Powered By Blogger

بدھ, اگست 11, 2021

انگلینڈاور ہندوستانی کرکٹ ٹیم پرکیوں لگایا گیا جرمانہ

انگلینڈاور ہندوستانی کرکٹ ٹیم پرکیوں لگایا گیا جرمانہ

انگلینڈ اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم پرکیوں لگایا گیا جرمانہ
انگلینڈ اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم پرکیوں لگایا گیا جرمانہ

(اردو اخبار دنیا)

دبئی:انگلینڈ اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم پر بدھ کے روز ناٹنگھم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں سست اوور ریٹ کے لئے 40 فیصد میچ فیس کاجرمانہ لگایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ دونوں ٹیموں کے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (ڈبلیوٹی سی) کے دو دو پوائنٹس کاٹے گئے ہیں مقررہ وقت کوذہن میں رکھتے ہوئے یہ پایا گیا کہ دونوں ٹیموں نے ہدف سے دواوور کم ڈالے، جس کے پیش نظرمیچ ریفری کے آئی سی سی ایلیٹ پینل کےکرس براڈ نے یہ جرمانہ لگایا۔

آئی سی سی نے ایک بیان میں کہا کہ کھلاڑیوں اور ان کے انفرادی سپورٹ اسٹاف کے لئے آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.22، جوسست اوور ریٹ سے متعلق ہے، کے مطابق کھلاڑیوں کو ان کی میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ کیا جاتا ہے، جب ان کی ٹیم مقررہ وقت میں پورے اوور ڈالنے میں ناکام رہتی ہے۔

اس کے علاوہ آئی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کھیلنے کی شرائط کے آرٹیکل 16.11.2 کے مطابق ایک ٹیم کاہرایک اوور ہر شارٹ کے لئے ایک پوائنٹ کاٹا جاتا ہے۔

سعودی عرب میں ملی جائیداد خریدنے کی اجازت

سعودی عرب میں ملی جائیداد خریدنے کی اجازت

سعودی عرب میں ملی جائیداد خریدنے کی اجازت
سعودی عرب میں ملی جائیداد خریدنے کی اجازت

(اردو اخبار دنیا)

ریاض:عرب میڈیا کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے جائیداد خریدنے کے لیے شرائط مقرر کی گئی ہیںِ جس کے مطابق جائیداد خریدنے کے لیے اقامہ درست اور تجدید شدہ ہونا ضروری ہے۔

سعودی حکومت نے اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سعودی اقامہ رکھنے والے غیرملکیوں کو مملکت میں جائیداد خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے جائیداد خریدنے کے لیے شرائط مقرر کی گئی ہیںِ جس کے مطابق جائیداد خریدنے کے لیے اقامہ درست اور تجدید شدہ ہونا ضروری ہے۔

سعودی اعلامیے کے مطابق جائیداد کی معلومات سرکاری دستاویزات کی کاپی کے ساتھ دینا ہوگی، جائیداد خریدنے والے کے نام دوسری جائیداد نہیں ہونی چاہیے۔

سعودی حکومت نے کہا ہے کہ جائیداد مکہ یا مدینہ میں نہیں خریدی جاسکتیں، غیرملکی افراد صرف رہائشی مقصد کے لیے جائیداد خرید سکتے ہیں۔

سعودی اعلامیے کے مطابق جائیداد کی معلومات سرکاری دستاویزات کی کاپی کے ساتھ دینا ہوگی، جائیداد خریدنے والے کے نام دوسری جائیداد نہیں ہونی چاہیے۔

سعودی حکومت نے کہا ہے کہ جائیداد مکہ یا مدینہ میں نہیں خریدی جاسکتیں، غیرملکی افراد صرف رہائشی مقصد کے لیے جائیداد خرید سکتے ہیں۔

دوسری جانب ابشر اکاؤنٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملک میں مقیم غیرملکیوں کو ایک عدد غیرمنقولہ جائیداد کی ملکیت رکھنے کا اختیار ہے۔

ابشر اکاؤنٹ کے ذریعے وہ غیرمنقولہ جائیداد خریدنے کی درخواست جمع کرواسکتے ہیں جس کا جائزہ لینے کے بعد انہیں منظوری دی جائے گی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے لیے غیرملکی کا نافذ العمل اقامہ ضروری ہے، اقامہ کی مدت ختم ہو تو درخواست قبول نہیں ہوگی۔

