Powered By Blogger

اتوار, اگست 01, 2021

سعودی عرب : 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 11 اموات

سعودی عرب : 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 11 اموات

سعودی عرب میں چوکسی
سعودی عرب میں چوکسی

 (اردو اخبار دنیا)

 جدہ:سعودی عرب میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس میں مبتلا 11 مریض انتقال کرگئے، جبکہ اس عرصہ میں عالمی وباء کے ایک ہزار 146 نئے کیسز رپوٹ ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت صحت کے مطابق مملکت میں ایک ہزار 146 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 25 ہزار 730 ہوگئی ہے۔

ٹورنٹو، کورونا کی جعلی دستاویزات دکھانے پر دو مسافروں پر بھاری جرمانہ وزارت صحت کے مطابق 24 گھنٹوں میں کورونا سے 11 مریض انتقال کرگئے، اس طرح سعودی عرب میں کورونا سے اموات کی تعداد 8 ہزار 237 ہوگئی۔ سعودی عرب میں کورونا کے ایک ہزار 86 مریض صحتیاب ہوئے، یوں مملکت میں اس وبائی مرض سے صحتیاب افراد کی تعداد 5 لاکھ 6 ہزار 89 ہوگئی۔


وزیر اعظم نریندر مودی پیر کو وڈیو کانفرنس کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کا حل ای-روپی

(اردو اخبار دنیا)نیشنل ڈیسک: وزیر اعظم نریندر مودی پیر کو وڈیو کانفرنس کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کا حل ای-روپی لانچ کریں گے۔ مودی کے ڈیجیٹل اقدامات کی ہمیشہ پروموشن پر روشنی ڈالتے ہوئے ، پی ایم او نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران ، کئی پروگرام شروع کیے گئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ فوائد مطلوبہ مستحقین تک پہنچیں ، تاکہ حکومت اور فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان رابطہ کا ایک محدود نقطہ رہیں۔ اس نے کہا کہ الیکٹرانک واؤچر کا تصور گڈ گورننس کے اس وژن کو آگے لے جائے گا۔ پی ایم او نے ایک بیان میں کہا کہ ای-روپی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے کیش لیس اور کنٹیکٹ لیس زریعہ ہے۔


کیا ہے ای -روپی؟
ای روپی ایک کیو آر کوڈ یا ایس ایم ایس سٹرنگ پر مبنی ای وا=چر ہے ، جو مستحقین کے موبائل پر پہنچایا جاتا ہے۔ اس یک وقتی ادائیگی کے طریقہ کار کے صارفین سروس فراہم کرنے والوں کے کارڈ ، ڈیجیٹل ادائیگی کی ایپس یا انٹرنیٹ بینکنگ تک رسائی کے بغیر واؤچر ریڈیم کرسکیں گے ، اسے این پی سی آئی نے اپنے یونیفائیڈ ادائیگیوں کے انٹرفیس(یو پی آئی) پلیٹ فارم پر محکمہ مالیاتی خدمات کے ذریعے نافذ کیا ہے۔ ، صحت اور وزارت فیملی ویلفیئر اور نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کے اشتراک سے تیار کیا گیا۔


کہاں ہوسکتا ہے استعمال
اس کا آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا ، مختلف فلاحی سکیموں کے تحت خدمات فراہم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نجی شعبہ اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود اور سی ایس آر پروگراموں میں ان ڈیجیٹل واؤچرز سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

