Powered By Blogger

جمعہ, جولائی 30, 2021

خون سفید، بدبخت بیٹے نے ماں کو زنجیروں میں جکڑ دیا

خون سفید، بدبخت بیٹے نے ماں کو زنجیروں میں جکڑ دیا
 جولائی 30, 2021

پاکستان کے پتوکی میں بیٹے نے ماموں کیساتھ مل کر ماں کو زنجیروں میں جکڑ دیا۔بیٹے نے ماں کو تین ماہ زنجیروں سے باندھے رکھا، پولیس نے خاتون کو بازیاب کراکرملزم کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق پتوکی کے علاقے سراۓمغل میں سگے بیٹے نے ماموں کے ساتھ مل کر ماں کو پچھلے 3 ماہ سے زنجیروں سے باندھ کر گھر میں قید کر لیا.


 
50 سالہ سیما بی بی کو ذہنی توازن درست نہ ہونے کا بہانہ بنا کر بھائی اور بیٹے نے پاؤں میں لوہے کی زنجیریں باندھ کر قید کیا۔ ڈی ایس پی پتوکی آصف حنیف نے اطلاع ملنے پر کارروائی کرتے ہوئی زنجیروں میں جکڑی سیما بی بی کو گھر سے بازیاب کروا کر بیٹے ساجد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سیما بی بی کو تھانہ سرائے مغل منتقل کر دیا گیا ہے،

جہاں اس کی تحریری درخواست پر خاتون کے بھائی سلیم، بیٹے ساجد اور بھابھی کبریٰ کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے میرا ذہنی توازن بلکل ٹھیک ہے، میرے بیٹے ساجد، بھائی سلیم اور بھابی کبریٰ نے مجھے زبردستی زنجیریں باندھ کر قید کیا۔ مجھ پر تشدد کرتے تھے اور میرے پیسے بھی مجھ سے چھین لیے۔ ڈی ایس پی کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سیما بی بی کو دارلامان میں منتقل کی جائے گا۔


 

مہاراشٹرمیںMPSCکے معرفت پُر ہونیوالی جائیدادوںن کی راہ ہموار

  • 0
    Shares

ممبئی:29 جولائی(ورق تازہ نیوز)مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (MPSC) کے معرفت ریاست کے سرکاری محکمہ جات میں مخلوعہ جائیدادوں پرتقرر کی راہ نکل آئی ہے ۔تقررات کے تعلق سے اعلیٰ سطح ریاستی کمیٹی نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہاکہ مخلوعہ جائیدادو ں پر تقررات کئے جائیں اور کمیٹی نے اپنے فیصلے میںکہا ہےکہ تقررات عدالت کے فیصلوں کی روشنی میں عمل میں لائے جائیں ۔

اس بات کا خیال رہے کہ کسی بھی طبقہ کے ساتھ کوئی نا انصافی نہ ہو۔ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار نے حکم دیا ہے کہ ایم پی ایس سی کے امتحانات میں کامیاب امیدواروں کے تقررات کے لئے ریاستی محکمہ جات ایم پی ایس سی کو 15 اگست تک معلومات فراہم کریں ۔ایم پی ایس سی کی جائیدادوں پربھرتی کےلئے 28جولائی کو ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار کی صدارت میں اجلاس ہوا ۔

کورونا کے باعث صحت عامہ اور میڈیکل ایجوکیشن محکمہ جات میں جائیدادوں پرتقررات کی منظوری دی گئی ہے ۔ 4 مئی 2021 اور 24جون 2021 کے حکومتی فیصلوں کے مطابق دیگرمحکمہ جات میںتقررات پرپابندی عائد کی گئی تھی ۔دیڑھ ‘دو سال کاعرصہ گزرنے کے باوجود ایم پی ایس سی کے معرفت ہوئے امتحانات میں کامیاب ہونیوالے امیدواروں کے تقررات نہیں ہوپائےے تھے جس سے امیدواروں میںبے چینی پائی جاتی تھی ۔لیکن اب تقررات کاعمل شروع ہونے جارہاہے۔

دلیپ کمار کے بارے میں جو کہا تھا اس پر قائم ہوں: نصیر الدین شاہ

نصیر الدین شاہ نے اس ماہ کے اوائل میں لیجنڈری اداکار دلیپ کمار کی موت کے تین دن بعد بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ میں ایک مضمون میں دلیپ کمار کے بارے میں کچھ تنقیدی باتیں لکھی تھیں جس پر نصیر الدین شاہ کو سوشل میڈیا پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنی بات پر قائم ہیں۔

