Powered By Blogger

ہفتہ, اکتوبر 16, 2021

تبلیغی جماعت،امارت شرعیہ،مسلکی اختلافات! آخر کب تک؟


از: جرنلسٹ قاری ضیاءالرحمن فاروقی (ڈائریکٹر تحفظ دین میڈیا)

اس وقت مسلمانوں پر سخت آزمائشی حالات آئے ہوئے ہیں، بلکہ حالات تو بہت پہلے سے مختلف شکلوں میں آ ہی رہے ہیں، لیکن ان دنوں خصوصاً این آر سی اور کرونالاک ڈائون کے عرصہ میں جو حالات آئے وہ شاید پہلے کبھی اتنے سخت حالات ہونگےاس صدی کے اعتبار سے۔
ان حالات کے جتنے ذمہ دار فرقہ پرست لوگ ہیں اتنے ہی ہمارے اپنے لوگ بھی ہیں، ان میں ہرطبقہ کا فرد شامل ہے، اور اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم متحد نہیں ہیں، اور اگر یہی حال رہا تو ہم کبھی متحد نہیں ہوسکینگے، اور پھر ہماری داستان بھی نہیں ہوگی داستانوں میں۔

یہ وقت ہے آپس میں اتحاد کا، پیار محبت بانٹنے کا، ایکدوسرے کو برداشت کرنے کا،ایک دوسرے کو ایڈجسٹ کرنے کا، ایک دوسرے کو نبھانے کا، پھر چاہے وہ رشتہ دار ہو،دوست ہویا اپنا ایمان والا بھائی ہوبلکہ اس عمل کا مظاہرہ اپنے برادان وطن کے ساتھ بھی ہونا چاہئے،یہی وقت کا تقاضہ ہے،ایک جُٹ ہوکر آپس میں متحد ہوکر فرقہ پرستوں کو جواب دینے کا اور ظالموں سے مقابلہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔

قارئینِ ہم نے بہت اختلافات کرلیئے ، بلکہ میں یہ کہونگا کہ نام اختلاف کا دیئے لیکن حقیقت میں اختلاف کے نام پر مخالفت کی، اور اس میں اتنے الجھ گئے کہ ہماری شان و شوکت اورشبیہ سب کو متاثر کردیا۔کبھی ہم نے تبلیغی جماعت کے نام پر اختلاف کیا، کبھی کسی مسلک کے نام پر اختلاف کیا، کبھی کسی تنظیم ، جماعت یا ادارہ کے نام پر اختلاف کیا،غرض یہ کہ جتنے بھی میدان تھے ہر میدان میں ہر کام کے نام پر ہم نے اختلاف کیا، اور کیا نتیجہ نکلا کہ ہم آپس میں ہی تکڑوں میں بنٹ گئے، اور جس قوم کو متحد ہونا تھا اپنے آپ کو اتنا ذلیل،رُسوا اور نقصان پہنچایا ہے کہ شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہوگا۔ کئی زمانے گزرگئے ،لیکن آپسی اختلافات واقعی اختلافات تھے، علمی تھے، نظریاتی تھے، لیکن جب آپس میں لوگ ملتے تھے تو دل صاف ہوتے تھے، اختلاف کو اختلاف کے درجہ میں ہی رکھا جاتاتھا، لیکن آج اختلاف کے نام آپس میں مخالفتیں، دُشمنیاں اور نہ جانے کیا کیا سازشیں ہورہی ہے کہ بس اللہ ہی رحم کرے۔

اور معزز قارئین حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اسکا ذرہ برابر بھی احساس نہیں ہے، اور ہم اپنی اسی روش پر آج بھی چل رہے ہیں، ایسے سخت حالات کہ ہم نے خود دیکھا کہ ہماری مسجدوں کو تالے لگادیئے گئے، ہمیں تراویح اور دیگر عبادات سے محروم رکھا گیا،یہاں تک کہ ہمارے لیئے حرمین شریفین یعنی مکہ مدینہ تک کےدروازے بند کردیئے گئے، اور ہم پر اسکا ذرہ بھی احساس نہیں ہوا کہ اللہ ہم سب سے بہت ناراض ہیں،اور کونسی دلیل چاہئے ہمیں ، کیا ہم اب بھی نہیں سمجھتے کہ یہ سب ہمارے گناہوں اور اعمال کی وجہ سے ہوا ، وقتی طور پر سبھی لوگ مصنوعی احساس کا اظہار کرتے رہے، لیکن جو ں جوں حالات قابو میں آنے لگے پھر مسجدیں ویران ہونے لگ گئی، پھر آپسی مسائل شروع ہوگئے ،پھر وہی گناہوں بھری زندگی کے دلدل میں پھنسنے لگ گئے، آخر اس قوم کو کیا ہوگیا ہے، کیا کررہی ہے،کہاں جارہی ہے۔ بس اللہ ہی جانتا ہے۔ اور اگر اب بھی اتنے سخت حالات کے باوجود ہم آپس میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ ہمیں فرقہ پرستوں اور دشمنوں کی ضرورت ہی نہیں ،ہم خود ایک دوسرے کو ختم کرنے اور نقصان پہنچانے کیلئے کافی ہے۔

