Powered By Blogger

اتوار, ستمبر 19, 2021

فوجی مشیر کو ڈر تھا ٹرمپ چین پر ایٹمی حملہ کر دیں گے‘

ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت ختم ہونے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد کئی کتابیں سامنے آ چکی ہیں جن میں وائٹ ہاؤس میں سابق رپبلکن صدر کے چار ہنگامہ خیز سالوں کے اختتام کے بارے میں ڈرامائی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

اپنے دور صدارت کے اختتام کے قریب اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے لیے صدر ٹرمپ کا رویہ اس قدر تشویش ناک ہو گیا تھا کہ انہوں نے سوال کرنا شروع کر دیا کہ کیا 2020 کے انتخابات ہارنے کے بعد ٹرمپ کا ذہنی استحکام اس قدر انتشار کا شکار ہو جائے گا کہ وہ (آئندہ صدر کی حلف برداری سے پہلےعبوری مدت کے دوران) ملک کو جنگ میں دھکیل دیں گے۔

ایوان کی سپیکر نینسی پیلوسی ٹرمپ کے حامیوں کے کیپیٹل ہل پر حملے سے اس قدر ناراض ہوئیں کہ انہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملے سے کہا کہ وہ صدر کو ’آمر‘ سمجھتی ہیں جنہیں بغاوت کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا جانا چاہیے۔

اور جنرل ملے خود اس بات سے بہت پریشان تھے کہ صدر ٹرمپ کی حرکتیں غیر ملکی حریف کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ امریکی فوج کے سربراہ کو بالآخر اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ بیک چینل کالز کا سلسلہ شروع پڑا تاکہ انہیں یقین دلایا جا سکے کہ امریکی حکومت مستحکم ہے اور صدر ٹرمپ بیجنگ پر حملہ نہیں کریں گے۔

یہ واقعات ان تفصیلات کا محض مختصر احوال ہیں جن کا انکشاف واشنگٹن پوسٹ کے مصنفین باب ووڈورڈ اور رابرٹ کوسٹا کی آنے والی کتاب ’پیرل‘ میں کیا گیا ہے۔ دی انڈپینڈنٹ نے اس کتاب کی ایک کاپی حاصل کی جس کی اشاعت 21 ستمبر کو ہو رہی ہے۔

یہاں اس کتاب کے کچھ انتہائی دھماکہ خیز انکشافات بیان کیے جا رہے ہیں

1۔ ٹرمپ کے فوجی مشیر کو ڈر تھا کہ وہ چین پر ایٹمی حملہ کر دیں گے

ٹرمپ کے حامیوں پر مشتمل ایک پرتشدد ہجوم کی جانب سے 6 جنوری کو کانگریس کو صدر جو بائیڈن کے الیکٹورل کالج میں فتح کی تصدیق سے روکنے کی کوشش میں کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے کے بعد ووڈورڈ اور کوسٹا نے لکھا کہ جنرل ملے پریشان ہو گئے کہ صدر ٹرمپ’ بدمعاشی پراتر‘ جائیں گے اور 20 جنوری کو عہدہ چھوڑنے سے پہلے کسی بھی وقت چین پر ایٹمی حملہ کر دیں گے۔

کیپیٹل ہل پر حملے کے دو دن بعد جنرل ملے نے نیشنل ملٹری کمانڈ سینٹر کے انچارج سینئر افسران کا ایک اجلاس بلایا تاکہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے رسمی عمل کا جائزہ لیا جائے جس میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل تھا۔

جنرل ملے نے افسران کو بتایا کہ وہ کسی بھی ایسے احکامات کو نظر انداز کر دیں جن میں ان کو بائے پاس کیا گیا ہو۔جنرل ملے نے اجلاس میں موجود ہر ایک افیسر کی آنکھوں میں دیکھنے اور ان سے زبانی تصدیق کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے۔ آپ ضابطہ کار پر عمل کریں۔ اور میں اس ضابطہ کار کا حصہ ہوں۔‘

