Powered By Blogger

پیر, اگست 09, 2021

سابق بی جے پی ترجمان کی قیادت میں جنتر منتر دہلی پر مسلمانوں کی نسل کشی کے نعرہ بلند : ویڈیو کی بنیاد پر "نامعلوم افراد” کے خلاف ایف آئی آر درج اگست 9, 2021


  • (اردو اخبار دنیا)

 دہلی: نئی دہلی میں جنتر منتر پر منعقدہ ایک اجتماع میں نفرت انگیز تقاریر کی گئیں اور مسلم مخالف نعرے لگائے گئے۔ تقریب میں ہندوتوا کے سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی۔

ایک ویڈیو کلپ میں جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکا ہے ، کچھ جنونی نعرے لگاتے ہوئے نظر آرہے ہیں ، ”جب مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے تو وہ’ رام رام ‘کے نعرے لگائیں گے۔

بی جے پی کے سابق ترجمان اور سپریم کورٹ کے وکیل اشونی اپادھیائے نے ویڈیو میں نظر آنے والے لوگوں سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ اس نے ویڈیو میں نظر آنے والے مردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم ، #ArestAshwiniUpadhyay ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔ نیٹیزین کا کہنا ہے کہ اپادھیا کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے کیونکہ وہ اس تقریب کے مرکزی منتظم تھے۔

دہلی پولیس نے مذکورہ ویڈیو کے سلسلے میں "نامعلوم افراد” کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
اس طرح کے نعروں کے علاوہ کئی ہندوتوا رہنماؤں نے جئے شری رام اور بھارت ماتا کی جئے کے نعروں کے درمیان تقریریں کیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ انگریز کے بنائے گئے 222 کالے قوانین کو تعزیرات ہند سے ختم کیا جائے اور نئے دیسی قوانین متعارف کروائے جائیں۔ یکساں سول کوڈ ، پاپولیشن کنٹرول قانون اور انسداد دراندازی قانون کا نفاذ ان کے کچھ مطالبات تھے۔

اپادھیائے نے اپنی تقریر میں کہا: "یہ قوانین ویر ساورکر (آزادی سے پہلے کے ہندوستانی لیڈر کو ہندو قوم پرست سیاست کے بانی کے طور پر جانا جاتا ہے) کے لیے بنایا گیا تھا۔ بھگت سنگھ ، سکھ دیو اور راج گرو کو پھانسی دینا۔

انہوں نے مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد کے حالیہ تشدد اور عسکریت پسندی کے پھیلنے پر کشمیر سے ہندوؤں کی نقل مکانی کی مثال دی تاکہ وضاحت کی جا سکے کہ 1800 کی دہائی کا پولیس ایکٹ کس طرح پولیس کو لوگوں پر "فائرنگ” کرنے سے روکتا ہے۔

شرکاء میں سے کچھ نے اسلام کے خلاف ہندی میں نسل کشی نفرت انگیز مواد والے فلائر تقسیم کیے

#مودی_کے_نئے_بھارت_کا_نعرہ : ” جب مسلمان کاٹے جائیں گے، رام رام چلّائیں گے ” ویڈیو لنک نیچے۔۔۔

  • (اردو اخبار دنیا)

خونریزی کی طرف ابھارنے والے یہ نعرے ہندوﺅں کی ایک ایسی بھیڑ نے لگائے جس کی قیادت بھاجپا کے سابق ترجمان اور ہندوتوا لیڈر اشوینی اپادھیائے نے کی، مسلمانوں کا خون بہانے کے لیے منعقدہ یہ جلسہ راجدھانی دہلی میں ہوا، وزیراعظم نریندرمودی کے گھر سے چند میل کے فاصلے پر، انڈین پارلیمنٹ، بھارتی سپریم کورٹ اور قصرِ صدارت کےپاس، یقینًا خونریزی کے اس ہندوتوا عزم کی گونج وزیرداخلہ امیت شاہ کے کانوں میں بھی پڑی ہوگی، لیکن یہ گونج ان کے لیے تسکین کا باعث ہوتی ہے،