نصیر الدین شاہ نے سات جولائی کو دلیپ کمار کی موت کے تین دن بعد بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس میں دلیپ کمار کے بارے میں ایک مضمون میں لکھا تھا ’انہوں نے اداکاری کے علاوہ کچھ نہیں کیا،‘ اور یہ کہ انہوں نے ’اپنے تجربات کسی تک منتقل نہیں کیے، کسی کی رہنمائی نہیں کی، اور اپنے 1970 سے قبل کی پرفارمنسز کے علاوہ مستقبل کے اداکاروں کے لیے کوئی خاص سبق نہیں چھوڑا۔ حتیٰ کہ ان کی آپ بیتی میں بھی پرانے انٹرویوز دہرا دیے گئے ہیں۔‘

نصیر الدین شاہ نے لکھا تھا کہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ دلیپ کمار نے فلمی دنیا میں اپنی لیجنڈری حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف انداز کی فلمیں بنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ گھسے پٹے کردار ادا کرتے چلے گئے، حالانکہ وہ چاہتے تو کسی بھی ہدایت کار یا سرمایہ کار سے اپنی مرضی کا پروجیکٹ منظور کروا سکتے تھے۔

نصیر الدین شاہ کے اس بیان پر خاصی تنقید ہوئی تھی۔ ٹوئٹر پر راکیش سنہا نے لکھا، ’نصیر الدین شاہ ہندی سینیما کے ’ہمنوا‘ (also ran)۔ وہ اپنی جھلاہٹ اتارنے کے لیے دلیپ کمار جیسے آئیکان کو کہتے ہیں کہ انہوں نے محفوظ کھیلا۔

اب نصیر الدین شاہ نے ’سپاٹ بوائے‘ نامی ویب سائٹ پر وضاحت دی ہے کہ جو لوگ دلیپ کمار کے بارے میں میری تحریر پر برہم ہوئے ہیں وہ اگر پورا مضمون پڑھتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ میں نے ان کی اداکاری کی زبردست، مگر مشروط، تعریف کی تھی۔

’میں نے ان کے بارے میں جو کہنا تھا وہی کہا اور اگر میرا مطلب کچھ اور ہوتا تو میں وہ نہ کہتا جو کہا۔‘

نصیر الدین شاہ کو بالی وڈ کے عمدہ ترین اداکاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے صرف ایک فلم میں دلیپ کمار کے ساتھ کام کیا، جس کا نام ’کرما‘ تھا۔

اس زمانے میں میڈیا پر خبریں آئی تھیں کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران دونوں کے درمیان اختلاف پیدا گئے تھے، تاہم اب نصیر الدین شاہ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ میڈیا کی اختراع تھی۔ انہوں نے کہا کہ فلم میں ہمارے کردار اس قسم کے تھے کہ میرے پاس ان کا مقابلہ کرنے کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا، ’اداکاری کوئی مقابلہ یا دوسروں کو نیچے دکھانا نہیں ہوتی۔۔۔ میں نے کبھی تردید نہیں کی کہ ان کے مقابل کام کرنا میرے بچپن کا خواب تھا۔

ناندیڑمیں بی جے پی کو بڑا جھٹکا‘سابق ایم ایل اے گورٹھیکر کی راشٹروادی میں شمولیت

ناندیڑ:29 جولائی(ورق تازہ نیوز)گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بھوکر حلقہ اسمبلی سے اشوک راو چوہان کے خلاف انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پرحصہ لینے والے سابق ایم ایل اے باپوصاحب گورٹھیکر کو شکست فاش ہوئی تھی ۔انھوں نے عین چناو سے قبل بی جے پی میںشمولیت اختیار کرلی تھی ۔لیکن تقریبا دو سال تک بی جے پی میں رہنے کے بعدآج دوبارہ انھوں نے راشٹروادی کانگریس میںشمولیت اختیار کرلی ہے ۔

ممبئی میں پارٹی قائد و نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی موجودگی میں انھوں نے این سی پی کادامن تھام لیا اس موقع پرکسان مزدورپارٹی کے رکن اسمبلی شیام سندر شندے بھی موجودتھے۔ اشوک راوچوہان کے کٹر مخالف سمجھے جانے و الے باپوصاحب گورٹھیکر نے سال 2019ءکے اسمبلی انتخابات سے چند روزقبل این سی پی کوچھوڑ کرپرتاپ پاٹل چکھلی کرکی قیادت میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی اورانھیں بی جے پی نے بھوکر حلقہ میں اشوک چوہان کے خلاف میدان میں اتاراتھا ۔