2۔ ٹرمپ کیپیٹل ہل پر حملہ کرانا چاہتے تھے

جنرل ملے نے ڈیموکریٹک ہاؤس کے ایک رکن کو بتایا کہ ان کے خیال میں ٹرمپ ‘چاہتے ہیں’ کہ ان کے حامی کیپیٹل ہل پر حملہ کریں۔جب ٹرمپ کے حامی کیپیٹل ہل پر حملہ آور ہوئے تو مشی گن سے تعلق رکھنے والی کانگریس کی رکن ایلیزا سلوٹکن نے جنرل ملے سے فون پر رابطہ کیا جہاں انہوں نے اور ان کے بہت سے ساتھیوں نے ہجوم سے بچنے کے لیے پناہ لی ہوئی تھی۔جب ایلیزا سلوٹکن نے جنرل ملے کو بتایا کہ نیشنل گارڈز کو کانگریس کی عمارت کی حفاظت کے لیے طلب کرنے کی ضرورت ہے تو جنرل ملے نے جواب دیا کہ مدد بھیجی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس پیش رفت سے صدر ٹرمپ کی بجائے نائب صدر مائیک پینس کو رپورٹ کریں گے۔

 

انہوں نے سلوٹکن کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ چاہتے تھے کہ (کیپیٹل ہل پر) یہ فساد برپا اور وہ اس سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔کتاب کے مطابق جنرل ملے نے کانگریس وومین کو بتایا: ’مجھے لگتا ہے کہ وہ (بلوہ) چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں انہیں یہ پسند ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ یہ افراتفری چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے حامی انتہائی حد سے گزر جائیں۔ مجھے نہیں معلوم۔‘

3۔ ٹرمپ کو بائیڈن کے لیے نوٹ چھوڑنے پر راضی کرنا پڑا

جب سے صدر رونالڈ ریگن نے جنوری 1989 میں آنے والے صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کے لیے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ چھوڑا تھا اس کے بعد تمام امریکی صدور کے لیے اپنے جانشین کے لیے ایک پیغام چھوڑنے کی روایت بن گئی جو امریکی نظام میں اقتدار کی پرامن منتقلی کو ذاتی بناتا ہے۔لیکن یہ روایت اس وقت تقریبا ختم ہونے والی تھی جب ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہونے میں ناکام ہو گئے تھے۔کتاب کے مطابق صدر ٹرمپ نے ہاؤس کے اقلیتی رہنما کیون میک کارتھی کی جانب سے ہفتوں تک جاری رہنے والی کاوشوں کے بعد بائیڈن کے لیے ایک ہاتھ سے لکھا ہوا پیغام لکھنے کا فیصلہ کیا۔جب میک کارتھی نے حلف برداری سے ایک شب پہلے رات 10 بجے صدر ٹرمپ سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ نوٹ لکھ دیں گے لیکن انہوں نے بائیڈن کو کال کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

 

میک کارتھی نے ان سے کہا کہ نئے آنے والے اور سبکدوش ہونے والے صدور کا ’اقتدار کی منتقلی کو حقیقی بنانے‘ کے لیے بات کرنا ملک کے لیے اہم ہوگا۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی شکست واضح ہونے کے بعد اپنی انتظامیہ کے عہدیداروں کو بائیڈن کی منتقلی ٹیم کے ساتھ تعاون کرنے سے روک دیا تھا۔میک کارتھی نے ٹرمپ سے التجا کرتے ہوئے کہا: ’یہ میرے لیے کریں۔ آپ کو انہیں فون کرنا ہے۔ جو بائیڈن کو کال کریں۔‘اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا: ہرگز نہیں۔‘میک کارتھی نے مزید دو بار ان سے فون کرنے کی درخواست کی اور دونوں بار ٹرمپ نے انکار کر دیا۔

