Powered By Blogger

اتوار, اکتوبر 10, 2021

آسام میں مسلمانوں کا قتل: او آئی سی کی مذمت ‘ انڈیا کی کڑی تنقید

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مسلمان شہری کی لاش کی بے حرمتی کے واقعے کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی مذمت کے بعد انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے ردِ عمل دیتے ہوئے او آئی سی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔جمعے کی رات انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے یہ بیان ایک سوال کے جواب میں جاری کیا تھا۔وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا انتہائی افسوس کے ساتھ یہ بتانا چاہتا ہے کہ او آئی سی نے ایک بار پھر انڈیا کے اندرونی معاملے پر تبصرہ کیا ہے جس میں اس نے انڈین ریاست میں ایک بدقسمت واقعے کے بارے میں حقیقت پسندانہ طور پر غلط تبصرہ کیا ہے۔ اور ایک گمراہ کن بیان جاری کیا ہے۔

اس کے علاوہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا اس سلسلے میں مناسب قانونی کارروائی کر رہا ہے۔بیان میں یہ بات دہرا دی گئی ہے کہ ‘او آئی سی کو انڈیا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے اور اسے اپنے پلیٹ فارم کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔’اس کے بعد بیان کے اختتام پر انڈیا نے او آئی سی کو خبردار کیا ہے کہ ’انڈیا کی حکومت ان تمام بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ مستقبل میں ایسے بیانات نہیں دیے جائیں گے۔‘خیال رہے کہ اس واقعے کی دنیا کے اکثر ممالک کی جانب سے مذمت کی گئی تھی، تاہم عرب ممالک میں یہ تنقید سوشل میڈیا پر کی جا رہی ہے اور گذشتہ دنوں میں وہاں انڈین مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے سے متعلق ٹرینڈ چلائے گئے ہیں۔

او آئی سی نے کیا کہا؟
مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی نے گذشتہ ماہ انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام کے ضلع درنگ میں مبینہ طور پر سینکڑوں مسلم خاندانوں کو سرکاری زمین سے ‘تجاوزات ہٹانے کی مہم’ کے تحت بے دخل کرنے کے دوران ہونے والی پولیس کارروائی کو ‘منظم تشدد اور ہراساں کرنا’ کہا ہے۔جمعرات کی شام ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں او آئی سی نے اس معاملے کی میڈیا کوریج کو شرمناک قرار دیا اور انڈیا سے ذمہ داری سے برتاؤ کرنے کی اپیل کی تھی۔اس کارروائی کے دوران دو مقامی مسلمان شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس کی ایک خوفناک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی۔او آئی سی نے اپنے بیان میں انڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلم اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے اور ان کے تمام مذہبی اور سماجی بنیادی حقوق کا احترام کرے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قومی خودمختاری کے اندر کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کا بہترین طریقہ باہمی بات چیت ہے۔نہ صرف او آئی سی بلکہ غیر ملکی میڈیا نے بھی آسام کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اس واقعے کا موازنہ امریکہ میں جارج فلوئیڈ قتل کیس سے کیا۔
اخبار لکھتا ہے کہ اس طرح کا وحشیانہ واقعہ پولیس کی ناقص تربیت اور اس شخص کے غیر اخلاقی رویے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اخبار نے لکھا: ‘جس طرح منیاپولیس میں ایک پولیس افسر کے ہاتھوں جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کا واقعہ امریکہ میں نسلی عدم مساوات اور پولیس تشدد کی جڑیں دکھاتا ہے وہیں آسام میں ہونے والی بربریت انڈیا میں نفرت، تشدد اور سزا سے معافی کو دکھاتی ہے۔’
اخبار نے لکھا: ‘سنہ 1947 کی تقسیم کے بعد انڈیا کبھی بھی مذہبی بنیاد سے اوپر نہیں اٹھ سکا اور یہاں فرقہ وارانہ تعصبات بہت گہرے ہیں۔ ماضی میں سیاسی رہنماؤں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور تنوع کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن دائیں بازو کی ہندو قوم پرست تنظیم اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے پرانی نفرت کو ہوا دی ہے۔ مسلم اقلیتوں کو ہندو اکثریت کے لیے خطرے کے طور پر پیش کیا ہے اور اس کے علاج کے لیے پرتشدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔’