قارئین میں نے گزشتہ دنوں تبلیغی جماعت امارت شوریٰ سے متعلق پرائم ٹائم کیا تھا، میرا مقصد یہ ہے کہ اب ان آپسی اختلافات کو چھوڑ کر متحد ہوجائیں، ان اختلافات سے بہت نقصان ہواہے اور ہورہاہے، دُنیا بھر میں مسلمانوں کی شبیہہ اس سے خراب کی جاچکی ہے۔ اور ہم ابھی بھی اسی میں لگے ہوئے ہیں، اور ایک حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ چند شدت پسند، شرپسند فتین کی وجہ سے پوری قوم کو اسکا خمیازہ بھگتنا پڑرہاہے، اور یہ شدت پسند مٹھی بھر ہے، ان لوگوں کا بس کا م ہی یہی ہے کہ آپس میں لڑائو،جھگڑے فساد کی شکلیں بنائو، اور توڑ نے کا کام کرو، بس یہی ان لوگوں کا مقصد ہے،ان میں سے کچھ لوگوں نے مجھے کال کی، بنا اجازت کال ریکارڈنگ کی اور غلط عنوان کے ساتھ اسکو بنااجازت سوشل میڈیا پر نشر بھی کیا، اور وہ خود اپنی اس حرکت سے ذلیل اور رُسوا بھی ہوئے، لیکن ان کی حس مرچکی ہے، ان جیسےلوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،ایسے لوگ بس ایسی حرکتوں کی تلاش میں رہتے ہیں، ایسے لوگ جس جماعت یا گروہ کا نام لے کر بھی بات کرتے ہیں وہ خود اس جماعت یا گروہ کے بڑوں کی نہیں مانتے، نہ علماء کی نہ خواص کی، اور عام آدمی کی بات ماننا تو دور کی ہی بات ہے۔

کوئی تبلیغی جماعت امارت کا نام لے کر انتشار پھیلانے کا کام کریگا، کوئی شوریٰ کا نام پر،کوئی کسی جماعت کے نام پر،کوئی اہل حدیث کے نام پر،کوئی بریلوی کے نام پر،کوئی کسی ادارہ یا کسی گروہ کے نام پر،یا کوئی کسی شخص کے نام پر،بس امت میں اور خاص طور سے قوم میں توڑ پیدا کرنے کا کام کریگا، ایسے لوگوں کو تو بس توبہ کرنا چاہئے، اور نہیں کرینگے تو اللہ کی پکڑ کا انتظار کرنا چاہئے، پھر عبرت کا نشان بنیگے دُنیا میں آخرت میں رُسوائی ملیگی تو پھر ہوش ٹھکانے آجائینگے، اور اس وقت افسوس اور پچھتاواکرکے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

ابھی حال میں پٹنہ بہار امارت شرعیہ کا مسئلہ زوروں پر رہا، گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کام چلتا رہا، بالاخر امیر شریعت منتخب ہوگئے، اب پھر سے سوشل میڈیا پر امیر شریعت کے خلاف تحریریں چلنا شروع ہوگئی ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ وہ عالم ہی نہیں ہے، کوئی کہہ رہاہے کہ وہ ایسے ہیں، وہ ویسے ہیں، ارے میرے عزیزوں اگر ایسا ہے تو تُمیں خوش ہونا چاہئے کہ کوئی تو ہے اس میدان میں، اور اللہ پاک نے توخود فرمایا نا کہ اگر تُم اپنی ذمہ داریوں سے بھاگوگے تو پھر اللہ پاک ایسے لوگوں کو کھڑا کرینگے جو تم جیسے نہیں ہونگے لیکن تم سے بہتر کام کرینگے، بس سوچ کا فرق ہے، ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم خود میدان میں نہیں آتے، اور جو میدان میں ہیں انھیں کام بھی نہیں کرنے دیتے نہ انھیں قبول کرتے۔ جب ہمیں قوم وملت کا اتنا درد ہے،اتنی فکر ہے تو پھر میدان میں کیوں نہیں آتے، سوشل میڈیا پر اپنے گھر میں دبک کر بیٹھ کر ایک دوسرے کے مخالفت میں تحریریں لکھنا اور لوگوں کو فون کال کرکے پریشان کرنا ،بس ہمیں یہی آتا ہے، عملی طور پر ہم جو کرسکتے ہیں وہ بس یہی ایک کام ہے نہ خود کچھ کرو نہ دوسروں کو کرنے دو۔

مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں ،سوشل میڈیا پر ہر بات پر،ہر شخص پر،ہر جماعت پر تنقیدی انداز میں اشکالات اور اعتراضات کرتے ہیں انکی خود انکے گھر میں کوئی نہیں سنتا، اور اس کی وجہ بھی ہے کہ گھروالوں کو پتہ ہوتاہے کہ یہ بندہ خود کتنے پانی میں ہے،اور گھر والے بھی مجبوری میں ایسے لوگوں کو برداشت کررہے ہوتے ہیں،جب اپنے گھر میں اپنی بات کوئی نہیں سنتا تو قوم کیسے سنیگی، قوم کیسے مانے گی، اگر واقعی اخلاص اور لللہ یت سے کام کرتے تو یقیناً قوم سُنتی بھی اور مانتی بھی۔ لیکن بس ہمارا مسئلہ تعصب، انا اور ضدکا ہے، ہم کسی کو قبول کرنا ہی نہیں چاہتے، نہ ہم کسی کو بڑا ماننا چاہتے ہیں، نہ کسی کو قائد ماننا چاہتے ہیں، جو کا م علماء کا ہے علماء کوکرنے دیں، جو کام جس شعبہ کا ہے اس کو وہ کام کرنے دیں، اب ہورایہ کہ کوئی ڈاکٹر،انجینئر، حکیم ،پروفیسر کسی گروہ کا یاجماعت کا نام لے کر بڑے بڑے علماء اور اکابرین سے اختلافی مسائل میں بحث کررہاہے، اور انکو باتوں میں الجھا کر،ان پر طرح طرح کی منفی باتیں کس کر انکی کال ریکارڈنگ کو سوشل میڈیا پر غلط عنوان سے ڈال رہاہے، اس سے سب سے پہلے تو خود اسکی ذات کا نقصان ہورہاہے، قوم کا جو ہوگا وہ تو الگ ہے، ان جیسے لوگوں کی کوئی حیثیت،کوئی اوقات نہیں،نہ علم ہے ان کے پاس نہ عمل ، اور یہ حکیم بن کر،ڈاکٹربن کر،انجینئر بن کر مفتیان کرام اور علماء کرام کے سامنے آکر خود کو علامہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، اور منہ کی کھاتے ہیں۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم حق بات بھی وہی سُننا چاہتے جو ہمارے حق میں ہو، ہم ہمارے مزاج کی بات سننا اور دیکھنا پسند کرتے ہیں۔

اور ایسے لوگ ہرطبقہ میں،ہرجماعت میں ،ہر تنظیم اور ہر ادارہ میں موجود ہیں، ان میں عوام بھی ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ اس میں اہل علم حضرات یعنی کچھ علماء بھی ہیں۔

ہم صرف بڑا بننا پسند کرتے ہیں، کسی کو بڑابنانا یا اسکو بڑاماننا پسند نہیں کرتے، عملی طور پر ہم خود کچھ کرنے سے رہے، بس ہم ایک دوسرے میں کیڑے نکالنا جانتے ہیں اور کچھ نہیں۔

ابھی حال میں حضرت مولانا کلیم صدیقی دامت برکاتہم کی گرفتاری ہوئی اور حضرت والا ابھی تک جیل میں ہے، اور وقت طور پر کچھ لوگوں نے آواز اٹھائی اور اب ہرجگہ پھر سے سنـناٹا چھایا ہوا ہے، نہ کوئی بڑے کچھ بولنے تیار ہے نہ کوئی چھوٹے، اور عام لوگوں کا تو بس پوچھو ہی مت۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم ایسا احتجاج کرتے کہ ساری دُنیا دیکھتی رہ جاتی، کہ ایک عالم کے اُوپر ہاٹھ ڈالاگیا،ایسے چوٹی کے عالم جس کا فیض دُنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے، ہم ایسے عالم کے تعلق سے بھی مصنوعی احتجاج کرکے سیاست کرکے بیٹھ گئے، اور ایسا ہی رہا تو دوسرے بڑے علماء جو آج بھی قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں جیسے انھیں بھُلادیا گیا انھیں بھی بھلادیا جائیگا۔ لیکن انشاء اللہ اب ایسا نہیں ہوگا۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، اپنے حقوق کی حقیقی لڑائی لڑنے کیلئے عملی طور پر میدان میں آجائیں، تب ہی یہ ممکن ہوگا۔

