Powered By Blogger

پیر, ستمبر 06, 2021

مظفرنگر میں کسان مہاپنچایت لاکھوں کسانوں کی شرکت

(مظفرنگر میں کسان مہاپنچایت لاکھوں کسانوں کی شرکت )زرعی قوانین کے خلاف احتجاج'مرکز اور یوپی حکومت پر تنقید
راکیش ٹکیت نے اسٹیج سے 'اللہ اکبر' اور 'ہر ہر مہادیو' کے نعرے لگائے

مظفرنگر: مغربی اتر پردیش کے مظفر نگر میں اتوار کے روز زرعی قوانین کے خلاف تاریخی کسان مہاپنچایت کا انعقاد عمل میں لایاگیا۔ اس پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے مرکز اور اتر پردیش کی یوگی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹکیت نے کہا کہ اب تک گنّے کا ایک روپیہ بھی نہیں بڑھایا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یوگی حکومت کمزور ہے، ایک روپیہ بھی بڑھانے سے قاصر ہے۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ ان کا مقصد صرف یوپی کو بچانا نہیں ہے بلکہ وہ پورے ملک کو بچانا چاہتے ہیں۔ کسانوں کی کھیتی بکنے کے دھانے پر ہے۔ ہماری زمینیں گنّے کی پٹی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم گنّے کے دام 450 روپے فی کنٹل دیں گے۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ جب پہلے کی حکومتوں نے داموں میں اضافہ کیا تھا تو یوگی حکومت نے ایک روپیہ بھی اضافہ کیوں نہیں کیا!ٹکیت نے کہا کہ یہ لوگ ریلوے بیچ رہے ہیں۔ اگر ریلوے فروخت ہو جائے گی تو ساڑھے چار لاکھ لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ ملازمین کی پنشن ختم کی جا رہی ہے لیکن ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کو پنشن دی جا رہی ہے۔ٹکیت نے کہا کہ کسان 9 ماہ سے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، لیکن چند مراحل کے بعد حکومت نے مذاکرات کو روک دیا۔ اس موقع پر راکیش ٹکیت نے مہاپنچایت سے قومی یکجہتی کا پیغام دیا اور بیک وقت اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو کے نعرے لگائے۔ انہوں نے کہا یہ لوگ باٹنے کا کام کر رہے ہیں، ہمیں انہیں روکنا ہوگا۔ پہلے اس ملک میں اللہ اکبر اور ہرہر مہادیو کے نعرے ایک ساتھ لگائے جاتے تھے، آگے بھی لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی کی سرزمین فساد کرانے والوں کے سپرد نہیں کریں گے۔راکیش ٹکیت نے مزیدکہا کہ گزشتہ 9 مہینے سے تحریک چل رہے ہے لیکن حکومت نے بات چیت کرنا بند کر دیا۔ سینکڑوں کسانوں نے جان گنوا دی لیکن ان کے لئے ایک منٹ بھی خاموشی اختیار نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد محض یوپی کو بچانا نہیں بلکہ پورے ملک کو بچانا ہوگا۔ ہر عوامی چیز کو جس طرح بیچا جا رہا ہے اس کی اجازت کس نے دی۔ اس تحریک میں سینکڑوں کسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لیکن حکومت نے ان کے لیے ایک منٹ کی خاموشی بھی نہیں منائی۔ٹکیت نے حکومت سے پوچھا کہ جس طرح حکومت چیزیں بیچ رہی ہے اس کی اجازت کس نے دی