اس کے علاوہ برطانوی اخبار نے انڈیا میں ‘لو جہاد’، ‘کورونا جہاد’، دہلی فسادات، چھتیس گڑھ میں ہندو مذہبی تنظیموں کی جانب سے گذشتہ ہفتے کیے جانے والے تشدد، کسانوں کی تحریک، آرٹیکل 370 وغیرہ کا بھی ذکر کیا ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ نفرت، خونریزی اور ماتم کے اس خوفناک سلسلے کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ آسام میں ہونے والے واقعے کا ذکر خلیجی ملک کی میڈیا ‘الجزیرہ’ نے بھی اپنی خصوصی رپورٹ میں کیا ہے۔درنگ سے اپنی گراؤنڈ رپورٹ میں الجزیرہ نے اس واقعے کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔اس واقعے میں ہلاک ہونے والے معین الحق کے چھوٹے بھائی عین الدین کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کو پولیس نے سینے میں گولی ماری تھی اور فوٹوگرافر ان کے سینے پر چھلانگ لگا رہا تھا جبکہ وہ مر چکے تھے۔الجزیرہ لکھتا ہے کہ آسام حکومت کی باگ ڈور ہندو قوم پرست تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا ہے اور اس واقعے نے سول سوسائٹی کو بڑا دھچکہ پہنچایا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے دعویٰ کیا ہے کہ گاؤں کے لوگوں نے پہلے پولیس پر لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے حملہ کیا تھا اور تشدد ایک سازش کا نتیجہ تھا۔ اس کے ساتھ وزیر اعلیٰ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ گاؤں کے لوگوں کو باہر سے آنے والے لوگوں نے اکسایا تھا۔الجزیرہ نے لکھا کہ وزیراعلیٰ سرما نے اس واقعہ کے دعووں کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ تاہم پولیس نے دو مقامی لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

23 ستمبر کو ‘غیر قانونی تجاوزات’ کو ہٹانے کی پولیس کارروائی کے دوران آسام کے درنگ ضلع کے دھول پور گاؤں نمبر تین میں پرتشدد تصادم ہوا جس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ان میں سے ایک شخص مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔ انتظامیہ کے دعوے کے مطابق اس واقعے میں آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔اس واقعے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ایک فوٹو گرافر معین الحق کے گرنے کے بعد اس کے سینے پر کود رہا ہے۔ بیجوئے بانیا نامی فوٹوگرافر مقامی انتظامیہ کے ساتھ واقعے کی ویڈیو گرافی کر رہا تھا جسے بعد میں حراست میں لے لیا گیا۔ریاستی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ آسام حکومت کے محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ گوہاٹی ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی قیادت میں انکوائری کی جائے گی۔ تفتیش میں اس واقعے کے رونما ہونے والے حالات کا پتا چلایا جائے گا۔

بریکنگ نیوزایئر انڈیا: کراچی سے شروع ہونے والی ایئرلائن جو دنیا میں انڈیا کی پہچان بنی

ایئر انڈیا کی کہانی غیر منقسم انڈیا میں کراچی کے ایک چھوٹے سے ایئر فیلڈ پر اکتوبر 1932 کی ایک خوشگوار صبح کو شروع ہوئی تھی جب ایک معروف کاروباری خاندان کا 28 سالہ بیٹا جہانگیر رتن جی دادابھائی ٹاٹا ایک انجن والے جہاز میں بمبئی کے لیے روانہ ہوا۔ٹاٹا نے انگلینڈ سے دو پس موتھ طیارے خریدے تھے جن میں ایک کے ذریعے وہ ہفتہ وار ڈاک سروس شروع کر رہے تھے۔ہوائی جہاز نے 100 میل فی گھنٹہ (160 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کیا اور اس ’گرم اور جھٹکوں سے بھرپور پرواز میں‘ سامنے سے آنے والی تیز ہواؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ایک پرندہ بھی کیبن میں اندر پہنچ گیا تھا اور اسے مارنا پڑا۔

یہ پرواز کافی جھٹکے سہتی ہوئی گجرات کے شہر احمد آباد میں ایندھن حاصل کرنے کے لیے اتری جہاں بیل گاڑی پر لاد کر لایا گیا تیل جہاز میں ڈالا گیا۔طیارہ دیر دوپہر بمبئی (اب ممبئی) میں مٹی کی ہموار سطح پر اترا۔ کچھ ڈاک اتارنے کے بعد دوسرا منتظر طیارہ اپنے باقی سامان کے ساتھ جنوبی انڈیا کے دو شہروں کے لیے روانہ ہوا۔ان طیاروں کو ان کے آگے لگے پنکھوں کو ہاتھ سے گھما کر سٹارٹ کیا جاتا تھا۔ سمت کی نشاندہی کرنے یا لینڈنگ کروانے کی لیے کوئی آلات نہیں تھے اور نہ ہی ریڈیو کمیونیکیشن تھا۔

