Powered By Blogger

پیر, ستمبر 06, 2021

بی جے پی اور سنگھ پریوار کی منافقت

 سہیل انجم

بات چیف جسٹس آف انڈیا کے تبصرے سے شروع کرتے ہیں۔ انھوں نے گزشتہ دنوں تبلیغی جماعت پر کورونا پھیلانے کے الزام کے حوالے سے کہا کہ میڈیا خبروں کو بہت زیادہ فرقہ وارانہ رنگ دے کر پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں ہندوستان کا نام بدنام ہوتا ہے۔ انھوں نے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے رویے پر بہت سخت تنقید کی اور کہا کہ خبروں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے والو ں کے خلاف حکومت کو کارروائی کرنی چاہیے۔

 

تبلیغی جماعت کے حوالے سے میڈیا رپورٹنگ پر ملک کی مختلف عدالتیں انتہائی سخت تبصرے کر چکی ہیں۔ سپریم کورٹ سے لے کر نچلی عدالتوں تک نے تبلیغی جماعت پر عاید کیے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور ان کے رضا کاروں کے خلاف درج ایف آئی آر خارج کی ہیں۔ انھوں نے میڈیا کو بارہا لتاڑا اور اسے ملک کا ماحول خراب نہ کرنے کی نصیحت کی ہے۔ لیکن میڈیا کے رویے میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا ہے۔ اگر چہ اس نے تبلیغی جماعت کے حوالے سے اپنی خطرناک اور بدترین رپورٹنگ کا سلسلہ بند کر دیا ہے لیکن اس کی مسلم مخالف مہم ابھی بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے تعلق سے جو فرقہ وارانہ رپورٹنگ ہوئی اس سے دنیا میں ہندوستان کی بدنامی ہوتی ہے۔ لیکن صرف اسی وجہ سے ہندوستان کی بدنامی نہیں ہو رہی ہے اور بھی چیزیں ہیں جو ہندوستان کی بدنامی کا سبب بن رہی ہیں۔ میڈیا کو اب ایک نیا ہتھیار مل گیا ہے۔ یعنی طالبان نامی ہتھیار۔ وہ اب طالبان کی آڑ میں ملک کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر کہیں کسی مسلمان کی جانب سے کوئی ایسا بیان سامنے آگیا جس سے طالبان کی حمایت کا ہلکا سا بھی پہلو نکلتا ہو تو اس کا ہوا کھڑا کر دیا جاتا ہے اور تل کا تاڑ بنا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ تمام مسلمانوں کو بدنام کیا جا سکے۔

 

حالانکہ عام مسلمانوں کی جانب سے طالبان کی قطعاً حمایت نہیں کی گئی ہے۔ اگر چند ایک لوگوں نے کوئی ایسا بیان دیا ہے کہ اس سے طالبان کی حمایت کا کوئی پہلو نکلتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورے ملک کے مسلمان ویسا ہی سوچتے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی امن پسندی اور حب الوطنی پر شک کرنے والے خود محب وطن نہیں ہیں۔ خواہ وہ بی جے پی کے لوگ ہوں یا آر ایس ایس کے یا پھر حکومت میں شامل لوگ۔ ان لوگوں کی جانب سے یہ مطالبہ کرنا کہ مسلمان طالبان کی مذمت کرنے والا بیان دیں سراسر غلط اور ناپسندیدہ موقف ہے۔

 

یہاں یہ ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف مسلمانوں سے ایسی توقع رکھی جا رہی ہے کہ وہ طالبان کی مذمت کرنے والا بیان جاری کریں اور دوسری طرف خود حکومت ہند طالبان سے مذاکرات کر رہی ہے۔ دوحہ میں ہندوستان کے سفیر دیپک متل کی طالبان کی سیاسی قیادت کے سربراہ شیر محمد عباس استانکزئی سے ملاقات کو آخر کیا نام دیا جائے گا۔ ایک طرف حکومت ان سے رابطہ کر رہی ہے اور ٹھیک ہی کر رہی ہے۔ کیونکہ یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہندوستان طالبان کے ساتھ روابط قائم کرے تاکہ افغانستان میں ہندوستان کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

 

