Powered By Blogger

ہفتہ, اگست 28, 2021

ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا آہ! مفتی عبدالمغنی صاحب مظاہری رحمۃ اللہ علیہ

از قلم : محمد شعیب ناندیڑ

اللہ رب العزت کا اصول ہے کل نفس ذائقۃالموت کہ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے اس دنیائے آب و گل میں بہت سے انسان آئے اور چلے گئے اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ ہر ایک انسان کو اپنے متعینہ وقت پر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں لوٹنا ہے لیکن کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ان کے کام خدمات اور ان کی شخصیت ایک زمانہ تک یاد رہتی ہے انہی شخصیات میں سے تلنگانہ و آندھرا پردیش کے ایک ممتاز نمایاں مدبر مفکر شخصیت مفتی عبدالمغنی صاحب مظاہری رحمۃ اللہ علیہ ہے 8 محرم الحرام1443ھ مطابق 18اگسٹ 2021 بروزبدھ (چہار شنبہ) کی شب 3 بجے اس دار فانی سے ہمیشہ ہمیش کے لئے یہ کہہ کر کوچ کر گئے

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سب ہی آئے ہیں مرنے کے لئے
انا للہ وانا الیہ راجعون

حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق علمی گھرانے سے ہے آپ کے والد بزرگوار حافظ عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ بڑے ہی متقی پرہیزگار تھے اور اہل اللہ کی صحبت میں اکثر رہا کرتے تھے آپ کے والد ہردوئی میں محی السنہ شاہ ابرار الحق رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں خدمت میں رہا کرتے تھے حضرت مفتی صاحب اور ان کے برادران بھی یہیں رہا کرتے تھے حضرت شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ کا مزاج ان کی تربیت کا اثر پورے خاندان پر ہوا اور آج بھی نظر آتا ہے
حضرت مفتی صاحب کی جائے پیدائش و تعلیم

حضرت مفتی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت 1955 ہردوئی میں ہوئی چونکہ آپ کے والد ماجد مدرسہ فیض العلوم کے ذمہ دار تھے اس وجہ سے حضرت محمد شاہ ابرار الحق رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ ذمہ داروں کے بچے اسی مدرسے میں نہیں پڑھ سکتے ( جہاں پر ذمہ دار پڑھاتے ہیں) اس وجہ سے آپ کو عالمیت کے لئے ہردوئی بھیج دیا گیا وہاں پر ابتدائی تعلیم حاصل کر کے حضرت مولانا صدیق صاحب باندوی رحمۃ اللہ علیہ کے مدرسہ عربیہ باندہ ہتھوارہ میں تشریف لائے پھر یہاں پر درجات وسطی کی تکمیل کی اس کے بعد مدرسہ مظاہرعلوم سے سند فضیلت 1979 ء حاصل کی سند فضیلت کے بعد وہیں ایک سال تکمیل افتاء کیا فراغت کے بعد 1980 ء میں آپ کا تقرر مدرسہ فیض العلوم سعیدآباد میں ہوا کچھ ہی مہینے گزرے تھے کہ آپ کو ایک بڑی ذمہ داری دی گئی کہ اڑیسہ برہم پور میں ایک مدرسہ قائم کرنا ہیں چنانچہ حضرت نے بڑی محنت و مشقت کے بعد مدرسہ کاشف العلوم کی بنیاد ڈالی اس مدرسہ سے ہزاروں حفاظ بن کر نکلے ہیں الحمدللہ یہ مدرسہ آج بھی آباد ہے اور چل رہا ہے یہ آپ کی دین ہیں پھر اس کے بعد 1983ء میں کاماریڈی میں آپ نے امامت وخطابت تقریبا ڈیڑھ سال کی پھر آپ دوبارہ مدرسہ فیض العلوم سعیدآباد بلا لیے گئے ایک طویل عرصے تک خدمت کرتے رہے پھر 1992ءاڑیسہ کے مدرسہ جامع العلوم میں 6ماہ کا وقت گزارا اس کے بعد مدرسہ فیض العلوم تشریف لائے اور تشنگان علوم نبوت کی پیاس بجھاتے رہے اسی دوران آپ کو دو مرتبہ نائب ناظم کے عہدے سے سرفراز کیا گیا اور آپ جب بھی نظامت کے عہدے پر فائز رہے آپ نے شعبہ عالمیت کا قیام عمل میں لایا جو کہ آپ کے عہد انتظام میں کافی مقبول رہا

حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات وکمالات

حضرت مفتی صاحب رحمتہ حضرت مفتی صاحب رحمتہ اللہ علیہ مجلس دعوت الحق ہردوئی سے منسلک رہے آپ نے اس کے لیے بڑی قربانیاں دی اپنے علاقے میں اس کی شاخوں کا قیام عمل میں لایا اور آپ کی شخصیت اسی پلیٹ فارم سے متعارف ہوئی پھر آپ نے مدرسہ 1993ءم میں مدرسہ سبیل الفلاح کا قیام عمل میں لایا اس مدرسہ کے فارغین نہ صرف تلنگانہ و آندھرا بلکہ پورے ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں اور اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں آپ آخر تک اس ادارے کے ناظم رہے حضرت مفتی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو سماجی فلاحی کاموں سے بڑی دلچسپی تھی اس کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار رہتے تھے اور جہاں قوم کا فائدہ مقصود ہو وہاں بغیر کسی عذر و ملامت کے پہنچ جاتے اور قوم کا کام کراتے ابھی حالیہ 2020 حیدرآباد کے سیلاب میں بڑی انتھک کی محنت کی آپ جمیعت علماء گریٹر حیدرآباد کے صدر محترم تھے اور فرقہ ضالہ کی سرکوبی کیلئے تحفظ ختم نبوت سے جڑے ہوئے تھے اس کے تلنگانہ و آندھرا کے نائب صدر تھے بقول حضرت مولانا عبدالقوی صاحب جنازہ کے وقت ایک نوجوان حضرت مولانا عبدالقوی صاحب کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہم فلاں گاؤں سے آئے ہیں ہم پہلے قادیانیت قبول کر چکے تھے حضرت مفتی عبدالمغنی صاحب مظاہری کی توجہات اور کوشش سے پھر دوبارہ مسلمان ہو گئے آپ تلنگانہ و آندھرا کی مؤقر تنظیم مجلس علمیہ کے رکن تاسیسی تھے آل انڈیا بیت الامداد کے سرپرست تھے ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد کے سرپرست تھے آپ بہت سے تنظیموں مدرسوں کے سرپرست و ٹرسٹی تھے آپ اپنے خاندان میں بھی بڑے تھے جب بھی کوئی تقریب یا پروگرام ہوتا آپ اس کی سرپرستی فرماتے آپ رحمتہ اللہ علیہ میں ایک خصوصی خوبی یہ بھی تھی کہ آپ اپنے دل میں کسی کے لیے کینہ ،بغض، حسد، برائی نہیں رکھتے یوں تو آپ کو اپنے تمام بزرگوں سے تعلق رہا خصوصا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے پہلا اصلاحی تعلق قائم کیا پھر حضرت حکیم اختر صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے تعلق قائم کیا حضرت نے آپ پر اعتماد کرتے ہوئے خلافت سے نوازا اسی طرح تملناڈو کی عظیم شخصیت مفتی سعید احمد صاحب پرنامبٹ نےبھی خلافت سے نوازا حضرت اور بھی بہت سی خوبیوں کے مالک تھے بالآخر یہ عظیم شخصیت 8محرم الحرام 1443 ھ مطابق 18 اگسٹ 2021 بروز بدھ (چہارشنبہ) کی شب 3 بجے اپنے مالک حقیقی سے جا ملی ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہے کہ اللہ تبارک و تعالی مفتی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی مغفرت فرمائے اور درجات کو بلند فرمائے آمین

بھارت سیریز ، گاڑیوں کی نئی رجسٹریشن پالیسی اب ایک ریاست کی گاڑی دوسری ریاست میں رکھنے کی سہولت