سانپ کو دودھ کب تک پلایا جاسکتا ہے؟

نواب علی اختر

نام نہاد ہندو سنت یتی نرسمہا نند سرسوتی نے پچھلے دنوں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں انتہائی قابل اعتراض باتیں کہیں جس کو لے کر اقلیتی فرقہ میں زبردست غم و غصہ دیکھا گیا جب کہ اکثریتی طبقے کے کچھ انتہا پسند سرسوتی کے دفاع میں آگئے اور اسے ’ہندو ہردے سمراٹ‘ تک کا خطاب دے دیا، مگر اب اسی سمراٹ نے اکثریتی فرقے کی بہن بیٹیوں کے ساتھ ساتھ حکمراں بی جے پی کی خواتین وزراء اور کارکنان کے خلاف قابل اعتراض باتیں کہہ کر بھگوا چولے کو داغدار کیا ہے، اس مہنت نے خواتین کے خلاف ایسی گھٹیا زبان کا استعمال کیا ہے جو سڑک پر گھومنے والے شہدوں کی بھی نہیں ہوتی۔ مگر بی جے پی کی خواتین وزراء گالی کھاکر بھی خاموش ہیں، کیونکہ انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ اگر خود ساختہ سنت کے خلاف زبان کھولی تو ہندو سماج ناراض ہوجائے گا جو بی جے پی کی سیاست کے لیے خطرناک ہوگا۔ ایسے میں گالی کھاکر بھی خاموش رہنا معزز شخصیات کی مجبوری بن گئی ہے۔

 

یتی نرسمہا نند سرسوتی نے جب سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبد الکلام کو ’جہادی‘ کہا تھا تب ہندو سماج کے ایک طبقے نے خوب چٹخارے لے کر اسے سنت کہا، مندر میں پانی پینے پر اقلیتی طبقے کے بچے کو پیٹا گیا پھر بھی سماج کے ایک طبقے نے اسے ’ہندو ہردے سمراٹ‘ کہہ دیا، لیکن سانپ کو دودھ کب تک پلایا جاسکتا ہے؟ سانپ تو سانپ ہے، اس کی فطرت ڈسنا ہے، اور وہ ضرور ڈسے گا۔ اس بار ہمارے ملک کے عوام کے ذریعہ منتخب کی گئیں عزتمآب خواتین وزراء اور خواتین لیڈران کو اس سنت نے کھلے عام گالی دی ہے اور ایسی ویسی گالی نہیں بلکہ بابا کی گھنونی زبان نے ایک زبان میں بی جے پی کی بڑی خواتین وزراء اور لیڈران کو ان کے ساتھ مرد سیاستدانوں کے بستر تک پہنچا دیا۔ سرسوتی کے مطابق سیاست میں اور خاص طور پر بی جے پی میں خواتین جب تک ایک لیڈر کے پاس سے دوسرے لیڈر اور دوسرے لیڈر سے تیسرے لیڈر کے پاس نہیں جاتیں، وہ آگے نہیں بڑھ سکتی ہیں۔

 

سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہے ویڈیومیں یتی نرسمہا نند نے خواتین کے لئے اور ان کے خدوخال کے بارے میں جس طرح کی زبان استعمال کی ہے، اس زبان کو ایک سڑک چھاپ بھی استعمال کرنے میں ہچکچائے گا۔ تازہ ویڈیو کے بعد یتی کو دودھ پلانے والے بی جے پی لیڈر ضرور پچھتا رہے ہوں گے کہ انہوں نے یتی جیسے شخص کو بابا سمجھ کر دودھ پلایا۔ جس کی زبان اور نظریات، خواتین کے لئے اتنی گھٹیا سوچ کو دیکھ اور سن کر سڑک چھاپ شہدے بھی اسے اپنا مہا گرو ماننے لگے ہیں۔ ان سب کے باوجود بی جے پی کی خواتین لیڈران اپنا ’مون برت‘ توڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ یعنی بھگوا پہن کر انہیں کوئی کچھ بھی کہہ کر چلا جائے، ملک میں کہیں بھی ان کی ساتھی خواتین کی ساڑی کھینچ لی جائے،ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ فرق بھی پڑتا ہوگا تو اقتدار کی لالچ میں عزت اور وقار کو گروی رکھ دیا ہوگا۔

 

یوپی میں ایم پی، ایم یل اے اور وزراء کے طور سے مجموعی طور پر 60 خواتین اقتدار کے مزے لے رہی ہیں لیکن ان میں سے ایک نے بھی نرسمہا کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا، کسی خاتون نے یہ نہیں کہا کہ ہمارے کردار اور وقار کی توہین کرنے والے بابا حد میں رہیں۔ خواتین لیڈران کو حکومت کا ڈر سمجھ میں آتا ہے، مگر حکومت اور انتظامیہ کو کس کا ڈر ہے جو ایسے بد زبانوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے گریز کرتی ہے۔ کیا مہذب سماج میں ایسے ہی لوگوں کو پروان چڑھایا جائے گا جو ایک دوسرے کو گالی دیں اور برا بھلا کہیں۔ پچھلے دنوں نئی دہلی کے پریس کلب میں جس وقت یتی نرسمہا نند سرسوتی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کر رہا تھا، اسی وقت اس کے خَلاف کارروائی کی جاتی تو آج نام نہاد باباؤں کو اس طرح کی گندی زبان استعمال کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ان سب کے لئے بی جے پی اور اس کی حکومت ذمہ دار کہی جا سکتی ہے جو یتی نرسمہا نند جیسے لوگ آج بھی کھلے سانڈ کی طرح گھوم گھوم کرسماج کو پراگندہ کر رہے ہیں۔