دوسری طرف آر ایس ایس اور بی جے پی کی جانب سے طالبان کی آڑ میں فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صرف خبروں کو فرقہ وارانہ رنگ میں پیش کرنے سے ہندوستان کی بدنامی نہیں ہو رہی ہے بلکہ طالبان کی آڑ میں ملکی ماحول کو فرقہ واریت کے رنگ میں رنگنے سے بھی ہو رہی ہے۔ لیکن یہ حکومت، آر ایس ایس اور بی جے پی کی منافقت ہے کہ ایک طرف حکومت طالبان سے رابطہ قائم کر رہی ہے اور دوسری طرف مذکورہ عناصر طالبان کے نام پر مسلم دشمن ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دراصل یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حکومت جب سے آئی ہے وہ اپنا ہر قدم انتخابی فائدے کو ذہن میں رکھ کر اٹھا رہی ہے۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد گجرات کے سومناتھ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک پروگرام میں بولتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی بنیاد پر کوئی حکومت قائم تو کی جا سکتی ہے لیکن وہ تادیر نہیں چل سکتی۔ ان کا براہ راست اشارہ طالبان کی طرف تھا اور اس کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ ایسا بیان دینے کی وجہ اترپردیش سمیت ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات ہیں۔ ظاہر ہے جب اس قسم کے بیانات دیئے جائیں گے تو ان کا اثر عوام پر پڑے گا اور وہ ایک خاص ذہن بنانے کی کوشش کریں گے۔

آسام پولیس کی کارروائی کو اسی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس نے چودہ مسلمانوں کے خلاف یو اے پی اے لگا دیا اور انھیں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ ان مسلمانوں نے طالبان کی حمایت کی تھی۔ اور چونکہ پولیس کی نگاہ میں طالبان دہشت گرد ہیں اس لیے ان مسلمانوں نے دہشت گردی کی حمایت کی ہے۔ اگر کسی مسلمان نے دہشت گردی کی حمایت کی ہے تو اس کی تائید نہیں کی جا سکتی۔ لیکن سوال یہ ضرور اٹھتا ہے کہ کیا مسلمانوں کے بیانات اتنے خطرناک تھے کہ ان پر یو اے پی اے جیسا سنگین قانون لگا دیا جائے۔

 

ایک طرف نریند رمودی کی قیادت میں بی جے پی نے مسلمانوں کو سیاسی طور پر غیر اہم بنا دیا ہے اور دوسری طرف بی جے پی اور آر ایس ایس والے مسلمانوں کے نام پر ملک میں فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب مسلمانوں کے ووٹوں کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے تو پھر ان کے نام پر ہندووں کے ایک بڑے طبقے کے ذہن کو خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ 2014 اور پھر 2019 میں مسلمانوں کے ووٹوں کے بغیر بھی بی جے پی کو زبردست اکثریت حاصل ہوئی۔ اس نے سیکولر ووٹوں کو بھی غیر اہم بنا دیا تو پھر اس منافقت کی کیا ضرورت ہے۔

اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ سنگھ پریوار کو ایک دشمن چاہیے جس کا ہوا کھڑا کرکے ہندووں کے ایک طبقے کو ڈرایا جائے، ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا جائے اور پھر ان کے ووٹوں پر قبضہ کیا جائے۔ سنگھ پریوار کیوں نہیں مسلمانوں کو چھوڑ دیتا کہ وہ اپنے طور پر جو کرنا چاہیں کریں۔ اس نے ان کی سیاسی حیثیت بھی ختم کر دی اور ان کو انتخابی میدان میں زندہ بھی رکھا ہے۔ سنگھ پریوار اور خاص طور پر بی جے پی اور اس کے حامیوں کو یہ منافقت چھوڑنی ہو گی۔ لیکن کیا وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ منافقت ہی اس کو سیاسی طور پر مضبوط بنا رہی ہے۔ آج طالبان کا ایشو ہے کل کوئی اور ایشو آجائے گا۔ اگر آئے گا نہیں تو پیدا کیا جائے گا۔ تاکہ ایک نام نہاد دشمن کھڑا کرکے ہندووں کے بڑے طبقے کو ورغلایا جائے اور ووٹوں کی فصل کاٹی جائے۔

20 فٹ لمبے اژدھے نے چڑیا گھر کے نگران کو ڈس لیا

اژدھوں کی دیکھ بھال اور ان کی نگہداشت کرنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کا کام ہے اور کبھی کبھی تو یہ کام انسان کو مصیبت میں بھی بھی پھنسا دیتا ہے۔

ایسا ہی کچھ ہوا کیلی فورنیا کے ایک چڑیا گھر میں جہاں پر 20 فٹ لمبے اژدھے نے اپنی نگرانی پر مامور چڑیا گھر کے ایک کارکن کو ڈس لیا، جس کے بعد وہ اپنا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گیا۔