بھارت سیریز ، گاڑیوں کی نئی رجسٹریشن پالیسی اب ایک ریاست کی گاڑی دوسری ریاست میں رکھنے کی سہولتنئی دہلی _ ( اردو دنیا نیوز۷۲ ) روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی وے کی وزارت نے گاڑیوں کی بلا روک ٹوک منتقلی کو آسان بنانے کے لیے 'بھارت سیریز (بی ایچ-سیریز)' کے تحت ایک نئی رجسٹریشن پالیسی کا اعلان کیا ہے ۔ اس رجسٹریشن پالیسی کے تحت گاڑی کے مالک کے لیے اپنی گاڑی کو ایک ریاست سے دوسری ریاست میں منتقل کرتے وقت نئی رجسٹریشن کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔اب تک ایک ریاست کے رجسٹرڈ شدہ گاڑی کو دوسری ریاست میں صرف 12 مہینے تک رکھنے کی اجازت ہے اس کے بعد اس گاڑی کو اس ریاست کا رجسٹریشن کروانا ہوگا۔لیکن نئی رجسٹریشن پالیسی میں اس کی ضرورت نہیں ہوگی۔

'بھارت سیریز (بی ایچ- سیریز) رجسٹریشن پالیسی ' کے تحت گاڑی کے رجسٹریشن کی یہ سہولت رضاکارانہ بنیاد پر دفاعی ملازمین، مرکزی حکومت/ ریاستی حکومت/مرکزی/ ریاست پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ اور پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں/ تنظیموں، جن کے چار یا زیادہ ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دفاتر ہیں، کو دستیاب ہوگی۔

موٹر گاڑی ٹیکس دو سالوں کے لیے یا دو ملٹی پل میں لگایا جائے گا۔ یہ اسکیم کسی نئی ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں منتقلی پر بھارت کی تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ذاتی گاڑیوں کی آزادانہ آمد و رفت کو آسان بنائے گی۔ 14ویں سال کے اختتام پر موٹر گاڑی ٹیکس سالانہ طور پر لگایا جائے گا جو اس رقم کا آدھا ہوگا جو پہلے اس گاڑی کے لیے وصول کی گئی تھی۔

مبارکبادشہنشاہ خطابت کے شہسوار ، صحافت وخطابت کے دل کی دھڑکن ہم سب کے مشفق وکرم فرما نوجوان عالم دین جناب حضرت مولانا مفتی خالد انور صاحب مظاہری دامت برکاتہم ‏

(اردو دنیا نیوز۷۲)
مبارکبادشہنشاہ خطابت کے شہسوار ، صحافت وخطابت کے دل کی دھڑکن ہم سب کے مشفق وکرم فرما نوجوان عالم دین جناب حضرت مولانا مفتی خالد انور صاحب مظاہری دامت برکاتہم استاذ جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ ، مدیر ماہنامہ ندائے قاسم کو رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار جنرل سکریٹری منتخب ہونے پر دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں مفتی صاحب فراغت کے بعد سے ہی اپنی زندگی دعوت و عزیمت ، زہدو تقوی فنا فی اللہ احیائے اسلام اور اشاعت حق اور تردید باطل کیلے اپنی زندگی کو وقف کردیئے ہیں ۔مفتی صاحب بڑے نیک اور فعال دل صاحب فکر وفن جزبہ اور شوق سے ترپ اور لگن کے ساتھ اپنی تمام ذمہ داریوں کو بحسن خوبی کے ساتھ انجام دیتے آرہےہیں اور ظاہرسی بات ہے ذمہ داری بھی انہی شخص کو دی جاتی ہے جو اس لائق اور فائق ہو ۔ مفتی صاحب اپنے نظامت وخطابت کے ذریعہ سے ہر میدان میں جانے اور پہچانے جاتے ہیں خواہ جامعہ میں درس و تدریس کے ذریعہ سے ہو ، یا ایڈیٹر کی حیثیت سے ماہنامہ ندائے قاسم میں ہو یا خادم کی حیثیت سے جمعیت علماء ہند میں مختصر یہ ہے کہ مفتی صاحب نے اپنی صلاحیت کے ذریعہ سے ہر جگہ اور ہر میدان میں لوہا منوایا ہےاخیرمیں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی مفتی صاحب کی خدمات کو قبول عطاء فرمائے حاسدوں کے حسد سے بچائے عمر میں برکت عطاء فرمائے آمین یارب العالمين اشفاق احمد القاسمی ارریاوی ( خادم ) معهد الكتاب والسنہ سیهن ضلع نواده بہار    ((7667115435 )

