سونیا گاندھی کی طلب کردہ اپوزیشن کی میٹنگ ممتا شریک ہوں گی میں
(اردو اخبار دنیا)مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے کانگریس کی کارگزار صدر سونیاگاندھی کی طلب کردہ اپوزیشن جماعتوں کی ورچوئل میٹنگ میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترنمول کانگریس کے ذرائع نے اس کی تصدیق کرتے ہوئےکہا ہے کہ 30 اگست کو سونیا گاندھی نے اپوزیشن کی جو ورچوئل میٹنگ بلائی ہے اس میں ممتا بنرجی کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ ممتا بنرجی نے یہ دعوت قبول کرلی ہے۔
ممتا بنرجی سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اسمبلی انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ دہلی کا دورہ کرنے والی ممتا بنرجی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کانگریس کے سینئر لیڈر کمل ناتھ سمیت دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے بھی میٹنگ میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔
واضح رہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل ملک بھر میں ہم خیال جماعتوں کو متحد کرنے کی کوششیں جاری ہیں ، جس میں ممتا بنرجی ایک اہم چہرے کے طور پر سامنے آئی ہیں ۔
بی جے پی حکمراں ریاستوں کے وزراء متنازعہ بیانات دینے کے لیے کافی مشہور ہیں اور ایک بار پھر بی جے پی وزیر نے ایسا بیان دیا ہے جس پر لوگ طنز بھی کر رہے ہیں اور تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔ معاملہ مدھیہ پردیش کی شیوراج حکومت میں وزیر ہردیپ سنگھ ڈَنگ سے متعلق ہے جنھوں نے یہ بیان دے کر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے کہ جو عوامی نمائندہ الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، ان کے لیے گائے پالنا لازمی ہونا چاہیے۔ اتنا ہی نہیں، انھوں نے میڈیا سے یہ بھی کہا کہ ریاست میں گائے پالنے کو لے کر قانون بھی بنایا جانا چاہیے۔
ہردیپ سنگھ ڈَنگ کے اس بیان پر کانگریس رکن اسمبلی عارف مسعود نے طنز کے تیر چلائے ہیں۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ہمیں ڈَنگ کی تجویز منظور ہے، لیکن حکومت یہ وعدہ کرے کہ ہمارے گائے پالنے پر موب لنچنگ نہیں ہوگی۔‘‘ کچھ دوسرے لیڈروں نے بھی ڈَنگ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ان کا مطالبہ حیرت انگیز ہے، اور اس طرح کا قانون نہیں بنایا جا سکتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ متنازعہ بیان دینے کے لیے مشہور ریاستی وزیر ڈَنگ نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ جن ملازمین کی تنخواہ 25 ہزار سے زادہ ہے ان سے 500 روپے لیے جائیں۔ اس بیان پر بھی ہنگامہ برپا ہے اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی حکم جاری کیا گیا تو یہ ظلم و جبر پر محمول ہوگا۔بہر حال، ڈَنگ نے ریاست میں گئو پروری کو لے کر کئی طرح کے بیان دیے ہیں۔ ایک بیان میں انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہر کسان کے لیے یہ لازمی کر دیا جانا چاہیے کہ جس کے پاس گائے ہو اسی کی کھیت رجسٹرڈ ہو۔ انھوں نے کہا کہ چاہے پنچ، سرپنچ، ضلع پنچایت رکن ہو، رکن اسمبلی ہو یا رکن پارلیمنٹ، صرف انھیں ہی ٹکٹ دیے جائیں جن کے پاس گائے ہے، ورنہ فارم نامنظور کر دیے جائیں۔
پاکستان کے ٹھٹھہ کے گاؤں امام بخش بروہی میں غیرت کے نام پر لڑکے اور لڑکی کو قتل کردیا گیا۔ایس ایس پی عمران احمد نے کہا کہ قتل کا واقعہ 10 اور 11 اگست کی رات پیش آیا۔انھوں نے بتایا کہ مقتولین کی خاموشی سے تدفین کردی گئی تھی۔
ایس ایس پی کے مطابق قتل کے الزام میں لڑکی کے والد اور 2 بھائیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او پر مشتمل تفتیشی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ایس ایس پی نے کہا کہ قبرکشائی اور میڈیکل بورڈ بنانے کے لیے درخواست کی ہے۔