 

حیرت تو تب زیادہ ہوتی ہے جب ’انقلاب زندہ باد‘ نعرے لگانے والوں کو غدار ثابت کرنے کے لئے ہمارے میڈیا کا ایک طبقہ دن رات ایک کر دیتا ہے مگر یتی کے بیان پرمشتمل اس قابل اعتراض ویڈیو پر کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا ہے۔ ہمارے میڈیا میں اتنی بڑی تبدیلی جمہوریت کو تباہ کرنے کا پیش خیمہ ہے۔ حالیہ چند برسوں میں ہندوستان میں کسی اور شعبہ میں کوئی تبدیلی آئی ہو یا نہ آئی ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ میڈیا میں بہت بڑی تبدیلی آگئی ہے۔ میڈیا کے نقطہ نظر کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ میڈیا اب غیر جانبدار نہیں رہا بلکہ ایک فریق بن گیا ہے اور ملک کے مذہبی ماحول کو پراگندہ کرنے میں سب سے زیادہ سرگرم رول ادا کر رہا ہے۔ اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ ملک کو انتہائی اہمیت کے حامل اور حساس نوعیت کے مسائل درپیش ہوتے ہیں لیکن میڈیا کی اس پر کوئی توجہ نہیں ہوتی بلکہ عوام کو درپیش سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ہندو۔ مسلم پروپگنڈہ کا سہارا لیا جاتا ہے۔

حکومت کی ناکامیوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے اور حکومت سے سوال کرنے کی بجائے میڈیا نے خود کو ایک مخصوص رنگ میں رنگ لیا ہے اور وہ حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے میں زیادہ مصروف ہے۔ حکومت کا دفاع خود حکومت کے ذمہ داران اتنا نہیں کرپاتے جتنا میڈیا نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔ حد یہ ہوگئی ہے کہ حکومت سے سوال کرنے کی بجائے اپوزیشن کے وجود پر ہی سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی اہمیت کو افادیت پر سوال پوچھا جا رہا ہے جبکہ میڈیا کا یہ اولین اور بنیادی فریضہ ہے کہ عوام کو پیش آنے والی مشکلات اور مسائل پر حکومت وقت سے سوال کریں۔ اس کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ اس کی پالیسی ور فیصلوں کو جانچیں اور پرکھیں، لیکن ایسا ہو نہیں رہا ہے۔ بلکہ حکومت سے سوال پوچھنے والوں کو ملک دشمن اور غدار قرار دیتے ہوئے ان کی شبیہہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ویسے تو ابتداء سے فکرمند شہریوں کے گوشوں کی جانب سے اور دانشوروں کی جانب سے ملک کے موجودہ حالات اور میڈیا کے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور جانبدارانہ رول پر تنقیدیں کی جا تی رہی ہیں اور ساتھ ہی حکومت کے فیصلوں کی بھی مخالفت کی جاتی رہی ہے، لیکن حالیہ عرصہ میں دیکھا گیا ہے کہ عدالتوں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔ سپریم کورٹ اور اس کے ججز نے حالیہ وقتوں میں کچھ مواقع پر ناقدانہ رائے کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا اور حکومت کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ کم از کم عدالتوں کا احترام کریں اور ان کی رائے کو محترم سمجھتے ہوئے اپنی روش میں تبدیلی کریں۔ موجودہ حالات جو ملک بھر میں پائے جاتے ہیں وہ میڈیا کی مرہون منت ہی کہے جاسکتے ہیں کیونکہ میڈیا نے ہر معاملے کو ہندو۔ مسلم کی عینک سے دیکھنا اور اسی نظریہ سے عوام کو دکھانا شروع کر دیا ہے۔