اژدھے کی جانب سے اپنے نگران کو ڈسنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہو رہی ہے، جبکہ سب سے پہلے اسے کیلی فورنیا میں بنے سانپوں کے ایک چڑیا گھر کے نگران نے اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

چڑیا گھر کے نگران کو اژدھے کی جانب سے ڈسنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا، جب وہ اس مادہ اژدھے کے انڈے اٹھانے کی بار بار کوشش کر رہا تھا۔

اپنے انڈوں کو محفوظ کرنے کے لیے اس اژدھے نے چڑیا گھر کے نگران کو متعدد بار ڈسا

سائرہ بانو آئی سی یو سے منتقل، جلد گھر جانے کی اجازت ملنے کا امکان

بالی ووڈ کی سینئر اداکارہ اور دلیپ کمار (یوسف خان مرحوم) کی بیوہ سائرہ بانو کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) سے منتقل کردیا گیا ہے اور امکان ہے کہ انہیں جلد ہی اسپتال سے فارغ کردیا جائے۔

 

ممبئی کے ہندوجا اسپتال کے مطابق 77 سالہ سائرہ بانو کو اتوار کی سہ پہر آئی سی یو سے شفٹ کردیا گیا ہے۔ایک بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق اسپتال کا کہنا ہے کہ وہ اب کافی متحرک اور بہتر ہیں اور امکان یہی ہے کہ اگر انہیں مزید کوئی مسئلہ درپیش نہ ہوا تو ایک یا دو روز میں گھر جانے کی اجازت دیدی جائے گی۔

ناندیڑ کے علمائے اکرام کی مسلمانوں سے کورونا کا ٹیکہ لگوانے کی اپیل ستمبر 6, 2021

ناندیڑ۔ 6 ستمبر (اردو دنیا نیوز۷۲ ):ناندیڑ شہر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں کافی کمی آچکی ہے۔ حالات بھی بہتر ہو چکے ہیں مگر مرکزی حکومت نے تیسری لہر کا اندیشہ ظاہر کر کے ریاستوں کو چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے اور کورونا سے بچاﺅ کے لئے زیادہ سے زیادہ ٹیکہ کاری پر زور دینے کی ہدایت دی ہے۔ ناندیڑ شہر میں کورونا ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے کام میں پچھلے کچھ دنوں سے سستی نظر آرہی ہے اور لوگ کورونا سے بے خوف نظر آرہے ہیں۔ کورونا سے بچاﺅ کے لئے ویکسین موثر ہے ۔

مسلم عوام میں ویکسین لگوانے کے لیے بیداری پیدا کرنے کی غرض سے آج شہر کے فیمس فنکشن ہال میں ناندیڑ شہر کے مساجد کے امام حضرات و مختلف مکتب فکر کے علمائے اکرام ، کارپوریٹرس اور بلدیہ حکام کی اہم نشست منعقد ہوئی تھی اس نشست میںمیئر بلدیہ موہینی وجئے یونکر، ڈپٹی میئر مسعود احمد خان، سابق چیئرمن شمیم عبداللہ ،کارپوریٹر سید شیر علی، منتجب الدین ، عبدالطیف، محمد ناصر، فاروق حسین بدویل، پرویز خان، رحیم احمد خان، میونسپل کمشنر ڈاکٹر سنیل لہانے، ڈپٹی کمشنر اجیت پال سنگھ سندھو ،مفتی محمد ایوب قاسمی، قاری اسعد صمدی ، مفتی مرتضیٰ مصباحی، مفتی اعظم قاسمی، مفتی عبدالشفیع، مولانا آصف ندوی، مفتی سلیمان رحمانی و دیگر علمائے اکرام ، جمیعت العلماءکے ذمہ داران ، بلدیہ کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سریش بسین، ڈاکٹر عبدالرافع، ڈاکٹر رضوان ، ڈاکٹر رافع و دیگر موجود تھے۔

اس موقع پر علمائے اکرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کے کورونا وباءکے دوران ملک بھر کے علمائے اکرام نے حکومت کا تعاون کیا ہے اور کورونا جیسی مہلک وباءپر قابو پانے کےلئے اقدامات اٹھائے گئے اور حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایتوں پر عمل بھی کیا گیا۔ مسلم معاشرہ میں بیداری پیدا کی گئی ۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے کورونا سے بچاﺅ کےلئے ویکسین حاصل کی ہے۔ جو لوگ ٹیکہ نہیں لگوائیں ہے ان سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کورونا ویکسین کے دونوں ڈوز حاصل کر لیں۔ اپنی اور اپنے افرادخانہ کی صحت کا دھیان رکھیں ۔ کورونا ویکسین کے متعلق سوشل میڈیاپر جو بد گمانیاں جاری تھی اس پر بھی علمائے اکرام نے روشنی ڈال کر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کسی کے بھی بہکاوے میں نہ آئیں اور کورونا سے بچاﺅ کےلئے ٹیکہ لگوائیں

