Powered By Blogger

ہفتہ, اگست 21, 2021

امریکی لڑکی نے آندھراپردیش کے لڑکے سے کرلی شادی

امریکی لڑکی نے آندھراپردیش کے لڑکے سے کرلی شادیحیدرآباد _ امریکی لڑکی اور آندھراپردیش کا لڑکا جو ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، شادی کے اٹوٹ بندھن میں بندھ گئے۔تفصیلات کے مطابق اے پی کے مشرقی گوداوری ضلع کے کُپلاواری گوڑم گاوں کے رہنے والے این نارائن راواور اوشارمنی کا بیٹا شیوشنکر ملازمت کے سلسلہ میں امریکہ گیا تھا۔وہ ورجنینا میں آٹھ سال سے ملازمت کررہا تھا۔اس کے دوستوں نے اس کا تعارف امریکی لڑکی ملیساسے کروایااور دونوں میں محبت ہوگئی۔شیوشنکر نے اس بات سے اپنے والدین کو واقف کروایااورشادی کی اجازت مانگی۔ابتدا میں اس کے والدین نے اس شادی کے لئے رضامندی ظاہر نہیں کی تاہم اس نے اپنے والدین کو کسی طرح اس شادی کے لئے رضامند کرلیا۔اس طرح ان دونوں کی شادی ہندورسم ورواج کے ساتھ انجام پائی


‎بانده میں نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی ، 3 گرفتار ، 2 ملزمین کی تلاش

 بانده میں نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی ، 3 گرفتار ، 2 ملزمین کی تلاشباندہ(اردو اخبار دنیا): اترپردیش کے باندہ (Banda) ضلع میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ آبروریزی (Rape) کے سانحہ کو انجام دیا گیا ہے۔ اہل خانہ نے تین لوگوں کے خلاف تندواری تھانے میں 14 اگست کو شکایت کی، لیکن پولیس نے معاملہ درج نہیں کیا تھا۔ پولیس معاملے میں ٹال مٹول کرتی رہی، جس کے بعد متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ نے اعلیٰ افسران سے معاملے کی گہار لگائی۔ اس کے بعد 19 اگست کی رات کو معاملہ درج کرلیا۔ کچھ ہی دیر بعد 3 لڑکوں کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے اور عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔

پورا معاملہ تندواری تھانہ علاقے کے ایک گاوں سے سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک لڑکی سے تندواری تھانہ کے بیدا گاوں کے رہنے والے 5 لڑکوں نے آبروریزی کی۔ تحریر کے مطابق، لڑکی اپنے گھر سے جنگل کی طرف قضائے حاجت کے لئے گئی تھی۔ وہیں پہلے سے بیٹھے حیوانوں نے آبروریزی کی واردات کو انجام دیا۔ حادثہ کے بعد متاثرہ لڑکی نے آپ بیتی اہل خانہ کو بتائی۔ بے ہوش حالت میں گھر پہنچی لڑکی کو دیکھ کر اہل خانہ کے ہوش اڑ گئے۔

اس کے بعد اہل خانہ نے لڑکی کو لے کر 14 اگست کو تندواری تھانے پہنچے، لیکن پولیس نے معاملہ میں لاپرواہی کرتے ہوئے کوئی بھی کارروائی نہیں کی، جس کے بعد متاثرہ فیملی نے اعلیٰ افسران سے پورے معاملے کی شکایت کی۔ معاملہ بڑھتا ہوا دیکھ کر باندہ ایس پی ابھینندن سنگھ نے 19 اگست کو آبروریزی کا معاملہ درج کراتے ہوئے ملزمین کی گرفتاری کے لئے ٹیم لگائی اور 3 نابالغ ملزمین کو گرفتار کرنے کے بعد ان کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔

باندہ ایس پی ابھینندن نے بتایا کہ 14 اگست کو ایک لڑکی کے ساتھ آبروریزی کا سانحہ پیش آیا تھا۔ اہل خانہ تھانہ پہنچے تھے اور اطلاع دے کر چلے گئے تھے۔ 19 اگست کو انہوں نے تحریری طور پر شکایت دی، جس کے بعد معاملہ درج کرلیا گیا ہے۔ لڑکی کو میڈیکل جانچ کے لئے بھیج دیا گیا ہے اور تین ملزمین کی گرفتاری بھی کرلی گئی ہے۔ لڑکوں کو عدالتی حراست میں بھیجا گیا ہے اور پورے معاملے کی تفتیش کی جارہی ہے۔ معاملے میں دو دیگر کی تلاش کی جارہی ہے۔

مولانا محمد قاسم نانوتویؒ جن کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی!

