Powered By Blogger

جمعہ, اگست 27, 2021

یکم ستمبر سے کھلیں گے اسکول : ‏Breaking ‎کی میٹنگ لیا گیا یہ بڑا فیصلہ ‏DDMA ‎میں

یکم ستمبر سے کھلیں گے اسکول : Breaking کی میٹنگ لیا گیا یہ بڑا فیصلہ DDMA میںنئی دہلی(اردو دنیا نیوز۷۲): دہلی میں مرحلہ وار طریقے سے اسکول کھولے (Delhi School Reopen) جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ڈی ڈی ایم اے DDMA کے میٹنگ میں لیا گیا ہے۔ دہلی میں اسکول 1 ستمبر کو نویں سے بارہویں اور آٹھ ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں تک کے اسکول کھلیں گے۔ اس تعلق سے دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی میٹنگ بلائی گئی تھی۔ ڈی ڈی ایم اے کی تشکیل کردہ کمیٹی نے اسکول کھولنے کی سفارش کی تھی۔

اس سے پہلے ڈی ڈی ایم اے کمیٹی نے دہلی حکومت کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں مختلف سطحوں پر اسکول کھولنے کی سفارش کی تھی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ اسکول کھولنے کی بات کہی تھی۔ اسکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کورونا پروٹوکول پر سختی سے عمل کریں۔ اسکولوں کو بچوں کے لیے تمام حفاظتی معیارات کو پورا کرنا ہوگا۔

وہیں یکم ستمبر سے راجسھتان میں بھی نویں سے بارہیوں جماعت کے اسکول کھلیں گے۔ محکمہ تعلیم نے بدھ کواسکول کھولنے کے حوالے سے ایس او پی جاری کیا۔ دو شفٹ میں کلاسیں ہوں گی ۔

نو ماہ کی حاملہ فلسطینی قیدی کا اپنے اہل خانہ کو درد بھرا مکتوب

رملہ: فلسطین کے غرب اردن کے علاقے راملہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون قیدی انہار الدیک جو نو ماہ کی حاملہ ہیں نے اسرائیلی دیمون جیل کے اندر سے اپنے اہل خانہ کو ایک دردناک پیغام بھیجا ہے۔اس کے اہل خانہ کی طرف سے شائع کردہ ایک خط میں اسیرہ انہار الدیک نے اسرائیلی جیل کے اندر اپنے درد اور خوف کا اظہار کیا۔اس نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ میں جولیا کو غیر فطری انداز میں یاد کرتی ہوں۔میرے دل اس کے لیے بہت روتا ہے۔میں نے اسے گلے لگایا اور اسے اپنے دل سے تھام لیا۔ میرے دل میں درد کو لکیروں میں نہیں لکھا جا سکتا۔

اس نے کہا کہ میں کیا کروں اگر میں اآپ سے بہت دور زچی کے عمل سے گذروں اور میں بچے کو جنم دیتے وقت تکلیف سے گذروں توآپ کیا کریں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ سیزیرین ڈیلیوری کیا ہے؟۔الدیک نے دعا کی کہ اے رب میں تیری رحمت کے لیے ترس رہی ہوں۔ میں بہت تھکی ہوئی ہوں اور مجھے ’فرش‘ پر سونے کے نتیجے میں کمر میں شدید درد ہے۔ میں نہیں جانتی۔ میں آپریشن کے بعد اس پر کس طرح سوسکوں گی۔اس نے درد بھرے الفاظ میں کہا کہ میں آپریشن کے بعد اپنے پہلے قدم کیسے اٹھاؤں گی اور وارڈن کس طرح نفرت میں رکھتا ہے۔

اسیرہ الدیک کے مطابق وہ مجھے اور میرے بیٹے کو تنہائی میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے میرا دل صدمے سے دوچار ہے۔اس نے مزید کہا کہ میں نہیں جانتی کہ میں کس طرح اس پر اپنا ذہن پھیروں گی اور اسے ان کی خوفناک آوازوں سے بچاؤں گی جب اس کی ماں مضبوط نہیں ہوگی وہ اس کے سامنے کمزور ہو جائے گی۔