ابھی چند ہی روز پہلے ہریانہ میں ہندؤوں کی مہا۔پنچایت ہوئی تھی جس میں ہندو دہشتگردوں نے اعلان کیا تھا کہ مت بھولو. مسلمانو ! ہم وہی ہیں جنہوں نے تمہارے حافظ جنید کو عیدالفطر سے محض ایک روز قبل، ماب لنچنگ میں قتل کیا تھا
انہی سب کے درمیان مسلمانوں کے چند جبہ پوش لیڈران بھی راجدھانی دہلی میں جمع تھے اور بند کمرے میں اتحاد ملت کی کانفرنس کررہے تھے، کانفرنس کرنے والا ہر قائد خود کو ملت اسلامیہ کا مسیحا شمار اور قائدِ ملت بلا شرکتِ غیر ۔ قرار دیتا ہے لیکن جب نریندرمودی اور امیت شاہ سے لڑنے اور ہندو۔دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے کا وقت آتا ہے تو یہ سبھی قائدین منظرنامے سے غائب ہوجاتےہیں اور جب مسلم قوم کے نوجوانوں کا غصہ بڑھتا ہے تو انہیں شانت کرنے کے لیے اردو میں دو۔چار لیٹرپیڈ جاری کردیتے ہیں بہت ہی محتاط الفاظ میں، کہ کہیں ہندو طبقہ ناراض نہ ہوجائے ۔

جبکہ ان قائدین پر فرض تھا کہ بھاجپا کے اقتدار میں مسلمانوں کےخلاف بڑھتی ہوئی ریاستی سطح کی زیادتی اور ہندوتوا دہشتگردی میں اتنے سارے مسلمانوں کی شہادت کےبعد ، یہ لوگ راجدھانی دہلی کی سڑکوں پر پارلیمنٹ مارچ کرتے ہوئے مسلمانوں کی طرف سے یہ۔نمائندگی کرتے کہ ملت پر ظلم و زیادتی برداشت نہیں ہوگی،

نریندرمودی جب اقتدار میں آیا تھا تبھی کہنے والوں نے کہا تھا کہ، گجرات میں خون کی ہولی کھیلنے والے سے امن و امان کی توقع مت کرنا بلکہ کوشش کرو کہ یہ دوباره جیت نہ پائے مگر اُس وقت ہماری قیادت کا ریزولوشن آپکو یاد ہے؟ ہماری قیادتوں نے یہ ریزولوشن پاس کیا تھا کہ، ” اب چونکہ نریندرمودی ہمارے ملک کے وزیراعظم بن چکےہیں اسلیے ان سے اختلاف کرتے وقت ہمیں ان کے منصب کا احترام ملحوظ رکھنا چاہیے اور ان کے خلاف بہت سخت تنقید نہیں کرنا ہے "
جب دوسری مرتبہ نریندرمودی بھارتی اقتدار پر قابض ہوا تو وزارت داخلہ امیت۔شاہ کے سپرد کی گئی اس وقت بھی کہا گیا کہ سرتاپا مجرمانہ ذہن و دماغ رکھنے والے سے لاء اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کی دہائی بےمعنی ہے، میں نے بھی لکھا تھا کہ، ملکی ہوم۔منسٹری کا امیت شاہ کے کنٹرول میں جانا ملک بھر کے پولیس سسٹم میں مسلم دشمنی کے اضافے اور پولیس کی فرقہ واریت کو انگیز کرنے کا موجب ہوگا، لیکن ہمارے لوگوں نے شاہ صاحب کےساتھ تعلقات بڑھانے پر اپنا زور صرف کیا۔