مولانا محمد قاسم نانوتویؒ جن کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی!

Muhammad Qasim Nanautavi

نقی احمد ندوی

انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں پر اپنی زمین تنگ کر دی، وہ قوم جس نے ہندوستان کو ایک نئی تہذیب، ایک نئی ثقافت، ایک نئی زبان اور ایک نیا #آئین دیا تھا اور جس نے ہندوستان کی تعمیر وترقی کی بے مثال تاریخ لکھی تھی، اسی قوم کی تہذیب وثقافت اور حقوق کو پامال کرنے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔

ان کی زمین اور جاگیریں سلب کر لی گئیں، ان کی زبان کو غیر سرکاری قرار دیا گیا، ان کے ادارے اور انسٹی ٹیوشنس بند کر دیئے گئے، سرکاری نوکریوں سے انھیں بے دخل کر دیا گیا اور یہی نہیں بلکہ ان کے دین ومذہب پر بھی #انگریزی یلغار شروع ہوئی۔ ایک طرف #مسلمانوں کا وجود خطرہ میں تھا تو دوسری طرف ان کا مذہب اور دین انگریزوں کے بھیانک نشانہ پر تھا۔

ایسے حالات میں شاملی کا مرد مجاہد مولانا محمد قاسم نانوتوی اٹھا اور ہندوستان میں مسلمانوں کے دین ومذہب کی حفاظت کا بیڑہ اپنے سر اٹھا لیا اور مدارس ومکاتب کے قیام کے ذریعہ ایک ایسی تعلیمی تحریک کا آغاز کیا جو ہندوستان کے مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے روشن باب بن گیا۔

مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے کئی شہروں میں مدارس کے قیام کی تحریک چلائی۔ چنانچہ دیوبند میں دارالعلوم، مرادآباد میں مدرسہ قاسمیہ شاہی، گولاوٹی میں مدرسہ منبع العلوم اور امروہہ میں مدرسہ جامع مسجد امروہہ قائم کیا، جہاں سے آج بھی علمِ دین کی ضیاپاشی کا سلسلہ جاری ہے۔

مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سہارن پور کے قریب ایک گاؤں نانوتہ میں 1833ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا اسم گرامی اسد علی صدیقی تھا۔ ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ 1843ء کے آخر میں مولانا مملوک علی نانوتوی آپ کو اپنے ساتھ دلی لے گئے، جہاں آپ نے منطق، فلسفہ اور علم کلام پر متعدد کتابیں مولانا مملوک علی سے پڑھیں۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ مطبع احمدی میں ادارت کے فرائض انجام دینے لگے۔ ساتھ ہی درس وتدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا، اسی دوران آپ کا تعلق #مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے بھی ہوا جو آخری دم تک قائم رہا۔

1860ء میں آپ نے حج کیا اور حج سے واپسی کے بعد #میرٹھ کے مطبع مجتبیٰ میں نوکری کی، جہاں کتابوں کے نسخوں کا تقابل اور نظرثانی کا کام کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد دوبارہ #حج پر روانہ ہوئے اور واپسی پر مطبع ہاشمی میں ملازمت اخیار کی۔میرٹھ کے قیام کے دوران ہی آپ نے 1857ء میں شاملی کی جنگ میں حصہ لیا، آپ کی #حراست کا حکم صادر ہوا اور اس دوران آپ نے پوشیدہ زندگی گزاری۔

جب 1858ء کے نومبر میں انگریز حکومت نے عام معافی کی منادی کی تب آپ نے اپنی علمی، دعوتی، تحریکی اور انقلابی سرگرمیوں کا پورے زور وشور کے ساتھ آغاز کیا۔ چنانچہ 1866ء میں جب دارالعلوم دیوبند کا مدرسہ معرض وجود میں آیا تو آپ نے وہیں اقامت اختیار کی اور اپنے آخری سانس تک اس مدرسہ کی تعمیر وترقی میں مصروف رہے۔

مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ایک عظیم مجاہد، ایک مخلص مصلح، ایک بہترین مصنف، ایک یگانہ روز گار متکلم، ایک بے باک خطیب، ایک بے مثال استاذ ومربی اور ایک بے لوث خادم دین وملت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے خلوص وللہیت اور زہد واستغنا کی وجہ سے سلف صالحین کی جیتی جاگتی تصویر تھے جس کی گواہی آپ کے معاصرین نے اپنی تحریر وتقریر میں ہمیشہ دی ہے۔