ہندوستان کے 73 شہروں میں انگریزی زبان کی علم کا دنیا میں سب سے معتبر امتحان ہوگا

نئی دہلی 26 اگست (اردو دنیا نیوز۷۲) اب ہندوستان میں زیادہ تعداد میں لوگ آئی ای ایل ٹی ایس کاامتحان دے کر غیرممالک میں پڑھنے، کام کرنے اورکیرئر بنانے کے ہدف کی سمت میں پہلا قدم اٹھائیں گے۔ یہ دنیا کا سب سے معتبر انگریزی زبان کے علم کا امتحان ہے۔

موصولہ معلومات کے مطابق دنیا بھر کی 11 ہزار سے زائد تنظیموں میں روا یہ امتحان اب ملک کے 73 شہروں میں منعقدکیا جائے گا۔ جنوبی ایشیا میں آئی پی ڈی کے علاقائی ڈائریکٹر پیوش کمارنے کہا، ’’ہمیں خوشی ہے کہ اب ہندوستان کے اندر زیادہ تعداد میں امیدوار دنیا کے سب سے معزز انگریزی زبان کے علم کا امتحان دی پائیں گے اورانہیں زندگی کے نئے مواقع کا فائدہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔ آئی ای ایل ٹی ایس کی 30 سالہ طویل تاریخ اور اس کا عالمی شراکت داری ماڈل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ملک بھر میں ہر ٹیسٹ سنٹر کے انعقاد میں عالمی معیار کی ایمانداری برتی جائے۔ معائنہ کاروں نے ہمیں بتایا ہے کہ مطلوبہ اسکور کرنے میں امتحان کے دن کاتجربہ انتہائی اہم ہے۔ اس لئے ہماری ماہر ٹیم انہیں اچھا تجربہ دینے کو ترجیح دیتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک سے ہو اورامیدواروں کو اچھا تجربہ ملے چاہے وہ کہیں بھی امتحان دیں۔

اکثر کئی امیدوار اپنے آئی ای ایل ٹی ایس امتحان کااپنا اچھا تجربہ شیئرکرتے ہیں۔ وہ امتحان کے انعقاد اور امیدواروں کے سوالات کے جوابات دینے میں آئی ڈی پی کی مہارت کی تعریف کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک امیدوار ایم ٹی یونیورسٹی میں بی ایس سی مکینیکل انجینئرنگ کے طالب علم نشیت اروڑا ہیں جو اب کینیڈا میں ماسٹرزکررہے ہیں۔ نشیت نے کہا کہ آئی ای ایل ٹی ایس ہندوستان کا سب سے قابل اعتماد انگریزی زبان کا علمی امتحان ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کو پورا کرنے کے مجھے کئی اداروں نے کمپیوٹر کے ذریعے آئی ای ایل ٹی ایس ٹیسٹ دینے کا مشورہ دیا

مدھیہ پردیش:چوڑی بیچنے والے کے بعد اب مسلم تاجر کی پٹائی کرکے جان سے مارنے کی دھمک

بھوپال: اندور میں چوڑی بیچنے والے کی پٹائی کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا جب دیوس ضلع کے ہٹپیپالیہ پولیس اسٹیشن میں ٹوسٹ بیچنے والے ایک مسلمان شخص کو سڑک پر مبینہ طور پر اس لیے مارا گیا کہ وہ اپنی شناخت ثابت کرنے کیلئے۔ انہیں آدھار کارڈ نہیں دکھا سکا۔

45 سالہ ظہیر خان نے اپنی شکایت میں کہا کہ میں کھڑا تھا ، دونوں ملزمان آئے اور کہا کہ آدھار کارڈ دکھاؤ ، میرے پاس آدھار نہیں تھا ، پھر پیسے مانگنے لگے ، 700 روپے چھین لیے ، شراب اور چکن کھانے کیلئے ۔اسکے بعد ایک نے ایک بیلٹ سے مارا، دوسرے نے لکڑی اٹھا لی۔مارنا شروع کیا ، بعد میں گاؤں والے آئے ، انہوں نے کہا کہ کیا تم اسے مار دو گے ، پھر وہ بھاگ گئے۔ میری ان سے کوئی دشمنی نہیں تھی ، میں اسے جانتا بھی نہیں تھا۔

