Powered By Blogger

جمعرات, اگست 26, 2021

دہلی کے محمد پور گاؤں کا نام بدل کر مادھو پورم کرنے کی تجویز کودی گئی پیشگی منظوری

دہلی کے محمد پور گاؤں کا نام بدل کر مادھو پورم کرنے کی تجویز کودی گئی پیشگی منظوری

Delhi News Proposal to change the name of Mohammadpur village in Delhi to Madhavpuram has been approved in advance

نئی دہلی، 26 اگست:(اردودنیانیوز۷۲)ملک بھر میں کئی جگہوں کے نام وقتاقتا تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ اب قومی دارالحکومت دہلی کے منیرکا میں واقع ایک گاؤں #محمد پور کا نام بدل کر مادھو پورم کرنے کی تجویز کو پیشگی منظوری دے دی گئی ہے۔ جنوبی #دہلی #میونسپل #کارپوریشن کے میئر مکیش سوریان نے یہ معلومات دی۔

ایک بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معلوم ہوا ہے کہ #مغلیہ دور میں دہلی کے کئی دیہات کے نام زبردستی بدلے گئے تھے، جس میں منیرکا کے وارڈ نمبر 66 کا محمد پور گاؤں بھی ہے۔ یہ جنوبی دہلی #میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔اس میں مزید کہا گیا کہ لوگوں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ محمد پور گاؤں کا نام بدل کر مادھو پورم کیا جائے۔ اس مطالبہ اور جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور کارپوریٹر بھگت سنگھ ٹوکاس کی درخواست پر عوام کے مفاد میں وارڈ نمبر 66 منیرکا کے محمد پور گاؤں کو مادھو پورم میں تبدیل کرنے کی تجویز کو پیشگی منظوری دی گئی ہے۔

شادی شدہ بیوی کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف جسمانی تعلق بنانا عصمت دری نہیں :ہائی کورٹ

شادی شدہ بیوی کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف جسمانی تعلق بنانا عصمت دری نہیں :ہائی کورٹ

judgment

بلاسپور26اگست:(اردودنیانیوز۷۲)چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے شادی شدہ بیوی کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف #جسمانی تعلق کو #ریپ نہیں ماناہے۔ ایڈووکیٹ وائی سی شرما نے کہا کہ جسٹس این کے چندرونشی کی سنگل بنچ نے قانونی طور پر شادی شدہ #بیوی کی مرضی کے خلاف #زبردستی یا طاقت کے بل بوتے جسمانی تعلق #عصمت دری نہیں ماناہے۔شرما نے بتایا کہ ریاست کے ضلع بیمتارا کے ایک کیس میں شکایت کنندہ بیوی نے اپنے شوہر پر عصمت دری اور غیر فطری #جنسی تعلقات کا الزام لگایا تھا، جسے اس کے شوہر نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

وکیل نے کہا کہ ہائی کورٹ نے کہا کہ ازدواجی عصمت دری کے علاوہ دیگر الزامات کے معاملے میں کیس جاری رہے گا۔ شرما نے بتایا کہ ضلع بیمتارا میں شادی کے بعد شوہر اور بیوی کے درمیان علیحدگی ہوگئی تھی۔ بیوی نے تھانے میں شکایت درج کرائی تھی کہ ان کی شادی جون 2017 میں ہوئی تھی۔ شادی کے کچھ دنوں کے بعد اس کے شوہر اور سسرال والوں نے اسے ہراساں کرنا شروع کیا، #جہیز کے طور پر پیسوں کا مطالبہ کیا۔

اس کا شوہر بھی اسے گالیاں دیتا اور مارتا پیٹتا تھا۔ بیوی نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس کے شوہر نے اس کی مرضی اور غیر فطری #جنسی تعلقات کے خلاف کئی بار اس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کئے۔وکیل نے بتایا کہ تفتیش کے بعد شوہر اور دیگر کے خلاف تھانہ میں دفعہ 498-اے اور 377، 376 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور چالان مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔ نچلی عدالت نے دفعات کے تحت الزامات مرتب کئے تھے۔شرما نے بتایا کہ خاتون کے شوہر نے ریپ کیس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

