Powered By Blogger

ہفتہ, اگست 28, 2021

انتخاب کو چیلنج کرنے والی عرضداشت پر ممبئ ہائی کورٹ نے رکن اسمبلی سے جواب طلب کیا

ممبئی:27 اگست (اردو دنیا نیوز۷۲ آٓ) مہاراشٹر کانگریس کے ورکنگ صدر اور سابق وزیر اقلیتی امور محمد عارف نسیم خان کی جانب سے چاندیولی حلقے سے شیو سینا کے منتخب شدہ رکن اسمبلی دلیپ لانڈے کے خلاف دائرکردہ انتخابی عرضداشت پر آج ممبئ ہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئ جس کے دوران عدالت نے سینا کے رکن کو تین ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت جاری کی نسیم خان نے سینارکن کے انتخاب کو باطل قراردینے کامطالبہ کیاہے اور وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کئے ۔

جسٹس ایس کے شندے کے روبو آج دلیپ لانڈے خود حاضر ہوے تھے جس پر عدالت نے انھیں ان پر عرضداشت میں عائد الزامات کا جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔واضح رہے کہ 2019کے اسمبلی انتخابات میں نسیم خان کو محض ۴۰۹ووٹوں سے شکست کامنہ دیکھناپڑاتھااوردلیپ لانڈے کواسمبلی کی رکنیت حاصل ہوئی تھیانتخابات کے فوری بعدنسیم خان نے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کرکے دلیپ لانڈے کے انتخاب کوچیلنج کیاتھااورادھوٹھاکرے ،ان کے کابینی ساتھی انل پرب ومراٹھی فلم اداکارملندگناجی پر الزام عائد کیاتھاکہ انھوں نے دلیپ لانڈے کی غیرقانونی انتخابی دفتر میں جاکرشیوسینارضاکاروں سے ملاقات کی تھی اورگاڑیوں کے قافلے کے ہمراہ اپنے محافظین کےساتھ چاندیولی حلقہ انتخاب میں گشت کرکے رائے دہندگان سے شیوسیناامیدوار کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کی اس وقت اپیل کی تھی جب ممبئی شہر میں ضابطہ اخلاق نافذ تھااور انتخابی مہم کااختتام ہوچکاتھانیزرات تقریباًساڑھے 9بجے سے جاری اس غیرقانونی عمل کے تعلق سے انھوں نے الیکشن کمیشن میں شکایت بھی درج کی تھی لیکن ان کی شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔

نسیم خان نے اپنی عرضداشت میں یہ بھی الزام عائد کیاکہ دوران انتخابات ان کاایک فرضی ویڈیوتیارکیا گیاتھاجس میں انھیں ’پاکستان زندہ باد‘کانعرہ لگاتے ہوئے دکھلایاگیاتھانیز اس ضمن میں بھی انھوں نے سرکاری حکام کو شکایت کی تھی لیکن اس پر بھی کوئی ایکشن نہیں لیاگیا۔نسیم خان نے دعویٰ کیاہے کہ ان کی شکست کی وجوہات میںادھوٹھاکرے اور دیگر کاغیرقانونی انتخابی مہم میں حصہ لینا،جعلی ویڈیوکاوائرل کرایاجانااور دیگر شا مل ہیں ۔عدالت نے معاملے کی سماعت چار ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی

ممبئی میں قبرستان کی ازسر نو تجدید کاری کے منصوبے کا آغاز

ممبئی ،27اگست(اردو دنیا نیوز۷۲ ) ممبئی کے جنوب وسطی علاقہ وڈالا انٹاپ ہل میں ایک قدیم۔ قبرستان کی ازسر نو تجدید کاری کے منصوبے کا آج یہاں نماز جمعہ کے بعد سنگ بنیاد رکھا گیا ،جس میں شہر کے سبھی مسلک کے علمائے کرام ،معزز شخصیات اور میونسپل کارپوریشن کے افسران شریک ہوئے۔تقریبا نصف صدی کے بعد اس قبرستان کو بہتر بنانے کے منصوبے پر عمل کیا جارہا ہے


