Powered By Blogger

جمعرات, اگست 26, 2021

ناندیڑ:چوہے مارنے کی دوا پی پلاکرسیما شیخ کاقتل

ناندیڑ:25اگست۔ (اردو اخبار دنیا)چوہے مارنے کی دوا پلاکر عمرکھیڑ کی شادی شدہ خاتون کوقتل کرنے کے معاملے میں تین خواتین کے خلاف مقدمہ کااندراج کیاگیا ہے۔یہ واردات 23اگست کورونما ہوئی۔ ایوت محل کے عمرکھیڑ کے دت نگر میں رہنے والی شادی شدہ سیما شیخ جاوید عمر 25سال 10اگست کواپنے مائیکہ پیٹکلے نگر گوکندا(تعلقہ کنوٹ) آئی تھی ۔

گھریلو تنازعہ پر مائیکہ میں ہی حنا جاوید شیخ وردیگر دو خواتین نے 10اگست کو صبح ساڑھے گیارہ تاتین بجے کے درمیان سیما شیخ کو جبر۱چوہے مارنے کی دوا پلائی ۔جس کے بعد سیما کو علاج کیلئے اسپتال میںداخل کیاگیا۔دوران علاج سیما نے پولس کو بیان دیا کہ حنا جاوید شیخ اور دیگر دو خواتین نے انھیں جبرا ً زہرپلادیا۔

اسکے بعد دوران علاج 17اگست کو سیما نے آخری سانس لی اوراسکی موت ہوگئی۔اس معاملے میں پولس نے حنا شیخ جاوید اور دیگر دو خواتین کے زہر پلاکر قتل کرنے کامقدمہ درج کیا ہے ۔ پی آیی ماروتی تھورات کی رہنمائی میں خاتون انسپکٹر ایس ڈی جادھو تفتیش کررہی ہیں۔

بدھ, اگست 25, 2021

کورونا ٹیکہ کاری میں مدھیہ پردیش نے پھر بنایا ریکارڈ ، ریاست گیر سطح پر چلائی گئی دو روزه مهم

کورونا ٹیکہ کاری میں مدھیہ پردیش نے پھر بنایا ریکارڈ ، ریاست گیر سطح پر چلائی گئی دو روزه مهم(اردو اخبار دنیا)کورونا ٹیکہ کاری کے معاملے میں مدھیہ پردیش نے پھر ریکارڈ بنایا ہے ۔ ریاست گیر سطح پر چلائے گئے دو روزہ کورونا ٹیکہ کاری مہم کے پہلے روز مدھیہ پردیش میں بیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو کورونا ٹیکہ لگاکر مدھیہ پردیش نے ریکاڈ بنایا ہے ۔ اس سے قبل مدھیہ پردیش نے ایک دن میں سولہ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو کورونا ٹیکہ لگا کر ریکارڈ اپنے نام کیاتھا۔ واضح رہے کہ دو روزہ کورونا ٹیکہ کاری مہا ابھیان کے پہلے روز دونوں ڈوز لگائے گئے ہیں جبکہ کل یعنی چھبیس اگست کو صرف دوسرا ڈوز ہی لگایا جائے گاؤ مدھیہ پردیش میں ابتک چار کروڑ سے زیادہ لوگوں کو کورونا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے جس میں پہلا ڈوز ساٹھ فیصد لوگوں کو اور دوسرا ڈوز آج سے پہلے تک صرف بارہ فیصد لوگوں کو لگایا گیا تھا۔

مدھیہ پردیش میں کورونا ٹیکہ کاری مہم کو کامیاب بنانے کے لئے حکومت،انتظامیہ ،کرائیسس مینجمنٹ کمیٹی کے ساتھ سماجی تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ مسلم تنظیموں کے ذریعہ بھی ریاست گیر سطح پر سبھی اضَلاع میں کورونا ٹیکہ کاری کے کیمپ لگائے گئے تھے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر صحت پربھورام چودھری کہتے ہیں کہ کورونا ٹیکہ کاری کے معاملے میں ایک دن میں بیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکہ لگا کر مدھیہ پردیش نے ریکارڈ قائم کیا ہے جو اعداد و شمار آپ صحافیوں کو بتائے جا رہے ہیں یہ شام چھ بجے تک کے ہیں اس میں اور بھی اضافہ ہوسکتا ہے ۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ کی مہم ،عوام کی شمولیت کے سبب یہ سب ممکن ہوسکا ہے۔ حکومت کی جانب سے سب کو ویکسین اور مفت ویکسین کا انتظام کیا گیا ہے ۔ کل چھبیس اگست کو صرف دوسرا ڈوز کا ٹیکہ لگایا جائے گا۔

