Powered By Blogger

ہفتہ, ستمبر 03, 2022

دھرم شالہ : بادل پھٹنے سے سیلاب ، بچاؤ راحت رسانی کام جاری

دھرم شالہ : بادل پھٹنے سے سیلاب ، بچاؤ راحت رسانی کام جاری
اردو دنیا نیوز ٧٢
دھرم شالا، 3 ستمبر: سینئر عہدیداروں نے سنیچر کو یہاں خان پارہ علاقے کا دورہ کیا، جہاں ایک دن قبل بادل پھٹنے سے علاقے میں سیلاب آیا ہے۔امدادی کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کریں۔ اس علاقے میں جمعہ کو ہونے والی شدید بارشوں میں کئی مکانات اور دکانیں تباہ ہو گئیں۔ اس کے علاوہ 15 مکانات اور تین دکانوں کو جزوی نقصان پہنچا اور 45 بھیڑیں اور بکریاں لاپتہ ہو گئیں۔ کانگڑا کے ڈپٹی کمشنر نپن جندال نے آج صبح پولیس سپرنٹنڈنٹ کشال شرما کے ساتھ خان پارہ کا دورہ کیا۔انہوں نے امدادی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ شدید بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کریں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جمعہ کو خان پارہ میں بادل پھٹنے کی اطلاع ملنے کے بعد، ایس ڈی آر ایف (اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس) کی ریسکیو ٹیم پانچ منٹ کے اندر جائے وقوعہ کے لیے روانہ ہوگئی تھی۔ تحصیلدار اپوروا شرما کی سربراہی میں ایک ٹیم کو بھی امدادی کاموں کے لیے جائے وقوع پر بھیجا گیا۔بجائزہ لیا جا رہا ہے اور ضلع انتظامیہ کی طرف سے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع اور ذیلی اضلاع کی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں تاکہ کسی آفت کی اطلاع ملنے کے بعد فوری طور پر راحت اور بحالی کا کام کیا جا سکے۔ جمعہ کے روز ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث خانیارہ گاؤں میں ایک نالہ بہہ گیا جس سے مرکزی بازار میں نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔ ناگ مندر روڈ پر کیچڑ گھروں اور دکانوں میں گھس گیا اور ایک چھوٹا پل بہہ گیا جس سے دھرم شالہ-سدھواڑی سڑک پر ٹریفک متاثر ہوا۔ سیلاب سے چند گاڑیوں کو بھی ارشوں سے ہونے والے نقصانات کا نقصان پہنچا۔

جمعیتہ علماء تحصیل نجیب آباد کے زیراہتمام

جمعیتہ علماء تحصیل نجیب آباد کے زیراہتمام
اروددنیانیوز٧٢
جلسہ اصلاح معاشرہ
موضوع کٹھورہ تحصیل نجیب آباد ضلع بجنور میں بہن۔بیٹیوں کےلئے عظیم الشان
بتاریح ٤سیتمبر ٢٠٢٢بروز اتوار بوقت صبح ٩بجے  بمقام مدرسہ فیض القرآن موضوع کٹھورہ تحصیل نجیب آباد ضلع بجنور
اسمائے گرامی حضرات علمائے کرام
حضرت مولانا کلیم الزاماں صاحب مدظلہ مہتمم مدرسہ رشیدیہ میمن سادات 
حضرتمولانا محمد ابرار صاحب مدظلہ امام جامع مسجد سمیع پور
شہنشاہ خطابت حضرت مولانا مفتی محمد افتخار احمد قاسمی صاحب مدظلہ مہتمم مدرسہ ضیاء العلوم کلر والی مسجد کیرت پور
حضرت قاری محمد شعیب نفیس صاحب  ناظم جمعیتہ علماء تحصیل نجیب آباد
حضرت مولانا جاوید صاحب 
حضرت حافظ منکشف عالم صاحب کمراج پور
الداعی حضرت مولانا محمد اقرار بیگ صاحب امام خطیب جامع مسجد کٹھورہ تحصیل نجیب آباد ضلع بجنور

