Powered By Blogger

منگل, اگست 24, 2021

ارب پتی ’چرواہا‘ اور سینئر اپوزیشن لیڈر زیمبیا کے نئے صدرمقرر

ارب پتی ’چرواہا‘ اور سینئر اپوزیشن لیڈر زیمبیا کے نئے صدرمقرر

Billionaire 'Shepherd' and senior opposition leader appointed new president of Zambia

لندن ، ۲۴؍اگست:(اردو اخبار دنیا)سینئر اپوزیشن لیڈر #ہاکینڈے ہیچی لیما (Hakainde Hichilem)نے حالیہ انتخابات میں اپنے دیرینہ حریف ایڈگر لونگو کو دس لاکھ سے زائد ووٹوں سے ہرا دیا۔ وہ لونگو سے دو مرتبہ معمولی فرق سے شکست کھا چکے ہیں۔ہاکینڈے ہیچی لیما چھ مرتبہ کی ناکامی کے بعد بالآخرزیمبیا کے صدر کے عہدہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ حالیہ انتخابات میں انہوں نے اپنے پیش رو اور دیرینہ حریف ایڈگر لونگو کو دس لاکھ سے زائد ووٹوں سے ہرا دیا۔ وہ لونگو سے دو مرتبہ معمولی فرق سے شکست کھا چکے تھے۔ہاکینڈے ہیچی لیما منگل کے روز زیمبیا کے نئے صدر کے عہدے کا حلف لے رہے ہیں۔

وہ ایک بزنس ٹائکون ہیں لیکن خود کو ایک عام دیہاتی ’چرواہا‘ کہلانا پسند کرتے ہیں۔ملک کے اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے چھ مرتبہ کوشش کی اور بالآخر 12اگست کو ہونے والے انتخابات میں اپنے دیرینہ حریف اور پیش رو ایڈگر لونگو کو تقریباً دس لاکھ سے زائد ووٹوں سے شکست دے دی۔ ماضی میں انہیں لونگو سے دو مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔سن 2016 میں ہونے والے انتخابات میں لونگو کو ہیچی لیما سے صرف ایک لاکھ زائد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔

تاہم اس مرتبہ لونگو سے ووٹروں کی ناراضگی نے 59 سالہ ہیچی لیما کے لیے کامیابی کاراستہ آسان کردیا۔ ہیچی لاما کے مطابق ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے اور عوام کو ایک’ظالم حکومت‘ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ہیچی لیما بھی تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ تابنے سے مالامال اس جنوبی افریقی ملک میں ان پر متعدد مواقع پر دھوکہ دہی کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ وہ خود بھی اس بات کا بارہا تذکرہ کرتے رہے ہیں کہ سیاست میں داخل ہونے کے بعد سے انہیں 15مرتبہ گرفتار کیا جاچکا ہے۔

زیمبیا اس وقت اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کووڈ انیس کی وبا شروع ہونے سے پہلے سے ہی خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی تھی۔ گزشتہ برس زامبیا اپنا قرض ادا نہیں کرنے والا افریقہ کا پہلا ملک بن گیا۔ہیچی لیما نے کہاکہ ہمارے سامنے بہت بڑے بڑے کام ہیں، ہمیں ملک کی معیشت بحال کرنی ہے اور آپ لوگوں کی توقعات کو پورا کرنا ہے۔

یہ سفر مشکل اور چیلنج سے بھرا ہوا ہے ، اتار چڑھاو آئیں گے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ سخت محنت اور لگن سے ہم آپ کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوں گے۔ہیچی لیما جنوبی ضلعے مونزے میں ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے لیکن ان کے مطابق اپنے’عزم اور حوصلے‘ کی بنیاد پر انہوں نے اسکول میں اسکالرشپ حاصل کی جس کی وجہ سے وہ یونیورسٹی آف زامبیا میں داخلہ لینے میں کامیاب رہے۔انہوں نے ب#رطانیہ کی #یونیورسٹی آف #برمنگھم سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے سے قبل #اکنامکس اور بزنس #ایڈمنسٹریشن میں بھی ڈگریاں حاصل کیں۔

ان کی پارٹی کے مطابق وہ 26 برس کی عمر میں ایک بین الاقوامی اکاونٹینسی کمپنی کے زیمبیا شاخ کے سی ای او بن چکے تھے۔ ملک کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک بننے کے لیے انہو ں نے سخت محنت کی اور فائنانس، جائیداد، ہیلتھ کیئراور سیاحت سمیت کئی شعبوں میں اپنی تجارت کو فروغ دیا

