Powered By Blogger

جمعہ, مارچ 13, 2026

*سنگارپور کا روحانی رمضان

*سنگارپور کا روحانی رمضان*
✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804

     میرے گاؤں کا نام سنگارپور ہے۔ دیہات کی سادہ مگر پُروقار فضا میں بسنے والا یہ گاؤں اپنی مذہبی روحانیت کے باعث دور دور تک پہچانا جاتا ہے۔ یہاں ایک عظیم الشان مدرسہ، دار القضاء، تقریباً پچیس مکاتب، پانچ مساجد، ایک عیدگاہ (آٹھگاواں)، اور ایک بڑا قبرستان ہیں، اور کثیر آبادی کے باوجود دلوں میں عجیب سی اپنائیت بسی ہوئی ہے۔ مگر سنگارپور کی اصل شان اُس وقت نکھر کر سامنے آتی ہے جب رمضان المبارک کی آمد ہوتی ہے۔

     سال کے گیارہ مہینے پردیس کی مشغولیات میں گزر جاتے ہیں لیکن جیسے ہی رمضان کا چاند نظر آتا ہے دل بے اختیار اپنے گاؤں کی گلیوں میں پہنچ جاتا ہے۔ سحری کے وقت جب چاروں سمتوں سے مؤذنوں کی پُرسوز صدائیں بلند ہوتی ہیں “اٹھـــو روزے دارو! سحری کا وقت ہو گیا” تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا گاؤں ایک روح بن کر جاگ اٹھا ہو۔ نیم تاریکی میں جلتے بلبوں کی مدھم روشنی، گھروں کے صحنوں میں برتنوں کی ہلکی سی آواز، اور ٹھنڈی ہوا کا نرم لمس… سب مل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جسے لفظوں میں قید کرنا آسان نہیں۔

     سحری کے بعد فجر کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ مسجدوں سے نکلتے لوگ کوئی اپنے روزمرہ کے کاموں کی طرف روانہ ہو جاتا ہے، کوئی تلاوتِ قرآن میں مشغول ہو جاتا ہے، تو کوئی کھیت کھلیان کی راہ لیتا ہے۔ صبح کے وقت چڑیوں کی چہچہاہٹ اور کھیتوں سے اٹھتی مٹی کی خوشبو دل کو عجب سکون بخشتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فضا کا ذرّہ ذرّہ بھی اس بابرکت مہینے کی عظمت میں سجدہ ریز ہو۔

     گاؤں کے مکاتب میں قرآن مجید کی تلاوت اور علومِ نبویہ کی صدائیں فضا میں گونجتی ہیں۔ ننھے بچوں اور بچیوں کی مخملی آوازیں سن کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ سفید ٹوپیوں اور معصوم چہروں کے ساتھ رنگ برنگی دوپٹوں میں سجی معصوم بچیوں کی قطاریں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نور کی ایک لڑی زمین پر اتر آئی ہو۔ جو بچے اور بچیاں اسکول جاتے ہیں وہ بھی وقت پر خوشی خوشی بستے اٹھائے اپنے راستے پر روانہ ہوتے ہیں۔

     دوپہر ڈھلتے ہی گاؤں کی گلیاں ایک نئی رونق اوڑھ لیتی ہیں۔ ظہر کے بعد بازار میں جیسے زندگی دوڑنے لگتی ہے۔ کھجوروں، پھلوں کے ٹھیلے، پکوڑوں اور سموسوں کی تیاری… ہر طرف افطار کی تیاریوں کا سماں ہوتا ہے۔ عصر کے بعد تو گویا پورا گاؤں حرکت میں آ جاتا ہے۔ لوگ افطار کا سامان لیے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ مائیں اور بہنیں دسترخوان سجانے میں مصروف اور بچے ہاتھوں میں چھوٹے تھیلے لیے چند گھروں کا چکر لگا آتے ہیں افطار مانگنے کی معصوم خوشی ان کے چہروں سے عیاں ہوتی ہے۔

     مغرب کی اذان کے ساتھ ہی سب دسترخوان پر بیٹھ جاتے ہیں۔ دعاء کے لیے اٹھے ہاتھ، آنکھوں میں نمی اور لبوں پر شکر کے کلمات یہ منظر روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ افطار کے بعد مساجد کی طرف بڑھتے قدموں میں ایک عجب سی چستی ہوتی ہے۔ عشاء اور تراویح کے لیے لوگ یوں دوڑتے ہیں جیسے کوئی قیمتی خزانہ ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ حفاظ کرام دن بھر کی محنت کے بعد قرآن مجید کی تلاوت میں محو ہو جاتے ہیں۔ مسجدوں میں تلاوت کی مترنم آوازیں رات کی خاموشی کو نور سے بھر دیتی ہیں۔

     تراویح کے بعد گلیوں میں پھر ہلکی سی چہل پہل ہوتی ہے۔ کہیں چائے، پان کی محفل جمی ہے، کہیں عید کی تیاریوں کا ذکر، کہیں نئے کپڑوں اور سامان کی خریداری کا تذکرہ۔ بچے آنگنوں میں کھیلتے کھیلتے تھک کر ماں کی گود میں سو جاتے ہیں۔ اور پھر آہستہ آہستہ پورا گاؤں سکون کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ دن بھر کی عبادت اور محنت کے بعد لوگ اپنے بستروں سے لپٹ کر اگلے روز کی سحری کے انتظار میں نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔

     سنگارپور کا رمضان صرف ایک مہینہ نہیں، ایک کیفیت ہے۔ ایک ایسی روحانی بہار جو دلوں کو تازگی بخشتی ہے۔ یہاں کی فضائیں ایمان کی خوشبو سے معطر، یہاں کی راتیں تلاوت کی روشنی سے منور، اور یہاں کے دن اخوت و محبت کے رنگوں سے مزین ہوتے ہیں۔ واقعی میرے گاؤں سنگارپور کے رمضان کا لطف وہی جان سکتا ہے جس نے اس کی سحری کی صدا اور افطار کی دعا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے دل سے محسوس کیا ہو۔

کوئی تبصرے نہیں:

اردودنیانیوز۷۲

*سنگارپور کا روحانی رمضان

*سنگارپور کا روحانی رمضان* ✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804      میرے گاؤں کا نام سنگارپور ہے۔ دیہات کی سادہ مگر پُروقار فضا میں بس...