہ آئین کی بالادستی کویقینی بنانا ریاست کے تینوں ستونوں عدلیہ،انتظامیہ اور مقننہ کا فرض ہے۔
آئین نے عدلیہ پربنیادی حقوق کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد کی ہے۔ لہذا عدل وانصاف کا عمل ملک میں وحدت اور اخوت وبھائی چارگی کا کا سب سے بہتر ذریعہ ہے۔ اس لیے عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ دستور ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے باشندگان ہندکے مسائل کو سلجھانے کی کوشش کرے ۔ اور ملک کی فضا کو خوشگوار بنانے میں اہم کردار ادا کرے، تاکہ یہ ملک جس طرح آبادی اور جمہوریت کے لحاظ سے دنیا کے نقشے پردوسرے مقام پر ہے،اسی طرح یہ عدل وانصاف اور یہاں کے باشندوں کے حقوق کی حفاظت کے اعتبار سے بھی نمایا ں ہوں اور پوری دنیا میں اس کا شمار سب سے انصاف پسند ملک کے طور پر ہو۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...