پٹنہ میں شوہر کے 39 لاکھ روپے لیکر اہلیہ فرار

پٹنہ میں شوہر کے 39 لاکھ روپے لیکر اہلیہ فرارپٹنہ،(اردو اخبار دنیا) 24 اگست ۔ کہتے ہیں پیسے کا لالچ اتنا برا ہے کہ ہر رشتے کو بھول جاتا ہے۔ ایسا ہی واقعہ پٹنہ کے بہٹا تھانہ میں پیش ا?یا، جہاں اہلیہ شوہر کی جمع پونجی اپنے عاشق کے ساتھ لیکر فرار ہوگئی۔ شوہر نے بہٹا تھانہ میں اہلیہ کے خلاف معاملہ درج کرایا ہے۔ پولیس معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ بہٹا کے کوڑیا رہائشی برج کشور سنگھ کی شادی 14 سال قبل بھوجپور کے برہرا تھانہ کے بند گاو?ں کی پربھاوتی دیوی کے ساتھ ہوئی تھی۔ شادی برج کشور سنگھ کے دو بچے ہوئے۔ گاو?ں میں کاشت کاری کرکے بال بچوں کی پڑھائی اچھی نہیں ہونے کی وجہ برج کشور سنگھ کام کی تلاش میںگجرات چلے گئے۔ اس دوران ان کی بیوی پربھا دیوی اپنے دو بچوں کے ساتھ بہٹا میں کرائے کے مکان میں رہ رہی تھی۔ دریں اثنا کچھ رو ز قبل برج کشور سنگھ نے اپنے گاو?ں کے کھیت کو بیچ 39 لاکھ روپے اپنی اہلیہ کے اکاو?نٹ میں ڈال دیا۔ یہ سوچ کر کہ ان پیسوں سے دوسری جگہ زمین یا مکان لیکر وہ اپنے بچوں اور اہلیہ کے ساتھ خوشی سے زندگی بسر کر یں گے۔ نئے مکان کی تلاش میں برج کشور سنگھ دو دن قبل گجرات سے بہٹا گاو?ں پہنچے۔ انہوں نے دیکھا کہ مکان میں باہر سے تالا بند ہے اور ان کی اہلیہ بھی گھر پر نہیں ہے۔ مکان مالک سے بات کرن پر انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ پربھا دیوی اپنے ایک بچے کو لیکر پیر کے روز صبح فرار ہوگئی ہے۔ کافی تلاش کرنے کے بعد بھی جب پربھا دیوی اور ان کے بچوں کا کوئی پتہ نہیں چلا تب انہوں نے اس بات کی اطلاع بہٹا تھانہ کو دی۔ معاملے کی تفتیش کر رہے بہٹا تھانہ کے راجیشور پنڈت نے بتایا کہ تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ پربھا دیوی کاکسی دوسرے کے ساتھ عشق چل رہا تھا۔ شوہر کی غیر موجودگی میں پربھا دیوی اس کے ساتھ تعلقات قائم رکھتی تھیں۔پربھا دیوی نے 26لاکھ روپے ڈہری رہائشی ایک شخص کے اکاو?نٹ میں ٹرانسفر کیا ہے ، جبکہ 13 لاکھ روپے چیک کے ذریعہ نکالنے کا ثبوت پولیس کے ہاتھ لگی ہے۔ پربھا دیوی نے اپنے اکاو?نٹ میں صرف 11 روپے چھوڑ کر سبھی پیسے کی نکاسی کی ہے۔ پولیس معاملے کی تفتیش میں مصروف ہوگئی ہے۔ اس معاملے نے شوہر برج کشور سنگھ نے اپنی ہی اہلیہ پربھا دیوی کے خلاف تھانہ میں معاملہ درج کرایا ہے۔

پاکستان چلے جاؤ: اجمیر میں بھیک مانگنے والے مسلم فقیر کی بیٹے کیساتھ پٹائی، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل کردی

نئی دہلی: 24.اگست۔ (اردو اخبار دنیا)اجمیر میں بھیک مانگنے والے ایک مسلم خاندان کے دو افراد پر حملے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ملزم نے انھیں مارا پیٹا اور کہا کہ پاکستان جاؤ۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ، کئی مسلم تنظیموں نے اس واقعے پر اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔

یہ واقعہ رام گنج تھانہ علاقہ کا ہے۔ چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ مسلم خاندان کانپور ، یوپی کا رہنے والا ہے۔ یہ کنبہ رام گنج تھانہ علاقہ کے سبھاش نگر میں بھیک مانگ رہا تھا ، جہاں پانچ لوگوں نے انہیں ہراساں کیا۔ ان لوگوں نے انھیں مارا پیٹا اور پاکستان جانے کو کہا ۔ یہ خاندان آڈیو میں ایک گانا چلا کر بھیک مانگ رہا تھا۔

ایس ایچ او ستیندر سنگھ نیگی نے بتایا کہ واقعہ 20 اگست 2021 کا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ، جس میں اس فقیر پر کچھ لوگوں نے حملہ کیا ، چونکہ اس معاملے میں کسی نے ایف آئی آر درج نہیں کی تھی ، اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔ تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ للت نامی شخص نے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر اس واقعہ کو انجام دیا۔

اس شخص کو 20 تاریخ کو ہی گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش کے بعد دوسرے چار ملزمان کو بھی اگلے دن گرفتار کر لیا گیا۔ یہ پانچ لوگوں کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ متاثرین کا سراغ لگانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ ابھی تک نہیں مل سکے ہیں۔ شاید وہ واپس چلے گئے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ ملزمان کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ یہ لوگ جرم کرنے کے بعد آئے ہیں۔ اس شبہ میں انہوں نے اس خاندان کو مارا پیٹا۔

کونسا تیل صحت و خوبصورتی کیلئے کتنا مفید ؟

قدرت کی جانب سے بنائی گئی ہر چیز میں انسان کے لیے کوئی نہ کوئی بھلائی موجود ہے، روغنیات کو اکثر اوقات صحت کے لیے مضر قرار دیا جاتا ہے جبکہ کچھ پھلوں سے حاصل کیے جانے والے تیل صحت اور خوبصورتی کے لیے مفید بھی ثابت ہوتے ہیں۔

 

دنیا بھر میں مختلف اشیاء سے تیار کردہ تیل کا استعمال بیماریوں سے محفوظ رہنے اور صحت مند زندگی کے حصول کے لیے کیا جاتا ہے، یہ روغنیات مختلف سبزیوں، میووں اور پھلوں سے نکالا جاتا ہے جو مارکیٹ میں مہنگے اور سستے داموں با آسانی مل جاتا ہے، انسانی صحت کے لیے کونسے روغنیات کتنے مفید ہیں ان سے متعلق جاننا اور ان کا استعمال کرنا لازمی ہے ۔

 

ارنڈی کا تیل (Castor Oil)

ارنڈی کا تیل یا کیسٹر آئل کثیر المقاصد ویجیٹیبل آئل ہے جس کا استعمال دنیا کے تقریباً ہر ملک میں سالہا سال سے کیا جارہا ہے، یہ تیل ارنڈی کے بیجوں ( Ricinus communis plant)سے نکالا جاتا ہے۔ اس تیل کی خاصیت یہ ہے کہ اینٹی بیکٹیریل اور دافع سوزش خصوصیات کی بناء پر یہ دنیا بھر میں مشہور ہے۔مختلف صنعتی اور فارماسیوٹیکل کمپنیاں اپنی مصنوعات کی تیاری کے لیے ارنڈی کا تیل استعمال کرتی ہیں خصوصاً میک اپ انڈسٹری۔

 

ارنڈی کے تیل کا سب سے اہم فائدہ مدافعتی نظام کو مضبوط کرنا ہے، اس کا استعمال غذا سمیت براہ راست بالوں، چہرے اور ہاتھوں پاوؤں کی ماش کے لیے بھی کیا جاتا ہے، اس تیل میں ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کے باعث یہ بالوں کی نشوونما اور جِلدی مسائل مثلاً سورج کی تمازت سے جھلسی ہوئی جِلد، ایکنی، خشک جِلد اور مختلف نشانات کے خاتمے کے لیے ایک بہترین تیل سمجھا جاتا ہے۔

یہ تیل انسانی جسم میںLymphatic Function کو متحرک کرتا ہے۔

دوسری جانب ارنڈی کا تیل بہترین قبض کشا تاثیر کا حامل بھی ہے، آنکھوں کی تمام تر تکالیف دور کرنے کے لیےبھی ماہرین اس کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔

ناریل کا تیل (Coconut Oil)