مسلم سماجی کارکن فہیم چھودھری کہتے ہیں کہ کورونا کی وبائی بیماری کاخاتمہ صرف حکومت کی ہی نہیں بلکہ ملک کے سبھی شہریوں کی بھی مشترکہ ذمہ داری کا حصہ ہے ۔ پہلے بھی جب کیمپ لگایا گیاتھا تب بھی اور آج کے کیمپ کے لئے بھی گھر گھر جاکر لوگوں سے اپیل کی ۔ پہلے جہاں لوگ کورونا ٹیکہ کے نام پر بھاگتے تھے وہیں اب بیداری ہونے کے سبب سب پہلے ٹیکہ لگوانے کے لئے جھگڑتے ہیں ۔ بس اللہ سے یہی دعا ہے کہ ہماری خدمت کو قبول کرلے اور اس ملک سے دنیا سے وبائی بیماری کا خاتمہ کردے تاکہ زندگی پہلے کی طرح خوشگوار ہوسکے

ہندوستان صرف 78 رن پر ڈھیر ، : ‏IND VS ENG ‎غیرملکی سرزمین پر پہلی بار ایسی شرمناک بلے ! بازی

ہندوستان صرف 78 رن پر ڈھیر ، : IND VS ENG غیرملکی سرزمین پر پہلی بار ایسی شرمناک بلے ! بازینئی دہلی(اردو اخبار دنیا): لارڈس ٹسٹ میں ہندوستان نے جس طرح سے شاندار جیت درج کی تھی، لیڈس میں اترتے ہی حالات پوری طرح تبدیل ہوگئے۔ ہندوستانی ٹیم لیڈس ٹسٹ (India vs England, 3rd Test) کی پہلی اننگ میں صرف 78 رنوں پر ڈھیر ہوگئی۔ ایک سے بڑھ کر ایک ٹسٹ بلے بازوں سے لیس ٹیم انڈیا کا ایک بھی بلے باز 20 رن تک نہیں پہنچ پایا۔ روہت شرما (Rohit Sharma) نے سب سے زیادہ 19 رن بنائے۔ نائب کپتان اجنکیا رہانے نے 18 رن بنائے۔ وہ تو انگلینڈ نے 16 رن اضافی دے دیئے ورنہ ہندوستانی ٹیم 62-60 رنوں پر سمٹ جاتی۔ (تصویر کریڈٹ: اے ایف پی)

واضح رہے کہ انگلینڈ کے خلاف یہ ہندوستان کا تیسرا سب سے کم اسکور ہے۔ اس سے پہلے وہ 1974 میں لارڈس ٹسٹ میں 42 اور 1952 میں مینچسٹر میں 58 رنوں پر سمٹ گئی تھی۔ اب پورے 47 سالوں کے بعد ہندوستانی ٹیم نے انگلینڈ میں اتنی شرمناک کارکردگی کی ہے۔ (اے ایف پی)

ٹسٹ کرکٹ میں یہ ہندوستان کا 9 واں سب سے کم اسکور ہے۔ بتادیں کہ گزشتہ سال ہی آسٹریلیا دورے پر ٹیم انڈیا ایڈیلیڈ میں محض 36 رنوں پر سمٹ گئی تھی۔ حالانکہ اس کے بعد ٹیم انڈیا نے زبردست واپسی کرتے ہوئے سیریز 1-2 سے اپنے نام کی تھی۔ (اے ایف پی)

ہندوستانی ٹیم نے اپنے آخری 5 وکٹ صرف 11 رنوں پر گنوا دیئے۔ ایک وقت ٹیم انڈیا کا اسکور 5 وکٹ پر 67 رن تھا، لیکن اس کے بعد وہ 78 رنوں پر ڈھیر ہوگئی۔ (اے پی)

ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ کی بات کریں تو ہندوستان دوسری بار 100 سے کم اسکور پر ڈھیر ہوا ہے۔ انگلینڈ بھی دو بار 100 سے کم اسکور پر آل آوٹ ہوا ہے۔ (اے ایف پی)

ٹسٹ کی پہلی اننگ میں یہ ہندوستان کا انگلینڈ کے خلاف سب سے کم اسکور ہے۔ یہی نہیں غیر ملکی سرزمین پر پہلی اننگ میں یہ ہندوستانی ٹیم کا سب سے کم ٹسٹ اسکور بھی ہے۔ اس سے قبل ہندوستانی ٹیم پہلی اننگ میں 4 بار اور 100سے کم رنوں پر آل آوٹ ہوچکی ہے۔ ٹسٹ کی پہلی اننگ میں اس کا سب سے کم اسکور 75 رن ہے، جو کہ 1987 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بنا تھا (تصویر کریڈٹ: اے پی)

یوپی: علی گڑھ کے بعد اب کچھ اور جگہوں کے نام بدلنے کی تیاری25/08/2021

یوپی: علی گڑھ کے بعد اب کچھ اور جگہوں کے نام بدلنے کی تیاری

UP Chief Minister Yogi Aditya Nath-BCCI

لکھنو،25؍اگست:(اردو اخبار دنیا)اتر پردیش میں کچھ دوسری جگہوں کے نام تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ اب پورانچل کے ضلع مرزا پور کا نام تبدیل کرکے وندھیہ دھام اور اناؤ کے میاں گنج بلاک کا نام مایا گنج رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اناؤ ڈی ایم رویندر کمار نے میاں گنج کا نام بدل کر مایا گنج رکھنے کی تجویز بھیجی ہے۔ دریں اثنا #یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے وزیر راما شنکر سنگھ پٹیل نے #مرزا پور کا نام وندھیہ دھام رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے پہلے یہاں کی ضلع #پنچایتوں نے علی گڑھ، مین پوری اور #فیروز آباد کے نام تبدیل کرنے کی تجاویز بھیجی ہیں۔

#علی گڑھ کا نام خلیفہ حضرت علی کے نام پر رکھا گیاتھا۔ اب علی گڑھ کی ضلع پنچایت نے حکومت کو ایک تجویز بھیجی ہے کہ علی گڑھ کا نام ہری نگر اور علی گڑھ ہوائی اڈہ کا نام کلیان سنگھ کے نام پر رکھا جائے۔ ہوائی اڈے کا نام سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کے نام پر رکھنے کی تجویز کو بھی منظوری دے کر یوپی حکومت کو بھیج دیا گیا۔ کلیان سنگھ علی گڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔اسی طرح فیروز آباد کا نام راجہ چندرسین کے نام پر چندر نگر رکھنے کی تجویز فیروز آباد ڈسٹرکٹ #پنچایت نے حکومت کو بھیجی ہے۔اس سے قبل 2018 میں یوگی حکومت نے الہ آباد کا نام #پریاگ راج اور فیض آباد ضلع کا نام ایودھیا رکھا تھا۔

اتر پردیش : چوری کے الزام میں مسلم نوجوان کی ہے رحمی سے پٹائی ، کیس درج

اتر پردیش : چوری کے الزام میں مسلم نوجوان کی ہے رحمی سے پٹائی ، کیس درج(اردو اخبار دنیا)یوگی حکومت میں ایک بار پھر بھیڑ کا تشدد منظر عام پر آیا ہے۔ بریلی میں بھیڑ کے تشدد کے ایک نئے معاملے میں مسلم نوجوان ساحل کو اس کے بالوں سے گھسیٹا گیا، بے رحمی سے پٹائی کی گئی، اور اور پھر اس کے پیروں کو باندھ دیا گیا تاکہ وہ چوری کی بات قبول کر لے۔ واقعہ منگل کی دوپہر بس اڈے پر پیش آیا اور اس کی ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