مسلمان بھلا کس کس کو ووٹ دیں!اتواریہ؍شکیل رشید

(اردو اخبار دنیا)مسلمان بھلا کس کس کو ووٹ دیں!
اتواریہ؍شکیل رشید
اتر پردیش کا اسمبلی الیکشن جیسے جیسے قریب آ رہا ہے ویسے ویسے ’’ عظیم ترین مسلمان قائدین ‘‘ سرگرم ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔ مجلس اتحاد المسلمین ( ایم آئی ایم)کے قائد اسد الدین اویسی کی مثال لے لیں ،وہ سو سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں ،اور انہیں اپنی پارٹی کی جیت کا پختہ یقین بھی ہے ،اللہ انہیں کامیاب کرے ۔لیکن ایک بات یہ سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ پیس پارٹی اور راشٹریہ علماء کونسل بھی انتخابی میدان میں کودنے کی تیاری میں ہیں ،یہ دونوں پارٹیاں بھی انہیں ہی اپنا ووٹ بینک سمجھتی ہیں جنہیں ایم آئی ایم اپنا ووٹ بینک مانتی ہے ،یعنی مسلمان ،دلت اور پچھڑے ،اور انہیں بھی ان کے ووٹ ملنے کی پوری امید بلکہ یقین ہے ،اب بھلا بیچارے مسلمان کس کس کے امید اور بھروسے پر پورا اتریں گے !یہ مسلمانوں ،دلتوں اور پچھڑوں کا وہ ووٹ بینک ہے جس پر کئی اورسیاسی پارٹیوں کی دعویداری ہے ، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ ان ووٹوں کو اپنی جیب میں ہی سمجھتے ہیں تو غلط نہیں ہوگا۔سماج وادی پارٹی کا ماننا ہے کہ یہ سارا ووٹ بینک اسی کا ہے، اس کے قائد ملائم سنگھ یادو نے بابری مسجد جو بچائی تھی ! اس کا انعام حالانکہ یہ مسلمانوں سے بار بار لے چکے ہیں مگر ابھی بھی انہیں یہی لگتا ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کا حق، جیسا دیا جانا تھا ،ویسا نہیں دیا ہے ،لہٰذا وہ ہمیشہ مسلمانوں سے یہی امید ، نہیں لفظ امید درست نہیں ہے ،مسلمانوں سے یہی چاہتے ہیں کہ وہ غلاموں کی طرح آنکھیں بند کیے بس اسی کو ووٹ دیں۔ بہن مایاوتی بھی ایک دعویدار ہیں ۔سب ہی جانتے ہیں کہ وہ بی جے پی کا دامن بھی تھام چکی ہیں اور آئندہ بھی اس کا دامن تھام سکتی ہیں ،مگر خود کو سیکولر کہلانے کا ان کا شوق مرا نہیں ہے ،اور وہ خود کو سارے سیکولر ووٹوں کا حقیقی وارث سمجھتی ہیں ،دلت ان کے ہیں ،پچھڑے بھی تو مسلمان کیوں ان کے نہیں ہو سکتے؟ اس قطار میں کانگریس بھی ہے ،حالانکہ اس نے اس قطار میں رہنے کا اپنا حق تو اسی روز کھو دیا تھا جس روز ایودھیا میں بابری مسجد شہید کی گئی تھی اور اس وقت کے کانگریسی وزیر اعظم نرسمہا راؤ باربری مسجد کی شہادت روکنے کی بجائے اپنی کوٹھی میں خود کو کمرے میں بند کیے پوجا پاٹ کر رہے تھے ۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ،یو پی کے مسلمان کانگریس کو سبق سبق پر سبق سکھا تے چلے آرہے ہیں ،مگر بہر حال وہ خود کو سیکولر پارٹی ہی کہتی ہے اس لیے اگر مسلمانوں کے ووٹوں پر اپنا حق سمجھتی ہے تو اسے اس سے روکا تو جا نہیں سکتا۔ خیر سمجھتی رہے۔ اب ایک تازہ معاملہ سامنے آیا ہے ،مرکزی وزیر ،مہاراشٹر کی ریپبلیکن پارٹی کے سربراہ رام داس اٹھاولے نے لکھنٔو جا کر شیعہ عالم دین مولانا کلب جوادنقوی سے ملاقات کی ہے اور ان سے یہ درخواست کی کہ وہ الیکشن میں بی جے پی کا ساتھ دیں کہ یہ وزیراعظم نریندر مودی کی خواہش ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کی پارٹی آر پی آئی کو یو پی الیکشن کے لیے مودی جی ٹکٹ دیتے ہیں تو وہ مسلمان امیدوار کھڑے کریں گے ۔ مطلب بہت واضح ہے ،بی جے پی اٹھاولے کا استعمال مسلمانوں کے ووٹوں کو منتشر کرنے کے لیے کرنا چاہتی ہے اور اس کے لیے مسلمان قائدین پر ڈورے ڈالنے کی شروعات کر دی گئی ہے ۔ کچھ ووٹ وہ ضرور مسلمانوں کے ضائع کرا سکتے ہیں۔ اس منظر نامے میں ابھی آزاد اور باغی مسلم امیدواروں کا بھی شامل ہونا ہے ،اب بھلا مسلمان کسے کسے ووٹ دیں گے؟ ایک خبر اور ہے ،ہم سب کے مولانا سید سلمان حسینی ندوی بھی اس گندگی میں کود پڑے ہیں ،۴۲سیکولر کہلانے والی پارٹیوں کا گٹھ جوڑ ہوا ہے وہ اس کے سرپرست ہیں ،دلچپ امریہ ہے کہ اس گٹھ جوڑکی میٹنگ سے ایم آئی ایم ، راشٹریہ علماء کونسل اور پیس پارٹی کے ذمےداران غیر حاضر تھے۔

