Powered By Blogger

پیر, اگست 16, 2021

مہاراشٹر: دوبارہ لاک ڈاؤن کی وارننگ، ممبئی میں عوامی مقامات کے لیے رعایت کا فیصلہ


ممبئی(اردو اخبار دنیا): ممبئی میں کووڈ-19 کے معاملات میں کمی کے پیش نظر ممبئی میونسپل کارپوریشن نے چند رعایتیں دینے کا فیصلہ کیا ہے،لیکن گزشتہ روز احتیاطی تدابیر نہیں کرنے سے ناراض وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے وارننگ دی تھی کہ اگر احتیاط نہیں کیاگیا تو دوبارہ سخت لاک ڈاؤن لگایا جاسکتا ہے۔

بی ایم سی نے میدان،گارڈن اور ساحل پر رات 10بجے جانے کی اجازت دے دی ہے۔ بی ایم سی نے اپنی ہدایات میں کہاہے کہ اس دوران عوام۔کو کوویڈ19 کے پروٹوکول کاخیال رکھناہوگا۔ گزشتہ روز سے حکومت نے چند شرائط پر لوکل ٹرینوں میں سفر کی اجازت دے دی ہے۔پہلے سرکاری،نیم سرکاری ملازمین کو اس کی اجازت تھی۔جن لوگوں نے دونوں خوراک لگالی ہیں انہیں لوکل میں سفر کی اجازت ہوگی ،یوم آزادی سے اس کی اجازت دی گئی ہے۔

بہار سیلاب : وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا کہ پٹنہ کے لوگوں کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے

بہار سیلاب : وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا کہ پٹنہ کے لوگوں کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے(اردو اخبار دنیا)بہار میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک ہے دریائے گنگا کے پانی کی سطح گزشتہ چند دنوں سے بڑھ رہی ہے 23 اضلاع کے لاکھوں لوگ سیلاب سے متاثر ہیں سیلاب کی صورت حال پر چیف منسٹر نتیش کمار نے اتوار کو کہا کہ دارالحکومت پٹنہ کے لوگوں کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے اس سے قبل بدھ کو نتیش کمار نے سڑک کے ذریعے پٹنہ کے ارد گرد سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا تھا بدھ کے روز نتیش کمار نے کہا تھا کہ دریائے گنگا کے پانی کی سطح بڑھ رہی ہے آنے والے دنوں میں دریا کے پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے انہوں نے کہا تھا کہ سال 2016 میں بھی سیلاب کی صورتحال تقریباایک جیسی تھی عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ 2016 کے سیلاب کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کریں اور ضروری اقدامات کریں سیلاب کے حوالے سے عہدیداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گنگا کے کنارے گنجان آباد علاقوں میں پانی کا رساو روکیں بدھ کے روز پٹنہ کے ہتھیدہ میں دریائے گنگا کی پانی کی سطح خطرے کے نشان سے 144 سینٹی میٹر اوپر تھی۔


سال 2022 میں پرگتی شیل سماج وادی پارٹی لوہیا اتحاد کی بنے گی حکومت : شیوپال

سال 2022 میں پرگتی شیل سماج وادی پارٹی لوہیا اتحاد کی بنے گی حکومت : شیوپال(اردو اخبار دنیا)اٹاوہ: پرگتی شیل سماج وادی پارٹی لوہیا ( پی ایس پی ایل) کے سربراہ شیوپال سنگھ یادو نے دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس بھی پارٹی سے ان کا اتحاد ہوگا سال 2022 کے اسمبلی انتخابات کے بعد اسی پارٹی کی حکومت بنے گی۔ پی ایس پی سربراہ آج یہاں اپنے انتخابی حلقے جسونت نگر میں لوہیا پیغام یاترا کا آغاز کرنے کے موقع پر بول رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس پارٹی سے ان کی پارٹی کا اتحاد ہوگا اسی پارٹی کی سال 2022 کے اسمبلی انتخاب میں حکومت بنے گی۔ آج ریاست کی ایسی حالت ہے جس میں ہماری پارٹی کافی مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر 2022 میں ہماری حکومت بنتی ہے تو کسانوں اور مسلمانوں کو پورا احترام ملے گا۔ کسی کے ساتھ مذہب و ذات کے نام پر کوئی تفریق نہیں کی جائے گی۔ کسان حکومت کے ذریعہ پاس کئے گئے کالے قانون کی مخالفت کر رہا ہے لیکن حکومت کسانوں کے مسائل کو نہیں سن رہی ہے۔ جسے لے کر کسان مہینوں سے احتجا ج پر بیٹھے ہیں۔ حکومت کو کسانوں کی بات سننا چاہئے کیونکہ کسان ملک کو اناج دینے والے ہیں۔