اس افتتاحی تقریب میں اہم۔افراد سے خطاب کرتے ہوئے مقامی کارپوریٹر سفیان ونو نے کہاکہ
سال کے دوران کی اور وار ( واری ) کی مسلم قبرستان کے اس منصوبے پر تین کروز 68 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ایک عرصے سے اس پروجیکٹ کو منظور کرانے کے لیے کوشش جاری رہیں اور کئی سابقہ کارپوریٹر ترشنا وشووس راو اور روی راجا نے بھی بی ایم۔سی سے درخواست کی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ علاقے کی آبادی میں اضافہ کے پیش نظر جگہ کی تنگی کے سبب قبروں کو جدید بکس طرز پر بنایا جائے گا اور ایک ایسے منصوبے پر عمل۔کیا جارہا ،جس کے تحت دیڑھ دوسال کے بجائے قبرکو آٹھ سے نو مہینے میں کھودا جاسکے گا۔جبکہ قبرستان میں 1280 قبریں ہیں اوربے ترتیب قبریں ہیں۔جبکہ مٹی بھی ناقص ہوگئی ہے۔اس لیے نعش کو تحلیل ہونے میں دشواری ہوتی ہے۔سفیان ونو نے مزید کہاکہ کورونا وائرس کے سبب اموات کی شرح بڑھ گئی اور قبرستان میں جگہ۔کی قلت پیش آئی ،اس لیے ری ڈیولپمنٹ کا۔کام ہاتھ میں لیا گیا ہے۔تاکہ شہریوں کی دشواری دور ہو۔

ہم جنس پرست انڈین امریکی جوڑے شادی کے لیے منفرد انداز اپنانے لگے اگست 28, 2021

امریکہ میں انڈین نژاد امریکی ہم جنس پرست جوڑوں کو روایتی طرز پر شادی کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اُن کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔بی بی سی کے لیے سویتا پٹیل رپورٹ کرتی ہیں کہ کیسے یہ جوڑے اب شادی کے لیے نئے اور منفرد انداز اختیار کر رہے ہیں۔جب ہم جنس پرست جوڑے سمیر سمودرا اور امیت گوکھلے نے ہندو روایات کے مطابق شادی کرنے کا فیصلہ کیا تو انھیں ایک غیر متوقع رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔کوئی بھی پجاری اُن کی شادی کروانے کے لیے تیار نہیں تھا۔

 

شمالی کیرولائنا میں رہنے والے سمیر بتاتے ہیں کہ ’ہم ہندو روایات کے تحت شادی کرنا چاہتے تھے مگر کئی پنڈتوں نے انکار کر دیا۔ مجھے اس وقت شدید غصہ آیا جب ایک پنڈت نے صرف میرے ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے بے حد زیادہ پیسوں کا مطالبہ کر ڈالا۔‘وہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن کی شادی میں کوئی پنڈت بے دلی سے شامل ہو، اس لیے اُنھوں نے کچھ الگ کرنے کی ٹھانی۔سمیر بتاتے ہیں کہ ’میرے ایک دوست نے پنڈت بننے کے لیے درکار بنیادی اصول اور باتیں سیکھیں اور پھر ہم نے ایسی ہندو روایات کا انتخاب کیا جو ہم جنس شادی کے لیے قابلِ فہم تھیں۔‘

کئی انڈین امریکی جوڑے بولی ووڈ سٹائل میں پرتعیش شادیوں کا خواب دیکھتے ہیں، جس میں بھرپور روایات شامل ہوں مگر یہ ہم جنس پرستوں کے لیے اتنا آسان نہیں ہے، یہاں تک کہ امریکہ میں بھی نہیں۔۔۔ جہاں سنہ 2015 میں ہم جنس شادیوں کو قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔

اب تک ملک میں تین لاکھ سے زیادہ ہم جنس پرست جوڑے شادی کر چکے ہیں مگر انڈین امریکیوں کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات اُنھیں شادی کروانے والے پنڈتوں اور پجاریوں کی جانب سے دھتکار دیا جاتا ہے۔

مندر اپنے احاطوں میں ہم جنس شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتے، پنڈت اُن ایسے جوڑوں سے سیدھے منھ بات نہیں کرتے یا اُن کی خاطر شادی کی روایات میں تبدیلی کرنے سے انکار کر دیتے ہیں، اور کچھ واقعات میں تو ایسا بھی ہوا کہ شادی والے دن پنڈت وعدے کے باوجود پہنچے ہی نہیں۔

اس طرح انڈین امریکی جوڑوں کو اپنی روایات کے مطابق منفرد تقریبات کے لیے اپنے دوستوں اور خیر خواہوں کی جانب دیکھنا پڑتا ہے۔مثال کے طور پر سپنا پانڈیہ اپنی شادی کے لیے خود پنڈت بن گئیں، حالانکہ ہندومت میں خواتین پجاری نہ ہونے کے برابر ہیں۔اُنھوں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ وہ اور اُن کی پاکستانی مسلمان اہلیہ سحر نے شادی کا فیصلہ کرنے پر بے تحاشہ مخالفت کا سامنا کیا۔

سپنا نے کہا ’مجھے مندر جا کر پنڈت سے اس بارے میں پوچھنا نامناسب لگ رہا تھا اور میری اہلیہ سحر کو مسجد جا کر کسی مولوی سے اس متعلق پوچھنا۔ چنانچہ ہم نے اپنی تقریب خود ہی ترتیب دی۔

اُنھوں نے ایسے مقدس ہندو منتروں کا انتخاب کیا جو اُن کے مطابق اُن کے بندھن کی نوعیت کے زیادہ قریب تھیں۔سپنا پانڈیہ اب اقلیتوں کے حقوق کے لیے ایک غیر منافع بخش تنظیم چلاتی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اب وہ ہم جنس پرست جوڑوں کی شادیاں کروانے میں مدد بھی فراہم کرتی ہیں۔اُن جیسے پجاری کم ہیں، مگر ہیں ضرور، اور انھوں نے پدر شاہی کی مخالفت میں اپنے اپنے پروفیشنل کریئرز کے ساتھ اس کام کو اپنایا ہے۔

یہ روایتی پنڈتوں کے لیے ایک چیلنج ہے، کیونکہ اُن کے نزدیک شادی صرف ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ہی ممکن ہے۔ابھیشیک سنگھوی جین مت کے پنڈت ہیں اور ٹیکس کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔سنہ 2019 میں ویبھوو جین اور پراگ شاہ کے درمیان ہونے والی ہم جنس پرست شادی کی تصاویر نے دنیا بھر کے کئی ہم جنس پرست جوڑوں کو متاثر کیا۔سنگھوی کہتے ہیں ’وہ اچھے نوجوان لڑکے تھے جو جین مذہب کی روایات کے تحت شادی کرنا چاہتے تھے۔ جین ازم کی بنیاد ہی ہمدردی اور محبت پر ہے۔ تمام مذاہب امن کی دعوت دیتے ہیں۔‘ڈاکٹر شکاوک داس اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ پہلے مسیحی تھے اور پھر بعد میں اُنھوں نے ہندو مذہب اختیار کر لیا۔ وہ سنسکرت اور انڈین سٹڈیز میں پی ایچ ڈی ہیں۔