‎وائس کے مقابلہ مصوری کے نتائج ۱۵اگست کو

آوازدی وائس کے مقابلہ مصوری کے نتائج 15اگست کو

آوازدی وائس کے مقابلہ مصوری کے نتائج ۱۵اگست کو
 وائس کے مقابلہ مصوری کے نتائج ۱۵اگست کو

 

(اردو اخبار دنیا)نئی دہلی

 - دی وائس نے ملک بھر کے آرٹسٹ طلباء کو آوازکیالگائی، ان طلباء نے بھی اسی تیزی سے جواب دیا ہے۔ آوازنےحب الوطنی اورمشترکہ ثقافت کے جذبے کو پروان چڑھانے کے لیے ملک کے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کی برسی پر ان کی یاد میں ایک ’’پینٹنگ مع نعرہ‘‘ پروگرام کا اہتمام کیا اور ملک بھر کے طلباء نے اس میں بڑے جوش و خروش سے شرکت کی۔

اس مقابلے کے لیے سینکڑوں اندراجات آچکی ہیں جن میں سے 300 درست پائی گئی ہیں۔ یہ 300 اندراجات تین حصوں میں ہیں۔ پہلی کلاس کلاس 4 سے 7 کلاس ، دوسری کلاس 8 سے 10 کلاس اور تیسری کلاس سینئر طلباء یعنی XI اور XII کلاس کی ہے۔

اس مقابلے میں ملک بھر سے طلباء نے حصہ لیا ہے۔ جس میں نئی ​​دہلی سے 81 ، جموں و کشمیر سے 15 ، اترپردیش سے زیادہ سے زیادہ 101 ، مہاراشٹر سے 20 ، ہریانہ سے 21 ، حیدرآباد سے 15 ، راجستھان سے 10 ، آسام سے 4 ، پنجاب سے 9 ، رانچی سے 2 ، بہار سے 17 کیرالہ سے 3 ، ہماچل پردیش سے 2 اندراجات ہیں۔

آوازکی مصوری اور نعرے بازی کے مقابلے کی جیوری میں نامور شخصیات شامل ہیں۔

 ان میں 145 اندراجات درست پائے گئے ہیں۔ کلاس 8 سے 10 میں 97 اور 11 ویں اور 12 ویں کلاس میں 58 اندراجات کوشارٹ  لسٹ کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ جوش وخروش چوتھی سے ساتویں جماعت کے طلبہ نے دکھایا۔

قابل ذکر ہے کہ اس مقابلے کے لیے اندراجات کو مدعو کرنے کے لیے درخواستیں 21 جولائی سے شروع ہوئی تھیں اور اس کی آخری تاریخ 28 جولائی تھی۔ اس مقابلے کے نتائج کا اعلان 15 اگست یعنی یوم آزادی کے دن کیا جائے گا۔

شارٹ لسٹ شدہ درست اندراجات کا فیصلہ تین ممبروں کی جیوری کرتی ہے۔ مقابلہ کی شرائط و ضوابط کے مطابق ، جیوری کا فیصلہ حتمی اور آخری ہوگا اور ان کے فیصلے کو کسی بھی حالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