اسلئے میری آپ تمام سے اور خصوصاً ایسے لوگوں سے جو ان سب غیر ضروری اختلافی یا مخالفت والے کاموں میں خود کی صلاحیتوں کو ضائع کررہے ہیں ،حقیقی معنوں میں اپنی صلاحیتوں کو صحیح کاموں میں استعمال کریں، اللہ کیلئے باز آجائیں، اب بھی وقت ہے ، اب بھی وقت ہے، ہمیں ہر جگہ دھدکارا جارہاہے، ٹھکرایا جارہاہے، مررہے ہیں،مارا جارہاہے، کٹ رہے ہیں کاٹا جارہاہے، اگر اب بھی ہم ہوش میں نہیں آئے، اگر ہم ابھی متحد نہیں ہوئے تو پھر ہمیں کوئی نہیں بچا سکتا۔ خداکیلئے آپسی مسائل کو اور اختلافات کو ختم کریں، آپ جس مکتب فکر بھی ہو،جس مسلک کے بھی ہو،جس جماعت کے بھی ہو،جس تنظیم ،ادارہ کے بھی ہو،آپ شوق سے اپنے کام کریں ، لیکن خدا کیلئے ہم بحیثیت مسلمان جب وقت آیا تو سب ایک جگہ سارے اختلافات کے باوجود ایمان والے رشتہ کیلئے جمع ہوجائیں، اور ایک ہوکر فرقہ پرستوں کو منہ توڑ جواب دیں، جب ہم ایسا کرینگے تو انشاء اللہ اللہ پاک ہماری شبیہہ جو خراب ہوئی اسے واپس بحال کردینگے۔ اور اللہ پاک جتنے راستے بند ہوئے ہیں سارے کھو ل دینگے۔اللہ پاک سے دعاء ہے کہ اللہ پاک اس قوم کے حالات کو بدل دے، اور عافیت کے ساتھ ایک دوسرے کو متحد ہونے کی توفیق عطا ء فرمائیں، آمین یارب العالمین

جمعہ, اکتوبر 15, 2021

دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ کے سینئر استاذ مولانا حفظ الرحمن قاسمی ندوی کا انتقال

دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ کے سینئر استاذ مولانا حفظ الرحمن قاسمی ندوی کا انتقال

نئی دہلی: دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ کے بزرگ استاذ مولانا حفظ الرحمن قاسمی ندوی کا آج دہلی میں انتقال ہوگیا۔ موصوف گزشتہ کئی ماہ سے بیمار تھے اور الشفا ہسپتال، ابوالفضل میں ان کا علاج چل رہا تھا۔ مولانا مرحوم دارالعلوم دیوبند اور ندوہ دونوں اداروں کے قدیم فیض یافتہ تھے اور طویل عرصے سے ندوۃ العلما میں عربی زبان و ادب کی تدریس کی خدمت انجام دے رہے تھے۔ مولانا کو عربی،اردو،فارسی و انگریزی سمیت کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا اور ان کی لسانی و ادبی مہارت مشہور تھی۔ ان کا تعلق بہار کے ضلع سہرسہ سے تھا۔ مولانا ندوی نہایت باوقار ، وجیہ و بے لوث شخصیت کے حامل تھے اور ندوے کے مقبول و محبوب اساتذہ میں شمار ہوتے تھے، طلبہ درسی ضروریات کے علاوہ اپنی دیگر ضروریات اور پریشانیوں میں بھی بلا جھجک ان کے پاس پہنچتے اور مولانا ان کی ہر ممکن مدد کرتے۔ مولانا کی وفات سے ان کے تلامذہ و متعلقین اور اہلِ علم و ادب کے حلقے میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مرحوم کی نماز جنازہ مسجد اشاعت الاسلام کیمپس ،مرکز جماعت اسلامی ،ابوالفضل(نئی دہلی) میں بعد نماز مغرب ادا کی گئی۔


