Powered By Blogger

جمعہ, اگست 20, 2021

محرم کی روایت، بن گئی ہندومسلم اتحادکی علامت



محرم کی روایت، بن گئی ہندومسلم اتحادکی علامت
 

غوث سیوانی،نئی دہلی

محرم، غم والم کا مہینہ ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے حضرت حسین اور ان کے اہل خاندان واحباب کی شہادت کویاد کرکے سخت دل انسان بھی غمگین ہواٹھتاہے۔ علاوہ ازیں ہندوپاک میں محرم کا ثقافتی پہلو بھی ہے۔ ملک میں صدیوں سے یوم عاشورہ کو ایک الگ انداز میں منانے کی روایت رہی ہے جس میں مسلمانوں کے کندھے سے کندھا ملاکرغیرمسلم بھی مناتے ہیں۔

ملک میں بہت سے شہراور گائوں ایسے مل جائیں گے جہاں تعزیہ داری،ماتم،نوحہ وغیرہ میں ہندوبرادران وطن بھی شامل ہوتے ہیں۔اس معاملے میں سب سے زیادہ شہرت کا حامل لکھنو ہے جہاں نوابوں کے عہد سے عزاداری کی روایت چلی آرہی ہے اور اس میں ہندووں کی شرکت کی بھی تاریخ ہے۔

یہاں بہت سے ہندوایسے مل جائیں گے جو شیعوں کی طرح سیاہ ماتمی لباس میں ملبوس ہوتے ہیں۔ گھروں میں امام بارگاہ سجانے ،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا تاج رکھنے، علم لگانے کی روایت کو آگے بڑھانے میں نہ صرف شیعہ اور سنی بلکہ ہندو عزادار بھی جوش وخروش دکھاتے ہیں۔

پرانے لکھنوشہر میں بہت سے ہندو خاندان ہیں ، جو اودھ کی گنگا جمنی تہذیب کو نسل در نسل لے کرآگے بڑھ رہے ہیں۔ وہ تعزیے بنانے کا کام کر رہے ہیں۔تعزیہ بنانے والے ایسے ہندو فنکار بھی ہیں ، جوکہتے ہیں کہ وہ محرم کے لیے حسین بابا کے تعزیے بنا رہے ہیں۔ سعادت گنج کے پرمود نے تعزیے کے بارے میں بتایا کہ عراق کے شہر کربلا میں واقع حضرت امام حسین کی مزار کی شبیہ (کاپی)تعزیہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ میری گزشتہ 21 پشتیں تعزیہ بنا رہی ہیں۔انھوں نے کہاکہ غم کے 68 دن تعزیہ بنا کر پورے سال کے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے دادا بھی تعزیہ بناتے تھے، پھر اپنے والد کے بعد ، وہ اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انھوں نے مزیدکہا کہ وہ آرڈر پر تعزیے بناتے ہیں ،اور اس کام کے لئے انھیں دور دراز علاقوں میں بلایا جاتا ہے۔

اسی طرح ہریش چندرا اور سنتوش کمار بھی برسوں سے یہاں کام کر رہے ہیں۔ دوباگا کے نریش کمار اور آزاد نگر کے روی کمار کا خاندان بھی کئی دہائیوں سے تعزیے بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

اسی طرح حسین آباد ، مفتی گنج ، صدر ، بالا گنج اور حیدر گنج سمیت کئی لوگوں میں درجنوں خاندان تعزیہ بنانے کا کام کر رہے ہیں۔ کورونا وبا کی وجہ سے ، کاغذ ، آرائشی اشیاء اور دیگرسازوسامان کی قیمت بڑھ گئی ہے،ایسے میں تعزیوں کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔

بہار کے کٹیہار میں ایک گاؤں ہے جہاں ہندو اپنے باپ دادا سے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کے لیے محرم مناتے ہیں۔ حسن گنج بلاک کے جگرناتھ پور پنچایت کا ہری پور گاؤں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال پیش کر تا ہے۔

اپنے آباؤ اجداد سے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کے لیے آج بھی ہندو برادری کے لوگ ، مہدیہ ہری پور میں محرم مناتے ہیں۔ تقریبا 1200 کی ہندو آبادی والا یہ گاؤں آج بھی سرخیوں میں ہے ۔کہا جاتا ہے کہ اس گاؤں کی ہندو برادری سو سال سے زائد عرصے سے اہتمام کے ساتھ محرم مناتی ہے۔

محرم کے حوالے سے تمام رسم و رواج کی بھی اچھی طرح پیروی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پورے گاؤں میں تعزیے کا جلوس نکالا جاتا ہے۔ لیکن اس بار کورونا وبا کی وجہ سے حکومت نے اپیل کی ہے کہ محرم کا تہوار سادگی اور سماجی دوری پر عمل کرتے ہوئے منایا جائے۔ جس کی وجہ سے کورونا وبا نے سیکڑوں سالوں کی روایت کو بریک لگا دیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پہلے وکیل میاں نامی شخص گاؤں میں رہتا تھا۔ لیکن اپنے بیٹے کی موت سے غمزدہ ہو کر وہ گاؤں چھوڑ گیا۔ اس کے جانے سے پہلے ، اس نے چھیدی شاہ نامی شخص سے کہا تھا کہ وہ گاؤں میں محرم منائے کیونکہ حسن گنج ایک ہندو اکثریتی علاقہ ہے اور 1200 کی آبادی والے اس گاؤں میں کوئی مسلمان خاندان نہیں ہے۔

