Powered By Blogger

اتوار, اگست 01, 2021

جگتیال میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سے مفت ٹیلرنگ سنٹر کے نئی بیاچ کا آغاز ہوا۔ضلع پرشد چیر پرسن ڈی ‏

(اردو اخبار دنیا)جگتیال _ جگتیال میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سے مفت ٹیلرنگ سنٹر کے نئی بیاچ کا آغاز ہوا۔ضلع پرشد چیر پرسن ڈی وسنتاسریش ، جگتیال بلدیہ کی چیر پرسن ڈاکٹر بوگا شراونی جگتیال صدرملت اسلامیہ میر کاظم علی اور عمادالدین عمیر آمیر مقامی جماعت اسلامی جگتیال کی موجودگی میں نئی بیاچ کو تربیت دینے کے عمل کا آغاز ہوا۔اس موقع پر بلدیہ کی چیرپرسن نے مخاطب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی سماجی و فلاحی خدمات کی ستائش کی اور کہا کہ خواتین کوہنر مند بنا نا وقت کی اہم ضرورت ہے اس طرح کی تربیت سے خواتین گھر میں رھ کر ٹیلرنگ کے ذریعہ روز گار حاصل کرسکتی ہیں اس طرح کی فلاحی خدمات کے لیئے ہرشخص کو آگیے آنے کی ضرورت ہے ضلع پر شد چیر پرسن ڈی وسنتا نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند جگتیال کی جانب سے 8ویں بیاچ کو تربیت دی جا رہی ہے جو قابل ستائش ہے انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے کام کر رہی ہے .مسلم خواتین کو شادی مبارک اسکیم کے تحت رقم دی جا رہی ہیں اس موقع پر محمد عماد الدین عمیر امیر مقامی جماعت اسلامی شعیب الحق طالب محمد قدیر .خواجہ صلاح الدین .محمد غوث علاوہ مرد وخواتین کی کثیر تعداد موجود تھی

بہارمیں مکھیا کے الیکشن کی تاریخ پر بڑا اعلان ، کمیشن نے کہا ، ڈیڑھ ماہ میں کبھی بھی ۔۔۔

بہارمیں مکھیا کے الیکشن کی تاریخ پر بڑا اعلان ، کمیشن نے کہا ، ڈیڑھ ماہ میں کبھی بھی ۔۔۔

پٹنہ ، یکم اگست ۲۰۲۱ ( اردو اخبار دنیا ) کمیشن نے تمام ڈی ایمز سے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے لیے پوری طرح تیار رہیں۔ تیاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیشن نے تمام ڈی ایمز کو ہدایت کی ہے کہ وہ پچھلی میٹنگز میں دی گئی ہدایات کی تعمیل کی رپورٹ جلد ہی کمیشن کو فراہم کریں۔ کمیشن نے پنچایت انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے ہفتہ کو تمام اضلاع کے ڈی ایم کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کی۔ اس میں ای وی ایم کی دیکھ بھال سے لے کر ماڈل پولنگ سٹیشنوں کی مارکنگ تک ہدایات دی گئی تھیں۔

کمیشن نے کہا کہ ای وی ایم پر بار کوڈ چسپاں کرنے سے اسکیننگ اور اسٹاک انٹری کا کام تین دن کے اندر مکمل ہونا چاہیے۔ مختلف ریاستوں سے درآمد کی گئی ای وی ایم سے علیحدگی کے انتظامات کرنے کو کہا گیا۔ ہر ای وی ایم پر اسٹیکر لگانے کے ساتھ ساتھ ، اس کا تعلق کس ریاست سے ہے ،

تاکہ الیکشن کے بعد واپسی میں آسانی ہو۔ اگر کوئی ای وی ایم خراب ہے تو اس پر خرابی کا اسٹیکر لگانا ہوگا۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے دوران ایک معاملہ یہ بھی پیدا ہوا کہ ایک سے زیادہ اضلاع میں ایک ہی ای وی ایم کو نمبر دیا گیا۔ ایک ای وی ایم کا نمبر دو اضلاع میں دکھایا جا رہا ہے۔ اس تکنیکی خرابی کو 3 اگست تک درست کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