لیکن اس حلقہ سے اشوک چوہان نے ریکارڈ ووٹوں کی اکثریت سے تاریخی کامیابی حاصل کی ۔ اب عمری ‘دھرم آباد اورنائیگاوں مجالس بلدیہ کے انتخابات سے قبل گورٹھیکر نے بی جے پی کوالوداع کرکے این سی پی میںگھر واپسی کرلی ہے جو رکن پارلیمنٹ چکھلی کرکیلئے بڑاسیاسی جھٹکا ہے ۔ اسکے علاوہ نائیگاوں کے بی جے پی کے ایم ایل اے راجیش پوار اور ضلع کوآپریٹیوبینک کے چیرمین وسنت راوچوہان کیلئے بھی گورٹھیکر کی این سی پی میں شمولیت مشکلات کھڑی کرسکتی ہے۔


کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن کا امکان، فیصلہ کل ہوگا

کراچی :شہر میں بڑھتے ہوئے کورونا کو روکنے کے لیے پورا کراچی بند کرنے پر غور کیا جارہا ہے، جس کا حتمی فیصلہ کل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں ہوگا۔شہر قائد میں لاک ڈاؤن کی تجویز کورونا ٹاسک فورس کے طبی ارکان نے دی تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ کورونا بڑھنے سے اسپتالوں میں جگہ اور آکسیجن کم پڑنے لگی ہے۔دوسری جانب این سی او سی نے کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت کردی۔سربراہ این سی او سی اسد عمر نے کہا تھا کہ ہفتوں ہفتوں شہر بند کرنا مسئلے کا حل نہیں۔

 

دوسری جانب ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ کراچی کورونا سے بری طرح متاثر ہورہا ہے، سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ساتھ میں انھوں نے یہ بھی بتایا کہ تھا کہ اگلے کچھ مہینے بہت اہم ہیں۔ٹاسک فورس ممبران کے مطابق کراچی میں کورونا کیسوں میں اضافہ اور اسپتالوں میں گنجائش انتہائی کم ہورہی ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ گذشتہ دو دنوں میں 370 سے زائد افراد کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔تاہم انھوں نے کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن کی تجویز دی تھی جبکہ مکمل لاک ڈاؤن لگانے پر حتمی فیصلہ کل ہوگا۔خیال رہے کہ کراچی میں شرح 22.6 فیصد رہی، حیدرآباد میں کورونا مثبت کیسوں کی شرح نو فیصد اور سندھ بھر میں مجموعی طورپر شرح 13.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

جمعرات, جولائی 29, 2021

حیدرآباد میں بھائی نے وکیل بہن پر تیز دھار چاقو سے حملہ کرتے ہوئے گلا کاٹ دیا

حیدرآباد میں بھائی نے وکیل بہن پر تیز دھار چاقو سے حملہ کرتے ہوئے گلا کاٹ دیا

حیدرآباد میں بھائی نے وکیل بہن کا گلا کاٹ کر

تلنگانہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حیدرآباد کے ٹولی چوکی علاقہ میں پیش آئے اس لرزہ خیز قتل کے واقعہ کی تفصیلات کے مطابق ٹولی چوکی کی آدمس کالونی میں واقع ایک مکان میں عارف 35نے گھر کے باورجی خانے میں اپنی بہن رئیسہ فاطمہ41 سالہ پرتیز دھار چاقو سے حملہ کرتے ہوئے ان کا گلا کاٹ دیا ۔خون میں لت پت ،شدید زخمی رئیسہ فاطمہ کو فوری ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم دؤران علاج ان کی موت واقع ہوگئی ۔مقتولہ رئیسہ فاطمہ پیشہ سے وکیل بتائی گئی ہیں جو نامپلی کریمنل کورٹ میں پریکٹس کرتی تھیں۔ پولیس کے مطابق بھائی کے ہاتھوں بہن کے اس بے دردانہ قتل کی وجہ جائداد کا تنازعہ ہے۔ پولیس نے بتایا کہ خاندانی جائداد کی تقسیم کے مسئلہ پر دونوں بھائی اور بہن کے درمیان بحث و تکرار کے درمیان رئیسہ فاطمہ کے بھائی عارف نے اپنی بہن پر حملہ کرتے ہوئے چاقو سے ان کا قتل کردیا ۔ گولکنڈہ پولیس نے بعد پنچنامہ مقتولہ کی نعش کو بغرض پوسٹ مارٹم عثمانیہ ہسپتال منتقل کردیا اور ایک کیس درج کرتے ہوئے تحقیقات میں مصروف ہے۔