اس دوران ہندو لوگ وکیل میاں سے کیے گئے وعدے کی وجہ سے اس گاؤں میں آج بھی محرم کا تہوار بڑے دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ روایت 100 سالوں سے جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی جاری رکھیں گے۔


ماہ محرم محرم الحرام ویوم عاشورا کی فضیلت و اہمیت

تحریر: حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشیدپور

اسلامی سال کا پہلا مہینہ جسے محرم الحرام کہا جاتا ہے اپنے گوناگوں پیچ و خم، عشق و وفا، ایثار و قربانی اور بے شمار فضیلت ومرتبت کی دولتِ بے بہا سے معمور و سربلند ہے۔ ماہ محرم اور یوم عاشورا ۔

ماہ محرم اور یوم عاشورہ

محرم الحرام کے مہینے میں ایک دن ایسا بھی ہے جسکے مراتب و فضائل کلام الٰہی قرآن مجید و احادیث نبویہ اور سیرت و تاریخ کی کتابوں میں بھرے ہوئے ہیں۔ وہ دن یومِ عاشورا کہلاتا ہے۔
ارشادِ باری ہے:ترجمہ: بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں۔ اللہ کی کتاب میں جب سے آسمانوں اور زمین کو بنایا، ان میں سے چار مہینے حُرمت والے ہیں۔ یہ سیدھا دین ہے، تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کروــ، ‘۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے قمری سال کے مہینوں کی تعداد کا ذکر فرمایا اور حُرمت کا اعلان فرمایا ہے اور اس بات کی وضاحت کی ہے کہ بلا شبہہ اللہ نے مہینوں کی تعداد بارہ ہی مقرر فرمائی ہے۔ ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے ایسے ہیں جن کو اللہ نے خصوصی فضیلت اور حرمت (بڑائی) سے نوازا ہے ان چار مہینوں کو حرمت والے مہینوں کا نام دیا جاتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فتح مکّہ سے قبل جب مسلمان مدینہ منورہ پہنچنے لگے تو کہنے لگے کہ کہیں مکہ کے کافر حرمت والے مہینے میں ہمارے ساتھ جنگ نہ شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرً …
نازل فرمائی۔

خطبہ حجتہ الوداع

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ‘ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن 10 ذوالحجہ کو خطاب کیا اور فرمایا: زمانہ چکر کاٹ کر اسی ہیّت پر آگیا، جس ہیّت (حالت) پر آسمان و زمین کی پیدائش کے دن تھا۔

سال بارہ مہینے کا ہے، جن میں سے چار حُرمت (بڑائی) والے ہیں۔ تین پے در پے یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم الحرام اور ایک رجب المرجب (تفسیر مظہری جلد 5 صفحہ 272۔ تفسیر روح البیان جلد 3 صفحہ 421 ) ۔

یومِ عاشورہ کا لفظی معنیٰ دسواں دن یا دسویں تاریخ ہے۔ مگر اب عرف عام میں یومِ عاشورہ کا اطلاق محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو ہوتا ہے جس دن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ‘ نے اپنے 72 نفوس قدسیہ کے ساتھ مذہب اسلام کی خاطر حق کیلئے راہ خدا میں جامِ شہادت نوش فرمایا تھا۔

یومِ عاشورا کے فضائل

یومِ عاشورہ کے فضائل کے تعلق سے صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ‘ فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس پر غالب گمان ہے کہ عاشورہ کا روزہ ایک سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے،

اسی فضیلت کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم ماہِ رمضان کے علاوہ روزہ رکھنا چاہتے ہو تو عاشورہ کا روزہ رکھو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔

اس ماہ کی فضیلت قرآن پاک میں آئی ہے اور اس مہینہ میں ایک دن ایسا بھی ہے جس میں اللہ سبحانہ‘ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور دوسری قوم کی توبہ کو قبول فرمائے گا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات کی طرف رغبت دلائی کہ وہ یومِ عاشورہ کو (توبتہ النصوح) کی تجدید کریں اور اللہ کی بارگاہ میں توبہ استغفار کی قبولیت کے لئے خوب گڑ گڑائیں روئیں اپنے پروردگار کو منائیں یعنی راضی کریں ۔

کیونکہ اس دن جس نے بھی اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ جس طرح اس سے پہلے والوں کی توبہ قبول فرمائی تھی۔

یومِ عاشورہ پر بزرگانِ دین کی بہت سی کتابیں موجود ہیں۔ یومِ عاشورہ اپنی بے شمارنعمتوں اور ان گنت فضیلتوں سے مالا مال ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کو متبرک اور بہت خیر و برکت والا بتایا ہے۔

اس کا اندازہ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ کی کتاب ’’ ماثبت بالسنتہ ‘‘ جس میں آپ لکھتے ہیں کہ ’’ ابن جوزی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھماسے ذکر فرمایا کہ محرم کی دسویں تاریخ ایسی منفرد اور بے مثال تاریخ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔

اس دن ان کو جنت میں داخل کیا اور اسی دن ان کی توبہ قبول فرمائی۔ اسی دن عرش و کرسی، جنت و دوزخ، زمین و آسمان، چاند و سورج، لوح و قلم کو پیدا فرمایا۔ اور بعض علماء کرام یہ فرماتے ہیں کہ یوم عاشورہ کو یہ نام اس لیے دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن دس انبیاء کرام علیھم السلام کو دس عظمتوں سے نوازا ( غنیتہ الطالبین صفحہ 55)۔

