Powered By Blogger

منگل, اگست 03, 2021

ڈیلٹا ویرینٹ جینیاتی تبدیلیوں باعث کتنا خطرناک ہوجاتا ہے؟ خوفناک انکشاف

دبئی، 3 اگست (اردو اخبار دنیا) ماہرین نے ڈیلٹا قسم کے ابتدائی معائنے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ کرونا کی ڈیلٹا قسم میں بہت زیادہ جینیاتی تبدیلیاں نہیں آئیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ قسم دیگر اقسام کے مقابلے میں بہت زیادہ جان لیوا ثابت ہو۔فریڈ ہیچسٹن کینسر ریسرچ سینٹر کے بائیولوجسٹ ٹریوور بیڈفورڈ کے مطابق ہندوستان میں کورونا وائرس کی مہلک قسم ڈیلٹا نے شہریوں کو اپنی زد میں لینا شروع کیا تو لوگ شدید خوفزدہ ہوگئے کہ کہیں یہ قسم بہت زیادہ ہلاکتوں کا باعث نہ بنے۔ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیلٹا قسم میں کرونا کی دیگر اقسام کے مقابلے میں بہت کم جینیاتی و میوٹیشنز کی تبدیلیاں ہوئی ہیں جو اسے دگنی رفتار سے پھیلنے کے قابل بناتی ہیں۔

کورونا وائرس کی جانب سے اسپائیک پروٹین کو انسانی خلیات میں داخلے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں ہونے والی تبدیلیاں وائرس کو جسم کا دفاع کرنے والی اینٹی باڈیز سے بچنے یا اس پر حملہ آور ہونے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔چین میں ایک تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا تھا کہ ڈیلٹا قسم سے متاثر مریضوں میں وائرس کی اوریجنل قسم کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ وائرل لوڈ نظام تنفس کی نالی میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ چھینک، کھانسی یا بات کرنے سے زیادہ آسانی سے پھیل جاتا ہے۔درحقیقت یہ نئی میوٹیشن اس وائرس کے لیے لوگوں کو بیمار کرنے کی صلاحیت کو زیادہ مؤثر بنادیتی ہے۔

ڈیلٹا میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں بھی موجود ہیں جو دیگر اقسام میں نظر نہیں آئیں۔ان میں سے ایک اسپائیک میوٹیشن ڈی 950 این ہے جو اس لیے منفرد ہے کیونکہ وہ کورونا کی کسی اور قسم میں نظر نہیں آئی۔یہ میوٹیشن ریسیپٹر جکڑنے والے حصے کے باہر واقع ہے اور ماہرین کے مطابق اس میوٹیشن سے وائرس کو مختلف اعضا اور ٹشوز کو متاثر کرنے کی سہولت ملتی ہے جبکہ وائرل لوڈ بھی بڑھتا ہے۔ڈیلٹا میں اسپائیک پروٹین کے ایک حصے این ٹرمینل ڈومین میں بھی میوٹیشنز ہوئی ہیں جو وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ان میوٹیشنز کے باعث ہی مونوکلونل اینٹی باڈیز دیلٹا کے شکار کووڈ مریضوں کے علاج میں ممکنہ طور پر کم مؤثر ثابت ہوتی ہیں اور ڈیلٹا کے لیے ویکسین سے بننے والی اینٹی باڈیز سے بچنے کی صلاحیت کچھ حد تک بڑھ جاتی ہے۔

یہی ممکنہ وجہ ہے جس کے باعث ڈیلٹا سے ویکسینیشن والے متعدد افراد بھی بیمار ہورہے ہیں، تاہم ویکسینز کی وجہ سے بیماری کی شدت عموماً معمولی یا معتدل ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ڈیلٹا کے حملے شدید ہوں گے یا نہیں، اس بات سے متعلق کوئی بھی دعویٰ یا پیشگوئی کرنا ممکن نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ڈیلٹا کی وبا 10 سے 12 ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہے، جس کے دوران وائرس کی زد میں موجود آبادیوں میں پھیل سکتا ہے۔ماہرین ک مطابق کرونا وائرس کی جان لیوا اقسام کو ابھرنے سے روکنا ہمارے ہاتھ میں ہی ہے، اگر کیسز کی تعداد بہت زیادہ رہی تو وائرس میں ارتقا جاری رہے گا جس کا نتیجہ زیادہ خطرناک اقسام کی شکل میں نکلے گا۔

لالویادوسے شرد یادو ملے،اہم سمجھی جارہی دونوں رہنماؤں کی ملاقات

(اردو اخبار دنیا)پٹنہ: سپا لیڈر ملائم سنگھ یادو کے بعد اب آر جے ڈی کے صدر لالو پرساد یادو نے سابق مرکزی وزیر شرد یادو سے دہلی کے 7 تغلق روڈ پر ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس دوران لالو یادو کے ساتھ ان کی بیٹی میسا بھارتی اور پریم چندرا گپتا بھی موجود تھے۔

لالو یادو نے شرد یادو سے ملاقات کے بعد کہا کہ افسوس ہے کہ شرد یادو اب ا بھی بیمار ہیں ، میں ان کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتا ہوں۔ یہ بھی کہا کہ ان کے بغیر پارلیمنٹ ویران ہے۔ ہم تینوں – میں ، شرد بھائی ، اور ملائم سنگھ نے کئی مسائل پر لڑائی لڑی ہے۔

ملائم سنگھ یادو سے میری کل کی ملاقات ایک خوشگوار ملاقات تھی: لالو پرساد یادو ، آر جے ڈیوہیں لالو یادو نے کہا کہ ہم بہار میں حکومت بنانے والے تھے۔ میں جیل میں تھا لیکن میرے بیٹے تیجسوی یادو نے ان کا(ریاست میں حکمران اتحاد) اکیلے مقابلہ کیا۔

انہوں نے دھوکہ دیا اور ہمیں(آر جے ڈی) کو 10-15 ووٹوں سے شکست دی۔ بہار میں چراگ پاسوان-تیجسوی یادو اتحاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آر جے ڈی صدر نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا (ایل جے پی میں دراڑ) ، چراگ پاسوان ایل جے پی کے لیڈر بنے ہوئے ہیں۔ جی ہاں ، میں ان کو چاہتا ہوں،آپ کو بتا دیں کہ لالو یادو نے پیر کو دہلی میںلیڈر ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو سے بھی ملاقات کی تھی۔

راہول گاندھی سائیکل کے ذریعہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے

راہول گاندھی سائیکل کے ذریعہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے

Rahul Gandhi leads cycle protest to the Parliament over Fuel Price Hike
نئی دہلی :(اردواخباردنیا.اِن/ایجنسیاں) اپوزیشن جماعتوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی مہم میں بہت سرگرم نظر آنے والے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی ، اپوزیشن کے رہنماؤں کے ساتھ چائے ناشتے پر ملاقات کے بعد آج پارلیمنٹ کی کارروائی میں حصہ لینے کے لئے سائیکل سے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔راہول گاندھی نے ہم خیال جماعتوں کے رہنماؤں کو صبح چائے کے ناشتے کے لیے مدعو کیا تھا۔
 جس میں کانگریس کے کئی لیڈر کے ساتھ ڈی ایم کے ، نیشنلسٹ #کانگریس پارٹی ، #شیو سینا ، #راشٹریہ جنتادل ، #سماج وادی پارٹی ، #کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسی ، کمیونسٹ پارٹی انڈیا ،انڈین یونین مسلم لیگ،آر ایس پی، کے سی ایم، جے ایم اے، نیشنل کانفرنس اور ترنمول کانگریس کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
سائیکل سے سفر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کیا ،

"عوام کی آواز”مہنگائی کم کرو۔غریبوں کو مارنا بند کرو۔پارلیمنٹ میں ان سوالات پر بحث کرو۔ "

میٹنگ کے بعد مسٹر گاندھی دیگر لیڈروں کے ساتھ سائیکل سے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں کئی سائیکلیں کھڑی ہو گئیں۔ ان سائیکلوں کے آگے ، گیس سلنڈروں کی بڑھی قیمت اور تیل کی اونچی قیمتوں کے بارے میں پلے کارڈز لگائے گئے تھے اور حکومت سے قیمتیں واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اس سے پہلے اسی سیشن میں  راہول گاندھی ٹریکٹر کے ذریعے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کی نہیں سن رہی ہے اور نہ ہی ان کے مسائل حل کر رہی ہے۔

مئی 2020 میں ہندوستانی حکومت نے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے

(اردو اخبار دنیا)مئی 2020 میں ہندوستانی حکومت نے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے وندے بھارت مشن (Vande Bharat Mission) کے نام سے بڑے پیمانے پر انخلا پروگرام شروع کیا۔ کووڈ۔19 کی وجہ سے انخلاء مہم شروع کی گئی جس نے ہندوستان کو پچھلے سال مارچ میں تمام گھریلو اور بین الاقوامی پروازیں بند کرنے پر مجبور کیا۔ اگرچہ گھریلو پروازوں کو آہستہ آہستہ کیلیبریٹڈ طریقے سے چلانے کی اجازت دی گئی تھی ، لیکن بین الاقوامی پروازوں کے چلنے پر اب بھی پابندی ہے۔