اردو گھر میں اخبارات کے مطالعہ سینٹر کا آغاز

ناندیڑ۔ 6 ستمبر (اردو دنیا نیوز۷۲):ناندیڑشہر کے دیگلورناکہ علاقہ میں واقع ریاست کے پہلے اردو گھر کا افتتاح ۴۱ جولائی کو عمل میں آیا تھا۔ ریاستی احکامات کے مطابق مرحلہ وار اردو گھر کو کارکرد کرنے کی تیاریاں جاری ہے۔ اردو گھر میں موجود ہال کا کرایہ محکمہ تعمیرات کی جانب سے طئے کر کے ضلع کلکٹر آفس کو اس کی اطلاع دی گئی ہے۔

ضلع کلکٹر جو اردو گھر کی نگراں کارثقافتی کمیٹی کے صدر ہے انہوں نے کرایہ کی منظوری کی لیے ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی ترقیات کے پاس فائیل روانہ کی ہے۔ کرایہ طئے ہونے کے بعد مستقبل میں جلد ہی ہال بھی مختلف پروگرامس کے لئے لوگوں کو دستیاب ہوگا۔ اردو گھر میں موجود لائبریری اور اسٹڈی روم میں ابھی تک شروع نہیں ہوئے تھے اس سلسلہ میں اردو گھر ثقافتی کمیٹی کے ممبران نے پچھلے اجلاس میں لائبریری اور اسٹڈی سینٹر کو فوری شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ضلع کلکٹر کی ہدایت پر یکم ستمبر سے اردو گھر میں مقامی اور بیرونی اخبارات مطالعہ کے لئے منگوائے جارہے ہیں۔ اب باقاعدہ طور پر وہاں لوگ آکر اردو کے علاوہ مراٹھی اور انگلش کے زبان کے اخبارات کا بلا معاوضہ مطالعہ روزانہ صبح 8 تا 10 بجے اور شام 5 تا 8 بجے کے درمیان کر سکتے ہیں۔

اردو گھر کے لائبریرین غلام محمد نے بتایا کہ اخبارات کے مطالعہ سینٹر کا اردو گھر میں آغاز ہو چکا ہے اور قارئین آکر اس کا بلا معاوضہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ لائبریری میں کتابیں بھی موجود ہے اور لائبریری بھی آئندہ دو یا تین دن میں عوام کے لئے مکمل کھول دی جائیں گی ۔ لائبریری کے لئے معمولی ماہانہ ممبر شپ فیس رکھی جارہی ہے۔ لائبریری کے لئے ممبر سازی کا کام بھی شروع کیا جارہا ہے۔ یہ لائبریری دن بھر کھلی رہے گی اور جو ممبر شپ حاصل کر چکے وہ افراد اردو گھر کی لائبریری میں آکر کتابوں کا مطالعہ کر سکیں گے۔ اخبارات کے مطالعہ سینٹر کے آغاز کی اطلاع ملنے پر آج اردو گھر ثقافتی کمیٹی کے رکن منتجب الدین نے اردو گھر کا معائنہ کیا اور اخبارات کا مطالعہ کر کے لائبریری کو بھی جلد سے جلد شروع کرنے کی اپیل کی ۔

اتوار, ستمبر 05, 2021

ساس،سسر،سالے اور سالی کو ایک ساتھ پٹرول ڈال کر زندہ جلادینے والا داماد انسان نہیں وحشی درندہ ہے!

ساس،سسر،سالے اور سالی کو ایک ساتھ پٹرول ڈال کر زندہ جلادینے والا داماد انسان نہیں وحشی درندہ ہے!

