Powered By Blogger

پیر, اگست 30, 2021

دنیا کی سب سے ڈراؤنی فلم کون سی ہے؟

ہنری جورجس کلوزو کی دہشت انگیز فلم ایڈنبرا فلمی میلے میں گذشتہ اتوار کو دکھائی گئی۔ 1955 میں پہلی بار نمائش پذیر ہونے والی فلم آج بھی سامعین کے دلوں میں کیوں اس قدر خوف بھر دیتی ہے اور جدید سنسی خیز فرانسیسی فلموں پر اس کے اثرات کتنے گہرے ہیں؟

جب فرانسیسی ہدایت کار ہنری جورجس کلوزو اپنی غیر روایتی نفسیاتی لرزہ خیز فلم ’لے دیابولیک‘ (1955) بنا رہے تھے تو ان کی منشا تھی کہ فلم کے سیٹ پر جس قدر ممکن ہے ماحول زیادہ سے زیادہ تلخ ہو۔

مبینہ طور پر انہوں نے ایک طریقہ یہ اختیار کیا کہ عملے کے سامنے ایسی مچھلی رکھ دی جسے کی تاریخ فروخت کافی پہلے گزر چکی تھی۔

اس واقعے کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے لیکن فلم کے آغاز میں ایک منظر کے دوران ہدایت کار کی بیوی کیمرے پر اس طرح دکھائی گئی کہ وہ اپنے سامنے پڑی خوراک پر قے کرنی والی ہے جو اسے زبردستی کھانے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

فلم میں ویرا کلوزو ایک خوبصورت لیکن نحیف کرسٹینا ڈیلاسیل کا کردار ادا کرتی ہیں جن کے بے ڈھنگے اور جھگڑالو شوہر مشل (پال موریس) پیرس کے قریب ایک ناگوار اقامتی اسکول کے انتظامی سربراہ ہیں۔

یہ سکول کرسٹینا کی ملکیت ہے لیکن وہ پوری طرح اپنے شوہر کے تابع ہیں۔ حتی کہ وہ گھٹیا اور بیزار کن معلمہ نکول (سمون سینورے) کے ساتھ ان کا سر عام معاشقہ بھی خامشی سے برداشت کرتی ہیں۔

جب دوپہر کے کھانے پر گلی سڑی مچھلی سامنے رکھی جاتی ہے تو مشل کرسٹینا کو آخری لقمہ تک کھانے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ حکم دیتے ہوئے کہتا ہے ’نگلو نگلو۔‘ وہ قے کرنے کے لیے بالکل تیار لگتی ہے لیکن کرتی ہوبہو وہی ہے جو اسے بتایا جاتا ہے۔

2003 میں ایڈنبرا انٹرنیشنل فلم فیسٹول کے منتظمین نے کلوزو کی یاد میں دیگر چیزوں کے علاوہ لے دیابولیک کی نمائش بھی کی اور اسے ’دنیا بھر میں ابھی تک بنائی گئی خوفناک ترین فلموں میں سے ایک‘ قرار دیا۔

ممکن ہے ان کی بات بالکل درست ہو لیکن صحیح معنوں میں دراصل یہ ’ہارر‘ فلم ہے ہی نہیں۔ مگر فلم کی انتہائی ڈراؤنی فضا اور غیر روایتی پن سے انکار ممکن نہیں۔

یہ وہ خصوصیات ہیں جو ہدایت کار کی اپنی ذات کا حصہ تھیں۔ وہ گرم مزاج اور نہایت خود پسند انسان تھے جنہیں اپنے ساتھیوں کو زچ کر کے کام نکلوانے کا ہنر آتا تھا۔

کلوزو کی 1960 میں نمائش پذیر ہونے والی فلم ’لا ویریتے‘ سے کیریئر کی شروعات کرنے والی برجیٹ باردو ان کے بارے میں کہتی ہیں ’ایک منفی انسان جو خود سے اور اپنے اردگرد موجود دنیا سے خفا رہتے۔‘

ان کے سوانح نگار کرسٹوفر لوئڈ ان کے طریقہ کار کا ذکر کرتے ہیں کہ کس طرح وہ اپنے اداکاروں کی خوشنودی حاصل کرنے اور بالعموم ان سے بہترین کام لے لینے میں کامیاب ہو جاتے تھے ’لیکن اکثر و بیشتر ابتدا میں خوشگوار تعلق آخر تک سخت محاذ آرائی اور خاموش عداوت میں بدل چکا ہوتا۔‘

