Powered By Blogger

جمعرات, جولائی 07, 2022

صاحب استطاعت مسلمانوں پر قربانی کرنا واجب ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے عمل سے کسی کو تکلیف نہ ہو

صاحب استطاعت مسلمانوں پر قربانی کرنا واجب ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے عمل سے کسی کو تکلیف نہ ہو
نئی دہلی: ۷؍جولائی ( پریس ریلیز اردو دنیا نیوز۷۲) ل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے اپنے صحافتی بیان میں کہا ہے کہ عید قرباں مسلمانوں کا نہایت اہم تہوار ہے، جو اللہ کے دو پیغمبروں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یاد دلاتا ہے اور ہمیں اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ ہم اللہ کی رضا کی خاطر ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار رہیں اور عقیدۂ توحید پر ثابت قدم رہیں، اس موقع پر جانوروں کی قربانی بھی کی جاتی ہے، شریعت کا یہ حکم مالدار مسلمانوں سے متعلق ہے اور دنیا کے دوسرے مذاہب میں بھی اس کا تصور موجود ہے؛ لیکن قربانی کرتے ہوئے یہ بات ضروری ہے کہ ہم کوئی ایسا عمل نہ کریں جو دوسرے بھائیوں کے لئے دلآزاری کا سبب ہو، امن کو نقصان پہنچے، گندگی پھیلے، تعفن پیدا ہو، جانور کا متعفن حصہ سرِ راہ اور آبادیوں کے اندر پھینک دیا جائے، یہ ساری باتیں شریعت کے بھی خلاف ہیں اخلاق کے بھی اور قانون کے بھی، صحت کی حفاظت اور سماج کو بیماریوں سے بچانا سبھوں کی ذمہ داری ہے؛ اس لئے حکومت نے غلاظتوں کے پھینکنے کے لئے جو جگہ مقرر کی ہے، ان کو وہیں پھینکنا چاہئے، صفائی ستھرائی اور بھائی چارے کی برقراری کا خیال رکھنا چاہئے

ایک عورت کے نکاح کی خوبصورت کہانی

ایک عورت کے نکاح کی خوبصورت کہانی 
(اردو دنیا نیوز۷۲)
جب میرے بابا امّی کی شادی ہوئی تو بابا نے حق مہر کے طور پر امّی کے لیے سورۃ آلِ عمران حفظ کی اور جب میری شادی ہو رہی تھی تو بابا نے میرے شوہر کو بھی یہی کہا کہ وہ میرے حق مہر میں قرآن کی کوئی سورۃ حفظ کرے، اس کے بعد شادی کرنے کا کہا گیا۔

مجھے اپنے حق مہر کے لیے قرآن کی کوئی سورۃ کا انتخاب کرنے کے لیے کہا گیا تو میں نے سورۃ النّور کا انتخاب کیا۔ مجھے لگ رہا تھا یہ سورۃ حفظ کرنا بہت مشکل ہے۔ ایک طرف شادی کی تیاریاں ہو رہی تھی تو دوسری طرف میرے شوہر سورۃ حفظ کر رہے تھے ہر وقت ان کے ہاتھ میں قرآن ہوتا اور وہ سورۃ یاد کر رہے ہوتے۔

شادی سے کچھ دن پہلے میرے شوہر بابا کے پاس آئے سورۃ سنانے جو اُنہوں نے پوری حفظ کرلی تھی۔ بابا بار بار غلطی نکالتے اور شروع سے شروع کرنے کا بولتے۔ میرے شوہر نے آہستہ آواز میں تلاوت شروع کی، اتنا خوبصورت منظر میں کبھی نہیں بھول سکتی، میں اور میری امّی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور میرے شوہر کی اگلی غلطی کے انتظار میں مُسکرانے لگی جس کے بعد انہیں پھر سے شروع کرنا پڑتا، پر میرے شوہر نے ایک بار میں پوری سورۃ سُنا دی، ایک لفظ بھی نہیں بھولے۔ سورۃ سُننے کے بعد میرے بابا نے انہیں گلے سے لگا لیا اور کہا کہ میں اپنی بیٹی کی شادی تم سے کروں گا۔ تم نے اس کا حق مہر ادا کردیا ہے۔

انہوں نے مجھے کوئی مالی حق مہر نہیں دیا نہ ہی ہم نے کوئی قیمتی زیور خریدے۔ انہوں نے مجھے کہا ہم دونوں کے درمیان حلف و معاہدے کے طور پر اللہ کے الفاظ کافی ہیں۔ اب میں سوچتی ہوں مستقبل میں میری بیٹی اپنے حق مہر کے لیے کونسی سورۃ کا انتخاب کرے گی؟

🌷 اگر ایسا حق مہر اور جہیز شادیوں پہ دیا جانے لگے تو ہر غریب کی بیٹی کی شادی آسانی سے ہو اور شادیاں کامیاب بھی ہوں کبھی کوئی گھر نہ اجڑے نہ ہی بہوئیں جہیز کے طعنوں سے تنگ آ کر خود کُشی کرے۔
#منقول