بی جے پی اور سنگھ پریوار کی منافقت

 سہیل انجم

بات چیف جسٹس آف انڈیا کے تبصرے سے شروع کرتے ہیں۔ انھوں نے گزشتہ دنوں تبلیغی جماعت پر کورونا پھیلانے کے الزام کے حوالے سے کہا کہ میڈیا خبروں کو بہت زیادہ فرقہ وارانہ رنگ دے کر پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں ہندوستان کا نام بدنام ہوتا ہے۔ انھوں نے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے رویے پر بہت سخت تنقید کی اور کہا کہ خبروں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے والو ں کے خلاف حکومت کو کارروائی کرنی چاہیے۔

 

تبلیغی جماعت کے حوالے سے میڈیا رپورٹنگ پر ملک کی مختلف عدالتیں انتہائی سخت تبصرے کر چکی ہیں۔ سپریم کورٹ سے لے کر نچلی عدالتوں تک نے تبلیغی جماعت پر عاید کیے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور ان کے رضا کاروں کے خلاف درج ایف آئی آر خارج کی ہیں۔ انھوں نے میڈیا کو بارہا لتاڑا اور اسے ملک کا ماحول خراب نہ کرنے کی نصیحت کی ہے۔ لیکن میڈیا کے رویے میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا ہے۔ اگر چہ اس نے تبلیغی جماعت کے حوالے سے اپنی خطرناک اور بدترین رپورٹنگ کا سلسلہ بند کر دیا ہے لیکن اس کی مسلم مخالف مہم ابھی بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے تعلق سے جو فرقہ وارانہ رپورٹنگ ہوئی اس سے دنیا میں ہندوستان کی بدنامی ہوتی ہے۔ لیکن صرف اسی وجہ سے ہندوستان کی بدنامی نہیں ہو رہی ہے اور بھی چیزیں ہیں جو ہندوستان کی بدنامی کا سبب بن رہی ہیں۔ میڈیا کو اب ایک نیا ہتھیار مل گیا ہے۔ یعنی طالبان نامی ہتھیار۔ وہ اب طالبان کی آڑ میں ملک کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر کہیں کسی مسلمان کی جانب سے کوئی ایسا بیان سامنے آگیا جس سے طالبان کی حمایت کا ہلکا سا بھی پہلو نکلتا ہو تو اس کا ہوا کھڑا کر دیا جاتا ہے اور تل کا تاڑ بنا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ تمام مسلمانوں کو بدنام کیا جا سکے۔

 

حالانکہ عام مسلمانوں کی جانب سے طالبان کی قطعاً حمایت نہیں کی گئی ہے۔ اگر چند ایک لوگوں نے کوئی ایسا بیان دیا ہے کہ اس سے طالبان کی حمایت کا کوئی پہلو نکلتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورے ملک کے مسلمان ویسا ہی سوچتے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی امن پسندی اور حب الوطنی پر شک کرنے والے خود محب وطن نہیں ہیں۔ خواہ وہ بی جے پی کے لوگ ہوں یا آر ایس ایس کے یا پھر حکومت میں شامل لوگ۔ ان لوگوں کی جانب سے یہ مطالبہ کرنا کہ مسلمان طالبان کی مذمت کرنے والا بیان دیں سراسر غلط اور ناپسندیدہ موقف ہے۔

 

یہاں یہ ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف مسلمانوں سے ایسی توقع رکھی جا رہی ہے کہ وہ طالبان کی مذمت کرنے والا بیان جاری کریں اور دوسری طرف خود حکومت ہند طالبان سے مذاکرات کر رہی ہے۔ دوحہ میں ہندوستان کے سفیر دیپک متل کی طالبان کی سیاسی قیادت کے سربراہ شیر محمد عباس استانکزئی سے ملاقات کو آخر کیا نام دیا جائے گا۔ ایک طرف حکومت ان سے رابطہ کر رہی ہے اور ٹھیک ہی کر رہی ہے۔ کیونکہ یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہندوستان طالبان کے ساتھ روابط قائم کرے تاکہ افغانستان میں ہندوستان کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

 