دنیا بھر میں ناریل کے تیل کی درجہ بندی ’’سپر فوڈ‘‘ کے طور پر کی جاتی ہے، ناریل میں قدرتی طور پر اینٹی بیکٹیریا، اینٹی ٹاکسائیڈ اور اینٹی فنگل اجزا شامل ہوتے ہیں اور یہ مختلف وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے۔

یوں کہہ لیں کہ ناریل کا تیل فیٹی ایسڈ کا ایک ایسا مجموعہ ہے، جو صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔

ان میں وزن میں کمی، دماغی صلاحیت میں بہتری، گردوں کی اچھی صحت اور مدافعتی نظام سمیت دیگر متاثر کن فوائد شامل ہیں جبکہ تیل میں شامل سیچوریٹڈ فیٹس فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ کرتے ہیں جو قلبی امراض سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ناریل کا تیل خوبصورتی بڑھانے کا ذریعہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

نرم وملائم جِلد کا حصول، بالوں کی نشوونما یا پھر جگمگاتے دانتوں کی خواہش پوری کرنے کے لیے ناریل کا تیل بہترین انتخاب ثابت ہوتا ہے۔

بادام کا تیل (Almond Oil)

بادام کو فوائد سے بھرپور میوہ مانا جاتا ہے کیونکہ یہ وٹامن، پروٹین، پوٹاشیم، میگنیشیم اور فاسفورس جیسے منرلز پر مشتمل ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق جسم کے اندرونی اور بیرونی مسائل کے حل کے لیے بادام یا بادام کے تیل کا استعمال مفید ہے، اگرچہ یہ تیل خاصا مہنگا ہوتا ہے لیکن اپنے اندر ایسے پوشیدہ خزانے محفوظ کیے ہوئے ہے جو نہ صرف خوبصورتی بڑھانے کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ بہت سی بیماریوں کا حل بھی ثابت ہوتے ہیں۔

 

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بادام کا تیل مختلف بیماریوں مثلاً کان کے درد، ایگزیما، سورائیسس اور قبض کو ٹھیک کرتا جبکہ جسم کو تندرست وتوانا اور آنتوں کی صحت بہتر بناتا ہے۔روغن بادام، ناریل کے تیل کی طرح خوبصورتی بڑھانے کا ذریعہ بھی ثابت ہوتا ہے ۔وٹامن ڈی کی کثرت کے سبب خواتین روغن بادام کو اینٹی ایجنگ بیوٹی پراڈکٹ کے طور پر بھی استعمال کرسکتی ہیں۔

 

دوسری جانب چہرے کی خشکی دور کرنے، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں اور چہرے کی جھریوں سے نجات کے لیے بادام کا تیل بے حد مفید ہے۔

زیتون کا تیل (Olive Oil)

صحت و تندرستی کے لیے زیتون کا تیل ایک ایسا انتخاب ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔زیتون کا تیل نہ صرف کھانوں میں بلکہ بطور بیوٹی پروڈکٹ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔صحت کے حوالے سے بات کی جائے تو زیتون کا تیل مفید مونو اَن سیچوریٹڈ فیٹس، کثیر مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹس اور اینٹی انفلیمینٹری خصوصیات پر مشتمل ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کھانا پکانے کےدوران اس کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جانے لگا ہے۔اس کا استعمال ہارٹ اٹیک، اسٹروک اور الزائمر سے تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ جِلد کی خوبصورتی کے لیے بہترین موئسچرائزر اور بالوں کی نشوونما کے لیے بہترین ٹانک ہے۔

دہلی فساد معاملہ : عمر خالد نے پولیس کی طرف سے دائررپورٹ کو بتایا بے بنیاد ، کورٹ کے سامنے رکھی اپنی بات