بریلی کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس ایس پی) روہت سنگھ سجوان نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''ہم نے از خود نوٹس لیا ہے اور نامعلوم اشخاص کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 147 (فساد)، 149 (غیر قانونی جلسہ کے کسی بھی رکن کے ذریعہ کیا گیا جرم)، 323 (قصداً چوٹ پہنچانا) اور 342 (غلط جیل) کے تھت شکایت درج کی ہے۔ ساحل کے ساتھ مار پیٹ کرنے والے کی ویڈیو اور تصویروں کے ذریعہ شناخت کی جائے گی۔''

واقعہ کے تعلق سے بتایا جا رہا ہے کہ ایک مسافر دیویندر کمار نے پایا کہ اس کا فون اس کی جیب سے غائب تھا، جب کہ ایک دیگر شخص نے دعویٰ کیا کہ اس کا والیٹ چوری ہو گیا تھا۔ جب راہ گیروں نے پاس کھڑے لوگوں سے پوچھ تاچھ شروع کر دیا اور 20 سالہ مزدور محمد ساحل سے جب پوچھ تاچھ کی گئی تو وہ لڑکھڑا گیا۔ بھیڑ نے فوراً اس پر حملہ کر دیا اور مار پیٹ کرنے لگے۔

بتایا جاتا ہے کہ پولیس کے پہنچنے سے قبل تقریباً 30 منٹ تک اس کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔ حالانکہ اس کے پاس سے چوری کا کوئی بھی سامان برآمد نہیں ہوا۔ زخمی ساحل کو فوری علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا اور بعد میں اسے لاک اَپ میں ڈال دیا گیا۔ دیویندر کمار کی شکایت کی بنیاد پر ایک نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ کوتوالی ایس ایچ او پنکج پنت نے کہا کہ ہم نے پایا کہ ساحل جرم میں شامل تھا، لیکن ساحل کے پاس کوئی فون یا والیٹ نہیں ملا۔ ہمیں اس کے دوست صابر نام کے ایک شخص کا فون ملا۔ اسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بریلی میں 2019 کے بعد سے یہ چوتھا ایسا معاملہ ہے۔

غور طلب ہے کہ اگست 2019 میں مویشی چوری کے شبہ میں بھیڑ کے ذریعہ حملہ کیے جانے کے بعد ایک ذہنی طور سے بیمار مسلم شخص کی پٹائی کی گئی جس سے وہ کومہ میں چلا گیا۔ اس کی اسپتال میں موت ہو گئی۔ گزشتہ سال ستمبر میں شراب کے نشے میں مدہوش ایک مسلم شخص کو چور سمجھ لیا گیا تھا اور پھر اس کی پٹائی درخت سے باندھ کر بھیڑ کے ذریعہ کی گئی تھی۔ اس کی بھی علاج کے دوران موت ہو گئی تھی۔ علاوہ ازیں رواں سال فروری میں 31 سالہ ایک مسلم ٹیکسی ڈرائیور پر مویشی چوری اور پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے اس کی بھی موت ہو گئی تھی۔


لو جہاد قانون پر گجرات ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین کی بالا دستی کاثبوت:محمودمدنی