چیف جسٹس کی فکر مندی ___مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

چیف جسٹس کی فکر مندی ___
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
 نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
اردو دنیا نیوز٧٢
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمن جلد ہی اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے ہیں، اپنے طویل پیشہ دارانہ تجربات کی وجہ سے ہندوستان میں عدلیہ سے جس طرح اعتماد اٹھتا جا  رہا ہے ، اس سے وہ کافی فکر مند ہیں، انہوں نے عدلیہ سے اعتماد کھونے کو جمہوریت کی بقا کے لیے خطرہ قرار دیا اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پرزور دیا کہ عوام کا بھروسہ عدلیہ سے نہ اٹھے، اس کے لیے ضروری ہے کہ جج اور وکلاء مل کر زیر التوا مقدمات میں جلد انصاف فراہم کرائیں، ان کی رائے ہے کہ وکلاء کو عدالت کے علاوہ معاشرہ میں تبدیلی کے لیے بھی کام کرنا چاہیے، اس لیے کہ معاشرہ کے پُر امن اور متحد ہونے کی صورت میں ترقی کا عمل آسان ہوتا ہے، جسٹس رمن وجے واڑہ میں نو تعمیر شدہ کورٹ کمپلکس کے افتتاحی تقریب میں وکلائ، جج اور دانشوروں کے ایک مجمع سے خطاب کر رہے تھے۔
 جسٹس رمن کی پوری تقریر کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے جو کہا سچ کہا اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہا ہے، اس لیے کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے،پچاس (۵۰) مقدمات کا فیصلہ ہوتا ہے، تو سو (۱۰۰) نئے درج ہوجاتے ہیں، پارلیامنٹ کے حالیہ مانسون اجلاس میں ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون نے بتایا کہ ملک بھر کی عدالتوں میں چار کروڑ تراسی لاکھ سے زائد مقدمات سماعت کے منتظر ہیں۔ چار کروڑ سے زائد نچلی عدالتوں میں اور سپریم کورٹ میں بہتر ہزار مقدمات پر اب تک کوئی کارروائی نہیں ہو سکی ہے۔
 عدالتوں کے بعض فیصلے ضابطے اور قانون کے اعتبار سے جس قدر بھی اہم ہوں اور عدالتی وقار کے پیش نظر جس قدر اس کا احترام کیا جائے، عوام کے حلق سے نیچے نہیں اترپاتے، ایسے میں عوام یہ سمجھنے لگی ہے کہ عدلیہ پر حکمراں طبقہ کا سخت دباؤ ہے، اور فیصلے قانون کی پاسداری کے بجائے دباؤ کے نتیجے میں آ رہے ہیں، بلکہ بعض لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ معاملات ومسائل پر فیصلے حکمراں کرتے ہیں، اور عدالت اسے قانونی زبان فراہم کرتی ہے ، اس دباؤ کا اظہار کئی مرتبہ جج صاحبان کی زبانی بھی سامنے آچکا ہے، اس لیے عوام کی اس سوچ کو یکسر بے بنیاد بھی نہیں کہا جا سکتا۔
 عدالت میں مقدمات کے التواء اور فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے جمہوریت کو بڑا خطرہ لاحق ہے، اس کی وجہ سے قانو ن شکنی اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، ریاستیں عدالت کے فیصلے کو نافذ کرنے میں آنا کانی کرتی ہیں اور اس کی منشا کے خلاف کبھی کبھی اس کے فیصلے رد بھی کر دیے جاتے ہیں، جیسا بلقیس بانو کے معاملہ میں ہوا، سپریم کورٹ نے مکان اور سرکاری ملازمت دینے کا ریاست کو حکم دیا تھا، جس پر عمل نہیں ہو سکا، اور اس کے بر عکس اجتماعی عصمت دری معاملہ میں عمر قید کے سزا یافتہ مجرمین کو گجرات حکومت نے چھوڑ دیا، اور چھ ہزار سے زائد دستخطوں سے جاری اس عرضی پر کوئی غور نہیں کیا گیا، جس میں مجرمین کو پھر سے سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کی تجویز رکھی گئی ہے مجرمین بے خوف ہوکر گھوم رہے ہیں۔
 ان حالات میں عدلیہ کو اپنا کردار غیر جانب دار ہو کر ادا کرنے کی ضرورت ہے، عدالت جمہوریت کا اہم ستون ہے، اگر اس پر سے بھی عوام کا اعتماد اٹھ گیا تو جمہوریت کے ساتھ، ملک کا بھی بڑا نقصان ہوجائے گا۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...