کلوزو نے اپنی بیماری اور بری قسمت کے ہاتھوں خود ایک تلخ زندگی گزاری اور یہی ایک بڑی وجہ ہے کہ ان کی فلمیں انسانیت کے سیاہ اور مردم بیزار پہلو کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہ دھوکہ دہی سے بھی خوب آگاہ تھے۔ان کے فلمی کیریئر کا آغاز اس وقت ہوا جب فرانس پرجرمنوں کا قبضہ تھا اور فرانسیسی فلم انڈسٹری نازیوں کی گرفت میں تھی جہاں وہ ہٹلر کے پروپیگنڈا چیف جوزف گوئبلز کی قائم کردہ کمپنی کانٹینینٹل کے لیے فلمیں بنا رہے تھے۔آزادی کے بعد جرمنوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے کلوزو کو چار سال کے لیے سینیما میں کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

لے دیابولیک دراصل پیئر بولیو اور ٹامس نارسیاچ کے تحریر کردہ ناول ’شی ہو واز نو مور‘ کی عکس بندی تھی، جرائم کہانیاں لکھنے والے مصنفین کی وہی جوڑی ہے جن کی بعد میں آنے والی کتاب ’فرام امنگ دا ڈیڈ‘ سے متاثر ہو کر الفریڈ ہچکاک نے شاہکار فلم ’ورٹیگو‘ بنائی۔

یہ فلم اپنے اختتامی مراحل میں ایک غیر متوقع پینترے کی وجہ سے مشہور ہے۔ سینیما کی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ عجیب اور حیران کن اختتام والی چند فلموں میں سے ایک ہے۔ بعض نقاد بھڑک کر رہ گئے کہ ایسا فنکارانہ پینترا تقریباً دغابازی اور پہلے کی ساری کہانی کو بے وقعت کرنے کے مترادف ہے۔

فلمی تاریخ دان روئے آرمز لکھتے ہیں کہ ’جس نفسیاتی حقیقت نگاری پر فلم کے پہلے منظر کی بنیاد رکھی گئی یہ چالاکی اس کا ستیا ناس مار دیتی ہے۔ آخری چال فلم کا دوبارہ دیکھنا بے معنی بنا دیتی ہے اور اسی کی وجہ سے کلوزو کا گہرا یاسیت پسندانہ پہلو فرسودہ اور واہیات محسوس ہوتا ہے۔‘

اس کے برعکس ایک نقطہ نظر کے مطابق یہ اختتام فلم کے باقی مجموعی خوفناک منطقی تاثر سے میل کھاتا ہے۔ یہ کلوزو کے انسانی فطرت سے متعلق گہرے یاسیت پسندانہ نقطہ نظر اور ان کی زبردست حس مزاح پر مہر ثبت کرتا ہے۔

اختتامی مناظر میں وہ اچانک موڑ بیک وقت خوفناک اور لایعنی ہے۔ یہ سامعین کو ایک ساتھ سہمنے اور گھبرا کر کھسیانی ہنسی ہنسنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

لے دیابولیک ایسی دنیا کی منظر کشی کرتی ہے جہاں کچھ بھی سلامت نہیں۔ کہانی میں اہم کردار ادا کرنے والا سکول کا تیراکی والا تالاب غلیظ پتوں اور گندگی سے ڈھکا ہوا ہے۔

طلبہ کو سکول میں پیش کیا جانے والا کھانا ایسا کراہت آمیز ہوتا ہے کہ اس کے مقابلے میں فلم ’نکولاس نکلبی‘ میں پیش کردہ سکول ڈوتھ بوائز ہال کا کھانا کسی عمدہ ریستوران سے منگوایا لگنے لگتا ہے۔

سکول کے بچے (جن میں سے ایک کا کردار مستقبل کے توانا پاپ سٹار جانی ہیلی ڈے نے ادا کیا ہوا ہے) جان بوجھ کر ایک دوسرے سے بے رحم طریقے سے پیش آتے ہیں۔

سارے کے سارے بڑے افراد آوازار ہیں۔ اسسٹنٹ ٹیچرز شکایت کرتے ہیں کہ شراب کم اور پتلی ہے۔ سینورے کا کردار نکول پہلی بار انتہائی شاندار سیاہ عینک لگائے نظر آتی ہیں جو موقع محل سے بالکل لگا نہیں کھاتی، خزاں کا موسم عروج پر ہے لیکن وہ اپنے شادی شدہ محبوب کی جانب سے لگائے گئے زخموں کے نشانات چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