مولانا محمد #قاسم #نانوتویؒ کے عظیم الشان کارناموں میں سب سے عظیم کارنامہ دارالعلوم دیوبند کا قیام ہے، مصر کے جامع ازہر کے بعد دارالعلوم دیوبند کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامک یونیورسٹی کے طور پر مانا جاتا ہے۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے حاجی عابد حسین، مولانا مہتاب علی اور شیخ نہال احمد کے ساتھ مل کر 13؍ مئی 1866ء کو سہارن پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں دیوبند میں اس کی بنیاد رکھی۔

اس کا آغاز دیوبند کی چھتیہ مسجد سے ہوا اور ایک درخت کے نیچے ایک استاذ اور ایک طالب علم کے ذریعہ اس کی شروعات ہوئی، مگر مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی خلوص وللہیت اور بے مثال قربانی وجدوحہد نے اسے بہت ہی مختصر مدت میں ترقی کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ مولانا نے آخری سانس تک اسی بے غیبہ علم وفن کی آبیاری کی اور اس کی تعمیر وترقی میں مشغول رہے۔

دارالعلوم دیوبند ایک مدرسہ نہیں تھا بلکہ ایک مشن تھا، ایک تحریک تھی، جس کا خواب مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے دیکھا تھا اور وہ خواب یقینا پورا ہوا۔ مولانا نے دیوبند کے ایک چھوٹے سے شہر میں جو شمع جلائی تھی اس سے ہندوستان اور ہندوستان کے باہر تقریباً ہر بڑے شہر میں اس طرح کی شمعیں جلتی چلی گئیں کہ پورا برصغیر علم دین کے ان قمقموں سے جگمگا اٹھا۔

آج ہندوستان ہی نہیں بلکہ پاکستان، بنگلہ دیش، #افغانستان، جنوبی آفریقہ، برطانیہ کے ملاد، دنیا کے نہ جانے کتنے ممالک میں اہل دیوبند نے علم دین کا چراغ جلا رکھا ہے جس کی روشنی سے ہزاروں طالبانِ علوم نبوت روزانہ فیضیاب ہو رہے ہیں۔

پاکستان کا دارالعلوم کراچی، جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ ضیاء القرآن فیصل آباد، ڈربن کا مدرسہ انعامیہ اور یورپ کے بیشتر مساجد ومدارس اسی دیوبند کی ضیاپاشیوں کا پرتوہیں۔ دوسری طرف ہندوستان کی آزادی میں دارالعلوم دیوبند کے فارغین نے جو تاریخ لکھی ہے جس کو اگر ہندوستانی تاریخ فراموش کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتی۔ مولانا محمود الحسن، مولانا عبد اللہ سندھی، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا احمد علی لاہوری اور مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے علاوہ ایسے سیکڑوں نام ہیں جنھوں نے ہمارے ملک کی آزادی میں ایک اہم رول ادا کیا۔

جہاں تک علمائے دیوبند کی علمی، تصنیفی اور دینی ودعوتی خدمات کا تعلق ہے تو تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاس کاندھلوی، پاکستان کے مفتی اعظم مولانا محمد شفیع، سیکڑوں کتابوں کے مصنف مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا محمود الحسن، مولانا انور شاہ کشمیری اور مولانا حسین احمد مدنی کے علاوہ ایسے سیکڑوں مفسر، محدث، فقیہ، ادیب، مصنف داعی اور علماء دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے جن کی عظیم الشان خدمات ملت اسلامیہ کی تاریخ کا سنہرا باب ہیں۔

مولانا قاسم نانوتوی بلاشبہ علماء کرام کے لیے مشعل راہ ہیں جنھوں نے نہ صرف تلوار سے انگریزوں کے خلاف جنگ کیا، بلکہ تعلیم کے میدان میں ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک نئی سمت اور جہت دی۔اللہ تعالی انکے درجات بلند فرمایے۔ آمین۔

رکشا بندھن 2021 کے لیے واٹس ایپ: اینڈرائیڈ ، آئی او ایس صارفین ، یہاں ہیپی راکھی اسٹیکرز ڈاؤن لوڈ اور بھیجنے کا طریقہ ہے۔

