Powered By Blogger

اتوار, اکتوبر 10, 2021

لکھیم پور کھیری تشدد: وزیر کا بیٹا آشیش مشرا اہم سوالوں کے جواب دینے سے قاصر، جیل بھیجا گیا

لکھیم پور کھیری: مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کو بالآخر جیل بھیج دیا گیا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے 3 اکتوبر کو اپنی ایس یو وی گاڑی کے ذریعے کسانوں کے ایک گروپ پر حملہ کیا۔ اس دن کے واقعات کے تسلسل کے حوالہ سے سوالات کے جواب دینے سے قاصر رہا۔ مشرا کو ہفتہ کی رات 10.50 بجے گرفتار کیا گیا اور 12 گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد اتوار کی دوپہر ایک بجے کے قریب لکھیم پور جیل بھیج دیا گیا۔

تحقیقاتی ٹیم کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق آشیش مشرا یہ نہیں بتا سکا کہ 3 اکتوبر کو دوپہر 2.30 اور 3.30 کے درمیان جس وقت واقعہ پیش آیا وہ کہاں تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ وہ دوپہر 2 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان جائے وقوعہ سے غائب تھا، جبکہ اس کے فون کی لوکیشن کے مطابق وہ جائے وقوعہ کے نزدیک ہی تھا۔

اگرچہ وزیر کے بیٹے نے اعتراف کیا ہے کہ کسانوں کو روندنے والی ایس یو وی اسی کی ہے، تاہم اس نے کہا کہ واقعہ پیش آنے کے وقت وہ گاڑی میں موجود نہیں تھا۔ حالانکہ اس روز کشتی کے مقابلہ کی کھینچی گئیں 150 تصاویر اس بات کی گواہ ہیں کہ آشیش مشرا واقعے کے دن وہیں موجود تھا۔ پولیس افسر نے کہا، "اس کے پاس ہر سوال کا ایک ہی جواب تھا، میں اس جگہ موجود نہیں تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ اس کی ایس یو وی کون چلا رہا تھا، اس میں کتنے لوگ سوار تھےْْْْْْ، کتنی کاریں قافلے میں تھیں؟ تمام سوال کے جواب میں اس نے یہی کہا کہ وہ وہاں موجود نہیں تھا۔

یہ پوچھے جانے کے بعد کہ لوگوں کو ٹکر مارنے کے بعد گاڑی کیوں نہیں رکی اور سڑک پر ہجوم کیوں تھا، آشیش مشرا کا ایک ہی جواب تھا۔ "میں وہاں نہیں تھا۔” بعض اوقات وہ اپنا توازن بھی کھو دیتا تھا اور کہتا تھا، "اگر تم مجھ سے لاکھ بار بھی پوچھو گے تو بھی میرا جواب وہی ہوگا۔” اس نے اس حقیقت سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا کہ اس کے آدمی اسلحہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ کم از کم دو مہلوکین کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاشوں پر گولیوں کے نشانات ہیں، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس حقیقت کی تردید کی گئی ہے۔

تاہم 315 بور کے دو خالی کارتوس برآمد ہوئے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی نے گولی چلائی تھی۔ جب پولیس ٹیم نے آشیش مشرا سے ویڈیو فوٹیج کی صداقت کے بارے میں پوچھا تو اس نے ضلع میں پہلے کشتی میچ میں اپنی حاضری کو ثابت کرنے کے لئے ثبوت پیش کئے اور کہا، ’’آپ فارینسک ماہرین سے اس کی جانچ کرا سکتے ہیں۔‘‘ حالانکہ جس وقت واقعہ پیش آیا، اس وقت اپنے ٹھکانے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں تھی، کیونکہ کشتی کا مقابلہ اس وقت تک ختم ہو چکا تھا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ وہ تحقیقات میں تعاون کیوں نہیں کر رہے ہیں، آشیش نے کہا کہ ’’جب بھی ضرورت ہوگی میں آؤں گا، میں مجرم نہیں ہوں۔ میں ایک سیاستدان اور تاجر کا بیٹا ہوں۔