4۔ ٹرمپ لنزے گراہم پر برس پڑے

سینیٹر لنزے گراہم نے ایک بار سابق صدر کو ’ a race baiting, xenophobic religious bigot ‘ کہا تھا لیکن کون جانتا تھا کہ ایک دن ساؤتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے رپبلکن رہنما کیپیٹل ہل میں ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک بن جائیں گے۔

ووڈورڈ اور کوسٹا کے مطابق ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد گراہم کے ساتھ باقاعدگی سے بات چیت جاری رکھی ہے اور انہیں ایک اتحادی کے طور پر شمار کیا لیکن ان کے اتحاد میں کچھ تلخ لمحات بھی گزرے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک مڈسمر فون کال کے دوران گراہم نے مبینہ طور پر 2020 کے انتخابات کے بارے میں جھوٹ کو جاری رکھنے پر اپنے قریبی ساتھی ٹرمپ پر تنقید کی اور سخت جملے ادا کیے۔

کتاب کے مطابق سینیٹر گراہم نے ٹرمپ سے کہا کہ ’آپ کہتے رہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور آپ کو دھوکہ دیا گیا ہے اور آپ قریبی مارجن سے ہارے ہیں۔‘

جب گراہم نے ان سے کہا ’You f** your presidency up‘ تو دو بار مواخذے کا سامنا کرنے والے سابق صدر نے مبینہ طور پر ان کا فون کاٹ دیا۔

5۔ ٹرمپ نے کہا ان کے یہودی داماد امریکہ سے زیادہ اسرائیل کے وفادار ہیں

وائٹ ہاؤس کی ایک میٹنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر کہا کہ ان کی بیٹی ایوانکا کے شوہر اور وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر جیرڈ کشنر امریکہ سے زیادہ اسرائیل کے وفادار ہیں۔

ایک کٹر یہودی اور بڑے رئیل اسٹیٹ کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے والے جیرڈ کشنر کو اپنے سسر کی انتظامیہ میں مشرق وسطیٰ کی پالیسی سنبھالنے کا کام سونپا گیا تھا۔

اور جب کہ ان کے خاندان کے یہودی ریاست سے گہرے ذاتی اور مالی تعلقات ہیں لیکن کشنر امریکی شہری ہیں اور اسرائیل کی دوہری شہریت نہیں رکھتے۔

ٹرمپ کا اینٹی ڈیفی میشن لیگ کا استعمال جو کہ ایک اینٹی سیمیٹک (یہودی مخالف) استعارے کی حیثیت رکھتا ہے، سابق صدر کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی جنہوں نے متعدد مواقعوں پر ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے والے امریکی یہودیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل سے بے وفائی کر رہے ہیں اور یہ کہ یہودی امریکی شہریوں کا ووٹ اس ملک کے مفادات پر مبنی ہونا چاہیے جو ان کا اپنا نہیں ہے۔

2020 کے صدراتی انتخابات ہارنے سے چند ماہ قبل ٹرمپ نے یہودی امریکی رہنماؤں کے ایک گروپ کو وائٹ ہاؤس کانفرنس کال میں یہودیوں کے نئے سال کے موقع پر بتایا کہ یہودیوں کو ان کے لیے ووٹ دینا چاہیے کیونکہ ڈیموکریٹس اسرائیل کے لیے برے ثابت ہوں گے۔ ہم آپ کے ملک سے محبت کرتے ہیں۔‘

جب انہوں نے ایک آرتھوڈوکس (کٹر) یہودی ہفتہ وار میگزین کے ایک رپورٹر کو غصے سے کہا کہ ’آپ نے اپنی زندگی میں مجھ سے زیادہ یہودی دوست شخص نہیں دیکھا ہو گا۔‘