یہ جہاز روزانہ ممبئی کے ایک ساحل کے قریب مٹی کی ہموار سطح والے میدان سے اڑا کرتے تھے اور ٹاٹا نے بعد میں اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جہاں سمندر اس سے نیچے تھا جسے ہم ائر فیلڈ کہا کرتے تھے اور مون سون میں سمندر کی اونچی لہر کے دوران ٹیک آف اور لینڈنگ کی جگہ زیرِ آب ہوا کرتی تھی۔‘جب وہ جگہ مکمل طور پر زیرِ آب آ گئی تو ایئر لائن کے دو جہازوں، تین پائلٹس اور تین مکینِکس کو وہاں سے 150 کلومیٹر جنوب میں پونے شہر کی ایک چھوٹی سی ایئر فیلڈ میں منتقل کر دیا گیا۔

اس زمانے میں خطے کے چیف سول ایوی ایشن سر فریڈرک ٹِمز نے 1934 میں ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’دنیا میں شاید ہی کہیں حکومت کی مدد کے بغیر کوئی فضائی سروس چل رہی ہو۔ یہ صرف آپریٹر کو مالی خسارے کے خطرے میں ڈال کر کیا جا سکتا تھا اور ٹاٹا اینڈ سنز یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار تھے۔‘آنے والے سالوں میں یہ ڈاک سروس دوسرے شہروں تک پھیل گئی اور ان میں ایک مسافر کو بھی جگہ دی جانے لگی۔ سنہ 1937 میں ٹاٹا کے دو طیاروں نے دلی اور بمبئی کے درمیان ایک سروس شروع کی۔

ہر طیارے میں 3500 خط اور ایک مسافر ہوا کرتا تھا۔ ائیر لائن شروع کرنے کے چھ سال کے اندر ہی ایئرلائن کے پاس 15 طیارے، 15 پائلٹ، اور تین درجن انجینیئر تھے۔ ایئرلائن نے 99.4 فیصد سے زیادہ وقت کی پابندی کا دعویٰ بھی کیا۔

ٹاٹا کے سوانح نگار روسی ایم لالہ نے لکھا ’ٹاٹا کے پائلٹوں کو ان کے پیچھے والی سیٹ پر انسانی سواری کے عادی ہونے میں کچھ وقت لگا۔ ایک دن ایک پائلٹ نے مرغی کی ایک ٹانگ کھائی اور ہڈی کو کاک پٹ سے باہر پھینک دیا جو ہوا سے واپس مسافر کی گود میں آ گری۔‘ٹاٹا خود ہوابازی کے نہایت شوقین تھے اور اُنھوں نے 25 سال کی عمر میں اکیلے ہی ایک طیارہ اڑایا تھا۔

وہ ہمیشہ ایک عالمی سطح کی ایئر لائن بنانا چاہتے تھے۔ سنہ 1940 کی دہائی کے اوائل میں اُنھوں نے آنے والے وقت میں ‘ہوائی دور’ کے بارے میں واضح طور پر بات کی کہ کس طرح ’ہوائی سفر ریلوے اور سٹیمر کی سہولیات کی طرح وسیع پیمانے پر عام اور دستیاب ہو جائے گا۔‘

سنہ 1946 تک انڈیا میں ہر تین مسافروں میں سے ایک ٹاٹا کی نئی نویلی ایئر لائن میں سفر کر رہا تھا اور یہ کمپنی ملک میں کام کرنے والے تقریباً 50 طیاروں میں سے نصف کی مالک تھی۔

دو سال بعد ایئر انڈیا انٹرنیشنل ہو گئی اور ایک بالکل نیا لاک ہیڈ کنسٹلیشن طیارہ جس کا نام مالابار پرنسز رکھا گیا تھا، بمبئی سے لندن کے لیے روانہ ہوا۔ٹاٹا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘یہ ایشیائی ایئرلائن کی پہلی پرواز تھی جو مشرق اور مغرب کو باقاعدہ سروس کے ذریعے جوڑتی تھی۔‘اس سال کے آخر تک ایئر انڈیا منافع کمانے لگی تھی۔

ایئر انڈیا نے تیزی سے دنیا بھر میں شہرت اور برانڈ کا درجہ حاصل کیا۔ سنہ 1968 تک اس کے 75 فیصد مسافر بیرونی ممالک سے آتے تھے۔برطانوی گلوکار جارج ہیریسن اور امریکی راک بینڈ دی ڈورز نے بھی اس ایئرلائن میں سفر کیا تھا جبکہ ہسپانوی آرٹسٹ سیلواڈور ڈیلی نے بھی ایک خصوصی ایش ٹرے ڈیزائن کر کے ایئرلائن کو تحفے میں دیا تھا۔اپنے کاروبار پر کڑا کنٹرول رکھنے والے بزنس مین کے طور پر ٹاٹا کو پروازوں کے دوران ملنے والی سروس کا بہت خیال رہتا تھا۔ایک بار انھوں نے فلائٹ میں ملنے والی چائے کے رنگ پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ رنگ کافی کے رنگ جیسا ہے۔وہ کیبن اٹینڈنٹس کو ڈیوٹی کے دوران گیلی میں سگریٹ نوشی سے روکا کرتے تھے۔