آملہ تاج گاؤں کا رہائشی ظہیر موٹر سائیکل پر ٹوس اور زیرہ بیچنے کے لیے جمنیہ اور بارولی گاؤں گیا تھا۔ ظہیر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں زید خان والد بشیر خان منصوری کے گاؤں آملہ تاج میں رہتا ہوں ، میں ٹوس ، زیرہ بیچنے کے لیے ٹپا ، بارولی گیا تھا ، واپس آتے ہوئے جمنیہ جوڈ ٹپا ، بارولی روڈ پر پہنچا جہاں گاؤں کے اطراف سے دو افراد آئے۔میں نام سے نہیں جانتا ، چہرے سے پہچانتا ہوں ، جو گاؤں بارولی کا رہائشی ہے۔ اس نے کہا کہ اپنا آدھار کارڈ دکھاؤ ، میں نے کہا کہ میرے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے ، اس پر دونوں نے گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ تم میرے گاؤں کیسے آئے پھر ایک شخص نے مجھے لاٹھی سے مارا ،دونوں ٹانگوں اور ہاتھوں کو چوٹ لگی اور دوسرے شخص نے مجھے بیلٹ سے مارا جس سے میری کمر اور سر کو چوٹ لگی ہے۔

واقعہ کے مقام پر لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔ ان میں سے کچھ نے مجھے بچایا۔ دونوں افراد نے دھمکی دی کہ آج کے بعد اگر وہ انکی طرف سامان بیچنے آیا تو قتل کر دیں گے ۔پولس نے دفعات 506 ، 34 کے تحت مقدمہ درج کردیا ہے ۔تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ کے بیان کی تصدیق کر رہے ہیں کیونکہ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ ان کے گاؤں میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے۔

سیاسی غنڈہ گردی کا علاج؟

واٹس اپ پر ایک آڈیو گشت کررہی ہے جس میں ایک MLA کے ڈاکٹڑ فرزند اپنی ہی پارٹی کے کسی کارکن سے گالی گلوج کررہے ہیں۔ معاملہ کسی کی جائداد کا ہے ۔ کارکن نے دلالی کرکے ڈاکٹرکے نام پر پندرہ لاکھ کا مطالبہ کیا، بارہ لاکھ میں ڈیل ہوئی، ڈاکٹر کو سات لاکھ دیئے گئے، اور مابقی دوسرے بروکرز نے آپس میں تقسیم کرلیئے۔ بروکرز کو یہ یقین تھا کہ جو کچھ وصول ہوا ،اس رشوت میں حصہ داری 50-50 نہیں تو کم سے کم 60-40 تقسیم ہونی چاہئے،۔ ڈاکٹر صاحب آپے سے باہر ہوگئے اور جس زبان میں تقریباً 17 منٹ تک انہوں نے کارکن کو غلظیات سے بھرپور زبان میں نوازا،اور یہ دھمکی دی کہ اگر باقی پیسے فوری ادا نہ کئے گئے تو وہ آکر کارکن کی ماں اور بہن کو بے آبرو کردیں گے۔ اور یہی نہیں بلکہ ابّا سے ACP کو کہلواکر انہیں بند کروادیں گے اور متعلقہ بلڈنگ کو منہدم بھی کروادیں گے۔ یہ آڈیو کسی بھی شریف انسان کے لئے دو منٹ سے زیادہ سننے کے لائق نہیں۔ کارکن بھی اتنا چالاک ہے کہ چونکہ وہ ڈاکٹر کی غلظیات کو ریکارڈ کررہا تھا، اس لئے اس نے ان تمام شرمناک گالیوں کے جواب میں کہیں بھی گالی نہیں بکی، ہر گالی کو اپنا حق سمجھتے ہوئے، "بھائی بھائی گالیاں کیئکو دےرے، گالیاں مت دو بھائی”، کی رٹ لگا تا رہا ۔ یہ ڈرامے نئے نہِیں ہیں۔ ہر آدمی لعنت ضرور بھیجتا ہے لیکن اپنی عزت بچانے کچھ کرنا نہیں چاہتا۔لوگ گونگے، بہرے بلکہ بے حِس ہوچکے ہیں، کیونکہ اتھاریٹی، دولتمند وں اور مذہب یا دھرم کے ٹھیکیداروں کا گٹھ جوڑ اتنا مضبوط ہوچکا ہے کہ سسٹم کو تبدیل کرنے کی بات کرنا اپنی جان و مال کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ یہ حالات صرف ایک شہر کے نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں رائج ہیں۔ بی جے پی بھی یہی کررہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ وہ جئے شری رام کے نام پر کررہے ہیں، اور ہماری پارٹیاں نعرہ تکبیر بلند کرکے کررہی ہیں۔