لیکن ٹرمپ کے دورہ صدارت کے دوران یہودی مخالف سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جن میں اگست 2017 ورجینیا کے شارلٹس ویل شہر میں ’یونائٹ دا رائٹ‘ ریلی جس کے دوران مارچ کرنے والوں نے ’یہودی ہماری جگہ نہیں لیں گے‘ جیسے نعرے لگائے اور اکتوبر 2018 میں پٹسبرگ کے ٹری آف لائف یہودی عبادت گاہ پر فائرنگ جیسے واقعات شامل ہیں۔

چھٹی جماعت کے دو طالب علموں کے اکاؤنٹ میں 900 کروڑ سے زائد رقم کہاں سے آئی؟

وہ کہتے ہیں ناں کہ قسمت کبھی بھی مہربان ہوسکتی ہے، اس کی واضح مثال بھارت میں حال ہی میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی شہر کٹھیار سے تعلق رکھنے والے 2طالب علموں کے اکاؤنٹ میں اچانک خطیر رقم آگئی جس نے گاؤں بھر کے افراد کو حیران کردیا۔

 

بھارتی میڈیا کا بتانا ہے کہ کٹھیار میں اپنی نوعیت کا مختلف واقعہ اس وقت پیش آیا جب چھٹی جماعت کے 2 طالب علموں گروچرن وشواس اور اشیش کمار کے اکاؤنٹ میں اچانک ایک روز 900 کروڑ سے زائد بھارتی روپے جمع کرادیے گئے۔واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں طالب علموں نے ریاستی حکومت کی جانب سے ملنے والی یونیفارم رقم کی معلومات حاصل کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے سینٹرالائزڈ پراسیسنگ سینٹر کا دورہ کیا۔اپنے اکاؤنٹس میں آئی غیر معمولی رقم دیکھ کر دونوں طالبعلم دنگ رہ گئے۔

 

رپورٹ کے مطابق، اشیش کمار کے اکاؤنٹ 62 کروڑ جبکہ گروچرن وشواس کے اکاؤنٹ میں905 کروڑ بھارتی روپے منتقل کیے گئے ۔دوسری جانب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کٹیہار کی جانب سے بھی دونوں طالب علموں کے اکاؤنٹ میں آئی خطیر رقم کے حوالے سے تصدیق کی گئی ہے۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ خطیر رقم کی منتقلی کے حوالے سے بینک کے اعلیٰ عہدیداروں کو مطلع کردیا گیا ہے ، معاملہ ہمارے علم میں آتے ہی بینک اکاؤنٹ منجمد کرکے رقم کی منتقلی روک دی گئی تھی۔رقم کی منتقلی کے حوالے سے تفتیش کی جارہی ہے تاکہ پتہ لگایا جاسکے کہ اکاؤنٹ میں اتنی رقم کہاں سے ٹرانسفر کروائی گئی

ناندیڑ شہر کی سڑکیں سیمنٹ کنکریٹ سے تیار ہوںگی‘جانئے کونسی اہم سڑکوں کے کام کے ٹینڈر طلب کئے گئے

ناندیڑ: 18 ستمبر (اردو دنیا نیوز۷۲) ناندیڑشہر کی تمام اہم سڑکوں کے علاوہ محلہ جات کی سڑکیںبھی کافی خراب ہوچکی ہیں جس سے شہریان عاجزآچکے ہیں لیکن شہریان کو جلد ہی ان خستہ حال سڑکوں سے نجات ملے گی ۔ریاست کے وزیرتعمیرات عامہ وناندیڑ کے رابطہ وزیر اشوک راو چوہان نے ناندیڑ کی سڑکوں کی تعمیر کےلئے امید سے زیادہ فنڈ فراہم کیاہے ۔شہر کے تمام اہم سڑکیں سیمنٹ کنکریٹ سے تیار ہوں گی ۔ دو دن قبل محکمہ تعمیرات عامہ نے ان سڑکوں کے کاموں کیلئے ٹینڈر طلب کئے ہیںان کاموں پرتقریبا 282 کروڑ روپے کی لاگت متوقع ہے۔