بھارت میں ایک خاتون نے کار ایکسیڈنٹ میں ہلاک ہونے والے اپنے شوہر کی مورتی بناکر پوجا شروع کردی۔خاتون کا شوہر چند سال قبل کار ایکسیڈنٹ میں ہلاک ہوگیا تھا، اس کی یاد میں خاتون نے ایک چھوٹا سا مندر تعمیر کروا کر وہاں اپنے شوہر کی سفید سنگ مر مر سے تیار کردہ مورتی کی پوجا شروع کردی ہے۔
جنوبی بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع پرکاسم کی رہائشی پدماوتی کے اس اقدام کی وجہ سے بھارت بھر کے لوگوں کی توجہ اس کی جانب مبذول ہوئی ہے۔اس عورت نے دعویٰ کیا کہ اس کا شوہر گورو کولا آنکی ریڈی 2007 میں اپنی حادثاتی موت کے فوری بعد اسے خواب میں نظر آیا اور اسے مندر بنانے کو کہا، جس پر میں نے اپنے شوہر کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے مندر بنوایا ہے۔
حکومت مہنگائی سے راحت کے لئے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی ہٹائے : کانگریس
نئی دہلی(اردو اخبار دنیا): آسمان چھوتی مہنگائی کو لے کر آج ایک بار پھر کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ جلد از جلد پٹرول اور ڈیزل کو گڈس اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے دائرے میں لاکر عوام کو مہنگائی سے راحت دی جائے، اور اس کے لیے پٹرول-ڈیزل پر لگائی جانے والی ایکسائز ڈیوٹی فوری طور پر واپس لی جانی چاہئے۔
کانگریس ترجمان اجے ماکن نے مودی حکومت میں لگاتار بڑھ رہی مہنگائی کے تعلق سے بہت تفصیلی جانکاری ایک پریس کانفرنس کے دوران دی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے کے لئے کام کرنا چاہئے اور گزشتہ سات برسوں کے دوران اس نے پٹرول و ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی لگا کر جو فائدہ کمایا ہے اسے بند کر کے ملک کے عوام کو اب مہنگائی سے نجات دینی چاہئے۔
اجے ماکن نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت جس طرح سے کم ہوئی، اس کا فائدہ لوگوں کو ملنا چاہئے۔ پٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں ہوئی کمی کے مطابق کم کی جانی چاہئے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت الزام لگا رہی ہے کہ کانگریس تیل بونڈ لے کر آئی تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلی بار بی جے پی حکومت اپریل 2002 میں 9000 کروڑ روپے کے تیل بونڈ لے کر آئی تھی۔
کانگریس ترجمان ماکن نے مرکز کی مودی حکومت میں سبسڈی اور ایکسائز ڈیوٹی کے تعلق سے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت نے پٹرول و ڈیزل پر سبسڈی 12 گنا کم کی جبکہ ایکسائز ڈیوٹی میں 3 گنا اضافہ کر کے پٹرول مصنوعات سے خوب فائدہ کمایا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صرف 21-2020 میں مودی حکومت نے پٹرول و ڈیزل پر ٹیکس لگا کر 453812 کروڑ روپے کی کمائی کی ہے۔ اس مدت میں کی گئی یہ کمائی 14-2013 کے مقابلے تین گنا سے زیادہ ہے۔ اس طرح سات برسوں کے دوران اس حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر سنٹرل ٹیکس 23.87 اور 28.37 روپے فی لیٹر کی شرح سے لگا کر موٹی کمائی کی ہے۔
کانگریس لیڈر نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کم ہونے کے باوجود ہر سال پٹرولیم مصنوعات سے 189711 کروڑ روپے حاصل کرتی رہی ہے۔ اس حکومت کی مدت کار میں لوگ بے تحاشہ مہنگائی سے پریشان ہیں لیکن حکومت کی طرف سے عوام کو راحت دینے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔
ویلنگٹن :نیوزی لینڈ میں 6 ماہ بعد کورونا وائرس کی مقامی منتقلی کا پہلا کیس آکلینڈ میں رپورٹ ہوا ہے جس کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈن نے کل سے ملک بھر میں 3 روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق آکلینڈ میں 7 روز تک لاک ڈاؤن نافذ رہے گا، سڈنی میں ڈیلٹا ویرنٹ کے باعث کورونا وائرس کیسز میں اضافے کا خطرہ ہے۔
