Powered By Blogger

جمعہ, نومبر 05, 2021

ماں نے لیا تھا قرض ، ریکوری ایجنٹ بیٹی کولے کر فرار ، جانیں سارا معاملہ

ماں نے لیا تھا قرض ، ریکوری ایجنٹ بیٹی کولے کر فرار ، جانیں سارا معاملہ

بہار کی راجدھانی پٹنہ میں ایک عجیب محبت کی کہانی سامنے آئی ہے۔ ماں سے قرض کی وصولی کے لیے یہاں آنے والا ریکوری ایجنٹ بیٹی کو لے کر فرار ہوگیا۔ اب پولیس ان دونوں کو اپنی تحویل میں لے کر پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ لڑکا اور لڑکی جھارکھنڈ کے ہزاری باغ سے فرار ہونے کے بعد پٹنہ کے پھلواری شریف علاقے میں کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے۔ پولیس نے دونوں کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی تو ان کی محبت کی کہانی کھل کر سامنے آئی۔ لڑکے نے پولیس کو بتایا کہ وہ ایک فنانس کمپنی میں ریکوری ایجنٹ ہے۔ اس نے لڑکی کی ماں کو اپنی کمپنی سے قرض دیا تھا۔ قرض کی وصولی کے لیے وہ اکثر اس کے گھر جاتا تھا جہاں وہ لڑکی سے آمنے سامنے آیا کرتا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد لڑکی اور اس کی دوستی ہو گئی۔ پھر دونوں ایک دوسرے کو پیار کرنے لگے۔

پھر ایک دن دونوں گھر سے بھاگ گئے۔ ہزاری باغ سے آنے کے بعد وہ یہاں پٹنہ میں رہنے لگے۔ یہاں پڑوسیوں کو ان دونوں پر شک ہوا۔ اس نے پولیس کو اطلاع دی تو پولیس نے دونوں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ تفتیش کے دوران ساری کہانی سامنے آگئی۔ معلوم ہوا کہ گھر والے کافی دنوں سے دونوں کی تلاش کر رہے تھے۔ لڑکے اور لڑکی نے بتایا کہ ان کے گھر والے ان کی شادی کے خلاف ہیں۔ اس وجہ سے مجھے گھر سے بھاگنا پڑا۔ فی الحال پولیس نے دونوں کے اہل خانہ کو اطلاع کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کے اہل خانہ آئیں گے تو سب کو بٹھا کر بات کی جائے گی۔ دوسری جانب لڑکے اور لڑکی کا کہنا ہے کہ دونوں بالغ ہیں، ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی شادی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں

باجی گیند تو دے دو ۔۔ میچ کے دوران لڑکی نے گراؤنڈ میں آکر گیند ہی چھپا دی، پھر کیا ہوا دیکھیے


باجی گیند تو دے دو ۔۔ میچ کے دوران لڑکی نے گراؤنڈ میں آکر گیند ہی چھپا دی، پھر کیا ہوا دیکھیے