اچانک لاک ڈاؤن کی وجہ سے کہیں اور پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے حکمومت نے مشن وندے بھارت کے نام سے ایک انخلا مہم کا منصوبہ بنایا جس کے تحت قومی فضائی کیریئر ایئر انڈیا Air India کو صرف ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے بیرون ممالک میں پرواز کرنے کی اجازت دی گئی۔

وندے بھارت مشن پروازوں کی مکمل فہرست یہاں چیک کریں۔


آج تک تقریبا چار ملین افراد تقریبا 30 ہزار پروازوں میں سوار ہو چکے ہیں، جو کہ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی سرگرمی ہے۔ اس منصوبے میں اصل میں صرف 1,90,000 ہندوستانی شہریوں کو واپس لانے کا تصور کیا گیا تھا۔ شروع میں ایئر انڈیا اور اس کی ذیلی کمپنی ایئر انڈیا ایکسپریس Air India Express نے آپریشن میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے بعد دیگر فضائی کیریئرز کو پروگرام میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔ایک ٹویٹ ، سول ایوی ایشن کی وزارت MoCA نے ذکر کیا: "وندے بھارت مشن

ارتداد کا عفریت اور اس کا سد باب

(اردو اخبار دنیا)

کچھ مسلم لڑکیوں کے میرج سرٹیفکٹ اور ہندو لڑکوں کے ساتھ ان کی کچھ متعین و مخصوص تصویروں کو گذشتہ تین چار دنوں سے اس قدر پھیلایا جا رہا ہے، جس کی کوئی حد نہیں. میں سمجھتا ہوں ہر پڑھا لکھا موبائل چلانے والا اب اس سے واقف ہوگیا ہے.ایک اور بات قابل غور یہ بھی ہے کہ اس طرح کی تصویروں کے ساتھ جو میسج گردش کر رہا ہے وہ ہندی میں لکھا ہوا ہے.اس کے دو مقصد سمجھ میں آتے ہیں.

۱- پہلا یہ کہ ہندو اس میسج کو پڑھ کر خوش ہوں گے اور موجودہ حکومت سے ساری اپنی شکایتیں ان کی دور ہو جائیں گی.
۲- دوسرا یہ کہ اس سے مسلم طبقہ میں ہراس پھیلے گا اور وہ ملی تنظیموں کے اوپر خواہ مخواہ دباؤ بنائیں گے کہ اس کے ازالے کے لیے کچھ کریں.

اب اگر کوشش ہوتی ہے تو ہندؤں میں میسج جائے گا کہ واقعی ہم کوئی اہم کام کر رہے ہیں، اور اگر کوشش نہیں ہوتی تو مسلم طبقہ اپنے رہنماؤں سے اور بدظن ہوں گے.

{ناقابلِ انکار حقیقت}

اس بات کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ یہاں اس طرح کے مسائل صدیوں سے رہے ہیں اور قیامت تک رہیں گے، اس کا سد باب انسانی قوت سے باہر کی چیز ہے، جس طرح مسلم لڑکیاں ہندؤں کے ساتھ گھر بسا رہی ہیں کیا غیر مسلم لڑکیا مسلمان کے ساتھ زندگی نہیں گزار رہیں؟
اس کو ختم کر نے کے بارے میں سوچنا اپنی قوت کوضائع کرنا ہے.

{ ہمارے کرنے کے کام }
۱- اس میسج کو مزید اور نہ پھلائیں، اس طرح کے مسائل میں میسج پھلانے سے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوتا.
۲- اصلاح کے دیگر اعمال کی طرح یہ بھی انفرادی عمل ہے، یعنی باپ اپنی بیٹی، بھائی اپنی بہن اور شوہر اپنی بیوی کی نگرانی اور مناسب شرعی تربیت کرے اور خود بھی اس پر عمل کرے، دوسرے لوگوں کا چکر چھوڑ دے کہ وہ اس ارتدادی وبا کا ازالہ کریں گے؛ بلکہ ہر ایک اپنا دائرۂ عمل دیکھے اور اس میں کام کرے.

۳- بہتر اور پائیدار نتائج کے لیے ٹھول منصوبہ بند کوشش ہی کارگر ہو سکتی ہے.

۴- کاؤسلنگ سینٹر کا قیام. اگر ہم یہ خیال پالے بیٹھے ہیں کہ کوئی انقلابی شخصیت پیدا ہوگی اور چشم زدن میں ساری خرابیوں کی اصلاح کر دے گی، تو اس کی توقع بھی فضول ہے.