کیا یہ سسٹم کبھی بدلے گا؟ نہیں ۔ یہ سسٹم اور مضبوط ہوگا۔ حکومت کے بدل جانے سےیا پارٹی یا افرادکے بدل جانے سے یہ نظام کبھی بدلنے والا نہیں اصول یا قانون کے زور پر اب کوئی لیڈر نہیں بن سکتا بلکہ مستقبل کا سیاسی لیڈر وہی ہوگا جس کے پاس دولت ہو، یا پھر کوئی امبانی یا اڈانی اس کے لئے خرچ کرنے تیار ہوں۔ ایک اسمبلی یا پارلیمنٹ کا الیکشن جیتنے کئی کروڑ درکار ہیں، کوئی اتنا بے وقوف نہیں ہوتا کہ گاندھی یا ابوالکلام آزاد بننے کے چکّر میں عوام کی خدمت کے لئے اپنا سرمایہ داو پر لگا دے ۔ اس کودوبارہ الیکشن جیتنے کے لئےکئی گُنا زیادہ نفع کے ساتھ اپنا سرمایہ واپس نکالنا بھی لازم ہے جو لوگ اس سسٹم کو بدلنے کی بات کرتے ہیں، وہ اچھی طرح جان لیں کہ تبدیلی اس وقت آتی ہے جب Masses یعنی سمجھدار اور تعلیم یافتہ عوام کی طاقت آپ کے ساتھ ہو۔ لیکن سمجھدار، تعلیم یافتہ لوگ اتنے بھولے بھالے ہوتے ہیں کہ سوشیل میڈیا یا اخبارات میں پیارے پیارے مضامین لکھ کر یا بیس پچیس لوگوں کوجمع کرکے میٹنگ، سیمینار کرکے ایسے خوش ہوجاتے ہیں جیسے انقلاب آگیا۔ تقریر یں ایسی کرتی ہیں جیسے جتنے کرپٹ لیڈر ہیں وہ سارے شرمندہ ہوکر قوم سے معافی مانگنے پر مجبور ہوجائنگے۔ ایسے تمام خودساختہ مصلحینِ قوم کو ان کی اپنی حیثیت کا علم ہی نہیں۔ اگر ان کو پولیس اٹھا کر لے جائے یا ایسی بدتہذیب پارٹیوں کے غنڈے بیچ سڑک پر ان کی بے عزتی کردیں تو ان کی دفاع میں دس لوگ بھی نہیں پہنچتے۔ پھر معمولی پولیس والے جیسی چاہے FIR پھاڑتے ہیں۔

