روزہ کیوں فرض کیا گیا ہے؟ اس کی وجہ قران میں لکھی ہوئی ہے۔ارشاد ربانی ہے: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئےجیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے قبل ہوئے ہیں تاکہ تم متقی ہو جاؤ (بقرہ ۱۸۳) اس آیت شریفہ سے روزہ کا مقصد اور اس کی غرض وغایت کی مکمل وضاحت ہوتی ہے کہ رمضان کی آمد اور روزے کی فرضیت کا مقصد درحقیقت ایک صاحب ایمان کو متقی بنانا ہے۔ اللہ سے ڈرنے والا اور پرہیزگار بندہ متقی ہے۔ متقین کی قرآن میں نشانیاں بتلائی گئی ہیں، ارشاد خداوندی ہے: جو لوگ یقین کرتے ہیں بے دیکھی چیزوں کا، اور قائم رکھتے ہیں نماز کو، اور جو ہم نے روزی دی ہے اسمیں سے خرچ کرتے ہیں( بقرہ ۳)
اس آیت میں متقین کی تین صفات بیان کی گئی ہیں:ایمان بالغیب، اقامت صلواه،اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔آسان زبان میں ہم ان تینوں کو متقین کی پہچان کہ سکتے ہیں۔نیز قران کریم میں متقی بندے کے مزید اوصاف بھی مذکور ہوئے ہیں کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، غصہ پی لیتے ہیں، صبر سے کام لیتے ہیں، دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر دیتے ہیں، ان سے کوئی گناہ ہو جائے تو فورا توبہ کرتےہیں ، اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں وغیرہ۰۰۰ کم و بیش تیس سے زائد اوصاف علماء کرام نے قران کریم کی روشنی میں متقین بندے کے بتلائے ہیں۔ مگر ان تمام کا خلاصہ یہ تین ہی ہیں۔ علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی فرماتے ہیں کہ :"سب طاعتوں کی اصل تین ہی ہیں۔ اول جو باتیں دل سے تعلق رکھتی ہیں، دوسری بدن سے، تیسری مال سے، سو اس آیت میں ہر سہ اصول کو ترتیب وار لے لیا"۔
حضرت مفتی شفیع رحمہ اللہ علیہ معارف القرآن میں فرماتے ہیں کہ:"جتنے اعمال انسان پر فرض یا واجب ہیں ان کا تعلق یا انسان کی ذات اور بدن سے ہے یا اس کے مال سے۔بدنی اور ذاتی عبادات میں سب سے اہم نماز ہے۔اس کا ذکر کرنے پر اکتفا کیا گیا،اور مالی عبادات سب کی سب لفظ انفاق میں داخل ہیں، اس لئے درحقیقت یہ تنہا دو اعمال کا ذکر نہیں بلکہ تمام اعمال وعبادات ان کے ضمن میں آگئے، اور پوری آیت کے یہ معنی ہوگئے کہ متقین وہ لوگ ہیں جن کا ایمان بھی کامل ہے اور عمل بھی اور ایمان وعمل کے مجموعہ کا نام ہی اسلام ہے"(معارف القران جلد اول صفحہ ۱۱۱)
ماہ رمضان کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہی وہ تین چیزیں ہیں جنکی مشق پورے مہینے کرائی جاتی ہے تاکہ یہ تینوں اوصاف جب ایک صاحب ایمان میں پیدا ہوجائیں گی تو وہ متقی بندوں کی فہرست میں شامل ہوجائے گا، ماہ صیام کی آمد کا مقصد ہی یہی ہے۔
پہلی صفت ایمان بالغیب کا رمضان میں یہ عالم ہوتا ہے کہ بندہ تنہائی میں بھی شدید بھوک و پیاس کی گھڑی بھی نہ ایک دانہ منھ میں رکھتا ہے اور نہ ایک قطرہ پانی کا حلق سے نیچے اتارتا ہے،اس کی شرعی طور پر گنجائش بھی نہیں ہے وہ اس لئے کہ وہ روزے سے ہے اور ایسا کرنے سے اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔یہ استحضار ماہ صیام میں اپنے شباب پر ہوتا ہے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے، جبکہ اس نے خدا کو کبھی دیکھا نہیں ہے۔یہ خیال واحساس ایمان بالغیب کا اعلی درجہ ہے،اورایک صاحب تقوی کے اند اس استحضار کا پایا جانا ہمہ وقت ضروری ہے۔
دوسری صفت اقامت صلواہ ہے، پانچ وقت کی نمازیں پڑھنی ہیں، مزیدتراویح کی اضافی نمازکی ہابندی بھی کرنی ہے۔بحمداللہ یہ چیزیں رمضان کے مبارک مہینے میں دیکھنے کو بھی ملتی ہے کہ واقعی اقامت نماز کا حق ایک نمازی ادا کرنے کی سعی کرتا ہے، فرائض، واجبات، مستحبات اور پھر ان پر دوام والتزام بھی کرتا ہے۔ایک بندہ رمضان کی اہمیت اور اجر وثواب کی امید لئے ان چیزوں کا اہتمام کرتا ہے مگر شارع کا مقصد ایک صاحب ایمان کو نماز کا پابند بنانا ہے اور یہ حصول تقوی کے لئے لازمی ہے۔
تیسری صفت متقی ہونے کے لئے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ہے چنانچہ رمضان کے مہینے میں اس کی بھی خوب تربیت دی جاتی ہے۔زکوٰۃ ،خیرات، صدقات کے علاوہ صدقہ فطر کی شکل میں ایک مصرف کو رمضان اور روزے کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، مقصد مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا مزاج بنانا ہے اور متقی ہونے کے لئے یہ تیسری لازمی صفت ہے۔جب یہ چیزیں پیدا ہوگئیں تویہ بندہ تقوی کی صفت سے متصف ہوگیا۔اس پر قرآن اس کی کامیابی کا اعلان کردیتا ہے،ارشاد خداوندی ہے:یہی لوگ ہیں اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں (بقرہ ایت نمبر ۵)
مفتی ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری
۱۹/رمضان المبارک ۱۴۴۶ھ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں