Powered By Blogger

جمعہ, اکتوبر 29, 2021

حکومت تری پورہ میں مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی ، شر پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی بنائے جائے : مولانا احمد ولی فیصل رحمانی

حکومت تری پورہ میں مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی ، شر پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی بنائے جائے : مولانا احمد ولی فیصل رحمانیامیر شریعت بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ نے تری پورہ میں بھگوا شدت پسندوں کے ذریعہ مسلمانوں پر ہورہے ظلم و ستم کی مذمت کی
پٹنہ:شمال مشرقی ہندوستان کی سرحدی ریاست تری پورہ میں پچھلے ایک ہفتے سے بھگوا شدت پسند وں کی جانب سے اناکوٹی، مغربی تریپورہ، سیپاہی جالا اور گومتی تریپورہ اضلاع میں کئی روز سے مسلسل مسلمانوں کے خلاف ظلم و تشدد کا خوفنا ک سلسلہ جاری ہے، جس میں مساجد کی توڑ پھوڑ، مسلمانوں کے گھروں پر پتھراؤ اور مسلم دکانداروں کو اپنے مقام سے نکلنے پر مجبور کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ امیر شریعت بہار ، اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے اس تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو شرمناک قرار دیا ہے اور مرکزی و صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد تریپورہ کے حالات پر قابو پانے کی کوشش کی جائے، تری پورہ سمیت پورے ملک میں مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبر و کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور شر پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کرے ۔
واضح ہو کہ تریپورہ میںچند دنوں پہلے ریاست کے دارالحکومت اگرتلہ اور دیگر قصبوں میں ہندو تشدد پسند جماعت ''وشو ہندو پریشد(وی ایچ پی) اور ہندو جاگرن منچ کے ذریعہ بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے موقع پر پنڈال میں ہونے والے فرقہ وارانہ معاملہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے، جو کہ دیکھتے دیکھتے مقامی مسلمانوں کے خلاف مظاہروں میں بدل گئے ۔ ان مظاہرین نے مساجد اور مسلمانوں کے گھروں کو جم کر نشانہ بنایا اور بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی جان و مال کا نقصان کیا ۔ کئی بے قصور مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کر کے ان کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل کیا۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہندوتوا ہجوم کی جانب سے مسلم علاقوں میں مساجد، گھروں اور افراد پر حملہ کرنے کے کم از کم 27 واقعات ہوئے ہیں۔ ان میں 16 واقعات ایسے ہیں جہاں مساجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور ان پر زبردستی وی ایچ پی کے جھنڈے لہرائے گئے ۔ کم از کم تین مساجد، اناکوٹی ضلع کی پالبازار مسجد، گومتی ضلع کی ڈوگرہ مسجد اور وِشال گڑھ میں نرولا ٹیلا کو نذر آتش کر دیا گیا۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے اور ان شر پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔تری پورہ کے وزیراعلی اور ریاستی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت بھی مکمل طور پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے حکومت چاہتی ہی نہیں ہے کہ تشدد ختم ہو اور امن قائم ہو۔
امیر شریعت نے پولیس کے اس رویہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ، پولیس اکثر معاملوں میں شر پسندوں کی حمایت کرتی ہوئی نظر آتی ہے بجائے فسادات پر قابو پانے کی کوشش کرنے کے الٹا ظلم کا شکار ہوئے مظلوم مسلمانوں کو ہی جھوٹے مقدموں میں پھنسا کرانہیں قیدو بند کی صعوبتوں میں مبتلا کر دیتی ہے ۔ یا پھر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔اس کی کارروائی تب شروع ہوتی ہے جب مسلمانوں کا اچھا خاصا نقصان ہو چکا ہوتا ہے ۔ حضرت امیر شریعت نے مزید کہا کہ ملک میں ووٹ بینک کی سیاست اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ہندو ووٹ بینک کھسکنے کے ڈر سے حزب اختلاف کی جماعتیں بھی مسلمانوں پر ہو رہے ظلم و تشدد کے خلاف بولنے کو تیار نہیں ہیں۔ حضرت امیر شریعت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پورے تریپورہ کا مسلمان ڈرا ہوا ہے ۔ بھگوا شدت پسند جماعتوںنے سبھی ہندو نوجوانوں کو ''ریڈیکلائز'' کر دیا ہے ۔ ہندو قدامت پسند جماعتیں مسلسل پوری ریاست میں ریلیاں نکال رہی ہیں اور مسلم مخالف نعرے لگا رہی ہیں۔ مقامی لوگ تشدد کے خلاف انتطامیہ کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔ مقامی لوگوں کے بیان کے مطابق تشدد کئی دنوں سے جاری تھا لیکن جیسے ہی مسلمانوں نے تشدد کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تو پولیس نے فوراً دفعہ 144 کا اعلان کر دیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب یہ لوگ مساجد جلا کر چلے جاتے ہیں، تب پولیس 144 لگاتی ہے۔
امیر شریعت نے ریاستی اور مرکزی دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تری پورہ میں امن قائم کرنے اور مسلمانوں کو خوف و دہشت کے ماحول سے نکالنے کے لیے فوری اقدامات کرے ساتھ ہی ساتھ جن مساجد کا نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی کی جائے، مسلمانوں کو خصوصی تحفظ فراہم کیا جائے اور جو دہشت پھیلا رہے ہیں ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے تاکہ ریاست میں امن قائم ہو سکے ۔مقتولوں کے ورثا اورزخمیوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے اور ان کے بہتر علاج و معالجہ کا انتظام کیا جائے ۔انہوں نے ملک کی تمام اپوزیشن کی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی سیاست سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بنیاد پر مظلوموں کے حق میں کھڑے ہوں اور حکومت پر ظالموں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ بنائیں