رکشا بندھن 2021 کے لیے واٹس ایپ: اینڈرائیڈ ، آئی او ایس صارفین ، یہاں ہیپی راکھی اسٹیکرز ڈاؤن لوڈ اور بھیجنے کا طریقہ ہے۔کیا وبائی بیماری آپ کو اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رکشا بندھن منانے سے روک رہی ہے؟ یقینا کچھ بھی نہیں ، ایک ساتھ وقت گزارنے اور اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ جسمانی طور پر رکشا بندھن منانے کے احساس کو شکست نہیں دیتا ، لیکن عالمی سطح پر ، اور اب ایک وبائی بیماری سے متاثرہ دنیا میں ، یہ اکثر ممکن نہیں ہوتا ہے۔ویڈیو کالز اگلی بہترین چیز ہے۔ لیکن جب پیغامات بھیجنے کی بات آتی ہے ، اب آپ صرف تصاویر اور ٹیکسٹ بھیجنے سے کہیں زیادہ کام کر سکتے ہیں۔

 اسٹیکرز اور GIFs کے تعارف نے باقاعدہ ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے کو مزید تفریح ​​بخش بنا دیا ہے۔ اور رکشا بندھن پر ، آپ اپنے بہن بھائیوں اور خاندان کے دیگر افراد کو راکھی کی مبارکباد بھیجنے کے لیے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس پر واٹس ایپ اسٹیکرز استعمال کر سکتے ہیں۔

 گوگل پلے سٹور اور ایپل ایپ سٹور پر مختلف قسم کے اسٹیکرز دستیاب ہیں۔ تو آپ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ یہ راکھی اسٹیکرز حاصل کریں اور انہیں اپنے پیاروں کو بھیجیں!

 اینڈرائیڈ پر راکھی واٹس ایپ اسٹیکرز بھیجنا۔

 1) گوگل پلے اسٹور پر جائیں ، رکشا بندھن واٹس ایپ اسٹیکرز تلاش کریں۔ آپ کو اسٹیکر ایپس کی فہرست ملے گی۔ اپنے پسندیدہ کا انتخاب کریں۔
 2) ایک مخصوص ایپ منتخب کرنے کے بعد اس کی پیش کردہ تصاویر کو دیکھ کر ، 'انسٹال' آپشن پر کلک کریں۔
 3) ایک بار جب آپ اپنے فون پر ایپ ڈاؤن لوڈ کریں ، اسے کھولیں۔ کسی بھی اسٹیکر پیک کا انتخاب کریں۔ 'Add to WhatsApp' آپشن پر ٹیپ کریں۔ ایک بار جب آپ تصدیق کرتے ہیں تو ، یہ آپ کو اپنے واٹس ایپ پر اسٹیکر پیک حاصل کرنے کے قابل بنائے گا۔
 4) ایموجی آئیکن پر کلک کریں ، وہ اسٹیکرز منتخب کریں جو آپ نے نئے انسٹال کیے ہیں۔ اور پھر انہیں اپنے بہن بھائیوں کو بھیجیں!

 ایک ہیومنائڈ روبوٹ جو آپ کے لیے تمام غیر محفوظ ، بار بار یا بورنگ کام کرے گا۔

 آئی فون پر واٹس ایپ اسٹیکرز۔

 بدقسمتی سے ، آئی او ایس صارفین کے لیے واٹس ایپ کو رکشا بندھن کے تھرڈ پارٹی اسٹیکرز ڈاؤن لوڈ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم ، اسٹیکر میکر ایپ کا استعمال کرتے ہوئے صارفین اپنے راکھی اسٹیکرز بنا سکتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس خاص دن پر آپ کے بہن بھائیوں کو GIFs ، تصاویر ، ویڈیوز اور کوٹس بھیجنے کا آپشن موجود ہے۔

 رکشبندھن مبارک ہو ، سب!