بریکنگ نیوزکانپور کے پاس مال گاڑی پٹری سے اتری ، دہلی - ہاوڑہ ریلوے روٹ متاثر

بریکنگ نیوزکانپور کے پاس مال گاڑی پٹری سے اتری ، دہلی - ہاوڑہ ریلوے روٹ متاثر


کانپور دیہات: دہلی -ہاوڑہ ریلوے روٹ جمعہ کی صبح اترپردیش کے کانپور دیہات کے انبیا پور ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک مال گاڑی کے پٹری سے اتر جانے کے بعد متاثر ہو گیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ آج صبح نئی دہلی-ہاوڑہ ریل روٹ کے متوازی بنے فریٹ کوریڈور ٹریک پر آج صبح مال گاڑی ڈیریل ہو گئی اور کئی ڈبے پلٹ گئے۔ بائیں جانب ڈی ایف سی ٹریک تقریباً سو میٹر تک اکھڑ گیا ہے اور ڈبے ایک دوسرے سے ٹکرانے کے بعد چھلانگ لگا کر نئی دہلی-ہاوڑہ ٹریک پر آ گرے ہیں لہٰذا نئی دہلی ہاوڑہ اپ اور ڈاؤن لائن پر ٹرین کا چلنا بند ہو گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تیز رفتار مال گاڑی کے ڈرائیور نے انبیا پور ریلوے اسٹیشن کے قریب بریک لگائے جس کی وجہ سے ڈبّے آپس میں ٹکرا گئے۔ تیز رفتاری کے باعث 100 میٹر کے دائرے میں ٹریک اکھڑ گیا ہے۔ مال گاڑی سے تین ڈبّے دہلی-ہاوڑہ ریلوے لائن کی پٹریوں پر جا گرے اور وہیں پانچ ڈبّے دوسری طرف تالاب میں جا گرےحادثے میں لوکو پائلٹ (ڈرائیور) اور گارڈ محفوظ رہے اور انہوں نے فوری طور پر کنٹرول روم کو اس واقعہ سے آگاہ کیا۔ جیسے ہی اطلاع موصول ہوئی، نئی دہلی-ہاوڑہ ریل روٹ پر اپ اور ڈاون لائنوں پر ٹرینوں کا آپریشن روک دیا گیا اور اسی جگہ پر ریلوے کا عملہ اور ٹیکنیکل ٹیم جی آر پی پولیس کے ساتھ موقع پر پہنچی اور مرمت کا شروع ہوگیا۔

جمعرات, اکتوبر 14, 2021

بریکنگ نیوزماہانہ بنیاد پر تھوک مہنگائی میں نرمی ، ستمبر میں 10.66 فیصد درج کی گئی

بریکنگ نیوزماہانہ بنیاد پر تھوک مہنگائی میں نرمی ، ستمبر میں 10.66 فیصد درج کی گئینئی دہلی، 14 اکتوبر (یو این آئی) ہول سیل پرائس انڈیکس پر مبنی مہنگائی اس سال ستمبر میں 10.6 فیصد رہی جو کہ ماہانہ بنیاد پر 0.07 فیصد کم ہے فروغ صنعت کے شعبہ داخلی کاروبار کے اقتصادی مشیر کی طرف سے آج جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ایندھن، بجلی اور تیار مصنوعات میں مہنگائی کی وجہ سے سالانہ بنیادوں پر تھوک مہنگائی بلند سطح پر رہی ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال اگست میں تھوک مہنگائی 11.38 فیصدرہی، جبکہ ستمبر 2020 میں یہ 1.32 فیصد تھی۔ حکومتی رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں معدنی تیل، ویلیو میٹلز، فوڈ پروڈکٹس، خام تیل اور قدرتی گیس، کیمیائی مصنوعات کی ہول سیل قیمتوں کی وجہ سے مہنگائی کا دباؤ زیادہ رہا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ایندھن اور بجلی کے شعبے میں مصنوعات کی قیمت اس سال ستمبر میں 24.81 فیصد رہی۔ اسی طرح، تیار مصنوعات کے زمرے میں تھوک قیمتوں کی بنیاد پر افراط زر کی شرح 11.41 فیصد رہی۔ اس عرصے کے دوران، فوڈ سیکشن میں تھوک مہنگائی 1.14 فیصد رہی جو اس سال اگست میں 3.43 فیصد تھی۔

