راہول گاندھی سائیکل کے ذریعہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے


https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اچانک لاک ڈاؤن کی وجہ سے کہیں اور پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے حکمومت نے مشن وندے بھارت کے نام سے ایک انخلا مہم کا منصوبہ بنایا جس کے تحت قومی فضائی کیریئر ایئر انڈیا Air India کو صرف ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے بیرون ممالک میں پرواز کرنے کی اجازت دی گئی۔
وندے بھارت مشن پروازوں کی مکمل فہرست یہاں چیک کریں۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
(اردو اخبار دنیا)
۱- پہلا یہ کہ ہندو اس میسج کو پڑھ کر خوش ہوں گے اور موجودہ حکومت سے ساری اپنی شکایتیں ان کی دور ہو جائیں گی.
۲- دوسرا یہ کہ اس سے مسلم طبقہ میں ہراس پھیلے گا اور وہ ملی تنظیموں کے اوپر خواہ مخواہ دباؤ بنائیں گے کہ اس کے ازالے کے لیے کچھ کریں.
اب اگر کوشش ہوتی ہے تو ہندؤں میں میسج جائے گا کہ واقعی ہم کوئی اہم کام کر رہے ہیں، اور اگر کوشش نہیں ہوتی تو مسلم طبقہ اپنے رہنماؤں سے اور بدظن ہوں گے.
{ناقابلِ انکار حقیقت}
اس بات کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ یہاں اس طرح کے مسائل صدیوں سے رہے ہیں اور قیامت تک رہیں گے، اس کا سد باب انسانی قوت سے باہر کی چیز ہے، جس طرح مسلم لڑکیاں ہندؤں کے ساتھ گھر بسا رہی ہیں کیا غیر مسلم لڑکیا مسلمان کے ساتھ زندگی نہیں گزار رہیں؟
اس کو ختم کر نے کے بارے میں سوچنا اپنی قوت کوضائع کرنا ہے.
{ ہمارے کرنے کے کام }
۱- اس میسج کو مزید اور نہ پھلائیں، اس طرح کے مسائل میں میسج پھلانے سے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوتا.
۲- اصلاح کے دیگر اعمال کی طرح یہ بھی انفرادی عمل ہے، یعنی باپ اپنی بیٹی، بھائی اپنی بہن اور شوہر اپنی بیوی کی نگرانی اور مناسب شرعی تربیت کرے اور خود بھی اس پر عمل کرے، دوسرے لوگوں کا چکر چھوڑ دے کہ وہ اس ارتدادی وبا کا ازالہ کریں گے؛ بلکہ ہر ایک اپنا دائرۂ عمل دیکھے اور اس میں کام کرے.
۳- بہتر اور پائیدار نتائج کے لیے ٹھول منصوبہ بند کوشش ہی کارگر ہو سکتی ہے.
۴- کاؤسلنگ سینٹر کا قیام. اگر ہم یہ خیال پالے بیٹھے ہیں کہ کوئی انقلابی شخصیت پیدا ہوگی اور چشم زدن میں ساری خرابیوں کی اصلاح کر دے گی، تو اس کی توقع بھی فضول ہے.
موجودہ حالات میں خاص اسکول و کالج میں پڑھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کی اسلامی ذہن سازی کے لیے ہر جگہ تربیتی سینٹر قائم کیے جائیں، جہاں باپ اپنے بچوں کو لے کر یا بھائی اپنی بہن کو لے کر آئے، لیکن اس کا نام ” کاؤنسلنگ سینٹر ” رکھا جائے.اور ان کی اسلامی ذہن سازی کے لیے مولوی نما لوگوں کے بجائے ایسے لوگ کام کریں جو خود عصری علوم سے آراستہ ہیں اور اسکولی بچوں کے رجحان اور طبعی میلان و مذاق سے خوب واقف ہیں.
