Powered By Blogger

پیر, اکتوبر 09, 2023

دوستانہ

دوستانہ____
اردودنیانیوز۷۲ 
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ 
 ہماری زندگی میں رشتوں کی بڑی اہمیت ہے، کچھ رشتے خونی ہوتے ہیں، پھر ان کی شاخین پھیلتی جا تی ہیں، یہ رشتے قدرتی طور پر بنتے ہیں، ہمارے اختیار میں یہ بات نہیں ہوتی کہ ہم ان کو چنیں، وہ خود بخود قدرت کی طرف سے منتخب ہوا کرتے ہیں، ان میں مزاجی ہم آہنگی نہ ہو تو بھی انہیں ایڈجسٹ کرکے چلنا پڑتا ہے، ورنہ خاندان اور رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اورایک ایسی دشمنی کا آغاز ہوتا ہے جو خاندان کے افراد کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔
 سماجی زندگی گذارنے کے لیے ہمارے پاس ایک اور رشتہ مختلف لوگوں سے ہماری پسند کے مطابق بنتا ہے، اسے ہم دوستانہ اور یارانہ سے تعبیر کرتے ہیں، یہ دوستانہ بنتا کیسے ہے، اس میں مضبوطی کس طرح آتی ہے اور یہ ٹوٹ کس طرح جاتا ہے؟ا ن امور پر لوگوں کی رائے جاننے کے لیے ریسرچ فرم فیشرمینس، فرینڈ نے دو ہزار لوگوں سے رابطہ کیا، آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر رابن ڈنبرنے اس کا تجزیہ کیا تو حیرت انگیز نتائج سامنے آئے،ا ن کے تجزیہ کے مطابق اگر آپ کو جگری دوست بنانا ہے توتین تین گھنٹے کی گیارہ ملاقاتیں ضروری ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ کم وبیش چونتیس گھنٹے مختلف روز وشب میں آپ کو اس شخص کے ساتھ گذارنے ضروری ہوں گے، دوستوں کی لمبی قطار میں زیادہ سے زیادہ پانچ دوست ہی قلبی دوست آپ کے ہو سکتے ہیں، ایسی دوستی کی عمر انتیس سال ہو سکتی ہے، اگر آپ اپنے دوست کو مناسب وقت نہیں دے پاتے ہیں تو دوریاں بڑھ سکتی ہیں اور دوستی کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔
دوستی کے حوالہ سے کچھ اور سوالات بھی ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں، اور وہ یہ کہ دوستی کے لیے سب سے زیادہ ضروری کیا چیز ہے؟ سب اچھے دوست کہاں بنتے ہیں، دوستی اور یاری ٹوٹنے کی کیا وجہ ہوا کرتی ہے؟
ان سوالوں کا جواب بھی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر رابن نے تلاش لیا ہے۔ ان کے مطابق اکسٹھ (61)فی صد لوگوں کا ماننا ہے کہ اچھے دوست کی سب سے بڑی خصوصیت اس کے اندر انسانیت نوازی کا جوہرہونا ہے، جب کہ چوالیس (44)فیصد لوگوں کے نزدیک ذہنی ہم آہنگی ہونی ضروری ہے، یہ ہم آہنگی مذہبی اور سیاسی نظریات میں ہونی چاہیے، اچھے دوست وہی ہیں جو مشکل وقت میں کام آئیں، جو ایسے وقت میں دور ہوجائیں وہ دوست بنائے رکھنے کے قابل نہیں ہیں، دوستی کے لیے بھروسہ مند ہونا بھی انتہائی ضروری ہے، دوست بنانے کے لیے سب سے اچھی جگہ وہ ہے جہاں انسان کام سے لگا ہوتا ہے، اس لیے کہ وہاں زیادہ وقت گذرتا ہے اور ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت بھی ہوتی ہے، جس سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور دل مدد کرنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے۔
یہ کوئی نئی تحقیق نہیں ہے، ہمارے یہاں تو بہت پہلے سے کہا جاتا رہا ہے کہ”دوست آن باشد کہ گیردد ست دوست در پریشاں حالی ودر ماندگی“، اسلام میں اچھے دوست کے بارے میں کہا گیا کہ جو مخلص، ہمدرد اور اسلام کی طرف راغب کرنے والا ہو، تو اگر آپ بھی کسی سے دوستی کرنا چاہتے ہیں تو صرف اللہ کے لیے کیجئے محبت بھی اللہ کے لیے اور بغض بھی اللہ کے لیے، محبت کا یہ انداز اب عنقا ہوتا جا رہا 
ہے، لیکن یہی اسلام کو مطلوب ہے۔