بریکنگ نیوز فیس بک کا نام ہوگیا تبدیل

بریکنگ نیوز فیس بک کا نام ہوگیا تبدیل

نئی دہلی:فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ نے جمعرات کو ایک بڑا اعلان کیا۔ اس اعلان میں فیس بک کا نام بدل کر میٹا کر دیا گیا ہے۔ اس کا اعلان کمپنی کے کنیکٹ ایونٹ میں کیا گیا۔ اس دوران فیس بک کی جانب سے ٹوئٹر پر لکھا گیا ''فیس بک کا نیا نام میٹا ہوگا۔ میٹا میٹاورس بنانے میں مدد کرے گا۔ ایک ایسی جگہ جہاں ہم کھیلیں گے اور 3D ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑیں گے۔ سماجی مصروفیت کے اگلے باب میں خوش آمدید۔" فیس بک کی جانب سے 15 سیکنڈ کی ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ فیس بک کا نام اب میٹا کر دیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں میٹا کا لوگو بھی جاری کیا گیا ہے۔ META لوگو کو


جمعرات, اکتوبر 28, 2021

پٹنہ کے ٹھیکیدار راکیش سنگھ کے یہاں انکم ٹیکس کا چھاپہ ، 130 کروڑ کی ہیرا پھیری کا انکشاف

پٹنہ کے ٹھیکیدار راکیش سنگھ کے یہاں انکم ٹیکس کا چھاپہ ، 130 کروڑ کی ہیرا پھیری کا انکشاف

پٹنہ ، 28 اکتوبر ۔انکم ٹیکس کے تفتیشی محکمہ نے بدھ کی صبح پٹنہ ضلع کے بہٹہ میں واقع بڑے ٹھیکیدار راکیش سنگھ کے کئی ٹھکانوں پر ایک ساتھ چھاپہ ماری کی۔ دیر رات تک چلی انکم ٹیکس کی کارروائی میں 130 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا پتہ چلا ہے۔ راکیش سنگھ کے بہٹہ واقع آبائی گاؤں سمیت پٹنہ میں چار مقامات پر کھنگالے گئے دستاویزات میں کروڑوں کے بے نامی لین دین کے ثبوت بھی ملے ہیں۔ پٹنہ کے راجندر نگر میں واقع مکان کی تلاشی کے دوران راکیش سنگھ کے گھر سے 4 کروڑ روپے نقد بھی برآمد ہوئے ہیں۔ پٹنہ واقع انکم ٹیکس انویسٹی گیشی دفتر نے چھاپہ ماری کی ہے۔ چار ریاستوں کے 22 مقامات پر چھاپہ ماری کرکے انکم ٹیکس حکام نے بڑی مقدار میں غیر قانونی لین دین کے مشتبہ دستاویزات بھی ضبط کیے ہیں۔ چھا پہ ماری میں شامل اہلکاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کی جانچ پڑتال سے ٹیکس چوری سے لے کر خرد برد تک کی رقم کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انکم ٹیکس کی تحقیقاتی ٹیم نے بدھ کی صبح راکیش سنگھ کے بہٹہ کے امہارا واقع ا?بائی مکان پر چھاپہ ماری کی۔ صبح سات بجے وہاں موجود لوگوں سے ٹھیکہ دار راکیش کمار سنگھ کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات لی۔ راکیش سنگھ کی غیر موجودگی میں ان کی ماں اور گھر کے عملے سے پوچھ تاچھ کی گئی۔