دس مرحلوں میں ووٹنگ کی تیاری۔

بہار میں پنچایتی انتخابات 10 مرحلوں میں ہوں گے۔ اس کے لیے تمام اضلاع سے مرحلہ وار بلاکس کی فہرست طلب کی گئی ہے اور اس کے مطابق پروگراموں کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ اس بار ریاست میں پنچایتی انتخابات ای وی ایم اور بیلٹ باکس دونوں کے ذریعے ہونے ہیں۔

بلاک کے بجائے ضلعی سطح پر بیک وقت گنتی کے نظام پر غور کیا گیا۔

کمیشن نے تمام ڈی ایمز سے کہا کہ وہ تبدیلیوں پر نظر ثانی کریں جو نئی تشکیل شدہ ، اپ گریڈ شدہ اور توسیع شدہ بلدیہ کی وجہ سے شہری ترقی اور ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پنچایت قواعد کے متعلقہ قواعد کے مطابق کی گئی ہیں۔ اس کے مطابق ووٹر لسٹ اور پولنگ سٹیشن میں بھی ترمیم کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ اس کے علاوہ کچھ اضلاع میں ریزرویشن کا مسئلہ بھی سامنے آیا جسے ایک ہفتے میں حل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

تمام ڈی ایمز سے کہا گیا کہ وہ مثالی پولنگ اسٹیشنوں کو بھی نشان زد کریں۔ بلاک کے بجائے ضلعی سطح پر بیک وقت گنتی اور پوسٹ وار مضبوط کمروں کا بندوبست کرنے پر تمام ڈی ایمز سے بھی خیالات طلب کیے گئے۔ ڈی ایم کی تجاویز کی بنیاد پر کمیشن مزید فیصلہ کرے گا۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے دوران ریاستی الیکشن کمشنر ڈاکٹر دیپک پرساد نے تمام ڈی ایم کے ساتھ انتخابات کی تیاریوں پر بات چیت کی۔ اس کے ساتھ ، انہوں نے ان سے یہ بھی کہا کہ وہ اضلاع میں کورونا اور سیلاب کی صورتحال پر نظر رکھیں۔ کمیشن سکریٹری مکیش کمار سنہا بھی میٹنگ میں موجود تھے۔

بی جے پی کے وزیر کا لوگوں کو ذیادہ سے ذیادہ "بیف” کھانے کا مشورہ اگست 1, 2021

(اردو اخبار دنیا)شیلانگ: میگھالیہ کی بی جے پی حکومت میں وزیر سنبور شولئی نے ریاست کے لوگوں زیادہ سے زیادہ مقدار میں بیف (گائے اور بھینس کا گوشت) کھانے کی صلاح دی ہے۔ مویشی پروری اور ویٹرنری کے وزیر سنوبر شولئی نے اپنے بیان میں کہا کہ چکن، مٹن اور مچھلی کے بجائے بیف کھائیں تاکہ اقلیتی طبقہ سے وابستہ لوگوں کی یہ غلط فہمی دور ہو جائے کہ بی جے پی گائے کو ذبح کرنے پر پابندی عائد کرے گی۔

خیال رہے کہ سنبور شولئی نے گزشتہ ہفتہ ہی ۔نی وزیر کے طور پر حلف اٹھایا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق بی انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، لہذا یہاں ہر کوئی اپنی پسند کا کھانا کھانے کے لیے آزاد ہے۔سنبور شولئی نے یقین دہانی کی کہ وہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما سے بات کریں گے اور یہ یقینی بنائیں گے کہ آسام کے نئے گائے سے متعلق قانون کے سبب میگھالیہ کے لئے مویشیوں کی نقل و حمل متاثر نہ ہو۔