نیوزی لینڈ کی ویب سائٹ پر چارپائی کی مہنگے داموں میں فروخت۔قیمت جان کر حیرانی ہوگی

نیوزی لینڈ کی اینابیل نامی ویب سائٹ کی جانب سے بر صغیر خصوصاً پاکستان اور بھارت میں استعمال کی جانے والی چارپائی کی فروخت کی جا رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کی گھریلو اشیاء آن لائن بیچنے والی ایک ویب سائٹ ’اینابیل‘ کی جانب سے اپنے مصنوعات میں ایک چارپائی کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔نیوزی لینڈ کی ویب کا چارپائی سے متعلق تفصیلات میں لکھنا ہے کہ یہ بر صغیر کی ایک ثقافتی چارپائی ہے جسے دن میں آرام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔

نوزی لینڈ کی ویب سائٹ پر لکڑی سے بنی اس چارپائی کی قیمت 800 -NZD رکھی گئی ہے جبکہ بھارت کی کرنسی میں یہ مالیت41ہزار سے زائد بنتی ہے۔

پنچایت انتخابات : سخت نگرانی کے درمیان ووٹوں کی گنتی شروع ، سپاہیوں نے دکھایا کھاکھی کا دبدبہ

پنچایت انتخابات : سخت نگرانی کے درمیان ووٹوں کی گنتی شروع ، سپاہیوں نے دکھایا کھاکھی کا دبدبہبیگوسرائے ، 10 اکتوبر۔ پنچایت انتخابات کے تیسرے مرحلے کے ووٹوں کی گنتی اتوار کو سخت سیکوریٹی کے درمیان شروع ہوئی۔بیگوسرائے کے دو بلاک ویر پور اور ڈنڈاری میں تیسرے مرحلے کی پولنگ ہوئی ہے۔ جن کی گنتی اتوار اور پیر کے روز ہوگی۔ یہ دونوں بلاک کے 16 پنچایتوں میں واقع 218 پولنگ مراکز میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ ویر پور بلاک کے لیے بازار سمیتی احاطے اور ڈنڈاری بلاک کے لیے جی ڈی کالج احاطے میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ووٹوں کی گنتی کے لیے صبح 6 بجے سے گنتی مرکز کے ارد گرد ہجوم جمع ہونا شروع ہو گیا تھا گنتی صبح 8 بجے سے شروع ہوا۔ تمام امیدوار مختلف مندروں اور مزاروں پرحاضری دیکر اپنی جیت کی دعا کرکے حامیوں کے ساتھ گنتی مراکز پر پہنچے۔ اس دوران بازار سمیتی کے ارد گرد بنائی گئی چیک پوسٹ کی حالت ٹھیک تھی ، لیکن جی ڈی کالج کے ارد گرد بنائی گئی چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں نے اپنی من مانی کی۔ادھر گرمی سے بے چین لوگ کافی پریشان بھی نطر ا?ئے۔ جی ڈی کالج کے قریب بجرنگ چوک چیک پوسٹ پر ایک کانسٹیبل نے وردی کا خوف دکھا کر لوگوں کے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔ اس دوران پولیس افسران اور مجسٹریٹ خاموش تماشائی بنے رہے۔ انتظامی سطح پر گاڑیوں کی پارکنگ کی عدم دستیابی کی وجہ سے افراتفری کا ماحول تھا۔ مہنا سے ڈاکٹر کو دکھانے بیگوسرائے ا?رہے ونود کمار نے بتایا کہ بجرنگ چوک کے قریب ان کی بائک پنکچر ہوگئی۔ بائک کو سائیڈ کرکے چیک کر رہے تھے اسی دوران اچیت کمار نام کا بیچ لگائے ایک سپاہی نے ان سے گالی گلوج کی۔گنتی مراکز کے ارد گرد لوگوں کا ہجوم تھا ، عارضی طور پر پھول مالا کی دکانیں کھل گئیں۔ ووٹنگ مراکز میں امیدوار اور ان کے گنتی ایجنٹوں کو کوئی پریشانی نہ ہو ، یہ اس کے لییخاص انتظامات کیے گئے۔