یومِ عاشورا کا دوسرا نام

"یومِ عاشورہ کو ’’یومِ "زینت”
بھی کہا جاتا ہے اور اس دن کا یہ نام حدیث مبارکہ میں وارد ہوا ہے۔

عَنْ اِبْنِ عُمَرِ (رضی اللہ تعالیٰ عنھما) قَا لَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلّیٰ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم مَنْ صَامَ یَوْمَ الزِّیْنَتِ اَدْرَکَ مَا فَاتَہُ مِنْ صِیَامِ السَّنَۃِ ۔
یعنی یومِ عاشورا
ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے یومِ زینت یعنی یومِ عاشورہ کا روزہ رکھا اس نے اپنے باقی سال کے فوت شدہ کو بھی پا لیا، ( غنیتہ الطالبین جلد 2 صفحہ 54 ، ما ثبت من السُنَّتہ صفحہ 10)۔

امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا بچپن پڑھیں

یومِ عاشورا کے اہم واقعات

اللہ تعالیٰ نے اس دن آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کی حضرت ادریس علیہ السلام کو اس روزمقامِ بلند کی طرف اُٹھا لیا حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اس روز جودی نامی پہاڑ پر ٹھہری تھی۔ اسی روز حضرت ابراھیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا خلیل بنایا اور انہیں اسی روز نارِ نمرود (آگ) سے محفوظ فرمایا۔

اسی روز حضرت دائود علیہ السلام کی توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ اسی روز حضرت سلیمان علیہ السلام کو حکومت واپس ملی۔ اسی یومِ عاشورہ کو ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب السلام کی تکلیف دور فرمایا عاشورہ کے دن ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سلامتی سے سمندر پار کرایا اور فرعون کو غرق کر دیا تھا۔ یہی دن تھا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات عطاء فرمائی تھی۔اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھایا تھا۔

اسی دن حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹائی گئی اور بنی اسرائیل کےلیے دریا میں راستہ اسی دن بنایا گیا تھا۔ آسمان سے زمین پر سب سے پہلی بارش یومِ عاشورہ کو ہی نازل ہوئی تھی۔

اسی دن حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹائی گئی اور بنی اسرائیل کیلئے دریا میں راستہ اسی دن بنایا گیا تھا۔ آسمان سے زمین پر سب سے پہلی بارش یومِ عاشورہ کو ہی نازل ہوئی تھی۔
حتیٰ کہ حدیث پاک کے مطابق قیامت بھی اسی دن آئے گی، اسی دن کا روزہ بھی پہلے فرض تھا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے پہلے اسی دن کا روزہ رکھا۔

عاشورہ کے نفل روزوں کا بہت ثواب ہے 9 محروم اور دسویں محرم کو روزہ رکھیں، صرف دسویں محرم الحرام کو ایک روزہ بھی رکھ سکتے ہیں۔ نبی رحمت صللاہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی ان روزوں کا اہتمام فر تے تھے۔

اسی یوم عاشورہ کے دن قریش خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالتے تھے اور اسی یوم عاشورہ کے دن کوفی فریب کاروں نے نواسہ رسول ﷺ و جگر گوشہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کربلا میں شہید کیا۔

اپنے وقت کے نابغہ روزگار و مایہ ناز فقیہ حضرت ابراہیم ابن محمد کوفی نے فرمایا کہ جس نے یوم عاشورہ کو اپنے عزیز و اقارب و اہل و عیال کو خوش رکھا اور ان پر خوش دلی اور دریا دلی کے ساتھ خرچ کیا تو اللہ پاک پورے سال کو اسکے لئے خیر و برکت و فراخی رزق مقرر فرما دیتا ہے۔

مفسرین فقہا و علماء فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے دن اگر کسی شخص نے یتیم و مسکین کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے بالوں کی مقدار کے مطابق ثواب عطاء فرمائے گا۔

یومِ عاشورا کے فضائل و اعمال

یومِ عاشورہ کا روزہ بہت فضیلت رکھتا ہے۔ یوم عاشورہ کا روزہ اسلام سے قبل اہل مکہ اور یہودی لوگ بھی رکھا کرتے تھے۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ‘ سے مروی ہے کہ اُمُ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ’’ قریش زمانہ جاہلیت میں یوم عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے آپ ﷺ بھی زمانہ جاہلیت میں اس دن روزہ رکھا کرتے تھے۔

پھر جب حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے، تب یومِ عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا، جس کا جی چاہے وہ یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے چھوڑ دے۔

چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ عاشورہ کے دن انبیاء کرام روزہ رکھا کرتے تھے۔ حضور محسن کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ اور فرمایا نو، دس کا رکھو یادس، گیارہ کا رکھو۔

صُوْ ْمُو یَوْمَ عَا شُوْرَآئَ یَوْمَ کَا نَتِ الْاَ نْبِیْآ ئُ تَصُوْ مُہ‘ (ترجمہ) : عاشورہ کے دن کا روزہ رکھو، کیوں کہ یہ وہ دن ہے کہ اس کا روزہ انبیاء کرام رکھتے تھے۔ (الجامع الصغیر جلد 4 صفحہ 215)۔