تیسری بار کولکتہ اور چوتھی بار چنائی فائنل چیمپئن بننے کے لیے ٹکرائیں گے ۔ میں

تیسری بار کولکتہ اور چوتھی بار چنائی فائنل چیمپئن بننے کے لیے ٹکرائیں گے ۔ میںدبئی ، ایان مورگن کی قیادت والی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز آئی پی ایل میں تیسری بار اور مہندر سنگھ دھونی کی قیادت والی چنئی سپر کنگز چوتھی مرتبہ خطاب جیتنے کےمقصد سے جمعہ کے روز فائنل میں آمنے سامنے ہوں گی۔
یہ چنئی کا نویں فائنل ہے جبکہ کولکتہ کی ٹیم تیسری بار فائنل کھیلے گی۔ دونوں ٹیموں نے لیگ مرحلے میں ٹاپر رہنے والی دہلی کیپٹلز کو شکست دی اور فائنل میں داخلہ حاصل کیا ۔ چنئی نے پہلے کوالیفائر میں دہلی کو چار وکٹوں سے جبکہ کولکتہ نے کل سنسنی خیز مقابلے میں دہلی کو تین وکٹوں سے شکست دی۔ جمعہ کے روز فائنل میں چنئی اور کولکتہ کے بیچ زبردست مقابلہ ہوگا۔
دو بار کے فاتح کولکتہ کے لیے یہ تیسرا فائنل ہے اور اس نے اپنے پچھلے دونوں فائنل جیتے ہیں ، جبکہ چنئی کے لیے یہ نواں فائنل میچ ہوگا اور وہ تین بار فاتح رہا ہے۔
کولکتہ کے کپتان مورگن اور چنئی کے کپتان دھونی میدان میں کافی پرسکون رہتے ہیں لیکن کارکردگی کے لحاظ سے دونوں کپتانوں میں بہت فرق ہے۔ دھونی نے دہلی کے خلاف پہلے کوالیفائر میں صرف چھ گیندوں ناٹ آوٹ 18 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو ایک ناممکن نظر آنے والی جیت دلائی جبکہ دوسرے کوالیفائر میں مورگن بغیر کوئی رن بنائے پویلین چلے گئے تھے لیکن راہل ترپاٹھی نے روی چندرن اشون کے آخری اوور کی پانچویں گیند پر سیدھے چھکا لگاکر کے کے آر کو فائنل میں پہنچا یا تھا۔
چنئی کو تجربہ کار کھلاڑیوں اور نوجوان اوپنر رتوراج گائیکواڈ سے امید رہے گی ۔ شاندار فارم میں کھیل رہے گائیکواڈ ٹورنامنٹ میں 600 سے زیادہ رن بناچکے ہیں جبکہ ابھی فائنل باقی ہے۔ تجربہ کی بات کی جائے تو کپتان دھونی کی عمر 40 سال سے زیادہ ہوچکی ہے جبکہ ڈیون بریوو 38 سال، فاف ڈوپلیسیس 37 سال، روبن اتھپا 36 سال، امباٹی رائیڈو 36 سال، معین علی 34 سال اور رویندر جڈیجہ 32 سال سے زائد ہوچکے ہیں ۔
ان تجربہ کار کھلاڑیوں کو فائنل میں کولکتہ کے موجود تین عالمی سطحی اسپنروں سے نمٹناہوگا جن میں ورون چکروتی کا اکنومی ریٹ 6.40 ، سنیل نارائن 6.44 اور شکیب الحسن کا 6.64 ہے۔ تینوں اسپنرز نے اب تک بہت اچھی گیندبازی کی ہے۔ تاہم یہ دیکھنا بہت دلچسپ ہوگا کہ فائنل جیسے بڑے میچ میں تینوں کی کارکردگی کیا ہوگی۔ چوتھی بار چنئی کی جیت اس بات پر بھی منحصر ہوگی کہ ان کے تجربہ کار بلے باز ان تینوں اسپنرز کو فائنل میں کیسے کھیلتے ہیں۔
کولکتہ کی بلے بازی کی ذمہ داری اس کے نوجوان سلامی بلے بازوں وینکٹیش ایئر اور شبمن گل پر ہوگی جنہوں نے دوسرے کوالیفائر میں اوپننگ شراکت میں 96 رنز جوڑے تھے۔ ایئر نے شاندار نصف سنچری اسکور کی تھی۔
آئی پی ایل کا فائنل بھی دونوں کپتانوں کے درمیان کا بھی مقابلہ ہوگا۔ مورگن بھی دھونی کی طرح میدان میں پرسکون رہتے ہیں ۔ دھونی کو آئی پی ایل کے فائنل میں کھیلنا کا کافی تجربہ ہے اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ فائنل کے دباؤ میں کیسے پرفارم کرنا ہے۔ مورگن کا بلہ اب تک خاموش ہے لیکن انگلینڈ کی ٹیم کے لئے ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان مورگن بھی بخوبی واقف ہیں کہ کیسے انہیں جیت حاصل کرنی ہے۔ دونوں کی کپتانی اس فائنل کا فیصلہ کرے گی۔


منموہن سنگھ کی صحت مستحکم

منموہن سنگھ کی صحت مستحکم

 منموہن سنگھ کی صحت مستحکم
منموہن سنگھ کی صحت مستحکم

 

اردو دنیا نیوز۷۲، نئی دہلی

  وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کی صبح سابق وزیر اعظم اور کانگریس کے سینئر رہنما منموہن سنگھ کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور ان کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

مودی نے ٹویٹ کیا کہ’میں ڈاکٹر منموہن سنگھ جی کی اچھی صحت اور جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتا ہوں‘۔