درخواست گزار شوہر کی جانب سے عدالت میں یہ دلیل دی گئی کہ قانونی طور پر شادی شدہ بیوی کے ساتھ شوہر کی جانب سے جنسی یا کوئی بھی جنسی عمل عصمت دری نہیں ہے، چاہے وہ طاقت سے کیا جائے یا بیوی کی مرضی کے خلاف۔ اس معاملے میں گجرات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی عدالتی نظیر بھی پیش کی گئی۔

کسانوں نے 25 ستمبر کو بھارت بند کااعلان کیا26/08/2021

کسانوں نے 25 ستمبر کو بھارت بند کااعلان کیا

farmers-protest-bharat-bandh
نئی دہلی26اگست:(اردودنیانیوز۷۲)مرکزی #زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کونو ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر کسان تنظیمیں دہلی کی سنگھو بارڈرپردو روزہ قومی کانفرنس منعقد کر رہی ہیں۔ملک کی ہر ریاست سے کسانوں کے نمائندے کسانوں کے قومی کنونشن میں پہنچے ہیں۔اس کانفرنس میں متحدہ کسان مورچہ نے اگلے ماہ 25 ستمبر کو ملک گیر بھارت بند کا اعلان کیا ہے۔
کسان تنظیموں نے 5 ستمبر کو مشن #یوپی اور اتراکھنڈ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ مشن مغربی یوپی کے مظفر نگر سے شروع کیا جائے گا۔ اس دن کسان مظفر نگر میں ایک مہا پنچایت کا اہتمام کریں گے۔کسان رہنمادرشن پال نے بتایاہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 25 ستمبر کو ہم ملک بھر میں زرعی قوانین کے خلاف بھارت بند کریں گے۔ 5 ستمبر کوہم #کسان مہا پنچایت کے ذریعے دہلی اور لکھنؤ دونوں کو اشارہ دیں گے۔ اس دن لاکھوں کسان #ملک بھرسے مظفر نگرپہنچیں گے۔

دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میں نماز پر پابندی، مسلم طبقہ میں غم و غصہ کی لہر

نئی دہلی: راجدھانی دہلی کے آئی ٹی او پر واقع تاریخی اہمیت کا حامل فیروز شاہ کوٹلہ ایک مرتبہ پھر سرخیوں میں آگیا ہے۔ عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر تمام تاریخی عمارتوں، سیاحتی اور سیر و تفریح کے مقامات پر انتظامیہ کی جانب سے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ لیکن کورونا کی دوسر ی لہر کے بعد حالات ٹھیک ہونے پر دہلی کی بیشتر تاریخی عمارتوں اور درگاہوں کو عقیدت مندوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

تصویر بذریعہ محمد تسلیم

فیروز شاہ کوٹلہ تاریخی اور عقیدت دونوں ہی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں جمعرات اور جمعہ کے دن عقیدت مندوں کی کثیر تعداد منت مانگنے اور نماز ادا کرنے آتی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر لوگ ویڈیو کے ذریعہ شکایت کر رہے تھے کہ یہاں نماز ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے۔
جمعرات کے دن عقیدت مندوں کے چہرے اس وقت مایوس ہو گئے جب فیروز شاہ کوٹلہ میں داخلہ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی اور نماز کے لیے بھی روک دیا گیا۔ ’قومی آواز‘ کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے عقیدت مندوں نے کہا کہ آج سے پہلے یہاں کبھی بھی ایسا موقع نہیں آیا کہ داخلہ اور نماز پر پابندی لگا دی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس جگہ سے لوگوں کو قلبی سکون ملتا ہے اور لوگوں کی مرادیں بھی پوری ہوتی ہیں۔