ابشر اکاؤنٹ لاگ ان کریں اس کے بعد مائی سروس پر جائیں، سروس کو کلک کریں، پھر جنرل سروس پر جاکر غیرمنقولہ جائیداد پر کلک کریں۔

درخواست کے ساتھ خریدی جانے والی جائیداد کی مکمل تفصیل، اس کی ملکیتی دستاویزات اور تصویر منسلک کرنا لازمی ہے

ہماچل پردیش میں زمین کھسکنے کا واقعہ ایک ہلاک ملبے کے نیچے کئی افراد

نئی دہلی (اردو اخبار دنیا)_ ہماچل پردیش میں آج دوپہر لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ پیش آیا ۔ اس واقعہ میں ریاست سے تعلق رکھنے والی ایک آر ٹی سی بس , ایک ٹرک اور کئی کاریں ملبے کے نیچے پھنس گئے۔ حادثے میں ایک کی موت ہو گئی۔ ملبے کے نیچے کئی افراد کے پھنسے رہنے کا امکان ہے جن میں 10 افراد کو بچا لیا گیا۔ ، آئی ٹی بی پی کی تین بٹالین کو امدادی کارروائیوں کے لیے میدان میں اتارا گیا ہے ۔ امدادی سرگرمیاں میں 200 کے قریب جوانوں نے حصہ لیا۔ اس علاقے میں چند مقامات پر پتھروں کے کھسک جانے کی اطلاع ہے لگ بھگ 40 لوگ چٹانوں کے نیچے پھنسے ہوئے دکھائی دئے ہیں۔ آئی ٹی بی پی کے ترجمان وویک پانڈے نے کہا کہ یہ علاقہ فی الحال خطرے میں ہے۔ آئی ٹی بی پی کی 17 ویں ، 19 ویں اور 43 ویں بٹالین کے جوانوں نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ آئی ٹی بی پی فورسز ریکونگ پیو شملہ ہائی وے پر چٹانوں کو صاف کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

امانت اللہ خان سابق چیف سکریٹری پر حملہ کرنے کے ملزم

امانت اللہ خان سابق چیف سکریٹری پر حملہ کرنے کے ملزم

امانت اللہ خان
امانت اللہ خان

(اردو اخبار دنیا)عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو سابق چیف سکریٹری پر حملہ کرنے کا مجرم پایا گیا ، سی ایم کیجریوال سمیت 9 ملزمان بری

 خصوصی عدالت نے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے دو ایم ایل اے امانت اللہ خان اور پرکاش جاروال کو دہلی کے سابق چیف سکریٹری انشو پرکاش پر حملہ کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔ تاہم دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال ، نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا اور 9 دیگر عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی کو بری کر دیا گیا ہے۔

 جن ایم ایل اے کو بری کر دیا گیا ہے ان میں نتن تیاگی ، ریتوراج گووند ، سنجیو جھا ، اجے دت ، راجیش رشی ، راجیش گپتا ، مدن لال ، پروین کمار اور دنیش موہانیہ شامل ہیں۔

 کیجریوال کے گھر میں منعقدہ میٹنگ کے دوران حملہ کا الزام۔ یہ معاملہ انشو پرکاش پر حملے سے متعلق ہے جو 2018 میں دہلی کے چیف سکریٹری تھے۔ انشو پرکاش پر مبینہ طور پر 19 فروری 2018 کو کیجریوال کے گھر میں ایک میٹنگ کے دوران حملہ کیا گیا۔ اس معاملے میں کیجریوال اور سیسودیا سمیت 13 ملزم تھے۔

 الزامات کے مطابق ، انشو پرکاش کو کیجریوال کی موجودگی میں ان کے ایم ایل اے نے بدتمیزی اور مار پیٹ کی۔ اس کے بعد چیف سکریٹری نے رات ہی لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کی اور اس کے بارے میں شکایت کی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ چیف سکریٹری کے ساتھ کیجریوال کے اشتہار کے حوالے سے 3 سال سے تنازعہ چل رہا تھا۔ ساتھ ہی کیجریوال حکومت نے کہا کہ یہ تنازعہ تقریبا 2.5 2.5 لاکھ لوگوں کو راشن نہیں مل رہا تھا۔