۵- ہر کام کے لیے مولویوں کا منھ نہ دیکھا جائے، کہ یہ کام بھی حافظ جی، امام صاحب اور مولوی و مولانا صاحب ہی کریں، ہم تو صرف بچے پیدا کر کے بےمہار چھوڑ دینے کے لیے ہیں.جتنا کام مولوی بےچارے کر دے رہے ہیں وہ ہی کافی ہے، ہند میں مدرسوں کی جتنی عمر ہے اتنی مسلمانوں کے قائم کیے ہوئے عصری اداروں کی بھی ہے، وہاں سے نکلنے والے "لاڈ صاحب” لوگ اپنے لیے بھی کچھ دینی خدمات کی ذمہ داری قبول کریں.اس مسئلہ پر اور غور و فکر کے ذریعے خدمت کی راہیں مزید نکل سکتی ہیں، اللہ تعالی ہر اس شخص کو جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا یا سمجھتا ہے، ارتداد کی اس وبا کی روک تھام کے لیے کچھ درد عنایت کرے. وما ذالک علی اللہ بعزیز (بہ شکریہ سوشل میڈیا)
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani

ناندیڑ: 2اگست(اردو اخبار دنیا(اردوگھر ناندیڑ میںسول سروسیسMPSC اور UPSC امتحانات کی کوچنگ کےلئے سنٹرس ‘ طلباءکےلئے اسٹیڈی سنٹراورشہریان کےلئے ریڈینگ روم قائم کئے جائیں گے ۔ یوم آزادی کے موقع پر 14اگست کوا ردوگھرمیں اردو مشاعرہ منعقد کیاجائے گا۔ بروز پیر 2اگست 2021ءکودوپہر ساڑھے بارہ بجے کلکٹر آفس میںضلع کلکٹرڈاکٹرویپن اٹنکر کی صدارت میں اردوگھر کی ثقافتی کمیٹی اورذیلی ثقافتی کمیٹی کی میٹنگ میں مذکورہ فیصلہ کیاگیا ۔میٹنگ کی ابتداءمیں ثقافتی کمیٹی صدر اور ضلع کلکٹرڈاکٹروپن اٹنکر نے دونوں کمیٹیوں کے تمام سرکاری اور غیرسرکاری ممبران کاگلدستہ دے کر استقبال کیا ۔
میٹنگ میں ثقافتی کمیٹی نائب صدرشرد منڈلک(ڈپٹی کلکٹر)‘ممبران میں ڈاکٹر جگدیش این کلکرنی (ا یس آر ٹی یونیورسٹی کے نمائندہ) ‘ اجیت پال سنگھ سندھوڈپٹی کمشنرناندیڑمیونسپل کارپوریشن ‘ایڈوکیٹ محمدعبدالرحمن صدیقی ‘محمدتقی ‘قاضی ادریس علی سحر‘ ڈاکٹردُرانی شبانہ ‘ڈاکٹرتسنیم انجم‘ محمدمظفر الدین ‘ حبیب مسعودعلی‘ذکی احمدقریشی ‘اردوگھر کے مینجر سلیم خان‘ذیلی ثقافتی کمیٹی کے صدر شرد منڈلک(ڈپٹی کلکٹر) ممبر منتجب الدین اور ممبرومینجر سلیم خان نے شرکت کی۔
ضلع کلکٹر ڈاکٹراٹنکر نے میٹنگ میں کہا کہ اردو گھر میں MPSCاورUPSC کوچنگ سنٹرقائم کرنے کےلئے‘حج ہاوس ممبئی میں جاری مذکورہ سول سروسیس کے کوچنگ سنٹرس کے بارے میںمعلومات حاصل کی جائیں گی ۔حج ہاوس کے عہدیداران سے تحریری رابطہ قائم کرنے کی ہدایت دی ۔اسطرح کوچنگ سنٹرس میںزیرتعلیم طلباءکےلئے کتب خریدی جائیںگی ۔ لائبریری کے ذخیرہ کتب میں اضافہ کیلئے شہریان سے عطیہ کتب کی اپیل کرنے کی ہدایت بھی دی۔سنٹرس میں اقلیتی طبقات ‘مسلم ‘ جین‘ پارسی ‘ سکھ ‘نوبودھ کے طلباءکوداخلہ دیاجائے گا۔داخلے سے قبل ٹیسٹ منعقد کیاجائے اور میرٹ کی بنیاد پر طلباءکوداخلہ دیاجائے گا۔لائبری کےلئے معمولی ممبرشپ فیس مقرر کی جائے گی ۔
انھوں نے اردوگھر کے آڈیٹوریم کے کرایہ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ پی ڈبلیو ڈی سے کرایہ کی رقم کی تفصیل موصول ہوئی ہے ۔جس کے مطابق تین گھنٹوںکے لئے7180/- روپے کرایہ مقرر کیاگیا ہے ۔ لیکن اس کو حکومت کی منظوری لینا ہے اس کے علاوہ بجلی استعمال کی رقم بھی ادا کرنی ہوگی ۔ البتہ ضلع کلکٹر(صدر کمیٹی)اورڈپٹی کلکٹر (نائب صدر) کے مشورے سے کرایہ میں رعایت کے بارے میں غور کیاجاسکتا ہے ۔آڈیٹوریم کو بُک کروانے کےلئے مینجر سے رابطہ قائم کیاجاسکتا ہے۔ انھوں نے مرکزی حکومت کے ادارے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کے تعلیمی کورسیس شروع کرنے کے بارے میں کونسل سے خط و کتابت کرنے کی ہدایت دی ۔ کمیٹی کے ممبران نے یوم آزادی کے موقع پر اردوگھر میں اردو مشاعرہ منعقد کرنے کی تجویز پیش کی جس کوضلع کلکٹر نے فوری منظور کرتے ہوئے کہاکہ مشاعرہ 14 اگست کومنعقد کیاجائے اور ریاستی اردوساہتیہ اکیڈیمی ممبئی کے عہدیداران سے مشاعرہ کے تعلق سے ربط پیدا کرنے کی ہدایت دی ۔
واضح ہو کہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے چیف ایگزےکٹیو آفیسر(سی ای او)شعیب ہاشمی ثقافتی کمیٹی کے ممبر ہیں ۔جو آج کسی وجہ سے میٹنگ میںشرکت نہیں کرسکے ۔ البتہ انھوں نے 28 جولائی کو ضلع کلکٹر سے ملاقات کرکے اردوگھر میں ادبی ثقافتی پروگرام منعقدکرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیاتھا ۔اردو گھر کمیٹیوں کی یہ پہلی میٹنگ تھی جو خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی جس میں سبھی ممبران نے اپنی تجویز پیش کی۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani

(اردو اخبار دنیا)
کورونا نے دوبارہ رفتار پکڑنا شروع کردی ہے ،جو کورونا پچھلے کئی ہفتے سے سست پڑ رہا تھا اب دوبارہ حرکت میں آچکا ہے۔ نئے کیسز کی ہفتہ وار تعداد 12 ہفتوں کے بعد بڑھ گئی ہے۔ مئی کے پہلے ہفتے میں دوسری لہر کے عروج کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کورونا کے نئے کیسز کی سات روزہ اوسط بڑھنے لگی ہے۔ 3 لاکھ 92 ہزار سے کم ہو کر 37 ہزار تک جا پہنچا۔
اب یہ بڑھ کر 40،500 ہو گیا ہے۔ پچھلے ہفتے تک ، روزانہ اوسط کیسز 38 ہزار کے قریب تھے۔ مسلسل چھٹے روز 40 ہزار سے زائد کیسز رجسٹر ہوئے۔ اتوار کو 40،627 کیس رپورٹ ہوئے۔
اتوار (26 جولائی سے یکم اگست) کو ختم ہونے والے ہفتے میں ہندوستا ن میں 2.86 لاکھ نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ یہ گزشتہ ہفتے کے 2.66 لاکھ کیسز سے 7.5 فیصد زیادہ ہے۔ ایک ہفتے کی روزانہ اوسط 26 جولائی تک کم ہو رہی تھی۔ کیس میں کمی کی شرح 1.4 فیصد رہ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری لہر کی چوٹی 6 مئی کو 4.14 لاکھ کیسز کے ساتھ آئی تھی اور اس کے بعد سے کیسز میں مسلسل کمی آرہی تھی۔ لیکن 25 جون سے نئے کیسز کی تعداد 30 ہزار سے 50 ہزار کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ بڑھتی ہوئی
اقدار ، یعنی ایک شخص سے متاثرہ افراد کی تعداد ، نے پچھلے مہینے بھی اشارہ کیا تھا کہ تیسری لہر کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔یہ تبدیلیاں اس سمت میں اشارہ کر رہی ہیں کہ اگست میں کورونا کی تیسری لہر آئے گی۔
زیادہ تر کیس مئی میں آئے۔
مئی میں پورے ملک میں سب سے زیادہ مقدمات درج ہوئے۔ 3 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں 27.38 لاکھ نئے کیس رپورٹ ہوئے۔
اس کے بعد ہی 6 مئی کو ہندوستان میں دوسری لہر کی چوٹی 4.14 لاکھ نئے کیسز کے ساتھ آئی۔ اس کے بعد ، ہفتوں کے بعد کیس کم ہوتے رہے۔ ۔ 5 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں کیسز کم ہو کر 2.91 لاکھ ہو گئے۔ لیکن اس کے بعد نئے کیسز میں کمی کی رفتار تھوڑی رک گئی۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...