شیوپال یادو نے بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ جب سے یہ پارٹی اقتدار میں آئی ہے تب سے عوام پریشان ہیں۔ لگاتار مہنگائی بڑھ رہی ہے اور پٹرول ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں آسمانی چھورہی ہیں حکومت اس جانب دھیان نہیں دے رہی ہے۔ پی ایس پی سربراہ نے کہا کہ ان پانچ سالوں میں کس کو فائدہ ہوا۔ صرف دو ہی سرمایہ کاروں کو فائدہ ہوا ہے اب بہت سے لوگوں کو بکھاری بنایا گیا ہے جبکہ روزگار دینا چاہئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گذشتہ 5 سالوں میں بی جے پی نے ریاست کو سب سے نیچے 25 ویں پائیدان پر لا کھڑا کر دیا ہے اور بہار کا اس کے بعد نمبر آتا ہے۔

جانیے دہلی میں کون- کون سے کام ہورہے ہیں اب آن لائن

جانیے دہلی میں کون- کون سے کام ہورہے ہیں اب آن لائن

جانیے دہلی میں کون- کون سے کام ہورہے ہیں اب آن لائن
جانیے دہلی میں کون- کون سے کام ہورہے ہیں اب آن لائن

 

(اردو اخبار دنیا)

اب قومی دارالحکومت میں رہنے والے شہریوں کے بہت سے کام اب آن لائن ہونے جا رہے ہیں، یہ ایک اچھی پیش رفت ہے، جس سے شہریوں کو سہولت ہوگی۔

یوم آزادی(15 اگست 2021) کے موقع پر دہلی حکومت کے کئی محکموں میں کام آن لائن شروع کیا گیا ہے۔

نئی سروس شروع ہوتے ہی 3086 افراد کو دفتر جانے کے بغیر لائسنس دیا گیا ہے۔

 دہلی حکومت نے تمام اتھارٹیز میں سویدھا سیوا کیندر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہاں تعینات اسسٹنٹ بہت کم پیسوں میں لوگوں کی آن لائن درخواستیں قبول کریں گے۔

محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس حوالے سے پبلک نوٹس بھی جاری کیا ہے۔

اس اقدام سے سائبر کیفے مالکان کی فیس وصول کرنے کی صوابدید کو بھی چیک کیا جائے گا۔ حکومت نے موبائل اسسٹنٹ کی ایک اور سہولت دی ہے۔ ان کے تعاون سے درخواست بھرنے کے لیے 50 روپے فیس ادا کرنی ہوگی۔ اس کے لیے آپ کو 1076 پر کال کرنا ہوگی۔

اسسٹنٹ گھر آئے گا اور آن لائن درخواست دے گا۔

اس کے ساتھ ہی محکمہ ٹرانسپورٹ نے تین ڈپٹی کمشنرز کو مقرر کیا ہے تاکہ چہرے سے متعلق مسائل کو حل کیا جا سکے۔ 3086 لوگوں کے لیے بنایا گیا لرننگ لائسنس۔ فیس لیس سہولت کے متعارف ہونے کے بعد 11 سے 13 اگست شام 4 بجے تک 8370 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

اس میں گھر بیٹھے لرننگ لائسنس حاصل کرنے والوں کی تعداد 3086 تک پہنچ گئی ہے ، جبکہ گاڑی کی ملکیت کی منتقلی کے 1433، ڈرائیونگ لائسنس تجدید کے 1248۔ اس کے علاوہ  458 وہ افراد ہیں، جنھوں نے ڈرائیونگ لائسنس میں موجود ایڈریس کو تبدیل کیا ہے۔

اس کے علاوہ دوبارہ درخواست دینے والوں کی تعداد 247 ہوچکی ہے۔

افغان فوج کی ناکامی ہماری توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے ہوئی: امریکہ کا اعتراف

  • (اردو اخبار دنیا)

واشنگٹن:امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن نے تسلیم کیا ہے کہ جس افغان فوج کو انھوں نے گذشتہ بیس برس سے تربیت دی ے اور انھیں اسلحے سے لیس کیا، امریکہ ان کی طاقت اور صلاحیتوں کا درست اندازہ نہیں لگا سکا۔