یومِ عاشورا کا روزہ رکھنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عام معمول میں شامل تھا اور آپ اس دن کا روزہ خاص اہتمام کے ساتھ رکھتے تھے۔

ایک حدیث پاک میں حضورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چار معمولات کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ انہیں کبھی ترک نہ فرماتے تھے۔ ان چار معمولات میں ایک یوم عاشورہ کا روزہ رکھنا بھی ہے۔

روایت اس طرح سے ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ چار چیزیں ایسی تھیں جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ترک نہیں کیا۔ یومِ عاشورہ کا روزہ اور ذو الحجہ کا عشرہ یعنی پہلے نو دن کا روزہ اور ہر ماہ کے تین روزے (یعنی ایام بیض) کے روزے اور فرض نماز فجر سے پہلے دو رکعت (یعنی سنّتیں) (رواہ النسائی و مشکواۃ شریف صفحہ 180)۔

جس نے عاشورہ کا روزہ رکھا اسے ایک ہزار شہیدوں کا ثواب ملتا ہے۔ اور ایک روایت کے مطابق ساتوں آسمانوں میں بسنے والے فرشتوں کا ثواب ملتا ہے۔ جس نے عاشورہ کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں 60 (ساٹھ) سال کی صوم و صلواۃ کی صورت میں عبادت کا ثواب لکھ دیتا ہے۔

یوم ِ عاشورا میں دسترخوان وسیع کرنا

عاشورا کے دن سخاوت کرنا یعنی غریب پروری کرنا، اپنے گھر کے دسترخوان کو وسیع کرنا، گھر والوں پر خرچ کرنا رزق کے اندر وسعت و فراخی کا باعث بنتا ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے سیدنا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ‘ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے عاشورہ کے دن اپنے اہل و اعیال پر نفقے (خرچ) کو وسیع کیا اللہ پاک سارا سال اس پر رزق کی وسعت فراخی (زیادتی) فرماتا ہے۔

حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو اسے بالکل ایسے ہی پایا۔ (مشکواۃ شریف صفحہ 170 غنیتہ الطالبین جلد 2 صفحہ 54) ۔

کشادگی رزق والی حدیثیں مختلف روایتوں کے ساتھ ملتی ہیں۔ روایات کی کثرت اس حدیث کو صحیح ثابت کر تی ہے آج کل سوشل میڈیا پر نئے ہجری سال کے لیے ایک دعا شيئر کی جارہی ہے، یہ حدیث صحیح ہے، البتہ یہ دعا صرف نئے سال کے لیے مختص نہیں ہے بلکہ ہر نئے مہینہ کے شروع ہونے پر یہ دعا پڑھی جاسکتی ہے۔

احادیث میں مذکور ہے کہ جب نیا سال یا مہینہ شروع ہوتا تو صحابۂ کرام اس دعا کو سیکھا کرتے تھے اور بتایا کرتے تھے۔ غرضیکہ اس دعا کو ہر ماہ کے شروع میں پڑھنا چاہئے، اگرچہ نئے سال کے موقع پر بھی پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالأَمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلامَةِ وَالإِسْلامِ وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمَنِ وَجوَارٍ مِنَ الشَّيْطَانِ (المعجم الاوسط للطبرانی۔ حدیث نمبر، 6410)۔

نئے ہجری سال کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرنا شریعت اسلامیہ میں حرام نہیں ہے، لیکن جس طرح شدت کے ساتھ لوگ یہ کرتے ہیں لگتا ہے یہ بڑے ثواب کا کام ہے ۔

یومِ عاشورا اور واقعہ کربلا

یومِ عاشورہ ماہِ محرم الحرام کا دسواں دن
مندرجہ بالا فضیلتوں و باتوں کے برعکس اپنے اندر ایک بالکل مختلف پہلو بھی رکھتا ہے۔ کیسا عجیب اتفاق ہے کہ اسی دن سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوٹے نواسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ‘ کو میدان کربلا میں شہید کر دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ نہایت شفقت آمیز لہجہ میں ارشاد فرمایا کہ ’’ حسن اور حسین میرے لیے دو مہک (خوشبو) دار پھول کی مانند ہیں‘‘۔

اسی حدیث پاک کی ترجمانی مجدد دین وملت عظیم البرکت اعلیٰ حضرت امام مولانا احمد رضا خان محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں۔

کیا بات رضا اس چمنستان کرم کی * زہرا ہیں کلی اور حسن و حسین پھول

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے زیادہ محبوب ان دونوں نواسوں میں حضرت حسین رضی اللہ کو حضور ﷺ کے وفات کے کم و بیش 50 سال کے عرصہ کے بعد 60 ھجری میں 10محرم الحرام کو شہید کر دیا گیادسویں محرم یعنی عاشورہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی مٹی شیشی (بوتل) کے اندر خون ہوگئی

ترمذی شریف جلد دوم میں ہے کہ دس تاریخ (یوم عاشورا) کو ایک عورت حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہاکی خدمت میں مدینہ شریف کے اندر حاضر ہوئی اسنے دیکھا حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہااشک بار ہیں عورت نے رونے کی وجہ پوچھی تو حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ میںنے ابھی ابھی خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ریش مبارک (داڑھی) مبارک گرد و غبار سے الجھے ہوئے ہیں۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا بات ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ابھی میں کربلا سے آ رہا ہوں آج میر ے حسین کو شہید کر دیا گیا۔