دریں اثنا، وزیر موصوف نے آسام-میگھایہ کے درمیان سرحدی تنازعہ پر بھی لب کشائی کی۔ انہوں نے کہا اب وقت آ چکا ہے کہ ریاست اپنی سرحد اور اپنے لوگوں کی حفاظت کے لئے پولیس فورس کا استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آسام کے لوگ سرحدی علاقوں میں ہمارے لوگوں کا استحصال کرتے رہیں گے تو یہ صرف باتیں کرنے یا چائے پینے کا وقت نہیں ہوگا۔ ہمیں جواب دینا ہوگا۔ ہمیں موقع پر کارروائی کرنا ہوگی۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ تشدد کی حمایت نہیں کرتے۔

چین میں کورونا وائرس کے 53 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں

(اردو اخبار دنیا)بیجنگ: چین میں کورونا وائرس کے 53 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہی وہ ملک ہے جہاں سے پوری دنیا میں جان لیوا اور ہلاکت خیز وبا دنیا بھر میں پھیلی ہے۔نیشنل ہیلتھ کمیشن نے اتوار کو اپنی یومیہ رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔ نئے کیسز میں سے 30 ژیانگ سو سے ، 12 ہینان سے ، چار ہونان سے ، تین یونان سے اور ایک ایک بالترتیب فوزیان ، شان ڈونگ ، ہوبئی اور ننگژیا سے ہے۔
اس کے علاوہ ، 22 نئے امپورٹڈ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے سات یونان میں ، پانچ شنگھائی میں ، تین تیانجن میں ، بالترتیب اندرونی منگولیا اور گوانگ ڈونگ میں دو دو اور جیانگ ، ہینان اور سیچوان میں ایک ایک کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

مرکز کے مطابق شنگھائی میں ایک مشتبہ کیس سامنے آیا ہے جو باہر سے آیا ہے۔ہفتے تک ملک میں مجموعی طور پر 7432 امپورٹڈ کیس رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے 6762 کو صحت یابی کے بعد ہسپتالوں سے ڈسچارج کیا گیا اور 670 ہسپتال میں زیر علاج ہیں ۔ درآمدی کیسز میں کسی اموات کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ملک میں کورونا کیسز کی کل تعداد ہفتہ تک 93005 تک پہنچ گئی ، جس میں 1022 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 25 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ چین کے ہسپتالوں سے اب تک مجموعی طور پر 87347 مریض ڈسچارج ہو چکے ہیں اور وائرس سے 4636 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کشمیر پریمیئر لیگ میں کھیلنے سے روکنے کے لئے بی سی سی آئی ایسی

جنوبی افریقہ کے سابق سلامی بلے باز ہرشل گبس (Herschelle Gibbs) نے ٹوئٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ اپنے سیاسی ایجنڈا اور مجھے کشمیر پریمیئر لیگ میں کھیلنے سے روکنے کے لئے بی سی سی آئی ایسی چیزیں کر رہا ہے، جس کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔ ساتھ ہی مجھے ڈراتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہ مجھے کرکٹ سے متعلق کسی بھی کام کے لئے ہندوستان نہیں آنے دیں گے۔ یہ کافی غلط ہے۔ ان کے اس ٹوئٹ پر اب سابق پاکستانی کپتان شاہد آفریدی (Shahid Afridi) نے بھی بڑ بولا پن بیان دیا ہے۔
نئی دہلی: جنوبی افریقہ کے سابق کرکٹر ہرشل گبس (Herschelle Gibbs) نے کشمیر پریمیئر لیگ (Kashmir Premier League) سے متعلق بی سی سی آئی (BCCI) پر دباو بنانے کا الزام لگایا تھا۔ اب اس مسئلے میں پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی (Shahid Afridi) بھی کود پڑے ہیں۔ حالانکہ، ان کا ایسا کرنا کرکٹ مداحوں کو راس نہیں آیا۔ کئی مداحوں نے شاہد آفریدی کو سوشل میڈیا پر کھری کھوٹی سنا دی۔ کشمیر پریمیئر لیگ (Kashmir Premier League) میں ہرشل گبس، تلک رتنے دلشان، مونٹی پنیسر جیسے کرکٹر نظر آئیں گے۔