ادھر افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ طالبان نے مجھے یہ شہر چھوڑنے پر مجبور کیا ہے کیونکہ وہ کابل اور اس کے باسیوں پر حملہ کرنے آئے تھے۔ کابل میں ایک طرف طالبان صدارتی محل پر قبضے کا دعویٰ کر رہے ہیں تو دوسری جانب کابل ایئرپورٹ سے تمام کمرشل پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن صرف گذشتہ ہفتے بھی تین لاکھ فوجیوں پر مبنی افغان فوج پر اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔دوسری جانب طالبان جنگجوؤں کی تعداد کا اندازہ ہے کہ وہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہیں۔

تاہم امریکی افواج کی جانب سے زمینی حمایت نہ ملنے پر حکومتی افواج نے فوراً ہتھیار ڈال دیے اور فوجی اہلاکاروں نے اپنی اپنی چوکیاں چھوڑ دیں اور کچھ واقعات میں تو فوجی بالکل بھاگ گئے۔

طالبان نے پہلا صوبائی دارالحکومت صوبہ نمروز کے شہر زرنج قابو کیا اور اگلے دس دن میں وہ پورے ملک پر حاوی ہو گئے اور اتوار کو کابل داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

آزادہندوستان میں سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں مسلمانوں کی خدمات

آزادہندوستان میں سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں مسلمانوں کی خدمات

 سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں مسلمانوں کی خدمات
سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں مسلمانوں کی خدمات
  • (اردو اخبار دنیا)

 

آزادہندوستان کے مسلم سائنسداں

غوث سیوانی،نئی دہلی

مسلمانوں کا سائنس و ٹیکنالوجی سے بہت پرانا تعلق ہے۔قرآن کی آیات بار بار سائنس کی جانب توجہ مبذول کراتی ہیں۔ تاہم بیچ کی کچھ صدیوں میں مسلمان سائنس میں پیچھے ہوگئے تھے مگر اب تیزی سے اس جانب ان کا رجحان ہورہا ہے۔آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے سائنٹسٹ تو نہیں پید اہوئے مگرجوہوئے،انھوں نے اپنے شعبے میں کمال کردکھایا۔ آزادی کے بعد جن مسلمانوں نے سائنس کے میدان میں اعلیٰ کارنامہ انجام دیا،ان تمام کے نام بھی لئے جائیں تو ایک دفتر کی ضرورت ہو۔ہم یہاں صرف چند مشہورافرادکا اجمالی تذکرہ ک رہے ہیں۔

ڈاکٹر سالم علی

ڈاکٹرسالم علی کو ہندوستان کا برڈ مین کہاجاتاہے۔انھوں نے پرندوں کی زندگی پر ریسرچ کیا اور کئی کتابیں تحریر کیں۔اس سے نئے نئے انکشافات ہوئے اور عالمی سطح پران کی تحقیقات کوسراہاگیانیز اعزازات اور ڈگریوں سے نوازاگیا۔ حکومت ہندنے انھیں پدم بھوشن اورپدم وبھوشن سے بھی نوازا۔ 1985میں وہ راجیہ سبھا کے لئے بھی نامزد کئے گئے۔

ڈاکٹر سید ظہور قاسم

ڈاکٹر ظہور قاسم ، ہندوستان کے معروف سائنسداں گزرے ہیں۔ وہ انٹارٹیکا مشن کے لئے مشہور ہیں۔انھوں نے کئی سائنسی پروگراموں کی قیادت کی۔وہ پلاننگ کمیشن آف انڈیاکے ممبر رہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہنئی دہلی کی وائس چانسلررہے۔فشریزاورماحولیات کے شعبے میں ان کی کافی خدمات ہیں۔ ان کی سائنسی خدمات کے لئے حکومت ہند نے پدم بھوشن اور پدم شری سے نوازا۔ انڈین سائنس کانگریس نےلائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔

اے پی جے عبدالکلام 

آزاد ہندوستان میں جب بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی بات ہوگی تو ڈاکٹراے پی جے عبدالکلام کانام ضرورلیاجائے گا۔انھوں نے دفاعی میدان میں ملک کو خودکفیل بنانے کا کام کیا۔انھوں نے میزائل کی ٹکنالوجی میں جواختراعات کیں،اس کے سبب انھیں ’میزائل مین‘ کہاجانے لگا۔انھیں ڈھیر سارے ایوارڈس ملے،یہاں تک کہ ملک کا سب سے اعلیٰ اعزازبھارت رتن بھی دیاگیا۔ جولائی 2015میں سابق صدرجمہوریہ کلام صاحب نے انتقال کیا۔