تمام سڑکیں سمینٹ کانکریٹ کی ہوںگی اسلئے گڑھوں کامسئلہ ہی ختم ہو جائے گا۔ناندیڑواگھالہ شہر میونسپل کارپوریشن حدود کی تمام اہم سڑکوں کی تعمیر کی ذمہ داری محکمہ تعمیرات عامہ کے سپرد کرنے کافیصلہ حال ہی میں کیاگیا ۔جس کے مطابق شہر کی اہم سڑکوں کی تعمیرکیلئے تعمیر ا ت عامہ محکمہ نے ٹینڈرطلب کئے ہیں۔ جس کے مطابق 22تا25کلومیٹر لمبائیی کی سڑکوں کے کاموں پر 282 کروڑ روپے خرچ ہوں گے ۔اسلئے شہرکی سڑکوںکی قسمت بدلنے والی ہے۔شہر کی اہم سڑکیں محکمہ تعمیرات عامہ کے سپرد کرنے کی تجویز میونسپل کارپوریشن نے منظورکی تھی جسے حکومت نے منظوری دے دی ۔

اس کے مطابق تعمیرات عامہ نے شہر کے چارسڑکوں کی تعمیر کیلئے ٹینڈرطلب کئے ہیں ۔ جس میں ڈاکٹرشنکرراو چوہان چوک۔مال ٹیکڑی گرودوارہ ۔نمسکار چوک۔ایم جی ایم کالج کمپاﺅنڈ وال۔مہارانہ پرتاپ چوک تا بافنا روڈ۔ریلوے اسٹیشن۔دیگلورناکہ ۔قدیم گوداوری پُل۔واجے گاوںسڑک تااہم ریاستی شاہراہ یہ بارہ کلومیٹر کا سب سے طویل راستہ تعمیر ہورہا ہے ۔اس کے علاوہ قدیم مونڈھاگوداوری ندی پل تاڈاکٹر امبیڈکرچوک تا ریاستی شاہراہ 256 کے حصہ کی روڈ یہ ساڑھے تین کلومیٹر فاصلے کی سڑک بھی اس میں شامل ہے ۔اسی طرح پورناروڈکے بجاج فنکشن ہال تا چھترپتی چوک ۔ تروڑا۔راج کارنر ۔ ورکشاپ کارنر ۔آنند نگرچوک تا ناگرجنا ہوٹل تا مہارانہ پرتاپ چوک سڑک ریاستی شاہراہ 61 یہ 4.15کلومیٹر فاصلے کی سڑک اور ورکشاپ کارنر ۔مہاتما پھلے چوک تا انابھاوساٹھے چوک تا ریاستی شاہراہ 61 کا تین کلومیٹر فاصلے کی تعمیر بھی ہوگی۔

مذکورہ چاروں سڑکوں کی تعمیر لئے تعمیرات عامہ محکمہ نے ٹینڈر طلب کئے ہیں۔سیمنٹ کانکریٹ سڑک اورآر سی سی ڈرین(انڈرگراونڈ گٹر)اس طرح کے کام سڑکوں پرکئے جائیںگے ۔ کل 22تا25کلومیٹرسڑک کی تعمیر کےلئے 282کروڑ روپے کے اخراجات آئیںگے ۔حالانکہ سڑکوں کی مرمت کی ذمہ داری میونسپل کارپوریشن پر ہوتی ہے مگرانکی ذرائع آمدنی اورحکومت سے کوئی زیادہ فنڈ نہ ملنے کی وجہہ سے اتنی بڑی رقم سے سڑکوں کی تعمیر ممکن نہیں تھی اسلئے ان سڑکوں کی تعمیر کی ذمہ داری محکمہ تعمیرات عامہ کے سپرد کی ہے ۔ریاست مہاراشٹر کے تعمیرات عامہ محکمہ کے وزیر اورناندیڑ ضلع کے رابطہ وزیر اشوک راو چوہان کی کوششوںسے ہی سڑکوں کی تعمیر کیلئے اتنی خطیررقم موصول ہوئی ہے۔