اے ایم یو:مختلف کورسوں کے داخلہ امتحانات کی تاریخوں کا اعلان

اے ایم یو:مختلف کورسوں کے داخلہ امتحانات کی تاریخوں کا اعلان

اے ایم یو:مختلف کورسوں کے داخلہ امتحانات کی تاریخوں کا اعلان
اے ایم یو:مختلف کورسوں کے داخلہ امتحانات کی تاریخوں کا اعلان

(اردو دنیا نیوز۷۲)علی گڑھ

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں پوسٹ گریجویٹ، انڈر گریجویٹ اور دیگر کورسوں (2021-22) میں داخلے کے لئے ٹسٹ کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا ہے۔

کنٹرولر امتحانات کی جانب سے جاری اطلاع کے مطابق علی گڑھ اور باہر کے ٹسٹ سنٹروں پر بی ایس سی آنرز (19/ ستمبر، صبح 10/بجے)، بی کام آنرز (19 ستمبر، صبح 10بجے)، بی اے آنرز (19 ستمبر، سہ پہر 3 بجے)، بی آرک پیپر دوئم (20 ستمبر، صبح 9بجے)، بی ٹیک/ بی آرک پیپر اوّل (20 ستمبر، 2بجے)، بی اے ایل ایل بی (21 ستمبر، 3بجے)، سینئر سیکنڈری اسکول سائنس/ ڈپلوما انجینئرنگ (26 ستمبر، 10بجے)،

سینئر سیکنڈری اسکول،ہیومینٹیز/ کامرس (26 ستمبر، 3بجے)، بِرِج کورس،ایس ایس ایس سی برائے طلبائے دینی مدارس(27 ستمبر، 10بجے)، ایم بی اے/ ایم بی اے آئی بی/ ایم بی اے آئی بی ایف (27/ستمبر، 10 بجے) اور بی ایڈ (27/ستمبر، سہ پہر 3 بجے) کے داخلہ امتحانات ہوں گے۔

صرف علی گڑھ میں جن کورسوں کے داخلہ امتحانات ہوں گے ان میں ایم ایس سی بوٹنی (11/ستمبر، صبح 9 بجے)، ایم ایس سی/ ایم اے آپریشنل ریسرچ (11 ستمبر، صبح 9 بجے)، ایم ایس سی پولیمر سائنس و ٹکنالوجی (11/ستمبر، 12 بجے)، ایم اے انٹرنیشنل اور ویسٹ ایشین اسٹڈیز (11 ستمبر، 12بجے)، ایم اے فلاسفی (11/ستمبر، 3 بجے)، ایم ایس سی ایگریکلچر اِنٹومولوجی (12/ستمبر، 9 بجے)، ایم ایس سی ایگریکلچر-

پلانٹ پیتھالوجی (12 ستمبر،9 بجے)، ایم ایس سی ایگریکلچر- نیماٹولوجی (12 ستمبر، 9بجے)، پی جی ڈپلوما اِن مسلم چیپلینسی (12 ستمبر، صبح 9 بجے)، ایم اے چائنیز(12 ستمبر، 9 بجے)، ایم اے فرانسیسی (12 ستمبر، 9 بجے)، ایم اے جرمن (12 ستمبر، 9 بجے)، ایم اے روسی (12 ستمبر، 9بجے)،

ایم اے ہسپانوی(12 ستمبر، 9 بجے)، ایم ایف اے (12 ستمبر، پیپر اوّل، صبح 9 بجے، پیپر دوئم اے، دوپہر 12بجے، پیپر دوئم بی، دوپہر 2بجے)، ایڈوانسڈ پی جی ڈپلوما نینو ٹکنالوجی (12 ستمبر، 12 بجے)، ایم اے اسلامک اسٹڈیز (12 ستمبر، 3 بجے)، ایم ٹیک آرٹیفیشیئل انٹلی جنس (12 ستمبر، 3 بجے)،

ایم اے ہندی ترجمہ (13 ستمبر، 9 بجے)، ایم ایس سی وائلڈ لائف سائنسز/ بائیو ڈائیورسٹی (ستمبر 13، 9 بجے)، ایم ٹیک میٹریل سائنس و انجینئرنگ (13 ستمبر، صبح 9 بجے)، ایم پی ایڈ (13 ستمبر کو صبح 10بجے ایک گھنٹہ کا تحریری ٹسٹ اور 14 ستمبر کو جسمانی فٹنس ٹسٹ، صبح 7بجے)،