ڈاکٹر شکاوک داس لاس اینجلس میں لکشمی نارائن مندر کے ہیڈ پجاری ہیں اور اُنھوں نے ہزاروں شادیاں کروائی ہیں۔وہ کہتے ہیں ’مجھے ہندو مذہبی کتابوں میں کہیں یہ نہیں لکھا دکھائی دیتا کہ ہم جنس شادیاں نہیں ہو سکتیں۔‘اُنھوں نے حال ہی میں کروائی گئی ایک ہندو شادی کا حوالہ دیا۔ ’دولہے کے عمر رسیدہ والدین نے ’ہمارے بیٹے کو ہماری ثقافت میں جگہ دینے کے لیے‘ پُرنم آنکھوں کے ساتھ میرا شکریہ ادا کیا۔ ہم سب اس دنیا میں آنے والی روحیں ہیں۔ کبھی ہمارا جسم مرد اور کبھی عورت ہوتا ہے، مگر ہماری روحیں برابر ہیں۔‘

اُنھوں نے مونیکا مارکیز اور نکی برووا کی شادی کروائی اور اُنھیں ایسا کرنے سے حوصلہ ملا۔انڈین امریکی مصنفہ اور کاروباری شخصیت نکی برووا کہتی ہیں کہ ’مونیکا اور میں دونوں ہی اپنی اپنی ثقافت میں گندھی ہوئی ہیں۔ ہم نے کم عمری سے ہی روایتی شادی کا خواب دیکھ رکھا تھا۔‘

اُن کی شریک حیات میکسیکن امریکی ہیں۔ نکی برووا کہتی ہیں کہ اُنھیں پنڈت کی تلاش میں بہت مشکل ہوئی مگر بالآخر یہ ڈاکٹر شکاوک داس کی بدولت ممکن ہو سکا۔ ’اُنھوں نے کبھی بھی ہمیں عجیب محسوس نہیں کروایا۔ یہ قدرتی محسوس ہوا اور یہ سب بہت خوبصورت تھا۔ ہمیں اپنائیت محسوس ہوئی۔‘

ڈاکٹر شکاوک داس اور سپنا پانڈیہ جیسے ترقی پسند پجاریوں کی اب امریکہ بھر میں کافی طلب ہے۔ ایسے کئی پنڈت تو دوسرے شہروں تک کا سفر بھی کرتے ہیں جہاں جوڑوں کو اُن کی شادی کروانے کے لیے کوئی نہیں مل رہا ہوتا۔

سان فرانسسکو ویسے قبولیت کے لیے کافی مشہور ہے لیکن اس کے باوجود یہاں پر ہم جنس پرست شادیاں کروانے پر رضامند پجاری بہت کم ہیں۔ یہاں موجود متعدد ہندو مندر ہم جنس پرست شادیوں کی اجازت نہیں دیتے۔ جب مادھوری انجی اور پریتی نارائن کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ اس سے کافی پریشانی ہوئیں۔

پریتی کہتی ہیں کہ ’بالآخر ہمیں ایک جنوبی ایشیائی ہم جنس پرست گروپ کے ذریعے پنڈت راجہ بھٹر ملے جو خود بھی لاس اینجلس میں مقیم ہم جنس پرست ہیں اور میریے ہر برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔‘

’ہم نے اس میں پرلطف حصے باقی رکھے اور بور کر دینے والے حصے نکال دیے۔ چونکہ ہم دونوں خواتین ہیں اس لیے مرد اور عورت سے متعلق باتیں شامل کرنا معقول نہیں تھا۔‘

اس طرح کی منفرد تقریبات کو نہ صرف ہم جنس پرستوں میں پذیرائی حاصل ہے بلکہ پدرشاہی، عورت مخالف جذبات اور ذات پات کا خاتمہ چاہنے والے غیر ہم جنس پرست جوڑوں میں بھی مقبولیت حاصل ہے۔

اور اس لیے ہم جنس پرست پجاریوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

تاہل شرما کے مطابق ’میں نے یہ پایا ہے کہ میں ایک بائی سیکشوئل ہندو ہوں، اس نے مجھے بین المذاہب اور ہم جنس شادیاں کروانے کا حوصلہ دیا ہے۔‘

