Powered By Blogger

بدھ, ستمبر 01, 2021

عوام پر مہنگائی کی مار ، ایل پی جی سلینڈر کے داموں میں 25 روپے کا اضافہ

عوام پر مہنگائی کی مار ، ایل پی جی سلینڈر کے داموں میں 25 روپے کا اضافہنئی دہلی (اردو دنیا نیوز۷۲)نئی دہلی: نئے مہینے کی شروعات کے ساتھ ہی عوام پر مہنگائی کی ایک اور مار پڑی ہے، کیونکہ ایل پی جی کے داموں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ آج یکم ستمبر سے غیر سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی سلینڈر کے داموں میں 25 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافہ کے بعد اب دہلی میں 14.2 کلو والے ایل پی جی سلینڈر کے دام بڑھ کر 884.50 روپے ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے 18 اگست کو سلینڈر کے داموں میں 25 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے یکم جولائی کو گھریلو گیس کی قیمتوں میں 25.20 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔

اب 14.2 کلو والا غیر سبسڈی سلینڈر دہلی اور ممبئی میں 884.50 روپے، کولکاتا میں 911 روپے اور چنئی میں 900.50 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے ان شہروں میں گھریلو گیس سلینڈر بالترتیب 859.50 روپے، 911 اور 875 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔ گھریلو ایل پی جی سلینڈر ہی نہیں بلکہ 19 کلو والا کمرشیل بھی مہنگا ہو گیا ہے۔

یکم جنوری سے آج تک آٹھ مہینوں میں سلینڈر کے داموں میں 190 روپے کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ یکم جنوری کو دہلی میں گھریلو گیسوں کے سلنڈر کی قیمت 694 روپے تھی، جو اب بڑھ کر 884.50 ہو گئی ہے۔ سال 2021 کے فروری میں سلینڈر کے دام بڑھ کر 719 روپے ہو گئے۔ اس کے بعد سلنڈر کے دام 15 فروری کو 769 روپے، 25 فروری کو 794 روپے، یکم مارچ کو 819 روپے، یکم اپریل کو 809 روپے، یکم جولائی کو 834.5 روپے، 18 اگست کو 859.5 روپے ہو گئے۔

واضح رہے کہ تیل کمپنیاں ہر ماہ ایل پی جی سلنڈر کی قیمت کا جائزہ لیتی ہیں اور اس کے بعد قیمت بڑھانے یا کم کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ ہر ریاست میں ٹیکس مختلف ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں فرق نظر آتا ہے۔ مرکزی حکومت فی الحال سال میں 12 گھریلو سلنڈروں پر صارفین کو سبسڈی دیتی ہے۔ اگر کوئی صارف اس سے زیادہ سلنڈر استعمال کرتا ہے تو اسے بازار قیمت پر خریدنا پڑتا ہے۔

انسداد ہندوتوا پر عالمی آن لائن کانفرنس سے قبل انتہا پسندوں ہندوؤں کی شرکا کو دھمکیاں

انسداد ہندوتوا کے موضوع پر مجوزہ عالمی آن لائن کانفرنس سے قبل بھارتی انتہا پسند ہندو آپے سے باہر ہوگئے۔ شرکا کو قتل اور ریپ کی دھمکیاں دیں۔

حملوں سے بچنے کے لیے بیشتر بھارتی منتظمین نے آن لائن کانفرنس میں گمنام حیثیت سے شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔آن لائن کانفرنس کا اہتمام 40 سے زائد امریکی جامعات کے 70 دانشوروں کے اشتراک سے کیا جارہا ہے۔ایونٹ میں بھارتی دانشور، اساتذہ، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی حصہ لیں گے

مہاراشٹرمیں دوبارہ لاک ڈاون؟سوشل میڈیاپروائرل پیغام کی حقیقت کیاہے؟

ناندیڑ:31اگست۔ (اردو دنیانیوز۷۲)ریاست مہاراشٹرمیں گزشتہ ایک ہفتہ سے ایسی خبریںگشت کررہی ہیں کہ ریاست میںد وبارہ لاک ڈاون نافذ کیاجارہا ہے اوریہ خبریں سوشل میڈیا پرزیادہ گشت کررہی ہیں۔حالانکہ ریاست میں آج بھی کورونا کیسز چار ہزارسے زائد ریکارڈ ہورہے ہیں اوراموات کاسلسلہ بھی جاری ہے۔