بریکنگ نیوز : ہماچل پردیش میں بس ، 30 سواری تھے بس میں سوار ، کئی زخمی کھائی میں گری

بریکنگ نیوز : ہماچل پردیش میں بس ، 30 سواری تھے بس میں سوار ، کئی زخمی کھائی میں گری(اردو اخبار دنیا)سولن: ہماچل پردیش کے سولن کے بدی میں پٹہ- بروٹی والا سڑک پر ایک ایچ آر ٹی سی بس حادثے کا شکار ہوگئی ہے۔ بس میں 30-25 لوگ سوار بتائے جا رہے ہیں اور کئی زخمی ہیں۔ یہ بس جوہجڑی صاحب سے نالا گڑھ جا رہی تھی۔ اچانک تواز بگڑنے سے بس کھائی جا گری ہے۔ انتظامیہ کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی ہے اور آس پاس کے لوگ بھی زخمیوں کو نکالنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ ہماچل پردیش میں صبح سے بارش جاری ہے۔ زبردست بارش کے سبب بھی حادثہ ہونے کا خدشہ ہے۔


آکسیجن کی کمی سے کوئی موت نہیں ہوئی ' ، کھتر حکومت بھی بے شرمی پر آماده

آکسیجن کی کمی سے کوئی موت نہیں ہوئی ' ، کھتر حکومت بھی بے شرمی پر آمادهہریانہ(اردو اخبار دنیا) اسمبلی کے مانسون اجلاس کا آغاز جمعہ کو امید کے مطابق ہی ہنگامہ خیز ہوا۔ حکومت ہر اس مسئلہ پر جواب دینے سے بھاگی جس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔ کورونا سے لے کر مہنگائی اور کسانوں کے مسئلہ پر اپوزیشن کی جانب سے دی گئی توجہ دلاؤ نوٹس اسمبلی اسپیکر نے رد کر دیا۔ لیکن ایوان میں کھٹر حکومت کے ایک بے شرم اور بے حسی پر مبنی بیان نے سبھی کو حیران کر دیا۔ حکومت نے کہا کہ ریاست میں کووڈ سے متاثر ایک بھی مریض کی موت آکسیجن کی کمی سے نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ خود وزیر اعلیٰ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ریاست میں آکسیجن کی کمی تھی۔
ہریانہ حکومت اس پالیسی کے ساتھ ہی ایوان میں پہنچی تھی کہ مشکل میں ڈالنے والے کسی بھی مسئلہ کا جواب اسے نہیں دینا ہے۔ اہم ایشوز پر کانگریس اراکین اسمبلی کے تقریباً ڈھائی درجن توجہ دلاؤ نوٹس کو کسی فوری سبجیکٹ سے جڑا نہ ہونے کی دلیل دیتے ہوئے اسمبلی اسپیکر نے نامنظور کر دیا۔ ان توجہ دلاؤ نوٹس میں دہلی کی سرحدوں پر تحریک چلا رہے کسانوں کا مسئلہ ہونے کے ساتھ ہی پیپر لیک، پٹرول، ڈیزل اور گیس کی بڑھتی قیمت اور کورونا سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی جیسے موضوعات شامل تھے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ اسپیکر کے دلائل بھی حیران کرنے والے تھے۔ اسپیکر نے کہا کہ مہنگائی میں ہم ہر اجلاس میں بحث کرتے ہیں، لہٰذا اس میں ایسا کچھ بھی نیا نہیں ہے کہ بحث کرنا لازمی ہو۔ کسانوں کے مسئلہ پر گزشتہ اجلاس میں ہم بحث کر چکے ہیں، لہٰذا اس پر بحث کرنا ضروری نہیں ہے۔ لیکن سب سے زیادہ حیران کیا گوہانا سے کانگریس رکن اسمبلی جگبیر سنگھ مل کی جانب سے کورونا دور میں آکسیجن کی کمی سے ہوئی اموات پر پوچھے گئے سوال پر حکومت نے اپنا جواب دیا۔ حکومت نے ایوان کو بتایا کہ آکسیجن کی کمی سے ریاست میں ایک بھی موت نہیں ہوئی ہے۔ اپوزیشن نے جب اس جواب پر سوال کھڑے کیے تو اس پر وضاحت دینے بھی خود وزیر اعلیٰ کھڑے ہوئے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر ہم سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ ہمارے پاس آکسیجن کی کمی تھی۔ جتنی آکسیجن کی ہمیں ضرورت تھی اتنی ہمیں نہیں ملی۔ لیکن کسی بھی اسپتال سے آکسیجن کی کمی سے موت کا کوئی ڈاٹا ہمارے پاس نہیں آیا ہے۔ حد تو تب ہو گئی جب الٹا اپوزیشن پر ہی سوال اٹھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ''اپوزیشن کی تو کوئی ذمہ داری ہوتی نہیں ہے، سوائے شور مچانے کے۔ اپوزیشن ہمارے جواب سے مطمئن ہوگا ایسی ہماری اس سے امید بھی نہیں ہے۔ تنقید کے علاوہ ہماری آپ سے کوئی اور امید نہیں ہے۔ ہم جو کر سکتے تھے ہم نے کیا۔''