خطرہ بڑھ گیا !آئندہ دنوں میں کورونا کی صورتحال سنگین ہوسکتی ہے:ماہرین

ممبئی: 18 ستمبر (اردو دنیا نیوز۷۲) کورونا کی تیسری لہرسے قبل تہواروں میں غفلت مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگلے 3 مہینوں میں ڈیلٹا ویرئنٹ خطرناک صورتحال اختیار کرسکتا ہے ۔ ماہرین نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ محتاط رہیں۔ ماہرین کے مطابق اگلے تین ماہ میں کئی تہوار ہوں گے۔ اس دوران کچھ تقریبات کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔

لیکن یہ بڑے ہجوم کا سبب بھی بنے گا ، اور یہ کورونا کے تیزی سے پھیلاو¿ کی وجہ ہوسکتی ہے۔اس لیے لوگوں کو اس دوران بہت زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے گھر میں تہوار منائیں۔ فی الحال کورونا کا ڈیلٹاویرئنٹ خطرناک ثابت ہورہا ہے۔ تہواروں کے دوران لوگوں کی غفلت سے حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ اس لیے حکومت سے اپیل ہے کہ وہ کورونا قوانین پر عمل کرے۔

کورونا مریضوں کی تعداد اکتوبر اور نومبرمیں بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لوگ ہجوم میں کورونا قوانین پر عمل نہ کریں تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ایک ہندی ویب سائٹ نے اس بارے میں اطلاع دی ہے۔

ہفتہ, ستمبر 18, 2021

آئی پی ایل 2021 :کل سے شروع ہوگا دوسرا مرحلہ،پہلا میچ ممبئی اور چنئی کے درمیان،کب ہوگا کس کا میچ جانیں پوری لسٹ

آئی پی ایل 2021 :کل سے شروع ہوگا دوسرا مرحلہ،پہلا میچ ممبئی اور چنئی کے درمیان،کب ہوگا کس کا میچ جانیں پوری لسٹ

نئی دہلی،18؍ ستمبر (اردو دنیا نیوز۷۲) آئی پی ایل 2021 کا دوسرا مرحلہ آکل سے شروع ہوگا ۔ آئی پی ایل 2021 اس سال اپریل میں ہندوستان میں شروع ہوئی تھی، لیکن کچھ کھلاڑیوں اور معاون عملے کے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد اسے ملتوی کردیا گیا تھا۔ اب لیگ ایک بار پھر متحدہ عرب امارات میں 19 ستمبر سے شروع ہوگی، جسے آئی پی ایل 2021 کا دوسرا مرحلہ کہا جارہا ہے۔آئی پی ایل 2021 کے دوسرے مرحلے کا پہلا میچ چنئی سپر کنگز اور ممبئی انڈینس کے درمیان کھیلا جائے گا۔ یہ میچ دبئی میں شام 07:30 بجے کھیلا جائے گا۔ پہلے کی طرح دوسرے مرحلے میں بھی دوپہر کے میچ 03:30 پر کھیلے جائیں گے اور شام کے میچ 07:30 پر کھیلے جائیں گے۔آئی پی ایل 2021 کے دوسرے نصف کے تمام میچ شارجہ، ابوظہبی اور دبئی میں کھیلے جائیں گے۔ اس سے قبل اس لیگ کا آخری سیزن یعنی آئی پی ایل 2020 بھی متحدہ عرب امارات میں کھیلا گیا تھا جسے ممبئی انڈینس نے جیتا تھا۔ آئی پی ایل 2021 کے دوسرے مرحلے میں کل 31 میچ کھیلے جائیں گے۔
آئی پی ایل 2021 دوسرے مرحلے کا شیڈول