جب ان سے پوچھا جاتا ہے تو وہ یوں وضاحت کرتی ہیں کہ ’میں اٹھتے ہوئے ٹھوکر کھا کر گر پڑی تھی۔‘ کرسٹینا اپنے ظالم خاوند کی موجودگی میں بزدل چوہے کی طرح دبک کر رہتی ہے۔

خاوند بھی کوئی زیادہ خوش انسان نہیں جو بری طرح مالی تنگ دستی کا شکار ہے، سکول کی ایسی ملازمت میں پھنس چکا ہے جہاں مزید ترقی کے امکانات نہیں، اپنی بیوی سے نفرت کرتا ہے جس کے ساتھ وہ چل نہیں سکتا اور اپنی محبوبہ کو بظاہر وہ گھٹیا سمجھتا ہے۔

فلم کے ابتدائی مناظر میں دو عورتیں اسے قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہوتی ہیں۔ خاموش اور انتہائی مذہبی عورت کرسٹینا جسے دل کی بیماری لاحق ہے وہ کسی طرح بھی قتل کے منصوبے کا فطری حصہ نہیں لگتی لیکن کوئی دوسرا متبادل نہیں ہوتا۔

لے دیابولیک کی عظمت سادگی اور پرکاری میں پوشیدہ ہے۔ کلوزو اس کی سیٹنگ بالکل سادہ رکھتے ہیں۔ فلم کی بنت میں کہیں بھی چمک دمک نہیں۔

وہ اپنے مواد کو ڈاکومنٹری کے انداز میں پیش کرتے ہیں۔ سکول بالکل بدحالی کا شکار ہے۔ اس پر کیا گیا رنگ پھیکا پڑ رہا ہے۔ آسمان ہمیشہ سرمئی رہتا ہے۔ تاہم وہ آہستہ آہستہ کچھ نہایت بھیانک جذبات کا باریک بینی سے جائزہ لینے لگتے ہیں۔

کردار مسلسل شدت پسندانہ اور عجیب و غریب رویوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ سکول کا ایک بچہ خوشی سے نہایت گندے تالاب میں سے چابیاں ڈھونڈ لانے کے لیے اتر جائے گا جو نکول نے گرائی ہیں۔ مشیل کو کوئی پروا نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو مارتا ہے۔

دو اہم ترین نسوانی کرداروں کا باہمی تعلق جان بوجھ کر مبہم چھوڑ دیا گیا ہے۔ بولیو نارسیاچ کے ناول میں خواتین ایک دوسرے سے محبت کے رشتے میں بندھی ہیں۔

جبکہ فلم میں ان کے درمیان ایک عجیب رفاقت ہے جو اس شخص کی مشترکہ نفرت کی پیدا کردہ محسوس ہوتی ہے جسے وہ قتل کرنے کا منصوبہ بناتی ہیں۔ ویرا کلوزو جس قدر کمزور ہے سینورے کا کردار اتنا ہی سخت جان ہے۔

ہدایت کار نے کیمرے کے پیچھے اپنی اہلیہ سے اتنا ہی بے رحم سلوک کیا جتنا ان کے شوہر نے پردہ سکرین پر۔ یہ ان کا خود کو مرکزی کردار میں متعارف کروانے کے لیے بہت اہم موقع تھا اور وہ کوئی منجھی ہوئی اداکارہ نہیں تھیں۔

فلمی تاریخ دان سوزن ہیورڈ لکھتی ہیں کہ کلوزو نے ویرا کو ’نو ماہ تک مختلف ڈراموں کے حصے یاد کروائے جن میں اس نے کبھی کام نہیں کیا مگر انہوں نے وہ ٹیپ پر ریکارڈ کر لیے اور اس کی ادائیگی درست کروانے کے لیے استعمال کیے۔‘ویرا کے شریک مرکزی کردار سینورے اور موریس منجھے ہوئے اداکار تھے جنہوں نے ہمیشہ اس کی نااہلی اور بدحالی پر اپنی الجھن چھپانے کی کوشش نہیں کی۔

اسی ناول پر بعد میں بھی فلمیں بنائی گئیں مگر کوئی بھی لے دیابولیک کو نہ پہنچ سکی (فیئر یوز)

