Powered By Blogger

ہفتہ, ستمبر 18, 2021

بی جے پی کو بڑا جھٹکا۔ سابق مرکزی وزیر بابل سپریو نے تھاما ٹی ایم سی کا دامن

نئی دہلی: حال ہی میں مرکزی وزارتی کونسل سے ہٹائے گئے بی جے پی کے مغربی بنگال کے رکن پارلیمنٹ بابل سپریو نے بی جے پی کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر بابل سپریو نے ہفتہ کے روز مغربی بنگال میں برسر اقتدار ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کا دامن تھام لیا۔
بابل سپریو نے ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی اور پارٹی کے راجیہ سبھا کے رکن ڈیریک اوبرائن کی موجودگی میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ خیال رہے کہ مودی حکومت کی وزارتی کونسل میں حال ہی میں ہوئے ردوبدل میں بابل سپریو کو وزیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

مرکزی وزارت چھِن جانے کے بعد بابل سپریو نے سیاست کو الوداع کہہ دینے کا اعلان کر دیا تھا۔ تاہم بی جے پی کے بڑے لیڈران کو اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ بابل پارٹی چھوڑ سکتے ہیں اور آخرکار تمام اندیشے

ان کے صحیح ثابت ہوئے اور بابل سپریو نے بی جے پی کو چھوڑ کر ٹی ایم سی کا دامن تھام لیا۔
اب بابل سپریو کے اس نئے فیصلہ کے بعد یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا وہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفی دے دیں گے یا گیند بی جے پی کے پالے میں ڈال دیں گے، یعنی بی جے پی لیڈران لوک سبھا اسپیکر کے پاس جا کر ان کی رکینت منسوخ کرنے کی درخواست کریں گے

انڈین ریلوے کی جانب سے50ہزار نوجوانوں کو تربیت دینے کا اعلان

انڈین ریلوے کی جانب سے50ہزار نوجوانوں کو تربیت دینے کا اعلان

انڈین ریلوے کی جانب سے50ہزار نوجوانوں کو تربیت دینے کا اعلان
انڈین ریلوے کی جانب سے50ہزار نوجوانوں کو تربیت دینے کا اعلان

اردو دنیا نیوز۷۲، نئی دہلی

 مرکزی وزیر اشونی وشنو نے 'ریل کوشل وکاس یوجنا ' کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ 50 ہزار نوجوانوں کو ریلوے کی جانب سے تربیت دی جائے گی۔

وزیراعظم نریندر مودی کی یوم پیدائش پر یہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت ریلوے کی جانب سے 50 ہزار نوجوانوں کو فیٹر، ویلڈر، مشینینگ اور الیکٹریشن کی تربیت دی جائے گی،اس سے نوجوانوں کو نوکری لینے میں آسانی ہوگی۔

'ریلوے کوشل وکاس یوجنا' کے تحت آئندہ تین برسوں میں یعنی 2024 تک مذکورہ تربیت یافتہ نوجوانوں کو تکنیکی اعتبار سے ماہر بنا دیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیرریل اشونی وشنو نے کہا کہ دیہی علاقوں میں بھی اس کی تربیت دی جائے گی۔

اس کے تحت 100 گھنٹوں کی ٹرینگ دی جائے گی۔

اس منصوبے میں 18 سال سے 35 سال تک کے نوجوان حصہ لے سکتے ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہا تربیت دیے جانے والے ایک ہزار نوجوانوں کا پہلا بیچ جلد شروع ہوگا

بہار میں ، مافیا کھلے عام پابندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ، پولیس کے ناک کے نیچے ریت کی کان کنی جاری

بہار میں ، مافیا کھلے عام پابندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ، پولیس کے ناک کے نیچے ریت کی کان کنی جاری

بہار میں ، مافیا کھلے عام پابندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ، پولیس کے ناک کے نیچے ریت کی کان کنی جارینیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے 30 ستمبر تک ریت کی کان کنی پر پابندی کے باوجود ، ریت مافیا بہار کے کئی اضلاع میں کھلے عام پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ نتیش راج میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ناک کے نیچے ریت کا غیر قانونی کاروبار جاری ہے۔ کہیں پولیس سخت کارروائی کرتی ہے تو پولیس کو حملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا افسران کے تبادلے کرنے پڑتے ہیں۔