دہلی فساد معاملہ : عمر خالد نے پولیس کی طرف سے دائررپورٹ کو بتایا بے بنیاد ، کورٹ کے سامنے رکھی اپنی باتشمال مشرقی دہلی میں فسادات کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمی (روک تھام) ایکٹ کے تحت گرفتار جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد نے پیر کو دہلی کی ایک عدالت میں خلاصہ کیا کہ پولیس کے دعووں میں کئی تضادات ہیں۔ خالد نے اسے ایک سازش قرار دیا۔خالد اور کچھ دیگر کے خلاف غیر قانونی سرگرمی (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیاہے۔ ان پر فروری 2020 میں فسادات کی سازش کا الزام ہے۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک جبکہ 700 سے زائد زخمی ہوئے۔خالد نے اس کیس میں ضمانت مانگی ہے۔ خالد کے وکیل تردیپ پیس نے ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت کو بتایا کہ ایف آئی آر من گھڑت اور غیرضروری ہے اور سازشی بنیادوں پر اس کے موکل کو نشانہ بنانے کیلئے اسے استعمال کیا گیا۔وکیل نے دہلی پولیس کے دعووں میں دو تضادات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے سب سے پہلے عدالت کو مہاراشٹر میں خالد کی تقریر کی 21 منٹ کی ویڈیو دکھائی جسے مبینہ طور پر استغاثہ نے اشتعال انگیز قرار دیاتھا۔ویڈیو دکھانے کے دوران وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے تقریر کے ذریعے تشدد کی کوئی کال نہیں کی اور دراصل لوگوں کو اتحاد کا پیغام دیاہے۔

راجستھان : الیکشن ڈیوٹی پر جانے والی بس کی کینٹر سے ٹکر ، 5 پولیس اہلکار زخمی

راجستھان : الیکشن ڈیوٹی پر جانے والی بس کی کینٹر سے ٹکر ، 5 پولیس اہلکار زخمیسری گنگانگر: راجستھان کے سری گنگانگر سے ضلع بھرت پور میں پنچایتی راج انتخابی ڈیوٹی کے لیے جا رہی پولیس فورس کی ایک بس میں کل دیر رات جے پور دوسا ہائی وے پر آندھی تھانہ علاقے میں ایک کینٹر کے ٹکر مار دینے سے پولیس کے تین حولدار اور دو سپاہی زخمی ہوگئے۔

سب انسپکٹر رام پرکاش جو پولیس ٹیم کا حصہ تھے، نے بتایا کہ ضلع بھرت پور میں تین مراحل میں آنے والے دنوں میں پنچایتی راج اداروں کے انتخابات میں ڈیوٹی لگنے پر ضلع سری گنگانگر ضلع سے 350 پولیس اہلکار کل دوپہر کئی بسوں سے روانہ ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک پرائیویٹ بس میں تقریباً 45 پولیس والے سفر کر رہے تھے۔ زخمیوں میں کانسٹیبل سبھاش، تارا چند، راجندر اور سری گنگانگر پولیس لائن میں تعینات کانسٹیبل دلیپ اور کلدیپ شامل ہیں۔

یکم ستمبر سے ریاست کے تمام تعلیمی اداروں کی کشادگی‘ کے سی آر کا فیصلہ

یکم ستمبر سے ریاست کے تمام تعلیمی اداروں کی کشادگی‘ کے سی آر کا فیصلہ

KCR

 کوویڈ قواعد کے ساتھ کلاسیس کا اہتمام‘ اعلی سطح کا جائزہ اجلاس

تلنگانہ:(اردو اخبار دنیا) تلنگانہ حکومت نے یکم ستمبر سے ریاست کے تمام سرکاری اور خانگی تعلیمی اداروں کی کشادگی کا فیصلہ کیا ہے۔ کے جی تا پی جی سطح کی تمام #کلاسیس کا باقاعدہ آغاز ہوگا ۔ آنگن واڑی اسکولوں کے علاوہ ریاست کے تمام خانگی اور سرکاری #تعلیمی #اداروں میں یکم ستمبر سے باقاعدہ کلاسیس کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔ #چیف منسٹر کے سی آر کی صدارت میں پرگتی بھون میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

