Powered By Blogger

جمعہ, ستمبر 17, 2021

آئی پی ایل 2021:شائقین بھی ہوں گے یواے ای کے اسٹیڈیم میں

آئی پی ایل 2021:شائقین بھی ہوں گے یواے ای کے اسٹیڈیم میں

آئی پی ایل 2021:شائقین بھی ہوں گے یواے ای کے اسٹیڈیم میں
آئی پی ایل 2021:شائقین بھی ہوں گے یواے ای کے اسٹیڈیم میں

 اردو دنیا نیوز۷۲ / ایجنسی

آئی پی ایل ایک بار پھر شروع ہونے والا ہے اور متحدہ عرب امارات کے اسٹیڈیموں میں اس بار شائقین کو بھی جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے لیے ٹکٹ کی قیمتوں کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ مکمل طور ویکسین شدہ شائقین کو ہی متحدہ عرب امارات میں میچز میں شرکت کی اجازت ہوگی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ 19 ستمبر2021 کو متحدہ عرب امارات میں دوبارہ شروع ہو رہی ہے جس میں گذشتہ برس کے چیمپئن ممبئی انڈینز کا مقابلہ چنئی سپر کنگز سے ہونے جا رہا ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی ٹی 20 لیگ کا دوبارہ آغاز کوویڈ 19 وبائی امراض کے پھیلنے کے بعد پہلی بار متحدہ عرب امارات کے اسٹیڈیموں میں منعقد ہو رہا ہے۔

محتدہ عرب امارات کے دبئی ، ابوظہبی اور شارجہ کے تین اسٹیڈیموں میں میچ کھیلے جائیں گے۔ تینوں اسٹیڈیمز میں شائقین کے لیے محدود تعداد میں سیٹیں ہی دستیاب ہیں۔

 واضح ہو کہ جو لوگ براہ راست میچ دیکھنا چاہتے ہیں انہیں دبئی اور شارجہ میں زیادہ تر میچوں کے لیے 200 درہم ادا کرنا ہوں گے۔جب کہ ابوظہبی میں شائقین صرف 60 درہم میں آئی پی ایل کا میچ دیکھ سکتے ہیں۔ میچ کے ٹکٹ پہلے ہی آفیشل ویب سائٹ(https://www.iplt20.com/) پر فروخت ہو چکے ہیں، جب کہ پلٹینیم ٹکٹ ابھی بھی خریدے جا سکتے ہیں۔

امارات کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری جنرل مبشر عثمانی نے کہا کہ میزبان کی حیثیت سے ایمریٹس کرکٹ  اپنے اسٹیڈیم میں شائقین کا استقبال کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا  ہے۔ تاہم یہ متحدہ عرب امارات کے حکام کی کوششوں کے بغیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ایمریٹس حکام کی جانب سے سخت منظور شدہ پروٹوکول ہیں، جس کی پیروی ہر حال میں شائقین کو کرنی ہوگی۔

ابوظہبی کرکٹ کے سی ای او میٹ باؤچر نے کہا کہ وہ شائقین کو آئی پی ایل میں محفوظ طریقے سے خوش آمدید کہنے کے لیے پرجوش ہیں۔

باؤچر نے کہا کہ ہم ابوظہبی میں ویوو(VIVO) انڈین پریمیئر لیگ کی میزبانی کے لیے پرجوش ہیں۔

آئی پی ایل ویب سائٹ

 ویب سائٹ(https://www.iplt20.com/

ہندوستان میں اسلام حملہ آوروں سے نہیں مسلم تاجروں کے ذریعہ پہنچا۔مولانا ارشدمدنی

نئی دہلی، 17ستمبر (اردو دنیا نیوز۷۲) ہندوستان میں اسلام کی نشر واشاعت سے متعلق مفروضے کو مسترد کرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ ہندوستان میں اسلام حملہ آوروں کے ذریعہ نہیں بلکہ عرب مسلم تاجروں کے ذریعہ پھیلا جن کے کرداروعمل سے متاثرہوکر لوگوں نے کسی ڈراورلالچ کے بغیر اسلام قبول کرلیا۔انہوں نے یہ بات کرناٹک میں میسورسے متصل ضلع گوڈاگوکے سداپور میں جمعیۃ علمائے ہند کے ذریعہ تعمیر شدہ مکانات کی چابیاں مستحقین میں تقسیم کرتے ہوئے کہی۔مولانا مدنی کے ہاتھوں 2019 میں آئے تباہ کن سیلاب میں بے گھر ہوئے 30لوگوں میں سے 16لوگوں کو مکانات کی چابیاں دی گئیں ان میں غیر مسلم بھی شامل ہیں۔