بہار میں ایسے نصف درجن سے زائد واقعات دیکھے گئے ہیں جہاں مافیا نے اپنے علاقوں میں پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا اور زخمی کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ بہار میں پولیس اور عہدیداروں کے لیے صرف دو آپشن باقی ہیں - یا تو ان کی غیر قانونی سرگرمیوں سے آنکھیں بند کر لیں یا پھر نتائج کا سامنا کریں۔ اس کے نتیجے میں ، کئی پولیس اہلکاروں اور افسران نے مبینہ طور پر ریت مافیا کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے اور غیر قانونی کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی میں حصہ لیا ہے۔

یہ حال ہی میں 41 افسران کی معطلی سے ثابت ہوا ہے جن میں دو ایس پی رینک کے افسران بشمول ضلع بھوج پور کے راکیش کمار دوبے اور اورنگ آباد ضلع کے سدھیر کمار پوریکا ان کے اضلاع میں ریت مافیا کے ساتھ مبینہ روابط کی وجہ سے شامل ہیں۔ اسے جولائی میں معطل کر دیا گیا تھا اور اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) نے اس کے خلاف غیر متناسب اثاثہ جات ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے اور تحقیقات جاری ہے۔

ای او ڈبلیو نے جمعہ کو بھوج پور کے سابق ایس پی راکیش کمار دوبے کے چار مقامات پر چھاپہ مارا اور 2.65 کروڑ روپے کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کا پتہ لگایا۔ ان دو افسران کے علاوہ ، ارحہ اور پالی گنج کے دو ایس ڈی پی او رینک کے افسران ، ضلع روہتاس کے ڈی ایچ آر آئی کے ایک ایس ڈی او اور پٹنہ کے ایک انسپکٹر رینک کے افسر کو بھی ریت مافیا کے ساتھ مبینہ روابط پر معطل کر دیا گیا۔

اس سے قبل 7 ستمبر کو ضلع گیا کے ریم پور تھانے کی ٹیم پر ریت مافیا کے کارکنوں نے حملہ کیا تھا۔ ٹیم سرکٹ ہاؤس میں جمع ہو رہی تھی اور مافیا کے خلاف کارروائی کے منصوبے کو حتمی شکل دے رہی تھی جب ان پر آتشیں اسلحہ سے حملہ کیا گیا۔ اس واقعے میں ایک ہوم گارڈ کانسٹیبل نورنگی مستری کو گولی لگی۔

گیا کے ایس ایس پی آدتیہ کمار نے کہا ، "ایک کانسٹیبل کی ٹانگ میں گولی لگی اور اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ہم نے سامنا کے دوران 14 ریت مافیا کارندوں کو گرفتار کیا۔ ہم ہر مشکوک جگہ پر مسلسل چھاپے مار رہے ہیں۔ جہاں مافیا دریا کی ریت نکالتا ہے

دنیاکی مہنگی ترین زمین کہاں ؟

دنیاکی مہنگی ترین زمین کہاں ؟

سب سے مہنگی سرزمین
سب سے مہنگی سرزمین

 

 دنیا میں سب سے مہنگی اراضی مکہ مکرمہ کی ہے جہاں ایک مربع میٹرزمین کی قیمت 5 سے 8 لاکھ ریال ہے ـ حرم مکی سے قریب زمین دنیا کی مہنگی ترین زمین میں شمار ہوتی ہے ـ

اخبار 24 نے سعودی ٹی وی ’الاخباریہ ‘ کی جانب سے جاری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ حرم شریف سے متصل اراضی کا شمار دنیا کی سب سے مہنگی زمین میں ہوتا ہے ـ

 جاری رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حرم مکی الشریف کے بیرونی صحنوں سے متصل اراضی پر جہاں معروف ہوٹلز قائم ہیں یہاں ایک فلیٹ کی قیمت کروڑوں ریال ہے ـ

 مکہ مکرمہ کے مرکزی علاقے میں جو عمارت جتنی حرم شریف سے قریب ہوگی اس کے فلیٹ اتنے ہی مہنگے ہیں ـ سب سے قریب ترین عمارت کا ایک فلیٹ 47 ملین ریال میں فروخت ہوا ـ فلیٹوں کی قیمت کا تعین اسکی مکانیت اور حرم سے قربت کے علاوہ وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات کے حساب سے بھی کیاجاتا ہےـ