حضرت اُم المو منین رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ مجھے وہ مٹی یاد آ گئی جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ‘کی پیدائش کے وقت حضرت جبرائیل امین نے میدان کربلا سے لا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی مجھے دے کر فرمایا تھا کہ ’’ اے اُم سلمہ اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھو، کیوں کہ جس دن میرا حسین شہید ہوگا یہ مٹی بھی خون ہو جائے گی۔ ‘‘۔

آج جب میں نے دیکھا تو وہ مٹی خون ہو چکی ہے جسے میں نے ایک شیشی کے اندر سنبھال کر رکھا تھا۔
آخیر کیسا تھا وہ بر گزیدہ اللہ کا بندہ جس نے باطل حکمرانوں کے آگے سر نہ جھکایا بے یار و مددگار ہو جانے کے باوجود اللہ کے شیدائی نے محض اپنے رب سے لو لگائے ہوئے شہید ہو جانے کو نہایت جوانمردی کے ساتھ قبول کر لیا اور اپنے بعد آنے والی اُمت کے سامنے یہ مثال پیش کر دی کہ باطل قوتیں اور طاغوتی طاقتیں اسلئے نہیں ہوا کرتیں کہ امت مسلمہ کا کوئی فرد ان سے خوف کھا کر ان کے سامنے جھکنے کو تیار ہو جائے یا گوارا کر لے۔
امت مسلمہ کے ہر فرد کا تو یہی عمل ہونا چاہیے کہ وہ ہر باطل سے لڑ کر صرف حق کی سر بلندی کی تگ و دو میں لگا رہے اور خالقِ کائنات کے آگے سربہ سجود ہو جائے۔

واقعہ کربلا کے اس واضح پیغام سے ہمیں اپنے آپ کو مالامال کرناچاہئے اور اس تاریخ ساز مبارک دن کو کھیل تماشہ میں نہیں گذارنا چاہیے۔ کیونکہ اس دن کو ایسی ذات سے نسبت ہے جس کی قربانی ملتِ اسلامیہ کو ماتم و نوحہ خوانی کی طرف دعوت دیتی ہے بلکہ وہ درسِ عبرت دیتی ہے کہ اپنے نظام حیات کے اصولوں پر قائم و ثابت قدم رہیں اور اللہ کی بارگاہ میں یقین و ایمان، جذبہ ایثار، اور امید و رجاء کے عظیم سرمایہ حیات کو پیش کرتے رہیں کیونکہ اس میں کامیابی و کامرانی کے ر از مضمر ہیں۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو یومِ عاشورہ وو اقعہ کربلا شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ‘کے سلسلہ میں صحیح سوچ اور صحیح فکر عطاء فرمائے آمین! اور ہم گناہ گاروں کو راہِ راست و راہِ اعتدال پر قائم و دائم فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ طہ ویٰسین صلی اللہ علیہ وسلم !۔
الحاج حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی
خطیب و امام مسجد ہاجرہ رضویہ
اسلام نگر کپا لی وایا مانگو جمشیدپور جھاڑکھنڈ پن کوڈ 831020 ۔ رابطہ:

خوشخبری: سعودی عرب میں روزگار کے ایک لاکھ نئے مواقع

ریاض: سعودی عرب میں عسکری مصنوعات کے ادارے کے گورنر احمد العوھلی نے کہا ہے کہ 2030 تک عسکری صنعتوں کے شعبے میں روزگار کے ایک لاکھ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ عسکری مصنوعات کا ادارہ سعودی جامعات کے تعاون اور روزگار پروگرام کے ذریعے سعودی خواتین کو ملازمت کی سہولتیں فراہم کررہا ہے۔

مقامی ویب سائٹ کے مطابق گورنر احمد العوھلی نے کہا کہ عسکری مصنوعات کے شعبے میں سعودی خواتین کی شاندار کارکردگی پر فخر ہے۔ سعودائزیشن کے اہداف حاصل کرنے کے لیے کا م جاری رہے گا۔ احمد العوھلی نے اپنے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ عسکری صنعتوں کے شعبے میں سعودی خواتین کی کارکردگی قابل قدر ہے۔

انہو ں نے کہا کہ عسکری مصنوعات کے حوالے سے 39 کمپنیاں لائسنس لے چکی ہیں اور وہ خواتین کو عسکری صنعتی نظام کا حصہ بنا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کئی سعودی خواتین فیکٹریوں اور سینٹرز میں کام کرنے لگی ہیں، سعودی کمپنیاں ریموٹ کنٹرول سے کام کرنے والی نئی دفاعی مشینوں کی تیاری میں سعودی انجینیئر اور ٹیکنیشن خواتین سے مدد لے رہی ہیں

جمعرات, اگست 19, 2021

آئی پی ایل 2021: یہ حیرت انگیز محسوس ہوا کہ راہول ڈراوڈ میری پرفارمنس کی پیروی کر رہے ہیں ، سیمر چیتن ساکریا

آئی پی ایل 2021: یہ حیرت انگیز محسوس ہوا کہ راہول ڈراوڈ میری پرفارمنس کی پیروی کر رہے ہیں ، سیمر چیتن ساکریاچیتن سکاریا کا پچھلے چھ مہینوں میں موسمی عروج عمر کے لیے ایک کہانی رہا ہے۔

 انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے پہلے مرحلے میں راجستھان رائلز کی شاندار کارکردگی کے بعد ، اس نوجوان کو ٹیم انڈیا کے وائٹ بال سری لنکا کے دورے کے لیے پہلا کال ملا۔ہندوستانی ٹیم ، یہ ایک خواب پورا ہوا ہے۔ جب میں نے پہلی بار اس کے بارے میں سنا تو میرے سر میں بہت سارے خیالات تھے ، لیکن میں اس پر یقین کرنے سے قاصر تھا۔ میں نے اپنے آپ کو چونکا دیا کیونکہ میں سوچ رہا تھا کہ کیا یہ سچ بھی ہے۔ میں نے اس کے بارے میں نہیں سوچا تھا کہ میں کھیلوں گا یا نہیں ، صرف اس ڈریسنگ روم کا حصہ بننا میرے لیے بہت بڑا لمحہ تھا ، "چیتن سکاریا نے کہا۔

 23 سالہ کھلاڑی نے ٹیم انڈیا کے لیے ڈیبیو کیا اور 1 ون ڈے اور 2 ٹی 20 میچ کھیلے۔ چیتن اس وقت ششدر رہ گیا جب سری لنکا کے دورے کے لیے ٹیم انڈیا کے کوچ راہل ڈراوڈ نے گھریلو سرکٹ کے ساتھ ساتھ آئی پی ایل میں ان کی کارکردگی کی تعریف کی۔

 "سری لنکا میں دو ہفتوں کے لازمی سنگرودھ کو مکمل کرنے کے بعد ، ہم نے ایک ساتھ ملاقات کی۔ راہل صاحب میرے پاس آئے اور کہا ، 'ہیلو چیتن ، راہول یہاں۔' میں پہلے چونکا اور چونکا کیونکہ میں یقین نہیں کر سکتا تھا کہ یہ واقعی وہ ہے ، لیکن میں نے کھڑے ہو کر اسے ہیلو کہا ، "اس نے کہا۔

 میں نے اپنا تعارف کرایا اور اس نے مجھ سے میرے خاندانی پس منظر ، کھیل کے تجربے کے بارے میں پوچھا۔ آئی پی ایل کے دوران ، اور وہ پسند کرتا تھا کہ میں نے نئی اور پرانی گیند سے کس طرح باؤلنگ کی۔

 2021 بھاونگر کے نوجوان کے لیے ایک جذباتی رولر کوسٹر رہا ہے۔ فروری میں ، اس کا چھوٹا بھائی آئی پی ایل کی نیلامی سے کچھ دن پہلے خودکشی سے مر گیا۔ مئی میں ، سکاریہ کے راجستھان رائلز کے ساتھ اپنے پہلے دور میں متاثر ہونے کے فورا بعد ، اس نے اپنے والد کو کوڈ 19 میں دم توڑتے دیکھا۔

 "جب میں اس پہلی گیند کو باؤل کرنے کی تیاری کر رہا تھا ، میرے رن اپ ، وارم اپ کو نشان زد کرنے میں چند منٹ باقی تھے ، اس لمحے میں ، میں اپنی زندگی میں سامنے آنے والی ہر چیز کا فلیش بیک دیکھ سکتا تھا۔ برا ، قربانیاں ، حمایت ، تنقید سب کچھ ، "انہوں نے کہا۔

مولانا مفتی عبد المغنی صاحب مظاہری کی رحلت عظیم علمی و ملی خساره ! مولانا مرحوم کے انتقال پر صراط مستقیم سوسائٹی نرمل کے ذمہ دار علمائے کرام کا اظہار تعزیت

مولانا مفتی عبد المغنی صاحب مظاہری کی رحلت عظیم علمی و ملی خساره ! مولانا مرحوم کے انتقال پر صراط مستقیم سوسائٹی نرمل کے ذمہ دار علمائے کرام کا اظہار تعزیتگزشتہ کل بتاریخ : ٨محرم الحرام ١٤٤٣ھ مطابق 18 اگست 2021 بروزِ بدھ ،شب تین بجے تلنگانہ وآندھرا کے ممتاز ومستند ،صاحبِ نسبت عالمِ دین رہبرِ قوم وملت حضرت مولانا مفتی عبدالمغنی صاحب مظاہری طویل علالت کے بعد اس دارِفانی سے رخصت ہوگئے۔