بقرعید سے پہلے حضرت مولانا کلیم صدیقی ، حافظ ادریس قریشی و ان کے رفقا سے ملاقات جیل میں کی داستان - ایڈوکیٹ اسامہ ندوی

بقرعید سے پہلے حضرت مولانا کلیم صدیقی ، حافظ ادریس قریشی و ان کے رفقا سے ملاقات جیل میں کی داستان - ایڈوکیٹ اسامہ ندوی
(اردو دنیا نیوز۷۲)
مسلمانان ہند بقر عید کی تیاریوں میں لگے ہیں اور چند روز کے بعد خوشیوں میں مشغول ہو جائیں گے،آج لکھنؤ جیل جانا ہوا ، حضرت مولانا کلیم صدیقی مدظلہ، حافظ ادریس قریشی صاحب مدظلہ، حاجی سلیم ڈرائیور ،ڈاکٹر عاطف بھائی سرفراز جعفری صاحبان سے ملاقات ہوئی ، ملاقات کے وقت حضرت مولانا نے باہر کے تمام احباب کی خیر و عافیت لی ،کچھ لوگوں کو نام لے لیکر معلوم کیا ۔ وطن عزیز پھلت کے بارے میں گاؤں والوں کے بارے میں معلوم کیا، حج بیت اللہ پر کون کون گیا ہے ؟جانے والوں سے دعاؤں کی درخواست کرنے کو کہا،باتوں باتوں میں مجھ سے پوچھنے لگے: گھر کب جاؤگے ؟ اس پر میں نے آہستہ سے کہہ دیا: حضرت ان شاء اللہ آپ کو لے کر جائیں گے،حضرت والا کی آنکھیں نم ہونے کو تھیں کہ میں نے ان سے نظریں چرا لیں ، حضرت والا نے کہا : جاؤ بیٹا بقرعید پر گھر جاؤ، وہاں کے حال احوال لو، گھر کی ضروریات دیکھو،ان شاء اللہ جلدی ہی باہر آئیں گے۔ پچھلے دس مہینوں میں عید الفطر کے بعد آج کی ملاقات پر جو کیفیت دیکھنے کو ملی، اس کو دیکھ کر میرے حواس قابو میں نہیں ہیں، لکھنؤ کی جھلسا دینے والی گرمی میں جیل کی صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کر رہے ہیں ،جیل کی سخت گرمی میں اگر حلق خشک ہوکر سوکھ جائے تو شربت تو دور کی بات ہے، فوری طور پر اپنی پیاس بجھانے اور حلق بھگونے کے لئے ٹھنڈا پانی بھی میسر نہیں ہے ،ملاقات کے وقت سر پر ٹوپی کو پانی میں بھگو کراور رومال کو گیلا کرکے اوڑھ کر آتے ہیں ، بظاہر تو چہرے پر خوشی ہوتی ہے لیکن ہمارا جو برا حال سلاخوں سے باہر رہتا ہے (کئی بار گرمی سے چکر آچُکے ہیں)دھوپ کی گرمی سے جیل کی پتھریلی اینٹیں پک جاتی ہیں،صحرائی زمین کے فرش کے بارے میں تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے۔ لکھنؤ میں جون جولائی کی ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئے، جیل میں موسم گرماکی حرارت،دیوار اور فرش کی تپش ،سلاخوں کی حِدّت وتمازت ان بزرگوں کے حوصلوں کو کمزور نہیں کر رہی ہیں ،کیوں کہ یہ لوگ اپنے لئے فکر مند نہیں یہ باہر کے لوگوں کے لئے بے چین ہیں، جیل کی گرمی سے یہ مضطرب نہیں ہیں،اپنے رب کے فیصلے کو خوشی خوشی قبول کر رہے ہیں ،بھلے ہی جیل میں تکلیف اٹھا رہے ہوں لیکن کبھی زبان پر کوئی شکایت نہیں سننے کو ملتی ہے۔ جبکہ ہم عید کی خوشیاں منانے میں مصروف ہیں،یہ لوگ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہماری شناخت اور پہچان کے لئے ہیں، اسلام کے تحفظ اور دین کی بقا کے لئے ہیں، گھر کے چھوٹے چھوٹے بچے،بھائی بہن،بیوی ان کی راہ تکتے ہوئے خوشی بھرا تہوار اُن کے بغیر نہ چاہتے ہوئے گزاریں گے، لہذا راہ دعوت وعزیمت میں سنت یوسفی ادا کرنے والوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ جو بے گناہ مسلمان سلاخوں کے پیچھے بند ہیں اُن کی تو غیب سے مدد فرما اور اُنہیں با عزت بری کر دے۔ آمین يا رب العالمین

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...