مولانا آفتاب عالم مفتاحی کی زندگی نئی نسل کے لئے مشعل راہ ۔شمشاد رحمانی

مولانا آفتاب عالم مفتاحی کی زندگی نئی نسل کے لئے مشعل راہ ۔شمشاد رحمانی
Urduduniyanews72 
’آفتاب جو غروب ہو گیا ‘کے اجرا کی تقریب سے شفیع مشہدی،امتیاز احمد کریمی اور توقیر عالم سمیت کئی دانشوروں کا خطاب
پٹنہ (پریس ریلیز)نور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی،ویشالی کے زیر اہتمام اتوار کو بہار اردو اکاڈمی کے کانفرنس ہال میں مولانا آفتاب عالم مفتاحی کی شخصیت اور خدمات کے موضوع پرمفتی محمد ثناء الہدی قاسمی کی مرتب کردہ کتاب آفتاب جو غروب ہو گیا کا اجرا عمل میں آیا۔تقریب کی صدارت امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھنڈ کے نائب امیر شریعت حضرت مولانا شمشاد رحمانی قاسمی نے کی اور نظامت کا فریضہ سینیئر صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے انجام دیا ۔اس موقع پر اردو مشاورتی کمیٹی کے سابق چیر مین شفیع مشہدی نے کلیدی خطبہ دیا۔اپنی صدارتی تقریر میں مولانا شمشاد رحمانی نے کہا کہ مولانا آفتاب عالم مفتاحی کی زندگی نئی نسل کے لئے مشعل راہ  اور نمونہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب انتقال کے بعدکسی کے تذکرے ہوتے ہیں تواسے قبر تک ثواب ملتا ہے۔مولانا شمشاد رحمانی نے کہا کہ کسی کام کو منصہ شہود پر لانا وہی جانتے ہیں جو ا س راہ کے مسافر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات ، شخصیات کو زندہ رکھنے کا ذریع ہیں۔ انہوں نے تقریب کے انعقاد کے لیے نور اردو لائبریری کے عہدیداروں اور اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے کلیدی خطبہ میں جناب شفیع مشہدی نے کہا کہ یہ ہر لحاظ سے بہترین کتاب ہے اس کا مطالعہ ہر کسی کو کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو قومیں اپنے اسلاف کو فراموش کر دیتی ہیں زمانہ انہیں بھی فراموش کر دیتا ہے۔ شفیع مشہدی نے کہا کہ مولانا آفتاب عالم مفتاحی اپنی تحریروں اور عمل میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ بہار پبلک سروس کمیشن کے رکن امتیاز احمد کریمی نے کہا کہ ویشالی کی سرزمین ایسی ہے جہاں علم و ادب چراغ ہمیشہ روشن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٖفتاب عالم صاحب کو اس لیے یاد کیا جا رہا ہے کہ وہ علم والے تھے۔ اس لیے نئی نسل کو علم والا بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیسوں سے ڈگری حاصل کی جا سکتی ہے علم نہیں حاصل کیا جا سکتا۔ آنے والی نسلوں کی تعلی کا نظم کرنا ہماری ذمہ داری ہے اگر ہمارے بچے مقابلہ جاتی امتحان میں کامیاب نہیں ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محنت نہیں کر رہے ہیں۔ امتیاز احمد کریمی نے کتابوں سے رغبت پیدا کرنے اور اپنے گھروں کو لائبریری بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔صاحب کتاب مفتی محمد ثنا ء الہدیٰ قاسمی نے تفصیل سے بتایا کہ انہوں نے اپنے استاذ مولانا آفتاب عالم کے تعلق سے کس طرح کتاب ترتیب دی اور ان کے صاحب زادے محمد احمد نے انہیں اس کام میں کس طرح مدد کیا۔اس موقع پر مولانا آفتاب عالم کے لائق و فائق فرزند محمد احمد نے بھی اپنے خیالا ت کا اظہار کیا ۔ اس دوران وہ اپنے والد کے حالت زندگی بیان کرتے وقت بے انتہا جذباتی ہوگئے اور ہال میں موجود تمام لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔ اس موقع پر محمد احمد کی صاحبزادی ڈاکٹر شائستہ آفتاب نے یہ اعلان کیا کہ وہ اپنے دادا علیہ رحمہ کی شخسیت اور خدمات کے موضوع پر ترتیب دی گئی کتاب آفتاب جو غروب ہوگیا کا دوسرا ایڈیشین ترمیم و اضافہ کے ساتھ جلد شائع کرائیں گی۔مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسیٹی سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد توقیر عالم نے کہا کہ مولانا آفتاب عالم صاحب بہت علمی صلاحیت کے مالک تھے ۔ نئی نسل کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ اسکول و کالج میں پہلے ہی سے تعلیم کا ماحول نہیں تھا اب مدارس سے بھی تعلیم کا ماحول ختم ہوتا جا رہا ہے۔رسم اجراء کی تقریب سے سابق صدر مدرس مدرسہ احمدیہ ابابکر پور ویشالی مولانامظاہر عالم قمر ، کاروان ادب ، ویشالی کے جنرل سکریٹری انوار الحسن وسطوی، بہار اردو اکادمی کے نائب صدر ڈاکٹر عبدالواحد انصاری، اردو کانسل ہند کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر اسلم جاوداں، ڈاکٹر عارف حسن وسطوی، قمر اعظم صدیقی نے بھی مقالے پڑھے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر شکیل سہسرامی نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا ۔تقریب کا آغاز مولانا مفتی محمد ظفر الہدیٰ قاسمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس موقع پر بارگاہ رسالت ماب میں حافظ مزمل اور مولانا نظرالہدیٰ قاسمی نے نعت کا نظرانہ پیش کیا۔ اس کے بعد مولانا نظرالہدیٰ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ تقریب میں ماڈرن ویلفیر اکیڈمی کے ڈائرکٹر اور عالم دین مولانا محمد مکرم حسین ندوی، ڈاکٹر آصف سلیم ، اردو ایکشن کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر انوار الہدیٰ، مظہر عالم مخدومی، سید مصباح الدین احمد, نواب عتیق الزماں، ضیاء الحسن ،نصرالدین بلخی ،ساجد پرویز،حاجی پور سے کلیم اشرف،عظیم الدین انصاری ، مولانا آفتاب عالم مفتاحی کے خاندان کے افراد اور کافی تعداد میں اہل ذوق حضرات موجو د تھے۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...