نابالغ کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے پر مندر کا پجاری گرفتار

پوری: اڈیشہ میں پوری کی سنگھ دوار پولیس نے ہفتہ کو مندر میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ چھیڑ خانی کے الزام میں بامن مندر کے پجاری سنگرام داس کو گرفتار کیا اور اسے عدالت میں پیش کیا۔ پجاری کو سب ڈویژنل جوڈیشیل مجسٹریٹ (ایس ڈی جے ایم) کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں مجسٹریٹ نے اس کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔

یہاں موصولہ رپورٹ کے مطابق حیدرآباد سے ایک خاندان کل شری جگناتھ مندر کے درشن کے لیے آیا تھا۔ کمپلیکس میں دیگر مندروں کا دورہ کرتے ہوئے ، وہ بامن مندر گئے جہاں 11 سالہ لڑکی سے مبینہ طور پر چھیڑ خانی کی۔

لڑکی کے والد نے شکایت درج کروانے اور پجاری کو پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لینے کے بعد سنگھ دوار پولیس نے جنسی جرائم سے بچاؤ کے قانون (پوکسو ایکٹ) کے تحت مقدمہ درج کیا۔

شری جگناتھ مندر کے علاوہ ، مہالکشمی ، ومالا ، مہاکالی ، سوریا ، سرسوتی ، شیتلا اور بہت سے دیوتاؤں کے چھوٹے مندر اس کمپلیکس میں موجود ہیں۔ دریں اثنا ، چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے عہدیدار نے متاثرہ شخص کی کونسلنگ کی اور اس کے خاندان کے پوری سے روانگی سے قبل اس کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔

بریکنگ نیوزانتخابات سے قبل سروے پر پابندی لگانے کا مطالبہ : مایاوتی

بریکنگ نیوزانتخابات سے قبل سروے پر پابندی لگانے کا مطالبہ : مایاوتی

لکھنؤ: یو پی اسمبلی انتخابات میں چھوٹی پارٹیوں کے اتحاد سے عوام کو محتاط رہنے کی اپیل کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ انتخاب سے قبل سروے پر روک لگانے کیلئے وہ جلد ہی الیکشن کمیشن کو خط لکھیں گی۔پارٹی کے بانی کانشی رام کی 15ویں برسی کے موقع پر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ کچھ لوگ بی ایس پی کے کمزور ہونے کا پروپیگنڈہ کررہے ہیں حالانکہ ان کی غلط فہمی آج کی ریلی کو دیکھ کر دور ہوگئی ہوگی۔اگلے سال اترپردیش میں حکومت بنانے کا دعوی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو کانگریس، بی جے پی، سماج وادی پارٹی اور عام آدمی پارٹی کے ہوا ہوائی دعوؤں سے محتاط رہنا چاہئے جن میں ذرا بھی دم نہیں ہے ۔


جئے شری پاوڑے ناندیڑ کی نئی میئر

ناندیڑ:9 اکتوبر۔ (اردو دنیا نیوز۷۲)ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کی آئندہ سوا سال کی معیاد کیلئے کانگریس کی کارپوریٹرشریمتی جئے شری پاوڑے کے نام پر مہر لگ گئی ہے۔آج صبح انھوں نے ناندیڑمیونسپل کارپوریشن دفتر پہنچ کر انتخابی پروگرام کے مطابق اپنا پرچہ نامزدگی شہر سیکریٹری اجیت پال سنگھ سندھو کے سپرد کیا ۔

اس موقع پرسابقہ وزیر ڈی پی ساونت ‘ڈپٹی میئر مسعوداحمدخاں‘چیرمین سنگیتا ڈک ‘سابقہ میئر عبدالستار ‘سابقہ میئر شیلجاکشور سوامی‘سابقہ ڈپٹی میئر ستیش دیشمکھ ‘تعلقہ صدر ایڈوکیٹ نلیش پاوڑے‘شیام درک ‘کشور سوامی ‘امیت تہرا‘گیتانجلی کاپورے ہٹکر‘سریتا دیشمکھ‘کوتیا مڑے‘ارپنانیرلکر‘ محمدناصر‘ عبدالغفا ر‘عبداللطیف ‘ چاند پاشاہ قریشی] منتجب الدین‘ کشن کلیانکر ودیگر کانگریسی عہدیداران تھے۔