ان بے شمار متحرک ذہین نوجوانوں پر بھی افسوس ہوتا ہے جو دو دو چار چار مل کر فلاحی کام شروع کردیتے ہیں۔ کئی ایک نوجوان سیاسی جماعتوں میں دلالی اور چمچہ گری کے ذریعے حقیر عہدوں کی تمنّا میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ذہین اور متحرک نوجوانوں کی ایک فوج جو مل کر ایک انقلاب لاسکتی تھی، چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ کر ملت کو نہیں بلکہ دشمنوں کو طاقت بخشتی ہے۔ وہ فوج کیا خاک جنگ جیتے گی جو صف آرائی پر مائل نہیں ہوتی بلکہ الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹ کر جنگ لڑنا چاہتی ہے۔ طالبان اور آریس یس کے اقتدار میں آنے کے راز کو سمجھئے۔جب تک اپنے آپ کو ایک امیر اور ایک جماعت کے حوالے نہیں کرینگے، آپ کی طاقت کبھی وجود میں نہیں آسکتی۔ آپ ہر جگہ انقلاب لانا چاہتے ہیں، کوئی مسجدوں ، مدرسوں اور درگاہوں کے نظام کو بدلنا چاہتا ہے، کوئی سیاسی اور سرکاری نظام کو بدلنا چاہتا ہے۔ کوئی اکنامک Empowerment پر کام کرنا چاہتا ہے تو کوئی ایجوکیشنل ریفارمس کی بات کررہا ہے۔ کوئی دعوت و تبلیغ کے ذریعے پورے ہندوستان کو کلمہ گو بنادینے کا خواہشمند ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ تمام شعبے ایک عمارت کے کمرے ہیں۔ ہر کمرہ انتہائی اہم ہے، لیکن عمارت بغیر Pillars کی ہے یعنی اس عمارت کی بنیاد کوئی نہیں ۔ ہر کمرہ کتنے دن تک باقی رہے گا اس کا اندازہ لگالیجئے۔ Mass strength اصل بنیاد ہے۔ اگر کسی ایک جماعت اور ایک امیر کے پیچھے چل کر بنیاد کو پہلے مضبوط کریں گے تو عمارت کا ہر کمرہ محفوظ بھی رہے گا ، اور ہر گروہ اپنے مقاصد کی ضرور تکمیل کرے گا، ورنہ وہ سارے منہدم ہوں گے جو اپنے اپنے کمروں میں بیٹھ کر انقلاب لانا چاہتے تھے۔ عوام ہوں کہ خواص، علما ہوں کہ دانشور، ڈاکٹر ہوں کہ انجینئر، سب کو ایک والنٹئر بن کر میدان میں آنا ہوگا، ہر شخص اپنی اپنی بولی بولنابند کرے، اور ایک آواز ہوجائے، تب آپ کی آواز سن کر پولیس ہو کہ سرکاری محکمے، اسمبلی ہو کہ پارلیمنٹ ، ہر جگہ آپ کی آواز سنی جائے گی، بلکہ آپ کی آواز سے ان کے درودیوار لرزنے لگیں گے۔ ورنہ ہر شخص قائد بننے کی چکّر میں اپنی اپنی بولی بولتا رہے گا تو اس سے شور پکارا ہوگا، کسی کو کان پڑے آواز سنائی نہ دے گی۔ اگر کوئی تبدیلی لانی ہوتو جو بھی جماعت اس وقت حق، انصاف، مساوات اور قانون کی حفاظت کے لئے میدان میں آکر لڑسکتی ہے ایسی جماعت یا گروہ میں فوری شامل ہوجانا ضروری ہے۔

ہوسکتا ہے آپ کو دہشت گرد کہا جائے، غدّار اور ملک دشمن کہا جائے کیونکہ فاشزم اور قانون کے دشمن ہرگز یہ نہیں چاہیں گے کہ ان کے سامنے آپ کی نسلیں سر اٹھا کر چلیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی نسلیں غنڈہ گردی اور فرقہ پرستی کی غلامی سے آزاد ہوجائیں تو آپ کو قربانیاں دینے اپنی انا کو دفن کرکے ایک جماعت اور ایک امیر کے آگے جھکنا ہوگا اور اپنی Mass strength پیدا کرنی ہوگی۔ ورنہ کل بھی یہی سیاسی لیڈر، کرپٹ اتھاریٹی اوریہی مذہبی قیادت کی Nexusقائم رہے گی، آپ یوں ہی اس کے خلاف دیوان خانوں یا سوشیل میڈیا پر تبصرے کرتے ہوئے مرجائیں گے۔

ڈاکٹر علیم خان فلکی

صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد

+91 9642571721

#مفتی_خالدانورصاحب_پورنوی کے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار کے جنرل سیکریٹری منتخب ہونے پر