جیوری کے ممبران میں ماہر تعلیم ڈاکٹر کویتا شرما ، آرٹ اور فلم نقاد رانا صدیقی اور پینٹر سنکیت ویرامگامی شامل ہیں۔ اس مقابلے میں تینوں کیٹیگریز میں پہلا انعام 10 ہزار روپے نقد ، دوسرا انعام 5 ہزار روپے اور تیسرا انعام 3 ہزار روپے نقد ہے۔ مقابلے میں حصہ لینے والے تمام طلبہ کو ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ بھی فراہم کیے جائیں گے۔


ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے دوران مرکزی حکومت نے اعتراف کیا ہے

(اردو اخبار دنیا)نئی دہلی، 31 جولائی - ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے دوران مرکزی حکومت نے اعتراف کیا ہے اس کے زیر انتظام وزارتوں اور محکموں میں 8 لاکھ سے زیادہ عہدے خالی پڑے ہیں۔ خیال رہے کہ ملک میں کورونا بحران کے سبب بڑی تعداد میں لوگوں کے روزگار ختم ہو گئے ہیں اور حزب اختلاف کی جانب سے لگاتار اس مسئلہ پر حکومت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے عملہ و تربیت جتیندر سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں خالی پڑے عہدوں کی معلومات فراہم کی۔
وزیر موصوف نے اپنے جواب میں کہا کہ یکم مارچ 2020 کی صورت حال کے مطابق مرکز کی تمام وزارتوں اور محکموں میں مجموعی طور پر 8 لاکھ 72 ہزار 243 عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کی تمام وزاروں اور محکموں میں یکم مارچ 2020 کو کل منظور شدہ عہدوں کی تعداد 40 لاکھ 4 ہزار 941 ہے جبکہ ان میں سے 31 لاکھ 32 ہزار 698 پر ہی تقرریاں ہوئی ہیں جبکہ 8.72 لاکھ عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے اس دوران حکومت کی تین بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے کی گئی بھرتیوں کا بھی بیورہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2016-17 سے 2020-21 کے درمیان یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے کل 25267، اسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی) نے 214601 اور ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ (آر آر بی) نے 204945 افراد کو ملازمت فراہم کی۔ایک طرف جہاں مرکز کے اتنی بڑی تعداد میں عہدے خالی پڑے ہیں، وہیں دوسری طرف ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے۔ پرائیویٹ تھنک ٹینک سی ایم آئی ای کے بے روزگاری شرح کے ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق 2021 کے اوائل سے ہی ملک بے روزگاری کے بحران سے دو چار ہے۔نئینئی دہلی، 31 جولائی - ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے دوران مرکزی حکومت نے اعتراف کیا ہے اس کے زیر انتظام وزارتوں اور محکموں میں 8 لاکھ سے زیادہ عہدے خالی پڑے ہیں۔ خیال رہے کہ ملک میں کورونا بحران کے سبب بڑی تعداد میں لوگوں کے روزگار ختم ہو گئے ہیں اور حزب اختلاف کی جانب سے لگاتار اس مسئلہ پر حکومت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے عملہ و تربیت جتیندر سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں خالی پڑے عہدوں کی معلومات فراہم کی۔
وزیر موصوف نے اپنے جواب میں کہا کہ یکم مارچ 2020 کی صورت حال کے مطابق مرکز کی تمام وزارتوں اور محکموں میں مجموعی طور پر 8 لاکھ 72 ہزار 243 عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کی تمام وزاروں اور محکموں میں یکم مارچ 2020 کو کل منظور شدہ عہدوں کی تعداد 40 لاکھ 4 ہزار 941 ہے جبکہ ان میں سے 31 لاکھ 32 ہزار 698 پر ہی تقرریاں ہوئی ہیں جبکہ 8.72 لاکھ عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے اس دوران حکومت کی تین بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے کی گئی بھرتیوں کا بھی بیورہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2016-17 سے 2020-21 کے درمیان یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے کل 25267، اسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی) نے 214601 اور ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ (آر آر بی) نے 204945 افراد کو ملازمت فراہم کی۔ایک طرف جہاں مرکز کے اتنی بڑی تعداد میں عہدے خالی پڑے ہیں، وہیں دوسری طرف ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے۔ پرائیویٹ تھنک ٹینک سی ایم آئی ای کے بے روزگاری شرح کے ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق 2021 کے اوائل سے ہی ملک بے روزگاری کے بحران سے دو چار ہے۔ دہلی، 31 جولائی - ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے دوران مرکزی حکومت نے اعتراف کیا ہے اس کے زیر انتظام وزارتوں اور محکموں میں 8 لاکھ سے زیادہ عہدے خالی پڑے ہیں۔ خیال رہے کہ ملک میں کورونا بحران کے سبب بڑی تعداد میں لوگوں کے روزگار ختم ہو گئے ہیں اور حزب اختلاف کی جانب سے لگاتار اس مسئلہ پر حکومت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے عملہ و تربیت جتیندر سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں خالی پڑے عہدوں کی معلومات فراہم کی۔
وزیر موصوف نے اپنے جواب میں کہا کہ یکم مارچ 2020 کی صورت حال کے مطابق مرکز کی تمام وزارتوں اور محکموں میں مجموعی طور پر 8 لاکھ 72 ہزار 243 عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کی تمام وزاروں اور محکموں میں یکم مارچ 2020 کو کل منظور شدہ عہدوں کی تعداد 40 لاکھ 4 ہزار 941 ہے جبکہ ان میں سے 31 لاکھ 32 ہزار 698 پر ہی تقرریاں ہوئی ہیں جبکہ 8.72 لاکھ عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے اس دوران حکومت کی تین بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے کی گئی بھرتیوں کا بھی بیورہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2016-17 سے 2020-21 کے درمیان یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے کل 25267، اسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی) نے 214601 اور ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ (آر آر بی) نے 204945 افراد کو ملازمت فراہم کی۔ایک طرف جہاں مرکز کے اتنی بڑی تعداد میں عہدے خالی پڑے ہیں، وہیں دوسری طرف ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے۔ پرائیویٹ تھنک ٹینک سی ایم آئی ای کے بے روزگاری شرح کے ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق 2021 کے اوائل سے ہی ملک بے روزگاری کے بحران سے دو چار ہے۔