اب یہ دیکھیے کہ گجرات میں ننگا ناچ کھیلنے والی جوڑی نے دہلی میں گزشتہ سالوں ایک خونچکاں مسلم۔کش فساد کروایا اور اب مزید کی تیاری میں ہے، پارلیمنٹ آف انڈیا کےپاس مسلمانوں کے قتلِ عام کے مرکزی سلوگن کےساتھ جلسہ کرنا بھلا اور کس امر کی پیشنگوئی ہوسکتی ہے؟ جس کے آرگنائزر اور بھاجپائی نسبت رکھنے والے لیڈران ناصرف آزاد ہیں بلکہ بدنام زمانہ دہلی کی دنگائی پولیس انہیں بچانے میں مصروف ہے ۔
دنیا میں کہیں بھی کوئی دہشتگردانہ واردات ہوتی تو سب سے پہلے ہندوستان میں مسلمانوں کی جمعیتوں اور جماعتوں کی جانب سے ان کےخلاف احتجاجی عملی کوششیں ہوتیں، جن میں ہمیشہ خود کے دفاع کا پہلو غالب رہتاتھا،
مگر یہی جمعیتیں اور جماعتیں بھارت میں ہندوتوا۔دہشتگردی پر شترمرغ بنی ہوئی ہیں، بلکہ ہندوتوا دہشتگردی کی حقیقت کو صراحت سے بیان تک کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں جبکہ ہر دوسرے دن یہ دہشتگردی انہی کی قوم پر جسمانی یا ذہنی حملہ کررہی ہے

دوسری طرف، ہندو۔قوم کی شرمناک حقیقت ہے، جوکہ دراصل اس کی تاریخی حیثیت کا تسلسل ہے، مسلمان تو خیر بیرونی دہشتگردی کےخلاف احتجاج میں پہل کرتے تھے مگر بھارت میں جاری ہندوﺅں کی انتہاپسندی پر اب تک کسی بھی بڑے مندر کا کوئی برہمن، پجاری، پنڈت پروہت یا ہندو مذہبی جماعت اپنی قوم کے انتہاپسندانہ تخریبی رویے کےخلاف سامنے نہیں آئی ہے، جبکہ یہ لوگ خود کو گاندھی کے اہنسا وادی / عدم تشدد والی پالیسی کے علمبردار اور شاکاہاری امن پسند کہلاتے ہیں ۔
یہ جو اتنی تیزی سے ہندوتوا۔دہشتگرد کھلے سانڈوں کی طرح بپھرتے جارہےہیں یہ بلاسبب تو ہرگزنہیں ہے دنیائے انسانیت سب سے بڑی جمہوریت کے ایک اور منظرنامے کو رقم کرنے والی ہے، آر۔ایس۔ایس نے اپنی بقاء کے لیے مسلمانوں کی قربانی طے کر لی ہے، کاش کہ، ہمارے بھولے، بھالے انٹلکچوئل لوگ سمجھیں کہ، غیرمسلموں سے اتحاد کا مطلب صرف بھاجپا اور سَنگھ سے پینگیں بڑھانا نہیں ہے، یہ تو غنڈوں اور بدمعاشوں کی ٹولی ہے جن سے کمزوروں کو نجات دلانے کے لیے مظلوموں کا اتحاد ضروری ہے، لیکن جب آپ سیاسی مفادات کے لیے ظالم کے ساتھ بھی کھڑے ہوجاتےہیں تو مظلوموں کا اتحاد کمزور پڑجاتا ہے اور ظالم کے حوصلے سڑک پر آجاتے ہیں _

ویسے اپنی ہی پولیس اور ہتھیاروں کے درمیان ہم سے رام رام کہلوانے کا خواب دیکھنے میں کوئی برائی نہیں ہے، کیونکہ تم رام رام کہلوانے کا تو۔صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہو ۔۔