مولانا مدنی نے اس موقع پرمجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سراسر بے بنیاداورتاریخی طورپر غلط ہے کہ ہندوستان میں اسلام حملہ آوروں کے ساتھ آیا، ہندوستان میں مسلمان سودوسو سال سے نہیں بلکہ تیرہ سوسال سے آبادہیں، مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہندوستان اورعرب کے درمیان اسلام کی آمدسے پہلے سے تجارتی وکاروباری تعلقات رہے ہیں، البتہ اسلام کی آمدکے بعد کچھ مسلم تاجر عرب سے کشتیوں کے ذریعہ کیرالا پہنچے اور یہیں آبادہوگئے، ان کے پاس کوئی فوج اور طاقت نہیں تھی بلکہ یہ ان کاکرداراور اخلاق ہی تھاجس سے متاثرہوکر یہاں کے مقامی لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تاریخ کی کتابوں میں کیرالاکے ہی کچھ راجاؤں کا بھی ذکر ملتاہے، جنہوں نے اسلام قبول کیا ایک راجہ کے تعلق سے یہ ذکر بھی ہے کہ اس نے جب شق القمرکا معجزہ دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا اپنے دربارکے نجومیوں سے اس نے اس بابت دریافت کیا توانہوں نے جو کچھ بتایا اسے سن کر اس کے دل میں عرب جاکر آقاﷺ کی زیارت کرنے کی للک پید اہوئی اور انہوں نے اپنی حکومت کو دوسروں کی نگرانی میں دیکر کشتی کے ذریعہ اپنے سفرکا آغازکیا لیکن راستہ میں ہی اس کی موت واقع ہوگئی، کیرالامیں ہندوستان کی سب سے پہلی مسجد اب بھی موجودہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ محمد بن قاسم کاواقعہ تو اس کے بہت بعد کا ہے، مولانامدنی نے کہا کہ سندھ میں راجہ داہر کی شکست کے بعد جن لوگوں نے محمد بن قاسم سے پناہ طلب کی انہیں پناہ دی گئیں، اس کی وجہ سے ان میں سے بہت سے لوگوں نے مسلمانوں کے اس سلوک سے متاثرہوکر اسلام قبول کرلیا، اس کے لئے کسی طرح کی زورزبردستی کی گئی ہواس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے اورپھر یہ بھی ہے کہ زورزبردستی کے ذریعہ کسی کو مسلمان نہیں کیا جاسکتا۔

مولانا مدنی نے آگے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اس ملک کی خصوصیت ہے کہ پچھلے تیرہ سوبرس سے یہاں ہندوومسلمان ایک دوسرے کے ساتھ محبت واخوت کے ساتھ رہتے آئے ہیں، لیکن اب کچھ لوگ محبت واتحادکے اس پختہ رشتے کو توڑدینا چاہتے ہیں، وہ نفرت اور غلط فہمیوں کو بڑھاوادے رہے ہیں ڈراور خوف کا ماحول پیداکرکے ایک مخصوص طبقہ کے خلاف محاذآرائیاں کی جارہی ہیں، اور اب حالات یہ ہیں کہ کشمیر سے لیکر کنیاکماری تک لوگ ڈراور خوف کے سایہ میں زندگی گزارنے پر مجبورہیں، ایسے لوگوں کو شاید یہ بات معلوم نہیں ہے کہ یہ ملک اتحاداور محبت سے ہی آبادرہ سکتاہے، اور اگر نفرت اور جنگ وجدال کی سیاست کی گئی توپھر یہ ملک تباہ ہوجائے گا۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند پچھلے سوبرس سے ہندستان میں محبتیں بانٹنے کا کام کررہی ہے، وہ اپنا امدادی وفلاحی کام بھی مذہب سے اوپراٹھ کر انسانیت کی بنیادپر کرتی ہے اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ آج جن بے سہارالوگوں کو کرناٹک کے مسلمانوں کے تعاون سے مکانات کی چابیاں دی گئی ہیں، ان میں غیر مسلم بھی شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اقتدارکے لئے نفرت کی سیاست کررہے ہیں اس کے لئے ہمیں عام لوگوں کو بیدارکرنا ہوگا ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ اس ملک میں صدیوں سے ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان جواتحاد قائم ہے اسے ٹوٹنے نہ دیں۔ مسلمان ہندوؤں کی خوشی اورغمی میں شامل ہوں ہندوبھائی مسلمانوں کی خوشی اورغمی میں شامل ہوں اس سے ہی سماج اورمعاشرے میں یکجہتی اور باہمی اتحادکو فروغ دیا جاسکتاہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ہم مایوس نہیں ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ جب لوگ بیدارہوجائیں گے، نفرت ہارے گی اور محبت جیتے گی۔