موجودہ حالات میں خاص اسکول و کالج میں پڑھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کی اسلامی ذہن سازی کے لیے ہر جگہ تربیتی سینٹر قائم کیے جائیں، جہاں باپ اپنے بچوں کو لے کر یا بھائی اپنی بہن کو لے کر آئے، لیکن اس کا نام ” کاؤنسلنگ سینٹر ” رکھا جائے.اور ان کی اسلامی ذہن سازی کے لیے مولوی نما لوگوں کے بجائے ایسے لوگ کام کریں جو خود عصری علوم سے آراستہ ہیں اور اسکولی بچوں کے رجحان اور طبعی میلان و مذاق سے خوب واقف ہیں.

۵- ہر کام کے لیے مولویوں کا منھ نہ دیکھا جائے، کہ یہ کام بھی حافظ جی، امام صاحب اور مولوی و مولانا صاحب ہی کریں، ہم تو صرف بچے پیدا کر کے بےمہار چھوڑ دینے کے لیے ہیں.جتنا کام مولوی بےچارے کر دے رہے ہیں وہ ہی کافی ہے، ہند میں مدرسوں کی جتنی عمر ہے اتنی مسلمانوں کے قائم کیے ہوئے عصری اداروں کی بھی ہے، وہاں سے نکلنے والے "لاڈ صاحب” لوگ اپنے لیے بھی کچھ دینی خدمات کی ذمہ داری قبول کریں.اس مسئلہ پر اور غور و فکر کے ذریعے خدمت کی راہیں مزید نکل سکتی ہیں، اللہ تعالی ہر اس شخص کو جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا یا سمجھتا ہے، ارتداد کی اس وبا کی روک تھام کے لیے کچھ درد عنایت کرے. وما ذالک علی اللہ بعزیز (بہ شکریہ سوشل میڈیا)

مہاراشٹرا : 16 کروڑ کا انجکشن لگانے کے باوجود 13 ماہ کی بچی ویدیکا سورابھا شنڈے جانبر نہ ہوسکتی

مہاراشٹرا : 16 کروڑ کا انجکشن لگانے کے باوجود 13 ماہ کی بچی ویدیکا سورابھا شنڈے جانبر نہ ہوسکتی 03/08/2021d-ممبئی:(اردواخاردنیا./ایجنسیاں)مہاراشٹرا کی 13 ماہ کی بچی ویدیکا سورابھا شنڈے جو کہ ایک شاذ و نادر ہی لاحق ہونے والی بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث جاں بلب کیفیت میں مبتلا تھی۔ اتوار کو #پونا کے دینا ناتھ منگیشکر #اسپتال میں انتقال کرگئی۔ واضح رہے کہ اس کی بیماری کی نوعیت کے باعث #دنیا بھر سے اس کی مدد بھی کی گئی۔ اسے دنیا کا مہنگا ترین انجکشن زولگنسما بھی گزشتہ ماہ لگایا گیا تھا (یاد رہے کہ اس انجکشن کی قیمت سولہ کروڑ روپے ہے اور یہ رقم مختلف کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے جمع کی گئی تھی) مگر وہ ایک جینیاتی بیماری، جسے اسپائنل مسکیولر اٹروفی کہتے ہیں اور جو کہ بہت کم لوگوں کو لاحق ہوتی ہے، اس سے جانبر نہ ہوسکی اور چل بسی۔
 



 


 بچی کے والد کے مطابق وہ گزشتہ شام کھیل رہی تھی کہ اچانک اسے سانس لینے میں مشکل پیش آنے لگی، جس پر ہم فوری طور پر اسپتال پہنچے، جب اسکی حالت سنبھلی تو پھر ہم اسے دینا ناتھ #منگیشکر اسپتال لے گئے جہاں اسے فوری طور پر وینٹی لیٹر پر لے جایا گیا، اس موقع پر ڈاکٹروں نے پوری کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکی۔

جگتیال _ باپ کے روزانہ حالت نشہ میں گھر آکر ماں کی پٹائی کرنے کی شکایت ایک 12سالہ لڑکی نے پولیس

(اردو اخبار دنیا)
جگتیال _ باپ کے روزانہ حالت نشہ میں گھر آکر ماں کی پٹائی کرنے کی شکایت ایک 12سالہ لڑکی نے پولیس سے کی۔یہ انوکھا واقعہ تلنگانہ کے ضلع جگتیال میں پیش آیا۔یہ لڑکی روزانہ اس کی ماں پر اس کے باپ کے ظلم کو برداشت نہیں کرپائی۔اس کی شکایت کی جگتیال ٹاون پولیس اسٹیشن کی خاتون سب انسپکٹرنے بغور سماعت کی اور پھر اس لڑکی کے ساتھ اس کے گھر دیگر ملازمین پولیس کے ساتھ جاکر اس کے باپ کی کونسلنگ کرتے ہوئے حالت نشہ میں گھر آکر ظلم کرنے کے خلاف انتباہ دیا اور کہا کہ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کے خلاف معاملہ درج کیاجائے گا اور اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...