واضح رہے کہ آج پرچہ نامزدگی داخل کی گئی اور انکا انتخاب یقینی ہے ۔کیونکہ کارپوریشن میںکانگریس پارٹی کو اکثریت حاصل ہے ۔ انتخابی پروگرام کے مطابق 13اکتوبر کو صبح گیارہ بجے میونسپل کارپوریشن کے اجلاس عام میں نئے میئرکاانتخاب عمل میں آئے گا۔اس اجلاس میں ریٹرئنگ آفیسر کی ذمہ داری ضلع کلکٹر ڈاکٹرویپن اٹنکرنبھائیں گے۔

آسام میں مسلمانوں کا قتل: او آئی سی کی مذمت ‘ انڈیا کی کڑی تنقید

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مسلمان شہری کی لاش کی بے حرمتی کے واقعے کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی مذمت کے بعد انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے ردِ عمل دیتے ہوئے او آئی سی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔جمعے کی رات انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے یہ بیان ایک سوال کے جواب میں جاری کیا تھا۔وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا انتہائی افسوس کے ساتھ یہ بتانا چاہتا ہے کہ او آئی سی نے ایک بار پھر انڈیا کے اندرونی معاملے پر تبصرہ کیا ہے جس میں اس نے انڈین ریاست میں ایک بدقسمت واقعے کے بارے میں حقیقت پسندانہ طور پر غلط تبصرہ کیا ہے۔ اور ایک گمراہ کن بیان جاری کیا ہے۔

اس کے علاوہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا اس سلسلے میں مناسب قانونی کارروائی کر رہا ہے۔بیان میں یہ بات دہرا دی گئی ہے کہ ‘او آئی سی کو انڈیا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے اور اسے اپنے پلیٹ فارم کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔’اس کے بعد بیان کے اختتام پر انڈیا نے او آئی سی کو خبردار کیا ہے کہ ’انڈیا کی حکومت ان تمام بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ مستقبل میں ایسے بیانات نہیں دیے جائیں گے۔‘خیال رہے کہ اس واقعے کی دنیا کے اکثر ممالک کی جانب سے مذمت کی گئی تھی، تاہم عرب ممالک میں یہ تنقید سوشل میڈیا پر کی جا رہی ہے اور گذشتہ دنوں میں وہاں انڈین مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے سے متعلق ٹرینڈ چلائے گئے ہیں۔

او آئی سی نے کیا کہا؟
مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی نے گذشتہ ماہ انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام کے ضلع درنگ میں مبینہ طور پر سینکڑوں مسلم خاندانوں کو سرکاری زمین سے ‘تجاوزات ہٹانے کی مہم’ کے تحت بے دخل کرنے کے دوران ہونے والی پولیس کارروائی کو ‘منظم تشدد اور ہراساں کرنا’ کہا ہے۔جمعرات کی شام ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں او آئی سی نے اس معاملے کی میڈیا کوریج کو شرمناک قرار دیا اور انڈیا سے ذمہ داری سے برتاؤ کرنے کی اپیل کی تھی۔اس کارروائی کے دوران دو مقامی مسلمان شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس کی ایک خوفناک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی۔او آئی سی نے اپنے بیان میں انڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلم اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے اور ان کے تمام مذہبی اور سماجی بنیادی حقوق کا احترام کرے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قومی خودمختاری کے اندر کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کا بہترین طریقہ باہمی بات چیت ہے۔نہ صرف او آئی سی بلکہ غیر ملکی میڈیا نے بھی آسام کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اس واقعے کا موازنہ امریکہ میں جارج فلوئیڈ قتل کیس سے کیا۔
اخبار لکھتا ہے کہ اس طرح کا وحشیانہ واقعہ پولیس کی ناقص تربیت اور اس شخص کے غیر اخلاقی رویے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اخبار نے لکھا: ‘جس طرح منیاپولیس میں ایک پولیس افسر کے ہاتھوں جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کا واقعہ امریکہ میں نسلی عدم مساوات اور پولیس تشدد کی جڑیں دکھاتا ہے وہیں آسام میں ہونے والی بربریت انڈیا میں نفرت، تشدد اور سزا سے معافی کو دکھاتی ہے۔’
اخبار نے لکھا: ‘سنہ 1947 کی تقسیم کے بعد انڈیا کبھی بھی مذہبی بنیاد سے اوپر نہیں اٹھ سکا اور یہاں فرقہ وارانہ تعصبات بہت گہرے ہیں۔ ماضی میں سیاسی رہنماؤں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور تنوع کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن دائیں بازو کی ہندو قوم پرست تنظیم اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے پرانی نفرت کو ہوا دی ہے۔ مسلم اقلیتوں کو ہندو اکثریت کے لیے خطرے کے طور پر پیش کیا ہے اور اس کے علاج کے لیے پرتشدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔’