واضح رہے کہ سداپور کا علاقہ کیرالاکی سرحدپر واقع ہے، کیرالامیں جب سیلاب آیا تھا تو کرناٹک کے ان علاقوں میں بھی تباہ کن سیلاب آیا تھا، کیرالامیں سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کا کام دوسال پہلے ہی مکمل ہوگیا تھا لیکن سداپورمیں زمین کے حصول میں کچھ پریشانی تھی اس لئے بازآبادکاری کے کام میں تاخیرہوئی درمیان میں کورونا کی وبا آگئی اس سے تعمیر کا کام متاثرہوا، تاہم جمعیۃعلماء کرناٹک کے ذمہ داران کی مسلسل کوششوں اور یہاں کے مسلمانوں کے تعاون کے نتیجہ میں یہ مشکل مرحلہ طے پاگیا۔ یہ مکانات چارسواسکوائرفٹ پرمشتمل ہے اور ان کی تعمیر پر فی مکان تین لاکھ روپے (زمین کے علاوہ)لاگت آئی ہے، قابل ذکر ہے کہ مہاراشٹرکے سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری مہم میں جمعیۃعلماء ہندنے 33بے گھر ہوئے خاندانوں کی بازآبادکاری کے منصوبہ کوحتمی شکل دیدی ہے ان میں 18 غیر مسلم خاندان ہیں، یہاں ایک مکان کی تعمیر پر لاگت کا تخمینہ تقریبا چارلاکھ روپے ہے، سیلاب متاثرین کی اس بازآبادکاری مہم میں کرناٹک کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مسلم سوسائٹی سداپورنے خاص طورسے ہرطرح کی مدد فراہم کی۔ مولانامدنی نے اپنے خطاب میں ذاتی طورپر ان تمام لوگوں کا نہ صرف شکریہ اداکیا۔

والدین کو پریشان کرنے والے بیٹے اور اس کی بیوی پر بامبے ہائی کورٹ برہم، فلیٹ خالی کرنے کا حکم

ممبئی: بامبے ہائی کورٹ نے ایک شخص اور اس کی بیوی کو اپنے بزرگ والدین کا گھر ایک مہینے کے اندر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ شخص والدین کو پریشان کرتا تھا اور ان کا گھر خالی کرنے سے انکار کر رہا تھا۔ جسٹس جی ایس کلکرنی کی سنگل بنچ نے اسی ہفتہ یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے آشیش دلال نامی شخص اور ان کے کنبہ کو اپنے بزرگ والدین کا فلیٹ خالی کرنے کا حکم سنایا ہے۔عدالت نے پایا کہ 90 سالہ والد اور 89 سالہ والدہ کا اکلوتہ بیٹا اور اس کی والدہ انہیں پریشان کر رہے ہیں، یہ فلیٹ بزرگ جوڑے کی ملکیت ہے۔ دلال کو فلیٹ خالی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ والدین کو اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے اپنی ہی بیٹوں کی جانب سے استحصال سے خود کو بچانے کے لئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جہاں بزرگ والدین اپنے اکلوتے بیٹے ہاتھوں پریشان ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس کہاوت میں کچھ سچائی ہے کہ بیٹیا سدا کے لئے ہیں اور بیٹے تبھی تک کے لئے جب تک ان کی شادی نہیں ہو جاتی۔بنچ نے کہا کہ سینئر شہری قانون میں یہ التزام کیا گیا ہے کہ سینئر شہریوں کی اولادیں یا رشتہ دار یہ یقینی کریں کہ بزرگ استحصال اور پریشانی سے آزاد ہو کر حسب معمول زندگی گزاریں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ موجودہ معاملہ انتہائی افسوسناک ہے، جہاں شخص دانستہ طور پر والدین کو بزرگی میں آرام دہ زندگی گزارنے سے روک رہا ہے۔