دوسری جانب حکومت کو مرکزی حکومت نے تیسری لہر کے پیش نظر ریاست میںاحتیاطی اقدامات پرزور دینے کی ہدایت دی ہے اور رات کاکرفیو نافذ کرنے کی ہدایت بھی دی ہے ۔اسلئے یہ اطلاع ملی ہے کہ حکومتی سطح پر ریاست میں نائیٹ کرفیو پرغور کیاجارہاہے ۔ کیونکہ آئندہ دنوں چند اہم تہوار منائے جارہے ہیںا سی لئے حکومت احتیاطی اقدامات کرنے پر زور دینے پر غور کررہی ہے ۔اسی لئے ریاست میں کاروبار کو رات آٹھ بجے تک ہی کھلے رکھنے پرغور کیاجارہاہے۔

ماہرین نے انتباہ دیا ہےکہ ملک میں ستمبرا وراکتوبرمیں کورونا کی تیسری لہرآئے گی مگر کیرالاکی صورتحال سے کچھ ماہرین نے یہ بھی اشارہ د ے دیا کہ ملک میںتیسری لہرشروع ہوگئی ہے جس کاآغازکیرالا ہوا ہے ۔دریں اثناءسوشل میڈیا پر کچھ منچلے افرادسال گزشتہ کے اخبارات کے تراشے اورٹی وی نیوز چینل کے اسکرین شاٹس شیئر کررہے ہیں جس میں لاک ڈاون نافذ کئے جانے کی خبریں ہیںجسے کچھ لوگ سچ سمجھ کر سوشل میڈیاپر شیئر کررہے ہیں۔جس کی وجہہ سے ریاست بھر میں لاک ڈاون نافذ کرنے کی خبریں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔بلکہ کچھ لوگوں نے تو تاریخ بھی طئے کردی کہ فلاں تاریخ سے ریاست میں لاک ڈاون نافذ کیاجارہا ہے اورکاروبار ودوکانوں کے اوقات میں کمی کی گئی ہے۔مگر ضلع انتظامیہ وریاستی حکومت نے بھی اس طرح کی خبروں کی تردید کی ہے ۔ہاں مگر رات کا کرفیو نافذ ہوسکتا ہے ۔

ناروے میں روس کی طرف رخ کرکے پیشاب کرنا کیوں منع ہے؟

ناروے میں روس کی طرف رخ کرکے پیشاب کرنا کیوں منع ہے؟

 ستمبر 1, 2021ناروے اور روس کے درمیان سرحد پر بہنے والے دریائے جاکوبسیلوا کے قریب ایک نیا سائن بورڈ نصب کیا گیا ہے، جس پر سیاحوں کو اشتعال انگیز رویے سے خبردار کرتے ہوئے اس کی سزا سے بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سائن بورڈ پر لکھا ہے کہ ’روس کی طرف منہ کرکے پیشاب کرنا منع ہے۔‘ اس کے علاوہ اس پر خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانے کا بھی ذکر ہے۔

یہ سائن بورڈ ایک سرکاری سائن پوسٹ کے قریب نصب کیا گیا ہے، جس میں لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ ناروے کے سرحدی محافظ اس علاقے کی کیمروں کے ذریعے نگرانی کررہے ہیں۔ناروے کے بارڈر کمشنر ینس آرنے ہوئیلونڈ نے اے ایف پی کو بتایا: ’شاید سائن بورڈ کی تصویر ایسے لوگوں نے لگائی جن کی نیت اچھی تھی تاکہ یہاں سے گزرنے والے اشتعال انگیز رویے کے مالک راہگیروں کو خبردار کیا جاسکے۔‘

انہوں نے ویب سائٹ بیرنٹس آبزرور پر چھپنے والی ایک رپورٹ کی تصدیق کی، جس میں اس سائن بورڈ کی تصویر تھی۔ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تین سو کرونا (290 یورو/ 340 ڈالر) جرمانہ کیا جائے گا۔ناورے کی طرف کا یہ علاقہ سیاحوں میں بہت مقبول ہے جہاں سے آپ دریا کی دوسری طرف روس کو چند میٹر کے فاصلے پر دیکھ سکتے ہیں۔

ہوئیلونڈ کے بقول: ’ضروری نہیں کہ قدرتی جگہوں پر پیشاب کرنا اشتعال انگیز رویہ ہو لیکن اس کا انحصار آپ کے نکتہ نظر پر ہے۔ اس معاملے میں یہ قانون کے دائرے میں آتا ہے، جس کے تحت سرحد پر اشتعال انگیز رویے کے مظاہرے پر پابندی ہے۔‘

ناورے کے قانون کے تحت ’سرحد پر ہمسایہ ممالک یا ان کے حکام کے خلاف اشتعال انگیزی کا مظاہرہ نہیں کیا جا سکتا۔‘ہوئیلونڈ، جو ہمسایہ مملک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کا احترام یقینی بنائے رکھنے کے ذمہ دار ہیں، کے مطابق روسی حکام نے سرحد پر پیشاب کیے جانے کے حوالے سے کبھی شکایت نہیں کی۔