دوسری طرف آر ایس ایس اور بی جے پی کی جانب سے طالبان کی آڑ میں فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صرف خبروں کو فرقہ وارانہ رنگ میں پیش کرنے سے ہندوستان کی بدنامی نہیں ہو رہی ہے بلکہ طالبان کی آڑ میں ملکی ماحول کو فرقہ واریت کے رنگ میں رنگنے سے بھی ہو رہی ہے۔ لیکن یہ حکومت، آر ایس ایس اور بی جے پی کی منافقت ہے کہ ایک طرف حکومت طالبان سے رابطہ قائم کر رہی ہے اور دوسری طرف مذکورہ عناصر طالبان کے نام پر مسلم دشمن ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دراصل یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حکومت جب سے آئی ہے وہ اپنا ہر قدم انتخابی فائدے کو ذہن میں رکھ کر اٹھا رہی ہے۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد گجرات کے سومناتھ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک پروگرام میں بولتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی بنیاد پر کوئی حکومت قائم تو کی جا سکتی ہے لیکن وہ تادیر نہیں چل سکتی۔ ان کا براہ راست اشارہ طالبان کی طرف تھا اور اس کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ ایسا بیان دینے کی وجہ اترپردیش سمیت ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات ہیں۔ ظاہر ہے جب اس قسم کے بیانات دیئے جائیں گے تو ان کا اثر عوام پر پڑے گا اور وہ ایک خاص ذہن بنانے کی کوشش کریں گے۔

آسام پولیس کی کارروائی کو اسی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس نے چودہ مسلمانوں کے خلاف یو اے پی اے لگا دیا اور انھیں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ ان مسلمانوں نے طالبان کی حمایت کی تھی۔ اور چونکہ پولیس کی نگاہ میں طالبان دہشت گرد ہیں اس لیے ان مسلمانوں نے دہشت گردی کی حمایت کی ہے۔ اگر کسی مسلمان نے دہشت گردی کی حمایت کی ہے تو اس کی تائید نہیں کی جا سکتی۔ لیکن سوال یہ ضرور اٹھتا ہے کہ کیا مسلمانوں کے بیانات اتنے خطرناک تھے کہ ان پر یو اے پی اے جیسا سنگین قانون لگا دیا جائے۔

 

ایک طرف نریند رمودی کی قیادت میں بی جے پی نے مسلمانوں کو سیاسی طور پر غیر اہم بنا دیا ہے اور دوسری طرف بی جے پی اور آر ایس ایس والے مسلمانوں کے نام پر ملک میں فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب مسلمانوں کے ووٹوں کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے تو پھر ان کے نام پر ہندووں کے ایک بڑے طبقے کے ذہن کو خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ 2014 اور پھر 2019 میں مسلمانوں کے ووٹوں کے بغیر بھی بی جے پی کو زبردست اکثریت حاصل ہوئی۔ اس نے سیکولر ووٹوں کو بھی غیر اہم بنا دیا تو پھر اس منافقت کی کیا ضرورت ہے۔

اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ سنگھ پریوار کو ایک دشمن چاہیے جس کا ہوا کھڑا کرکے ہندووں کے ایک طبقے کو ڈرایا جائے، ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا جائے اور پھر ان کے ووٹوں پر قبضہ کیا جائے۔ سنگھ پریوار کیوں نہیں مسلمانوں کو چھوڑ دیتا کہ وہ اپنے طور پر جو کرنا چاہیں کریں۔ اس نے ان کی سیاسی حیثیت بھی ختم کر دی اور ان کو انتخابی میدان میں زندہ بھی رکھا ہے۔ سنگھ پریوار اور خاص طور پر بی جے پی اور اس کے حامیوں کو یہ منافقت چھوڑنی ہو گی۔ لیکن کیا وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ منافقت ہی اس کو سیاسی طور پر مضبوط بنا رہی ہے۔ آج طالبان کا ایشو ہے کل کوئی اور ایشو آجائے گا۔ اگر آئے گا نہیں تو پیدا کیا جائے گا۔ تاکہ ایک نام نہاد دشمن کھڑا کرکے ہندووں کے بڑے طبقے کو ورغلایا جائے اور ووٹوں کی فصل کاٹی جائے۔

20 فٹ لمبے اژدھے نے چڑیا گھر کے نگران کو ڈس لیا

اژدھوں کی دیکھ بھال اور ان کی نگہداشت کرنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کا کام ہے اور کبھی کبھی تو یہ کام انسان کو مصیبت میں بھی بھی پھنسا دیتا ہے۔