عدالت دلال کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کر رہی تھیں جس میں اس نے سینئر شہری ٹریبیونل کے فیصلہ کو چیلنج کیا تھا۔ اس ٹریبیونل نے دلال اور اس کی بیوی کو فلیٹ خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ معاملہ کی سماعت کے دوران عدالت نے مشاہدہ کیا کہ دلال کے پاس نوی ممبجی اور دھیسر علاقہ میں تین رہائیش مکانات ہیں، پھر بھی وہ والدین کے ساتھ رہنے پر وزر دے رہا ہے۔ بنچ نے دلال کی عرضی خارج کرتے ہوئے 30 دن کے اندار فلیٹ خالی کرنے کا حکم دیا۔

پنچایت الیکشن کو آپسی نفرت کے ماحول سے بچانا ھم سبہوں کی ذمہ داری : ابوالکلام قاسمی شمسی

پنچایت الیکشن کو آپسی نفرت کے ماحول سے بچانا ھم سبہوں کی ذمہ داری : ابوالکلام قاسمی شمسی

الیکشن لڑنا اور اس میں جیت حاصل کرنا جمہوری اور دستوری حق ھے ، الیکشن اسمبلی کا بھی ھوتا ھے اور پنچایت کا بھی ، نگر دونوں الیکشن میں فرق ھے ، اسمبلی الیکشن کا تعلق ایک بڑے علاقہ سے ھوتا ھے،جس میں بہت سے گاؤں شامل ھوتے ہیں ۔ اور پنچایت الیکشن کا تعلق گاؤں سے ھوتا ھے ،جس میں دو تین گاؤں شامل ھوتے ہیں ،اس لئے اسمبلی الیکشن کے مقابلہ میں پنچایت الیکشن میں لوگ زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں ،اور الیکشن کا وقت آتے ھی ہر گاؤں میں ہو ہنگامہ شروع ھو جاتا ھے ،ایک پنچا یت میں مکھیا اور سرپنچ کے کئی کئی امیدوار کھڑے ھو جاتے ھیں ،پھر مقابلہ کا دور شروع ھو جاتا ھے اور کھینچا تانی کا معاملہ زور پکڑلیتا ھے،ہر ایک کے حمایتی آپس میں اس قدر بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگتے ہیں کہ ایک دوسرے کی عزت کے ساتھ کھلواڑ تک نوبت پہنچ جاتی ھے ،جبکہ ایسا کرنا نہ تو شریعت کے اعتبار سے صحیح ھے اور نہ قانونی اعتبار سے ، الیکشن میں الیکشن کے اصول ضابطہ کی رعایت کی جائے ، دل میں عوام و خواص کی خدمت اور ایک دوسرے کی عزت و قدر کا جذبہ ھونا چاہئے، اطمینان اور سکون کا ماحول پیدا کرنا چاہئے ،ووٹنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے ،اچھے اور مناسب امیدوار کو جتانے کی کوشش ھونی چاہئے ، مگر معاملہ الٹا ھو جاتا ھے ، سنجیدگی کو چھوڑ کر ہر گروپ کے لوگ ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کی کوشش میں رھتے ھیں ،یہ غیر مناسب طریقہ ھے ، الیکشن میں جیت اور ہار کی کنجی ووٹ دینے والے لوگوں کے ہاتھوں میں ھے ، وہ جس کو ووٹ دے کر منتخب کر دیں ،وہی مکھیا ھے ،وہی سرپنچ ھے ،وہی سب کا نمائندہ ھے ، اس لئے امیدوار اور اس کے مددگاروں کو چاہئے کہ عوام میں سے جو ووٹ دینے والے ھیں ان سے مل کر ان کو سمجھائیں ،اپس میں نہ الجھیں اور نہ ایک دوسرے کے خلاف کچھ بولیں ،سب امیدوار گاؤں ھی کے ھوتے ھیں ،اس لئے سب ایک دوسرے کو جانتے ھیں اور پہچانتے ہیں ، اس لئے کوئی ایسی بات نہ کی جائے جس سے کسی کی دل آزاری ھو ، گاوں کے سنجیدہ لوگوں کو بھی چاہئے کہ پنچایت الیکشن کو سنجیدہ بنانے پر زور دیں ، تاکہ اچھے امیدوار کے انتخاب میں آسانی ھو ،اللہ تعالیٰ سے دعاء ھے کہ وہ ھم لوگوں کی صحیح رہنمائی فرمائے تاکہ ھم لوگ اطمینان و سکون کے ساتھ پنچایت الیکشن کو گذارنے میں اہم کردار ادا کریں