#مفتی_خالدانورصاحب_پورنوی کے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار کے جنرل سیکریٹری منتخب ہونے پر
 #جمعیت_علماءارریہ کی طرف سے نیک خواہشات!
_________________
کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کی شاخ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار کے لئے اراکینِ عاملہ نے اتفاق رائے سے 
#جنرل_سکریٹری کے لئے رفیق گرامی جناب مفتی خالد انور صاحب پورنوی مظاہری کا جو انتخاب کیا ہے وہ انتہائی نیک فال اور قابل مبارکباد ہے۔اس حسن انتخاب پر جمعیت علماء ارریہ کی طرف سے ہم اراکینِ عاملہ کے ساتھ نومنتخب جنرل سکریٹری مفتی خالد انور صاحب پورنوی مظاہری و دیگر نو منتخب عہدیداران کو دل کی گہرائیوں سے ڈھیروں ساری دعائیں،مبارکبادیاں اورنیک خواہشات پیش کرتے ہیں۔
 مفتی صاحب تحریر و تقریر،درس وتدریس اور نظم و ضبط کی بےپناہ صلاحیتوں کے حامل شخص ہیں اور فراغت کے بعد سے ہی جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ میں تقرری کے بعد سابق صدر رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار حضرت اقدس مولانا محمد قاسم صاحب نوراللہ مرقدہ کی معیت میں اور پھر ان کی وفات حسرت آیات کے بعد کارگذار بعدہ مستقل صدر حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب قاسمی دامت برکاتہم کے ساتھ رابطہ مدارس کے حوالے سے مسلسل اپنی خدمات پیش کرتے رہے ہیں۔
اس لئے مفتی صاحب کے لئے ریاست بہار کے مربوط مدارس کے لئے اب خدمت انجام دینا مزید آسان ہوگا اور وہ پوری بیدار مغزی،تندہی اور اولوالعزمی کے ساتھ صدر رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب قاسمی و دیگر نومنتخب اراکین کے ساتھ نئے جذبے کے ساتھ کام کریں گے۔
یہاں یہ حقیقت واضح رہنی چاہئے کہ ریاست بہار میں واقعی جس انداز میں رابطہ مدارس کا کام ہونا چاہئے تھا سچی بات یہی ہے کہ اس طرح کام انجام نہیں ہوسکا ہے۔اب تک کئی اضلاع میں ضلعی کمیٹیوں کی تشکیل تک نہیں ہوپائی ہے اور جہاں ہوگئی ہے ان میں سے بھی بہت سی جگہوں پر کمیٹیاں سرد مہری کا شکار ہیں۔
احقر کئی بار حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نوراللہ مرقدہ کی حیات میں جامعہ مدنیہ میں رابطہ کے اجلاس میں شریک رہا ہے جس میں کل ہند ناظم عمومی رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا شوکت علی صاحب قاسمی بستوی نے جس انداز سے موجودہ حالات میں مدارس اسلامیہ کے رابطے کے خد و خال اور اس کے اصول و اہداف کی نشاندھی فرمائی تھی؛گرچہ ایک حد تک اس پر کام ہوا مگر جس طرح ہونا چاہئے وہ نہیں ہوسکاہے۔
اب جب کہ مفتی خالد انور صاحب پورنوی مظاہری کی شکل میں ایک خوبصورت نام رابطہ کو مل گیا ہے تو ہمیں امید بدرجہ یقین ہے کہ ان کی قیادت میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار نشأۃ ثانیہ کے طور پر کام کرے گا اور موجودہ دین بیزاری اور مدارس کی زبوں حالی کے حوالے سے رابطہ مدارس بہار نئی سمت پر چل کر ایک نئی تاریخ رقم کرے گا انشاءاللہ۔
#محمداطہرالقاسمی
جنرل سکریٹری
جمعیت علماء ارریہ بہار۔
                            26/08/2021

جہیز کا مطالبہ پورا نہیں ہوا تو : ‏Wife Swapping ‎شوہر نے بیوی کو کیا دوستوں کے حوالے ، اجتماعی آبروریزی