ڈاکٹر عبید صدیقی

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ نیورو بیالوجی اور جینیٹکس کے ماہر ڈاکٹر عبید صدیقی کا نام ملک کے مایہ ناز سائنسدانوں میں شمار ہوتاہے۔ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامینٹل ریسرچ، نیشنل سینٹر فار بایولوجیکل سائنس کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔اے ایم یوسے فراغت کے بعدانھوں نے دنیا کی کئی بڑی یونیورسٹیوں میں تحقیقی کام کئے۔ڈاکٹر صدیقی نے ذائقہ کے موضوع پر تحقیقی کام کیا۔اس سے جدید سائنس کوسونگھنے اورچکھنے کی قوت کو سمجھنے میں مددملی۔اعلیٰ اعزازات سے سرفراز اس سائنٹسٹ کی موت جولائی 2013میں ایک سڑک حادثے میں ہوئی۔

پروفیسر ای اے صدیق 

ابراہیم علی ابوبکر صدیق کو ایک زرعی سائنسداں کے طور پر جانا جاتا ہے۔انھوں نے اعلیٰ معیار کے چاول کی کئی قسمیں بنائیں۔پوساکی چندپیداوار بھی ان کے نام منسوب کی گئی ہیں۔ انھوں نے ہندوستان کے علاوہ دنیا کے کئی ملکوں کے سائنسی اداروں کے ساتھ کام کیا جن میں مصر، ویتنام ، بنگلہ دیش شامل ہیں۔

خاتون سائنسداں

آزاد ہندوستان میں خاصی تعداد میں مسلمان سائنسداں ہوئے جن میں سے چند کا ذکر ہم نے اوپرکیا۔ ان کے علاوہ ڈاکٹرشاہد جمیل،ڈاکٹرشمیم جیراجپوری، ڈاکٹراحتشام حسنین، ڈاکٹرمحمود نقوی، ڈاکٹرانیس الرحمان شامل ہیں۔ آزادی کے بعدہندوستان کی مسلم خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ چلیں اور کئی خواتین نے بھی سائنس کےمیدان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

ایسی خواتین میں ایک آفرین علام ہیں جنھوں نے امریکہ سے تعلیم پائی ہے مگرباقاعدہ پی ایچ ڈی نہ ہونے کے باجود انتہائی چھوٹے زرات پر انھوں نے تحقیقی کام انجام دیئے۔اسی طرح ڈاکٹر قدسیہ تحسین،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زولوجی کی پروفیسر ہیں اور سائنسی تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔پورے ملک میں ایسے ہزاروں مسلمان مردوخواتین مل جائیں گے جو یونیورسٹیوں میں پروفیسر،دوائوں کی کمپنیوں میں تحقیقی کام کر رہے ہیں یا کسی سائنسی شعبے سے وابستہ ہوکراپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔


رہانے اور پجارےنے انڈیا ٹیم کو سنبھالا

رہانے اور پجارےنے انڈیا ٹیم کو سنبھالا

(اردو اخبار دنیا)آؤٹ آف فارم چل رہے نائب کپتان اجنکیا رہانے (61) اور چتیشور پجارا (45) رن بنا کر اپنے فارم میں واپسی کی ہے اور ٹیم کا سنبھالا ہے۔ انہوں نے چوتھے وکٹ کے لئے 100 رن کی شاندار شراکت داری کی جس کی بدولت ہندوستان نے تین وکٹ پر 55 رن کی خراب صورتحال سے ابھرکر روشنی کے سبب اتوار کو چوتھے دن کا کھیل ختم ہونے تک اپنی دوسری اننگز میں چھ وکٹ گنواکر 181 رن بنالئے تھے۔ انگلینڈ کو پہلی اننگز میں 27 رن کی معمولی برتری حاصل تھی۔ ہندوستان ابھی 154 رن سے آگے ہے اور اس کے چار وکٹ باقی ہیں۔

ہندوستان نے انگلینڈ کو دن کی آخری گیند پر پہلی اننگز میں 391 رنز پر ڈھیر کر دیا۔ ہندوستان نے اپنی پہلی اننگز میں 364 رنز بنائے تھے۔ انگلینڈ نے 27 رنز کی اہم برتری حاصل کر لی تھی۔ ہندوستان نے آج چوتھے دن اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا۔

ہندوستان کو پہلا دھچکا 18 کے اسکور پر لگا جب فارم میں چل رہے اور پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے لوکیش راہل صرف پانچ رنز بنا کر وکٹ کیپر جوس بٹلر کے ہاتھوں فاسٹ گیند باز مارک ووڈ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اوپنر روہت شرما نے 36 گیندوں پر 21 رنز بنائے اور مارک ووڈ کی گیندپر باؤنڈری کے قریب معین علی کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ روہت نے 36 گیندوں کی اپنی اننگز میں دو چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ روہت کاوکٹ 27 کے اسکور پر گرا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ میچ کس کروٹ جاتا ہے۔


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...