زرعی قوانین کے خلاف اکالی دل کا ’یومِ سیاہ‘، ہریانہ سے دہلی آنے والے تمام راستے بند، سڑکوں پر جام

نئی دہلی: زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک لگاتار جاری ہے اور اب سیاسی جماعتیں کسانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو رہی ہیں۔ شرومنی اکالی دل کی جانب سے آج ’یوم سیاہ‘ منانے کا اعلان کیا ہے اور بڑی تعداد میں پارٹی کے لوگ اور کسان پنجاب سے دہلی پہنچے ہیں۔

خیال رہے کہ آج کے دن لوک سبھا سے زرعی قوانین کو منظور کیا گیا تھا لہذا اس دن کو اکالی دن نے یومِ سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اکالی دن کے لیڈران اور کارکنان دہلی میں رکاب گنج سے پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے والے ہیں لیکن پولیس اس کی اجازت نہیں دے رہی۔

اکالی دل کے احتجاج کے پیش نظر ہی دہلی پولیس نے جھڑودہ کلاں بارڈر پر ٹریفک کو بند کیا ہے۔ دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر کئی راستوں پر ٹریفک متاثر ہے۔ دہلی کے مختلف علاقوں میں کسان تحریک کے پیش نظر حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ اور کئی مقامات پر بیریکیڈنگ لگاکر ٹریفک ڈائیورٹ کیا گیا ہے۔

دریں اثنا، دہلی ٹریفک پولیس نے اطلاع دی ہے کہ کسانوں کے احتجاج کے پیش نظر جھڑودہ کلاں بارڈر پر دونوں طرف کا راستہ بیریکیڈ لگاکر بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نظام پور بارڈر، سدی پور گاؤں سمیت دیگر تمام سرحدوں کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔ اکالی دل نے پنجاب سے ہی اپنا احتجاجی مظاہرہ شروع کر دیا تھا اور ہریانہ سے ہوتے ہوئے دہلی آنے کی کوشش کی تھی۔ کئی مقامات پر اکالی دل کے کارکنان نے بیریکیڈنگ بھی ہٹانے کی کوشش کی۔

اکالی دل کے لیڈر سکھبیر سنگھ بادل اور دیگر تمام لیڈران اس وقت دہلی میں موجود ہیں۔ یہاں گرودوارا رکاب گنج میں پارٹی کی میٹنگ کی جا رہی ہے اور احتجاج کے حوالہ سے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ گرودوارے کے باہر بھی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔


کنّور یونیورسٹی میں ساورکر اور گولولکر کو نصاب سے ہٹانے کا فیصلہ، بی جے پی چراغ پا

کنّور یونیورسٹی نے وی ڈی ساورکر اور ایم ایس گولولکر کے نظریات اور ان کے کاموں کو اپنے نصاب سے ہٹانے کا اعلان کر دیا ہے۔ کافی تنازعہ کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے اور اب جلد ہی پوسٹ گریجویٹ کے گورننس اینڈ پالیٹکس نصاب میں شامل ساورکر اور گولولکر سے متعلق مواد کو ہٹا دیا جائے گا۔ جب سے ان دو ناموں کو نصاب میں شامل کیا گیا تھا، کیرالہ میں اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے سخت اعتراض ظاہر کیا تھا اور ریاستی حکومت پر تعلیم کی بھگواری کا الزام عائد کیا تھا۔

کانگریس نے برسراقتدار سی پی آئی (ایم) پر ریاست میں تعلیم کی بھگواکاری کے لیے سہولت مہیا کرنے اور غلط نظریات کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے ریاست کی سی پی آئی (ایم) حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ فوری طور پر ساورکر، گولوالکر، دین دیال اپادھیائے وغیرہ کے کاموں کو یونیورسٹی کے نصاب سے ہٹایا جائے۔ حالانکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر گوپی ناتھ رویندرن نے ساورکر اور گوالکر جیسے لوگوں کو نصاب میں شامل کیے جانے کا دفاع کیا تھا۔ بعد ازاں خود وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے اس عمل کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے مخالفت میں بیان دیا تھا۔