✍: سمیع اللّٰہ خان

گوتم تبدیلی مذہب معاملہ:مہاراشٹر کے پوسد شہر سے ڈاکٹر فراز شاہ کی گرفتاری

(اردو اخبار دنیا)یو پی اے ٹی ایس مسلمانوں کو بے جا گرفتار کررہی ہے، جمعیۃ علماء قانونی امدادفراہم کریگی، گلزار اعظمی
ممبئی 9/ اگست.تبدیل مذہب معاملے میں گذشتہ اتوار کی شب اتر پردیش اے ٹی ایس نے مہاراشٹر کے ضلع ایوت محل کے مقام پوسد سے ڈاکٹر فراز شاہ کو اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ حسب معمول اپنے دواخانے میں مریضوں کا علاج کررہے تھے، دو گاڑیوں میں اے ٹی ایس کے افسران پوسد پہنچے اور ڈاکٹر فراز شاہ کو گرفتار کرکے لکھنو لیکر چلے گئے، ڈاکٹر فراز کو گرفتار کرنے سے قبل اے ٹی ایس کے افسران نے ڈاکٹر فراز کے گھر والوں کو مطلع نہیں کیا، ڈاکٹر فراز کے اہل خانہ نے جب مقامی پولس اسٹیشن میں اس کی شکایت درج کرائی تو انہیں تحریری جواب ملاکہ لکھنؤ کی خصوصی عدالت نے ملزم کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا ہے اس لیئے لکھنؤ اے ٹی ایس ٹیم اسے اپنے ساتھ لیکر گئی ہے اور لکھنؤ پہنچتے ہی ڈاکٹر فراز کو عدالت میں حاضر کردیا جائے گا نیز ڈاکٹر فراز کو عمر گوتم تبدیل مذہب معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ دوان تفتیش ڈاکٹر فراز کے بھی اس معاملے میں ملوث ہونے کا سراغ ملا ہے۔

ڈاکٹر فراز شاہ کی گرفتاری کے بعد اس کی والدہ نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کے نام قانونی امداد کی درخواست ارسال کی ہے جسے منظور کرلیا گیا ہے۔
اس ضمن میں گلزا ر اعظمی نے کہا کہ یو پی اے ٹی ایس مسلمانوں کو بے جا گرفتار کررہی ہے تاکہ آنے والے انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فراز پوسد میں رہتے ہیں جبکہ تبدیل مذہب کا معاملہ نوئیڈا میں ہوا اس کے باوجود یو پی اے ٹی ایس نے انہیں گرفتار کرلیا۔

امید ہیکہ آج ڈاکٹر فراز شاہ کو لکئنؤ کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا جس کے دوران ملزم کے دفاع میں جمعیۃ کی جانب سے ایڈوکیٹ فرقان خان حاضر رہیں گے۔گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے میں پہلے سے گرفتار عرفان خواجہ خان کو جمعیۃ علماء قانونی امداد فراہم کررہی ہے اورجمعیۃ علماء ڈاکٹر فراز کو بھی قانونی امداد فراہم کریگی کیونکہ ملزمین کو جبراً اس مقدمہ میں پھنسایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک ہفتہ سے لکھنؤ میں وکلاء کی ہڑتال ہونے کی وجہ سے عدالتی کام کاج ٹھپ ہے جس کی وجہ سے ملزم عرفان خان کی ضمانت عرضداشت بھی داخل نہیں کی جاسکی ہے، جیسے ہی عدالتی کام کاج شروع ہوگا، ملزم عرفان کی ضمانت عرضداشت داخل کی جائے گی۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ اتر پردیش انسداد دہشت گرد دستہ ATSنے عمر گوتم اور مفتی قاضی جہانگیر قاسمی کو جبراً تبدیل مذہب کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا ہیکہ دونوں ملزمین پیسوں کا لالچ دے کر ہندوؤں کا مذہب تبدیل کراکے انہیں مسلمان بنا تے ہیں اور پھر ان کی شادیاں بھی کراتے ہیں۔ پولس نے ممنو ع تنظیم داعش سے تعلق اور غیر ملکی فنڈنگ کا بھی شک ظاہر کیا ہے۔پولس نے ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 420,120(B),153(A),153(B),295,511اور اتر پردیش پروہبیشن آف ین لاء فل کنورژن آف ریلیجن ایکٹ کی دفعات 3,5 کے تحت مقدمہ قائم کرکے ان پر سنگین الزامات عائد کیئے ہیں، یو پی اے ٹی ایس کی تفتیش ابھی جاری ہے۔