جہیز کا مطالبہ پورا نہیں ہوا تو : Wife Swapping شوہر نے بیوی کو کیا دوستوں کے حوالے ، اجتماعی آبروریزیچورو: راجستھان(اردو دنیا نیوز۷۲) راجستھان کے چورو ضلع میں رشتوں کو شرمسار کردینے والا وائف سویپنگ (Wife Swapping) کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ جہیز (Dowry) کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر شوہر نے اپنی ہی بیوی کو دوستوں کے حوالے کر دیا۔ الزام ہے کہ شوہر کے دوستوں نے خاتون کے ساتھ اجتماعی آبروریزی (Gang Rape) کی۔ شہر میں کرائے پر رہ رہی متاثرہ نے شوہر پر کئی سنگین الزام لگاتے ہوئے خاتون تھانے میں 7 نامزد ملزمین کے خلاف جہیز اور آبروریزی کا معاملہ درج کروایا ہے۔ متاثرہ نے بتایا کہ نشے کی لت اور جہیز کے لالچ میں حیوان بنا شوہر ان کی فحش اور قابل اعتراض تصاویر اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرتا تھا اور شوہر کے دوست ان کی آبروریزی کرتے تھے۔

خاتون تھانہ انچارج ستپال بشنوئی کے مطابق، متاثرہ ناگور ضلع کے لاڈنو علاقے کی رہنے والی ہے اور وہ فی الحال چورو شہر میں رہتی ہیں۔ 29 سالہ متاثرہ نے اپنی ماں کے ساتھ خاتون تھانے پہنچ کر رپورٹ درج کرائی ہے۔ تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق، ان کی شادی اپریل 2014 میں پنجاب کے لدھیانہ کے رہنے والے نوجوان کے ساتھ ہوئی تھی۔ شادی کے بعد 5 لاکھ روپئے اور کار کا مطالبہ لے کر انہیں تنگ کیا جانے لگا۔ مطالبہ پورا نہ ہونے پر ان کو ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جانے لگیں۔

شملا کے ہوٹل سے شروع کیا گندہ کھیل

متاثرہ کا الزام ہے کہ اسے کمرے میں بند کرکے بھوکا-پیاسا رکھا جانے لگا۔ سسرال والے ان سے مارپیٹ بھی کرتے۔ اس سے بھی جب شوہر کا من نہیں بھرا تو جنوری 2016 میں انہیں گھمانے کے بہانے شملا لے گئے تھے۔ ہوٹل میں انہیں زبردستی شراب پلاکر نشے کی حالت میں دوستوں کے حوالے کردیا۔ شوہر کے دوستوں نے ان کے ساتھ آبروریزی کی۔ سال 2016 سے شروع ہوا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا، کیونکہ شوہر نے اس واردات کا ویڈیو بنالیا تھا۔ وائف سوئپنگ کا کھیل متاثرہ نے بتایا کہ فحش ویڈیو اور تصاویر کی بدولت شوہر نے ان کا بلیک میل کرنا شروع کردیا۔ اس دوران ملزم شخص نے اپنے کئی دوستوں کے ساتھ تعلقات بنانے کے لئے مجبور کیا۔ متاثرہ نے الزام لگایا کہ ان کا شوہر اب وائف سوئپنگ کا کھیل بھی کھیلنے لگا تھا۔ شوہر کے دوست متاثرہ کے ساتھ آبروریزی کرتے اور شوہر اپنے دوست کی بیوی کے ساتھ ہم بستر ہوتے تھے۔ نندوئی بھی ناجائز تعلقات کے لئے کرتا تھا مجبور شوہر کے ذریعہ لئےگئے قابل اعتراض فوٹو فراف اس کے نندوئی کے ہاتھ لگ گئے۔ الزام ہے کہ اس کے بعد وہ بھی انہیں ناجائز تعلقات بنانے کے لئے مجبور کرنے لگا۔ متاثرہ سے جب شوہر کا من بھر گیا تو انہیں مارچ 2021 میں دو بچیوں کے ساتھ گھر سے نکال دیا۔ اس صدمے کو متاثرہ کے والد برداشت نہیں کرسکے اور مئی 2021 میں ان کا انتقال ہوگیا۔ پولیس نے متاثرہ کی درخواست پر آئی پی سی کی دفعہ-498 اے، 406, 323, 376 ڈی اور 354 میں معاملہ درج کرکے لاڈنو تھانہ پولیس کو سونپ دیا ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...