 یہ بھی الزامات تھے کہ کیجریوال کے کہنے پر ان کے ایم ایل اے نے انشو پرکاش کے ساتھ ہاتھا پائی شروع کردی۔ کئی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ اے اے پی ایم ایل اے نے انشو پرکاش کو تھپڑ رسید کیا ہے۔ ساتھ ہی ایم ایل اے امانت اللہ خان نے کہا تھا کہ یہ چیف سیکریٹری تھا جس نے بدتمیزی شروع کی۔ آپ نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ بی جے پی نے انشو پرکاش پر دباؤ ڈال کر مقدمہ دائر کیا تھا۔

 چارج شیٹ میں دعویٰ

- AAP رہنماؤں نے ثبوت چھپائے اس معاملے میں دہلی پولیس کی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انشو پرکاش پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حملہ کیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ اے اے پی رہنماؤں نے ثبوت بھی چھپائے تھے۔ اس نے واقعہ سے پہلے ہی کئی سی سی ٹی وی کنکشن منقطع کر دیے تھے۔

سیسودیا نے کہا - یہ ایک جھوٹا کیس تھا۔ اس معاملے میں عدالت کے فیصلے پر منیش سسودیا نے کہا ہے کہ یہ انصاف اور سچ کی فتح کا دن ہے۔ سیسودیا نے کہا کہ عدالت نے تمام الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کو اس جھوٹے کیس میں بری کر دیا گیا ہے۔ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ الزامات جھوٹے ہیں۔ سسودیا نے الزام لگایا ہے کہ یہ بی جے پی کی سازش تھی۔


راجیہ سبھا : ہنگامہ آرائی پر وینکیا نائیڈوجذباتی ہو گئےراجیہ سبھا میں ہنگامہ

راجیہ سبھا : ہنگامہ آرائی پر وینکیا نائیڈوجذباتی ہو گئے
راجیہ سبھا میں ہنگامہ


 
(اردو اخبار دنیا)
راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو منگل کو پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی پر بات کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے مندر کی بے حرمتی کی وجہ سے وہ رات بھر سو نہیں سکے۔ کل ایوان میں جو کچھ ہوا وہ جمہوریت کے خلاف ہے۔

نائیڈو نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کو مجبور نہیں کر سکتی۔ ارکان احتجاج کر سکتے ہیں ، لیکن چیئرمین کو نہیں بتا سکتے کہ کیا کرنا ہے ، کیا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے جمہوریت کا تقدس پامال کیا گیا ، میں مجروح ہوں۔ میرے پاس میرے درد کو بیان کرنے یا مذمت کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔

ہنگامہ آرائی کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کی دھمکی۔ ایوان بالا میں ہنگامہ برپا کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ کل اپوزیشن جماعتوں کے لیڈر کنویں پر پہنچے اور میز پر چڑھ گئے ، انہوں نے قاعدہ بیل کو بھی سیٹ کی طرف پھینک دیا۔ تاہم ، یہ ایوان کی کارروائی ختم ہونے کے بعد ہوا۔

 ایک کے بعد ایک شرمناک واقعہ: انوراگ ٹھاکر۔ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرتاپ سنگھ باجوہ پر راجیہ سبھا میں حکمرانی کی کتاب پھینکنے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنہیں اپنے مسائل اٹھانے کے لیے بطور رکن پارلیمنٹ بھیجا گیا ہے ، وہ بحث میں حصہ لیے بغیر فائلیں پھاڑنے اور پھاڑنے کے لیے آئے ہیں۔ کل جو ہوا وہ ایک کے بعد ایک شرمناک تھا۔


عرب:شہزادہ محمدبن سلمان نے دی کراٹے پلیئرکومبارکباد

عرب:شہزادہ محمدبن سلمان نے دی کراٹے پلیئرکومبارکباد

سعودی عرب:شہزادہ محمدبن سلمان نے دی کراٹے پلیئرکومبارکباد
سعودی عرب:شہزادہ محمدبن سلمان نے دی کراٹے پلیئرکومبارکباد
(اردو اخبار دنیا)

 