ایڈوانسڈ ڈپلوما انٹیریئر ڈیکوریشن (13 ستمبر، 12بجے)، ایم ایس سی میوزیولوجی (13 ستمبر، 3بجے)، ایم ایس سی اپلائیڈ جیولوجی (14 ستمبر، 9بجے)، ایم اے اکنامکس (14 ستمبر، 9 بجے)، ایم ایس سی کیمسٹری (14 ستمبر، 12 بجے)، ڈپلوما اِن ٹیچنگ (14 ستمبر، 9 بجے)،

ایم ایس سی ڈاٹا سائنس (14 ستمبر، 3 بجے)، ایم اے ایل اے ایم ایم (14 ستمبر، 3 بجے)، بی آر ٹی ٹی (15 ستمبر، 9بجے)، ایم اے سوشیالوجی (15 ستمبر، 9 بجے)، بی پی ایڈ (15 ستمبر صبح 10 بجے ایک گھنٹے کا تحریری ٹسٹ اور 16 ستمبر کو جسمانی فٹنس ٹسٹ صبح 7 بجے)،

ایم اے اردو (15 ستمبر، 12بجے)، ایم ایس سی ریموٹ سینسنگ و جی آئی ایس ایپلی کیشنز (15 ستمبر، 3 بجے)، پی جی ڈپلوما ماس کمیونیکیشن اردو (15/ستمبر، 3بجے)، ایم ایس سی/ ایم اے ریاضی (16/ستمبر،9بجے)، بی اے آنرز سنی دینیات (16/ستمبر، 9 بجے)،

بی اے آنرز شیعہ دینیات (16 ستمبر، 9 بجے)، ایم ایس سی فزکس (16/ستمبر، 12 بجے)، ایم اے سنی دینیات (16ستمبر، 12بجے)، ایم اے شیعہ دینیات (16 ستمبر، 12بجے)، ایم اے قرآنی علوم (16 ستمبر، 3 بجے)، ایم ٹیک روبوٹکس و آٹومیشن (16 ستمبر، 3 بجے)، ایم ایس سی ہارٹ، فلوری کلچر/ ایم ایس سی ایگریکلچر ایگرونومی (17 ستمبر، 9بجے)، ایم اے لسانیات (17 ستمبر، 9 بجے)، ایم ٹیک بایو میڈیکل انجینئرنگ (17 ستمبر، 9 بجے)،

ڈپلوما نرسنگ-یونانی (17 ستمبر، 9 بجے)، ایم اے ہندی (17 ستمبر، 3 بجے)، ایڈوانسڈ ڈپلوما فوڈ ٹکنالوجی (17 ستمبر، 3 بجے)، پی جی ڈی سی پی (17 ستمبر، 3 بجے)، ڈپلوما اِن واؤنڈ کیئر (23 ستمبر، 9 بجے)، ایم ایس سی بایوٹکنالوجی (23 ستمبر، صبح 10 بجے)،

آرتھوپیڈک و پلاسٹر تکنیک میں ڈپلوما (23 ستمبر، 3 بجے)، ایم سی اے (23 ستمبر، 3 بجے)،سی ای ٹی- پیرامیڈیکل کورسز (24 ستمبر، صبح 10بجے)، ڈپلوما ایلیمنٹری ایجوکیشن (25 ستمبر، صبح 9 بجے)،

ایل ایل ایم (25 ستمبر، 10بجے)، ایم اے ماس کمیونیکیشن (25/ستمبر، 3 بجے)، ڈپلوما اِن اینیمیشن و ملٹی میڈیا (25 ستمبر، 3بجے)، ایم بی اے ایگری بزنس (29 ستمبر، 10بجے)، ایم بی اے فنانشیئل مینجمنٹ / ایم ٹی ٹی ایم (29 ستمبر، 3 بجے)،

ایم ایس ڈبلیو (30 ستمبر، 10بجے) اوربیچلر آف لائبریری و انفارمیشن سائنس(30 ستمبر، سہ پہر 3 بجے) شامل ہیں۔ مزید تفصیلات یونیورسٹی کی ویب سائٹ https://www.amucontrollerexams.com سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔


مختار انصاری کے بڑے بھائی : 2022 ‏UP Election ‎صبغت اللہ آج اکھلیش یادو کی موجودگی میں سماجوادی پارٹی میں ہوں گے شامل