میٹرو ، مال اور بازار کھل سکتے ہیں تو کالج کیوں نہیں ، طلبا کا سوال

میٹرو ، مال اور بازار کھل سکتے ہیں تو کالج کیوں نہیں ، طلبا کا سوال

نئی دہلی: جب ملک میں مال کھل سکتے ہیں، پوری صلاحت کے ساتھ میٹرو چلائی جا سکتی ہے، بازار کھل سکتے ہیں، سنیماگھر کھل سکتی ہیں تو کالج کیوں نہیں؟ یہ سوال دہلی یونیورسٹی کے طلبا نے یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے اٹھایا ہے۔طلبا کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا کے معاملات میں کمی آنے کے ساتھ عوام الناس کی زندگی کی کم و بیش تمام سرگرمیاں پھر سے شروع ہو گئی ہیں لیکن دہلی یونیورسٹی انتظامیہ، کالجوں، شعبہ جات اور فیکلٹیز کو کھولنے میں ڈھیلے اور لاپروائی والے رویہ کو اختیار کیا جا رہا ہے جو قابل مذمت ہے۔ انتظامہ کی اس غیر حساسیت کے سبب طلبا و طالبات کی تعلیمی زندگی میں عدم توازن اور غیریقینیت کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

اسی کے مد نظر اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد نے 29 اکتوبر 2021 (جمعہ) کو یونیورسٹی سطح پر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مظاہرہ میں دہلی یونیورسٹی کے ہر ایک کالج کے طلبا و طالبات اپنے کالج کے باہر صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک دھرنا دیں گے اور پرنسپلوں اور ڈیپارٹمنٹ کے سربراہان سے کالج کھولنے کی گزارش کرتے ہوئے خط سونپیں گے۔

غور طلب ہے کہ رواں سال اگست کے مہینے میں اے بی وی پی نے یونیورسٹی کھولنے کے لئے تحریک چلائی تھی جس کے نتیجہ میں طلبا و طلبات کے لئے تجربہ گاہوں کو کھولا گیا اور براہ راست پریکٹیکل شروع ہو گئے تھے۔ اس وقت یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کیمپس کو بتدریج کھلونے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو اب تک پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دہلی یونیورسٹی میں نہ صرف دہلی بلکہ ملک بھر سے اور بیرون ملک سے بھی طلبا زیر تعلیم ہیں۔ ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا کہ انہیں کیسے بلایا جائے گا۔ دہلی یونیورسٹی میں اس موضوع پر ایک اجلاس طلب کیا جا چکا ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ہم جلد ہی اداروں کو کھلونا چاہتے ہیں لیکن ہم اس پر کوئی بھی فیصلہ جلدبازی میں نہیں لینا چاہتے۔ جس سے طلبا پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تیسرے سال کے سائنس کے طلبا کو یونیورسٹی میں آنے اور تحقیق کے کاموں کی اجازت دی جا چکی ہے۔