 خیال رہے کہ صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر منسوکھ مانڈویہ آج صبح نئی دہلی میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) پہنچے اور سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔

سابق وزیراعظم کو طبیعت بگڑنے پر بدھ کی شام ایمس میں داخل کرایا گیا تھا۔ مانڈویہ نے ڈاکٹروں سے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا جو ڈاکٹر سنگھ کا علاج کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کانگریس کے سینیئر رہنما ، سابق وزیر اعظم کو بخار اور کمزوری کی شکایت کے بعد دہلی کے ایمس اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر سنگھ کی حالت مستحکم ہے اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کی نگرانی کر رہی ہے۔

ڈاکٹر سنگھ اس سال اپریل میں کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے اور تب بھی انھیں ایمس میں داخل کرایا گیا تھا۔ سابق وزیر اعظم نے امسال 4 مارچ اور 3 اپریل کو کووڈ ویکسین لی تھی۔ ڈاکٹر سنگھ اس وقت راجستھان سے راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ وہ سنہ 2004 سے 2014 تک وزیر اعظم رہے۔ 2009 میں ان کے دل کا ایمس میں ہی آپریشن کیا گیا تھا۔


کلکتہ : درگا پوجا میں ’جماعت اسلامی‘ نے لگائے اسلامی کتابوں کے اسٹال

کلکتہ : درگا پوجا میں ’جماعت اسلامی‘ نے لگائے اسلامی کتابوں کے اسٹال

کولکتہ : درگا پوجا میں ’جماعت اسلامی‘ نے لگائے اسلامی کتابوں کے اسٹال
کولکتہ : درگا پوجا میں ’جماعت اسلامی‘ نے لگائے اسلامی کتابوں کے اسٹال

 

محمد صفی شمسی۔ کولکتہ

ہندوستانی مسلمانوں کے ایک حصے کی نمائندگی کرنے والی سماجی و مذہبی تنظیم جماعت اسلامی ہند نے اس تہوار کے موسم میں مغربی بنگال میں درگا پوجا پنڈالوں کے قریب 60 سےزیادہ سمپریتی اسٹال لگائے ہیں۔ جماعت اسلامی کی ریاستی قیادت کا خیال ہے کہ اس طرح کی کوشش دو برادریوں کے درمیان فاصلے کو ختم کرتی ہے اور برادریوں اور عقائد سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔اسلام کے بارے میں دیگر  مذاہب کے لوگوں کو بنیادی معلومات فراہم کرانے کا مقصد  بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔ جس سے آپس کی دور کم ہوگی اور مذہب کے بارے میں منفی تاثر کو دور کیا جاسکے گا۔ یہ سلسلہ پچھلے پانچ سال سے جاری ہے۔اس مرتبہ بھی اس کوشش کو سراہا جارہا ہے۔ 

جماعت کے ریاستی سیکرٹری شاداب معصوم نے کہاکہ تمام اسٹال ایک مشترکہ بینر استعمال کرتے ہیں جس میں جماعت اسلامی کا ذکر ہے۔درگا پوجا مغربی بنگال کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ ہمارے بھائی بہن پنڈالوں کا دورہ کرتے ہیں۔ ہم ان کی خدمت کرتے ہیں۔ اسٹال پینے کا پانی ، سینیٹائزر ، ماسک اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہیں ۔

شاداب معصوم کا کہنا ہے کہ اسٹالوں پر اسلامو فوبیا سے متعلق سوالات کے حل کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ ایک مثبت نقطہ نظر ہے۔ ہمارے پاس وہ کتابیں ہیں جو ہم خواہشمندوں کو پیش کرتے ہیں جو اسلام کے بارے میں تفصیل سے جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہزاروں لوگ ہمارے ا سٹال پر تشریف لاتے ہیں۔ شانتیر پاتھ ، اسلام کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات ۔ ’فیر ایشو آپن پربھور ڈائیک ‘ اور قرآن پاک - اسٹالوں پر لٹریچر مسلمانوں اور ان کے عقائد کے بارے میں مزید جاننے میں دلچسپی رکھنے والوں کی مدد کرتا ہے۔