اس کے چہرے پر زردی، افسردگی اور گھبراہٹ دراصل اس کی دلی کیفیات کا عکس تھی بالخصوص جب وہ بدبودار مچھلی کھا چکی تھیں۔

اس کے باوجود فلم مردوں کی انا پر گہری ضرب لگاتی ہے۔ پیسوں کے لیے شوہر اپنی بیمار بیوی پر انحصار کرتا ہے۔ اس کا جارحانہ پن اس کی خود ترحمی اور عدم تحفظ کے تضاد سے جنم لیتا ہے۔

کہانی میں جیسی بھی پیچیدگیاں اور تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں اسے ہر حال میں نہایت بھیانک جسمانی تکلیف اور شرمندگی کا سامنا ہی کرنا پڑتا ہے۔

قتل کی باریک جزئیات کے ذریعے کلوزو پوری طرح موت سے لطف اندوز ہوتے ہیں: کسی کو مارنے کے لیے درکار زہر کی مقدار، ڈوبنے میں کتنی دیر لگتی ہے، اور کسی شخص کی لاش ٹھکانے لگانے کے راستے میں آنے والی نقل و حمل کے مسائل جیسا کہ اسے چھپانے کے لیے اتنی ہی لمبائی کا غلاف ڈھونڈنا، ایک اتنی بڑی ٹوکری جس میں وہ سما جائے اور پھر ایک چھوٹی سی کار میں اسے دور دراز جگہ پر لے جانا۔

لے دیابولیک نے اپنی پہلی نمائش کے دوران باکس آفس پر بہترین کامیابی سمیٹی لیکن نقاد خاموش رہے جن میں سے اکثر کا خیال تھا یہ ایک معمولی اور منفی اثرات کی حامل فلم ہے۔

تاہم اس کا اثر و رسوخ بھرپور اور دیر پا ثابت ہوا۔ یہاں تک کہ آج بھی امریکی مصنف ہارلن کوبین کے ’ٹیل نو ون،‘ ’نو سیکنڈ چانس‘ اور ’جسٹ ون لُک‘ جیسے ناولوں پر بننے والی فرانس کی صدمہ انگیز جذباتی فلمیں اور ٹی وی سیریز میں ویسے ہی کہانی کے اندر اچانک پینترا بدلتا اور خوف کے لمحات دیکھنے کو ملتے ہیں جو کلوزو کی مشہور ہیبت انگیز خونی فضا کا خاصہ رہے۔

کہا جاتا ہے کہ الفریڈ ہچکاک بھی اسی ناول پر فلم بنانا چاہتے تھے مگر انہیں حقوق حاصل نہ ہو سکے۔ وہ بھی اس فلم کے بہت بڑے مداح تھے۔

بعد میں خود انہوں نے بولیو نارسیاچ کے ناول پر ’ورٹیگو‘ بنائی لیکن ان کی ایک اور مشہور فلم ’سائیکو‘ پر بھی لے دیابولیک کے اثرات یقیناً نظر آتے ہیں۔

ایک فلم میں قتل پانی کے ٹب میں ہوتا ہے تو دوسری میں شاور کے نیچے۔ دونوں میں کہانی اچانک ایک جیسے پرہول انداز میں پینترا بدلتی ہے۔ ہچکاک کا کردار نارمن بیٹس کلوزو کی تخلیق کردہ کائنات میں نہایت آسانی سے موزوں بیٹھتا ہے۔

یہ فلم اس کے بعد بھی کئی بار بنی جن میں زیادہ مشہور شیرن سٹون اور ازابیل اجانی جیسے ستاروں سے سجی 1996 والی ہے۔ یہ ذرا زیادہ رنگین اور روایتی قسم کی فلم تھی لیکن اصل ناول میں موجود خواتین کی ہم جنس پرستی ممکنہ حد تک پوری طرح پردے پر آ گئی۔

بعد میں بننے والی فلموں میں سے کوئی ایک بھی اصل فلم کی صدمہ انگیز فضا کو دہرا نہ سکی۔

فلم کے اختتام پر کریڈٹس کے بعد کلوزو سامعین سے ایک تحریری جملے میں کہتے ہیں ’شیطانی حرکت سے گریز کریں! اپنی دوستوں کو اس کی کہانی بتا کر ان کے لیے فلم کا مزا کرکرا مت کری۔‘