ایک بار انھوں نے شکایت کی کہ فرسٹ کلاس کے ناشتے میں ملنے والا بیکن اور ٹماٹر ‘بہت ٹھنڈے’ ہوتے ہیں۔اُنھوں نے اپنے عملے کو نامناسب طریقے سے تیار ہونے کی وجہ سے بھی ٹوکا۔ سنہ 1951 میں اُنھوں نے اپنے ایک مینیجر کو نوٹ میں لکھا کہ ’ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ عجیب، مضحکہ خیز اور پرکشش ہونے کے درمیان لکیر کہاں کھینچنی ہے۔ کسی کی قلمیں شرٹ کے کالر تک پہنچ رہی ہیں تو کسی کی مونچھیں بے تحاشا نیچے تک لٹک رہی ہیں، تو کسی ائیر ہوسٹس کا جُوڑا اس کے سر سے بھی بڑا ہے۔ برائے مہربانی میک اپ اور ظاہری حلیے پر خصوصی توجہ دیں۔‘جون 1953 میں ایئر انڈیا کو حکومت نے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ انڈیا کی ہوا بازی کی صنعت مشکل میں تھی۔ منافع کم ہو رہا تھا، بہت سارے ہوائی جہاز خرید لیے گئے تھے اور کم از کم دو ایئر لائنز بند ہو چکی تھیں۔

حکومت نے تقریباً ایک درجن ایئرلائنز کو ضم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ صرف ایئر انڈیا واحد مضبوط ائیر لائن تھی جو اپنا تشخص برقرار رکھ سکی۔ ٹاٹا کے اس بارے میں ملے جلے جذبات تھے۔اگلی تین دہائیوں تک ایئر انڈیا کامیاب ہوتی رہی۔ ایئرلائن کی نشانی چھوٹے قد کا مہاراجہ انڈیا کی سب سے زیادہ مانوس علامتوں میں سے ایک بن گیا۔ اشتہاری پوسٹرز میں کبھی یہ برطانوی تو کبھی فرانسیسی انداز میں ڈھلتا دکھائی دیا۔طیاروں کے نام شاہی شخصیات اور ہمالیہ کی چوٹیوں کے نام پر رکھے گئے۔ ایئر انڈیا کے سابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور کتاب دی ڈیسینٹ آف ایئر انڈیا کے مصنف جتیندر بھارگئو کا کہنا ہے کہ 1970 کی دہائی تک ایئر انڈیا کے 54 ممالک میں 10 ہزار ملازم تھے۔یہاں تک کہ 1980 کی دہائی میں بھی یہ ایک برانڈ تھی جس کا شمار دنیا کی بڑی ایئر لائنز میں کیا جاتا تھا۔ یہ اس وقت چند انڈین کمپنیوں میں سے ایک تھی جو عالمی سطح پر اپنی پہچان رکھتی تھیں۔ اس میں گلیمر اور جوش و خروش تھا۔‘

بریکنگ نیوزاکتوبر 21 کو حج 2022 سیزن کا ہوگا اعلان

بریکنگ نیوزاکتوبر 21 کو حج 2022 سیزن کا ہوگا اعلان

ممبئی _مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے حج ہاؤس ممبئی میں حج 2022 کی تیاریوں کے سلسلے میں حج کمیٹی آف انڈیا کے سینئر عہدیداروں سے تبادلہ خیال کیا۔ 21 اکتوبر کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والی آئندہ حج جائزہ میٹنگ میں حج 2022 سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔وزارت اقلیتی امور ، وزارت خارجہ ، صحت ، شہری ہوا بازی ، سعودی عرب میں ہندوستان کے سفیر ، جدہ میں ہندوستان کے قونصل جنرل اور دیگر سینئر حکام آئندہ حج جائزہ اجلاس میں موجود ہوں گے۔مختار عباس نقوی نے کہا کہ کورونا وبا کے پیش نظر سعودی عرب کے فیصلے کی بنیاد پر 2020 اور 2021 میں حج نہیں ہو سکا۔ حج 2022 کا اعلان نئی دہلی میں 21 اکتوبر کو ہونے والی جائزہ میٹنگ میں مختلف محکموں کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا جائے گا۔کورونا پروٹوکول اور صحت اور حفظان صحت کے حوالے سے ہندوستان اور سعودی عرب میں حج 2022 کے لیے جانے والے عازمین حج کے لیے خصوصی تربیت کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔انڈیا کا مکمل حج 2022 عمل ، جو انڈونیشیا کے بعد حج کرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد بھیجتا ہے ، 100 فیصد ڈیجیٹل ہوگا۔ آج حج ہاؤس ، ممبئی میں آن لائن حج ہاؤس بکنگ کی سہولت کا بھی افتتاح کیا۔


