پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائر میں لانے مذاکرات کل لکھنؤ میں جی ایس ٹی کونسل کا اجلاس
پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائر میں لانے مذاکرات کل لکھنؤ میں جی ایس ٹی کونسل کا اجلاسحیدرآباد۔15ستمبر(سیاست نیوز) جی ایس ٹی کونسل کی جانب سے پٹرولیم اشیاء بالخصوص پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرہ میں لانے کے سلسلہ میں مذاکرات کی توقع کی جا رہی ہے اورکہا جا رہاہے کہ 17 ستمبر کو لکھنؤ میں منعقد ہونے والے جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس کے دوران اس سلسلہ میں فیصلہ کیا جائے گا۔ جولائی 2017 سے ملک میں جی ایس ٹی کا نفاذ عمل میں لایا جاچکا ہے لیکن پٹرولیم اشیاء جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں نہ ہونے اور ان پر مرکزی وریاستی حکومتوں کی جانب سے ویاٹ کے نفاذ کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے لیکن اگر جی ایس ٹی کونسل کی جانب سے تیار کردہ تجاویز کے مطابق اگر 17 ستمبر کو لکھنؤ کے اجلاس میں پٹرولیم اشیاء کو جی ایس ٹی کے دائرہ میں لانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جائے گی اور اس بھاری گراوٹ کے بعد ملک بھر میں پٹرول کی قیمت 75 روپئے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 68 روپئے فی لیٹر تک ہوجائے گی۔ماہ جون میں کیرالہ ہائی کورٹ کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرہ میں لانے کے اقدامات کا جائزہ لینے کی ہدایت کے بعد جی ایس ٹی کونسل نے کافی غور و خوص کیا ہے اور اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ 17 ستمبر کو منعقد ہونے والے اجلاس میں اس مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے اس پر مذاکرات کئے جائیں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ جی ایس ٹی کونسل کی جانب سے اس تجویز کی پیشکشی کے بعد ریاستی حکومتوں کے موقف سے آگہی حاصل کی جائے گی اور اجلاس میں ہی قطعی فیصلہ کئے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں ریاستی وزرائے فینانس کی شرکت اور ان کی موجودگی میں پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی میں شامل کئے جانے کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مرکزی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی وباء کے سبب متاثر ہونے والی معیشت کو مستحکم بنانے کے لئے پٹرول اور ڈیزل پر عائد کئے جانے والے محصولات میں اضافہ کیا گیا تھا اور مرکز کے اس فیصلہ کے بعد ریاستی حکومتوں کی جانب سے بھی ویاٹ میں اضافہ کا فیصلہ کرتے ہوئے معاشی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ M تفصیلات کے مطابق مالی سال 2020-21 کے دوران پٹرول اور ڈیزل پرعائد کئے جانے والے محصولات سے مرکزی حکومت کو 3لاکھ 71ہزار 726 کروڑ کی آمدنی حاصل ہوئی تھی جبکہ ریاستی حکومتوں نے ویاٹ کے ذریعہ 2لاکھ 2ہزار937کروڑ روپئے حاصل کئے تھے۔Mپولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر اپنے والد کے ہاتھوں اغوا ہونے والی ایک لڑکی 14 برس کے بعد امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر اپنی ماں سے ملی ہے۔سنہ 2007 میں جیکولین ہرنینڈس چھ سال کی عمر میں لاپتہ ہوگئی تھیں اور یہ معمہ اب تک حل نہیں ہوا تھا لیکن پھر رواں ماہ انھوں نے خود اپنی والدہ سے فیس بک پر رابطہ کیا۔
انھوں نے اپنی والدہ اینجلیکا وینسز سالگاڈو کو بتایا کہ وہ میکسیکو میں ہیں۔ اب جیکولین کی عمر 27 برس ہے۔ماں بیٹی کی ملاقات پیر کے روز ٹیکساس میں ہوئی۔ ماں بیٹی کی یہ ملاقات ریاستی اور وفاقی سطح پر موجود بہت سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں سے ممکن ہوئی۔ہرنینڈس کا تعلق کلرمونٹ فلوریڈا سے ہے، انھیں ان کے والد پیبلو ہرنینڈس نے مبینہ طور پر 22 دسمبر 2007 کو ان کے گھر سے اغوا کیا تھا۔
پیبلو ہرنینڈس اس وقت کہاں ہیں یہ واضح نہیں تاہم ان کے خلاف سنگین جرم کا ارتکاب کرنے پر وارنٹ جاری ہوا ہے۔دو ستمبر کو وینسزسالگاڈو نے کلرمونٹ پولیس سے رابطہ کیا اور کہا کہ ان سے ایک لڑکی نے آن لائن رابطہ کیا ہے اور وہ ان کی بیٹی ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔
فلوریڈا اور ٹیکساس کی پولیس اور محکمہ داخلہ کے سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے ایک منصوبہ تیار کیا تاکہ وہ اس نوجوان لڑکی کی وینسز سالگاڈو سے ملاقات کے دوران اس کی شناخت کی تصدیق کریں۔
فیس بک پر ہونے والے رابطے میں ہرنینڈز اور وینسز سالگیڈو نے ٹیکساس میں لاریڈو کے داخلی مقام پر ملنے کے لیے رضامندی کا اظہار کیا۔بہت جلد ہی دستاویزات نے ثابت کر دیا کہ وہ ان کی بیٹی ہیں۔پیر کو جاری بیان میں کلرمونٹ پولیس کے چیف چارلس براڈ نے کہا کہ ایک مشترکہ کوشش تھی جس سے بیٹی 14 سال بعد ماں سے ملی۔بی بی سی کی جانب سے کلرمونٹ پولیس ڈیپارٹمنٹ سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا لیکن کوئی فوری ردعمل نہیں مل سکا۔