تصویر بذریعہ محمد تسلیم

یوتھ کانگریس کے سابق جنرل سکریٹری کنور شہزاد نے نماز پر عائد پابندی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی مسجد میں برسوں سے نماز ادا کی جارہی ہے لیکن گزشتہ ماہ سے یہاں عقیدت مندوں کو روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیروز شاہ کوٹلہ برسوں سے آثارِ قدیمہ کے زیر انتظام آتا ہے، یہاں کی مسجد میں دہلی وقف بورڈ کے امام اور موذن نماز پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ اگر فیروز شاہ کوٹلہ میں کسی شخص کو نماز ادا کرنی ہو تو اس کو بیس روپے کا ٹکٹ لینا پڑتا ہے۔

تصویر بذریعہ محمد تسلیم
کنور شہزاد کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز جب سوشل میڈیا پر لوگوں نے نماز پر عائد پابندی پر ویڈیو وائرل کرنا شروع کیں، تو دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نیند سے بیدار ہوئے اور عصر کی نماز فیروز شاہ کوٹلہ میں ادا کی اور بڑے فخر سے عوم الناس سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب یہاں کسی بھی نمازی کو نماز پڑھنے سے روکا نہیں جا سکتا، اور نہ ہی نماز پڑھنے والوں سے ٹکٹ لیا جائے گا۔ تاہم آج، یعنی جمعرات کے روز میں نے ایک بار پھر فیروز شاہ کوٹلہ کا دورہ کیا اور دیکھا کہ یہاں داخلہ پر پابندی ہے، یہاں آئے عقیدت مند مایوس لوٹ رہے ہیں۔
تصویر بذریعہ محمد تسلیم

کنور شہزاد کے مطابق انھوں نے گارڈ سے پوچھا کہ آخر داخلہ پر پابندی کیوں ہے، تو اس نے جواب دیا کہ دو دن کے لیے فیروز شاہ کوٹلہ بند ہے۔ کنور شہزاد نے مسلم قیادت پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہلی میں پانچ مسلم ایم ایل اے ہیں، دہلی اقلیتی کمیشن ہے، لیکن کسی نے بھی ابھی تک آثارِ قدیمہ کو لیٹر نہیں سونپا کہ یہاں نماز کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ برسراقتدار عآپ حکومت کو ایک خاص طبقہ نے اپنا قیمتی ووٹ دے کر اس لئے کامیاب بنایا تھا کہ وہ مسلمانوں کی آواز بنے گی اور ان کے مسائل کو حل کر کرے گی، اس لئے نہیں کہ عہدیداران صرف آفس میں بیٹھ کر تماشائی بنے رہیں۔

تصویر بذریعہ محمد تسلیم
کنور شہزاد کا کہنا ہے کہ جب ہمارے ساتھیوں نے اس بابت دہلی وقف بورڈ کے چیرمین امانت اللہ خان سے فون پر بات کی تو انہوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ خود ہی اس مسئلہ کا حل نکال لو۔ تاہم اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں نے صرف لوگوں کا ووٹ لے کر استعمال کیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہم نے آج آثار قدیمہ کو لیٹر سونپا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فیروز شاہ کوٹلہ میں نماز کی اجازت دی جائے اور جو ٹکٹ کی شکل میں رقم وصول کی جاتی ہے وہ نماز کے وقت نہ لی جائے۔ ساتھ ہی جمعرات اور جمعہ کے دن عقیدت مندوں کے لیے مفت داخلہ کا انتظام کیے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ کنور شہزاد نے کہا کہ ہماری کوششوں کے بعد اب عام آدمی پارٹی کے لیڈران خواب خرگوش سے بیدار ہوئے ہیں لیکن دہلی کے عوام کے سامنے ان کا چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔

فیروز شاہ کوٹلہ کے دروزے بند ہونے سے پھول، اگر بتی، چراغ چادر فروخت کرنے والوں کا روزگار متاثر