19 ستمبر – شام 7:30 بجے ممبئی انڈینس بمقابلہ چنئی سپر کنگز
20 ستمبر – کولکاتہ نائٹ رائیڈرز بمقابلہ رائل چیلنجرز بنگلور شام 7:30 بجے
21 ستمبر – پنجاب کنگز بمقابلہ راجستھان رائلز شام 7:30 بجے
22 ستمبر – دہلی کیپٹل بمقابلہ سن رائزرز حیدرآباد شام 7:30 بجے
23 ستمبر – ممبئی انڈینس بمقابلہ کولکاتہ نائٹ رائیڈرز شام 7:30 بجے
24 ستمبر – رائل چیلنجرز بنگلور بمقابلہ چنئی سپر کنگز شام 7:30 بجے
25 ستمبر – دہلی کیپٹل بمقابلہ راجستھان رائلز دو پہر 03:30
دوسرا میچ – سن رائزرز حیدرآباد بمقابلہ پنجاب کنگز شام 7:30 بجے
26 ستمبر – چنائی سپر کنگز بمقابلہ کولکاتہ نائٹ رائیڈرز 03:30
دوسرا میچ – رائل چیلنجرز بنگلور بمقابلہ ممبئی انڈینس شام 7:30 بجے
27 ستمبر – سن رائزرس حیدرآباد بمقابلہ راجستھان رائلز شام 7:30 بجے
28 ستمبر – کولکاتہ نائٹ رائیڈرز بمقابلہ دہلی کیپٹل 03:30بجے
دوسرا میچ – ممبئی انڈینس بمقابلہ پنجاب کنگز شام 7:30 بجے
29 ستمبر – راجستھان رائلز بمقابلہ رائل چیلنجرز بنگلور شام 7:30 بجے
30 ستمبر – سن رائزرز حیدرآباد بمقابلہ چنئی سپر کنگز شام 7:30 بجے
01 اکتوبر – کولکاتہ نائٹ رائیڈرز بمقابلہ پنجاب کنگز شام 7:30 بجے۔
02 اکتوبر – ممبئی انڈینس بمقابلہ دہلی سہ 03:30بجے
دوسرا میچ- راجستھان رائلز بمقابلہ چنئی سپر کنگز شام 7:30 بجے
03 اکتوبر – رائل چیلنجرز بنگلور بمقابلہ پنجاب کنگز 03:30 بجے
دوسرا میچ: کولکاتہ نائٹ رائیڈرز بمقابلہ سن رائزرز حیدرآباد شام 7:30 بجے
04 اکتوبر – دہلی کیپٹل بمقابلہ چنئی سپر کنگز شام 7:30 بجے
05 اکتوبر – راجستھان رائلز بمقابلہ ممبئی انڈینز شام 7:30 بجے
06 اکتوبر – رائل چیلنجرز بنگلور بمقابلہ سن رائزرز حیدرآباد شام 7:30 بجے
07 اکتوبر – چنائی سپر کنگز بمقابلہ پنجاب کنگز 03:30بجے
دوسرا میچ – کولکاتہ نائٹ رائیڈرز بمقابلہ راجستھان رائلز شام 7:30 بجے
08 اکتوبر – سن رائزرز حیدرآباد بمقابلہ ممبئی انڈینس 03:30بجے
دوسرا میچ – رائل چیلنجرز بنگلور بمقابلہ دہلی کیپٹل 03:30 بجے
10 اکتوبر – کوالیفائر 1۔
11 اکتوبر – ایلیمینیٹر۔
13 اکتوبر – کوالیفائر 2۔
15 اکتوبر – فائنل۔