یوپی اسمبلی الیکشن کے لیے ۴۲ سیکولر پارٹیوں کا اتحاد،راشٹریہ علماء کونسل،ایم آئی ایم، اور پیس پارٹی غائب،مولانا سلمان حسین ندوی سرپرست مقر

یوپی اسمبلی الیکشن کے لیے ۴۲ سیکولر پارٹیوں کا اتحاد،راشٹریہ علماء کونسل،ایم آئی ایم، اور پیس پارٹی غائب،مولانا سلمان حسین ندوی سرپرست مقرر

یوپی اسمبلی الیکشن کے لیے ۴۲ سیکولر پارٹیوں کا اتحاد ، راشٹریہ علماء کونسل ، مجلس اتحاد المسلمین ، اور پیس پارٹی غائب، مولانا سید سلمان ندوی سرپرست مقرر

سرکاری طور پر مساجد کے زمرے میں غیر اندراج شدہ مساجد کے کاغذات جلد درست کرائے جائیں ‏

(اردو اخبار دنیا)سرکاری طور پر مساجد کے زمرے میں غیر اندراج شدہ مساجد کے کاغذات جلد درست کرائے جائیں 

مولانا محمد جاوید صدیقی قاسمی 

نئی دہلی 28 جولائی 2021 
مساجد کی اراضی کو لیکر کئی قسم کے شکوک و شبہات پیدا کر کے کہ یہ جگہ ڈی ڈی اے کی ہے یا یہ جگہ مسجد کے نام سے کہیں اندراج نہیں ہے 
یا کوئی اور وجہ قرار دیکر مساجد منہدم  کی جاسکتی ہیں 
جو نہایت تشویشناک صورت حال پیدا ہوجانے کے بعد ملک کے امن و عافیت اور سلامتی کو بڑا نقصان ہوسکتا ہے 
اس قسم کا خیال دہلی کے مشہور و معروف عالم دین مولانا جاوید صدیقی قاسمی صدر مجلس تحفظ شریعت اسلامی ہند نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا 