ہفتہ, اکتوبر 09, 2021

مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امارت شرعیہ بہار اڑیسہ ، جھارکھنڈ کے آٹھویں امیر شریعت منتخب

مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امارت شرعیہ بہار اڑیسہ ، جھارکھنڈ کے آٹھویں امیر شریعت منتخبپٹنہ : کئی ماہ سے مسلسل کشمکش اور کھینچ تان کے درمیان آج ووٹنگ کے ذریعہ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ،جھارکھنڈ کے آٹھویں امیر شریعت منتخب ہوگئے ہیں۔ امیر شریعت کا انتخاب ارباب حل و عقد کرتے ہیں۔ ابتدائی خبروں کے مطابق مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کو 347 ووٹ ملے جب کہ ان کے نزدیکی حریف مولانا انیس الرحمان قاسمی کو 197 ووٹ ملے ہیں۔ اس انتخاب میں چھ سو سے زائد ارباب حل و عقد نے حصہ لیا ۔ یہ انتخاب آٹھویں امیرشریعت کے لئے ہوا ہے یہ انتخاب امیر شریعت سابع مولانا ولی احمد رحمانی کے انتقال کی وجہ سے ضروری ہوگیا تھا ۔ اجلاس میں مولانا صغیر احمد رشادی امیر شریعت کرناٹک اور امیر شریعت آسام مولانا یوسف بھی بطور مشاہدین شریک تھے۔

اس سے پہلے چار پانچ ناموں پر غور کیا جارہا تھا ، جس میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مفتی نذر توحید اور موجودہ نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی، مولانا انیس الرحمان قاسمی اور مولانا احمد ولی فیصل رحمانی تھے۔ جن میں سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مفتی نذر توحید اور موجودہ نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی نے اپنا نام واپس لے لیا ، جس کے بعد دونوں مولانا احمد ولی فیصل رحمانی اور مولانا انیس الرحمان قاسمی کے درمیان مقابلہ ہوا۔

یہ پہلا انتخاب تھا جس میں زبردست اٹھا پٹخ، کشمش، کھینچ تان، لابنگ اور اس طرح دیگر چیزیں بڑے پیمانے پر دیکھی گئیں ۔ ارباب حل و عقدنے اتفاق رائے سے امیر شریعت منتخب کرنے پر زور دیا لیکن اتفاق رائے پیدا نہ ہونے پر ووٹنگ کا راستہ منتخب کیا گیا۔ پولیس کے بندوبست اور تمام انتظامات کے دوران ووٹنگ کا عمل شروع ہوا۔ انتخابی عمل ختم ہونے کے بعد مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کو آٹھویں امیر شریعت منتخب کرلیا گیا۔

امیر شریعت کی مجُلس میں موجود تمام ارباب حل و عقد نے امیر شریعت ثامن کے ہاتھوں بیعت کیا۔ ان کے ہاتھوں پر سب سے پہلے قاضی شریعت مولانا انظار عالم قاسمی نے بیعت کیا اور اس کے بعد نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی نے بیعت کیا۔ اس پروگرام کی صدارت نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی نے کی ۔ جبکہ مجلس استقبالیہ کے صدر رکن راجیہ سبھا احمد اشفاق کریم نے مہمانوں کا استقبال کے ساتھ شکریہ ادا کیا۔

مولانا احمد ولی فیصل رحمانی بھی اپنے والد مولانا سید محمد ولی رحمانی اور جد امجدؒ کی طرح علم وعمل کے حسین سنگم ہیں۔ ان کی شخصیت میں عصری اوردینی علوم کا امتزاج ہے ۔ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی فکر ہے کہ علماء ، جدید علوم وٹکنالوجی سے واقف ہی نہیں بلکہ ان کے ماہر ہوں ۔ چنانچہ انھوں نے جامعہ رحمانی میں شعبہ'دارالحکمت' قائم کیا اور تقریبا دس برسوں سے ان کی نگرانی میں کوشش ہے کہ حفظ کے طلبہ بھی حافظ ہونے کے بعد عربی سے اس قدرواقف ہوں کہ قرآن مجید کا خود ترجمہ کرلیں ۔ ساتھ ہی زوردیتے رہے کہ وہاں کے اساتذہ، کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی سیکھیں اورجدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔



یہ ویڈیو دیکھ


جامعہ رحمانی میں ابتدائی تعلیم اوروالد بزرگوارؒ سے تربیت کے بعد عالم اسلام کی عظیم یونیورسیٹی جامعہ ازہرقاہرہ مصرسے علوم اسلامیہ اورعربی زبان میں درک حاصل کیا ۔ ان کی انگریزی تقاریرسننے کے بعد علم کی گہرائی، وسعت مطالعہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مغربی دنیا کوبہت قریب سے دیکھا ہے۔ امریکہ میں نیوکلیئرپاورپلانٹ اورآئل وگیس محکموں کی اہم ذمے داری نبھائی ہے ۔ 2001 سے 2005 تک امریکہ کی مختلف اعلیٰ کمپنیوں میں خدمات دیتے رہے ۔

امارت شرعیہ کو احمد علی فیصل رحمانی کی شکل میں ملا نیا امیر شریعت

امارت شرعیہ میں گزشتہ کئی مہینوں سے جاری امیر شریعت کا تنازعہ بالآخر ختم ہو گیا، اور آج باضابطہ ووٹنگ کے عمل سے نیا امیر شریعت منتخب کر لیا گیا۔ مرحوم مولانا ولی رحمانی کے بیٹے احمد علی فیصل رحمانی نے مولانا انیس الرحمن قاسمی سے زیادہ ووٹ حاصل کر یہ کامیابی حاصل کی۔

اس سے قبل مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مولانا شمشاد رحمانی کے نام واپس لینے کے باوجود کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں مولانا فیصل رحمانی اور مولانا انیس الرحمان قاسمی کے درمیان مقابلہ تھا۔

مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امارت شرعیہ کے آٹھویں امیر شریعت منتخب, جانئے کیسے ہوا انتخاب



مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امارت شرعیہ کے آٹھویں امیر شریعت منتخب, جانئے کیسے ہوا انتخاب

مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امارت شرعیہ کے آٹھویں امیر شریعت منتخب
پٹنہ (وائی ایس میڈیا) امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ جھاڑکھنڈ کےآٹھویں امیر شریعت مولانا احمد علی فیصل رحمانی منتخب ہوگئے ہیں۔ آج نو اکتوبر کو پٹنہ میں ارباب حل و عقد کا اجلاس ہوا جس میں میں چار نام سامنے آئے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، مولانا انیس الرحمن قاسمی، مفتی احمد نظر توحید اور مولانا احمد علی فیصل رحمانی کے۔ ارباب حل و عقد نے فیصلہ کیا کہ ان چاروں ناموں کے درمیان ووٹنگ ہوگی اور جن کے حق میں زیادہ ووٹ ڈالے جائیں گے انہیں امیر شریعت قرار دیا جائے گا۔ ووٹنگ کا اعلان ہونے کے بعد مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مفتی نظر توحید نے اپنا نام واپس لے لیا جس کے بعد مولانا احمد علی فیصل رحمانی اور اور مولانا انیس الرحمن قاسمی کے درمیان ووٹنگ ہوئی شام کو چھ بجے نتیجے کا اعلان کیا گیا جس میں سامنے آیا کہ احمد علی فیصل کو زیادہ ووٹ ملے اور اس طرح 106 ووٹوں سے آٹھویں امیر شریعت منتخب ہوگئے ہیں اور ان کا اعلان بھی ہوگیا ہے۔
احمد علی فیصل رحمانی ساتویں امیر شریعت اور معروف عالم دین مولانا سید محمد ولی رحمانی کے بیٹے ہیں

انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف ’نفرت پر مبنی جرائم‘ کے واقعات: کیا انڈیا میں مسلمان خوف اور بے بسی کے دور سے گزر رہے ہیں؟

شکیل اختر بی بی سی اردو ڈاٹ کام

آج سے ٹھیک ایک ہفتے قبل انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کے نیمچ ضلع میں ہندوؤں کے ایک ہجوم نے ایک درگاہ کے مجاور اور ایک خاتون سمیت بعض عقیدت مندوں پر رات میں حملہ کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انھیں رات بھر زد و کوب کیا گیا اور جانے سے پہلے درگاہ کے ایک حصے کو دھماکے سے اڑا دیا۔

اس واقعے سے ڈیڑھ مہینے پہلے اجین ضلع کے سیکلی گاؤں میں کئی نوجوان ہندوؤں نے ایک مسلم کباڑی والے عبدالرشید کو بری طرح پیٹا اور انھیں دھمکی دی کہ یہ ہندوؤں کا گاؤں ہے، وہ یہاں دوبارہ نہ دکھائی دے۔
اس واقعے کے بعد رشید بہت ڈر گئے ہیں اور انھوں نے گاؤں جانا بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے ان کا کام کافی متاثر ہوا ہے۔