کیا ادھار کارڈ کاغلظ استعمال کیا جا رہا ہے ؟ کیسے معلوم کریں ؟ جانیے تفصیلات

کیا ادھار کارڈ کاغلظ استعمال کیا جا رہا ہے ؟ کیسے معلوم کریں ؟ جانیے تفصیلاتآدھار کارڈ ہر ہندوستانی کے لیے ضروری دستاویز ہے۔ یہ عام طور پر کسی شخص کی شناخت کی تصدیق کے لیے عوامی اور نجی خدمات کی ایک حد میں استعمال ہوتا ہے۔ سرکاری خدمات حاصل کرنے کے لیے آدھار کارڈ کی ضرورت ہے۔ بینک اکاؤنٹ کھولنے اور نوکری کے لیے رجسٹر کرنے سمیت ہر چیز کے لیے آدھار نمبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم اگر آپ کے آدھار کارڈ کی معلومات لیک ہو جاتی ہے تو اسے آپ کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسے میں آپ کو ہر وقت چوکنا رہنا چاہیے۔ ہم اس مضمون میں اس بات کا تعین کرنے کے لیے ایک طریقہ بتائیں گے کہ آیا آپ کے آدھار کارڈ کا غلط استعمال ہو رہا ہے یا نہیں۔ اس طریقہ کا استعمال اس بات کا تعین کرنے کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے کہ آپ کا آدھار کارڈ کہاں استعمال ہو رہا ہے؟ یہ سروس یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا (UIDAI) کی طرف سے فراہم کی جاتی ہے، جو آدھار کارڈ کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ذمہ دار ہے۔ یہ آپ کو یہ جاننے کی اجازت دیتا ہے کہ آپ کا آدھار کارڈ کہاں استعمال ہو رہا ہے۔

آپ اپنی مدد کے لیے اتھارٹی سے میل help@uidai.gov.in پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

ایسا کرنے کے لیے پہلے UIDAI کی آفیشل ویب سائٹ پر جائیں۔ اس کے بعد آدھار سروسز پر جائیں اور آدھار کی توثیق کی تاریخ کا انتخاب کریں۔ اس کے بعد آپ سے اپنا آدھار نمبر اور سیکیورٹی کوڈ داخل کرنے کو کہا جائے گا۔ اب آپ کو ڈراپ ڈاؤن مینو سے جنریٹ OTP کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اس کے بعد آپ سے OTP داخل کرنے کو کہا جائے گا جو آپ کے فون پر پہنچایا گیا تھا۔ OTP داخل کرنے کے بعد آپ اپنے آدھار کارڈ کی توثیق کی تاریخ دیکھ سکیں گے۔

یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ آپ یہ طریقہ صرف اس صورت میں استعمال کر سکتے ہیں جب آپ کا فون نمبر آپ کے آدھار کارڈ سے منسلک ہو۔ اگر آپ کو شک ہے کہ آپ کے آدھار کارڈ کا غلط استعمال کیا جارہا ہے اور آپ کا فون نمبر آپ کے آدھار سے منسلک نہیں ہے، تو آپ UIDAI کی ہنگامی ہاٹ لائن 1947 پر کال کر کے شکایت کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی مدد کے لیے اتھارٹی سے میل help@uidai.gov.in پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

دارالحکومت دہلی میں یکم نومبر سے تمام اسکول کھل جائیں گے

دارالحکومت دہلی میں یکم نومبر سے تمام اسکول کھل جائیں گے

طویل عرصے کے بعد دارالحکومت دہلی میں تمام کلاسوں کے لیے اسکول کھولے جانے کی منظوری دی گئی ہے۔ دہلی کے وزیر تعلیم منیش سسودیا نے اعلان کیا کہ یکم نومبر سے تمام سرکاری اور نجی اسکول اپنے یہاں زیر تعلیم بچوں کو اسکول میں مدعو کر سکیں گے۔ تاہم بچوں کوا سکول آنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اس کے لیے کچھ شرائط بھی ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔

دہلی کے وزیر تعلیم منیش سسودیا نے کہا کہ ماہرین کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ بچوں کو بہت نقصان ہواہے۔ اس نقصان کو پورا کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ اب جب کہ دہلی میں کورونا وبا کی صورتحال قابو میں ہے، اسکولوں کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ تاریخ کے بعد والدین کی اجازت سے بچوں کو اسکول بلایا جاسکتا ہے۔

ان باتوں کا خیال رکھنا ہوگا

50 فیصد سے زیادہ طلبا کو نہیں بلایا جائے گا

کلاسز آن لائن بھی ہوں گی

اگر والدین نہ چاہیں تو بچوں کوا سکول آنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا

اسکول کے تمام عملے کو ٹیکے لگے ہوں، جن کو ٹیکے نہیں لگے، انہیں ٹیکے لگوانے کے احکامات

کورونا سے متعلق دیگر شرائط جیسے سینیٹائزیشن، ماسک اور سماجی فاصلے پر عمل کرنا ضروری ہے

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل دہلی حکومت نے صرف نویں جماعت سے اوپر کے بچوں کے لیے اسکول کھولنے کی اجازت دی تھی۔ اس معاملے پر فیصلہ لینے کے لیے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اسی کمیٹی نے پہلی نومبر سے اسکول کھولنے کی تجویز دی ہے۔

حضرت محمد صلى الله رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں ہی دنوں جہاں کی کامیابی کا راز مضمر ہے

حضرت محمد صلى الله رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں ہی  دنوں جہاں کی کامیابی کا راز مضمر ہے 

بنگلور: مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن عظیم الشان آن لائن دس روزہ سیرت النبیؐ کانفرنس کی پانچویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند سرپرست اور دارالعلوم دیوبند و ندوۃ العلماء لکھنؤکے رکن شوریٰ جانشین امام اہل سنت حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک انسان کی عظیم ترین سعادت ہے اور اس روئے زمین پر کسی بھی ہستی کا تذکرہ اتنا باعث اجر و ثواب اتنا باعث خیر و برکت نہیں ہوسکتا جتنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہوسکتا ہے۔ لیکن صرف سیرت النبی ؐکے بیانات سن لینا کافی نہیں ہے بلکہ اسے سن کر اپنی زندگی کو سیرت النبیؐ کے مطابق گزارنا ضروری ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ سرور کائناتؐ کی حیات طیبہ ہمارے لیے ایک نمونہ ہے جس پر عمل کر کے ہم اپنی زندگی کو سنوار سکتے ہیں۔ قرآن کریم نے آنحضرتؐ کی حیات مبارکہ کو ہمارے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے اور اس کا معنٰی یہی ہے کہ ہم زندگی کے ہر لمحے اور ہر سانس میں حضورؐ کو یاد کرنے اور آپؐ کی سنت و اسوہ کے مطابق ہر کام کرنے کے پابند رہیں۔ اسی میں ہماری کامیابی اور کامرانی ہے۔ مولانا فاروقی نے فرمایا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی زندگیاں عشق رسول ؐ سے سرشار ہوکر جس انداز میں گزاریں وہ اپنی مثال آپ ہے۔ صحابہ کرامؓ میں سنتوں پر عمل کی کامل علامت موجود تھی، وہ ہر ہر سنت پر عمل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ مولانا نے فرمایا کہ اصل محبت تو یہی ہے کہ ہم آپ ؐکی پیروی کریں، آپؐ کی پسند ناپسند کو اپنی پسند ناپسند بنالیں اور آپ ؐکی حیات طیبہ کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیں۔مولانا نے فرمایا کہ رسول اللہؐ سے سچی محبت کا تقاضہ ہی یہ ہیکہ آپؐ کی سنت و شریعت پر عمل ہماری اولین ترجیح ہو اور امت مسلمہ پر لازم ہے کہ رسول اللہ ؐکی سیرت کو اپنائیں، اسے اپنے لئے اسوہ ونمونہ بنائیں اور اپنی زندگی اسی کے مطابق استوار کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ رسول اللہؐ کی امت ہونے اور مسلمان ہونے کا تقاضا ہے کہ ہم رسول اللہ ؐسے دل وجان سے محبت کریں اور اس محبت کا ثبوت اپنے قول، اپنے عمل، اپنے اعتقاد اوراپنے ہرگفتار وکردار سے دیں، محض دعوہئ محبت کافی نہیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جبکہ ہم رسول اللہؐ کے ہر حکم کو مانیں اور مکمل پیروی کریں۔ مولانا فاروقی نے فرمایا کہ اگر ہم اپنی زندگی کے ہر موڑ اور ہر شعبہ میں رسول اللہؐ کی سیرت کو داخل کرلیں، اپنا کردار آپؐ کے جیسا بنالیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اپنی زندگی بنالیں تو اسی سے ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی ملے گی اور فتح و نصرت ہماری قدم چومے گی۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر جانشین امام اہل سنت حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...