آپنے مزید کہا کہ ہم لوگوں کی بے توجہی اور لاپرواہی یہاں تک ہے کہ دہلی کے اکثر محلے کی یہی صورت حال ہے کسی محلے میں دس مساجد ہیں لیکن سرکاری رکارڈ کے مطابق اس محلے میں صرف دو مساجد ہی مسجد (عبادت خانہ) کے نام پر اندراج و منظور شدہ ہیں 
باقی مساجد اندراج کرانے کی نہ تو کوشش کی اور نہ اپنی ذمہ داری کا احساس پیدا ہوا کہ کیوں درج نہیں ہیں یا معلومات ہی نہیں ہیں 

بلکہ یہی باقی آٹھ مساجد کا شمار صرف اور صرف پرائیویٹ اراضی یا مکان کے خسرہ نمبر کے مطابق درج ہیں 
خدا نخواستہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوا تب فورا جذبات میں آگئے 
اور ادھر ادھر کی بات بنانے لگے 
اصل کام کرنے کے جو تھے وہ ہمارے ذہن میں بھی نہیں ہیں بہت افسوس ہے 

مساجد کی انتظامیہ کو عہدے سے نہیں بلکہ کام سے مطلب ہونا چاہیے 

مولانا جاوید صدیقی قاسمی نے بتایا کہ ایک مرتبہ کسی مسجد کو لیکر کوئی مسئلہ پیدا ہوگیا تھا تو ہم لوگ تھانہ پہونچیں پولیس آفیسر نے کہا کہ آپ جس مسجد کی بات کر رہے ہیں وہاں کوئی مسجد ہے ہی نہیں 
ہم نے کہا ایسا کیسے ہو سکتا ہے مسجد بیس سالوں سے قائم ہے 
انہوں نے کہا مسجد ہوسکتی ہے لیکن سرکاری رکارڈ میں وہاں کوئی مسجد نہیں ہے 
انہوں نے دکھایا کہ پورے محلے سے مساجد کی جو فہرست آئی ہے وہ دس مساجد پر مشتمل ہے 
لیکن سرکاری رکارڈ کے مطابق اس محلے میں صرف دو مساجد ہیں 

لہذا سبھی مساجد کی انتظامیہ کو چاہیے کہ اراضی کی رجسٹری کے ساتھ باضابطہ مساجد (عبادت خانہ) کے زمرے میں بھی اندراج کرائیں 

اندراج و شمار کراتے ہوئے مکمل یقین ہوجائے کہ اب یہ مسجد ہر اعتبار سے مسجد ہے 

ورنہ ہوسکتا ہے جیسے دہلی وسنت کنج مہیپال پور کی ستر سالہ مسجد کو منہدم کرنے ڈی ڈی والے یہ کہہ کر پہونچ گئے کہ یہ مسجد ہے ہی نہیں کہیں کوئی رکارڈ نہیں ہے یہ جگہ ڈی ڈی اے کی ہے 

اسی طرح بارہ بنکی تحصیل کی مسجد کے انہدام کا مسئلہ پیدا ہوا 

مساجد کی کمیٹی فوراً مشورہ کریں اور سستی لاپرواہی ڈھیل نہ کریں بلکہ مساجد کے کاغذات کی کمی بیشی کو دیکھ کر مستعد ہوجائیں 
اور فوراً درست کرائیں 
مساجد کا تحفظ ہر حال میں ضروری ہے 
آئندہ آنے والی نسلیں ورنہ معاف نہیں کریں گی 

جاری کردہ :
دفتر مجلس تحفظ شریعت اسلامی ہند 
مولانا سالم منزل پرانا سیلم پور دہلی 

منجانب :
قاری محمد مسیح اللہ صدیقی دہلی

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...