سپریم کورٹ کا ایمیزون اورفلپ کارٹ کے خلاف مداخلت انکار جانچ میں المے

نئی دہلی (اردو اخبار دنیا): سپریم کورٹ نے ای کامرس شعبے کی معروف کمپنیوں ایمیزون اور فلپ کارٹ کو بڑا دھچکہ دیتے ہوئے ان کے خلاف کمپٹیشن کمیشن آف انڈیا (سی سی آئی) کی جانچ میں مداخلت سے انکار کردیا۔ مسابقتی قانون کی خلاف ورزی کے لئے دونوں کمپنیو ں کے خلاف سی سی آئی کی جانچ چل رہی ہے۔
چیف جسٹس این وی رمن ، جسٹس ونیت سرن اور جسٹس سوریہ کانت کی ڈویژن بنچ نے اس معاملے میں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم عدالت دونوں کمپنیوں کو جانچ میں شامل ہونے کے لیے چار ہفتے کا وقت دیا ہے۔
دونوں کمپنیوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ہائی کورٹ نے غیر مسابقتی کاروبار کے لیے دونوں کمپنیوں کے خلاف سی سی آئی کی جانب سے شروع کی گئی ابتدائی تفتیش(پی ای) میں مداخلت سے انکار کر دیا۔
جسٹس رمن نے سماعت کے دوران کہا ، "ہمیں (ہائی کورٹ کے) حکم میں مداخلت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ (جانچ میں شامل ہونے کا) وقت آج (9 اگست) ختم ہو رہا ہے ، ہم چار ہفتوں کی توسیع کررہے ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ایمیزون اور فلپ کارٹ جیسی بڑی کمپنیاں رضاکارانہ طور پرجانچ میں شامل ہوں گی۔
سینئر ایڈوکیٹ گوپال سبرامنیم نے ایمیزون کی جانب سے دلائل پیش کیں جبکہ سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی فلپ کارٹ کی جانب سے پیش ہوئے۔ سی سی آئی کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا پیش ہوئے۔


انوپم شیام کے انتقال سے یوپی میں سوگ کی لہر

لکھنؤ(اردو اخبار دنیا)،اپنی بہترین اداکاری کی بدولت بالی وڈ اور چھوٹے پردے پر تقریباً ڈھائی دہائی تک دھوم مچانے والے اداکار انوپم شیام اوجھا کی طویل علالت کے بعد اتوار کی رات ممبئی کے ایک اسپتال میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر تقریبا 63 سال تھی۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ان کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا ، "مشہور اداکار انوپم شیام اوجھا جی کے انتقال کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ میری تعزیت سوگوار کنبے کے ساتھ ہے۔
ضلع پرتاپ گڑھ کے اسٹیشن روڈ کے رہائشی انوپم شیام گردےکی بیماری میں مبتلا تھا۔ ان کے کئی اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ حال ہی میں مسٹر یوگی نے اوجھا کے علاج کے لیے 20 لاکھ روپئے کی مدد کی تھی۔ انہوں نے لجا ، دستک ، دشمن ، نائیک ، شکتی: دی پاور ، رکت چریترا اور سلم ڈاگ ملینئر جیسی فلموں میں کام کیا۔


کورونا ویکسین کے کلینیکل ٹرائل کا ڈاٹا منظرعام پر لانے کا مطالبہ، سپریم کورٹ نے مرکز کو بھیجا نوٹس

نئی دہلی:(اردو اخبار دنیا)کورونا ویکسین کے کلینیکل ٹرائل اور پوسٹ ویکسنیشن ڈاٹا کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکز سے اس نوٹس کے ذریعہ جواب مانگا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عدالت نے مرکزی وزارت صحت کے ساتھ ساتھ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ اور ویکسین مینوفیکچر کرنے والی کمپنیوں کو بھی نوٹس جاری کیا ہے اور سبھی سے چار ہفتے میں جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر جیکب پولیل نے عدالت میں یہ عرضی داخل کی ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ عرضی پر نوٹس جاری کر رہا ہے، لیکن ٹیکہ کاری کو لے کر لوگوں کے ذہن میں کوئی غلط فہمی نہیں پیدا کرنا چاہتا۔ جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس رسیکیش رائے کی بنچ نے کہا کہ ’’کیونکہ ویکسین پر اندیشہ سے پہلے ہی مسئلہ پیدا ہو رہا ہے، ملک ویکسین کی کمی سے لڑ رہا ہے، ٹیکہ کاری جاری رہے اور ہم اسے روکنا نہیں چاہتے ہیں۔‘‘