30 اگسٹ تک اسکولوں کی صفائی اور سنیٹائزیشن مکمل کیا جائے

چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ #شہری و دیہی علاقوں میں تمام تعلیمی اداروں اور ہاسٹلس کو سنیٹائز کرنے کا کام 30 اگسٹ تک مکمل کرلیا جائے۔ پنچایت راج اور بلدی نظم و نسق کے وزراء اور عہدیداروں کو چیف منسٹر نے ہدایت دی کہ اسکولوں کے آغاز سے قبل صحت و صفائی اور دیگر احتیاطی اقدامات مکمل کرلئے جائیں۔ کورونا کے پیش نظر ریاست میں تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا تھا۔ ریاست میں #کورونا کی #صورتحال قابو میں ہے اور دیگر ریاستوں میں تعلیمی اداروں کی کشادگی ہوچکی ہے۔ اِس پس منظر میں حکومت نے محکمہ صحت کی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے #اسکولوں کی کشادگی کا فیصلہ کیا ۔
اجلاس میں وزراء ای دیاکر راؤ، سبیتا اندرا ریڈی، رکن پارلیمنٹ کے کیشو راؤ، حکومت کے مشیر اعلیٰ راجیو شرما، چیف سکریٹری سومیش کمار، چیف منسٹر کے پرنسپل سکریٹری نرسنگ راؤ، سی ایم کے سکریٹریز سمیتا سبھروال، راج شیکھر ریڈی، بھوپال ریڈی، پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق اروند کمار، پرنسپل سکریٹری فینانس رام کرشنا راؤ، سکریٹری پنچایت راؤ سندیپ کمار سلطانیہ، سکریٹری ہیلت سید علی مرتضیٰ رضوی، چیف منسٹر کے او ایس ڈی گنگادھر، پرینکا ورگھیز، اقامتی اسکول سوسائٹی کے سکریٹری رونالڈ روز، #کمشنر اسکول #ایجوکیشن دیواسینا، کمشنر آف انٹرمیڈیٹ سید عمر جلیل، ڈائرکٹر پبلک ہیلت سرینواس راؤ، ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن رمیش ریڈی، تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے سکریٹری شفیع اللہ اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔
اِس موقع پر چندرشیکھر راؤ نے کہاکہ کورونا وباء کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا تھا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ اسکولوں کو بند کئے جانے سے طلبہ اور اُن کے سرپرستوں کے علاوہ خانگی اسکولوں کے #ٹیچرس اور دیگر غیر تدریسی عملے کو مشکلات کا سامنا تھا۔ ملک کی کئی ریاستوں میں حکومتوں نے اسکولوں کی کشادگی کیلئے جو اقدامات کئے ہیں اُس کا جائزہ لے کر احتیاطی تدابیر پر غور کیا گیا۔ ریاست میں کورونا صورتحال پر وزارت صحت کے حکام سے تفصیلات حاصل کی گئیں۔
اُنھوں نے بتایا کہ سابق کے مقابلہ میں ریاست میں کورونا کی صورتحال قابو میں ہے۔ عام زندگی و معمولات زندگی بحال ہوچکے ہیں۔ ایسے میں اسکولوں کو بند رکھنے سے طلبہ پر ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوگا جس سے اُن کے تعلیمی مستقبل پر اثر پڑسکتا ہے۔ عہدیداروں نے یکم ستمبر سے تعلیمی اداروں کی #کشادگی کی سفارش کی۔ اجلاس میں ریاست میں کے جی سے پی جی تک خانگی اور سرکاری تعلیمی اداروں کی کشادگی کے علاوہ احتیاطی تدابیرکے بارے میں عہدیداروں سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔
عہدیداروں کی تجاویز اور رائے حاصل کرکے حکومت نے یکم ستمبر سے تمام تعلیمی اداروں کی کشادگی کا فیصلہ کیا ہے۔ پنچایت راج اور بلدی نظم و نسق عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ شہری اور دیہی علاقوں میں اسکولوں میں صحت و صفائی کے انتظام کے علاوہ اسکولوں کے اندرونی اور بیرونی علاقہ میں سنیٹائزیشن کا کام مکمل کیا جائے۔ اگسٹ کے اختتام تک عہدیداروں کو یہ کام مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عوامی نمائندوں اور ضلع پریشد اور منڈل پریشد کے ذمہ داروں کو اِس سلسلہ میں ہدایات جاری کی گئیں۔

طلبہ کیلئے ماسک لازمی،کے جی تا پی جی تمام سطح کی کلاسیس کا آغاز

چیف منسٹر نے کہاکہ 30 اگسٹ تک بہرصورت تمام سرکاری اسکولوں کے سنیٹائزیشن کا کام مکمل کیا جائے۔ اسکول انتظامیہ کو طلبہ کے لئے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے ہوں گے۔ کسی بھی طالب علم کو بخار کی صورت میں اُسے قریبی پرائمری ہیلت سنٹرس سے رجوع کرتے ہوئے کورونا کا ٹسٹ کرایا جانا چاہئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کورونا کا پتہ چلنے پر ساتھی طلبہ اور والدین کو چوکسی اختیار کرنی چاہئے۔ طلبہ کے لئے ماسک کے استعمال کے علاوہ دیگر کوویڈ #قواعد پر عمل کرتے ہوئے کلاسیس کا انعقاد عمل میں لایا جائےا

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...