امارت شرعیہ بزرگوں کی امانت،اس کا استحکام میرامنصبی فریضہ ہے: نائب امیرشریعت مولانا شمشاد رحمانیآٹھویں امیر شریعت کے انتخاب کے لیے۸/اگست کی تاریخ ملتوی

امارت شرعیہ بزرگوں کی امانت،اس کا استحکام میرامنصبی فریضہ ہے: نائب امیرشریعت مولانا شمشاد رحمانی

آٹھویں امیر شریعت کے انتخاب کے لیے۸/اگست کی تاریخ ملتوی

پٹنہ (پریس ریلیز، ٢٩جولائی)امارت شرعیہ بزرگوں کی امانت اورملت کا صدسالہ سرمایہ ہے،اس کا استحکام اس کی وحدت اور اس کی عظمت ووقار کا خیال میرامنصبی فریضہ ہے،اس کی تعمیر وترقی اورفروغ ووسعت کی راہیں تلاش کرنا میری ذمہ داری ہے،جس سے کسی حال میں مفر نہیں،اپنی ساری توانائی اورصلاحیتیں صرف کرکے آگے بڑھانا میرااولین اورمقدم عزم اورمنصوبہ ہے،ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ کے نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد صاحب رحمانی قاسمی مدظلہ استاذ حدیث دارالعلوم وقف دیوبندنے اپنے ایک بیان میں کیا،انہوں نے فرمایا امارت شرعیہ سے منسلک ریاستوں کے مسلمانوں کے علمی،شرعی،تعلیمی اور معاشی مسائل کے حل کی طر ف باہم مل جل کر بڑھنا وقت کا تقاضہ ہے،اورامارت شرعیہ کے تمام کارکنان،اراکین،اورمخلصین ومحبین کوساتھ لیکر سماجی وملی منصوبوں کی تکمیل میری اولین ذمہ داری ہوگی۔

امارت شرعیہ کے ساتویں امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے میرے کندھوں پر جو ذمہ داری دی ہے، میں ان ذمہ داریوں کو حتی الوسع پوری یکسوئی اوراخلاص کے ساتھ انجام دینا لازم سمجھتاہوں،ان کے وصال کے بعد آٹھویں امیرشریعت کا انتخاب اب تک ہوجانا تھا لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے مجلس شوریٰ کی اجازت کے بعد اب تک یہ عمل انجام نہیں پاسکا، انتخاب امیر کے لیے ۸/اگست ۱۲۰۲ء کی تاریخ باہم مشورہ سے طے کردی گئی تھی او راس سمت میں اقدام بھی شروع ہوگئے تھے،لیکن بعض علاقوں مثلاً اڈیشہ،رانچی وغیرہ میں اتوار کو بھی لاک ڈاؤن رہنے اورکچھ ارکان شوریٰ وعاملہ کی طرف سے آنے والے مشورے کی وجہ سے اب یہ تاریخ ملتوی کی جاتی ہے،ان شاء اللہ آئندہ حالات کونظر میں رکھتے ہوئے حسب دستورانتخاب امیر کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،

انہوں نے کہا کہ میں امارت شرعیہ کے جملہ کارکنان،ذمہ داران،متوسلین ومحبین سے گذارش کرتاہوں کہ امارت کے جملہ کاموں کو باہمی اتحاد اورمضبوط عزم وحوصلہ کے ساتھآگے بڑھائیں اور تمام امور کی حسب سابق انجام دہی میں مشغول ہوجائیں،دینی مکاتب کے قیام،اردو کے فروغ کی تحریک اورنئے دارالقضاء کے قیام سمیت عصری تعلیمی اداروں کے قیام پر توجہ دیں،اضلاع و بلاک کی سطح پر جو کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں اسے متحرک و فعال بنائیں،جہاں کمیٹیاں نہیں بنی ہیں وہاں کمیٹیاں بنائیں،اللہ تعالیٰ ہم سب کاحامی اور مددگار ہواورہمیں اخلاص عمل کی توفیق عطافرمائے۔آمین

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...