بیرنٹس آبزرور نامی ویب سائٹ نے یاد دلایا ہے کہ کئی سال پہلے ناروے کے سرحدی حکام نے روس کی طرف پتھر پھینکنے والے چار افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔گذشتہ موسم سرما میں نگرانی کے لیے نصب کیمرے نے ایک خاتون کی فوٹیج بنائی تھی جنہیں آٹھ سو کرونا جرمانہ کیا گیا۔ خاتون نے اپنا بایاں ہاتھ سرحد کی دوسری جانب رکھ دیا تھا۔

ہوئیلونڈ کا کہنا تھا: ’آپ اس کارروائی کو سخت سمجھ سکتے ہیں لیکن ہم سرحدوں سے متعلق قواعد پر اسی طرح عمل کرتے ہیں جیسے وہ ہیں۔‘ناورے کی روس کے ساتھ 197.7 کلو میٹر طویل سرحد آرکٹک میں نیٹو کی شمالی سرحد ہے۔ماسکو اور اوسلو کے درمیان روایتی خوشگوار تعلقات چلے آ رہے ہیں، تاہم 2014 میں روس کے کریمیا پر قبضے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔

چالیس گاؤں میں موسلادھار بارش تحصیل میں سیلاب کا قہر علاقہ کو گھیرا

ایس ڈی آر ایف کا دستہ بلایاگیا کنڑ گھاٹ میں چٹان دھنسنے سے آمدورفت متاثر
جلگاؤں (سعیدپٹیل) مندکھیڈے( چالیس گاؤں)دھرن اورفلو ہوجانے سے گاؤں میں پانی گھس آیا۔محکمہ موسمیات نے شمالی مہاراشٹر یعنی خاندیش میں موسلادھار بارش کا اشارہ دیاہے۔گذشتہ پیر کی رات میں چالیس گاؤں تعلقہ کے علاقہ میں ہوئی موسلادھار بارش کی وجہ سے تیتور و ڈونگری ندیوں میں سیلاب آنے سے سیلاب میں دو افراد کے بہے جانے کا اندیشہ بتایا گیا ہے۔

چالیس گاؤں کے تحصیلدار امول مورے انھوں نے ضلع کلیکٹر سے ایس۔ڈی۔آر۔ایف دستہ کا مطالبہ کیا ہے۔منیاڈ پروجیکٹ پوری طرح لبالب بھر جانے سے گرنا ندی ،اسی طرح جامدا بندھیرا سے ١٥٠٠ کیوسکے پانی کا بہاؤ نکالا گیا۔تیتور ندی ،ڈونگری ندی اور گرنا ندی کے کنارے آباد گاؤں کے باشندوں کو اس خطرے سے الرٹ جاری کرکے آگاہ کردیاگیاہے۔دوسری جانب کنڑ گھاٹ کی شاہراہ پر پہاڑ کی چٹان دھنسنے سے آمدو رفت متاثر ہوئی ہیں۔اس شاہراہ کی آمد و رفت کو خبروں کے مطابق ناندگاؤں۔شیور بنگلہ کے راستے سے موڑ دیاگیا ہے۔ضلع بھر میں پیر کے روز رات میں موسلادھار بارش نے چالیس گاؤں تعلقہ کی ندیوں میں سیلابی صورتحال پیدا کردی ہے۔ان ندیوں میں آۓ سیلاب کا پانی چالیس گاؤں کی شہری آبادی میں داخل ہونے سے سیلاب کی صورتحال بنی ہوئی ہیں۔

موسلادھار بارش نے شہر کے پیر بابا موسی قادری درگاہ کے پاس سے گذرنے والی ندی میں سیلابی صورتحال کی وجہ سے ندی میں طغیانی آنےسے سیلاب کا پانی شہر کے نشیبی علاقوں میں چار سے پانچ فٹ پانی بھرجانے سے شہریان کو مختلف مسائل سے دوچار ہونا پڑا ہے۔تعلقہ بھر میں کئ گاؤوں میں سیلاب نے لوگوں کے گھریلوں سامان کا ،کرانہ ،راشن ،کپڑے اور مویشیوں کے مرنے کی خبریں ذرائع سے موصول ہوئی ہیں۔اسی دوران کئ مکینوں کو اسکولوں میں پناہ دی گئ ہیں۔جبکہ نقصانات کے پنچ نامے فوری طور پر کرکے متاثرین کو مداد دینے کا مطالبہ کیاگیاہے۔ اسی دوران سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کےلیئے ایس ڈی آر ایف کے دستہ کو بلایاگیا ہےجبکہ شہر کے قریب سے اورنگ آباد کی ریاستی شاہراہ پر واقع کنڑ گھاٹ میں پہاڑ کی چٹان دھنسنے سے پانی اور مٹی اور پتھروں کا ملبہ کی وجہ سے کئ مال بردار لاریاں اور سواری کاریں شاہراہ پر پھنسی ہوئی ہیں۔اسی دوران انتظامیہ نے دونوں سمت کی آمدو رفت منسوخ کردی ہیں۔خبروں کے مطابق ملبہ صاف کرکے آمدورفت بحال ہونے میں وقت لگےگا۔