 واضح رہے حج و عمرہ سیزن کے دوران حرم شریف سے قریب ترین عمارتوں کے فلیٹ بک ہو جاتے ہیں جبکہ ہوٹلوں کے یہ فلیٹ قصیر اور طویل المدتی بنیاد پر کرائے پر بھی فراہم کیے جاتے ہیں


پنجاب: کپٹن امریندر سنگھ نے دیا استعفا

پنجاب: کپٹن امریندر سنگھ نے دیا استعفا

وزیر اعلی کی کرسی چھوڑی
وزیر اعلی کی کرسی چھوڑی 

اردو دنیا نیوز۷۲: وزیر اعلیٰ پنجاب کپٹن امریندر سنگھ نے استعفیٰ دے دیاہے۔کپٹن امریندر اپنی ایم پی بیوی پرینیت کور اور بیٹے رنیندر سنگھ کے ساتھ راج بھون پہنچے اور اپنا استعفیٰ گورنر کو پیش کیا۔ اس کے ساتھ جو ایم ایل اے جو کپٹن سے ملےتھے ، امریندر سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد کانگریس بھون گئے ہیں۔

یہ پنجاب کی سیاست میں ایک بڑا بھونچال ہے۔ کانگریس پر سب کی نظریں ٹکی ہیں کہ اب اگلا وزیر اعلی کون ہوگا۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کپٹن امریندر کہا کہ میری پچاس سال کی سیاست رہی ہے،،جس کے دوران میرے لاتعداد خیر خواہ ہیں ،میں ۔آگے کا جو بھی فیصلہ رہے گا سب کے مشورے سے ہی کروں گا۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہ کیا آپ نئے وزیر اعلی کو قبول کریں گے انہوں نے کہا کہ وقت آنے دیں ،پھر دیکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج صبح ہی میں نے سوچا تھا کہ میں استعفیٰ دوں گا اور میں نے پارٹی کی صدر سونیا گاندھی سے بھی کہا تھا کہ میں استعفیٰ دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے مجھ پر بھروسہ نہیں کیا ، اب سونیا گاندھی جس کو چاہیں وزیراعلیٰ بنا ئیں ۔کپٹن نے کہا کہ میں ذلت محسوس کررہا ہوں۔ لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس مجھے بتائے بغیر میرے سامنے بلایا جاتا ہے ، یہ ایک وزیراعلیٰ کی توہین ہے۔

یاد رہے کہ کانگریس ہائی کمان نے جمعہ کو 40 ارکان اسمبلی کے ایک خط کے بعد بڑا فیصلہ لیا جو کپٹن سے ناخوش تھے۔

انہوں نے ہفتہ کی شام 5 بجے کانگریس قانون ساز پارٹی کی میٹنگ بلانے کا اعلان کیا تھا۔ پنجاب کانگریس کے انچارج ہریش راوت نے سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد جمعہ کی نصف شب یہ معلومات شیئر کی تھیں۔ اجے ماکن اور ہریش چودھری کو قانون ساز پارٹی کے اجلاس کے لیے مبصر بنایا گیا تھا


84 سالہ خاتون کو 30 منٹ میں دے دی گئی کورونا ویکسین کی دونوں خوراک

کیرالہ کی ایک 84 سالہ خاتون کو 30 منٹ کے فرق سے کووڈ ویکسین کی دونوں خوراک دے دی گئیں۔ واقعہ ایرناکولم ضلع کے الوا واقع سرکاری اسپتال کا ہے۔ ٹیکہ کاری کے لیے اپنے بیٹے کے ساتھ گئی تھندمّا پپو نے کہا کہ ’’مجھے پہلی خوراک دی گئی اور میں کمرے سے لوٹ آئی اور جب میں باہر تھی تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میں اپنے جوتے بھول گئی ہوں۔ اس لیے جب میں جوتے لینے کے لیے لوٹی، تو ایک خاتون افسر آئی اور مجھ سے کہا کہ جوتے چھوڑو اور اندر آؤ۔‘‘