جمعیت علماء ارریہ کے وفد کی جائے واردات پر حاضری!
مقامی لوگوں کے مطابق مقامی تھانہ کی غفلت سے یہ دردناک واقعہ رونما ہوا۔
تاثرات:محمداطہرالقاسمی
جنرل سکریٹری
جمعیت علماء ارریہ
                                     05/09/2021
                               
___________________________

ضلع ارریہ کے بلاک پلاسی کے تحت برہٹ گاؤں میں داماد محمد مدثر نے اپنے سسر حافظ محمد ارشاد،ساس بی بی مرضینہ،سالا محمد ابوذر اور سالی شائستہ پروین کے خلاف جس درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پٹرول چھڑک کر آگ لگادی اور سوائے سالی شائستہ پروین کے (جو ہاسپیٹل میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے) تمام رشتے داروں کو موت کے گھاٹ اتاردیا ؛ یہ دردناک واقعہ حیوانیت اور درندگی کی بدترین مثال ہے۔شوہر کے ذریعے اولا بیوی کو طلاق مغلظہ دینا اور پھر محض دو ہفتے کے اندر بیوی کو سسرال واپس آنے پر مجبور کرنے کے لئے سسرال والوں پر ظلم وتشدد کی تمام حدیں پار کرجانا کہیں نہ کہیں مسلم نوجوانوں کی دین سے دوری،آوارہ گردی اور بےراہ روی کے ساتھ پورے مسلم سماج کو کٹہرے میں کھڑا کردینے کی ایک بدترین مثال ہے۔(جبکہ بیوی شاید اس لئے بچ گئی کہ انہیں خوف کے مارے  خالہ کے گھر پہنچادیا گیا تھا)
ایسا نہیں ہے کہ یہ ضلع کا کوئی پہلا واقعہ ہے۔اس سے پہلے رانی گنج کے ڈومریا میں،اس سے پہلے بدھیسری رام پور میں اور اس سے پہلے مادھوپاڑہ میں ان جیسے دردناک واقعات اپنے ہی سماج کے لوگ اپنے ہی رشتے داروں کے خلاف انجام دے چکے ہیں۔گرچہ پرسوں(3/ستمبر 2021) کے تازہ واقعہ کے علاوہ تمام واقعات میں ضلع پرشاسن نے ظالموں کو کیفرکردار تک پہنچایا ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر ان بدترین واقعات پر روک کیسے لگے گی؟
اس سلسلے میں ایک طرف تو مسلم نوجوانوں میں دین کی بنیادی تعلیم اور ان کے اندر خوف خدا پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے تو دوسری طرف ضلع انتظامیہ کو ایسے انسانیت سوز مظالم کے روک تھام کے لئے انتہائی سنجیدگی اور ایمانداری کے ساتھ ایکشن پلان کی بھی ضرورت ہے۔
 آج بعد نماز ظہر جمعیت علماء ارریہ کے ایک وفد کے ساتھ جب ہم لوگ جائے واردات پر حاضر ہوئے اور جس تنگ و تاریک کمرے میں یہ دردناک واقعہ انجام دیا گیا اس کے معائنہ کے بعد پھونس اور چھپر کے بوسیدہ مکانات کے برآمدے میں غمگین بیٹھی ہوئی آنگن کی خواتین سے واقعہ کی تحقیقات چاہی تو مرحوم حافظ ارشاد کے بڑے بیٹے محمد عثمان اور ان کی خالہ زرینہ نے بولنا شروع کیا تو وفد کے تمام اراکین کے ساتھ خود میری بھی ہچکیاں بندھ گئیں۔پھر مجمع میں موجود تمام مرد وعورت اور بچے بوڑھے رونے لگے۔ہم نے کافی ضبط کے بعد تفصیلات چاہی تو خالہ زرینہ نے جو جانکاری فراہم کی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ واردات کے پیچھے سب سے بڑی لاپراوہی مقامی تھانہ کی ہے۔جس کی وجہ سے ورثاء کے ساتھ مقامی لوگوں میں بھی تھانہ کے خلاف شدید غم وغصے کا ماحول نظر آیا۔
حافظ ارشاد مرحوم کی عمر دراز سالی زرینہ جو اب اس اجڑے گھر کی نگہبانی کررہی ہے۔وہ آنگن میں موجود مجمع کے سامنے جمعیت کی ٹیم کو اپنی آپ بیتی بتاتے بتاتے دم بخود ہوجاتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ وحشی درندہ محمد مدثر کے ظلم وتشدد کی اطلاع پلاسی تھانہ کو پیشگی دے دی گئی تھی بلکہ ایک ہفتہ قبل جب محمد مدثر نے مرحوم سسر حافظ ارشاد کے سر پر آنگن میں بڑے پتھر سے حملہ کردیا تھا تب ہم نے تھانہ کو بلایا اور مدد مانگی تھی تو ہمیں کوئی مدد نہیں ملی۔تھانہ کو پچھلی یہ ساری خبر ہونے کے باوجود پرسوں رات یہ اندوہناک حادثہ رونما ہوگیا۔اگر پولیس کے ذریعے پوری ذمےداری اور احساس جواب دہی کے ساتھ معاملہ کو ہینڈل کیا جاتا تو شاید یہ برے دن دیکھنے کو نہیں ملتے۔
ورثاء کی پیش کردہ تفصیلات کے مطابق وہاں موجود میڈیا کے توسط سے جمعیت علماء ارریہ نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ کہ فوری طورپر قاتل داماد کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں کیفرکردار تک پہنچایا جائے،مقامی تھانے دار کو برخاست کرتے ہوئے ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے اور مقتول کے ورثاء کے ساتھ چار میں سے چوتھی آگ میں جھلسی شائستہ پروین کے بہتر علاج کے لئے معقول معاوضہ دیا جائے۔
ساتھ ہی جمعیت نے علاقے کے ساتھ دیگر تمام اصحابِ خیر سے بھی اپیل کی ہے کہ اس اجڑے اور ویران گھر میں موجود ایک جوان بچی کی شادی(جسے حافظ جی اب جلد ہی کروانا چاہتے تھے)کے انتظام کے ساتھ دیگر جملہ معصوم بچے اور بچیوں کی کفالت کے لئے آگے آئیں۔ 
وفد میں جمعیت علماء بلاک جوکی ہاٹ کے صدر قاری امتیاز احمد،بلاک جوائنٹ سیکرٹری مولانا دانش قمر،جمعیت علماء بلاک پلاسی کے سکریٹری قاری احتشام الحق،نائب صدر مولانا سالم ظفر قاسمی،جوائنٹ سیکرٹری مولانا اسد اللہ،حافظ منظور احمد بوریا و دیگر احباب شامل تھے۔
اخیر میں جمعیت کے وفد نے بنیادی گھریلو ضروریات کے لئے متاثرین کے اہل خانہ کو ہنگامی چندہ کرکے تقریباً دس ہزار روپے بطور تعاون پیش کرتے ہوئے ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد قراردیا اور آگے بھی ہرموڑ پر شانہ بشانہ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کرائی۔
آنگن سے واپسی پر گھر کی ڈری سہمی اور روتی بلکتی خواتین اور بیٹے محمد عثمان نے جمعیت کی پوری ٹیم کو دعائیں دیتے ہوئے رخصت کیا۔