جب اپوزیشن نے کہا کہ یہ تو کوئی جواب نہیں ہے، تو وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سبھی جانکاریاں دستیاب نہیں ہیں۔ جب آ جائیں گی تو مطلع کیا جائے گا۔ اس پر اپوزیشن لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ یہ سنجیدہ موضوع ہے۔ ہماری کوششوں میں کہاں کمی رہ گئی۔ ہم نے اس سے کیا سبق حاصل کیا۔ کورونا سے آپ جو اموات بتا رہے ہو، پورا ملک اور بین الاقوامی میڈیا بتا رہا ہے کہ اس سے دس گنا تک زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ ہڈا نے سوال کیا کہ کیا حکومت نے اس کی جانچ کے لیے کوئی کمیٹی بنائی ہے۔ پورا ہریانہ جاننا چاہتا ہے کہ ریاست میں کتنے لوگوں کی کورونا سے موت ہوئی ہے۔ اس کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جانی چاہیے۔

اس پورے معاملے میں حکومت سے سوال پوچھنے والے جگبیر سنگھ ملک کا کہنا تھا کہ ہم اس جواب سے مطمئن نہیں ہیں۔ سونی پت میں ایک دن میں کووڈ پروٹوکول سے 29 لوگوں کی آخری رسومات ادا کی گئیں اور حکومت کے ریکارڈ میں صرف تین درج ہیں۔ حکومت بتائے کہ آکسیجن کی کمی سے کتنی اموات ہوئی ہیں۔ جگبیر ملک نے مطالبہ کیا کہ کورونا سے مرنے والوں کے بچوں کو پنشن دی جائے۔ حکومت بتائے کہ ابھی تک کتنے لوگوں کو مدد دی گئی ہے، لیکن حیرانی ہے کہ حکومت کے پاس ان میں سے کسی بھی سوال کا جواب نہیں تھا۔

تاج محل آج سے رات کو دیکھنے کے لیے کھول دیا جائے گا

تاج محل آج سے رات کو دیکھنے کے لیے کھول دیا جائے گا(اردو اخبار دنیا)تاج محل ہفتہ 21 اگست سے زائرین کے لیے رات دیکھنے کے لیے کھول دیا جائے گا۔

 کوویڈ 19 کی وجہ سے پہلے لاک ڈاؤن کے دوران 17 مارچ 2020 کو یادگار رات دیکھنے کے لیے بند کر دی گئی تھی۔

 اے ایس آئی سپرنٹنڈنگ آثار قدیمہ (آگرہ سرکل) وسنت کمار سوارنکر نے بتایا کہ 21 ، 23 اور 24 اگست کو رات دیکھنے کی اجازت ہوگی کیونکہ یادگار ہر ہفتے جمعہ کو بند رہتا ہے اور اتوار کو لاک ڈاؤن نافذ ہوتا ہے۔


 COVID-19 پر تمام تازہ ترین اپ ڈیٹس یہاں پڑھیں۔انہوں نے کہا کہ زائرین کے لیے تین ٹائم سلاٹس ہیں۔ 8: 30-9 بجے ، 9-9: 30 بجے اور 9: 30-10 بجے سے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہر جگہ 50 سیاحوں کو جانے کی اجازت ہوگی۔

 کمار نے کہا ، "آگرہ کے 22 مال روڈ پر اے ایس آئی آفس کے کاؤنٹر سے ایک دن پہلے ٹکٹ بک کیا جا سکتا ہے۔"

 ٹورزم گلڈ آف آگرہ کے نائب صدر راجیو سکسینا نے کہا کہ یہ ایک اچھا قدم ہے ، لیکن یہ ہفتے کے آخر میں آنے والے مسافروں کو اس وقت تک راغب نہیں کرے گا جب تک اتوار کو لاک ڈاؤن کی پابندی اور رات 10 بجے کے بعد کرفیو نہیں ہٹایا جاتا۔

 انہوں نے کہا ، "سیاح شہر کی رات کی زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں ، وہ رات 10 بجے کے بعد اپنے ہوٹلوں میں پیک نہیں کرنا چاہتے۔"

 حکومت کی جانب سے منظور شدہ ٹور گائیڈ مونیکا شرما نے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ یہ آگرہ کے سیاحت کے شعبے کی بحالی کے لیے امید کی کرن ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...