فیروز شاہ کوٹلہ کے نزدیک ہر جمعرات اور جمعہ کو اگر بتی، چراغ، چادر فروخت کرنے والے عبدالنبی نے نمائندہ کو بتایا کہ میں یہاں گزشتہ 38 برس سے گلاب کے پھول و دیگر سامان فروخت کر رہا ہوں، لیکن عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دو سال سے روزگار نہیں ہے۔ اب زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے ان لاک کا عمل شروع ہوگیا ہے، لیکن فیروز شاہ کوٹلہ پر اس طرح پابندی لگنے سے ہمارا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر عقیدت مند کثیر تعداد میں آتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے سینکڑوں لوگوں کو روزی روٹی ملتی ہے۔
پھول فروخت کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ یہاں لوگوں کی منتیں پوری ہوتی ہیں اور جمعرات کے روز لوگوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر لوگوں کو اندر نہیں جانے دیا جائے گا تو ہماری روزی روٹی کیسے چلے گی۔

ماحولیاتی تبدیلی: شدید قحط کے خطرات سے دوچار مڈغاسکر میں لوگ کیڑے مکوڑے کھانے پر مجبور

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مڈغاسکر اس وقت ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیش آنے والے دنیا کے پہلے قحط کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔ مڈغاسکر میں گذشتہ چار برسوں سے بارشیں نہیں ہوئیں اور اس وقت بھی اس ملک کی بیشتر آبادی تباہ کن حد تک بھوک اور خوراک کی قلت کا شکار ہے۔گذشتہ چار دہائیوں پر محیط بدترین قحط نے ملک کے جنوب میں واقع زرعی آبادیوں کو تباہ کر دیا ہے اور وہاں کے رہائشی زندہ رہنے کے لیے کیڑے مکوڑے کھانے پر مجبور ہیں۔

عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) کی شیلی تھرکال کا کہنا ہے کہ ’یہ قحط جیسی صورتحال ہے جو کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہے، جنگ کی وجہ سے نہیں۔‘اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر 30 ہزار لوگ شدید ترین سطح کے طور پر تسلیم شدہ لیول 5 فوڈ ’ان سکیورٹی‘ سے دوچار ہیں۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کٹائی کے موسم سے پہلے مشکل حالات کی وجہ سے یہ تعداد کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے۔

شیلی تھرکال کا کہنا ہے کہ ’اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان لوگوں نے (مڈغاسکر کے رہائشی) ماحولیاتی آلودگی بڑھانے میں کچھ نہیں کیا۔ یہ فوسل فیوئلز (معدیناتی ایندھن) نہیں جلاتے مگر پھر بھی انھیں ماحولیاتی تبدیلی کے بدترین مسائل کا سامنا ہے۔‘حال ہی میں فندیوا نامی ایک گاؤں میں مقامی لوگوں نے عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کو وہ ٹڈیاں دیکھائیں ہیں جو انھیں کھانی پڑ رہی ہیں۔

چار بچوں کی ماں ٹیمارا کا کہنا تھا کہ ’میں کیڑوں کو جتنا صاف کر سکتی ہوں کرتی ہوں، مگر پانی کی شدید قلت ہے۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’میں اور میرے بچے گذشتہ آٹھ ماہ سے یہی کھا رہے ہیں کیونکہ ہمارے پاس کھانے کو اور کچھ نہیں ہے اور نہ ہی بارش ہو رہی ہے۔۔۔ ہم وہ کاٹ لیں جو ہم نے بویا ہے۔‘مٹی کے ڈھیر پر بیٹھی بول نامی ایک اور خاتون کہتی ہیں کہ ’آج ہمارے پاس کھانے کو کیکٹس کے پتوں کے علاقوں کچھ بھی نہیں ہے۔‘ بول کے تین بچے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ حال ہی میں ان کے شوہر کی ہلاکت بھوک سے ہوئی تھی اور ان کے ایک ہمسائے کے ساتھ بھی یہی ہوا۔وہ کہتی ہیں ’میں کیا کہ سکتی ہوں۔ ہماری زندگی بار بار کیکٹس کے پتے ڈھونڈنے اور زندہ رہنے کی تگ و دو میں بسر ہو رہی ہے۔‘