مختار انصاری کے بڑے بھائی : 2022 UP Election صبغت اللہ آج اکھلیش یادو کی موجودگی میں سماجوادی پارٹی میں ہوں گے شاملغازی پور: اترپردیش میں 2022 اسمبلی انتخابات (2022 Uttar Pradesh Assembly Election) سے متعلق تمام سیاسی جماعتوں میں ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ ہر پارٹی اپنے سیاسی حالات کو بہتر بنانے سے متعلق تیاریوں میں مصروف ہوگئی ہیں۔ اسی درمیان مئو سے رکن اسمبلی مختار انصاری (Mukhtar Ansari) کی مشکلات کے درمیان ان کے بڑے بھائی صبغت اللہ انصاری کے ساتھ ان کے بیٹے منو انصاری ہفتہ کے روز یعنی آج لکھنو میں سماجوادی پارٹی کی رکنیت حاصل کریں گے۔ محمدآباد اسمبلی سے دو باررکن اسمبلی رہ چکے مختار انصاری کے بڑے بھائی صبغت اللہ انصاری حامیوں کے ساتھ غازی پور سے لکھنو پہنچ گئے ہیں۔ وہ 11 بجے اکھلیش یادو کی موجودگی میں رکنیت حاصل کریں گے۔ خبر یہ بھی کہ مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری بھی جلد ہی سماجوادی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب بلیا ضلع کے قدآور لیڈر اور سابق وزیر امبیکا چودھری آج سماجوادی پارٹی میں شامل ہوں گے۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے حکم پر امبیکا چودھری اپنے بیٹے اور ضلع پنچایت صدر آنند چودھری بھی سماجوادی پارٹی کا دامن تھامیں گے۔ واضح رہے کہ آئندہ سال 2022 میں اترپردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ایسے میں سماجوادی پارٹی سمیت بی جے پی، کانگریس اور بی ایس پی سبھی سیاسی پارٹیاں انتخابی تیاریوں میں مصروف ہوگئی ہیں۔ سماجوادی پارٹی صبغت اللہ انصاری کو پارٹی کی رکنیت دلاکر علاقے میں نئی طرح کا سیاسی ماحول تیار کرے گی۔ دراصل سال 2017 کے اسمبلی انتخابات کے پہلے انصاری برادران اپنی پارٹی قومی ایک ایکتا دل سے اسمبلی انتخابات نہیں لڑنے کا فیصلہ لیتے ہوئے سماجوادی پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔ بعد میں اکھلیش یادو کے اعتراض کے بعد انہوں نے سماجوادی پارٹی سے علیحدہ ہوکر بی ایس پی میں شامل ہوگئے تھے۔

غازی پور کی سیاست پر قریبی نظر رکھنے والوں کی مانیں تو ان کے سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے کے ساتھ محمدآباد سیٹ پر پہلے سے ایس پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی دعویداری کرنے والوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صبغت اللہ انصاری پیشے سے ٹیچر رہے ہیں۔ تینوں بھائیوں میں سب سے بڑے صبغت اللہ انصاری دو بار رکن اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ فی الحال مختار انصاری باندہ کے جیل میں بند ہیں۔

دبئ: بلی کی جان بچانے پر لاکھوں درہم کا شاہی انعام

دبئ: بلی کی جان بچانے پر لاکھوں درہم کا شاہی انعام

بلی سے محبت اور انعام
بلی سے محبت اور انعام

(اردو دنیا نیوز۷۲)دبئی : دبئی کے حکمران اور اماراتی وزیراعظم شیخ محمدبن راشد المتکوم نے بلی کی جان بچانے والے 4 افراد کے لیے 2 لاکھ درہم (90 لاکھ روپے) انعام کا اعلان کیا ہے۔

دو روز قبل شیخ محمدبن راشد المتکوم نے ٹوئٹر پر ویڈیوشیئرکی تھی جس میں 4 افراد نے عمارت سے لٹکی ہوئی بلی کو چادر کی مدد سے زمین پرگرنےسے بچایا تھا، خلیجی اخبار کے مطابق یہ بلی حاملہ بھی تھی۔

شیخ محمدبن راشد نے چاروں افرادکی تعریف کرتے ہوئے صارفین سے بلی کی مدد کرنے والے افرادکی شناخت کرنےکی اپیل کی تھی۔