ایک شخص کے پیٹ سے نگلے ہوئے نوکیا 3310 کو نکال لیا گیا

نوکیا 3310 ایسا موبائل فون ہے جو 2 دہائیوں سے لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے۔ویسے تو نوکیا نے 2005 میں اس کی فروخت ختم کردی تھی مگر 2017 میں اس کی نئی شکل میں واپسی ہوئی۔

مگر کیا کوئی فرد اس موبائل فون کو نگل سکتا ہے؟ یورپی ملک کوسوو میں ایسا ہی حیران کن واقعہ پیش آیا۔

پریسٹینا نامی شہر میں 33 سالہ شخص کے معدے سے ڈاکٹروں نے نوکیا 3310 کو نکالا۔حیران کن طور پر یہ موبائل فون 4 دن سے اس شخص کے معدے میں موجود تھا اور یہ معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ اس نے کب اور کیسے اسے نگل لیا۔

کامیاب آپریشن کے ذریعے اسے نکالنے والے ڈاکٹروں نے فیس بک پر اس فون کی تصاویر بھی پوسٹ کیں جبکہ ایکسرے اور اینڈو اسکوپ تصاویر میں بھی اسے دیکھا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹروں نے اس موبائل فون کو معدے کو کاٹے بغیر نکالنے میں کامیاب حاصل کی اور اس کے لیے خصوص ڈیوائسز اینڈو اسکوپ کا استعمال کیا گیا اور 2 گھنٹے میں فون نکال لیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق اس عمل کے دوران کوئی پیچیدگیاں پیدا نہیں ہوئیں۔متاثرہ شخص نے فون نگلنے کے بعد پیٹ میں درد کے باعث ہسپتال سے رجوع کیا تھا۔

طبی ماہرین نے بتایا کہ بیٹری فون کا سب سے خطرناک حصہ ہوتا ہے جس کے پھٹنے کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ نققصان دہ کیمیکلز کا اخراج بھی ہوسکتا تھا۔موبائل فون نکلنے کے بعد اب اس شخص کی حالت بہتر ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...