منگل, اگست 31, 2021

””””””’تو تاج محل کو بند کر دیں گے: راشٹریہ ہندو پریشد

اشٹریہ ہندو پریشد (بھارت) نامی تنظیم سے جڑے کچھ لوگوں نے تاج محل کے مغربی دروازے پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور کہا کہ اگر بھگوان کرشن کی شکل اختیار کیے شخص کو تاج محل احاطہ میں داخل نہ ہونے دینے والے اے ایس آئی اسٹاف کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی تو تاج محل کو بند کر دیا جائے گا۔ تنظیم نے اے ایس آئی (آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا) کے افسران کو اس کے اسٹاف اراکین کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے کرشن کی شکل میں پہنچے مہمان کی بے عزتی کی ہے، انھیں معاف نہیں کیا جا سکتا۔

اس واقعہ کے تعلق سے آثار قدیمہ نگراں (آگرہ سرکل) وسنت سورنکار کا کہنا ہے کہ بغیر قبل اجازت کے کسی بھی محفوظ یادگار پر تشہیری سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوانین و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے کرشن کی شکل اختیار کیے شخص کو تاج محل میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اے ایس آئی افسران کا کہنا ہے کہ ماضی میں کئی بار ایسا ہوا ہے جب رام دوپٹہ پہنے لوگوں کے گروپ کو تاریخی یادگار میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔

‎سی سی آئی نے آئی پی ایل 2022 میں دو نئی ٹیموں کے لیے بنیادی قیمت مقرر کی ہ

 سی سی آئی نے آئی پی ایل 2022 میں دو نئی ٹیموں کے لیے بنیادی قیمت مقرر کی ہے

نئی دہلی،31؍اگست: (اردودنیانیوز۷۲)ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) 2022 میں منعقد ہونے والی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے اگلے ایڈیشن میں مزید دو فرنچائزز کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی سی سی آئی نے ان ٹیموں کی بنیادی قیمت 2000 کروڑ روپئے مقرر کی ہے۔ معلومات کے مطابق بورڈ توقع کر رہا ہے کہ نئی فرنچائز کی نیلامی کے دوران یہ رقم 5000 کروڑ روپے تک بڑھ جائے گی۔

اڈانی گروپ، آر پی جی سنجیو گوینکا گروپ اور مشہور فارما کمپنی ٹورینٹ نئی فرنچائز کے حوالے سے رہنمائی کررہی ہیں۔آئی پی ایل میں اس وقت آٹھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ تاہم اگلے ایڈیشن سے 10 ٹیمیں اس میں کھیلتی ہوئی نظرآ سکتی ہیں۔ بورڈ کی گورننگ کونسل کے حالیہ اجلاس میں دو نئی فرنچائزز کی بولی کے عمل سے متعلق تمام قواعد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بی سی سی آئی کے ذرائع کے مطابق کوئی بھی کمپنی 75 کروڑ روپے جمع کر کے بولی کی دستاویز خرید سکتی ہے۔ پہلے بورڈ نئی فرنچائز کے لیے بنیادی قیمت 1700 کروڑ روپئے رکھنے کا ارادہ کررہا تھا، لیکن بعد میں اسے 2000 کروڑ روپئے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق بی سی سی آئی ان دو نئی فرنچائزز کے لیے بولی کے عمل سے 5000 کروڑ روپئے جمع کرنے کی امید کر رہا ہے۔

اگلے سال ٹورنامنٹ میں 74 میچز کھیلے جائیں گے اور یہ سب کے لیے فائدہ مند ثابت ہونے والا ہے۔معلومات کے مطابق صرف وہی کمپنیاں ان نئی فرنچائزز کے لیے بولی لگاسکیں گی جن کا سالانہ کاروبار 3000 کروڑ روپئے سے زیادہ ہے۔ان نئی فرنچائزز کے مقامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، احمدآباد، لکھنؤ اور پونے اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔

احمد آباد کا نریندر مودی اسٹیڈیم اور لکھنؤ کا ایکانا اسٹیڈیم شائقین کو ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت کے باعث ان نئی فرنچائزز کا انتخاب بن سکتا ہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے آئی پی ایل کے چوتھے سیزن میں 10 ٹیمیں کھیل چکی ہیں۔ اس وقت ٹورنامنٹ میں کوچی ٹسکرز اور پونے واریئرز شامل تھے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...