ریاض

سعودی ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان نے ٹوکیو اولمپک میں سلور میڈل جیتنے پر سعودی کراٹے پلیئر طارق حامدی کو مبارکباد دی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ملاقات کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان نے طارق حامدی کو میڈل جیتنے اور کراٹے میں ان کی نمایاں صلاحیتوں پر مبارکباد دی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں مزید بڑے ٹائٹل اپنے نام کریں۔

ولی عہد سے ملاقات پر طارق حامدی نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ تمام ایتھلیٹس خصوصا جن کی کراٹے میں دلچسپی ہے ان کی سپورٹ رہی ہے جس سے انہیں عالمی سطح کے مقابلوں میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے تحریک ملتی ہے۔

ملاقات میں سعودی وزیر سپورٹس اور سعودی عربیئن اولپمکس کمیٹی کے صدر شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل بھی موجود تھے۔

سعودی عرب کے نوجوان ایتھلیٹ 23 سالہ طارق حامدی نے ٹوکیو اولمپکس میں کراٹے کے 75 کلوگرام پلس کے مقابلے میں سلور میڈل حاصل کیا تھا۔ طارق حامدی اپنے ایرانی حریف سجاد گنج زادہ سے 4-1 سے جیت کر سونے کا تمغہ حاصل کرنے کے قریب تھے کہ پینلٹی کی وجہ سے وہ یہ تمغہ حاصل نہ کر سکے۔ (ایجنسی ان پٹ

میری جنگ دستوری سیکولرزم سے نہیں، سیاسی سیکولرزم سے ہے: اویسی

نئی دہلی:(اردو اخبار دنیا) نام نہاد اور نقلی سیکولر زم کے علمبرداروں پر زبردست حملہ کرتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور رکن پارلیمان بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا کہ ہند کے آئین میں درج سیکولرزم پر میرا مکمل یقین ہے،میں اسے بچانے کی جدو جہد کررہا ہوں، مگر عملی سیاست میں نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے سیکولرزم سے مجھے اختلاف ہے۔ انہوں نے دہلی مجلس کے صدر کلیم الحفیظ کی کتاب ’نشان راہ‘ کے اجراء کے موقع پریہ بات کہی۔

انڈین مسلم انٹیلکچوئل فورم کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام میں انہوں نے دعوی کیا کہ ملک میں ہر طرف مسلمانوں پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی جارہی ہیں،ہمارے دینی معاملات کے فیصلے بھی اب ایوانوں میں ہورہے ہیں،کھلے عام مسلمانوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں جنتر منتر پر دی جارہی ہیں اور دہلی پولس تماشہ دیکھ رہی ہے،یہ سیکولرزم نہیں بلکہ فاشزم ہے۔

صدر مجلس نے کہا کہ مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کو سیاسی امپاورمنٹ کی سخت ضرورت ہے۔بغیر سیاسی قوت کے آپ اپنے بنیادی حقوق بھی محفوظ نہیں رکھ سکتے۔انھوں نے سیکولرزم کی ایک نئی تعریف سے شرکاء کو واقف کرایا،انھوں نے کہا کہ ایک سیکولرزم وہ ہے جو ہند کے آئین میں درج ہے،جس میں ملک کے تمام شہریوں کو ان کے مذہب اور عقیدے کے مطابق بنیادی حقوق دیے گئے ہیں،ہم اس سیکولرزم کی نہ صرف حمایت کرتے ہیں بلکہ اس کو بچانے کا کام کررہے ہیں،دوسرا سیکولرزم نام نہادسیکولر پارٹیوں کا عمل ہے۔صدر مجلس نے کہا کہ میں ملک میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کررہا ہوں کیوں کہ یہ ملک تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے مگر میں اپنے بنیادی حقوق اور دستور میں دیے گئے اختیارات پر عمل کی آزادی کا مطالبہ کررہا ہوں۔انھوں نے اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا کہ اس وقت مسلمان انتہائی پسماندہ ہیں،اس سلسلے میں انھوں نے ماضی میں بنائی گئیں کئی سرکاری کمیٹیوں کی رپورٹوں کا حوالہ بھی دیا۔

شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے قائد مجلس نے کہا کہ ہمیں اب کسی کے نفع اور نقصان کے بجائے اپنے نفع اور نقصان پر بات کرنا چاہئے،آزادی کے کے بعد پچھتر سال سے ہم سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دیتے آرہے ہیں مگر بدلے میں ہمیں کیا ملا،عرس کے موقع پر مزار کی ایک چادر،رمضان میں ایک کھجور اور اس کے بدلے بھی ہم سے عید پر شیر خرما کی خواہش۔دہلی کی حکومت جس کو مسلمانوں کے 82فیصد ووٹ ملے فساد کے وقت وزیر اعلیٰ نے فسادیوں کو روکنے کے بجائے گاندھی سمادھی پر مون برت کا درامہ کیا۔مسلمانوں کو گالیاں دینے والے وزیر بنائے جا رہے ہیں،اترپردیش میں بھی سماج وادی انھیں گلے لگارہی ہے،سیکولر پارٹیوں میں موجود مسلم لیڈر وں کا برا حال ہے،ایک قد آور نیتا کو نہ علاج میسر ہوا نہ اپنے گاؤں کی مٹی،کئی رہنماجیلوں میں ہیں ان کی پیروی ان کی پارٹیاں نہیں کررہی ہیں،مجلس کو بی جے پی کی بی ٹیم کہنے والے بتائیں اپنی آبائی سیٹ کیوں ہار گئے،انھیں جیتنے کے لیے بھی وہاں جانا پڑا جہاں 30سے35فیصد مسلم ووٹ ہے،بی جے پی کی جیت کی سب سے بڑی وجہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے ووٹروں کا کمیونل ہوجانا ہے۔

صدر مجلس نے شرکاء سے کہا کہ اب کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں،ہمیں مسلمانوں،مظلوموں اور پسماندہ طبقات کی حفاظت کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔کام کرنے سے پہلے نتائج کو سوچ کر گھبرانے کے بجائے ہمیں ہمت اور حوصلے سے متحد ہوکر خود کو مضبوط کرنا چاہئے اورنتیجے اللہ پر چھوڑنا چاہئے۔

اورنگ آباد سے ممبر آف پارلیمنٹ سید امتیاز جلیل نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ مسلمان ہند میں زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح زندہ رہیں گے؟ انہوں نے کہاکہ لفظ سیکولر کے نام پر مسلمانوں کی سیاست کو برباد کیا گیا اور مسلمانوں کو ایک کنارے لگادیا گیا۔

صاحب کتاب اور دہلی مجلس کے صدر کلیم الحفیظ نیمسٹر اویسی کا شکریہ ادا کرتا ہوئے کہا کہ میں نے مجلس کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اپنا انقلابی سفر شروع کردیا ہے آپ میں سے جو لوگ میرے ساتھ چلنا چاہتے ہیں میں ان کا خیر مقدم کرتا ہوں۔پرگرام کی صدارت کالی کٹ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور جامعہ ہمدرد کے پرو چانسلرپدم شری سید اقبال حسنین نے کی۔اپنے صدارتی خطاب میں موصوف نے کہا کہ اپنے سیاسی قائدین سے تبادلہ خیال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انڈین مسلم انلیکچول فورم نے یہ موقع فراہم کرکے اچھا قدم اٹھایا ہے۔

اس موقع پرمعروف صحافی سہیل انجم نے کتاب اور صاحب کتاب کا خاکہ پیش کیا،اس کے بعد مجلس کے قومی صدر کے دست مبارک سے کتاب کا اجراء عمل میں لایا گیا۔ کالم نگار ڈاکٹر مظفر حسین غزالی نے کتاب کے مشمولات پر رشنی ڈالی۔مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور راجستھان کے صدرپروفیسر اخترالواسع نے بھی اظہار خیال کیا۔نظامت کے فرائض عبدالغفار صدیقی نے ادا کئے۔پروگرام میں دہلی کی معتبر و مستند شخصیات نے شرکت کی۔جس میں انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کے دائمی رکن ا نجینئر ساد علی کے علاوہ یونیورسٹیز کے پروچانسلر،وائس چانسلر، پروفیسرس، ڈاکٹرس، وکلا، شعراء ،صحافی،مصنفین،این جی اوز اورملی جماعتوں کے ذمہ داران وغیرہ شامل تھے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...