ادھر آسٹریلیوی حکام نے انتباہ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو کورونا وائرس کی ویکسین لگوانے پر زور دیا ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز میں کورونا وائرس کے 452 نئے کیسز اور ایک شہری کی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جاپان میں ٹوکیو اور 5 ریجنز میں کورونا ایمرجنسی میں 12 ستمبر تک توسیع متوقع ہے۔
اس ملک میں لیول 4 لاک ڈاؤن آخری بار کورونا کی وبا کے آغاز میں لگایا گیا تھا اور موجودہ پابندیوں کی وجہ یہ خیال کرنا ہے کہ نیا کیس مقامی سطح پر کورونا کی قسم ڈیلٹا کا پہلا کیس ہے۔ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ' ڈیلٹا کو گیم چینجر قرار دیا جارہا ہے اور یہ درست بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں شروع میں ہی اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت ہونا ہوگا۔
ہم نے دیکھا ہے کہ دیگر ممالک میں ناکامی پر کیا حال ہوا، ہمارے پاس صرف ایک ہی موقع ہے '۔ اس نئے لاک ڈاؤن میں نیوزی لینڈ کے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گھر میں صرف ان کے گھرانے کے افراد رہیں گے اور وہ اپنے گھر سے صرف خوراک یا ادویات خریدنے کے لیے ہی نکل سکیں گے۔
اس دوران بھی انہیں سماجی دوری کا خیال رکھنا ہوگا۔ جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ابھی ہم نہیں جانتے کہ یہ نیا کیس ڈیلٹا کا نتیجہ ہے یا نہیں اور اس کے لیے جینوم سیکونسنگ کا انتظار کرنا ہوگا، مگر حکومت ڈیلٹا کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ڈیلٹا بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہم دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہیں جہاں ابھی برادری کی سطح پر کورونا کی یہ قسم پھیلنا شروع نہیں ہوئی تو ہمارے پاس دیگر سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دیگر ممالک میں تاخیر سے کیے گئے اقدامات کے تباہ کن نتائج بھی دیکھیں ہمارے پڑوس میں بھی ایسا ہوا۔ یہ انہوں نے آسٹریلیا کا حوالہ دیا جہاں اس وقت کورونا کی لہر کو قابو میں کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ نیوزی لینڈ کے حکام اب تک نئے کیس کی وجہ بننے والے ذریعے کا تعین نہیں کرسکے ہیں۔
سری نگر، 17 اگست (یو این آئی) ایسا لگتا ہے کہ جموں کشمیر میں جنگجو بی جے پی لیڈران و کارکنان کے دشمن بن گئے ہیں۔چاہے پھرا س کارکن یا لیڈر کا تعلق کسی بھی سماج یا طبقہ سے ہو ۔ جنوبی ضلع کولگام کے برازلو کولگام میں منگل کو مشتبہ جنگجوئوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک کارکن کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مشتبہ جنگجوئوں نے برازلو جاگیر میں جاوید احمد ڈار ولد غلام عبداللہ ڈار نامی بی جے پی کارکن پر ان کے گھر کے باہر نزدیک سے گولیاں چلائیں۔
انہوں نے بتایا کہ زخمی جاوید احمد کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔جموں و کشمیر میں تعینات بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے کہا کہ جاوید احمد ڈار بی جے پی حلقہ صدر ہوم شالی بگ تھے۔
انہوں نے اپنے پارٹی کارکن کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگجو بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔اس واقعے سے محض چند دن قبل مشتبہ جنگجوئوں نے جنوبی ضلع اننت ناگ میں بی جے پی سرپنچ اور ان کی بیوی، جو پنچ تھیں، کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔دریں اثنا سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے بی جے پی کارکن کی ہلاکت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