66 برس بعد آج تک اس حکم کی تعمیل کی جا رہی ہے اور یہی ایک بنیادی وجہ ہے کہ آج بھی فلم بینوں کو اسے دیکھ کر زور دار جھٹکا لگتا ہے۔لے دیابولیک 22 اگست بروز اتوار چھ بجے شام ایڈنبرا فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی تھی۔

دنیا کا انتہائی شمال میں واقع جزیرہ دریافت

سائنسدانوں نے گرین لینڈ کے ساحلی خطے میں ایک نئے جزیرے کو دریافت کیا ہے جسے دنیا کا انتہائی شمال کا زمینی مقام قرار دیا گیا ہے۔گرین لینڈ میں آرکٹک ریسرچ اسٹیشن کے سربراہ مورٹین راش نے بتایا کہ ہمارا ارادہ کسی نئے جزیرے کو دریافت کرنا نہیں تھا، ہم تو وہاں بس نمونے اکٹھے کرنے گئے تھے۔اس مقام پر پہنچنے کے بعد سائنسدانوں کا خیال تھا کہ وہ اووڈک نامی جزیرے پر موجود ہیں جس کو 1978 میں ڈنمارک کی سروے ٹیم نے دریافت کیا۔

 

مگر جب انہوں نے لوکیشن کی جانچ پڑتال کی تو انہٰں احساس ہوا کہ وہ اووڈک سے شمال مغرب میں 780 میٹر دور ایک دوسرے جزیرے پر موجود ہیں۔ماہرین نے بتایا کہ ہر ایک پہلے اس بات پر خوش تھا کہ ہم نے اووڈک جزیرے کو ڈھونڈ لیا ہے، یہ ماضی کی مہمات کی طرح تھا جب لوگ سوچتے تھے کہ وہ کسی مخصوص مقام پر ہیں مگر درحقیقت انہیں نے ایک نیا مقام دریافت کرلیا ہوتا ہے۔یہ چھوٹا سا جزیرہ 30 میٹر تک پھیلا ہوا ہے جس کا ابھی کوئی نام نہیں مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کے لیے ناردرن موسٹ آئی لینڈ کا نام تجویز کریں گے۔

 

امریکا کی جانب سے حالیہ دہائیوں میں متعدد مہمات کے دوران دنیا کے انتہائی شمالی جزیرے کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا جزیرہ برف پگھلنے سے سامنے آیا ہے اور یہ براہ راست گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہے جس کے باعث گرین لینڈ کی برفانی پٹی سکڑ گئی ہے۔مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ جزیرہ بہت جلد سمندر میں گم ہوجائے گا، مگر فی الحال یہ دنیا کے شمال کا آخری زمینی حصہ ہے جو بار بار ابھرتا ڈوبتا رہے گا

اتوار, اگست 29, 2021

آزادی کا امرت مہوتسو کے اشتہار سے پنڈت نہرو کی تصویر غائب ! راہل نے کہا " لوگوں کے دلوں سے کیسے نکالوگے ؟ '

آزادی کا امرت مہوتسو کے اشتہار سے پنڈت نہرو کی تصویر غائب ! راہل نے کہا " لوگوں کے دلوں سے کیسے نکالوگے ؟ 'نئی دہلی: ہندوستان کی کونسل برائے تاریخی تحقیق (آئی سی ایچ آر) کی طرف سے آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر 'آزادی کا امرت مہوتسو' منایا جا رہا ہے۔ اس مہوتسو کے سلسلہ میں کونسل نے جو اشتہار جاری کئے ہیں ان پر آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی تصویر موجود نہیں ہونے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اشتہار سے پنڈت نہرو کی تصویر ہٹائے جانے پر کہا ہے کہ ملک کے پیارے پنڈت نہرو کو لوگوں کے دلوں سے کس طرح نکالوں گے؟

راہل گاندھی نے جواہر لال نہرو کی زندگی سے وابستہ کئی تصاویر فیس بک پر شیئر کی ہیں۔ اس کی ساتھ انہوں نے لکھا، ''ملک کے پیارے پنڈت نہرو کو لوگوں کے دلوں سے کیسے نکالوگے۔''