خلیجی اخبارکے مطابق چاروں افراد کی شناخت ہوگئی ہے جس میں ایک پاکستانی بھی شامل ہے، یہ تمام افراد دبئی میں مختلف نوکریاں کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دبئی کے حکمران کے نمائندے نے چاروں افراد سے ملاقات کی اور انہیں فی بندہ 50 ہزار درہم (22 لاکھ روپے سے زائد) کا لفافہ انعام کے طور پر دیا۔


بس میکینک کے بیٹے نے کیا : ‏Happy Birthday ‎کرکٹ کی دنیا پر راج ، سچن تندولکر جیسے عظیم کھلاڑی بھی ہوگئے تھے پریشان

بس میکینک کے بیٹے نے کیا : Happy Birthday کرکٹ کی دنیا پر راج ، سچن تندولکر جیسے عظیم کھلاڑی بھی ہوگئے تھے پریشان

لست ملنگا کی پیدائش ایک بے حد ہی عام فیملی میں ہوئی تھی۔ وہ گالے سے 12 کلو میٹر دور رتھ گاما میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد ایک بس میکینک تھے اور وہ گالے کے بس ڈپو میں کام کرتے تھے۔ (تصویر کریڈٹ: اے پی)

لست ملنگا بچپن میں سمندر کے کنارے ٹینس بال سے کرکٹ کھیلتے تھے اور ان کا ایکشن شروع سے ہی عجیب وغریب تھا۔ ان کا یہی ایکشن ان کی پہچان بن گیا۔ سال 2001 میں نیٹس پر بلے بازوں کو پریکٹس کرانے کو کہا گیا، لیکن سری لنکا کے اسٹار کھلاڑی ان کی گیندوں کو نہیں کھیل پائے۔ ان کھلاڑیوں میں اروند ڈی سلوا بھی تھے، جنہوں نے لست ملنگا کو کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔ (فائل فوٹو)

لست ملنگا نے انٹرنیشنل کرکٹ میں کئی ریکارڈ بنائے۔ انہوں نے کل 546 وکٹ اپنے نام کئے۔ ملنگا نے 30 ٹسٹ میں 101، 226 ونڈے میں 338 اور 84 ٹی-20 میچوں میں کل 107 وکٹ حاصل کئے۔ لست ملنگا نے انٹرنیشنل کرکٹ میں 5 بار ہیٹ ٹرک لی ہے، جو ایک ریکارڈ ہے۔ ونڈے کرکٹ میں ان کے نام تین بار ہیٹ ٹرک لینے کا عالمی ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ ٹی-20 انٹرنیشنل کرکٹ میں انہوں نے دو بار ہیٹ ٹرک لی ہے۔ ونڈے اور ٹی-20 انٹرنیشنل کرکٹ میں انہوں نے دو بار ہیٹ ٹرک لی ہے۔ ونڈے اور ٹی-20 انٹرنیشنل کرکٹ میں چار گیندوں پر مسلسل چار وکٹ حاصل کرنے والے بھی اکلوتے کھلاڑی ہیں۔

لست ملنگا نے انڈین پریمیئر لیگ میں بیشتر مقابلے ممبئی انڈینس کے لئے ہی کھیلے ہیں۔ اس گیند باز نے 122 میچوں میں 170 وکٹ حاصل کئے۔ ملنگا نے آئی پی ایل کے کیریئر میں 6 بار کسی میچ میں 4 وکٹ ھاصل کئے ہیں جبکہ ایک بار 13 رن دے کر پانچ وکٹ حاصل کئے تھے۔ (فائل فوٹو)

لست ملنگا نے سچن تندولکر جیسے بلے باز کو بھی کافی پریشان کیا۔ سچن تندولکر کے علاوہ ویریندر سہواگ، شین واٹسن جیسے بلے بازوں کو 6-6 بار آوٹ کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

لست ملنگا ونڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹ حاصل کرنے کے معاملے میں 9 ویں مقام پر ہیں۔ سری لنکائی ٹیم کی بات کریں تو ان سے زیادہ وکٹ متھیا مرلی دھرن (534 وکٹ) اور چمنڈا واس (400 وکٹ) نے لئے ہیں۔ (فائل فوٹو)


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...