پانی

اگرچہ مڈغاسکر اکثر قحط سالی کا شکار رہتا ہے مگر ماہرین کا ماننا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو براہِ راست حالیہ قحط کی صورتحال کے پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

آئی پی سی سی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مڈغاسکر میں خشک سالی میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور اگر ماحولیاتی تبدیلی جاری رہی تو اس میں اضافے کا امکان ہے۔

یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن میں مڈغاسکر سے تعلق رکھنے والے سائنسدان ڈاکٹر رونڈر باریملالا کا کہنا ہے کہ ’(موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے) لوگوں کے رویے تبدیل کرنے کے لیے یہ ایک طاقتور ترین وجہ ہے۔‘
مڈغاسکر کے قحط کی حالیہ لہر کے اثرات اب جنوبی شہروں میں بھی نظر آنے لگے ہیں اور اب آپ کو بچے سڑکوں پر بھیک مانگتے بڑی تعداد میں نظر آئیں گے۔

مارکیٹوں میں اجناس کی قیمتیں تین سے چار گنا بڑھ گئی ہیں۔ لوگ کھانا خریدنے کے لیے زمینیں فروخت کر رہے ہیں۔بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فصلوں کی حفاظت کے لیے اپنے کھیتوں میں سونے لگے ہیں کیونکہ خدشہ ہے کہ بڑی تعداد میں موجود بھوکے افراد یہاں حملہ کر سکتے ہیں۔

سیڈ نامی تنظیم کے ایک کارکن کا کہنا تھا ’آپ کو اپنی جان خطرے میں ڈالنی پڑتی ہے اور اب یہ مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ مجھے ہر روز اپنی فیملی کو کھانا کھلانے کی فکر ہوتی ہے۔ ہر چیز انتہائی ناقابلِ یقین ہے اور آپ کو نہیں پتہ کہ اگلے دن موسم کیسا ہو گا؟‘

کوویڈ 19 کا فرضی نیگیٹو آر ٹی پی سی آر سرٹیفکیٹ دینے کا پردہ فاش

ممبئی اگست26(اردو دنیا نیوز۷۲) کرائم برانچ یونٹ ایک نے خفیہ جانکاری ملنے پر بھنڈی بازار ، پارسی گلی میں واقع ایک سائبر کیفے پر چھاپہ مار کر کوویڈ 19 کا فرضی نیگیٹو آر ٹی پی سی آر سرٹیفکیٹ دینے کا پردہ فاش کردیا ۔ اس کاروائی کے دوران کرائم برانچ نے ملزم کو مختلف دفعات کے تحت گرفتار کیا ہے ۔ جبکہ جائے وقوع کی تلاشی کے بعد کرائم برانچ نے ایک کمپیوٹر ، سی پی یو مانیٹر ، ایک کلر پرنٹر ، ایک راوٹر ، ایک ڈی وی آر ، ایک موبائل فون اور نقد 25 ہزار 30 روپے برآمد کر لیا ۔

اس کاروائی کے بارے میں کرائم برانچ نے بتایا مخبر نے جانکاری دیا تھا کہ پارسی گلی میں واقع سائبر کیفے میں سات سو روپے کے عوض کوویڈ 19 کا فرضی نیگیٹو آر ٹی پی سی آر سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے ۔ دریں اثناء کرائم برانچ نے ایک ڈمی گاہک کو سائبر کیفے میں بھیجا ۔ جہاں موجود شخص نے ڈمی گاہک کو 7 سو روپے کے عوض فرضی نیگیٹو آر ٹی پی سی آر سرٹیفکیٹ دینے کی بات کی ۔