کانگریس سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے بھی مہوتسو کے اشتہار سے پہلے وزیر اعظم کی تصویر ہٹائے جانے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ لیڈران کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ اشتہار پر ساورکر کی تصویر کیوں لگائی گئی، جنہوں نے جیل سے رہا کرنے کے لئے انگریزوں سے معافی مانگی تھی۔ خیال رہے کہ اشتہار میں مہاتما گاندھی، سردار ولبھ بھائی پٹیل، نیتا جی سبھاش چندر بوس، راجندر پرساد، بھگت سنگھ، مدن موہن مالویہہ اور دامودر راؤ ساورکر کی تصویر موجود ہے لیکن پنڈت نہرو کی تصویر غائب ہے۔

اس معاملہ پر کونسل برائے تاریخی تحقیق کی جانب سے تاحال کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے کونسل کے اس قدم کو بھدا مذاق قرار دیا ہے۔ جبکہ لوک سبھا میں کانگریس کے نائب قائد گورو گگوئی نے کہا کہ کوئی بھی ملک آزادی کی جدوجہد کرنے والی ویب سائٹ سے اپنے پہلے وزیر اعظم کی تصویر ہٹانے کی جسارت نہیں کرے گا لیکن یہاں ایسا کیا گیا، جو نہایت ہی شرمناک اور غیر منصفانہ ہے۔

گورو گگوئی نے پنڈت نہرو کے علاوہ مولانا ابوالکلام آزاد کی تصویر بھی ہٹائے جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تنگ نظریہ ظاہر ہوتا ہے، نیز ہندوستان یہ کبھی نہیں بھولے گا کہ آر ایس ایس نے جنگ آزادی سے دور رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ششی تھرور نے کہا، ''یہ قابل مذمت ہی نہیں، بلکہ غیر تاریخی بھی ہے کہ آزادی کے جشن سے جنگ آزادی میں اہم آواز رہے جواہر لال نہرو کو ہٹا دیا جائے۔ ایک مرتبہ پھر تاریخی تحقیق کونسل نے اپنا نام خراب کیا ہے۔ یہ ایک عادت بنتی جا رہی ہے۔''

وہیں، شیو سینا کی لیڈر اور راجیہ سبھا کی رکن پرینکا چترویدی نے کہا کہ اگر آپ آزاد ہندوستان کی تعمیر میں دوسروں کے تعاون کو کم گردانتے ہیں تو آپ کبھی بڑے نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی ایچ آر کی طرف سے ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کی تصویر کو ہٹانا ان کے چھوٹے پن اور عدم تحفظ کی علامت ہے

ریلوے کی بھارت : ‏Bharat Darshan Train ‎درشن ٹورسٹ ٹرین آج سے شروع ، جانئے تفصیلات

ریلوے کی بھارت : Bharat Darshan Train درشن ٹورسٹ ٹرین آج سے شروع ، جانئے تفصیلاتانڈین ریلوے کیٹرنگ اینڈ ٹورزم کارپوریشن (IRCTC) نے سال بھر نئی پیشکشوں اور ٹور پیکجوں کا اعلان کیا ہے۔ آئی آر سی ٹی سی نے اپنی تازہ ترین پیشکش میں 'بھارت درشن' (سلیپرز آف انڈیا) ٹور پیکیج لے کر آیا ہے جو آج یعنی 29 اگست 2021 کو شروع ہوگا اور 10 ستمبر 2021 کو اختتام پذیر ہوگا۔ جس میں تقریبا ایک ہزار روپے فی دن فی شخص طئے کیے گئے ہیں۔ اس ٹور پیکج کے لیے انڈین ریلوے کیٹرنگ اینڈ ٹورزم کارپوریشن بھارت درشن اسپیشل ٹورسٹ ٹرین Bharat Darshan Special Tourist Train چلائے گا۔

یہ ٹرین مختلف مقامات کا احاطہ کرے گی جن میں حیدرآباد ، احمد آباد ، بھاو نگر ، امرتسر ، جے پور میں نشکلانک مہادیو سمندری مندر اور سٹیچو آف یونٹی شامل ہیں۔

انڈین ریلوے کیٹرنگ اینڈ ٹورزم کارپوریشن نے 30 جولائی کو ایک ٹویٹ میں ٹور پیکج کے بارے میں معلومات شیئر کی۔