مرحوم کا شمار جنوبی ہند کے مقبول ومشفق، اور ممتاز اکابر علمائے دیوبند میں ہوتاتھا، مولانا مرحوم کے تقریباً پچاس سالہ اصلاحی و تعلیمی سرگرمیوں سے ہزاروں تشنگانِ علم ومعرفت سیراب ہوئے۔آج ان کے انتقال پر شہرِ نرمل کی متحرک و فعال رفاہی وفلاحی تنظیم صراطِ مستقیم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے ذمہ دار علمائے کرام نے گہرے رنج و الم کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ مفتی صاحب کی وفات علمی حلقوں بالخصوص فرزندانِ دارالعلوم ومنتسبینِ مجلس دعوۃ الحق کے لیے ایک عظیم خسارے سے کم نہیں ۔مفتی صاحب کی وفات پر سرپرستِ تنظیم صراطِ مستقیم سوسائٹی :مولانا عبدالعلیم صاحب قاسمی نائب قاضی نرمل نے اپنے حزن وملال اور تعزیت کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ مفتی عبدالمغنی صاحب کا سانحۂ ارتحال امت کے لیے بالخصوص اہلِ تلنگانہ کے لیے عظیم خسارہ ہے مفتی صاحب ان چند گنی چنی شخصیات میں سے تھے جن کو بزرگوں کا اعتماد حاصل تھا خاص طور پر محی السنۃ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب کی صحبت کا اثر مفتی صاحب کی شخصیت میں نمایاں طور پر محسوس کیا جاتا تھا سنت کی اشاعت تعلیم قرآن کی ترویج میں وہ اپنے شیخ کے نقش قدم پر تھے اللہ پاک سے دعا کہ وہ اپنی شایان شان بدلہ عطا فرمائے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل کے ساتھ مفتی صاحب کے چھوڑے ہوئے کاموں کی تکمیل کی توفیق نصیب فرمائے، سوسائٹی کے نائب صدر مولانا امتیاز خان مفتاحی نقشبندی نے مرحوم کی رحلت کو علمی ودینی خسارے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم کی شہر حیدرآباد و ریاست تلنگانہ میں علمی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔آپ کی اصلاحی سرگرمیوں کے علاوہ رفاہی و فلاحی خدمات بھی نمایاں تھیں،انہوں نے مزید کہا کہ آج گرچہ مفتی صاحب ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کی تعلیمی واصلاحی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، صراط مستقیم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے صدر مفتی احسان شاہ قاسمی نے مفتی عبدالمغنی صاحب مظاہری کے انتقال پر انتہائی دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مولانا مرحوم کا انتقال عظیم ملی و دینی خسارہ ہے، یقیناًایسی شخصیات بہت کم پیدا ہوتی ہیں،جن کی کمی دیر تک محسوس کی جاتی ہے، آپ کے سانحۂ وفات سے ملتِ اسلامیہ تلنگانہ وآندھرا نے اپنے ایک ایسے عظیم مصلح کو کھودیا جن کی شفقتوں، توجہات، اصلاحی جدوجہد اور تعلیمی کاوشیں تا ابد یاد رکھی جائے گی،یقیناً وہ طلبہ وخدامِ دین بالخصوص جدید فضلاء پر بے انتہا شفیق تھے اور انھیں احادیثِ نبویہ سے غیر معمولی شغف تھا یہی وجہ ہے ہر جلسہ ومحفل میں مفتی صاحب کی پوری تقریر احادیث کے عامیانہ انداز میں افہام وتفہیم اور موجودہ حالات پراحادیث کی بہترین تطبیق کی عمدہ عکاسی کرتی تھی، نیز مفتی صاحب اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، معاشرے کی اصلاح، غلط رسم ورواج اور گمراہ عقائد کی بیخ کنی کے لیے آپ کی فکرمندی وکڑھن قابلِ تقلید تھی چناں چہ مفتی صاحب نے جہاں سٹی جمعیۃ علماء ہندگریٹر حیدرآباد کے روحِ رواں کی حیثیت سے شہر حیدرآباد کے ہر حلقے میں جمعیۃ علماء کا جال بچھایا اور شہر میں جمعیۃ کی سرگرمیوں کو تیز تر کیا، بالخصوص رافضیت وناصبیت کے خاتمے لیے مجالسِ عظمتِ صحابۂ کرام واہلِ بیتِ عظام کے کامیاب پروگرامز منعقد کیے، خدمتِ خلق کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیے وہیں مرحوم مجلسِ تحفظ ختم نبوت تلنگانہ وآندھرا کے اسٹیج سے ہر آن، ہر لمحہ، موسموں کی شدت کی پرواہ کیے بغیر ختمِ نبوت کے بے لوث خادم بن کر قریہ قریہ، گاؤں گاؤں اسفار کرکے بیداری پیدا کی، انہی ہنگامہ خیزیوں، بے شمار دینی مدارس کی سرپرستی اور مدرسہ سبیل الفلاح کے اہتمام کی ذمہ داریوں نے مرحوم کو گوشۂ تصنیف میں بیٹھنے نہیں دیا ورنہ اُن کا شمار ممتاز مصنفین میں ہوتا،یقیناً آپ کے ہزاروں شاگرد، پُرنوروآباد مدرسہ سبیل الفلاح ،درسِ حدیث کی آپ کی تقاریر آپ کا اخروی ذخیرہ اور ایسے کارنامے ہیں جن سے مفتی صاحب کی یادوں کا گلشن تازہ اور مہکتا رہے گا _

آتی ہی رہے گی تیری انفاس کی خوشبو گُلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

یو پی: میرٹھ ضلع کے ایک گاؤں کے مندر میں طالبہ کی گردن کٹی لاش ملنے کے بعد سنسنی

یو پی: میرٹھ ضلع کے ایک گاؤں کے مندر میں طالبہ کی گردن کٹی لاش ملنے کے بعد سنسنی

meerut-news-girl-found-dead-inside-temple-with-slit-throat

میرٹھ،19؍اگست:(اردو اخبار دنیا)اترپردیش کے ضلع میرٹھ کے کھرکھودا تھانہ علاقے کے ایک گاؤں میں مندر کے اندر ایک ایم اے کی #طالبہ کی #گردن کٹی #نعش پھندے سے لٹکی ہوئی ملنے کے بعد علاقے میں #سنسنی پھیل گئی۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) پربھاکر چودھری نے جمعرات کو اس واقعے کے بارے میں بتایا کہ پولیس کو مقامی لوگوں سے مندر میں ایک لڑکی کی #خودکشی کے بارے میں معلومات ملی تھی۔