تاہل یونائیٹڈ ریلیجنز انیشیٹیو کی کوآرڈینیٹر برائے شمالی امریکہ ہیں اور ترقی پسند ہندوؤں کی تنظیم سادھنا کی بورڈ ممبر ہیں۔شادیوں کی پلاننگ کرنے والی پروی شاہ کا کہنا ہے کہ شادیوں کی صنعت میں بھی اب رویے تبدیل ہونے لگے ہیں، چاہے وہ پجاری ہوں، پلانرز، کیٹررز، یا پھر مہندی آرٹسٹ۔ ’اب زیادہ تر وینڈر نہ کہنے کے بجائے ہاں کہتے ہیں۔ اگر کسی ہم جنس پرست جوڑے نے مجھ سے رابطہ کیا تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔‘لیکن اب بھی بہت سے ذہنوں کو تبدیلی کی ضرورت ہے۔ نیہا اسر جنوبی کیلیفورنیا کی ایک مشہور مہندی آرٹسٹ ہیں۔اُنھوں نے بین المذاہبی یا ہم جنس محبت کو اپنے آرٹ میں جگہ دے کر کافی شہرت حاصل کی ہے۔مثال کے طور پر اُنھوں نے دلہن کی مہندی کے دلکش ڈیزائن میں دولہے کا نام چھپا دینے کی روایت میں تھوڑی سی تبدیلی کی ہے۔’اب میں دونوں دلہنوں کے نام اُن کی مہندی میں چھپا دیتی ہوں۔‘سویتا پٹیل سان فرانسسکو میں مقیم فری لانس صحافی ہیں جہاں وہ جیو پولیٹیکس، ٹیکنالوجی، پبلک ہیلتھ اور انڈین برادری سے متعلق لکھتی ہیں۔

ناندیڑ: 35 لاکھ روپیوں کی مالیت کا گٹکھا کنیٹر سے ضبط

ناندیڑ:27اگست۔ (اردو دنیا نیوز۷۲)بھوکر کے راستے حمایت نگر کی سمت جارہے گٹکھے سے بھرے کنٹینر کو بھوکر پولس نے پکڑلیا ہے۔ جس میں 35لاکھ روپیوں کاگٹکھاتھا جبکہ کنٹینر کی قیمت 25لاکھ روپے ہے ۔ناندیڑضلع میں بھوکرو حمایت نگر تعلقے گٹکھے کے ذخیرہ اندوزی کے مراکز بن گیے ہیں۔ جہاںپربڑے پیمانے پرگٹکھے کی ذخیرہ اندوزی کی جارہی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ناندیڑ کے راستے یہ گٹکھا 27اگست کو صبح چار بجے کنٹینر نمبرT.H.R. 55- U- 7054 میں رکھ کر لے جایاجارہاتھا ۔

جس کی اطلاع بھوکر کے پی آئی و یکاس پاٹل کو ملتے ہی ڈی وا ے ایس پی وجے کباڑے کی رہنمائی میں اے پی آئی انیل کامڑے نے مذکورہ کنٹینر کو روک دیااوراسکی تلاشی لی۔ا س وقت گاڑی میںتقریبا35لاکھ روپے مالیت کا گٹکھا پایاگیا۔گٹکھے کی یہ مالیت انداز لگائی گئی ہے گنتی کے بعد صحیح قیمت کااندازہ لگایاجاسکتا ہے ۔کنٹینر کی ضبطی کے بعد فوڈاینڈڈرگس آفیسر ناندیڑ کو اسکی اطلاع دی گئی جس کے بعد یہ ٹیم بھی بھوکر پہنچ گئی ۔واضح رہے کہ ناندیڑضلع میں بڑے پیمانے پر گٹکھے کی غیرقانونی طریقہ سے فروخت جاری ہے۔ بیرون ریاستوں سے ناندیڑ میں گٹکھا لایاجاتا ہے ۔