حالانکہ اس بیان کے بعد وہ خود ہی گھر گئے ہیں۔ شاہد آفریدی نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ بہت مایوس کن ہے کہ بی سی سی آئی ایک بار پھر کرکٹ اور سیاست کو ملا رہا ہے۔ کشمیر پریمیئر لیگ، پاکستان اور پوری دنیا کے کرکٹ مداحوں کے لئے ہے۔ ہم شاندار انعقاد کریں گے اور اس طرح کے برتاو سے مایوس نہیں ہوں گے۔



حالانکہ اس کے بعد شاہد آفریدی خود ہی کرکٹ مداحوں کے نشانے پر آگئے۔ مداحوں نے ان سے کرکٹ اور سیاست دونوں کو نہ ملانے کی اپیل کی۔ ایک مداح نے کہا کہ انہیں سدھر جانا چاہئے۔ وہیں ایک مداح نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ فرنچائزی ناخوش ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ پر فرنچائزیوں کی طرف سے ماڈل بدلنے کا دباو ہے۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ نئی لیگ شروع کرنے کی ضرورت کیا تھی۔



کشمیر پریمیئر لیگ کے پہلے سیزن کا انعقاد اس ماہ ہوگا۔ اس لیگ میں ہرشل گبس، تلک رتنے دلشان، مونٹی پنیسر جیسے بڑے کرکٹر بھی نظر آئیں گے۔ لیگ میں اوور سیز واریئرس، مظفر آباد ٹائیگرس، راول کوٹ ہاکس، باگ اسٹالین، میر پور رائلس اور کوٹلی لائنس 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔//////

نیا خطرہ! مہاراشٹر میں زیکا وائرس کا پہلا معاملہ، کیرالہ میں بھی دو نئے کیسز ملنے سے کھلبلی

,,

(اردو اخبار دنیا)پونے: مہاراشٹر میں زیکا وائرس کے انفیکشن کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔ ضلع پونے کے پورندر علاقے کی ایک 50 سالہ خاتون زیکا وائرس سے متاثر پائی گئی ہے۔ خاتون کا چکن گونیا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے۔ ریاستی محکمہ صحت کے مطابق، خاتون اب شفایاب ہو چکی ہے اور اس کے خاندان کے افراد میں فی الحال وائرس کی کوئی علامات نظر نہیں آ رہی ہیں۔ دریں اثنا، کیرالہ میں بھی زیکا وائرس کے دو نئے کیسز پائے گئے ہیں۔ ریاست میں زیکا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 63 ہو گئی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق جولائی کے آغاز سے ہی تحصیل پورندر کے بیلاسر گاؤں سے بخار کے کئی کیسز رپورٹ ہوئے۔ جس کے بعد پانچ نمونے جانچ کے لیے پونے کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرالوجی (این آئی وی) کو بھیجے گئے۔ ان میں سے 3 نمونوں کی چکن گونیا ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت پائی گئی۔

اس کے بعد این آئی وی کی ایک ٹیم نے 27 جولائی اور 29 جولائی کے درمیان بیلاسر اور پارینچے گاؤں کا دورہ کیا اور 41 افراد کے خون کے نمونے جمع کیے۔ ان میں سے 25 میں چکنگنیا، 3 میں ڈینگی اور ایک میں زیکا وائرس کا انفیکشن پایا گیا۔ریاست کی ریپڈ رسپانس ٹیم نے آج اس علاقے کا دورہ کیا اور مقامی باشندوں سے ان احتیاطی تدابیر کے بارے میں بات کی، جن کا انہیں خیال رکھنا ہے۔ محکمہ صحت گاؤں میں گھر گھر سروے بھی کرے گا۔