سائبر کیفے میں موجود ملزم نے گاہک کا سویب ٹیسٹ نہیں کیا اور اس کو ” لائف نٹی ویلنیس انٹرنیشنل لمیٹڈ ” نامی پیتھالوجی کا فرضی نیگیٹو آر ٹی پی سی آر سرٹیفکیٹ دے دیا ۔ ٹھیک اسی وقت کرائم برانچ نے چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کر لیا ۔ کرائم برانچ نے بتایا فلائٹ اور ٹرینوں میں سفر کرنے کیلئے کوویڈ 19 ، نیگیٹو آر ٹی پی سی آر سرٹیفکیٹ لازمی ہے اور ملزم نے اسی بات کا فائدہ اٹھا کر واردات انجام دیا ۔ جوائنٹ پولس کمشنر کرائم ملند بھارمبے ، ایڈیشنل پولس کمشنر ایس ویریش پربھو ، ڈی سی پی پرکاش جادھو ، اے سی پی سوپان نگھوٹ کی نگرانی میں انچارج پولس انسپکٹر پنڈری ناتھ پاٹل اور اسٹاف اس معاملے میں مزید تفتیش کر رہے ہیں۔

ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ نصرت جہاں نے بچے کو جنم دیا

مشہور بنگالی اداکارہ اور ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ نصرت جہاں کے گھر ننھا مہمان آیا ہے۔ انھوں نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دیا ہے اور اس کی خبر اب بہت تیزی کے ساتھ سوشل میڈیا پر پھیل رہی ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق گزشتہ شب ہی نصرت جہاں کو اسپتال میں ایڈمٹ کرایا گیا تھا اور انھیں یش داس گپتا اپنے ساتھ لے کر اسپتال پہنچے تھے۔یہاں قابل ذکر ہے کہ یش داس گپتا بنگالی سنیما کے مشہور اداکار ہیں اور میڈیا میں نصرت جہاں اور یش داس گپتا کی نزدیکیوں کو لے کر خبریں خوب منظر عام پر آتی رہی ہیں۔

نصرت جہاں سے ان کے شوہر نکھل جین کی دوریوں کی ایک وجہ یش داس گپتا کو بھی بتایا جاتا ہے۔ دراصل نصرت جہاں کے حاملہ ہونے کی خبریں جب سامنے آئی تھیں تو ان کے شوہر نکھل جین نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ان سے الگ رہ رہے ہیں اور پریگننسی کے بارے میں انھیں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ نصرت جہاں نے اپنی شادی کو لے کر جاری تنازعہ پر کسی بھی طرح کا بیان دینے سے پرہیز کیا اور پوری توجہ اپنے بچے پر دی۔ ایک بار انھوں نے یہ ضرور کہا تھا کہ بزنس مین نکھل جین کے ساتھ ان کی شادی ہندوستان میں ویلڈ (قابل قبول) نہیں ہے۔

 

واضح رہے کہ نصرت سے نکھل جین نے 2019 میں ترکی میں شادی کی تھی، لیکن یہ شادی بہت زیادہ دنوں تک نہیں چلی۔ شادی کے کچھ مہینوں کے اندر ہی نصرت اور نکھل کے درمیان نااتفاقی کی خبریں سامنے آنے لگیں۔ اسی وقت ساتھ میں یہ بھی افواہیں پھیل رہی تھیں کہ نصرت ’ایس او ایس کولکاتا‘ کے اپنے ساتھی اداکار یش داس گپتا کے بہت قریب ہو رہی ہیں۔ اس وقت دونوں ساتھ میں راجستھان کے سفر پر بھی گئے تھے۔
یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ یش داس گپتا کے ساتھ رشتوں کو لے کر نصرت جہاں نے ابھی تک کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ میڈیا میں ایسی خبریں ضرور سامنے آ رہی ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ جب یش داس گپتا نصرت جہاں کو بدھ کی شب ساتھ لے کر اسپتال پہنچے تو اس سے بھی چہ می گوئیاں شروع ہوئیں اور دونوں کے ایک ساتھ ہونے کی باتیں کی جانے لگیں۔ بہر حال، بیٹے کی پیدائش کے بعد نصرت جہاں کافی خوش نظر آ رہی ہیں اور انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ بھی کیا ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...