اس تنازعہ کے درمیان 16 ستمبر کو کنّور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر گوپی ناتھ رویندر نے کہا کہ ’جدید ہندوستانی سیاسی نظریات پر بحث‘، جس میں ساورکر اور گولولکر کے ذریعہ کیے گئے کام اور ان کے نظریات شامل ہیں، نصاب کے تیسرے سیمسٹر سے ہٹا دیے جائیں گے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ضروری تبدیلی کے بعد اس پیپر کو چوتھے سیمسٹر میں شامل کیا جائے گا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق آئندہ 29 ستمبر کو اسکول کے اکیڈمک کونسل کی میٹنگ ہونے والی ہے جس میں اس تعلق سے آخری فیصلہ لیا جائے گا۔

بہر حال، کنّور یونیورسٹی کے ذریعہ نصاب سے ساورکر اور گولولکر کے کاموں کو نکالے جانے کے فیصلہ کو بی جے پی نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بی جے پی نے اپنا احتجاج درج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی کا فیصلہ کیرالہ میں سی پی آئی (ایم) اور کانگریس کے آپسی گٹھ جوڑ کو ظاہر کرتا ہے۔ کیرالہ بی جے پی صدر کے. سریندرن کا کہنا ہے کہ ’’یہ حیرت انگیز ہے، کانگریس کے مطالبہ کے بعد سی پی آئی (ایم) ملک کے قومی لیڈرس کے کاموں کی جانکاری اپنے نصاب سے ہٹا دیتی ہے۔

عامرخان کے باڈی گارڈ کی تنخواہ سن کر رہ جائیں گےحیران

عامرخان کے باڈی گارڈ کی تنخواہ سن کر رہ جائیں گےحیران

عامر خان کے باڈی گارڈ کی تنخواہ سن کر رہ جائیں گےحیران
عامر خان کے باڈی گارڈ کی تنخواہ سن کر رہ جائیں گےحیران

نئی دہلی:بالی ووڈ میں مسٹر پرفیکشنسٹ کے نام سے مشہور عامر خان ایک فلم میں کام کے عوض کروڑوں روپے وصول کرتے ہیں ہر کوئی ان کی نئی فلم کے آنے سے متعلق جاننا چاہتا ہے، تاہم عامر خان کے باڈی گارڈ ان دنوں خبروں میں ہیں۔ کیونکہ آپ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ وہ بھی سالانہ تنخواہ کروڑوں روپے لیتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بالی وڈ میں کی فلموں میں ہم اکثر ہیرو کے ہاتھوں ولن اور ساتھیوں کی پٹائی کے مناظر دیکھتے ہیں تاہم سکرین سے ہٹ کر ان طاقتور ہیروز کو بھی سکیورٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس مقصد کے لیے باڈی گارڈز کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور بھاری معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ لوگ اکثر جاننے کی خواہش رکھتے ہیں بالی وڈ کی سلیبریٹیز کے باڈی گارڈز کی تنخواہیں کتنی ہوتی ہیں۔

آپ سن کر حیران ہونگے کہ بالی وڈ کی سلیبریٹیز باڈی گارڈز کو سالانہ کروڑوں تنخواہ کی مد میں ادا کرتے ہیں۔ بالی وڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان اپنے باڈی گارڈ کو جنہوں نے سکول میں ہی پڑھائی کو خیرباد کہہ دیا تھا کو کتنا معاوضہ دیتے ہیں۔

اس سے قبل شاہ رخ خان، سلمان خان اور امیتابھ بچن کے باڈی گارڈز کی تنخواہیں انٹرنیٹ پر وائرل ہوچکی ہیں۔

میڈیا کے مطابق بالی ووڈ کے مشہور اداکار عامر خان کے باڈی گارڈ یوراج گھورپڑے نے سکول چھوڑنے کے بعد چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے کے بعد 16 برس کی عمر میں سکیورٹی ایجنسی میں ملازمت اختیار کرلی۔

ان کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا جس کی وجہ سے یہ ملازمت حاصل کرنے کے بعد انہیں اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا موقع میسر آیا۔ عامر خان کے باڈی گارڈ یوراج گھورپڑے کی سالانہ تنخواہ سن کر آپ حیران رہ جائینگے ، وہ سالانہ 2 کروڑ روپے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ (ایجنسی ان پٹ )


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...