پونے کی ضلعی انتظامیہ نے لوگوں سے نہیں گھبرانے کی اپیل کی ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں کو بھروسہ دلایا کہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت محنت کی جا رہی ہے۔خیال رہے کہ اس سال کے شروع میں صرف کیرالہ میں زیکا وائرس کے انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اس وقت کیرالہ میں زیکا وائرس کے 63 کیسز ہیں۔ یہ انفیکشن ایڈز مچھروں سے پھیلتا ہے، جو ڈینگی اور چکنگنیا بھی پھیلا سکتا ہے۔

زیکا وائرس کے انفیکشن کی کچھ علامات بخار، جسم میں درد، پٹھوں اور جوڑوں کا درد، بے چینی یا سردرد ہیں۔ علامات عام طور پر 2-7 دن تک رہتی ہیں اور زیادہ تر متاثرہ افراد میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی 2024 میں مودی سرکار کو زبردست ٹکردینے کے لیے میدان میں اترچکی ہیں۔انھوں نے راجدھانی دہلی

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی 2024 میں مودی سرکار کو زبردست ٹکردینے کے لیے میدان میں اترچکی ہیں۔انھوں نے راجدھانی دہلی میں اپوزیشن کے اہم لیڈران سے ملاقاتیں کرکے اپنے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ممتا بنرجی اپوزیشن اتحاد کے ایک ایسے خواب کی تعبیر ڈھونڈ رہی ہیں ، جو ہمیشہ سے پریشاں کن رہا ہے۔ان کی کوشش ہے کہ2024کے عام انتخابات میں اپوزیشن میں اتنا تال میل ضرور پیداہوجائے کہ ہرحلقہ انتخاب میں بی جے پی امیدوار کے خلاف اپوزیشن کا ایک ہی امیدوار میدان میں اترے اور سیکولر ووٹ منتشر نہ ہوں ۔ ظاہر ہے یہ خیال اگر حقیقت میں تبدیل ہوا تو واقعی بی جے پی کے پیروں تلے سے زمین نکل جائے گی اوراس کے امیدواروں کے لیے اپنی ضمانتیں بچانا مشکل ہوگا۔لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس خواب کو کیسے شرمندہ تعبیر کیا جائے گا۔دراصل اپوزیشن اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی اڑچن یہ ہے کہ ہر اپوزیشن لیڈر وزیراعظم بننے کے خواب دیکھتا ہے اور وہ کسی دوسرے کی قیادت قبول نہیں کرنے کو تیار نہیں ہے۔اپوزیشن لیڈروں کی یہی خواہش ان کے اتحاد میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی رہی ہے ۔ماضی میں اس کے کئی تلخ تجربات ہوچکے ہیں۔

2004 میں کانگریس نے یوپی اے اتحاد کاکامیاب تجربہ کیا اور منموہن سنگھ کی قیادت میں یوپی اے سرکارنے دس سال پورے کئے ۔اس کے بعد بی جے پی نے جب سے اقتدار پر قبضہ کیا ہے تب سے اپوزیشن کے کسی ایسے اتحاد کی صورت گری نہیں ہوسکی ہے جو بی جے پی کو چیلنج دے سکے ۔یہی وجہ ہے کہ آج بی جے پی خود کو اس ملک کے سیاہ سفید کا تنہا مالک سمجھنے لگی ہے اور وہ اپوزیشن کو خاطر میں ہی نہیں لاتی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس دوران اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ۔مغربی بنگال کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست فاش کے بعد اپوزیشن میں ایک نئی توانائی دیکھنے کو ملی ہے۔اسی سے تحریک پاکرممتا بنرجی میدان میں اتری ہیں اور انھوں نے اپوزیشن کو متحد کرنے کا کام خود اپنے ہاتھوں میں لیا ہے ۔ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے مشن پر گامزن ہونا چاہتی ہیں۔حالانکہ 2024 کا ہدف ابھی دور ہے ، لیکن ان کی کوشش یہ ہے کہ وہ آئندہ سال برپا ہونے والے سات صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں اس اتحاد کو بروئے کار لائیں اور بی جے پی کوان ریاستوں میں بنگال کی طرح شکست فاش سے دوچار کریں۔