عبدالرشید نے بی بی سی کو بتایا: ‘میں بیس سال سے یہاں کام کر رہا ہوں۔ ہم سبھی آس پاس کے گاؤں جاتے ہیں۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے روکا ہو۔ مجھے کئی نوجوانوں نے مارا۔ میرا سامان پھینک دیا۔ مجھ سے جے شری رام کا نعرہ لگوایا اور کہا کہ میں دوبارہ یہاں نہ آؤں۔’

اجین ضلع کے ایک بااثر شخص نے بی بی سی کو اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس علاقے میں مسلم کباڑیوں پر حملے کافی عرصے سے ہو رہے ہیں لیکن ان کے بارے میں کوئی جانتا نہیں تھا۔

‘عبدالرشید پر حملے کی ویڈیو خود حملہ آوروں نے بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی تھی جو وائرل ہو گئی جس سے اس واقعہ کا پتا چلا اور رپورٹ درج کرائی گئی۔ یہاں اب لوگوں کی سوچ بدل رہی ہے۔ پہلے ایسا نہیں تھا۔‘

اس کے علاوہ چھ روز قبل بنگلور میں انجینئرنگ کے ایک مسلمان طالبعلم کے جسم کے ٹکڑے کر کے ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا۔ اس مسلمام طالبعلم کے ایک ہندو لڑکی سے مبینہ روابط تھے۔

ایک مقامی سخت گیر ہندو تنظیم نے دونوں کے درمیان رشتے ختم کرنے کا ایک باقاعدہ معاہدہ کروایا۔ اس کے باوجود لڑکے کو قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے میں ہندو تنظیم کے کئی ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ان تین واقعات کے علاوہ حالیہ دنوں میں مدھیہ پردیش، اتر پردیش، اترا کھنڈ، ہری انھ، کرناٹک اور کئی دیگر ریاستوں میں چھوٹے چھوٹے مسلم کاروباری افراد پر اس طرح کے مذہبی نفرت پر مبنی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اب کئی مسلمان موجودہ ماحول میں نہ صرف غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں بلکہ ملک کا جمہوری نظام بھی رفتہ سخت گیر ہندو سوچ کے زیر اثر آتا جا رہا ہے۔

اس طرح کے نفرت انگیز تشدد کے واقعات کا سلسلہ 2017 میں راجستھان کے الور ضلع کی شاہراہ پر دن دہاڑے ایک مسلمان شخص کے قتل سے شروع ہوا تھا جنھیں گائے کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ہندوؤں کی ایک تنظیم کے ارکان نے سڑک پر مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

پہلو خان ہری انھ کے نواحی علاقے کے ڈیری فارمر تھے اور واقعے والے روز وہ وہاں کی ایک منڈی سے گائے خرید کر لا رہے تھے۔

پہلو خان کے قتل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی صحافی محمد زبیر خان نے بی بی سی کو بتایا: ‘پہلو خان کے واقعے سے یہاں کے لوگوں کے ذہن میں ایک خوف بیٹھ گیا ہے۔

’ہم الور سے آ رہے ہوں، ریواڑی سے آرہے ہوں، پلول سے آ رہے ہوں، گڑگاؤں یا فریدآباد سے آ رہے ہوں، بس ڈر یہ ہوتا ہے کہ کہیں کوئی پہلو خان جیسا واقعہ نہ پیش آ جائے۔ یہاں زندگی بہت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔’معروف تجزیہ کار عارفہ خانم کہتی ہیں ‘چند حملے منظم طریقے سے منصوبہ بندی کے تحت اور چند انفرادی طور پر، دونوں شکلوں میں ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک مہم چل رہی ہے۔ پڑوسی کو پڑوسی کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ کوشش ہو رہی ہے کہ ملک کا ڈی این اے تبدیل کر دیا جائے۔’

گذشتہ مہینے انتہائی دائیں بازو کی ہندو جماعت آر ایس ایس کی ایک اہم میٹنگ میں یہ اہم موضوع تھا کا اتراکھنڈ میں مسلمانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

جب عارفہ سے یہ سوال کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں ایسے واقعات نظر آئے ہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو ‘بیدار’ کیا جا رہا ہے کہ سبزی فروشوں میں ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے اور کیا یہ چھوٹے چھوٹے مسلمانوں کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش ہے؟

اس بارے میں عارفہ کہتی ہیں ‘مسلمان پہلے ہی غربت اور اقلیت ہونے کے سبب معاشرے کے حاشیے پر ہیں۔ اب انھیں اقتصادی طور پر مزید الگ تھلگ کرنے کی کو شش کی جا رہی ہے۔’