جمعہ, اگست 27, 2021

دہلی میں نویں سے بارہویں جماعت کے اسکول یکم ستمبرسے کھلیں گے

دہلی میں نویں سے بارہویں جماعت کے اسکول یکم ستمبرسے کھلیں گےنئی دہلی:کورونا انفیکشن کے کم ہوتے کیسز کے پیش نظر اب دہلی حکومت نے بھی اسکول کھولنے کا فیصلہ کیاہے۔ آج کی میٹنگ میں دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے اسکولوں کو مختلف مراحل میں کھولنے کافیصلہ کیا ہے۔ نویں سے بارہویں جماعت کے اسکول یکم ستمبرسے کھلیں گے جبکہ 6 سے 8 کلاسوں کے اسکول دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے تشکیل دی گئی ماہر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں دہلی حکومت کو تجویز دی تھی کہ اسکولوں کو کئی مراحل میں دوبارہ کھولنا چاہیے۔ پہلے مرحلے میں اسکول سینئر کلاسز کے لیے کھولے جائیں گے اور دوسرے مرحلے میں اسکول 6 سے 8 کلاس کے لیے کھولے جائیں گے۔ پرائمری کلاسز کے سکول تیسرے مرحلے میں کھولے جائیں۔چیف منسٹر اروند کجریوال نے پہلے کہاتھا کہ حکومت جلد سے جلدا سکول کھولنے پر غور کر رہی ہے ، لیکن حتمی فیصلہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاہے کہ ریاستوں کا مخلوط تجربہ رہا ہے جنہوں نے اسکول دوبارہ کھولے ہیں۔ ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جلد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔

آسام ایک بار پھر تشدد کی لپیٹ میں: 7 ٹرکوں میں آتشزدگی،5ڈرائیور زندہ جل مرے ، عسکری گروپ ڈی این ایل اے پر شبہ

آسام ایک بار پھر تشدد کی لپیٹ میں: 7 ٹرکوں میں آتشزدگی،5ڈرائیور زندہ جل مرے ، عسکری گروپ ڈی این ایل اے پر شبہ

militant group DNLA suspected

گوہاٹی ، 27اگست:(اردودنیانیوز۷۲)آسام کے’ Dima Hasao ‘میں مشتبہ عسکریت پسندوں نے جمعرات کی شب ضلع میں’ دیونگ برا‘ کے قریب سات ٹرکوں کو نذر آتش کردیا۔ اس کی وجہ سے پانچ ٹرک ڈرائیور جھلس کر ہلاک ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق مشتبہ عسکری گروپ نے #آتشزدگی سے پہلے کئی راؤنڈ بھی فائر کیے۔ پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر پانچ لاشیں نکال لی ہیں۔ یہ واقعہ دارالحکومت گوہاٹی سے تقریباً محض 200 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیاہے۔آسام پولیس نے کہا کہ اس واقعے کے پیچھے #عسکریت پسند گروپ دیماسا نیشنل لبریشن آرمی (Dimasa National Liberation Army) کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ ضلع کے ایس پی نے بتایا کہ واقعہ کے بعد علاقہ میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

#شرپسندوں کی گرفتاری کے لئے #آسام رائفلز کی مدد لی جا رہی ہے۔کچھ دن قبل آسام اور میزورم کے درمیان سرحدی تنازعہ میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دونوں ریاستوں کی پولیس اور شہریوں کے درمیان تصادم ہواتھا، دونوں طرف سے پہلے لاٹھی چلائی گئی ، جب معاملہ بڑھا ،تو پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔ اس دوران فائرنگ بھی ہوئی۔ تشدد کے بعد سی آر پی ایف کو کشیدگی کے درمیان آسام اور میزورم کے درمیان متنازعہ سرحد پر تعینات کرنا پڑا۔