لکھنؤ:25اگست(یواین آئی) جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے گجرات حکومت کے ذریعہ مبینہ لوجہاد پر 15 جولائی کو پاس کئے گئے”مذہبی آزادی (ترمیمی) ایکٹ 2021” پر گجرات ہائی کورٹ کے ذریعہ ایکٹ کی 8 دفعات پرفوری طورپر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کا استقبال کرتےہوئے کہا کہ یہ آئین و دستور کی بالا دستی کا ثبوت ہے جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈوکیٹ آن رکارڈ محمد عیسیٰ حکیم اور سینئر ایڈووکیٹ مہر جوشی نے عدالت میں آئین ہند کے حوالے سے دلائل پیش کئے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعدگجرات ہائی کورٹ کے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس ویرن وشنو کی بنچ نے مذکورہ قانون کی دفعات 3، 4، 4A، 4B، 4C، 5، 6 اور 6A پر فوری طور پر پابندی عائد کردی ہے۔
اس ایکٹ کی دفعہ 3 میں زبردستی مذہب تبدیل کرنا یا ایسے کسی بھی شخص کے ذریعے شادی میں مدد دینا جرم بناتا ہے۔ 3 اے کے تحت جبری تبدیلی کی شکایت والدین، بہن بھائیوں یا کسی بھی سگے یا سسرالی رشتہ دار کی جانب سے کی جا سکتی ہے۔4 اے میں غیر قانونی، مذہبی تبدیلی کے لیے 3 سے 5 سال قید کی سزا ہے۔ دفعہ 4 بی غیر قانونی تبدیلی سے شادی پر پابندی لگاتی ہے۔ غیر قانونی تبدیلی میں ملوث اداروں کے خلاف دفعہ 4C کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ دفعہ 6 اے ملزم پر ثبوت کا بوجھ ڈالتی ہے۔ ایکٹ کی ان نکات کو روکتے ہوئے، عدالت نے کہا کہ یہ بالغوں کی آزادی پر مبنی دوسرے مذہب میں شادیوں پر نافذ نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ گجرات میں مذکورہ ایکٹ کے تحت بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور مقدمہ چلایا گیا۔ جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود اسد مدنی کی ہدایات پر گجرات جمعیۃ علماء نے اس کے خلاف گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔سماعت کے دوران دونوں ججوں نے زبانی طور پر کہا کہ مذہب اور شادی ذاتی پسند کے معاملات ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق، جس لمحے کوئی شخص کسی دوسرے مذہب میں شادی کرتا ہے اور اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے، پھر اس شخص کو جیل بھیج دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ ثبوت کا بوجھ بھی اس ملزم پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص شادی کرتا ہے تو کیا حکومت اسے جیل بھیج دے گی؟ اور پھر یہ یقین حاصل کرے گی کہ شادی زبردستی کی گئی تھی یا لالچ سے؟

جمعیت علماء ہند کی جانب سے عدالت میں سینئر وکیل کا مطالبہ تھا کہ یہ قانون انفرادی آزادی، آزادانہ انتخاب، مذہبی آزادی اور آئینی طور پر امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔ اور یہ آئین کے دفعات 14، 21 اور 25 کے منافی اور متصادم ہیں۔ اس لیے اسے فورا ختم کیا جائے۔ اس مقدمہ میں دیگر نکات پر سماعت جاری رہے گی۔

بہار میں مذہبی مقامات ، شاپنگ مال ، دکان ، پارک ، سنیمال ہال ، کوچنگ اداروں کوکھولنے کی ملی اجازت

پٹنہ 25 اگست ( یواین آئی ) بہار میں کورونا انفیکشن کی صورتحال میں بہتری کو دیکھتے ہوئے حکومت نے کل سے سبھی دکانوں ، اداروں ، شاپنگ مال ، پارک ، گارڈن اور مذہبی مقامات کو عام طو رپر کھولنے کی اجازت دے دی ہے ۔

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بدھ کو آفات مینجمنٹ گروپ کی میٹنگ میں کورونا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد خود سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کر کے بتایاکہ ریاست میں اب سبھی دکانیں ، ادارے ، شاپنگ مال ، پارک ، گارڈن اور مذہبی مقامات عام طور سے کھلیںگے ۔ اس کے ساتھ ہی ضلع انتظامیہ کی اجازت سے سبھی طرح کے سماجی ، سیاسی ، تفریحی ، کھیل۔ کود ، ثقافتی اور مذہبی پروگرام احتیاطی تدابیر کے ساتھ منعقد کئے جاسکیںگے۔

وزیراعلیٰ نے بتایاکہ سبھی یونیورسیٹی، کالج ، تکنیکی تعلیمی ادارے اور یونیورسیٹی ( پہلی سے بارہویں جماعت ) کے ساتھ کوچنگ ادارے بھی عام طور سے کھلیںگے ۔ انہوں نے بتایاکہ ریاست کے یونیورسیٹیوں ، کالجوں ، اسکولوں کے ذریعہ امتحانات بھی منعقد کئے جاسکیںگے ۔مسٹر کمار نے بتایاکہ 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ سنیماہال ، کلب ، جم ، سوئمنگ پل ، ریستوراں اور کھانے کی دکان (زائرین کے ساتھ ) کھل سکیںگے لیکن تیسری لہر کے امکانات کے مد نظر بہار کے تمام باشندوں کو کووڈ پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے احتیاط برتنا ضروری ہے 

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...