ایسا ہی کچھ ہوا کیلی فورنیا کے ایک چڑیا گھر میں جہاں پر 20 فٹ لمبے اژدھے نے اپنی نگرانی پر مامور چڑیا گھر کے ایک کارکن کو ڈس لیا، جس کے بعد وہ اپنا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گیا۔

اژدھے کی جانب سے اپنے نگران کو ڈسنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہو رہی ہے، جبکہ سب سے پہلے اسے کیلی فورنیا میں بنے سانپوں کے ایک چڑیا گھر کے نگران نے اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

چڑیا گھر کے نگران کو اژدھے کی جانب سے ڈسنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا، جب وہ اس مادہ اژدھے کے انڈے اٹھانے کی بار بار کوشش کر رہا تھا۔

اپنے انڈوں کو محفوظ کرنے کے لیے اس اژدھے نے چڑیا گھر کے نگران کو متعدد بار ڈسا

سائرہ بانو آئی سی یو سے منتقل، جلد گھر جانے کی اجازت ملنے کا امکان

بالی ووڈ کی سینئر اداکارہ اور دلیپ کمار (یوسف خان مرحوم) کی بیوہ سائرہ بانو کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) سے منتقل کردیا گیا ہے اور امکان ہے کہ انہیں جلد ہی اسپتال سے فارغ کردیا جائے۔

 

ممبئی کے ہندوجا اسپتال کے مطابق 77 سالہ سائرہ بانو کو اتوار کی سہ پہر آئی سی یو سے شفٹ کردیا گیا ہے۔ایک بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق اسپتال کا کہنا ہے کہ وہ اب کافی متحرک اور بہتر ہیں اور امکان یہی ہے کہ اگر انہیں مزید کوئی مسئلہ درپیش نہ ہوا تو ایک یا دو روز میں گھر جانے کی اجازت دیدی جائے گی۔

ناندیڑ کے علمائے اکرام کی مسلمانوں سے کورونا کا ٹیکہ لگوانے کی اپیل ستمبر 6, 2021

ناندیڑ۔ 6 ستمبر (اردو دنیا نیوز۷۲ ):ناندیڑ شہر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں کافی کمی آچکی ہے۔ حالات بھی بہتر ہو چکے ہیں مگر مرکزی حکومت نے تیسری لہر کا اندیشہ ظاہر کر کے ریاستوں کو چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے اور کورونا سے بچاﺅ کے لئے زیادہ سے زیادہ ٹیکہ کاری پر زور دینے کی ہدایت دی ہے۔ ناندیڑ شہر میں کورونا ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے کام میں پچھلے کچھ دنوں سے سستی نظر آرہی ہے اور لوگ کورونا سے بے خوف نظر آرہے ہیں۔ کورونا سے بچاﺅ کے لئے ویکسین موثر ہے ۔

مسلم عوام میں ویکسین لگوانے کے لیے بیداری پیدا کرنے کی غرض سے آج شہر کے فیمس فنکشن ہال میں ناندیڑ شہر کے مساجد کے امام حضرات و مختلف مکتب فکر کے علمائے اکرام ، کارپوریٹرس اور بلدیہ حکام کی اہم نشست منعقد ہوئی تھی اس نشست میںمیئر بلدیہ موہینی وجئے یونکر، ڈپٹی میئر مسعود احمد خان، سابق چیئرمن شمیم عبداللہ ،کارپوریٹر سید شیر علی، منتجب الدین ، عبدالطیف، محمد ناصر، فاروق حسین بدویل، پرویز خان، رحیم احمد خان، میونسپل کمشنر ڈاکٹر سنیل لہانے، ڈپٹی کمشنر اجیت پال سنگھ سندھو ،مفتی محمد ایوب قاسمی، قاری اسعد صمدی ، مفتی مرتضیٰ مصباحی، مفتی اعظم قاسمی، مفتی عبدالشفیع، مولانا آصف ندوی، مفتی سلیمان رحمانی و دیگر علمائے اکرام ، جمیعت العلماءکے ذمہ داران ، بلدیہ کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سریش بسین، ڈاکٹر عبدالرافع، ڈاکٹر رضوان ، ڈاکٹر رافع و دیگر موجود تھے۔