آئی پی ایل : آندرے رسل نے قرنطینہ کی مدت مکمل

آئی پی ایل : آندرے رسل نے قرنطینہ کی مدت مکملدبئی ، 18 ستمبر۔ کولکاتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے اسٹار آل راؤنڈر آندرے رسل نے قرنطینہ کی مطلوبہ مدت مکمل کرلی ہے اور انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے 14 ویں ایڈیشن کے دوبارہ آغاز سے قبل آج سے تربیت شروع کر دی ہے۔ کے کے آر نے ٹویٹ کرکے مذکورہ معلومات دی۔ آئی پی ایل 2021 کا دبئی ایڈیشن 19 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ممبئی انڈینز اور چنئی سپر کنگز (CSK) کے درمیان میچ سے شروع ہوگا۔ قبل ازیں ، کے کے آر کے کپتان ایون مورگن نے کہا کہ آئی پی ایل کا 14 واں ایڈیشن دوبارہ شروع ہونے پر شائقین کے استقبال کے لیے ٹیم ناقابل یقین حد تک پرجوش" ہے۔ مورگن نے کہا ، ہم اس سال آئی پی ایل میں شائقین کی واپسی کے لیے ناقابل یقین حد تک پرجوش ہیں۔ بہت عرصہ ہو گیا ہے جب میں نے کے کے آر کے مداحوں کو ایڈن گارڈنز میں دھاڑتے ہوئے سنا۔ بدقسمتی سے ہم ایڈن گارڈن میں نہیں ہیں ، لیکن میں اوراسے دبئی میں سننے کا انتظار نہیں کر سکتا۔" کے کے آر کے بلے باز راہل ترپاٹھی نے آئی پی ایل کی گورننگ باڈی کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ،"ہم نے ان (مداحوں) کو اس عرصے میں بہت یاد کیا ہے۔ ہمیشہ مزہ آتا ہے جب کوئی کھڑے ہو کر آپ کے لیے خوش ہوتا ہے۔" قابل ذکرہے کہ ممبئی انڈینز اور چنئی کے درمیان میچ کے بعد لیگ کو ابوظہبی منتقل کیا جائے گا جہاں کے کے آر کا مقابلہ رائل چیلنجرز بنگلور سے ہوگا۔شارجہ 24 ستمبر کو اپنے پہلے میچ کی کرے گا ، جب رائل چیلنجرز بنگلور کا مقابلہ چنئی سپر کنگز سے ہوگا۔ لیگ کے 13 میچ دبئی ، 10 شارجہ اور 8 میچ ابوظہبی میں کھیلے جائیں گے




 ٹکٹ آن لائن خرید سکیں گے۔ ٹکٹ آئی پی ایل کی آفیشل ویب سائٹ (www.iplt20.com) سے خریدے جا سکتے 

بی جے پی کو بڑا جھٹکا۔ سابق مرکزی وزیر بابل سپریو نے تھاما ٹی ایم سی کا دامن

نئی دہلی: حال ہی میں مرکزی وزارتی کونسل سے ہٹائے گئے بی جے پی کے مغربی بنگال کے رکن پارلیمنٹ بابل سپریو نے بی جے پی کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر بابل سپریو نے ہفتہ کے روز مغربی بنگال میں برسر اقتدار ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کا دامن تھام لیا۔
بابل سپریو نے ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی اور پارٹی کے راجیہ سبھا کے رکن ڈیریک اوبرائن کی موجودگی میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ خیال رہے کہ مودی حکومت کی وزارتی کونسل میں حال ہی میں ہوئے ردوبدل میں بابل سپریو کو وزیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

مرکزی وزارت چھِن جانے کے بعد بابل سپریو نے سیاست کو الوداع کہہ دینے کا اعلان کر دیا تھا۔ تاہم بی جے پی کے بڑے لیڈران کو اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ بابل پارٹی چھوڑ سکتے ہیں اور آخرکار تمام اندیشے

ان کے صحیح ثابت ہوئے اور بابل سپریو نے بی جے پی کو چھوڑ کر ٹی ایم سی کا دامن تھام لیا۔
اب بابل سپریو کے اس نئے فیصلہ کے بعد یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا وہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفی دے دیں گے یا گیند بی جے پی کے پالے میں ڈال دیں گے، یعنی بی جے پی لیڈران لوک سبھا اسپیکر کے پاس جا کر ان کی رکینت منسوخ کرنے کی درخواست کریں گے

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...