بیٹی بچاؤ_______مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

بیٹی بچاؤ_______
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
عبد الرحیم دربھنگہوی
بیٹی کے قتل کرنے کا رجحان ماضی قریب میں تیزی سے بڑھاہے او راعدادوشمار بتاتے ہیںکہ اس رجحان نے ملک میںقدرتی اور فطری جنسی نیز صنفی توازن کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیا ہے ، کئی صوبوں میںمسئلہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ لڑکوں کو دلہن بنانے اور بیاہ لانے کے لئے لڑکیاں دستیاب نہیں ہیں ، اور انہیں دوسرے صوبوں کی طرف دیکھنا پڑ رہا ہے۔
صنفی توازن کواپنے طور پر غیر متوازن کرنے کی کئی وجوہات ہیں ، پہلی وجہ تو یہ ہے کہ لڑکی کی شادی کے لئے مختلف مذاہب کے ماننے والوں میںگھوڑے ، جوڑے ، سلامی اورجہیز کی جو بیماری بڑھتی رہی ہے ، اس نے اس رحجان کو فروغ دیا کہ لڑکیوںکودنیا میں آنے نہ دیا جائے، الٹراسائونڈ اور جانچ کی دوسری سہولتوں کی وجہ سے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ حالت حمل میں ہی جنین کا پتہ چلالیا جائے ایسے میں شادی کے بکھیروں اورکمائی کا بڑا حصہ تلک وجہیز کے نام پر لڑکے والوں کو دینے سے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اسے دنیا ہی نہ دیکھنے د ی جائے ۔سرکار کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس ہے، اس لیے اس نے الٹراساؤنڈ کے ذریعہ حالت حمل میں جنس کا پتہ چلانے کو غیر قانونی قرار دیا ہے، اور الٹرا ساؤنڈ سے متعلق دکانوں پر اس مضمون کا بورڈ آویزاں بھی رہتا ہے، لیکن اس کی پرواہ کو ن کرتا ہے ، دوسرے بہت سارے غیر قانونی کاموں کی طرح یہ کام بھی معقول رقم پکڑانے پر ہو جاتا ہے اور اگر بچی ثابت ہوئی تو ماں کے پیٹ کو ہی اس کی قبر بنا دی جاتی ہے، قیامت میں اس کے بارے میں بھی سوال ہوگا کہ کس جرم کی پاداش میں قتل کی گئیں۔
اسلا م میں معاملہ اس کا الٹا ہے ، یہاںبیٹی اللہ کی رحمت ہے ، جنت میں لے جانے کا سبب ہے ، بیٹی بیوی بن جائے تو شریک حیات بن کر گھرکوپرسکون بنانے کا ذریعہ ہے ، اور جب وہ ماں بن جائے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے ، بہن ہے تو اپنے بھائیوں اور خاندان کے لئے مونس وغم خوار ہے اور یہ عورت ہی ہے جو بڑی مصیبت اٹھا کر ہمیں دنیا میں لانے کا ذریعہ بنی ۔یہاںشادیوں میںلڑکی والے پر کوئی مالی بوجھ نہیں ہے ،نان ونفقہ ، رہائش کے  لئے مکان وغیرہ کی فراہمی لڑکے کے ہی ذمہ ہے ، خوشی میں بھوج دینا بھی جسے ولیمہ کہا جاتا ہے،اسی کی ذمہ داری، ان سارے اخراجات کے ساتھ مہر کی ادائیگی بھی نکاح کے بنیادی لوازمات میںسے ہے ، اس لئے مسلمانوں کے یہاں دختر کشی کا یہ عمل نسبتا ً کم ہے ،یہ اور بھی کم ہوسکتا ہے اگر ہم شریعت کے احکام کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے سلامی اور جہیز کے ذریعہ معیار زندگی بڑھانے کا خیال دل سے نکال دیں ، بدقسمتی سے یہ بیماری بہت سارے علاقوں میں مسلم سماج میںبھی داخل ہوگئی ہے ، جس کی وجہ سے بڑی عمر تک لڑکیوں کے ہاتھ پیلے نہیں ہو پارہے ہیں، حیدر آباد ، بھوپال وغیرہ میں بڑی تعدادمیںلڑکیاں کنواری بیٹھی ہوئی ہیں ، اس صورت حال میں دخل کفو کے نام پر غیر ضروری میچنگMaching دیکھنے کا بھی ہے ، دین داری اصل ہے ، اس میںبرابر ی کا تصور کم ہوتا جارہا ہے اور اس کی جگہ دوسری مختلف چیزوں کو ناک کا مسئلہ بنالیا گیا ہے ، شریعت کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ایسا رشتہ جس کے دین واخلاق سے اطمینان ہو ، اس کو قبول کرلینا چاہئے ، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو زمین میں بگاڑ پیدا ہونے کا خطر ہ ہے ۔واقعہ یہ ہے کہ ہماری بدعقلی ، بے شعوری اور شرعی احکام کی ان دیکھی کی وجہ سے بگاڑ پیدا ہوچکاہے ، اور مختلف مذاہب کے مابین غیر شرعی شادی کا مزاج بڑھتا جارہاہے اور ہماری لڑکیاں محفو ظ نہیں ہیں ۔
ان دنوں لڑکیاں ایمان وعقیدہ کے اعتبار سے بھی غیر محفوظ ہو رہی ہیں، آئے دن غیر مسلموں کے ساتھ ان کے رشتے کی خبر آ رہی ہے ، فرقہ پرست طاقتور کی طرف سے اسے مہم کی شکل دی گئی ہے، پہلے وہ لوگ بھولی بھالی مسلم لڑکیوں کو پیار محبت کے جھانسے میں پھنساتے ہیں، پھر انہیں شادی کی پیش کش کرتے ہیں، اور جب وہ شادی کے لیے تیار ہوجاتی ہیں تو ان کا مذہب تبدیل کراکر ہندو رسم ورواج کے مطابق ان سے ساتھ پھیرے لگوائے جاتے ہیں، کچھ دنوں کے بعد جب جی بھر جاتا ہے تو ان لڑکیوں کا قتل کرادیا جاتا ہے اور لاش کسی ریل کی پٹری پر مل جاتی ہے، حکومتی سطح پر اسے خود کشی قرار دے کر فائل بند کر دی جاتی ہے ، بیٹیوں کی حفاظت کے لیے ہمیں ان اسباب وعوامل پر بھی غور کرنا چاہیے، جس کی وجہ سے اس قسم کے واقعات پیش آتے ہیں، مخلوط تعلیمی اداروں میں جوان لڑکے لڑکیوں کا ایک ساتھ پڑھنا، موبائل کا استعمال ، شادی میں تاخیر وغیرہ اس ارتداد کے بنیادی اسباب ہیں، گارجین اور والدین کی تعلیم وتربیت میں کمی اور نگرانی کے ختم ہوتے رجحانات بھی اس کلچر کو فروغ دینے میں بڑی حصہ داری نبھاتی ہے، اس لیے بیٹیوں کے ایما ن وعقیدہ، عزت وآبرو کی حفاظت کے لیے انتہائی مستعدی کی ضرورت ہے اور ظاہر ہے جو اسباب وعوامل ہیں اس کو دور کیے بغیر ہم بیٹیوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔

ٹیم انڈیا کی اب بھی سیمی فائنل میں پہنچنے کے امیدیں ہیں زندہ ٹی ۔20 ورلڈ کپ میں پہلے دو میچزہارنے کے باوجود ٹیم انڈیا کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں زندہ ہیں

ٹیم انڈیا کی اب بھی سیمی فائنل میں پہنچنے کے امیدیں ہیں زندہ ٹی ۔20 ورلڈ کپ میں پہلے دو میچزہارنے کے باوجود ٹیم انڈیا کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں زندہ ہیں

ٹی۔20 ورلڈ کپ میں پہلے دو میچزہارنے کے باوجود ٹیم انڈیا کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں زندہ ہیں۔ بھارت نے 3 نومبر کو افغانستان کے خلاف 66 رن کی شاندار جیت درج کی اور اس کا اثر ان کے نیٹ رن ریٹ پر بھی نظر آیا۔ ہندوستان کا نیٹ رن ریٹ اب پازیٹیومیں آگیا ہے جو پہلے نگیٹیو میں چل رہا تھا۔ ہندوستان نے بھلے ہی نیٹ رن ریٹ میں بہتری لائی ہو لیکن اب بھی سیمی فائنل تک پہنچنا اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اس کے لئے ٹیم انڈیا کو افغانستان یا نمیبیا میں سے کسی ایک کی مدد کی ضرورت ہوگی۔

ان دونوں ٹیموں میں سے کسی ایک کو نیوزی لینڈ کے خلاف میچ جیتنا ہوگا۔ ہندوستان کے لیے سیمی فائنل میں پہنچنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ لیگ راونڈ کے بعد نیوزی لینڈ اور افغانستان کے ساتھ اس کے کھاتے میں بھی چھ پوائنٹس ہوں اور بہتر نیٹ رن ریٹ وجہ سے وہ سیمی فائنل میں پہنچ جائے۔ ہندوستان کو اپنا اگلا میچ 5 نومبر کوا سکاٹ لینڈ کے خلاف اور پھر 7 نومبر کو نمیبیا کے خلاف کھیلنا ہے۔ پاکستان گروپ۔2 سے پہلے ہی سیمی فائنل میں پہنچ چکا ہے۔

دوسری جانب اگر ہم اسکاٹ لینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والے میچ کی بات کریں تو کیوی ٹیم بھلے ہی یہ میچ 16 رن سے جیت گئی ہو لیکن ان کی کچھ کمزوریاں ضرور نظر آئیں۔ نیوزی لینڈ اس وقت پوائنٹس ٹیبل میں ٹیم انڈیا سے بہتر پوزیشن میں ہے تاہم اسے سیمی فائنل میں پہنچنے کے لئے گروپ۔2 میں افغانستان اور بھارت سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