درگا پوجا کے دوران کولکتہ میں مختلف قسم کی تنظیمیں اسٹال لگاتی ہیں۔ فیسٹیول کے دوران سوشلسٹ اور مارکسی ادب کو فروغ دینے والی بائیں بازو کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے اسٹال برسوں سے سالانہ خصوصیت رہے ہیں۔ دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی ایسا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ ایسی سماجی تنظیمیں ہیں جو ہزاروں لوگوں کے لیے خدمات پیش کرتی ہیں جو پنڈالوں میں پوجا کے لیے گھومتے ہیں ۔ 

awaz

سمپریتی اسٹال کا خیال سب سے پہلے 2015 میں حتمی شکل اختیار کر گیا تھا ، پہلا جماعتی اسٹال وسطی کولکتہ میں پوجا کے لیے مشہور مقام محمد علی پارک میں لگایا گیا تھا۔ 2018 کے بعد سے ، جماعت اسلامی کے یونٹس پروگرام کو اضلاع تک لے گئے۔ جنوبی بنگال کے مدنی پور سے لے کر ریاست کے شمال میں کوچ بہار تک ، اس سال 60 سے زیادہ اسٹال ہیں۔

 کولکتہ میں ، محمد علی پارک کے علاوہ ، میٹابورز ،توپسیا اور دیگر علاقوں میں اسٹال نظر آئے ہیں ۔10 دن طویل جشن کے دوران جماعت اسلامی کے رضاکار دوپہر 3 بجے کے قریب اسٹالوں پر پہنچ جاتے ہیں۔ اضلاع میں اسٹال 4 بجے کے بعد کھلتے ہیں۔ پوجا میں گھومنے کے لیے آنے والوں کے ساتھ بات چیت رات گئے تک جاری رہتی ہے۔

 شاداب معصوم کہتے ہیں ، "لوگ گلے مل رہے ہیں ، اچھی نظر دیکھ رہے ہیں۔ ملحقہ پوجا پنڈال کے زائرین ان اسٹالوں پر جستجو سے رک جاتے ہیں۔ان کتابوں میں مختلف موضوعات ہیں ۔خاص طور پر اسلام میں عورت کے حقوق سے متعلق بھی مواد دستیاب ہے مقصد ہے کہ اسلام کے مختلف نظریات پر جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کیا جائے۔

 شاداب معرصوم کہتے ہیں کہ ’ہم پوجا کمیٹیوں سے بات کرتے ہیں۔ ہم تعاون کرتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ ہم اس قسم کا کام کیوں کر رہے ہیں۔ اکثر لوگ راضی ہو جاتے ہیں ،اکثر منتظمین ہماری تجویز سے اتفاق کرتے ہیں۔ جب بھی ہم لوگوں سے رجوع کرتے تو انہیں بھی خوشی ہوتی ہے۔وہ اس پہل کا خیر مقدم کرتے ہیں۔شاداب معصوم نے کہا کہ بانکرا میں جو کولکتہ کے ملحقہ ضلع ہاوڑہ میں ہے، مقامی پوجا کمیٹی نے خود آگے آکر اسٹال لگانے کے لیے تمام انتظامات کیے۔

 ایک سوال جو لوگوں کو پریشان کرتا ہے وہ یہ ہے کہ جماعت جیسی تنظیم ، جس کو زیادہ سے زیادہ کمیونٹی کی مذہبی نمائندگی سمجھا جاتا ہے ، اس نے اس طرح کا منصوبہ کیوں بنایا؟ معصوم کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم کے پالیسی پروگرام کے مطابق ہے جس کا مقصد بین المذاہب رابطے کو آسان بنانا ہے۔ عید کے اجتماعات ، غیر مسلموں کے لیے مساجد کے دوروں کا اہتمام ، اسی طرح کی کوششیں ہیں تاکہ لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ بنیاد پرستی کو پوری کمیونٹی کے ساتھ ٹیگ نہیں کیا جا سکتا۔

بنگال میں ، مختلف عقائد کے لوگ ایک ساتھ پرامن زندگی گزار رہے ہیں ۔ عید کی صبح ، کچھ جگہوں پر ہندو مسلمانوں کو عیدگاہ کی طرف جانے والے پینے کا پانی پیش کرنے کے لیے آگے آتے ہیں جو کہ دوسری برادری کے افراد کے لیے پیار اور خلوص کی علامت ہے۔

 سمپریتی اسٹالوں پر پچھلے سال تقریبا ایک لاکھ لوگوں سے بات چیت کی گئی ۔ ریاست بھر میں جماعت اسلامی کے 700 کے قریب رضاکار ہیں ، جن میں 35 فیصد خواتین بھی شامل ہیں۔ جو اس سال کولکتہ میں بنگالی ، ہندی ، اردو اور انگریزی میں پنڈال دیکھنے والوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔شاداب معصوم کا ماننا ہے کہ جب عقائد کی بات کی جائے تو معاشرے کے درمیان نظریاتی اختلافات کم ہو سکتے ہیں ، پھر بھی لوگ ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ امن سے رہ سکتے ہیں۔


اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...