عرضی دہندہ کی طرف سے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت میں کہا کہ آئی سی ایم آر سمیت سبھی بین الاقوامی ریگولیٹری کا اصول ہے کہ ویکسین ڈاٹا دیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ عوامی طور پر ڈاٹا جاری کیے جانے پر ماہرین اس پر غور کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ٹیکہ کاری کے عمل کو روک دیا جائے، لیکن ٹرائل کے ڈاٹا کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔‘‘

وکیل پرشانت بھوشن نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ زیادہ تعلیم یافتہ اشخاص میں خوف ہے، کیونکہ خود مختار ماہرین نے ویکسین یا ٹیسٹنگ کے ڈاٹا نہیں دیکھے ہیں۔ بھوشن نے عدالت میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک مہینے میں کووڈ ٹیکوں کی وجہ سے 3 ہزار لوگوں کی موت ہونے کی خبر ملی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 کے بعد جسم میں پیدا ہونے والی اینٹی باڈی، ویکسین سے بننے والی اینٹی باڈی کے مقابلے بہت بہتر ہوتی اور مختلف تجربہ کرنے والے اداروں نے یہ واضح کیا ہے۔

بہر حال، عرضی میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو ضروری خدمات تک پہنچنے کے لیے شرط کی شکل میں کووڈ ویکسین لگانے کے لیے مجبور کرنا غیر آئینی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’ویکسین کے معاملے میں حکومت نے لازمیت نہیں رکھی ہے، اور ویکسین لگانے والے کو خود فیصلہ لینا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ نجی اداروں کی جانب سے ملازمین کو مجبور کیوں کیا جا رہا ہے

او بی سی کے خالی اسامیوں کو پر کرے مرکزی حکومت : مایاوتی

لکھنؤ: (اردو اخبار دنیا (بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی)سپریمو مایاوتی نے پیر کو کہا کہ دیگر پسماندہ طبقات(اوبی سی) کی شناخت کرنے سے متعلق بل کا ان کی پارٹی حمایت کرتی ہے مگر مرکز کو سرکار نوکریوں میں اس سماج کے لئے خالی اسامیوں کو بھرنے کی سمت میں قدم اٹھانے ہونگے۔
محترمہ مایاوتی نے پیر کو اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا' او بی سی سماج بہوجن سماج کا جزء لاینفک ہے جس کے مفاد و فلاح کے لئے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے آئین کی دفعہ 340 کا انتظام کیا اور اس پر صحیح سے عمل نہ ہونے پر حکومت کے پہلے وزیر قانون نے استعفی بھی دے دیا تھا۔ بی ایس پی بھی ویسے ہی ان سماج کے لئے جی جان سے یکسو ہے۔
انہوں نے کہا' اسی سوچ کے تحت ریاستی حکومتوں کے ذریعہ او بی سی کی شناخت کرنے و ان کی فہرست بنانے سے متعلق پارلیمنٹ میں آج ترمیمی بلکا بی ایس پی حمایت کرتی ہے۔ مگر مرکزی حکومت صرف خانہ پری نہ کرے بلکہ حکومتی نوکریوں میں او بی سی کے سالوں سے خالی عہدوں کو پُر کرنے کی سمت میں پختہ اقدام کرے۔
قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن کی سخت مخالفت و ہنگامے کے دوران آئین ترمیم(ای ٹی)بحکم(ترمیم)بل 2021 سمیت تین بلوں کو منظور دی گئی ہے۔


اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...