عام خیال یہ ہے کہ ممتا بنرجی یہ ساری تگ ودو وزیراعظم بننے کے لیے کررہی ہیں ، لیکن جب ان سے اس بابت پوچھا گیا تو انھوں نے صاف کہا کہ وہ وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ اس مشن میں ایک عام سیاسی کارکن کے طور پر شامل ہورہی ہیں۔ انھوں نے اخبارنویسوں سے گفتگو کے دوران اس بات کو دہرایا کہ وہ خود کو نریندر مودی کے مقابل اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کے طورپر پیش نہیں کررہی ہیں بلکہ وہ ایک عام سیاسی کارکن کے طور پر پورے اپوزیشن کو سرکار کے خلاف لڑائی کے لیے متحد و مستعد کرنا چاہتی ہیں۔ 2024 کے لوک سبھا چناؤمیں لیڈر کے سوال پر انھوں نے واضح کیا کہ اس کا فیصلہ ساری سیاسی پارٹیاں مل کرمناسب وقت پر کریں گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ فیصلہ چناؤ کے بعد ہو۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بی جے پی مخالف سبھی پارٹیوں کے لیڈران سے تو مل رہی ہیں، ساتھ ہی وہ غیر بی جے پی پارٹیوں کے ان لیڈران اور وزرائے اعلیٰ سے بھی ملاقاتیں کریں گی جو غیرجانبدار ہیں اور وقتاً فوقتاً پارلیمنٹ میں بی جے پی کی مدد بھی کرتے رہتے ہیں۔ انھیں نوین پٹنائک ، جگن ریڈی اور چندرشیکھر راؤ جیسے لیڈروں سے ملنے میں بھی کوئی گریز نہیں ہے۔ جب ان سے نتیش کمار کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک وہ بی جے پی کے ساتھ ہیں تب تک ان سے کوئی بات چیت ممکن نہیں ہے۔

ممتا بنرجی میں اس وقت بلا کی خوداعتمادی ہے۔ انھوں نے جس طرح مغربی بنگال کی سرزمین پر بی جے پی کو شکست سے دوچار کیا ہے ، اس سے قومی سیاست میں ان کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے ۔ مغربی بنگال کے انتخابی نتائج آنے کے بعد ہی سیاسی مبصرین نے کہا تھا کہ 2024 کے عام چناؤ کے لیے اپوزیشن کو ایک چہرہ مل گیا ہے اور وہ آئندہ لوک سبھا چناؤ میں وزیراعظم کے عہدے کے لیے اپوزیشن کی ایک مضبوط امیدوار ہوں گی۔ اس الیکشن کو وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے لیے جس طرح وقار کا مسئلہ بنالیا تھا اور بار بار وہاں جاکر '' دیدی او دیدی '' کی گردان کررہے تھے، اس سے صاف ظاہر تھا کہ یہ چناؤ ممتا اور مودی کے درمیان ہے۔ نتائج نے یہ ثابت کیا کہ وزیراعظم مصنوعی طریقوں سے لاکھ اپنی برانڈنگ کریں لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی بنگال کے باشعور عوام نے وزیراعظم مودی کے مقابلے میں وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو ترجیح دی۔

سبھی جانتے ہیں کہ بنگال کی سرزمین پر ممتا کو شکست دینے کے لیے بی جے پی نے ہر وہ ہتھکنڈہ اختیار کیا، جو اس کی دسترس میں تھا۔ نوٹوں کی بارش ہوئی ۔ ترنمول کانگریس کے لوگوں کو توڑا گیا اور ممتا بنرجی کی کردار کشی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ، لیکن جب نتائج برآمد ہوئے تو سب دھول ہی دھول تھی ۔ ممتا پہلے سے زیادہ طاقتور ہوکر تیسری بار اقتدار میں آئیں اور بی جے پی ہاتھ ملتی رہ گئی۔ ان کی پارٹی کے جن لوگوں کو بی جے پی نے سبز باغ دکھاکر توڑا تھا، ان میں سے بیشتر کی ' گھرواپسی' ہوئی۔ممتا کی کامیابی کے بعد ان کے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے سی بی آئی اور ای ڈی کا بھی سہارا لیا گیا، لیکن ترنمول کانگریس کے لوگ خوفزدہ نہیں ہوئے اور انھوں نے پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔

ممتا بنرجی نے جس انداز میں اپنی ریاست میں بی جے پی کے چیلنج کو قبول کرکے اسے وہاں دھول چٹائی اب وہ اسی طرح کی دھول بی جے پی کو پورے ملک میں چٹانا چاہتی ہیں۔ اسی مقصد کے تحت انھوں نے دہلی میں پانچ دن گزارے۔ حالانکہ انھوں نے اس دوران وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی اوربنگال کو زیادہ مقدار میں کورونا ویکسین فراہم کرنے اور پوگاسس معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کا بھی مطالبہ کیا، لیکن ان کا اصل مقصد اپوزیشن رہنماؤں سے مستقبل کے لائحہ عمل پرتبادلہ خیال کرنا تھا۔اس سلسلہ میں انھوں نے کانگریس صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے علاوہ این سی پی صدر شردپوار، راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر لالو پرساد یادواور دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکجریوال سے بھی تبادلہ خیال کیا ۔انھوں نے کانگریس لیڈر کمل ناتھ اور آنند شرما سے بھی ملاقات کی اور اس دوران راجدھانی کے سرکردہ اخبارنویسوں کو مدعو کرکے سارے ٹیڑھے ترچھے سوالوں کے اطمینان بخش جوابات بھی دئیے۔مجموعی طور پر ان کا یہ پانچ روزہ دورہ بہت کامیاب رہا۔

اگر آپ ان کی حکمت عملی جاننا چاہیں تو اس کا نچوڑ یہ ہے کہ و ہ وزیراعظم نریندرمودی اور بی جے پی کو بنگال ماڈل سے ٹکر دینا چاہتی ہیں۔ وہ اپوزیشن اتحاد کے ذریعے بی جے پی کو 375 سیٹوں پر سیدھے چنوتی دینے کی تیاری میں ہیں۔ وہ ان میں سے 200سیٹوں پر کانگریس کو واک اوور کی تجویز دے سکتی ہیں۔ممتا کے مشن 2024 کا اصل مقصد بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے۔اس کام کے لیے سونیا ، شردپوار اور ممتا ملک بھر میں بی جے پی کے خلاف اتحاد کا پیغام دیں گے۔ اس کا آغاز اترپردیش سے ہوگا ، جہاں اگلے سال کے شروع میں چناؤ ہونے والے ہیں۔ مقصد صاف ہے کہ2022میں سات صوبوں میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کو دھول چٹائی جائے۔ملک بھر میں 375 لوک سبھا سیٹیں ایسی ہیں، جہاں بی جے پی مقابلے میں ہے۔ ان میں200 سیٹیں ایسی ہیں جہاں بی جے پی اور کانگریس کی سیدھی ٹکر ہے۔ ان سیٹوں پر اپوزیشن کانگریس کی حمایت کرے۔ وہیں کانگریس ایسے صوبوں میں دخل نہ دے جہاں دوسری پارٹیاں بی جے پی کو سیدھی ٹکر دینے کی پوزیشن میں ہیں۔اس مہم کا سب سے بڑا نعرہ '' بی جے پی کو ووٹ نہیں'' ہوگا۔اس کے تحت بی جے پی کے مضبوط صوبوں میں اس کے امیدواروں کو سیدھی ٹکر دی جائے گی۔جبکہ غیربی جے پی اقتدار والے صوبوں میں غیربی جے پی اتحاد کی پارٹیوں کو حمایت دی جائے گی۔اس مہم کے دوران مذہبی ، جذباتی اور جارحانہ قوم پرستی جیسے موضوعات کا جواب مہنگائی، پوگاسس،کسان تحریک، بے روزگاری، کورونا وباجیسے زمینی موضوعات سے دیا جائے گا۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...