پپو نے آگے کہا کہ ’’اس نے میری بات سننے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی اور وہ مجھے اندر لے گئی اور مجھے ایک کرسی پر بیٹھنے کے لیے کہا اور جیسے ہی میں نے ایسا کیا، ایک دوسری خاتون آئی اور مجھے دوسرا شاٹ دے دیا۔‘‘ بعد میں جب اس نے بار بار دو خوراک ملنے کی بات کہی تو اسے ایک گھنٹے کے لیے ایک کمرے میں بیٹھنے کو کہا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ جب ڈاکٹروں کو پتہ چلا کہ سب کچھ ٹھیک ہے، تو اسے گھر لوٹنے کی اجازت دی گئی۔ تھندمّا پپو کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد طبی افسران نے اسے کئی بار فون کیا یہ پتہ لگانے کے لیے کہ وہ کیسی ہے۔ اس نے فون کرنے والوں کو بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے۔ قابل ذکر ہے کہ کچھ مہینے قبل اسی طرح کا واقعہ الاپوژا ضلع میں بھی پیش آیا تھا۔

کورونا کے درمیان ڈینگی کے پھیلاؤ سے دہشت، یوپی سب سے زیادہ متاثر

دہلی: کورونا وائرس کی وبا نے لوگوں کا جینا پہلے ہی محال کیا ہوا ہے اور اب وائرل بحار کے بعد کئی ریاستوں میں ڈینگی بخار بھی پیر پسار رہا ہے۔ اتر پردیش سے ڈینگی بخار کے سب سے زیادہ معاملے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ حال ہی کے ہفتوں میں فیروزآباد ضلع میں متعدد افراد کی جان چلی گئی ہے۔

ادھر مغربی بنگال میں بھی پُراسرار بخار نے متعدد بچوں کو متاثر کیا ہے اور سینکڑوں افراد کو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ ماہرین طب مریضوں پر لگاتار نگاہ رکھ رہے ہیں، تاہم کہا جا رہا ہے کہ اس طرح کا وائرل بخار ہر سال لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ وائرل بخار کے ساتھ ہی ڈینگی نے ریاستوں کی پیشانی پر بل ڈال دیئے ہیں اور حالات کو قابو میں کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ملک میں سب سے زیادہ متاثر ریاست اتر پردیش ہے جس کے مختلف اضلاع میں ڈینگی اور وائرل بخار کے 1500 سے زیادہ معاملے ریکارڈ ہوئے ہیں۔ وسطی یوپی، بندیل کھنڈ اور مغربی یوپی کے علاقے بری طرح متاثر نظر آ رہے ہیں۔ فیروز آباد میں تو اب تک 61 افراد کی جان جا چکی ہے۔ ضلع میں 450 سے زیادہ افراد انتہائی ابتر حالات میں اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ الہ آباد میں اب تک 97 ڈینگی وائرل کے معاملے سامنے آ چکے ہیں جبکہ آگرہ، غازی آباد اور نوئیڈا میں بھی متعدد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

مغربی بنگال کے شمالی حصہ میں دو اپستالوں میں بخار اور دیگر بیماریوں کے سبب 172 بچوں کو داخل کرایا گیا ہے۔ ان میں سے 67 بچوں کو شمالی بنگال میڈیکل کالج اور اسپتال کے شعبہ اطفال میں داخل کرایا گیا ہے جبکہ کئی کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔

مدھیہ پردیش کے اندور میں ڈینگی بخار کے 22 معاملے رپورٹ ہوئے ہیں، جس میں سے اس سال کل متاثرین کی تعداد 225 ہو گئی ہے۔ ریاست کی راجدھانی بھوپال میں ڈینگی کے 6 تازہ معاملے سامنے آنے کے بعد معاملوں کی مجموعی تعداد جنوری سے اب تک 170 ہو گئی ہے۔

دیگر متاثرہ ضلع راج گڑھ میں اب تک 22 معاملے رپورٹ ہوئے ہیں، اس کے علاوہ گوالیار میں 95 اور چمبل میں 15 معاملے درج کئے گئے ہیں۔ وائرل بخار کے معاملے بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اندور، راج گڑھ، جبل پور اور گوالیار اس سے سب سے زیادہ متاثر نظر آ رہے ہیں۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...