اس کے بعد پولیس کو موقع پر بھیجا گیا لیکن اس وقت تک لواحقین نے لاش کی آخری رسومات کر دی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ فورنسک ٹیم بھیج کر حقائق اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ایس ایس پی کے مطابق مقتول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ لڑکی بہت پوجا ،پاٹ کرتی تھی اور پہلی نظر میں یہ توہم پرستی کا معاملہ لگتا ہے۔معلومات کے مطابق تھانہ کھرکھودا تھانہ کے ایک گاؤں کی رہائشی 22 سالہ طالبہ ہاپور کے ایک کالج سے ایم اے کر رہی تھی۔

پیر کی سہ پہر وہ کسی کو بتائے بغیر گھر سے نکل گئی۔پولیس نے بتایا کہ طالبہ کے دیر تک گھر واپس نہ آنے پر اہل خانہ نے تلاش شروع کی۔ اس دوران کچھ دیہاتیوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک لڑکی کو گاؤں میں دیوی کے #مندر کی طرف جاتے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب لڑکی کے اہل خانہ وہاں پہنچے تو دروازہ اندر سے بند تھا۔ جب دروازہ کھٹکھٹانے پر نہیں کھولا گیا تو انہوں نے دیہاتیوں کے ساتھ مل کر دروازہ توڑ دیا ۔

اندر کا منظر دیکھ کر گھر والوں اور گاؤں والوں کے ہوش اڑ گئے۔ اندر طالبہ کی لاش #پھانسی سے لٹکی ہوئی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ گردن کاٹ دی گئی تھی، جس پر گہرا زخم تھا اور بہت زیادہ #خون بہہ چکا تھا۔ اس کے بعد اہل خانہ نے پولیس کو بتائے بغیر اس کی آخری رسومات ادا کردی ۔ انہوں نے بتایا کہ بدھ کی شام تک لڑکی کے بارے میں معلومات کھرکھودا تھانہ کے آس پاس کے دیہات میں پھیلنا شروع ہو گئیں جس کے بعد انسپکٹر سنجے شرما نے موقع پر پہنچ کر واقعہ کے بارے میں دریافت کیا اور خاندان سے پوچھ گچھ کی۔

مندر کے احاطے کا معائنہ کرنے کے بعد کچھ شواہد اکٹھا کیے گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نے یہ قدم توہم پرستی میں اٹھایا ہوگا لیکن موت کی وجہ تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوگی

ویکسین کی دونوں خوراکیں لینے کے بعد ملک میں 87000 کورونا مریض۔46 فیصد مریض صرف کیرل میں: ذرائع

ویکسین کی دونوں خوراکیں لینے کے بعد ملک میں 87000 کورونا مریض۔46 فیصد مریض صرف کیرل میں: ذرائع

vaccine-covid-19

نئی دہلی،19؍اگست:(اردو اخبار دنیا) کورونا کی دونوں خوراکیں لینے کے بعد بھی ملک میں کورونا انفیکشن کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دوسری خوراک کے بعد کل کامیاب کیسوں میں سے 46 فیصد کیرالہ میں درج ہوئے ہیں۔ کیرالا میں بریک تھرو #انفیکشن (ویکسین لینے کے بعد انفیکشن) کے تقریبا 80 ہزار کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس میں تقریبا 40 ہزار دوسری خوراک لینے کے بعد بریک تھرو انفیکشن کے ہیں۔ دوسری خوراک کے بعد ملک میں 87 ہزار سے زیادہ بریک تھرو انفیکشن کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

دوسری خوراک کے بعد #کیرالہ کل #بریک تھرو انفیکشن کا 46 فیصد ہے۔ باقی 54 فیصدملک کے مختلف حصوں سے رپورٹ ہوئے ہیں۔وزارت صحت کے لیے سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ کیرالہ میں دوسری خوراک کے بعد اتنی بڑی تعداد میں بریک انفیکشن کی وجہ کیا ہے؟ فی الحال کیرالہ سے بریک تھرو انفیکشن کے 200 نمونوں کی جانچ کی گئی ہے، لیکن اب تک کوئی نئی تبدیلی سامنے نہیں آئی ہے۔ کیرالہ کے وائناڈ میں تقریبا 100 فیصد ویکسی نیشن کے بعد بریک تھرو انفیکشن کے معاملے وہاں بھی ہیں۔

حکومت بریک تھرو انفیکشن اور #وائرس کی منتقلی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ کیرالہ، #کرناٹک، تمل ناڈو میں جو #ٹرانسمیشن ہو رہی ہے اس پر قریبی نظر ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ آج کورونا کے کیسز 40 ہزار سے بھی کم آئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 36401 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور 530 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں فعال کیسز کی تعداد 364129 ہے جو کہ گزشتہ 149 دنوں میں سب سے کم ہے۔ جبکہ صحت یابی کی شرح 97.53 فیصد ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 39157 مریض کورونا سے صحت یاب ہوئے ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 31525080 افراد کورونا سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

ہفتہ واری مثبت شرح 1.95 فیصد ہے جو گزشتہ 55 دنوں سے 3 فیصد سے کم ہے۔ یومیہ مثبت شرح 1.94 ہے۔ یہ گزشتہ24 دنوں میں 3 فیصد سے کم ہے۔ اب تک مجموعی طور پر 50.03 کروڑ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ24 گھنٹوں میں ویکسین کی 5636336 خوراکیں دی گئیں۔ اب تک کل ویکسی نیشن 566488433 ہو چکی ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...