آئی آر سی ٹی سی ٹورازم نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت درشن پیکیج سب سے زیادہ سستی ، سبھی شامل ٹور پیکجوں میں سے ایک ہے۔ ملک کے تمام اہم سیاحتی مقامات کو خصوصی ٹرین کے ذریعے احاطہ کیا جائے گا۔ جو لوگ بھارت درشن ٹور پیکج بک کرنا چاہتے ہیں وہ IRCTC ویب سائٹ پر جا کر اسے بک کر سکتے ہیں۔ تمام دلچسپی رکھنے والے لوگ جو اس ٹور پیکیج سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں وہ اپنے ٹکٹ بک کروانے کے لیے آئی آر سی ٹی سی سیاحتی سہولت مرکز ، زونل دفاتر اور علاقائی دفاتر بھی جا سکتے ہیں۔ سیاحوں کا سفر سلیپر کلاس کے ذریعے کیا جائے گا۔ سیاحوں کو ٹریول انشورنس اور سینیٹائزیشن کٹس فراہم کی جائیں گی۔ مقامی نقل و حمل کے اخراجات ، یادگاروں کے لیے داخلہ فیس ، بوٹنگ چارجز ، ٹورسٹ گائیڈ کی خدمت سیاحوں کو خود برداشت کرنا پڑے گی۔ بورڈنگ پوائنٹس: مدورائی ، سالم ، ڈندیگل ، ایروڈ ، جولارپیٹائی کرور ، کٹ پڈی ، ایم جی آر چنئی سینٹرل ، نیلور ، وجئے واڑہ ڈی بورڈنگ پوائنٹس: وجئے واڑہ ، نیلور ، پیرمبور ، کٹ پڈی ، جولارپیٹائی ، سیلم ، ایروڈ ، کرور ، ڈنڈی گل ، مدورائی

سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کوویڈ ویکسینیشن سرٹیفکیٹ یا RT-PCR منفی رپورٹ (سفر کی تاریخ سے 48 گھنٹے پہلے والی) ساتھ میں رکھیں آئی آر سی ٹی سی کی جانب سے بھارت درشن ٹورز (صرف ٹرین کا کرایہ اور روڈ ٹرانسفر کو ایل ٹی سی اسکیم کے تحت دورے کی تکمیل کے بعد آئی آر سی ٹی سی کی جانب سے رخصت سفری رعایت (ایل ٹی سی) بھی جاری کی جائے گی۔

مسلمانوں کو تمام وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر اپنے مسائل کے حل کے لئے آگے آنا چاہئے‘

نئی دہلی: مسلمانوں کو متحد اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر اپنے مسائل کے حل کے لئے کوشش کرنے پر زور دیتے ہوئے انٹیگرل یونیورسٹی لکھنؤ کے بانی رکن ظفر احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو تمام وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر اپنے مسائل کے حل کے لئے آگے آنا چاہئے، انہوں نے دعوی کیا کہ مسلمانوں کی حالت اس وقت راہ پڑے پتھر کی ہوگئی ہے جو جب اور جہاں چاہتا ہے ٹھوکر مار کر چلا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مسلمان ذات، پات، مسلک، علاقائیت اور اشراف و ارذال میں منقسم ہو کر بکھرئے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کہیں ان کی مساجد، منہدم کی جا رہی ہیں، کبھی درگاہوں پر بلڈزور چلا دیئے جا رہا ہے ہیں تو کہیں مکانات توڑے جارہے ہیں، تو کہیں قبرستانوں پر قبضہ ہو رہا ہے، تو کہیں مسلمانوں کے نام و نشان مٹانے کے لئے نام بدلے جا رہے ہیں اور اب حد تو یہ ہوگئی ہے کہ اب ان کے آثار بھی مٹائے جا رہے ہیں۔

 

ظفر احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ اتحاد میں بڑی طاقت ہے۔ مسلمانوں کا کلمہ بھی ایک ہے، رسول بھی ایک ہے اللہ بھی ایک ہے، کتاب بھی ایک ہے۔ منتشر ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے جب کہ متحد ہونے کی ہزاروں وجہیں ہیں۔ اس کے باوجود مسلمان منتشر ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کی نہ صرف سیاسی حیثیت ختم ہوگئی ہے بلکہ سماجی حیثیت بھی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر حکومت میں مسلمانوں پر حملے ہوتے رہے ہیں، لیکن اب صرف مسلمانوں پر ہی حملے نہیں ہو رہے ہیں بلکہ ان کے دین پر بھی حملہ اور چھیڑ چھاڑ شروع ہوگئی ہے۔

