Powered By Blogger

ہفتہ, جنوری 08, 2022

مضمون نگاہکرپٹو کرنسی مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

مضمون نگاہ
کرپٹو کرنسی 
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
معاشیات کا اصول ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے، بینکوں کے سخت ہوتے نظام اور مالیات کی رازداری کے محفوظ نہ ہونے کی وجہ سے ۲۰۰۸ء میں ایک نئی کرنسی وجود میں آئی، اسے عالمی کساد بازاری کے زمانہ میں ڈیولپرستوشی ناکاموٹو اور ان کے دوستوں نے کیا تھا تاکہ صارفین بینکوں کی غیر ضروری پابندی سے بچ سکیں، لطف کی بات یہ ہے کہ اس کرنسی کوآپ روپے ، ڈالر، پونڈ، درہم، دینار اور یورو کی طرح جیب میں نہیں رکھ سکتے، لیکن اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ۱۷؍ دسمبر ۲۰۲۱ء کو ۱ء ۲ کھرب ڈالر کی کرپٹو کرنسی عالمی بازار میں موجود تھی، یہ کرنسی کسی ایک نام سے نہیں جانی پہچانی جاتی ہے، بلکہ اس کے کئی نام ہیں، یہ کرنسی جو بٹ کوائن ، اتھیریم ، بنانس کوائن ، ٹیتھر، سولانہ، کار ڈانو، ایولانش کے نام سے مختلف ملکوں میں اپنی شناخت رکھتی ہے، صرف کمپیوٹر میں موجود ہوتی ہے ،لوگوں کی توجہ اس کرنسی کی طرف اس لیے بڑھ رہی ہے کہ بینک کے بغیر، سہولت کے ساتھ کاروبار کو فروغ دینے میں یہ معاون ہے۔
 اس کرنسی کی خامیاں بھی کم نہیں ہیں، اس حوالہ سے اندیشے اور خدشات بھی بہت ہیں، اسی وجہ سے ہندوستانی حکومت نے شروع میں اس کی مخالفت کی تھی ، رزرو بینک آف انڈیا نے بھی اس کے خلاف بات کہی تھی ، لیکن اب حکومت اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر اسے قبول کرنے کے لیے ذہناً تیار ہوگئی ہے اور دیر سویر پارلیامنٹ میں بل کے ذریعہ اسے منظور کرسکتی، ایسا اس لیے ضروری ہے کہ اگر بھارت سرکار نے منظوری نہیں دی تو اس کے دولت مند رفیق اور حلیف اس سے خفا جائیں گے، نقصانات چاہے جوہو ، مرکزی حکومت کا نظریہ یہ ہے کہ مالداروں کو نا خوش کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

یوگی کو ٹکٹ تک نہیں دے رہی ہے بی جے پی : اکھیلیش

یوگی کو ٹکٹ تک نہیں دے رہی ہے بی جے پی : اکھیلیش

سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھیلیش یادو نے جمعہ کے روز اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بڑے رہنما خود وزیراعلیٰ سے پریشان ہیں، اسی لیے انھیں اسمبلی کا ٹکٹ تک نہیں مل رہا ہے۔

انہوں نے یہ بات ایک پروگرام میں کہی جس میں وہ حصہ لینے آئے تھے ، انہوں نے صحافیوں سے ایک سوال کے جواب میں دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ یوگی بی جے پی کے رکن ہی نہیں ہیں۔

پنجاب میں وزیراعظم نریندر مودی کی سکیورٹی میں لاپرواہی کے معاملے میں رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اکھیلیش نے کہا کہ پنجاب حکومت کو مودی کو جائے ریلی تک جانے دینا چاہیے تھا۔ جس سے انھیں خالی کرسیوں کو دیکھ کر پنجاب میں بی جے پی کی صحیح صورتحال کا پتہ چل جاتا۔

مسٹر یادو نے بی جے پی پر جھوٹے اشتہارات سے عوام کو ورغلانے کا الزام عائد کیا۔ اکھیلیش نے کہا کہ ایس پی حکومت کے منصوبوں کو اپنے منصوبے قرار دے کر بی جے پی عوام کو گمراہ کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر چُھٹّہ جانور سے کسان اور راہگیر پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوگی حکومت میں پریشان کسانوں، نوجوانوں، غریب اور محروم خاندانوں سے بی جے پی کو 'جن معافی یاترا' نکال کر معافی مانگنی چاہیے۔

اترپردیش سے غنڈہ راج ختم کرنے کے بی جے پی کے دعوے پر اکھیلیش نے کہا کہ یوگی حکومت ضلع کے مافیاؤں کی فہرست جاری کیوں نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نےکہا کہ ہٹلر کی حکومت میں 'پروگینڈہ منسٹر' ہوتا تھا لیکن یہاں تو پوری بی جےپی ہی 'پروپیگنڈہ پھیلا رہی ہے۔

ایس پی کے صدر نے قبول کیا کہ اپنی حکومت کی ترقیاتی کاموں کو عوام تک پہنچا پانے میں ناکام رہنے کے سبب ایس پی 2017 میں حکومت بنانے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت سے بے حال عوام اس بار 2022 میں اکثریت سے حکومت بنائے گی۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...