اس موقع پر علمائے اکرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کے کورونا وباءکے دوران ملک بھر کے علمائے اکرام نے حکومت کا تعاون کیا ہے اور کورونا جیسی مہلک وباءپر قابو پانے کےلئے اقدامات اٹھائے گئے اور حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایتوں پر عمل بھی کیا گیا۔ مسلم معاشرہ میں بیداری پیدا کی گئی ۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے کورونا سے بچاﺅ کےلئے ویکسین حاصل کی ہے۔ جو لوگ ٹیکہ نہیں لگوائیں ہے ان سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کورونا ویکسین کے دونوں ڈوز حاصل کر لیں۔ اپنی اور اپنے افرادخانہ کی صحت کا دھیان رکھیں ۔ کورونا ویکسین کے متعلق سوشل میڈیاپر جو بد گمانیاں جاری تھی اس پر بھی علمائے اکرام نے روشنی ڈال کر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کسی کے بھی بہکاوے میں نہ آئیں اور کورونا سے بچاﺅ کےلئے ٹیکہ لگوائیں

اردو گھر میں اخبارات کے مطالعہ سینٹر کا آغاز

ناندیڑ۔ 6 ستمبر (اردو دنیا نیوز۷۲):ناندیڑشہر کے دیگلورناکہ علاقہ میں واقع ریاست کے پہلے اردو گھر کا افتتاح ۴۱ جولائی کو عمل میں آیا تھا۔ ریاستی احکامات کے مطابق مرحلہ وار اردو گھر کو کارکرد کرنے کی تیاریاں جاری ہے۔ اردو گھر میں موجود ہال کا کرایہ محکمہ تعمیرات کی جانب سے طئے کر کے ضلع کلکٹر آفس کو اس کی اطلاع دی گئی ہے۔

ضلع کلکٹر جو اردو گھر کی نگراں کارثقافتی کمیٹی کے صدر ہے انہوں نے کرایہ کی منظوری کی لیے ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی ترقیات کے پاس فائیل روانہ کی ہے۔ کرایہ طئے ہونے کے بعد مستقبل میں جلد ہی ہال بھی مختلف پروگرامس کے لئے لوگوں کو دستیاب ہوگا۔ اردو گھر میں موجود لائبریری اور اسٹڈی روم میں ابھی تک شروع نہیں ہوئے تھے اس سلسلہ میں اردو گھر ثقافتی کمیٹی کے ممبران نے پچھلے اجلاس میں لائبریری اور اسٹڈی سینٹر کو فوری شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ضلع کلکٹر کی ہدایت پر یکم ستمبر سے اردو گھر میں مقامی اور بیرونی اخبارات مطالعہ کے لئے منگوائے جارہے ہیں۔ اب باقاعدہ طور پر وہاں لوگ آکر اردو کے علاوہ مراٹھی اور انگلش کے زبان کے اخبارات کا بلا معاوضہ مطالعہ روزانہ صبح 8 تا 10 بجے اور شام 5 تا 8 بجے کے درمیان کر سکتے ہیں۔

اردو گھر کے لائبریرین غلام محمد نے بتایا کہ اخبارات کے مطالعہ سینٹر کا اردو گھر میں آغاز ہو چکا ہے اور قارئین آکر اس کا بلا معاوضہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ لائبریری میں کتابیں بھی موجود ہے اور لائبریری بھی آئندہ دو یا تین دن میں عوام کے لئے مکمل کھول دی جائیں گی ۔ لائبریری کے لئے معمولی ماہانہ ممبر شپ فیس رکھی جارہی ہے۔ لائبریری کے لئے ممبر سازی کا کام بھی شروع کیا جارہا ہے۔ یہ لائبریری دن بھر کھلی رہے گی اور جو ممبر شپ حاصل کر چکے وہ افراد اردو گھر کی لائبریری میں آکر کتابوں کا مطالعہ کر سکیں گے۔ اخبارات کے مطالعہ سینٹر کے آغاز کی اطلاع ملنے پر آج اردو گھر ثقافتی کمیٹی کے رکن منتجب الدین نے اردو گھر کا معائنہ کیا اور اخبارات کا مطالعہ کر کے لائبریری کو بھی جلد سے جلد شروع کرنے کی اپیل کی ۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...