ظفر احمد ایڈوکیٹ جو 14سال تک انٹیگرل یونیورسٹی کے او ایس ڈی اور یونیورسٹی کے اقلیتی کردار میں اہم کردار ادا کیا ہے، نے کہا کہ یہاں بسنے والی دوسری قوموں سے مسلمانوں کو سبق سیکھنا چاہئے کہ انہوں نے بہت کم تعداد میں ہونے کے باوجود یہاں کے ہر شعبہ میں اپنا دبدبہ قائم کیا ہے اور حکومت بھی ان کی بات سننے پر مجبور ہے کیوں کہ وہ لوگ سیاسی وابستگی سے اوپر اٹھ کر اپنی قوم کے لئے کام کرتے ہیں

تشویشناک خبر:کوروناکی ویکسن لینے کے بعد 16سالہ لڑکے کی طبعیت بگڑ گئی

  • بھوپال:29اگست۔ (اردو دنیا نیوز۷۲) مدھیہ پردیش کے مورینا میں ایک 16 سالہ لڑکے کو کورونا کی ویکسین دی گئی ہے۔ ویکسین لگانے کے بعد اس کی صحت اچانک بگڑ گئی۔اور منہ سے جھاگ نکلنے لگا ۔ بعد میں اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ ضلع مورینا کی تحصیل امبا کے باغ علاقے میں پیش آیا۔ یہاں کے کملیش کشواہا کے بیٹے پلّو کو کورونا کا ٹیکہ لگایا گیا۔ ویکسین مورینا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر سے 35 کلومیٹر دور ایک مرکز میں دی گئی۔ خبر رساں ایجنسی کے قریبی ذرائع کے مطابق ، انجکشن کے بعد اس لڑکے نے منہ پر جھاگ نکلنے لگا بعد میں اسے علاج کے لیے گوالیار منتقل کیا گیا۔

روس کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنا منع ہے، ناروے میں سائن بورڈ

روس کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنا منع ہے، ناروے میں سائن بورڈ

NO PEEing Towards Russia

لندن ، ۲۹؍اگست: (اردودنیانیوز۷۲)ناروے اور روس کی سرحد پر واقع دریا ژاقوبسیلوا سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ لیکن اب ناروے کے حکام نے دریا کے کنارے ایک بورڈ نصب کیا جس پر سیاحوں کو روس کی جانب پیشاب کرنے سے منع کرنے کی تحریر درج ہے۔انگریزی زبان میں جلی حروف میں درج کی گئی تحریر کی تصویر ایک سیاح نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی جس کے بعد ناروے میں بحث شروع ہو گئی۔

روس اور ناروے کے مابین سرحد دریائے ژاکوبسلیوا ہے۔ اس کے کنارے نصب سائن بورڈ پر لکھا گیا ’’روس کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنا منع ہے‘۔ناروے کے بارڈر کمشنر ینس آرنے ہوئیلونڈ نے تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بننے والا سائن بورڈ سرکاری طور پر ہی آویزاں کیا گیا ہے۔ انہوں نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ سائن حکام نے دریا کے کنارے سے گزرنے والے لوگوں کو اس اشتعال انگیز اقدام سے روکنے کے لیے دانستہ طور پر نصب کیا ہے۔

ناروے کے حکام نے نہ صرف سیاحوں اور مقامی افراد کو دریا کے کنارے روس کی طرف منع کر کے پیشاب کرنے کے عمل کو اشتعال انگیز اور ممنوع قرار دیا ہے بلکہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے‘۔خلاف ورزی کرنے پر تین ہزار نارویجین کرونا کا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ رقم 290 یورو یا قریب 340 ڈالر کے مساوی ہے۔ دریائے ژاکوبسلیوا کا ناروے کی طرف کا کنارہ سیاحت کا مرکز ہے۔

یہاں سیاح روس کی حدود دیکھنے کے لیے آتے ہیں جس کی حدود محض چند میٹر چوڑے دریا کے دوسرے کنارے سے شروع ہوتی ہے۔ ناروے کے بارڈر کمشنر نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ پیشاب کرنا ایک فطری عمل ہے اور بالعموم یہ اشتعال انگیزی نہیں ہے لیکن اس کا انحصار نقطہ نظر پر بھی ہوتا ہے، اس معاملے میں اس عمل کو اشتعال انگیز قرار دے کر اس پر پابندی عائد کی گئی ہے

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...