سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کی موجودگی میں سابق رکن پارلیمنٹ رضوان ظہیر، زیبا رضوان اور رمیز نعمت نے سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر ضلع صدر پرشو رام ورما اور ڈاکٹر محمد احسان بھی موجود رہے۔
سال 2004 میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں بلرام پور سیٹ دو اہم اور سینئر لیڈروں کا اکھاڑہ بنا، جب رضوان ظہیر کے مقابلے بی جے پی نے قیصر گنج کے موجودہ رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کو بلرام پور لوک سبھا انتخابی حلقے سے میدان میں اتارا۔ اس الیکشن میں برج بھوشن شرن سنگھ نے رضوان ظہیر کو شکست دیتے ہوئے جیت درج کی۔ اس کے بعد رضوان ظہیر کا سیاسی گراف گرتا چلا گیا۔ سال 2009 کے لوک سبھا الیکشن میں رضوان ظہیر نے پھر بی ایس پی کے امیدوار کے طور پر شراوستی لوک سبھا سے قسمت آزمائی کی اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سال 2009 میں کانگریس کے امیدوار ونے کمار پانڈے نے انہیں شکست دی۔ خود کو پارٹی سے الگ بڑا لیڈر تسلیم کرنے والے رضوان ظہیر سال 2014 میں کسی اہم سیاسی جماعت سے ٹکٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے۔ اس بار انہوں نے پیس پارٹی کے امیدوار کے طور پر قسمت آزمائی کی، لیکن اس الیکشن میں ان کے سامنے بی جے پی سے ددن مشرا اور سماجوادی پارٹی سے سینئر مسلم رہنما عتیق احمد قسمت آزمائی کر رہے تھے۔ رضوان ظہیر کو اس الیکشن میں ایک لاکھ ووٹ حاصل ہوئے۔ اس طرح 2014 میں مودی لہر کے دوران ددن مشرا جیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ سال 2014 کے بعد رضوان ظہیر نے کانگریس پارٹی کا دامن تھام لیا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد اور اس وقت کے ریاستی صدر راج ببر نے تلسی پور پہنچ کر رضوان ظہیر کو کانگریس کی رکنیت دلائی تھی، لیکن کچھ ہی دنوں بعد رضوان ظہیر کا کانگریس سے اختلاف ہوگیا اور انہوں نے دوبارہ بہوجن سماج پارٹی کی رکنیت حاصل کرلی۔ انہوں نے 2019 لوک سبھا انتخابات میں اپنی حمایت بی ایس پی- سماجوادی پارٹی کے اتحادی امیدوار رام شرومنی ورما کو حمایت دے دی۔ 2022 کے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے رضوان ظہیر خان کی گھر واپسی ہوگئی ہے۔ انہوں نے سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے مل کر سماجوادی پارٹی کی رکنیت حاصل کرلی۔ رضوان ظہیر کے سماجوادی پارٹی میں آنے کے بعد ضلع کے سیاسی حالات میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ سال 2022 میں ہونے والے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بلرام پور کی تلسی پور سیٹ سے ان کی بیٹی زیبا رضوان کے لئے یہ سیاسی بساط بچھائی گئی ہے۔ اس وقت جبکہ اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے، تو بی جے پی اور سماجوادی پارٹی میں سیدھا مقابلہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ایک بات یہ ہے کہ تلسی پور اسمبلی سیٹ سے سماجوادی پارٹی سے ٹکٹ کی دعویداری کرنے والوں کی طویل فہرست ہے۔ اس میں کئی اہم لیڈران بھی شامل ہیں۔ ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ سماجوادی پارٹی کسے امیدوار بناتی ہے اور کس پر بھروسہ ظاہر کرتی ہے۔ حالانکہ اتنی بات تو طے ہے کہ رضوان ظہیر کے سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے سے ضلع میں سماجوادی پارٹی کو تقویت ضرور ملے گی۔نئی دہلی: حسب روایت امسال بھی 103ویں عرس رضوی کے یادگار موقع پر درگاہ امام اہل سنت اعلی حضرت احمد رضا خان کے لئے راہل گاندھی نے اپنی رہائش گاہ سے بطور خاص اپنی اور کانگریس پارٹی کی جانب سے عقیدت کے ساتھ چادر روانہ کی گئی، جس کو آل انڈیا کانگریس شعبۂ اقلیت کے نمائندۂ وقف کے ذریعہ درگاہ عالیہ میں پیش کیا جائے گا۔
آل انڈیا کانگریس شعبہ اقلیت کے قومی چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی کو چادر سونپتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ہمارے خاندان اور پوری کانگریس پارٹی کا درگاہ اعلی حضرت اور آپ کے کنبے سے جو رشتہ ہے وہ تاریخی اور بے حد مستحکم ہے اور میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ہماری آئندہ نسلوں تک قائم و دائم رہے گا۔
راہل گاندھی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ اس وقت ہمارا ملک و دنیا ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کورونا وباء کی زد پر ہے اور اس وبا نے ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا، ساتھ ہی آج فاشسٹ طاقتیں سماج میں نفرت کا زہر گھول کر ہزاروں سال پورانی گنگا جمنی تہذیب اور امن و شانتی کو زبردست نقصان پہونچانے پر آمادہ ہیں۔ ان تکلیف دہ حالات میں صوفی سنتوں میں ہماری عقیدت پہلے سے زیادہ مضبوط اور پختہ ہونی چاہئے۔
راہل گاندھی نے عوام الناس سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی دعاء کریں اور میں بھی دعا گو ہوں کہ اس وباء اور فرقہ واریت کا خاتمہ ہو اور ملک میں معاشی طور پر خوشحالی ہو۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ میں اس اہم موقع پر آپ کی اچھی صحت اور کورونا کے لازمی احتیاط کے ساتھ عرس مبارک کے اختتام کا خواہش مند ہوں۔ اس موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈر عمران قدوائی، مرزا جاوید، آل انڈیا کوآرڈینیٹر شاہنواز سیٹھ، شمیم علوی، مہندر وورا اور کونسلر چودھری زبیر بھی موجود تھے