‘موجودہ ماحول میں انڈیا کے مسلمانوں کی اکثریت غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اکثریتی برادری کا ایک طبقہ مذہبی انتہا پسندی کی طرف مائل ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنا بڑا طبقہ مذہبی طور پر سخت گیر ہوا ہے لیکن اکثریتی برادری کے رویے میں شدت پسندی کسی بھی ملک میں بہت خطرناک ہوتی ہے۔’تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان واقعات کا مقصد مسلمانوں میں خوف پیدا کرنا ہے اور اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ حملہ آوروں کو یقین ہوتا ہے کہ حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی، جبکہ کئی ایسے واقعات ہیں جہاں حملے کا شکار ہونے والے کے خلاف ہی قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

معروف مبصر رجنی بخشی اخبار انڈین ایکپریس میں شائع اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں: ‘مسلمانوں کے خلاف اس قسم کے تشدد کو ہندوؤں کے لیے انصاف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ مسلمانوں کے خلاف تشدد کے معاملے میں انتظامیہ اپنی آنکھیں بند رکھے گی۔’

ان واقعات نے مسلمانوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا دیا ہے۔ دلی کی ایک طالبہ فرحین سیفی کہتی ہیں: ‘جب ہم ان واقعات کو سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں تو دل میں ایک ڈر پیدا ہو جاتا ہے کہ کہیں ایسا ہمارے ساتھ نہ ہو جائے۔’

جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم احمد انصاری کا خیال ہے کہ ‘اس طرح کے عوامی تشدد کے واقعات کے خلاف سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام ان سے محفوظ رہ سکیں۔’

دوسری جانب، اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نرگس خاتون کو بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ضرور ہے لیکن وہ کہتی ہیں انھیں ابھی تک ایسے کسی ناگوار تجربے سے گزرنا نہیں پڑا۔

‘مجھے سفر کر کے آنا ہوتا ہے۔ میں حجاب کا استعمال کرتی ہوں لیکن ابھی تک مجھے کوئی برا تجربہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی تفریق کا سامنا ہوا ہے۔ مجھے لگتا ہے ابھی بھی لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کی عزت ہے۔’

لیکن دلی کی سماجی کارکن ایمن رضوی کے تجربات مختلف ہیں۔ وہ عبایہ پہنتی ہیں اور حجاب بھی کرتی ہیں۔

‘جب یہ لوگ کوئی داڑھی والا کوئی ٹوپی والا، کوئی برقعے والی لڑکی دیکھتے ہیں تو یہ ہمارے مذہب پر طعنے کستے ہیں۔ ہمیں کٹھ ملا تو کبھی ملا کہہ کر بلاتے ہیں۔ مجھے تو ٹنٹ ہاؤس والی کہا جاتا ہے کیونکہ میں اسی طرح عبایہ اور حجاب میں رہتی ہوں۔‘

ان واقعات پر حکومتی رد عمل کیا ہے؟

حکومت نے اس طرح کے واقعات پر کئی بار تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا جس کے سبب سخت گیر عناصر کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

البتہ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات حکومت کے لیے تکلیف اور تشویس کا باعث ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ‘ایسے واقعات انسانیت کو شرمسار کرتے ہیں لیکن ان واقعات کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی وہ کم خطرناک نہیں ہے۔ ان واقعات کو مذہبی رنگ دینا نہ تو سماج کے مفاد میں ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے مفاد میں ہے۔ انتخابات کے آتے ہی ووٹ کی سیاست کرنے والے باہر آ جاتے ہیں اور اسی طرح کا بھرم پیدا کرتے ہیں۔ مسلمان برادری 75 سالوں میں ووٹ کے سوداگروں کے دیے ہوئے 75 زخموں سے گھائل ہے لیکن اب ان کے حربوں کو سمجھ چکی ہے اور وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔’

عباس نقوی کا مزید کہنا ہے کہ ان پرتشدد واقعات کا شکار صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دوسرے لوگ بھی ہو ہیں۔

‘لنچنگ کو اگر صحیح معنوں میں دیکھنا ہے تو ہمارے پڑوس میں دیکھ لیجیے۔ وہاں پر خواتین کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جا رہا ہے، کیا بے حرمتی ان کی کی جا رہی ہے۔ ہندوستان آئین سے چلتا ہے، لیکن جو ممالک شریعت سے چل رہے آپ جا کر دیکھ لیجیے وہاں کی حالت۔’

آنے والے کچھ عرصے میں انڈیا کی کئی اہم ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات میں مزید اضافہ ہو گا۔

تجزیہ کار عارفہ خانم کہتی ہیں کہ ’ملک کے لیے جمہوری نظام برسوں کی آزادی کی جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا تھا۔ اب ہم اس پوری عمارت کی اینٹ اینٹ کو بکھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ ریزہ، ریزہ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ اسے صرف انتخابی طریقے سے اور جمہوری اداروں کو ٹوٹنے سے بچا کر روکا جا سکتا ہے۔’

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...