اس کے علاوہ برطانوی اخبار نے انڈیا میں ‘لو جہاد’، ‘کورونا جہاد’، دہلی فسادات، چھتیس گڑھ میں ہندو مذہبی تنظیموں کی جانب سے گذشتہ ہفتے کیے جانے والے تشدد، کسانوں کی تحریک، آرٹیکل 370 وغیرہ کا بھی ذکر کیا ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ نفرت، خونریزی اور ماتم کے اس خوفناک سلسلے کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ آسام میں ہونے والے واقعے کا ذکر خلیجی ملک کی میڈیا ‘الجزیرہ’ نے بھی اپنی خصوصی رپورٹ میں کیا ہے۔درنگ سے اپنی گراؤنڈ رپورٹ میں الجزیرہ نے اس واقعے کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔اس واقعے میں ہلاک ہونے والے معین الحق کے چھوٹے بھائی عین الدین کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کو پولیس نے سینے میں گولی ماری تھی اور فوٹوگرافر ان کے سینے پر چھلانگ لگا رہا تھا جبکہ وہ مر چکے تھے۔الجزیرہ لکھتا ہے کہ آسام حکومت کی باگ ڈور ہندو قوم پرست تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا ہے اور اس واقعے نے سول سوسائٹی کو بڑا دھچکہ پہنچایا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے دعویٰ کیا ہے کہ گاؤں کے لوگوں نے پہلے پولیس پر لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے حملہ کیا تھا اور تشدد ایک سازش کا نتیجہ تھا۔ اس کے ساتھ وزیر اعلیٰ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ گاؤں کے لوگوں کو باہر سے آنے والے لوگوں نے اکسایا تھا۔الجزیرہ نے لکھا کہ وزیراعلیٰ سرما نے اس واقعہ کے دعووں کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ تاہم پولیس نے دو مقامی لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

23 ستمبر کو ‘غیر قانونی تجاوزات’ کو ہٹانے کی پولیس کارروائی کے دوران آسام کے درنگ ضلع کے دھول پور گاؤں نمبر تین میں پرتشدد تصادم ہوا جس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ان میں سے ایک شخص مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔ انتظامیہ کے دعوے کے مطابق اس واقعے میں آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔اس واقعے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ایک فوٹو گرافر معین الحق کے گرنے کے بعد اس کے سینے پر کود رہا ہے۔ بیجوئے بانیا نامی فوٹوگرافر مقامی انتظامیہ کے ساتھ واقعے کی ویڈیو گرافی کر رہا تھا جسے بعد میں حراست میں لے لیا گیا۔ریاستی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ آسام حکومت کے محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ گوہاٹی ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی قیادت میں انکوائری کی جائے گی۔ تفتیش میں اس واقعے کے رونما ہونے والے حالات کا پتا چلایا جائے گا۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...