" چند دن کا ڈرامہ ، قیمت پھر بڑھ جائے گی 11 مرکزی اکسائز ڈیوٹی اور بہار کے ویاٹ میں کمی پر لالو کا ردعمل

" چند دن کا ڈرامہ ، قیمت پھر بڑھ جائے گی 11 مرکزی اکسائز ڈیوٹی اور بہار کے ویاٹ میں کمی پر لالو کا ردعمل

مرکزی اکسائز ڈیوٹی اور بہار کے ویاٹ میں کمی پر لالو کا ردعمل
پٹنہ : مرکزی حکومت نے دیوالی سے ایک دن پہلے عام آدمی کو بڑی راحت دی ہے۔ حکومت نے پٹرول پر 5 روپئے اور ڈیزل پر 10 روپئے ایکسائز ڈیوٹی کم کردی ہے ۔ یہ قیمتیں آج سے نافذ ہوگئے ہیں ۔ اس کے بعد بہار کے چیف منسٹر نیتش کمار نے بھی ریاست میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں راحت دینے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ ریاستی حکومت نے ڈیزل میں 3.90 روپئے فی لیٹر اور پٹرول میں 3.20 روپئے فی لیٹر کی اضافی راحت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ریاستی سطح پر ویاٹ کی شرحوں کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت کے فیصلے پر صدر آر جے ڈی لالو یادو نے وزیراعظم نریندر مودی کو نشانہ بنایا ہے ۔ انہوں نے اسے ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چند روزبعد دوبارہ قیمتیں بڑھادیں گے ۔ نیوز ایجنسی اے این آئی پر جاری اپنے ویڈیو میں لالو یادو کہتے ہیں کہ مودی حکومت نے جو کیا وہ ڈرامہ ہے ۔ 50 (فی لیٹر) روپئے کم کئے جائیں ۔ موجودہ کٹوتی سے کوئی سکون نہیں ملتا ۔ وہ چند دنوں کے بعد اسے دوبارہ بڑھادیں گے ۔


جمعرات, نومبر 04, 2021

بہار : دیوالی کی تقریبات کے دوران زہریلی شراب پینے سے 8 لوگوں کی موت !

بہار : دیوالی کی تقریبات کے دوران زہریلی شراب پینے سے 8 لوگوں کی موت !

پٹنہ:بہار میں زہریلی شراب کا کاروبار جاری ہے۔ ریاست میں شراب پر پابندی ہے لیکن غیر قانونی فروخت بھی ہو رہی ہے اور کئی مواقع پر زہریلی شراب بھی پیش کی جا رہی ہے۔ اب مغربی چمپارن میں 8 لوگوں کی مشتبہ موت ہوئی ہے۔زہریلی شراب پینے سے موت ہونے کا اندیشہ ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے ابھی تک ان اموات کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم ایک مرنے والے کے لواحقین کا کہنا ہے کہ موت شراب نوشی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ تمام مرنے والے نوتن پولیس اسٹیشن کے تحت جنوبی تلہوا گاؤں کے رہنے والے ہیں۔مرنے والوںکے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ بدھ کی شام شراب پینے کے بعد اچانک اس کی طبیعت خراب ہونے لگی اور وہ اسے علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر لے جا رہے تھے لیکن راستے میں ہی اس کی موت ہو گئی۔کچھ دیگرمتاثرین کی بھی یہی حالت بتائی جا رہی ہے۔ انتظامیہ یقینی طور پر اس تنازعہ سے خود کو دور کر رہی ہے لیکن مرنے والوں کے لواحقین زہریلی شراب کو ہی مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔فی الحال اس پورے معاملے پر ضلعی انتظامیہ کا کوئی بھی افسر کچھ بھی بولنے سے گریز کر رہا۔ ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے تاہم ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ تمام اموات زہریلی شراب پینے سے ہوئیں۔دو دن پہلے گوپال گنج میں بھی مبینہ طور پر زہریلی شراب پینے سے 8 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ تاہم گوپال گنج ضلع انتظامیہ نے اب تک شراب کی وجہ سے صرف 3 لوگوں کی موت کی تصدیق کی ہے۔واضح ہوکہ اس سال جولائی میں مغربی چمپارن میں زہریلی شراب پینے سے 16 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔


اولاد کی تعلیم و تربیت والدین کی اولین ذمہ داری مفتی محمد عبد الحميد قاسمی

اولاد کی تعلیم و تربیت والدین کی اولین ذمہ داری مفتی محمد عبد الحميد قاسمی

تعلیم ہر ایک کی بنیادی ضرورت ہے تعلیم سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے تعلیم سے ہی اطاعت حق اور سنت رسول ﷺ کا علم حاصل ہوتا ہے تعلیم ہی انسان کی فضیلت اور شرف کا معیار ہے علم ہی انسان کے کمال و امتیاز کا سبب ہے یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے اپنی آمد کے پہلے دن سے علم حاصل کرنے پر زور دیا ہے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ جس سماج اور معاشرہ میں تشریف لائے تھے وہ زمانۂ جاہلیت اور ایک تاریک دور کہلاتا ہے جس کی نظیر نہ پہلے کھبی تھی اور نہ آگے ہو سکتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے کے بعد سب سے پہلا تقاضہ تو یہ تھا کہ کفر و شرک کو مٹانے، فحاشیت، زناکاری، شراب نوشی اور سماجی برائیوں کے خاتمہ یا عورتوں کے مقام و مرتبہ یا پوری انسانیت کو امن و امان کا پیغام سنانے کے لئے غار حرا میں سب سے پہلی وحی نازل ہوتی مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ فرمایا گیا کہ آپ اپنے رب کے نام سے پڑھئے جو تمام کائنات کا خالق ہے (سورہ علق: ۱)یعنی سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ قیامت تک آنے والی انسانیت کو جس بات کی دعوت دی گئی وہ "تعلیم ' ہے کیونکہ علم ایسا سر چشمہ ہے جس سے تمام بھلائیاں پھوٹتی ہیں اور تمام برائیوں کا خاتمہ ہوتا ہے نیز نبی کریم ﷺ نے مکی زندگی میں ہزاروں مسائل اور مصائب کے باوجود "دار ارقم' کو تعلیم و تربیت کا مرکز بنایا اور اپنے ساتھیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے پہلے دن سے کوشاں رہے، ہجرت کے بعد مدینہ میں گھر کی تعمیر اور دنیوی ضروری سامان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لئے عبادت گاہ اور دینی مرکز کی حیثیت سے مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی اور پہلی درسگاہ ایک چبوترے کی شکل میں قائم کی جسے صفہ کہا جاتا تھا، نبی کریم ﷺ کا یہ عمل ہمیں بتاتا ہے کہ دنیوی ضروری سامان اکٹھا کرنے سے زیادہ اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ مرکوز ہونی چاہئے، اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم علم نافع کے لئے دعا فرماتے تھے اور علم نافع کا مطلب یہی ہے کہ جو علم انسان کو دینی اور دنیوی اعتبار سے نفع پہنچائے، اس اصول سے معلوم ہوا کہ عصری علوم بھی کسی نہ کسی طریقہ سے انسان کیلئے نفع بخش ہیں، تعلیم بہرحال فائدہ سے خالی نہیں، تعلیم اگر کسی قوم کے لئے ریڈھ کی ہڈی ہے تو نصاب تعلیم اس کی وہ بنیاد ہے جس پر پوری قوم و ملت اور ملک کے مستقبل کا انحصار ہے جیسا نصاب پڑھایا جائے گا جیسا نظام تعلیم رائج کیا جائے گا ویسے ہی افراد تیار ہوں گے اس لئے تعلیمی نظام خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی بالخصوص مالی اعتبار سے شفافیت کے ساتھ ہونا ضروری ہے ورنہ جیسا نظام ویسے افراد کا مصداق ہوگا،لھذا بچے کے مدرسہ اور اسکول کا انتخاب صحیح کریں، تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے لوگوں کے لئے دس بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھانے کو فدیہ قرار دیا تھا حالانکہ یہ وہ وقت تھا کہ مسلمان فاقہ کشی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے اور ان کو مالی وسائل کی زیادہ ضرورت تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشی ضرورت پر تعلیمی ضرورت کو مقدم رکھا، علم ایک بہت بڑی نعمت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا قرآن نے اسی لئے کہا ہے علم رکھنے والے اور نہ رکھنے والے دونوں برابر نہیں ہوسکتے (الزمر : 9) بہرحال موجوہ حالات میں مسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو انہیں اچھی سی اچھی تعلیم دلائیں اور انھیں قابل بنائیں کہ وہ اپنے ملک اور قوم کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں -

*افسوس کہ* آج والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے سلسلہ میں بے رغبتی اور لا پرواہی برتر ہے ہیں, والدین تعلیم پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے شادی بیاہ اور غیر ضروری تقریبات میں لاکھوں پیسہ فضول خرچی میں ضائع کررہے ہیں، اپنی آزادی اور سکون کے واسطے چھوٹے چھوٹے بچوں کو قیمتی اسمارٹ فون دلاکر ان کی جسمانی اور روحانی طاقت کو کمزور کرنے کا ذریعہ بنتے ہوئے ان کے مستقبل کو تاریک بنارہے ہیں، تھوڑی سی دولت کے خاطر کم عمر میں بچوں کو تجارت اور کاروبار میں لگا کر ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے، والدین اپنی مصروفیتوں میں رہ کر اولاد کے حقوق سے ناواقفیت یا جانتے بوجھتے غیر ذمہ داری والا رویہ اختیار کر کر ان کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں بالکل بے فکر ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ بلوغت سے پہلے ہی بچوں کے مزاج میں بد اخلاقی پیدا ہورہی ہے اور منشیات، سگریٹ ، بیڑی، گھٹکا ، گانجہ اور ڈرگس کے عادی ہوتے جارہے ہیں ، دین کی بنیادی تعلیم نہ ہونے کے سبب مسلم لڑکیاں غیروں کے ساتھ فرار ہوکر نہ صرف والدین بلکہ اسلام کا نام بدنام کرتی نظر آ رہی ہیں، الامان و الحفیظ - ملک و ملت کی ترقی اور کامیابی تعلیم کے ذریعہ ہی ممکن ہے تعلیم کے ذریعہ ہی ایک پاکیزہ معاشرہ کو تیار کیا جاسکتا ہے، تعلیم کے ذریعہ ہی برائیوں کو ختم کرنا آسان ہوتا ہے تعلیم کے ذریعہ ہی عدل و انصاف اور امن و امان کو قائم کیا جاسکتا ہے-

*الغرض* والدین کی ذمہ دای ہے کہ وہ اپنی اولاد کے لئے دنیوی زندگی کے آرام و راحت کے سامان و اسباب جمع کرنے سے زیادہ اخروی زندگی کے لئے آرام و راحت کی فکر کریں کیونکہ دنیوی آرام و راحت عارضی اور فانی ہے اور اخروی آرام و راحت دیرپا اور دائمی ہے، والدین اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت پر خوب توجہ دیں، اگر خود سے ممکن نہ ہوتو قرآن مجید کی سورہ نحل آیت 43 "اب اگر تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے تو جو علم والے ہیں ان سے پوچھ لو' پر عمل کرتے ہوئے علماء سے ہر مسئلہ پوچھ کر ان کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کریں یا اپنی اولاد کو کسی مستند اور معتبر عالم دین سے تعلق قائم کرادیں تاکہ زندگی کے ہر شعبہ میں وہ علماء سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں ، اہم بات یہ ہے کہ بچہ سب سے پہلے اپنے والدین کے اخلاق اور کردار سے متاثر ہوتا ہے اور والدین کی ہر نقل و حرکت کو اپنے دل و دماغ میں نقش کرتا رہتا ہے، نیز تربیت کا آسان اور سہل طریقہ یہی یے کہ بچہ جس وقت کوئی غلطی کرے اس وقت نرم لہجے اور اچھے انداز میں اس کی اصلاح کردیں، مزید یہ والدین بچوں کو جن چیزوں کا حکم دیر ہے ہیں پہلے وہ خود اس پر عمل پیرا ہوں ورنہ وہ حکم اور نصیحت بے سود اور بے فائدہ ہوگی-

دعا ہے کہ اللہ تعالٰی والدین کو اپنی اولاد کے حقوق ادا کرنے اور تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...