وہیں اس سے قبل مئی میں آسام #رائفلز اور ریاستی پولیس کے مشترکہ آپریشن میں سات ڈی این ایل اے عسکریت پسند مارے گئے تھے۔ یہ تصادم ناگالینڈ کی سرحد سے متصل مغربی ضلع میں ہواتھا۔ سکیورٹی فورسز کو یہاں عسکریت پسندوں کے چھپنے کی اطلاع ملی تھی۔ اس کے بعد سرچ آپریشن کیا گیا۔اس دوران عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی۔ جوابی کارروائی میں 7 عسکری افراد مارے گئے۔ اس کے ساتھ انکاونٹر میں دو عسکریت پسند شدید زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق مقتول عسکریت پسندوں سے بھاری مقدار میں گولہ بارود اور 4 اے کے 47 برآمد ہوئے تھے

گجرات ہائی کورٹ نے الو جہاد قانون کی کچھ شقوں پر روک کو برقرار رکھنے کا کیا فیصلہ

گجرات ہائی کورٹ نے الو جہاد قانون کی کچھ شقوں پر روک کو برقرار رکھنے کا کیا فیصلہ

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے ریاست کے لوجہاد قانون کی اہم دفعات (3، 4، 5 اور 6) پر روک لگا دی تھی۔ اس روک کو ہٹانے کے لیے جمعرات کو دوبارہ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، چنانچہ کورٹ نے پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے دفعہ 5 پر اسٹے ہٹانے کی درخواست خارج کر دی اور کہا کہ تبدیلی مذہب کے لیے مجسٹریٹ کی اجازت ضروری نہیں ہے۔

سرکاری درخواست کی جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ مہر جوشی نے شدت سے مخالفت کی اور کہا کہ سرکار لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کررہی ہے، وہ چاہتی ہے کہ جب کوئی شادی کرے تو اسے جیل میں بند کر دیا جائے اور اس وقت تک نہ چھوڑا جائے جب تک سرکار کو اطمینان نہ ہو جائے کہ شادی میں کوئی زبردستی یا لالچ نہیں تھی۔ یعنی شادی کی ابتدائی زندگی کو سرکار جہنم بنانا چاہتی ہے

ایڈوکیٹ مہر جوشی نے یہ بھی استدلال کیا کہ اگر ایکٹ کی دفعہ 5 پر حکم امتناعی باقی نہیں رکھا گیا تو عدالت کا مکمل فیصلہ بے معنی اور بے حیثیت ہو کر رہ جائے گا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے دعوی کیا کہ سیکشن 5 کا شادی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بلکہ یہ جنرل حکم ہے کہ ہر کوئی شخص جو مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے اسے اجازت کی ضرورت ہوگی۔ عدالت نے جواب دیا کہ 19 اگست کو منظور کردہ آرڈر تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، کیوں کہ ہم نے اسے محض شادی کے تناظر میں دیکھا ہے اور اس کے مطابق ہی فیصلہ دیا ہے۔

عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ عیسی حکیم اور محمد طاہر حکیم بھی موجود تھے، اس مقدمہ کی مکمل پیروی جمعیۃ علماء گجرات کررہی ہے۔ جمعیۃ علماء گجرات کے جنرل سکریٹری پروفیسر نثار احمد انصاری اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ عدالت کے آج کے فیصلے پر جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی نے کہا کہ اصل لڑائی آئین میں حاصل شخصی آزادی کی بقا کی ہے۔ اگر گجرات سرکار سپریم کورٹ جائے گی تو ہم بھی جائیں گے، ہمارے ملک کے آئین میں اپنے مذہب اور عقیدے کے ساتھ ہر شخص کو جینے کا حق حاصل ہے، لیکن حال میں کچھ ریاستوں نے اس پر قدغن لگانے کی کوشش کی ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف گجرات سرکار کے'لو جہاد قانون' کی دستوری حیثیت پر سوالیہ نشان لگا ہے بلکہ اس کا اثر تمام متعلقہ ریاستوں پر پڑے گا۔ سرکار نے اس قانون میں ایسی شقیں رکھی ہیں جن سے فرقہ پرست عناصر کو موقع ملتاہے کہ ہر کسی ایسے شخص کو ڈرائے جس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، کیوں کہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا بوجھ بھی ملزم پر ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...